بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت اسماعیل،فیضان عطارشاہ لطیف ٹاؤن کراچی
ادب
کی تعریف: ادب
ایک ایسے وصف کا نام ہے، جس کے ذریعے انسان اچھی باتوں کی پہچان حاصل کرتا یا اچھے
اخلاق اپناتا ہے۔ (آداب دین، ص 4)
ادب کو انسان
کے زیور سے تعبیر کیا جاتا ہے اگر تعلیم اور علم کی کمی رہ جائے تو اسے زندگی کے
کسی بھی موڑ پر پورا کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تربیت اور ادب کی کمی رہ جائے تو اکثر
اوقات انسان پچھتاتا رہتا ہے۔
عزیزان محترم!
چونکہ اسلامی تعلیمات مکمل طور پر ادب ہی پر مبنی ہیں، اس لیے ادب ہی کی تعلیم
وتلقین کرتی ہیں، اس کارخانۂ قدرت میں جس جس کو جو جو نعمتیں ملیں ادب کی بنا
پرملی ہیں، اور جو ادب سے محروم ہے، حقیقتاً ایسا شخص بہت سی نعمتوں سے محروم رہ
جاتا ہے شاید اسی لیے کسی نے کہا ہے کہ با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب!
جو لوگ اپنے
سے بڑی عمر کے لوگوں کا لحاظ نہیں کرتے، ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں، ان کے
آگے زبان درازی کرتے ہیں ایسوں کے لیے حدیث پاک میں فرمایا گیا: جوہمارے چھوٹے پر
رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی عزّت نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/ 369،
حدیث:1927)
تفسیر روح
البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا
تو اللہ اسے اس کی بے ادبی کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)
اسی طرح ایک
مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ
نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلاہوگا۔ (روح البیان، 5/56)
محفوظ
خدا رکھنا سدا بے ادبوں سے اور مجھ سے
بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
معاشرتی
بگاڑ کی وجہ اسلامی تربیت کی کمی ہے: وہ دور بھی تھا کہ ہر مسلمان ایک دوسرے
کی عزّت و حرمت کا پاسدار، حسن اخلاق کا آئینہ دار، باادب و حیا دار اور سنّت
سرکارکی چلتی پھرتی یاد گار ہوا کرتاتھا۔ مگر افسوس کہ اب ایسا ماحول بہت کم
دیکھنے کو ملتا ہے۔ علم دین سے محرومی اور اچھی صحبت سے دوری کی بنا پر والدین
اولاد کی نہ اسلامی تربیت کررہے ہیں نہ بچّے ماں باپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہماری بے
ادبیاں اوربد لحاظیاں ہیں کہ جنہوں نے ہماری گھریلو اور معاشرتی اقدار کوبرباد کر
کےرکھ دیا ہے۔
جس نے بڑے
بزرگوں کا ادب کیاان کی دل وجان سے عزت کی ان کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی
اس نے اپنی منزل پا لی وہ بامراد ہوا اور جس نے بڑے بزرگوں کی عزت نہ کی ان کا
خیال نہ رکھا ان کا احترام نہ کیاان کا کہا نہ مانا وہ اپنی منزل سے نہ صرف محروم
رہا بلکہ دوسرے بھی اس کی عزت و احترام نہ کریں گے۔ جس نے بڑے بزرگوں کا احترام نہ
کیا آنے والی نسلیں بھی اس کو عزت کی نگاہ سے نہ دیکھیں گی۔بڑے بزرگوں کا مطلب یہ
نہیں کہ صرف گھر کے افراد اوروالدین شامل ہیں۔اس میں ہروہ شخص شامل ہے جو علم و
عمر میں آپ سے بڑا ہو۔
بزرگوں کا ادب
انسان کو جنت میں پہنچا دیتا ہے، حضورﷺ نے فرمایا: اے انس بڑوں کا ادب و احترام
اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے۔ (شعب الایمان، 7/458،
حدیث:10981)
اب وقت ہے
بزرگوں کی عزت و احترام کرنے کا،ان کی خدمت کرنے کا۔ ان سے خلوص و محبت و عزت سے
بات کرنے کا۔ ضرورت ہے ہمیں اپنے بزرگوں سے اونچی آواز میں بات نہ کرنے کی۔ ضرورت
ہے ہمیں اس بات کی کہ ہم بزرگوں کو اپنے گھر کا اپنے خاندان کا سرمایہ سمجھیں ان
کی عزت کریں ان کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچنے دیں ان سے جھڑک کر ان کو ذلیل کر کے بات
نہ کریں۔
بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت سرفراز نواز،فیضان عطار بھینس کالونی کراچی
اسلام ہمیں
بڑوں اور بزرگوں کا ادب و احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔بزرگوں کا ادب صرف ایک اصول
ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیم ہے۔ اس ضمن میں حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجیے۔
چنانچہ حضور
نے ارشاد فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے احترام کرے تو اللہ
تعالیٰ اس جوان کے بڑھاپے میں ایسے لوگ مقرر فرما دیتا ہے جو اس کا احترام کرتے
ہیں۔
اسلام ایک
کامل و اکمل دین ہے جو ہمیں بزرگوں کی عزت کرنے کا درس دیتا ہے اور ان کی خدمت
کرنے کا درس دیتا ہے تو اگر ہم آج کسی کی خدمت کریں گے اور احترام کریں گے تو
ہمارے بڑے ہونے پر لوگ بھی ہماری عزت کریں گے۔ بڑوں میں سب سے پہلے ہمارے والدین
آتے ہیں، اگر ہمارے ماں باپ خوش اور راضی ہوں گے تو اللہ پاک بھی ہم سے خوش ہوگا
اور والدین ناراض ہوں گے تو اللہ خود ناراض ہوگا۔ ماں کا مقام اتنا بڑا ہے کہ اگر
ہم محبت اور پیار کی نظر سے ان کی طرف ایک بار دیکھیں گے تو اللہ پاک اس دیکھنے پر
مقبول حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔
پیارے نبی ﷺ نے
فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، یعنی اگر ہم اپنی ماں کی خدمت کریں گے تو ہمیں
جنت ملے گی۔ 1
ایک اور روایت
میں ہے: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم
نہ کرے۔ 2
اس حدیث مبارکہ
سے بھی ہمیں بزرگوں کی اہمیت اور ان کے مقام کا معلوم ہوتا ہے۔ہمیں خود بھی اور
اپنے بچوں کو بھی بزرگوں کی بے ادبی اور ان کی نقلیں اتارنے، ان کا مذاق اڑانے سے
بچنا چاہیے۔ہم اس چیز کا خیال رکھیں کہ ہمیں کس کس کا ادب کرنا چاہیے، والدین کے
علاوہ ہمارے دادا، دادی، نانا، نانی، چاچا اور بڑے بہن بھائیوں کا احترام کرنا بھی
ضروری ہے پھر ہم ہر اس شخص کی عزت کریں جو عمر میں ہم سے بڑا ہو ہمیں تمام بوڑھے و
بزرگ کا ادب کرنا ہے ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی حضرت انس سے فرمایا:اے
انس!بڑوں کا ادب و احترام کرو ان کی عزت کرو اور چھوٹوں سے شفقت کرو تو تم جنت میں
میرے ساتھ رہو گے۔ 3
ادب کرنے والا
دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے ادبی کرنے والا دنیا و آخرت میں ذلت کا
