مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت نور حسین،
جامعۃ المدینہ والٹن لاہور
اسلام اپنے
ماننے والوں کو اعلی کلام نرم گفتاری اور لوگوں کا احترام سکھاتا ہے گفتگو کا ایک
اہم اصول یہ بھی ہے کہ جس سے بات کی جا رہی ہو اسے مکمل توجہ دی جائے اور کسی کو
نظر انداز نہ کیا جائے اور کسی کو نظر انداز کرنا غلط بات ہے اور یہ اسلامی ادب
بھی نہیں ہے۔
اللہ پاک نے
قرآن پاک میں بھی اس بارے میں حکم دیا ہے، ہمارا دین ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں
رہنمائی دیتا ہے اور اسی طرح گفتگو کے متعلق بھی کئی تعلیمات دی گئی ہیں قرآن مجید
میں اللہ پاک نے نے ارشاد فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔
یہاں حضرت
لقمان رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ذکر کی جا رہی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو باطنی
اعمال کے حوالے سے فرمائی چنانچہ فرمایا کہ اے میرے بیٹے جب آدمی بات کرے تو تکبر
کرنے والوں کی طرح انہیں حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیر لینے والا طریقہ اختیار
نہ کرنا بلکہ مالدار اور فقیر سبھی کے ساتھ عاجزی اور انکساری کے ساتھ پیش آنا اور
زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلنا بے شک اکڑنے والا اور تکبر کرنے والا کوئی بھی شخص
اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے
یاد رہے کہ
اندرونی عظمت پر پکڑنا فخر ہے جیسے علم، حسن، خوش اوازی نسب وغیرہ پر اور بیرونی
عظمت پر اکڑنا اختیال ہے جیسے مال جائداد لشکر اور نوکر چاکر وغیرہ مراد یہ ہے کہ
نہ ذاتی کمال پر فخر کرو اور نہ بیرونی فضائل پر اتراؤ کیونکہ یہ چیزیں تمہاری
اپنی نہیں بلکہ رب کریم ہی عطا کی ہوئی ہیں اور جب وہ چاہے واپس لے لے۔ (صراط
الجنان، 7/497)
اس سے معلوم
ہوا کہ کوئی شخص امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہیے بلکہ جس سے بھی ملاقات
ہو تو اس کے ساتھ محبت سے پیش آنا چاہیے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی
چاہیے غریبوں کو حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا
انداز اختیار کرنا جس میں حقارت کا پہلو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے
دیکھنا سخت تکبر کی علامت ہے اس سے ہر ایک کو بچنا چاہیے۔
حدیث پاک میں
بھی اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے حسد نہ کرو
ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو اور سب اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ! (بخاری، 4/117،
حديث: 6065)
حدیث پاک میں
ہے جب بھی آپ ﷺ کسی سے بات کرتے تو پورے جسم مبارک کو اس کی طرف متوجہ کر لیتے۔ (ابن
ماجہ،4/210، حديث: 3716)
آپ نے کبھی
کسی کو حقیر نہ جانا کبھی کسی کے ساتھ ایسی گفتگو نہ کی کہ اسے برا محسوس ہوتا سب
کے ساتھ نرم اور شفقت بھرے لہجے میں بات کرتے یہاں تک کہ آپ بچوں کو بھی سلام کرتے
تھے۔
حضرت علامہ
سید نعیم الدین مراد ابادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب آدمی بات کرے تو انہیں
حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا جیسے متکبرین کا طریقہ ہے اختیار نہ کرنا غنی
اور فقیر سب کے ساتھ تواضع یعنی عاجزی سے پیش آنا چاہیے۔ (خزائن العرفان، ص 761)
ان سب باتوں
سے ہمیں یہ سبق ملتا ہےسب کہ ہمیں کسی کو حقیر جانتے ہوئے نظر انداز نہیں کرنا
چاہیے، ہمیں تمام لوگوں کے ساتھ ایک جیسے انداز میں بات کرنی چاہیے اور ہمیں کسی
کو نظر انداز کر کے اس کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد شفیق،
جامعۃ المدینہ کوٹ لکھپت لاہور
انسان ایک
سماجی مخلوق ہے جو اکیلے نہیں بلکہ دوسروں کے ساتھ رہ کر زندگی گزارتا ہے اس کے
وجود کا حسن اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب وہ دوسروں سے بات چیت کرے ان کے جذبات کو
سمجھے اور ان کے احساسات کا خیال رکھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے
دور جدید میں انسانوں کے درمیان قربت کم اور فاصلے زیادہ ہو گئے ہیں ہم میں سے
اکثر لوگ دوسروں کو نظر انداز کرنے لگتے ہیں چاہے وہ گھر کے افراد ہوں دوست ہوں یا
معاشرتی تعلقات یہی رویہ بد اعتمادی تنہائی اور دلوں کی دوری کا باعث بنتا ہے۔
کسی کو نظر
انداز کرنا صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک پیغام ہے اور وہ پیغام یہ ہوتا ہے کہ تم اہم
نہیں ہو یہ جو جملہ بظاہر زبان سے ادا نہیں کیا جاتا مگر ہمارا رویہ ہماری خاموشی
ہماری بےتوجہی اسے صاف ظاہر کر دیتی ہے کسی کو بات کرتے وقت نظر انداز کر دینا اس
کی رائے کو اہمیت نہ دینا اس کے احساسات کو نظر انداز کرنا در اصل اس کے دل کو
زخمی کرنے کے مترادف ہے اخلاقی اعتبار سے بھی یہ رویہ درست نہیں ہمارے تہذیب بھی
اور مذہب بھی دونوں ہمیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ دوسروں کو عزت دی جائے ان کی بات
سنی جائے اور انہیں اہمیت دی جائے۔
اسلام نے ہمیں
حسن اخلاق کی تلقین کی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا
اخلاق سب سے اچھا ہے ایک اور حدیث میں فرمایا گیا: مسکرا کر اپنے بھائی سے ملنا
بھی صدقہ ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسروں کی طرف توجہ دینا ان کی بات سننا اور ان
کے جذبات کو سمجھنا عبادت کے درجے تک پہنچا سکتا ہے جب ہم کسی کی بات پوری توجہ سے
سنتے ہیں تو ہم صرف اس کے الفاظ نہیں بلکہ اس کے احساسات بھی سمجھنے لگتے ہیں اس
عمل سے نہ صرف ہمارا تعلق مضبوط ہوتا ہے بلکہ دوسرا شخص بھی اپنے آپ کو قابل
احترام محسوس کرتا ہے۔