شکار ہو کر لوگوں کے لیے نمونہ عبرت بن جاتا ہے بے ادبی انسان کو تباہی کے گہرے گڑھے
میں دھکیل دیتی ہے مشہور مقولہ ہے: با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب۔
کفار کے
سرداروں نے ایک صحابی کی دعوت اسلام کے جواب میں اللہ پاک کی شان میں گستاخی کی تو
اس پر بجلی گری اور وہ شخص ہلاک ہو گیا۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں
کوئی ایسا لفظ نہیں نکالنا چاہیے جو شان الوہیت میں بے ادبی قرار پائے۔بارگاہ
رسالت میں بے ادبی کی نحوست سے ابو لہب کا بیٹا عتبہ شیر کا لقمہ بنا پانچ دشمنان رسول
عاص بن وائل، اسود بن مطلب، اسود بن عبد یغوث، حارس بن قیس اور ولید بن مغیرہ بھی
بارگاہ نبوت میں گستاخیوں اور بے ادبیوں کے سبب ہلاکت کا شکار ہوئے پس معلوم ہوا
کہ بےادبی وہ شے ہے جو انسان سے اس کا قیمتی سرمایہ ایمان تک چھین لیتی ہے بزرگان
دین کی بے ادبی کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو پاتا۔ 4
لہٰذا اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کا ادب و احترام کرنا چاہیے۔ ہمارے بزرگ اپنے
تجربات اور نصیحتیں ہمیں بتاتے ہیں تاکہ ہم زندگی میں کامیاب ہو سکیں۔ اگر ہم ان
کی باتوں اور تجربات سے کچھ نہ سیکھیں تو ہمیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا
ہے۔ ہم ان کی نصیحتوں پر عمل کر کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بزرگوں
کا احترام کریں گے تو کامیابی کی راہوں پر چلیں گے، لیکن اگر ہم ان کی بے ادبی
کریں گے تو کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے ہمیں اچھے اخلاق اپنانے
چاہئیں اور اپنے والدین، اساتذہ اور دیگر بزرگوں کا ادب و احترام کرنا چاہیے تاکہ
ایک اچھا اور اسلامی معاشرہ قائم ہو سکے۔
حوالہ
جات:
1۔ نسائی، ص 504، حدیث: 3101
2۔ ترمذی،
3/369، حدیث: 1926
3۔ شعب
الایمان، 7/458، حدیث:10981
4۔آداب زندگی،
ص 139
بزرگ ہمارے
اسلامی معاشرے کا اہم جزو ہیں،اسلام صرف ماں باپ تک کے ادب کو محدود نہیں کرتا
بلکہ ہر سفید بال،ہے کھری،ہر کانپتا ہاتھ قابل احترام ہے کیونکہ بڑھاپا بزرگی کی
نشانی ہے اور بزرگی کمزوری کی علامت ہے۔
اللہ پاک سورۃ
الروم کی آیت 54 میں فرماتا ہے: اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ
جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا
وَّ شَیْبَةًؕ- ترجمہ:
اللہ وہ جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا،پھر کمزوری کے بعد طاقت دی،پھر طاقت کے
بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔
یعنی اللہ نے
ہمیں بچے کی صورت پیدا کیا جو کمزوری کی شدید ترین صورت ہے اور پھر ہمیں بڑا کر کے
جوان بناتا ہے جو طاقت کی نشانی ہے اور اسکے بعد بڑھایا آجا تا ہے جو پھر سے
کمزوری کی نشانی ہے۔
آج جو جوان
ہیں وہ کل اسی کمزوری والے دور میں ہونگے،آج جو ہم بزرگوں کے ساتھ کریں گے وہی لوٹ
کر کل آئے گا۔لہذا اپنا کل اچھا گزارنے کیلیے اپنا آج گزاریں،اور بزرگوں سے حسن
سلوک سے پیش آ ئیں انکی بے ادبی نہ کریں انکی باتوں کو فضول نہ جانیں انکی باتوں
کو بے توجہی سے نہ سنیں انکی رائے کو اہمیت دیں ان سے مشورہ مانگیں انکو بتائیں کے
گھر اور خاندان کیلیے بزرگ کس قدر اہم ہیں انکے تجربات سے فایدہ اٹھائیں انہیں آج
اور کل کے دور میں نہ سلجھائیں کہ آپکا وقت اور تھا ہمارا وقت اور ہے۔
ایک حدیث پاک
میں فرمایا گیا ہے: اللہ کی تعظیم میں سے ہیکہ بوڑھے مسلمان کی عزت کی جائے۔ (ابو
داود، 4/344، حدیث: 4843)
یہاں پہ مراد
صرف والدین کی نہیں ہر ذی الشیبہ المسلم یعنی ہر سفید بال والا مسلمان مراد
ہے۔انکو سلام میں پہل کی جائے، گھر میں ہیں تو انکی ضروریات جیسے وقت پہ کھانا
پانی،دوا،چشمہ،لاٹھی اور انکی تنہائی کا خیال رکھا جائے،بس میں سیٹ دی جائے،راستہ
دیا جائے، سامان اٹھا لیا جائے وغیرہ یہ سب اللہ کی تعظیم میں سے ہے۔
ایک اور حدیث
میں ہیکہ ایک بار آپ ﷺ کے پاس دودھ کا پیالہ آیا آپ نے پیا آپکی دائیں طرف ایک
کمزور لڑکا بیٹھا تھا اور بائیں طرف بوڑھے صحابہ،آپ ﷺ نے لڑکے سے اجازت چاہی،کیا
تم اجازت دیتے ہوکہ میں یہ بڑوں کو دے دوں؟ لڑکے نے انکار کیا تو آپ نے اسی کو دے
دیا کیونکہ دائیں والے کا حق تھا،یعنی اصول دائیں جانب والا تھا مگر آپ ﷺ نے
بزرگوں کا ذکر کر کے امت کو سکھایا کہ دل میں بڑوں کا مقام ہونا چاہیے اگر لڑکا
اجازت دے دیتا تو آپ ﷺ پہلے بزرگوں کو دیتے۔
ہمیں بھی
چاہیے کہ جب درمیان میں بزرگ بیٹھے ہوں تو انکی طرف سے چائے پانی کی ابتدا کرنی
چاہیئے، مزید یہ کہ کچھ بزرگ اونچا سنتے ہیں تو اتنی آواز میں بات کی جائے کہ وہ
سن لیں، بزرگوں کی جانب پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھیں۔
قرآن پاک میں
اللہ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی
الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-(پ 28، المجادلۃ:11)
ترجمہ: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ
کردو،اللہ تمھارے لیے کشادگی کرےگا۔
یہ آیت بدری
صحابہ اور بزرگ صحابہ کیلیے جگہ بنانے کے بارے میں نازل ہوئی،آج ہم مسجد میں،بس
میں،دفتر میں بوڑھوں کو کھڑا دیکھ کر بھی انکی لیے جگہ نہیں بناتے۔
ایک اور حدیث
پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے: عبد الرحمن بن سہل اور محیصہ بات کرنے لگے،محیصہ
چھوٹا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا: بڑے کو آگے کرو،بڑے کو آگے کرو۔ (ابن ماجہ، 3/291، حدیث:
2677)
یعنی کہ کوئی
مجلس ہو،پنچایت ہو،جرگہ،آفس میٹنگ بات ہمیشہ عمر میں بڑا شروع کرے،یہ اسلام کا
پروٹوکول ہے۔
بزرگوں میں
صرف خاندان کے بزرگ ہی شامل نہیں ہوتے، بزرگوں میں ہمارے استاد،ہمسایہ،رشتہ دار
بزرگ،عالم حضرات اور پیرو مرشد بھی شامل ہیں دیگر بزرگوں کی بے ادبی سے کس طرح
بچنا چاہیے اسی طرح استاد کی بے ادبی سے بھی بچنا چاہیے اور انکو ادب میں سر فہرست
رکھنا چاہیے کیونکہ استاد ہمیں علم دین سے آراستہ کرتے ہیں جینے کے ڈھنگ اور
معاشرے میں رہن سہن کے طریقہ بتاتے ہیں۔
چنانچہ حضرت امام
ابو حنیفہ اپنے استاد حماد کے بیٹے کو دیکھتے تو سواری سے اتر جاتے،فرماتے کہ اس کے
باپ کے احسان کا بدلہ ہے، اس طرح بوڑھا ہمسایہ تو دوہرا حق رکھتا ہے ایک ہمسائیگی