ایک لمحے کی
توجہ کسی کے دن کو روشن کر سکتی ہے بلکہ ایک لمحے کے لے تو جی کسی کے دل کو توڑ
سکتی ہے معاشرتی سطح پر بھی یہ بات بہت اہم ہے چاہے ہم دفتر میں کام کر رہے ہوں یا
کسی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں اگر ہم ساتھیوں یا شاگردوں کو اہمیت نہیں
دیتے تو ماحول میں سرد مہری پیدا ہو جاتی ہے۔
ایک ایسا
معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کو نظر انداز کریں کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا ترقی
ہمیشہ باہمی احترام سمجھ بوجھ اور توجہ سے جنم لیتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم
دوسروں کے جذبات کی قدر کریں اور اگر کوئی بات کر رہا ہو تو اسے مکمل توجہ سے سنیں
اور اس کی رائے کا احترام کریں اور کبھی بھی کسی کو یہ احساس نہ ہونے دیں کہ اس کی
کوئی اہمیت نہیں یاد رکھیں آپ کا ایک چھوٹا سا جملہ ایک مسکراہٹ یا ایک لمحے کی
توجہ کسی کے لیے زندگی کا سہارا بن سکتی ہے آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ مخاطب کو
نظر انداز مت کیجیے کیونکہ ہر انسان عزت محبت اور توجہ کا حق رکھتا ہے آپ کی توجہ
کسی کے دل کا مرہم بن سکتی ہے اور یہی انسانیت کی اصل روح ہے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت غلام حسین،
جامعۃ المدینہ کوٹ لکھپت لاہور
انسانی معاشرہ
اس وقت مضبوط اور خوبصورت بنتا ہے جب لوگ ایک دوسرے کی بات کو توجہ اور احترام کے
ساتھ سنتے ہیں۔ کسی گفتگو میں مخاطب کو اہمیت دینا صرف اخلاق کا حصہ نہیں بلکہ
دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس کے برعکس گفتگو کے دوران کسی کو نظر انداز کرنا
نہ صرف اس کی دل آزاری کا سبب بنتا ہے بلکہ رشتوں میں دوریاں بھی پیدا کرتا ہے۔
اسلام نے اس حوالے سے نہایت بہترین اور واضح اصول بیان کیے ہیں۔ قرآن اور احادیث
میں بارہا اس بات کی تعلیم ملتی ہے کہ بات کرنے والے کی بات کو توجہ، بردباری اور
نرم لہجے کے ساتھ سنا جائے، تاکہ اس کے دل میں احترام اور اعتماد پیدا ہو۔
قرآن مجید میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ 83) ترجمہ: اور لوگوں سے
اچھی بات کہو۔ اچھی بات تب ہی پوری ہوتی ہے جب مخاطب کو اہمیت دی جائے۔ اگر کسی کی
بات سنی ہی نہ جائے یا اسے نظر انداز کر دیا جائے تو گفتگو کی خوبصورتی ختم ہو
جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے حسن کلام کو حسن اخلاق سے جوڑا ہے، تاکہ انسان ایک
دوسرے کے جذبات کو سمجھیں اور دل آزاری سے بچیں۔
ایک اور مقام
پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ- (پ 4،
آل عمران: 159) اس آیت میں نرمی کو رسول کریم ﷺ کے اخلاق کی بنیاد قرار دیا گیا
ہے۔ نرمی اور توجہ دونوں مل کر حسن اخلاق کو مکمل کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا یہ عملی
نمونہ سب سے اعلیٰ تھا کہ آپ کسی سے گفتگو کرتے تو پورے انہماک اور توجہ کے ساتھ
اس کی طرف رخ فرما لیتے تھے، تاکہ مخاطب کو یہ محسوس ہو کہ اس کی بات اہم ہے۔
حضرت جریر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب میں نبی ﷺ سے گفتگو کرتا تو آپ اپنا پورا رخ
میری طرف کر لیتے تھے۔ (بخاری، 2/214، حدیث: 3035)
یہ عظیم سنت
ہمیں سکھاتی ہے کہ مخاطب کو نظر انداز کرنا نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ سنت نبوی
کے خلاف عمل بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: تمہاری اچھی بات اور اچھا برتاؤ بھی صدقہ ہے۔ (مسلم، ص 503، حدیث:
2626) جب ایک مسلمان دوسرے کی بات توجہ سے سنتا ہے، اس کی دلجوئی کرتا ہے اور اسے
اہمیت دیتا ہے تو یہ بھی نیکی اور صدقے کا عمل بن جاتا ہے، اور اس سے دلوں میں
محبت پیدا ہوتی ہے۔
ایک اور حدیث
میں فرمان رسول ﷺ ہے: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔
(بخاری، 1/25، حدیث: 10) اگرچہ کسی کو نظر انداز کرنا بظاہر زبان کی اذیت نہیں،
مگر یہ دل کی تکلیف ضرور بن جاتا ہے، اور تکلیف دینا مسلمان کا شیوہ نہیں۔
گفتگو میں
توجہ نہ دینا گھروں، خاندانوں اور معاشرے میں بے شمار غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے۔
والدین اگر بچوں کی بات نہ سنیں تو وہ خود کو غیر اہم سمجھنے لگتے ہیں۔ شوہر بیوی
کو، یا بیوی شوہر کو نظر انداز کرے تو محبت کمزور پڑ جاتی ہے۔ دوست، رشتہ دار اور
شاگرد بھی اسی طرح دوری محسوس کرتے ہیں۔
اسلام ہمیں
سکھاتا ہے کہ ہر انسان قابل احترام ہے۔ کسی کی بات توجہ سے سننا عبادت ہے، کیونکہ
یہ نبی ﷺ کی سنت اور قرآن کا حکم ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ہر گفتگو میں مخاطب کی
عزت کریں، اسے پورا وقت دیں، اور اس کی بات کو حقیقی اہمیت فراہم کریں۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت محمد عارف،
جامعۃ المدینہ چڑر ڈیفنس لاہور
اللہ تعالیٰ
نے انسان کو زبان اور عقل جیسی عظیم نعمتیں عطا کیں تاکہ وہ بات چیت کے ذریعے ایک
دوسرے کے ساتھ تعلق قائم کر سکے۔ جب کوئی شخص ہم سے گفتگو کرتا ہے، تو وہ ہمارا
مخاطب ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو توجہ سے سننا، جواب دینا، اور عزت دینا ہماری اخلاقی
اور دینی ذمے داری ہے۔
آج کے دور میں
ہم اکثر دوسروں کو نظر انداز کرتے ہیں، خاص طور پر کم عمر، کم حیثیت یا ناتجربہ
کار لوگوں کو۔ ہم ان کی بات سننے کے بجائے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں یا خاموش رہتے
ہیں، جس سے ان کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اسلامی
تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