اور دوسرا بڑھاپا۔
ایک اور حدیث
پاک میں ہے: صلہ رحمی کرو چاہے سلام ہی سے ہو۔ (شعب الایمان، 6/226، حدیث:7972) جیساکہ
دادا دادی، نانا نانی، چچا،ماموں،،خالہ پھوپھی وغیرہ بوڑھے ہو جائیں تو انکے گھر
جائیں حال احوال لیں اور انکے گھر خالی ہاتھ نہ جائیں۔
بزرگوں کی بے
ادبی کی وجہ سے برکت اٹھ جاتی ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے: برکت تمہارے بڑوں کے
ساتھ ہے۔ (مستدرک، 1/238، حدیث:218) یعنی کہ جس قوم، جس ادارے،جس گھر سے بڑوں کو
نکال دوگے تو وہاں سے برکت بھی نکل جائے گی آج کل غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی گھر
کے بزرگوں کو اولڈ ہوم بھیج دیتے ہیں کمپنیاں بھی اولڈ سٹاف کو نکال کے ینگ بلڈ
لاتی ہیں پھر روتی ہے کہ نقصان ہو گیا تجربہ نہیں رہا۔
چنانچہ بزرگ
جہاں کہیں بھی ہوں شجر سایہ دار ہوتے ہیں انکے پتے جھڑ جائیں،تنا سوکھ بھی جائے
پھر بھی انکی جڑیں زمین کو پکڑ رکھتی ہیں،یہی بزرگ ایک خاندان کو دوسرے خاندان سے
جوڑے رکھتے ہیں،ان کی بےادبی و نا فرمانی کا نتیجہ دنیا میں ہی رزق کی تنگی،گھر
میں لڑائی اور اپنی اولاد کی نا فرمانی کی صورت میں مل جاتا ہے۔
اللہ پاک سے
دعا ہے ہمیں بزرگوں کی بے ادبی و نافرمانی سے بچائے۔
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو انسان کو حسن اخلاق، ادب اور احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ والدین،
اساتذہ اور دیگر بزرگ افراد کا احترام اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ بزرگ
افراد اپنے تجربات اور دانائی کی وجہ سے معاشرے میں خاص مقام رکھتے ہیں، اس لیے
انکی عزت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
اللہ پاک قرآن
مجید میں والدین بارے میں ارشاد فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا
تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا
یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ
لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ
15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا
کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے
کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ
جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کہنا۔
اس آیت مبارکہ
میں والدین کی عزت و تکریم کرنے ان کے ساتھ شفقت سے پیش آنے انکا احترام کرنے کا
حکم ارشاد فرمایا گیا ہے اور انکی بے ادبی کرنے انکو جھڑکنے یہاں تک کہ انہیں اف
تک کہنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
البتہ ہمیں
چاہیے کہ ہم والدین کے ساتھ ساتھ اپنے بڑوں بزرگوں اور بوڑھوں کا بھی ادب و احترام
کریں ان سے نرمی سے پیش آئیں اور انکی بے ادبی کرنے سے بچیں۔
یاد رکھئے
بزرگوں کی بے ادبی عظیم فضائل سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا
احترام نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)
اس حدیث
مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے بڑوں کا احترام نہ کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ
ہم میں سے نہیں یعنی وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔
یہ حدیث ان
سنگ دل لوگوں کے لیے سبب عبرت ہے جو بڑوں کا احترام نہیں کرتے اور انکی بے ادبی
کرتے ہیں۔
بزرگوں کی بے
ادبی نہ صرف اخلاقی برائی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ اور اس کے دینی
اور دنیاوی دونوں طرح کے نقصانات ہیں۔
والدین اور
بزرگوں کی حق تلفی اللہ پاک کی نافرمانی میں شامل ہے۔ بزرگوں کی بے ادبی کرنے سے
گھریلو جھگڑے، نفرت اور بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے، جو شخص اپنے بزرگوں کی عزت نہیں
کرتا، لوگوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت کم ہو جاتی ہے، اس کے برعکس بزرگوں کا
احترام کرنا ایک اعلیٰ اخلاقی وصف ہے۔انکی خدمت کرنا انکا احترام کرنا جنت اور
اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
احادیث مبارکہ
میں بڑوں کے احترام اور تعظیم کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
بوڑھے مسلمان کا احترام کرنا اللہ کی تعظیم میں سے ہے۔ (ابو داود، 4/344، حدیث:
4843)
اس حدیث
مبارکہ سے بوڑھے مسلمان کے احترم کی اہمیت خوب واضح ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے بوڑھے
مسلمان کی تعظیم کو اپنی تعظیم قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بڑوں کا ادب و احترام بجا لائیں جیسا کہ صحابہ کرام علیہم
الرضوان کا مہکتا مہکتا مدنی انداز بھی یہی تھا کہ وہ خود پر بڑوں کو فوقیت دیتے
اور انکے ادب و احترام کرتے تھے۔جیسا کہ
حضرت ابو
سعیدسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے میں
لڑکا (کم عمر) تھا اور میں آپ سے (سن کر) حدیثیں یاد کیا کرتا تھا، مجھے وہاں
گفتگو کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی سوائے اس بات کے کہ وہاں مجھ سے بڑی
عمر کے لوگ موجود ہیں۔ (مسلم، ص 481، حدیث:964)
یہ حدیث
مبارکہ بڑوں کی تعظیم اور ادب و احترام کے حوالے سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے
انداز مبارک کی عکاسی کرتی ہے۔
نیز اس حدیث
مبارکہ سے دو (2) اہم مدنی پھول ملاحظہ فرمائیے:
1)جب کسی مجلس
میں چھوٹے اور بڑے دونوں موجود ہوں تو چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں سے پہلے گفتگو میں
پہل نہ کریں۔
(2) بڑوں سے
گفتگو میں پہل کرنا خلاف ادب اور پہل نہ کرنا حسن ادب ہے۔
جو شخص اپنے
بڑوں کا ادب کرتا ہے، وہ دراصل اپنی عزت اور اپنے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے
اور جو بزرگوں کی بے ادبی کرتا ہے وہ معاشرتی اور روحانی برکتوں سے محروم ہو جاتا
ہے۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنے والدین، اساتذہ اور دیگر بزرگوں کا ادب و احترام کریں، انکی خدمت کریں اور
انکی نصیحتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہی کامیاب اور مہذب معاشرے کی علامت ہے۔
اسلام ایک
مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات کا طریقہ سکھاتا ہے بلکہ اخلاق،
معاشرتی اور باہمی تعلقات کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ انہی آداب میں ایک نہایت اہم ادب
بزرگوں کی عزت و توقیر ہے۔ بزرگ خواہ والدین ہوں، اساتذہ ہوں یا معاشرے کے معزز
افراد، ان کا احترام کرنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ اس کے برعکس بزرگوں کی
بے ادبی ایک ایسا عمل ہے جس کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے
نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کی
تعظیم نہ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ (1)
بزرگوں کی بے
ادبی صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ رویّے، انداز گفتگو، اور برتاؤ سے بھی
ظاہر ہوتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں دیگر کئی برائیاں بڑھتی جا رہی ہیں وہیں افسوس
کے ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ نوجوان نسل اکثر اپنے بزرگوں سے اونچی آواز
میں بات کرتی ہے، ان کے مشوروں کو نظر انداز کرتی، اور بعض اوقات ان کی توہین تک
کر دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب
بھی بنتا ہے۔ یاد رکھئے ادب کرنے والا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے
ادبی کرنے والا دنیا اور آخرت میں ذلت کا شکار ہو کر لوگوں کے لئے نمونۂ عبرت بن
جاتا ہے کیونکہ بے ادبی انسان کو تباہی کے گہرے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ مشہور
مقولہ ہے: باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔
بے ادبی وہ شے
ہے جو انسان سے اس کا قیمتی سرمایہ ایمان تک چھین لیتی ہے۔جیسا کہ ابلیس کی نولاکھ
سال کی عبادت ایک بے ادبی کی وجہ سے برباد ہوگئی اور وہ مردود ٹھہرا۔
حضرت ابوعلی
دقّاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں، بندہ اطاعت سے جنّت تک اور ادب سے خدا تک پہنچ جاتا
ہے۔ (2)
اسی طرح
والدین جب بوڑھے اپنی زبان سے کوئی بے ادبی والا جملہ نہیں نکالنا چاہیے بلکہ اس
حالت میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ادب کرنے کا حکم تو قرآن کریم میں ہے کہ
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ
وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ
اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا
وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ 15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز
العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں
باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو
پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم
بات کہنا۔
تفسیر روح
البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا
تو اللہ تعالیٰ اسے (ا سکی بے ادبی کی وجہ سے)زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ ایک اور
جگہ نقل ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی حضور میں فاقہ کا شکار
رہتاہوں۔ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تو کسی بوڑھے(شخص) کے آگے چلا ہوگا۔ (3)
اس سے معلوم
ہوا کہ بے ادبی دنیا وآخرت میں مردود کروادیتی ہے۔
ہمارے بزرگوں
میں اساتذہ بھی شامل ہیں لہٰذا ہمیں انکی بے ادبی سے بھی بچتے رہنا چاہیے کہ دین
اسلام استاد کے ادب و احترام کا بھی حکم دیتا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں: جو بے ادب ہو،وہ علم سے بہرہ مند نہیں ہو سکتا۔(4)
اسی طرح مرید
کو اپنے پیر کے معاملے میں بھی ادب کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کہ حضرت ذوالنون
مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب کوئی مرید ادب کا خیال نہیں رکھتا،تو وہ لوٹ کر
وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔(5)
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بزرگوں کا حقیقی ادب کرنے والا بنائے۔ آمین
حوالہ
جات
(1) ترمذی، 3/369،
حدیث:1926
(2) رسالۃ
قشیریہ، ص 316
(3) روح
البیان، 5/56
(4) المنبہات،
ص 13
(5)رسالہ
قشیریہ، ص 319
بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت محمد رمضان،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
آج کے معاشرے
کا اگرجائزہ لیا جائے تو واضح ہے کہ لوگوں نے کس جراءت کے ساتھ علماء اور دیندار
طبقہ کی بے ادبی اور ان پر بے جا تنقید کرنے کو اپنا شیوہ بنایا ہے۔ فقہائے کرام
نے لکھا ہے کہ جو شخص علماء کی توہین و بے ادبی کرتا ہے اس پر کفر اور سوئے خاتمہ
کا اندیشہ ہے۔
علامہ ابن
نجیم مصری فرماتے ہیں: الاستہزاء بالعلم والعلماء کفر علم
اور علما کی توہین کفر ہے۔
دین اسلام
ہمیں ہر ہر معاملے میں ادب کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم مقدس ہستیوں، متبرک مقامات اور
با برکت چیزوں کا احترام کریں اور بے ادبی اور بے ادبوں کی صحبت سے اپنے آپ کو دور
رکھیں۔ جیسا کہ منقول ہے: ما وصل من وصل إلّا بالحرمۃ وما سقط من
سقط إلّا بترک الحرمۃ والتعظیم یعنی جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام
کے سبب سے پایا اور جس نے جو کھویا ادب و احترام نہ کرنے کی وجہ سے ہی کھویا۔ (تعلیم
المتعلم طریق التعلم، ص 42)
اسی لیے کہا
جاتا ہے کہ با ادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔
اللہ تعالیٰ
نے فرمایا: وَ
لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ
اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان:
اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ
کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
بےادب
کیلئے حدیث میں وعید: حضور ﷺ فرماتے ہیں: جو ہمارے بڑوں کا ادب نہ کرے،
ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے وہ میری امت میں سے
نہیں۔ (مسند امام احمد، 8/412، حدیث: 22819)
بے
ادبی کا قہر: شیطان
نے لاکھوں سال اللہ پاک کی عبادت کی، ایک قول کے مطابق چھ لاکھ سال عبادت کی اور
صرف ایک بےادبی کی وجہ سے چھ لاکھ سال کی عبادت ضائع کر بیٹھا اور وہ بے ادبی حضرت
آدم علیہ السلام کی تعظیم نہ کرنا تھی۔ (ادب کی اہمیت از مفتی امین صاحب، ص 26)