قرآن مجید میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ 83) ترجمہ: اور لوگوں سے
اچھی بات کہو۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/25،
حدیث: 10)
ایک اور حدیث
ہے: جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔
(بخاری، 4/240، حدیث: 6475)
نبی کریم ﷺ کا
معمول تھا کہ جب کوئی شخص آپ سے بات کرتا، آپ پوری توجہ سے سنتے، درمیان میں نہ
بولتے، اور مخاطب کو اہمیت دیتے۔ ہمیں بھی یہی سیکھنا چاہیے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت ظہیر احمد
قاضی، جامعۃ المدینہ گوجر خان
مخاطب وہ شخص
ہے جس سے بات کی جاتی ہے۔ مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے! یہ ایک سماجی اور اخلاقی
اصول ہے جس کی پاسداری بہتر انسانی تعلقات کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔اور مخاطب کی
اہمیت کو نظر انداز کرنا تعلقات میں سردمہری، غلط فہمیوں اور دوریوں کا سبب بن
سکتا ہے۔ کسی بھی گفتگو،بحث یا تعلق میں مخاطب کو مناسب توجہ اور احترام دینا نہ صرف
اخلاقی فریضہ ہے بلکہ مؤثر ابلاغ کی کنجی ہے۔
مخاطب کو نظر
انداز کرنے کے کئی نقصانات سامنے آئے ہیں چند یہ ہیں:
نفسیاتی
اثرات: نظر
انداز ہونا ایک تکلیف دہ احساس ہے،بعض اوقات یہ نفرت کی ایک بدترین قسم بن جاتا
ہے۔ یہ احساس تنہائی، اضطراب (anxiety) اور افسردگی (depression)
کا سبب بن سکتا ہے اور تحقیق میں یہ بات آئی ہے ایسے لوگوں کاشمار جرائم میں زیادہ
ہوتا ہے۔
احساس
کمتری اور بے عزتی: یہ عمل مخاطب میں احساس کمتری اور بےعزتی کا احساس
پیدا کرتا ہے اور اسے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی رائے، جذبات یا موجودگی کی کوئی
قدر و قیمت نہیں ہے۔
تعلقات
میں سردمہری: یہ
عمل قریبی تعلقات،چاہے وہ خاندانی ہوں،دوستانہ ہوں یا پیشہ ورانہ اس میں دراڑ ڈال
سکتا ہے۔اعتماد اور احترام کی کمی رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
غلط
فہمیاں:توجہ
نہ دینے کی وجہ سے اکثر بات کا غلط مفہوم سمجھ آتا ہے،جس کے نتیجے میں غلط فہمیاں
اور تنازعات جنم لیتے ہیں۔
اسلامی
تعلیمات اور قرآن وسنت کی روشنی میں بھی ایک دوسرے کا احترام ضروری ہے۔ پارہ 21سورۃ
لقمٰن آیت18 میں ارشاد الٰہی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔ حضرت علامہ سیدنعیم الدین
مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں
تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا،
جیسا متکبرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے، اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر(یعنی امیر
وغریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی سے) پیش آنا۔ (خزائن العرفان، ص 761)
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام
اورملاقا ت کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے
سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائیے، متکبرین کی عادت
ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراو مساکین کو
غصے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں
برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
مخاطب
کو اہمیت دینے کے طریقے: پوری بات توجہ سے سنیں، جب کوئی بات کر
رہا ہو تو اپنی پوری توجہ اسی پر مرکوز رکھیں۔ آنکھوں سے رابطہ برقرار رکھیں تاکہ
مخاطب کو احساس ہو کہ آپ اس کی بات میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ سر ہلانا یا ہوں ہاں
کرنا بھی توجہ ظاہر کرتا ہے۔ اپنے جسم کا رخ مخاطب کی طرف رکھیں، اس سے دوری یا
اکتاہٹ ظاہر نہ ہونے دیں۔ موبائل فون یا دیگر چیزوں میں مصروف نہ ہوں۔ یہ رویہ
بدترین نظر اندازی سمجھا جاتا ہے۔
باہمی احترام
اور توجہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔ کسی کو نظر انداز کرنا نہ صرف اس شخص
کی دل آزاری ہے بلکہ یہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں اپنی گفتگو
اور رویوں میں شائستگی اور توجہ کو فروغ دینا چاہیے تاکہ بہتر انسانی تعلقات قائم
ہو سکیں۔
دعا ہے کہ
یارب! ہمیں بھی اپنے رویے میں شائستگی لانے اور مخاطب کو توجہ دینے والا بنا اور
ہم مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے والیاں بن جائیں۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت مصطفیٰ
حیدر، فیضان فاطمۃ الزہراء مدینہ کلاں گجرات
دنیا میں
رابطے کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ بات کرنے والا اپنے مخاطب کو ہمیشہ مرکز توجہ
رکھے۔ مؤثر گفتگو، تحریر، بیان یا پیغام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اسے
سننے والے یا پڑھنے والے کی ضرورت، ذہنی سطح، دلچسپی اور احساسات کو مدنظر نہ رکھا
جائے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ مخاطب کو نظر انداز کرنا، پیغام کو بے اثر کر دینے کے
مترادف ہے۔
ہر قسم کی
گفتگو کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے اور گفتگو ہمیشہ مخاطب کی ذہنی صلاحیت کو مدنظر رکھ
کر کی جاتی ہے اور گفتگو کرنے کا اصول بھی یہی ہے کہ مخاطب کی ذہنی توجہات کے
مطابق گفتگو کی جائے گفتگو سادہ اور آسان الفاظ میں کی جائے۔
اللہ تعالیٰ
فرماتا ہے: فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا
لَّیِّنًا (پ
16، طٰہ: 44) ترجمہ: تم دونوں اس سے نرم بات کرنا۔
تکبر کی سب سے
بڑی علامت یہ ہے کہ کسی کو نظر انداز کیا جائے۔ نبی ﷺ فرمایا: تمہاری اپنے بھائی
کے لیے مسکراہٹ بھی صدقہ ہے۔ (ترمذی، 3/384، حدیث: 1963)
مسکرا کر بات
کرنا صدقہ ہے، تو کسی کو نظر انداز کرنا کیسا ہوگا؟
حضرت حسن بصری
فرماتے ہیں: علمائے دین کی نصیحتیں سننا اور عاجزی سے قبول کرنا ہی عقل کا نشان
ہے۔
بعض لوگ
مصروفیات اور لاپرواہی کی بناپر دوسروں کی بات کو توجہ نہیں دیتے اور بعض لوگ یہ
سمجھتے ہیں دوسروں کی بات اہم نہیں ہے یہ غیر اخلاقی رویہ ہے، نظر انداز کیا جانے
والا شخص خود کو کمتر سمجھتا ہے اور اس میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔
اگر اس رویے
کو بار بار دہرایا جائے تو رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔
دوسروں کی بات
کو غور سے سننے سے ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ بات سننے اور سمجھنے سے غلط
فہمی دور ہوتی ہے اور مسائل آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔
انسانی دل
کانچ کی طرح نازک ہوتا ہے۔ ایک نگاہ التفات، ایک توجہ بھرا جملہ، ایک مسکراہٹ کسی
کی ٹوٹتی امید کو سہارا دے سکتی ہے، اور یہی اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ اسلام
ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی عزت، اس کا دل اور اس کا احساس سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔
قرآن کریم میں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1، البقرۃ 83) ترجمہ: اور لوگوں سے
اچھی بات کہو۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی
ہے کہ ہر انسان، خواہ وہ کسی بھی حیثیت کا ہو، توجہ اور عزت کا مستحق ہے۔ کسی کو
نظر انداز کرنا، بات کرتے وقت بے توجہی برتنا، یا اس کے احساسات کو اہمیت نہ دینا،
دراصل اس کی توہین کے مترادف ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ: نبی کریم ﷺ کا طرز گفتگو اور رویہ مثالی تھا۔ جب
کوئی آپ سے بات کرتا، تو آپ مکمل توجہ سے سنتے، پورا چہرہ اس کی طرف کرتے، اور جب
تک مخاطب خود بات ختم نہ کرتا، آپ ﷺ کبھی بیچ میں نہ بولتے۔
نبی کریم ﷺ جب
سلام کرتے یا کسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ دیتے۔(ابن ماجہ،4/210، حديث:
3716)
نظر
انداز کرنا دل شکنی ہے: کسی کو نظر انداز کرنا صرف بد اخلاقی نہیں بلکہ دل
شکنی کا باعث بھی بنتا ہے، اور نبی ﷺ نے فرمایا: کسی مسلمان کو حقیر جاننا ہی برائی
کیلیے کافی ہے۔ (مسلم، ص 1064، حدیث: 6541)
توجہ
دینا صدقہ ہے: آپ
ﷺ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کے لیے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔ (ترمذی، 3/384، حدیث:
1963) تو اگر مسکراہٹ صدقہ ہے، تو توجہ دینا، بات سننا اور احساس دینا کتنا بڑا
اجر ہوگا؟
ہم روزمرہ کی
زندگی میں مختلف لوگوں سے بات کرتے ہیں، کبھی توجہ سے سنتے ہیں، کبھی نظر انداز کر
دیتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی کو نظر انداز کرنا صرف ایک عمل
نہیں، بلکہ ایک دل توڑنے والا رویہ بھی ہو سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔
یہ آیت ہمیں
سکھاتی ہے کہ تکبر، غرور یا لاپروائی سے کسی کو نظر انداز کرنا اسلامی اخلاق کے
خلاف ہے۔ حدیث پاک میں بھی ہے: رسول اللہ ﷺ جب کسی سے سلام کرتے یا بات کرتے تو
مکمل توجہ دیتے۔(ابن ماجہ،4/210، حديث: 3716)
کسی
کو نظر انداز کرنا کیسا اثر چھوڑتا ہے؟
1۔
دل شکنی: مخاطب
کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔
2۔
احساس کمتری:
انسان خود کو غیر اہم محسوس کرتا ہے۔
3۔
رشتوں کی کمزوری:
روابط میں دراڑ آتی ہے۔
4۔
نفرت پیدا ہوتی ہے: بار بار نظر انداز کیا جانا دلوں میں دوریاں پیدا
کرتا ہے۔
موجودہ
دور کی بے حسی: والدین
بچوں کی بات کو ٹالتے ہیں کہ بعد میں سنوں گا! بچے بڑوں کی بات کاٹتے یا سنتے ہی
نہیں۔ دوست دوست کو اگنور کرتے ہیں seen کے بعد جواب نہیں۔ اساتذہ یا بزرگوں کی بات
درمیان میں چھوڑ دی جاتی ہے۔ یہ سب رویے دل توڑنے والے اور اسلامی اخلاق کے خلاف ہیں۔
کسی کو نظر
انداز کرنا ایک چھوٹا سا عمل لگتا ہے، مگر یہ دوسروں کے دل پر گہرا اثر ڈال سکتا
ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی عزت کی جائے، اس کے احساسات کو اہمیت دی
جائے، اور کسی کو بھی بے وجہ نظر انداز نہ کیا جائے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت عارف،
جامعۃ المدینہ گلشن اقبال کراچی
مکالمہ اور
گفتگو انسانی زندگی کا اہم جزو ہیں۔ مخاطب وہ شخص ہوتا ہے جو ہماری بات کا مرکز
ہوتا ہے۔ اس کی توجہ عزت اور فہم سے ہمیں باہمی تعلق مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔
جب ہم مخاطب کو نظر انداز کرتے ہیں تو نہ صرف اس کی دل آزاری ہوتی ہے بلکہ بات چیت
کا مقصد بھی متاثر ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان
اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 10)
مخاطب کو نظر
انداز کرنا دراصل اس کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے جب کوئی اپنی بات کہہ
رہا ہو اور اسے توجہ نہ دی جائے تو اس کے دل میں محرومی، حقارت اور دکھ پیدا ہوتا
ہے، سب سے پہلے ہمیں اس بات پر غور ضروری ہے کہ نظر انداز کیوں غلط ہے اور اس کے
متبادل رویے کون سے ہیں:
سب سے پہلے،
نظر اندازی تعلقات کو کمزور بناتی ہے۔ اگر کسی دوست، استاد یا خاندان کے فرد کی
بات کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو وہ غیر مقتدر محسوس کرتا ہے اور اس سے دیر پا اختلافات
پیدا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر تعلیمی یا پیشہ ورانہ ماحول میں مخاطب کی رائے کو
نظر انداز کرنا کام کی بات میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
دوسرا نظر