فاقے
اور تنگی کا سبب: منقول
ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی: حضور! میں فاقے کا شکار رہتا ہوں تو
آپ ﷺ نے فرمایا: کہ تو کسی بوڑھے (شخص) کے آگے چلا ہوگا۔ (آداب مرشد کامل، ص26،
27)
ولی
کی بے ادبی: ولی
خدا کے نیک بندوں میں شمار ہوتے ہیں، یہ بلند درجوں پر فائز ہیں، چنانچہ ان کی بے
ادبی کرنے کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں، کہ اللہ تعالی نے فرمایا:جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے،
اسے میں نے لڑائی کا اعلان دے دیا۔ (بخاری،4/248، حدیث:6502)
بزرگان دین کی
بے ادبی کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، جیسا کہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے
ساتھ ابن سقا ایک بزرگ کی زیارت کرنے کے لئے گیا، غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ نے تو
ادب کی وجہ سے اعلی مقام حاصل کیا، مگر ابن سقا بے ادبی کی نحوست سے مرتد ہوگیا۔
اللہ پاک ہمیں
بے ادبی اوربے ادبوں سے بچائے۔ آمین
محفوظ
سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے اور مجھ
سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت عبدالستار،فیضان عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
اسلام میں
بزرگوں، والدین، اساتذہ اور عمر رسیدہ افراد کا احترام بہت اہم ہے۔ ان کی بےادبی
اور گستاخی سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
بزرگوں
کے ساتھ بے ادبی کسے کہتے ہیں؟ بزرگوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا
جس سے ان کی عزت، وقار یا دل آزاری ہو، بے ادبی کہلاتا ہے۔
بزرگوں
کے ساتھ بے ادبی کی چند مثالیں: ان سے اونچی آواز میں بات کرنا۔ ان کی
بات کاٹنا یا جواب میں سخت الفاظ استعمال کرنا۔ ان کا مذاق اڑانا یا تحقیر کرنا۔
والدین، اساتذہ یا دیگر بزرگوں کی نافرمانی کرنا۔ ان کے سامنے بدتمیزی سے بیٹھنا
یا کھڑا ہونا۔ ان کی نصیحتوں کو حقارت سے رد کرنا۔ گالی دینا، جھڑکنا یا انہیں
تکلیف پہنچانا۔
فقہی
حکم: بزرگوں
کی توہین،تحقیر،بدتمیزی سخت لہجے میں گفتگو یا ان کی دل آزاری کرنا شرعاً گناہ ہے،
خصوصاً اگر وہ والدین یا اساتذہ ہوں تو گناہ کی شدت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
بزرگوں کے
ساتھ بے ادبی کرنا اسلام میں ممنوع اور گناہ ہے، جبکہ ان کا ادب و احترام کرنا
باعث اجر برکت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے
بزرگوں سے ہمیشہ عزت نرمی اور حسن اخلاق کے ساتھ پیش آئے۔
والدین
سے ادب سے بات کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ
اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا
یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ
لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ
15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا
کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے
کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ
جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کہنا۔
بزرگوں
کے احترام کا حکم: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ
کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث:
1926)
سفید
بال والے مسلمان کی عزت: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی
تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ سفید بال والے مسلمان کی عزت کی جائے۔ (ابو داود، 4/344،
حدیث: 4843)
والدین
کی نافرمانی کبیره گناه: حضور ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے
بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی
نافرمانی کرنا۔ (بخاری، 4/95، حدیث:5976)
حضرت
عبداللہ بن عمر کا بزرگ کا احترام: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
ایک دیہاتی شخص سے ملے جو ان کے والد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دوستوں میں
سے تھا۔ آپ نے اسے اپنا عمامہ عطا فرمایا اور اپنی سواری پر بٹھایا۔ لوگوں نے عرض
کی کہ یہ ایک عام دیہاتی ہے، مگر آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے
سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک
کرے۔ (مسلم، ص 1060، حدیث: 6513)
حضرت
ابو ہریرہ کا اپنی والدہ کے ساتھ ادب: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب
اپنی والدہ کے گھر سے نکلتے تو دروازے پر کھڑے ہو کر عرض کرتے: السلام
علیک یا امتاہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اور والدہ جواب دیتیں۔ پھر آپ فرماتے:
اللہ آپ پر رحم فرمائے جس طرح آپ نے بچپن میں میری پرورش فرمائی۔ (الادب المفرد، ص
14، حديث: 14)
حضرت
ابن عباس کا اپنے استاد کے ادب کا واقعہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ
عنہما کسی صحابی سے حدیث سیکھنے کے لیے ان کے گھر تشریف لے جاتے۔ اگر وہ آرام فرما
رہے ہوتے تو آپ دروازے پر انتظار کرتے اور انہیں جگاتے نہ تھے، بلکہ فرماتے: طالب
علم کو چاہیے کہ وہ عالم کے پاس آئے۔ (سیر اعلام النبلاء، 3/331)
رسول
اللہ ﷺ کا بزرگوں کے احترام کی تعلیم دينا: حضرت انس رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے
اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)
یہ حدیث
بزرگوں کے احترام کی عظیم تعلیم دیتی ہے۔ بزرگوں کا احترام اسلامی تعلیمات کا
بنیادی حصہ ہے۔ والدین، اساتذہ اور بزرگوں کی عزت باعث برکت ہے۔ علم حاصل کرنے کے
لیے ادب ضروری ہے۔ بزرگوں کی خدمت اور تعظیم اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ جو
بزرگوں کا احترام کرتا ہے، وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتا ہے۔
دعا ہے کہ
اللہ پاک ہمیں بزرگوں کا ادب و احترام کرنے اور آقا کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی سیرت
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت طاہر حسین، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
عربی زبان میں
ادب کے لغوی معنی شائستگی، اخلاق، سلیقہ اور عمدہ طریقہ کے ہیں۔ ادب ہی نسان کو