اندازی اخلاقی نقطہ نظر سے بھی غلط ہے۔ انسان کا وقار اور احترام ضروری ہے۔ کسی کی
جانب توجہ نہ دینا اس کے احساسات کی توہین کرنا ہے۔
تیسرا
نظراندازی کے نفسیاتی اثرات ہوتے ہیں مسلسل نظر انداز ہونا کسی فرد کی خود اعتمادی
گھٹا دیتا ہے اور وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتا ہے اور خصوصاً یہ عمل بچوں اور
نوجوانوں میں زیادہ ہے اور یہ نقصان دہ ہے کیونکہ ان کی ترقی اور شخصیت سازی میں
دوسروں کی توجہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔
امیر اہلسنت
اپنے مدنی مذاکرہ میں فرماتے ہیں: جو کسی کی بات کو اہمیت نہیں دیتا وہ دل شکنی کا
مرتکب بنتا ہے اور دل شکنی گناہوں کا سبب بن سکتی ہے۔
اب
اس کا حل کیا ہے؟ اس
کا حل یہ ہے کہ پہلے تو سننے کی عادت اپنائیں۔ فعال سماعت (dive
listening) کریں۔ مناسب وقت دیں اور جواب میں ہمدری
اپنائیے اور اگر مصروف ہیں تو مودبانہ انداز میں بتا دیں کہ بعد میں مکمل توجہ دیں
گے۔ سوالات کریں تاکہ مخاطب محسوس کرے کہ آپ کی دلچسپی حقیقی ہے۔ آخر میں معذرت
کرنا سیکھیں اگر کسی کو غیر ارادی طور پر نظر انداز کر بیٹھیں تو فوراً اظہار
ندامت کریں۔
نفسیاتی
اعتبار سے بھی مخاطب کی اہمیت مسلم ہے۔ بچوں، طلبہ، دوستوں اور اہل خانہ کی گفتگو
کو توجہ سے سنا ان کی شخصیت سازی اعتماد اور مثبت سوچ کی نشوو نما کا ذریعہ بنتا
ہے نفیسات دان کہتے ہیں۔ سب سے بڑا تحفہ جو آپ کسی کو دے سکتے ہیں وہ آپ کی مکمل
توجہ ہے۔ توجہ دینے سے انسان کو احساس اہمیت ملتا ہے۔ جبکہ نظر اندازی سے احساس
کمتری اور ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔
الغرض مخاطب
کو نظر انداز کرنا بد تمیزی نہیں بلکہ شخصی اور معاشرتی نقصان کا سبب بھی ہے۔ محبت
اخلاق اور احترام کے ساتھ گفتگو کرنا وہ عمل ہے جو دل جیتّا ہے اور رشتوں میں
مضبوطی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ معاشرتی ہم آہنگی تعلیمی ترقی اور ذاتی خوش حالی کے
لئے لازم ہے۔ گفتگوں میں ایک دوسرے کو وہ عزت دیں گے جو وہ رکھتے ہیں۔
آئیں ہم سب نیت
کریں کہ آئندہ کسی مسلمان کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ سنیں، سمجھیں اور باعزت جواب
دیں۔
ہم ایک
معاشرتی مخلوق ہیں جسے بات جیت اور گفتگو کی ضرورت پڑتی ہے، معاشرتی تعلقات کی
مضبوطی اور فروغ کے لئے پہلے ہمیں دوسروں کی بات صحیح معنوں میں توجہ سے سننا،
سمجھنا ہو گی تاکہ بعد ازاں ہم انہیں اپنی بات کماحقہ سمجھا سکیں۔ جب تک ہم ایک
اچھے سامع (Listener)
نہیں بن جاتے تب تک ہم ایک اچھے مقرر (Speaker)
بھی نہیں بن سکتے۔
نظر انداز
کرنا شاید دشمنی سے بھی زیادہ پریشان کن عمل ہے۔کسی کو سب سے بڑی اذیت دینا مقصود
ہو تو اسے نظر انداز کر دیا جائے، بچہ ہو یا بڑا ہر ایک کی یہ چاہت ہوتی ہے کہ اس
کی بات کواہمیت دی جائے، اسے توجہ کہ ساتھ سنا جائے۔
مخاطب کو نظر
انداز کرنا اسلامی تہذیب اور اخلاقی و معاشرتی نظم و نسق کے اصولوں کے خلاف ہے
نیزحسن سماعت کے آداب کا تقاضا بھی یہ ہے کہ مخاطب کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو۔
ارشاد الٰہی ہے: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔حضرت علامہ سیدنعیم الدین
مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: جب آدمی بات کریں
تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے ر خ پھیرنا،
جیسا متکبرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے، اختیار نہ کرنا، غنی و فقیر(یعنی امیر
وغریب) سب کے ساتھ بتواضع (یعنی عاجزی سے) پیش آنا۔ (خزائن العرفان، ص 761)
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام
اورملاقا ت کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے
سامنے لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصہ چھپائیے، متکبرین کی عادت
ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقراو مساکین کو غصے
سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں برابر
ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
حضور ﷺ کے
جہاں دیگر اوصاف بیان کیے گئے وہاں یہ بھی بیان کیا گیا کہ آپ ﷺ مخاطب کی طرف مکمل
طور پر توجہ فرماتے تھے۔ (ابن ماجہ،4/210، حديث: 3716) جب آقا علیہ السلام کسی کی
طرف متوجہ ہوتے توجسم مبارک کے تمام اعضا کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتے۔
اس حوالے سے
اگر ہم اپنے آپ کو دیکھیں تو ہماری آنکھیں ایک طرف ہوتی ہیں تو چہرہ دوسری طرف
ہوتا ہے، ہاتھ ادھر ہوتا ہے اور چل ادھر رہے ہوتے ہیں۔ یہ طرز عمل اخلاق مصطفی ﷺ کے
منافی ہے۔
عدم توجہ کے
مختلف اسباب ہو سکتے ہیں، جیسے خود پسندی، تکبر، مخاطب کا غیر اہم و معمولی ہونا،
یا اس کلام میں دلچسپی کا نہ ہونا۔
حل:
ان
آیات و حدیث میں غور کریں جن میں تکبر و خود پسندی کی وعیدات و مذمت بیان کی گئی
ہیں تاکہ دوسروں پر بر تری کا احساس ختم ہو اور دیگر افراد کی بات توجہ سے سنی جائے۔
مخاطب کو توجہ
سے سننے کے دینی و دنیوی فوائد کو پیش نظر رکھے کہ مخاطب کہ دل میں محبت و الفت و
فروغ دیتا ہے، کبھی صرف توجہ سے سننا ہی لوگوں کے درد و غم کو کم کرتا ہے، باہمی
تعلقات میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے،جب توجہ سے بات سنی جاتی ہے تو وہ مخاطب کے اعتماد
میں اضافہ کرتا ہے، بہترین مشورہ ملنے میں معاون ہے نیر دوسرے کے کلام کو توجہ سے
سننے سے علم و تدبر میں اضافہ ہوتا اور انداز گفتگو میں نکھار آتا ہے۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت اسلم
پرویز، جامعۃ المدینہ فیضان رضا کراچی
اخلاق اور گفتگو
انسان کے کردار کی بنیاد ہیں، جن کے ذریعے لوگوں کے درمیان مضبوط روابط قائم ہوتے
ہیں۔ یہ انسان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپنے اخلاق اور انداز گفتگو سے کیسا تعلق
قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن دوسروں میں باوقار اور با عزت مقام حاصل کرنے کے لیے
اچھے اخلاق اور شائستہ گفتگو کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ اچھے اخلاق اور مہذب انداز
بیان انسان کی شخصیت کا سب سے حسین پہلو ہیں، اور گفتگو کا سب سے اہم اصول یہ ہے
کہ جب آپ کسی سے بات کریں تو اسے مکمل توجہ دیں، کیونکہ گفتگو میں سب سے پہلی چیز
مخاطب کی توجہ ہوتی ہے، پھر متکلم اپنا کلام شروع کرتا ہے۔
قرآن مجید اور
حضور ﷺ کی تعلیمات بھی ہمیں اسی بات کی تلقین کرتی ہیں۔ اللہ پاک نے سورہ لقمان کی
آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان:
اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔
اس آیت مبارکہ
میں واضح حکم دیا گیا ہے کہ جب آدمی کسی سے گفتگو کرے تو سامنے والے کو حقیر جانتے
ہوئے منہ نہ پھیرے، کیونکہ ایسا کرنا متکبرین یعنی مغرور لوگوں کا طریقہ ہے۔ اللہ
کریم نے ہمیں یہ حکم فرمایا ہے کہ امیر و غریب سب کے ساتھ تواضع یعنی عاجزی سے پیش
آنا چاہیے۔
حضرت علامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سلام و کلام اور ملاقات کے وقت بطور
تواضع اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے لائے، ان سے چہرہ نہ ہٹائے اور نہ اس کا کچھ
حصہ چھپائے۔ متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ لوگو ں کو ایسی ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے
ہیں اور فقرا و مساکین پر غصے کی نظر سے دیکھتے ہیں، بلکہ ہمارے ہاں! امیر و غریب
دونوں اچھے سلوک کے معاملے میں برابری ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
حضور جان عالم
ﷺ کی سیرت سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے محبوب ﷺ سب سے زیادہ باوقار اور
دلکش شخصیت کے حامل تھے۔ بڑے، بہادر اور شجاع صحابہ کرام کے دلوں میں آپ کا رعب
تھا، لیکن آپ کا مبارک انداز ایسا نرم و مہذب تھا کہ امیر و غریب سب آپ کی بارگاہ
میں حاضر ہوتے، مصافحے کا شرف پاتے، اور اپنی عرضیاں پیش کرتے۔ آپ انہیں توجہ سے
سن کر جواب فرماتے اور کرم فرماتے۔
حضرت ہند بن
ابی ہالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ حقیر جاننے والے نہ تھے۔
لہذا بحیثیت
انسان ہم سب پر لازم ہے کہ ہم دوسرے انسان کی تعظیم کریں اور اس کی بات توجہ کے
ساتھ سنیں۔
مخاطب
کو نظر انداز کرنے کی چند مثالیں مع فوائد اور نقصان:
1۔ اگر کلاس
میں موجود طالب علم اور استاد ایک دوسرے کی بات توجہ سے نہ سنیں تووہ دونوں اپنے
مقصد کو حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں اور اپنی عزت کو کم اور دوسرے کے دل میں اپنی
قدر کھو دیں اس کے برعکس اگر وہ دونوں ایک دوسرے کی بات کا احترام کرتے ہوئے توجہ
دیں تو بہتر سے بہترین نتائج پائیں۔
2۔ اسی طرح
اگر ایک خاندان یا معاشرے کے افراد آپس میں ایک دوسرے کی بات اور رائے کو اہمیت نہ
دیں اور دوسرے کو کمتر جانیں تو جلد ہی وہ خاندان یا معاشرہ تباہی کے گہرے گڑھے
میں گر جائے دوسری طرف اگر اسی خاندان یا معاشرے کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کی بات
توجہ سے سنیں تو یہی خاندان اور معاشرہ امن و اتحاد کی بلندیاں چومے اور اخلاقیات
کے اعلی درجے پر پہنچ جائے۔
3۔اسی طرح
دوستی کی مثال کہ اگر ایک دوست دوسرے دوست کی بات توجہ سے سنے اس کی بات کو سمجھے
تو ہی ان کی دوستی برقرار رہ سکتی ہے ورنہ یہ ممکن نہیں۔
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت اسماعیل
عطاریہ،فیضان عطار شاہ لطیف ٹاؤن کراچی
انسانی دل کی
اہم ترین خواہش یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کو سمجھے اس کی بات توجہ سے سنے یہ تبھی
ہوگا جب متکلم خود مخاطب کی بات بغور سنے، یہ کیوں کر ممکن ہے کہ ہم خواہش رکھیں
کہ دوسرے تو ہماری باتیں توجہ سے سنیں لیکن ہم ان کی باتیں سنتے وقت بے توجہی کا
مظاہرہ کریں لوگ اس وقت تک اپنا راز کسی کے سامنے نہیں کھولتے جب تک انہیں حقیقی
توجہ اور پیار نہ ملے۔ اگر انہیں یہ چیزیں مل جائیں تو وہ توقع سے زیادہ باتیں
بتانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اگر کوئی شخص ہماری بات سننے یا سمجھنے کی بالکل
کوشش نہیں کرتا تو ہم ا س پر کبھی اپناراز نہیں کھولیں گے۔
دوسرے کی بات
کبھی کاٹیں نہیں۔ بہترین گفتگو کرنے والے کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ پہلے دوسرے کی
بات بہ غور سنتا ہے مخاطب کو ہمہ تن گوش ہو کر سنا جائے، یہ سننا انہیں محض جواب
دینے، قائل کرنے، اپنی بات منوانے یا ان سے اپنا مقصد حاصل کرنے کی غرض سے نہیں
بلکہ انہیں سمجھنے کے لئے سنیں کہ وہ حقیقت میں کہنا کیا چاہتا ہے! ہم عموماً
دوسرے کی پوری بات سنے بغیرکہ وہ اصل میں کہناکیا چاہتا ہے فوراً ہی اپنے نکتہ
نظرسے معاملے کو دیکھتے ہوئے کوئی حل تجویز کر دیتے ہیں دراصل ہم میں چیزوں پر
جھپٹ پڑنے کی اور انہیں نصیحت سے درست کر دینے کی بہت تیزی ہوتی ہے ہم مسئلے کو
پہلے گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے محض سرسری انداز میں بات کو سنتے
ہوئے یا کسی مسئلے کا سطحی ساجائزہ لیتے ہوئے بغیر غوروفکر کے فوری طور پر اپنی
رائے کا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ چیز ہماری اثر انگیزی کو بہت محدود کر دیتی ہے اور
دوسروں کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے!