حیوانوں سے جدا کرتا ہے۔ادب ہی انسان کی معراج اور ارتقا کا ذریعہ ہے۔ادب ہی وہ
راستہ ہے جس پر چل کر انسان عزت و عظمت کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے اور بے ادبی وہ
کھائی ہے جس میں گر کر انسان ذلت و رسوائی کی گہرائی میں چلا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے
کہ اسلام میں ادب کی بڑی اہمیت ہے، بلکہ دین سارے کا سارا ادب ہے۔
بےادبی ادب کا
متضاد ہے۔ بزرگوں کی بے ادبی سے مراد قابل احترام بزرگ کو انکے مرتبے کے مطابق عزت
نہ دینا۔جہاں ادب کے بےشمار فوائد و برکات ہیں وہیں بےادبی کے کئی روحانی، دنیاوی اور
اخروی نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے مشہور مقولہ ہے: باادب بانصیب، بے ادب
بےنصیب یعنی ادب کی وجہ سے بعض اوقات انسان وہ مقام و مرتبہ حاصل کر لیتا ہے جو
کئی سالوں کی محنت سے بھی نہیں حاصل کر پاتا۔
ہمارا اسلام
بزرگ ہستیوں کا ادب و احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔ اس سے مراد وہ بزرگ بھی ہیں جو
عمر اور تجربے کے لحاظ سے بزرگ ہیں اور وہ افراد بھی جو تقویٰ اور روحانیت کے
اعلیٰ مقام پر فائز ہوں۔ بے ادبی علم، برکت اور اللہ کی رحمت سے دوری کا سب سے بڑا
سبب ہے۔ باادب انسان علم اور فیض حاصل کرتا ہے، جبکہ بے ادب صراط مستقیم اور فضل
ربانی سے محروم رہ جاتا ہے۔
قرآن و حدیث
سے بھی بزرگوں کا ادب کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔
بے
ادبی اعمال کی بربادی کا سبب:اللہ تبارک وتعالیٰ اور مقدس ہستیوں
(انبیاء، صحابہ کرام، اور اولیائے عظام) کی بارگاہ میں معمولی سی بھی گستاخی انسان
کے سالوں کی نیکیوں اور اعمال صالحہ کو برباد کر دیتی ہے۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ
بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات:
2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے
کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ
ہو۔
تفسیر روح
البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا
تو اللہ اسے (اس کی بے ادبی کی وجہ سے) زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان،
5/56)
کسی شخص نے
بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تو
کسی بوڑھے شخص کے آگے چلاہوگا۔(روح البیان، 5/56)
محفوظ
خدا رکھنا سدا بے ادبوں سے اور مجھ سے
بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
ادب
پہلا قرینہ محبت کے قرینوں میں: حدیث پاک میں ہے کہ اصحاب کہف اللہ
والوں سے محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کتے کو انسانی شکل میں جنت میں داخل
فرمائے گا اب دیکھیں اللہ والوں سے محبت کرے، اگر نجس جانور وہ تو جنت میں داخل
ہوجائے اور بلعم بن باعورا جس نے نبی کی بے ادبی کی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی شان
میں گستاخی کی، انسان ہونے کے باوجود فرمایا کہ بے ادبی کی وجہ سے یہ جہنم میں کتے
کی شکل میں جائے گا۔ (الملفوظ (کامل)، حصہ سوم، ص 457)
بے
ادبی کا وبال: شیطان
نے لاکھوں سال اللہ پاک کی عبادت کی ایک قول کے مطابق چھ لاکھ سال عبادت کی اور وہ
صرف ایک بے ادبی کی وجہ سے چھ لاکھ سال کی عبادت ضائع کر بیٹھا اور وہ بے ادبی
حضرت آدم علیہ السّلام کی تعظیم نہ کرنا تھا۔ (ادب کی اہمیت از مفتی امین صاحب، ص 26)
تاریخ شاہد ہے
کہ گزشتہ زمانوں میں جن قوموں کو ہلاکت خیز عذاب سے دو چار کیا گیا اور ان کو صفحہ
ہستی سے مٹا کر عبرت کا نشانہ بنایا گیا، اس کی وجہ صرف اللہ کی نافرمانی ہی نہ
تھی بلکہ انبیا و رسل اور اولیا واتقیا کی بے حرمتی اور بے ادبی بھی تھی۔
حضرت ذالنون
مصری فرماتے ہیں: جب مرید ادب کی حد یں توڑدے تو وہ لوٹ کروہیں پہنچ جا تا ہے جہاں
سے چلا تھا۔ (الطرر و الحواشی علی الحکم العطائیہ، ص 96)
بزرگان دین کی
بے ادبی کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا جیسا کہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے
ساتھ ابن سقا ایک بزرگ کی زیارت کرنے کے لئے گیا، غوث پاک نے تو ادب کی وجہ سے
اعلیٰ مقام حاصل کیا مگر ابن سقا بےادبی کی نحوست سے مرتد ہوگیا۔ (بہجۃ الاسرار، ص
19)
خلاصہ یہ ہے
کہ ادب میں ہی دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔اللہ پاک ہمیں ہمیشہ بےادبیوں سے محفوظ
فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
بزرگوں کی بے
ادبی ایک ایسا سماجی اور اخلاقی جرم ہے جو معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے بزرگوں کی
توہین یا دل آزاری کرنا نہ صرف معاشرے میں برائی پھیلاتی ہے بلکہ روحانی برکتوں کے
خاتمے کا سبب بھی بنتی ہے۔
سماجی
نقصان: بزرگ
گھر یا معاشرے کا سایہ ہوتے ہیں ان کی بے ادبی خاندانی نظام کو تباہ کر دیتی ہے جس
کی وجہ سے نئی نسل اخلاقی اقدار سے محروم ہو جاتی ہے۔
اخلاقی
نقصان: مسلمان
کی عزت و توقیر کو اللہ کی تعظیم قرار دیا گیا ہے جو بزرگوں کا احترام نہیں کرتا
وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔
روحانی
اور دنیاوی انجام: بزرگوں کی بے ادبی اور بد دعاؤں سے بچنا ہر مسلمان
پر فرض ہے بے ادبی ایسی نحوست ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں نقصان پہنچاتی ہے۔
بے
ادبی اعمال کی بربادی کا سبب: قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے: وَ لَا تَجْهَرُوْا
لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان:
اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ
کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
تفسیر روح
البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا
تو اللہ اسے زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)
حدیث
مبارکہ میں مذمت:
حضور ﷺ کا
فرمان: جو ہمارے بزرگوں کا ادب نہ کرے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے عالم
کا حق نہ پہچانے وہ میری امت میں سے نہیں۔
ایک
مشہور مقولہ: باادب
با نصیب، بے ادب بے نصیب یعنی انسان جو پاتا ہے ادب کی وجہ سے پاتا ہے اور جو
کھوتا ہے اس کا سبب بے ادبی ہے بے ادبی کی نحوست اس قدر ہے کہ ایمان کو کاملیت تک
نہیں پہنچنے دیتی۔