مخاطب کی بات
نہایت توجہ سے سننی چاہئے اسی طرح اگر کسی کو بولنے میں کوئی مشکل ہو یا وہ صحیح
طرح نہ بول سکے تو اس پر ہنسنا نہیں چاہئے اور نہ ہی اس کی نقل اتارنی چاہئے، یہ
بہت بری بات ہے۔جب بھی بات کرو شائستہ اور مہذب گفتگو کرو اگر مخاطب کو کوئی بات
سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں دوران گفتگو دوسرے کو بات کرنے کا زیادہ
موقع دیا جائے۔ اس طرح وہ اپنی اہمیت کو محسوس کرے گا۔ آپ کو ہمہ تن گوش پاکر خوش
ہوگا اور آپ کی بات بھی توجہ سے سنے گا۔ اگر داعی ہی بولتا جائے اور مخاطب کو موقع
نہ دے تو سننے والا بوریت محسوس کرے گا اس طرح اچھی بات کی قبولیت کے امکانات بھی
کم ہوجاتے ہیں۔آداب گفتگو کا یہ تقاضہ ہے کہ بندہ عمدہ اور بہترین الفاظ کا انتخاب
کرے، شیریں بیانی اور حلاوت لسانی کا اہتمام کرے۔ واضح رہے کہ الفاظ کے انتخاب میں
حد درجہ احتیاط کرنا چاہئے، کیوں کہ یہ بڑا ہی نازک اور حساس معاملہ ہوتا ہے، زبان
و بیان کی ذرا سی غلطی، تعبیر کی خامی، الفاظ کا سوئے انتخاب مخاطب کے دل میں تیر
کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں، بسا اوقات انسان اندازہ نہیں لگا پاتا اور اس کی زبان
سے نکلنے والا کوئی کلمہ یا جملہ مدتوں مخاطب کو بیقرار رکھتا ہے۔
الفاظ کے انتخاب
میں احتیاط برتیں کیونکہ الفاظ بے جان نہیں ہوتے ہیں ان میں روح اور زندگی ہوتی
ہے۔ گفتگو کے آداب کو اپنا کر شخصیت کو سنواریں اور پروقار شخصیت کے مالک بنیں!
مخاطب کو نظر انداز مت کیجیے از بنت شہزاد
احمد، جامعۃ المدینہ دھوراجی کراچی
گفتگو کے آداب
میں سے ایک اہم ادب مخاطب کی گفتگو کو توجہ سے سننا ہے، یاد رکھیں! انسان کی فطری
خواہش میں سے ہے کہ لوگوں کی بات کو اہمیت دی جائے، اسے توجہ سے سنا جائے، گفتگو
میں مخاطب کو اہمیت نہ دینا اسلامی تہذیب اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے، اور یہ
مخاطب کی حق تلفی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
قرآن پاک کی
تعلیمات اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو کئی آیات اور احادیث میں
انسان کو گفتگو کے آداب سکھائے گئے ہیں جن میں سے ایک ادب مخاطب کو نظر انداز نہ
کرنا بھی ہے۔ جیساکہ پارہ21 سورۃ لقمان آیت 18 میں ارشاد الٰہی ہے: وَ
لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ (پ 21، لقمان: 18) ترجمہ کنز العرفان: اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار
ٹیڑھا نہ کر۔
حضرت علامہ
سید نعیم الدّین مرا د آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس مبارک آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
جب آدمی بات کریں تو انہیں (یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی
طرف سے ر خ پھیرنا متکبّرین (یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے۔ (خزائن العرفان، ص 761)
حضرت علّامہ
اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ سلام وکلام اور
ملاقات کے وقت بطور تواضع(یعنی عاجزی کے طور پر) اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے
لائیے، ان سے چہرہ نہ ہٹائیے اور نہ اس کا کچھ حصّہ چھپائیے، متکبّرین کی عادت
ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقار ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقرا و مساکین کو
غصّے سے دیکھتے ہیں، بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچّھے سلوک کے معاملے میں
برابر ہوں۔ (روح البیان، 7/84)
اسی طرح اس
آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: اس آیت سے معلوم ہوا کہ کوئی شخص
امیر ہو یا غریب اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے بلکہ جس سے بھی ملاقات ہو تواس کے ساتھ
محبت سے پیش آنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس سے بات چیت کرنی چاہئے۔غریبوں کو
حقیر جان کر ان سے منہ موڑنا اور ان سے بات چیت کے دوران ایسا انداز اختیار کرنا
جس میں حقارت کا پہلو نمایا ں ہو اسی طرح امیر لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنا سب
تکبر کی علامات ہیں،ان سے ہر ایک کو بچنا چاہئے۔حدیث پاک میں بھی اس سے بچنے کا
حکم دیا گیا ہے،چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایاایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے حسد نہ کرو،ایک دوسرے سے پیٹھ
نہ پھیرواورسب اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤاورکسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں
کہ وہ اپنے بھائی کوتین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ (بخاری، 4/117، حدیث: 6065)
ترغیب کے لئے
یہاں لوگوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے سیّد المرسلین ﷺ کی سیرت کے چند پہلو ملاحظہ
ہوں، چنانچہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں تاجدار رسالت ﷺ لوگوں سے الفت فرماتے اور ان سے نفرت نہ کرتے
تھے۔آپ ہر قوم کے با اخلاق فرد کی عزت فرماتے اور اسے اس کی قوم پر حاکم مقرر کر
دیتے تھے۔ (بداخلاق) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتے،ان سے احتراز فرماتے، نہ
یہ کہ ان سے منہ پھیر لیں اور بد اخلاقی سے پیش آئیں۔آپ کی بارگاہ میں حاضر کوئی
شخص یہ گمان نہیں کرتا تھا کہ کوئی اور بھی اس سے بڑھ کرآپ کے نزدیک عزت والا
ہے۔جو شخص بھی آپ کےپاس بیٹھتا یا کسی ضرورت سے زیادہ قریب ہو تا تو آپ صبر فرماتے
یہاں تک کہ وہ شخص خود ہی اٹھ کر چلا جاتا۔جو شخص بھی اپنی حاجت کے لئے آپ سے سوال
کرتا تو اسے دے کر بھیجتے یا اس سے نرم بات کرتے۔غرض یہ کہ آپ کا اخلاق اس قدر
وسیع تھا کہ وہ تمام لوگوں کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔ (الشفا، 1/120)
نیز سیرت کی
کتابوں میں مذکور ہے کہ جب سیّد العالمین ﷺ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوتے تواپنے
دربار میں سب سے پہلے حاجت مندوں کی طرف تو جہ فرماتے اور سب کی درخواستوں کو سن
کر ان کی حاجت روائی فرماتے اور قبائل کے نمائندوں سے ملاقاتیں فرماتے اوراس دوران
تمام حاضرین کمال ادب سے سر جھکائے رہتے تھے۔آپ کے دربار میں آنے والوں کے لئے
کوئی روک ٹوک نہیں تھی، امیر و فقیر، شہری اور دیہاتی سب قسم کے لوگ حاضر دربار
ہوتے اور اپنے اپنے لہجوں میں سوال و جواب کرتے۔کوئی شخص اگر بولتا تو خواہ وہ کتنا
ہی غریب و مسکین کیوں نہ ہو مگر دوسرا شخص اگرچہ وہ کتنا ہی بڑا امیر کبیر ہو اس
کی بات کاٹ کر بول نہیں سکتا تھا۔جو لوگ سوال و جواب میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے تو
آپ کمال حلم سے برداشت فرماتے اور سب کو مسائل اور اسلامی احکام کی تعلیم و تلقین
اوروعظ ونصیحت فرماتے رہتے۔حضور پرنور ﷺ قبائل سے آنے والے وفدوں کے استقبال، اوران کی
ملاقات کا خاص طورپر اہتمام فرماتے تھے۔ چنانچہ
ہر وفد کے آنے
پر آپ نہایت ہی عمدہ پوشاک زیب تن فرما کر کاشانۂ اقدس سے نکلتے اور اپنے خصوصی
اصحاب رضی اللہ عنہم کو بھی حکم دیتے تھے کہ بہترین لباس پہن کر آئیں،پھر ان
مہمانوں کو اچھے سے اچھے مکانوں میں ٹھہراتے اور ان لوگوں کی مہمان نوازی اور خاطر
مدارات کا خاص طورپرخیال فرماتے تھے اور ان مہمانوں سے ملاقات کے لئے مسجد نبوی
میں ایک ستون سے ٹیک لگا کر نشست فرماتے،پھر ہر ایک وفد سے نہایت ہی خوش روئی اور
خندہ پیشانی کے ساتھ گفتگو فرماتے اور ان کی حاجتوں اور حالتوں کو پوری توجہ کے
ساتھ سنتے اور پھر ان کو ضروری عقائد و احکام اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے
اور ہر وفد کو ان کے درجات و مراتب کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ نقد یا سامان بھی تحائف
اور انعامات کے طور پر عطا فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں لوگوں کو حقیر جاننے اور
ان سے حقارت آمیز سلوک کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
نظر
انداز کرنے کی وجوہات: کوئی بھی عیب یا مرض اپنے اندر سے دور کرنے کے لیے
سب سے پہلے اس کی وجہ جاننا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس کی وجہ جان کر اس کا احسن
انداز میں علاج کیا جاسکے۔
نظر انداز
کرنے کی سب سے بڑی وجہ خود پسندی اور تکبر ہے جس سے بچنا ہر انسان کے لیے نہایت
ضروری ہے، قرآن کریم اور کئی احادیث مبارکہ میں خود پسندی اور تکبر کی مذمت بیان
کی گئی ہیں جیساکہ اللہ کے محبوب ﷺ کا
فرمان ہے: گناہوں پر نادم ہونے والا اللہ کی رحمت کا منتظر ہوتا ہے جبکہ خود پسندی
کرنے والا اللہ کی ناراضی کا منتظر ہوتا ہے۔ (شعب الایمان، 5/436، حدیث: 7178)
متکبرین کے
متعلق رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ
الْمُسْتَكْبِرِیْنَ(۲۳) (پ 14، النحل: 23) ترجمہ کنز الایمان: بیشک وہ مغروروں کو
پسند نہیں فرماتا۔
اسی طرح حدیث
پاک میں ہے: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں
میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت طاری ہوگی، انہیں
جہنم کے بولس نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور بہت بڑی آگ انہیں اپنی لپیٹ
میں لے کر ان پر غالب آجائے گی انہیں جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (ترمذی، 2/221،
حدیث:2500)
تکبر
کی ایک صورت: تکبر
کی اقسام میں سے ایک قسم بندوں کے مقابلہ میں تکبر ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی پر تکبر کرنا، وہ اس
طرح کہ اہنے آپ کو بہتر اور دوسرے کو حقیر جان کر اس پر بڑائی چاہنا اور اور
مساوات یعنی باہم برابری کو ناپسند کرنا یہ صورت حرام ہے اور اس کا گناہ بھی بہت
بڑا ہے کیونکہ کبریائی اور عظمت بادشاہ حقیقی ہی کے لائق ہے نہ کہ عاجز اور کمزور
بندے کے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 278)
عجب و
تکبّر اور بچا حب جاہ سے آئے نہ
پاس تک ریا یا رب مصطفٰے
نظر
انداز کرنے کے دینی و دنیاوی نقصانات:
1)کسی کو نظر
انداز کرنا اللہ پاک کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔
2) اپنے کسی
مسلمان بھائی کو نظر انداز کرنا اس کی حق تلفی کا سبب ہے اور مسلمان کی حق تلفی
کرنا گناہ کا کام ہے۔
3) مخاطب کی
طرف توجہ نہ دینا اسے نظر انداز کرنا دنیا اور آخرت کی ناکامی کا ذریعہ ہے۔
4)نظر انداز
کرنے سے آپس میں دشمنی ہوجاتی ہے۔
5) اس سے بعض
اوقات رشتے ختم ہوجاتے ہیں۔
6) لوگوں سے
سیدھے منہ بات نہ کرنا لوگوں کی نظروں میں اس کی اہمیت کو گرا دیتا ہے اور یوں یہ
انسان کے لیے ذلت کاباعث ہے۔
7) ایسے شخص
کو معاشرے میں عزت نہیں دی جاتی اور یہ اس کے لیے انتہائی افسوس ناک بات ہے۔
پیارےآقا
ﷺ کی گفتگو کا مبارک انداز: پیارے
آقا ﷺ بہت تیزی کے ساتھ جلدی جلدی گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر کلام
فرماتے آپ کا کلام اتنا صاف اور واضح ہوتا کہ سننے والا اسے سمجھ کر یاد کرلیتا
تھا آپ ہر ایک کی بات نہایت توجہ کے ساتھ سنتے کسی کو نظر انداز نہیں کرتے اور نہ
ہی منہ موڑتے اگر کوئی اہم بات ہوتی تو اس بات کو تین تین بار دہراتے۔
خواب
میں آکرکے کچھ شیریں کلام میٹھے میٹھے
مصطفیٰ فرمائیے
Dawateislami