اعلیٰ
حضرت کا فرمان: جو
با ادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں کیونکہ بعض اوقات بے ادبی کفر تک لے جاتی ہے اور
ہمیشہ کیلئے جہنم کا ٹھکانہ بنا دیتی ہے۔
جیسے: شیطان
نے اتنے سالوں تک اللہ کی عبادت کی اور علوم و فنون کا ماہر تھا یہاں تک کہ فرشتوں
میں وعظ کرتا تھا لیکن ایک نافرمانی کی وجہ سے اس کا ٹھکانہ ہمیشہ کیلئے جہنم کر
دیا اور وہ نافرمانی حضرت آدم علیہ السلام کی بے ادبی تھی۔
انسان
اور جانور میں فرق: انسان اور جانور میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ ادب ہے
یہ وہ تحفہ ہے جو اللہ نے انسان کو بطور خاص عطا فرمایا۔
خصوصیات:
1:
ادب ہی انسان کو حیوانوں سے جدا رکھتا ہے 2: ادب ہی انسان کی معراج اور ارتقاء کا
ذریعہ ہے 3: ادب ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسان عزت و عظمت کی چوٹی پر پہنچ
جاتا ہے۔
نقصان:
1: اور بے
ادبی وہ کھائی ہے جس میں گر کر انسان ذلت ورسوائی کی گہرائی میں چلا جاتا ہے یہی
وجہ ہے اسلام میں ادب کی بہت اہمیت ہے۔
ان تمام
معلومات سے معلوم ہوا کہ علما ہی دین اسلام لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ بد قسمتی سے آج
کل ان کی عزت لوگوں کے دلوں سے ختم ہوتی جارہی ہے لیکن یاد رہے کہ علما ہی انبیا
کے وارث ہیں ادب کرنے کی وجہ سے ہی ولایت کا درجہ بھی مل جاتا ہے۔
اس لیے ہمیں
بھی ادب کے دائرے میں رہنا چاہیے کہ اسی میں بھلائی ہے اور جو بے ادب ہوتا ہے وہ
کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ماں باپ، اساتذہ، اور بزرگوں کی
عزت کریں۔
بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت عبدالواحد، جامعۃ المدینہ گہوگا سیالکوٹ
انسانیت کا
شرف یہ ہے کہ انسان ادب کے زیور سے آراستہ ہو جس میں ادب نہ ہو وہ ہر نعمت سے
محروم ہے انسان اور جانور میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ ادب ہے بے ادبی کی نحوست اتنی
زیادہ ہے کہ یہ ایمان کو کامل نہیں ہونے دیتی۔
ایک مشہور
مقولہ ہے: باادب بانصیب بے ادب بے نصیب یعنی انسان جو پاتا ہے ادب کی وجہ سے پاتا
ہے اور جو کھوتا ہے اسکی وجہ بے ادبی ہے۔
ادب
کی تعریف: ادب
ایسے وصف کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اچھی باتوں کی پہچان حاصل کرتا ہے اس کے
برعکس کو بے ادبی کہیں گے۔
قرآن
کریم کی روشنی میں بے ادبی کی مذمت:
وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان:
اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ
کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
پہلے زمانے
میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے (اسکی بے
ادبی کی وجہ سے) زمین میں دھنسا دیتا۔ (روح البیان، 5/56)
بے
ادبی کا وبال حدیث مبارکہ کی روشنی میں:
شیطان نے
لاکھوں سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ایک قول کے مطابق چھ لاکھ سال عبادت کی اور وہ
صرف ایک بے ادبی کی وجہ سے چھ لاکھ سال کی عبادت ضائع کر بیٹھا اور وہ بےادبی حضرت
آدم علیہ السلام کی تعظیم نہ کرنا تھی۔ (ادب کی اہمیت از مفتی امین صاحب، ص 26)
بلعم بن بعورہ
بہت بڑا عابد زاہد اور عالم تھا روحانیت کا عالم یہ تھا کہ زمین پر بیٹھ کر عرش
اعظم کو دیکھ لیتا تھا لیکن مال کی ہوس اور دنیا کی محبت نے اسکا حال برا کر دیا
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بارگاہ الہی سے دھتکار دیا گیا اس نے مال کے لالچ میں آکر حضرت
موسی علیہ السلام کے لے بددعا کرنا چاہی اور بے ادبی کی کوشش کی جس کی وجہ سے اسکی
زبان لٹک کر سینہ تک آگی اور کفر پر مرا۔ (عجائب القرآن، ص 118)
اس سے ثابت
ہوا کہ کوئی جتنا بھی بڑا عابد وزاہد ہو اپنے سے بڑے مرتبے والے کی ادنیٰ سی بے
ادبی نے اسکے اعمال کو اس طرح برباد کر دیا کہ اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
بے
ادبی پر علمائے کرام کے اقوال:
اعلی حضرت
رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو باادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 28/108)
حضرت ذوالنون
مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کوئی مرید ادب کا خیال نہیں رکھتا تو وہ لوٹ کر
وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔ (رسالہ قشیریہ، ص 317)
ادب
کرنے کے فائدے
حضرت ابو علی
دقاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بندہ اطاعت کرنے سے جنت تک اور ادب کرنے سے اللہ تک
پہنچ جا تا ہے۔ (رسالہ قشیریہ، ص 316)
ادب ایک انمول
چیز ہے جس کی تعلیم خود اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو ارشاد فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: مجھے میرے رب نے ادب سیکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔
اعلیٰ حضرت
رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عقل سے پوچھا کہ بتا ایمان کیا ہے؟ عقل نے میرے دل
کے کان میں کہا ایمان ادب کا نام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 23/393)
خلاصہ کلام یہ
ہوا کہ بعض اوقات انسان وہ مقام و مرتبہ حاصل کر لیتا ہے جو کتنے سالوں کی محنت سے
حاصل نہیں کر پاتا بے ادبی کی وجہ سے انسان ایک پل میں ہی بلند و الا مقام سے پستی
وذلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
آخر میں اللہ
سے دعا ہے کہ ہمیں ہر طرح کی بے ادبی سے محفوظ فرمائے اور ہمیں خوب ادب کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت غلام حیدر،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اسلام میں
بزرگوں کی بے ادبی سخت ناپسندیدہ اور گناہ کبیرہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو
ہمارے چھوٹوں پر رحم اور بزرگوں کی تعظیم نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی،
3/369، حدیث: 1926) بڑوں کا احترام معاشرتی استحکام کی بنیاد اور اللہ کی رحمت کے
حصول کا ذریعہ ہے۔
رحمت
اور برکت کا خاتمہ: بزرگوں کی دل آزاری اور بے ادبی معاشرے سے برکت اور
سکون کو ختم کر دیتی ہے اور اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتی ہے۔
سماجی
اور اخلاقی زوال: بڑوں
کی توہین خاندانی اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے اور نوجوان نسل میں بے راہ روی کو
فروغ دیتی ہے۔
دنیا
و آخرت کا نقصان: بزرگوں
کی بددعا انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کر سکتی ہے، جبکہ ان کی خدمت اور
دعائیں کامیابی کی کنجی ہیں۔
بعض اوقات
بڑوں کے ادب و احترام کے سبب اس کی بخشش و مغفرت بھی ہو جاتی ہے، چنانچہ ایک مرتبہ
ایک شخص دریا کے کنارے پر بیٹھا وضو کر رہا تھا، اسی دوران لاکھوں حنبلیوں کے عظیم
پیشوا حضرت احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ وہاں تشریف لائے اور اس سے کچھ فاصلے پر
بیٹھ کر وضو کرنے لگے،جب اس شخص نے دیکھا کہ جس طرف میرے وضو کا غسالہ (دھوون)بہہ
رہا ہے،اس طرف تو اللہ کے ایک مقرب ولی بیٹھ کر وضو فرما رہے ہیں،تو اس کے دل نے
یہ بات گوارانہ کی او روہ اٹھ کر حضرت احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے دوسری طرف
جا کر بیٹھ گیا،جہاں سے ان کے وضو کا مستعمل پانی اس کی طرف آرہا تھا،اللہ کے ولی
کے ادب واحترام کا صلہ اس شخص کو یوں ملا کہ جب اس کا انتقال ہوا اور کسی نے اسے
خواب میں دیکھ کر حال دریافت کیا تو اس نے بتایا:اللہ نے اپنے ولی حضرت امام احمد
بن حنبل کے ادب کی برکت سے مجھے بخشش دیا۔ (تذکرۃ الاولیاء، 1/196)
یقیناً جو لوگ
بڑوں کی عزت و عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے دل سےان کا ادب و احترام کرتے ہیں تو لوگو
ں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا ہوجاتی ہے اور ایسے باادب لوگ معاشرے میں عزت و
وقار کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
سب سے پہلے جو
بے ادب تھا، وہ شیطان تھا، جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ کے
حکم کا اپنے نفس کے مقابلہ میں خیال نہیں کیا اور بے ادبی کرکے راندۂ درگاہ ہوگیا
تو وہ اب بھی یہی کرتا ہے کہ لوگوں میں بے ادبی پیدا کرتا ہے۔ اس وجہ سے بے ادبی
خطرناک چیز ہے۔
علما اور ائمہ
دین کی بے ادبی یا ان کے ساتھ بدگمانی یہ تو بہت بڑی بات ہے، عام آدمی عام مسلمان
کی آبرو ریزی اور بدگمانی یہ بھی کسی طرح جائز نہیں، ان بڑوں میں سے خدانحواستہ
اگر کسی کی بے ادبی ہو گئی تو یاد رکھو کہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھوگے۔
انسان ایک
سماجی مخلوق ہے۔ اور اس کی ترقی کا دارومدار اخلاق، تہذیب اور باہمی احترام پر ہے۔
معاشرے میں امن، محبت اور برکت قائم رکھنے کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ہر فرد
اپنا مقام پہچانے اور دوسروں کا حق ادا کرے۔ انہی حقوق میں سے سب سے اہم حق بزرگوں
کا ہے۔
بزرگ ہمارے
معاشرے کی وہ جڑیں ہیں جن سے ہماری تاریخ، تجربہ اور حکمت جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے
اپنی زندگیاں قربانی، محنت اور صبر میں گزار کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ لیکن
بد قسمتی سے آج کا مادہ پرست دور، جہاں تیز رفتاری اور انفرادی آزادی کو ہر چیز پر
مقدم سمجھا جاتا ہے وہاں بزرگوں کو بوجھ سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ زبان کی
سختی، لہجے کی تلخی اور رویے کی بے اعتنائی نے گھروں سے برکت اور معاشرے سے سکون
چھین لیا ہے۔
اس لیے اسلام
نے ہمیشہ بزرگوں کے ادب و احترام پر زور دیا ہے اور بے ادبی کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار
دیا ہے۔
اللہ پاک قرآن
مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ
بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات:
2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے
کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ
ہو۔
تفسیر روح
البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا
تو اللہ پاک اسے اس کی بے ادبی کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان،
5/56)
کسی شخص نے
بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ضرور تو
کسی بوڑھے کے آگے چلا ہوگا۔(روح البیان، 5/56)
کئی احادیث
مبارکہ میں بھی بزرگوں کا ادب کرنے کی تعلیم دی گئی ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بڑوں کی تعظیم و توقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنت میں میری
رفاقت پالو گے۔ (شعب الایمان، 7/458، حدیث: 1098)
ایک اور روایت
میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی مجلس کو بوڑھے کی عمر، عالم کے علم
اور سلطان کے عہدے کی وجہ سے کشادہ کر دیا کرو۔ (کنز العمال، 9/66، حدیث: 25495)
ان احادیث سے
معلوم ہوا کہ بزرگوں، بڑوں کی عزت و تکریم اور ادب و احترام باعث نجات اور جنت میں
نبی کریم ﷺ کی رفاقت پانے کا ذریعہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بڑے کو آگے رکھو اور پھر اس سے بڑے کو۔ (ابن ماجہ، 3/291، حدیث: 2677)
یہ حدیث مجلس،
بات کرنے اور فیصلہ کرنے میں بزرگوں کو مقدم رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: مسلمان بزرگ کی عزت کرنا اللہ پاک کی تعظیم میں سے ہے۔ (ابو داود، 4/344،
حدیث: 4843)
ان احادیث سے
واضح ہے کہ بزرگوں کی بے ادبی کرنا صرف بد اخلاقی نہیں بلکہ اللہ اور رسول کی
تعلیم سے انحراف ہے۔ ادب کرنے والا دنیا میں بھی عزت پاتا ہے اور آخرت میں بھی اجر
پاتا ہے۔
بے
ادبی کی صورتیں: بزرگوں
کی بے ادبی صرف گالی دینے یا مارنے تک محدود نہیں اس کی صورتیں یہ بھی ہیں: بات
کاٹنا، آواز بلند کرنا یا حقارت سے دیکھنا ان کے تجربے اور مشورے کو حقیر سمجھنا،
مجلس میں ان سے پہلے بولنا یا بیٹھنا،انکی ضرورتوں کو نظر انداز کرنا خاص طور پر
بڑھاپے میں اور سوشل میڈیا پر ان کا مذاق اڑانا وغیرہ۔
ادب سے محبت
بڑھتی ہے، برکت آتی ہے اور نسلیں سنورتی ہیں۔ بے ادبی وقتی آزادی کا احساس تو دیتی
ہے مگر آخر کار انسان کو تنہائی اور ذلت کی طرف لے جاتی ہے۔
اس لیے ہمیں چاہیے
کہ ہم بھی بزرگوں کا ادب کریں، ان کی خدمت کریں اور انہیں برا بھلا نہ کہیں۔
آخر میں اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بزرگوں کا ادب کرنے اور ان کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
Dawateislami