03008912303

انسانی معاشرہ اخلاقی اقدار پر قائم ہوتا ہے اور ان اقدار میں وعدہ وفائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وعدہ پورا کرنا انسان کے کردار، سچائی اور ایمان کی پہچان ہے۔ اسلام نے وعدہ وفا ئی کو محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار وعدہ پورا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور وعدہ خلافی کو سختی سے ناپسند فرمایا گیا ہے۔وعدہ سے مراد کسی شخص کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا یقین دلانا ہے، جبکہ وفا کا مطلب اس وعدے کو پورا کرنا ہے۔ اسلام میں خواہ وعدہ انسان سے کیا جائے یا اللہ تعالیٰ سے، دونوں صورتوں میں اس کی پاسداری لازم ہے۔

قرآنِ مجید میں وعدہ پورا کرنے کا واضح حکم دیا گیا ہے:اللہ تعالیٰ کا فرمان:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت 34)

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ ہر وعدے کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی۔

اہلِ ایمان کی صفت:قرآنِ مجید میں نیک اور متقی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰)

ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (سورۃ الرعد، آیت 20)

یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ وفا کرنا اہلِ ایمان کی پہچان ہے۔

وعدہ پورا کرنے کا صریح حکم:اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (سورۃ المائدۃ، آیت 1)

یہ آیت وعدہ پورا کرنے کو ایمان کا تقاضا قرار دیتی ہے۔

وعدہ توڑنے والوں کا انجام:قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ وقَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌؕ-

ترجمہ کنزُ العِرفان : تو (ہم نے ان پر لعنت کی) ان کے عہد کوتوڑنے اور اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق شہید کرنے اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے (کہ) ہمارے دلوں پر غلاف ہیں۔(سورۃ النساء، آیت 155)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ وعدہ توڑنا اللہ کی ناراضی اور لعنت کا سبب بنتا ہے۔

سچے لوگ وعدہ نبھاتے ہیں:قرآنِ مجید میں اہلِ صدق کے بارے میں فرمایا گیا:مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚترجمہ کنزُ العِرفان : مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے اس عہد کو سچا کردکھایا۔(سورۃ الاحزاب، آیت 23)

یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ پورا کرنا سچوں اور اللہ کے مقرب بندوں کی صفت ہے۔

وعدہ وفا اور معاشرتی استحکام:اگر معاشرے میں لوگ اپنے وعدے پورے کریں تو باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں اور امن و سکون قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وعدہ خلافی بداعتمادی، نفرت اور انتشار کو جنم دیتی ہے۔

وعدہ وفا اور آخرت کی کامیابی:قرآنِ مجید میں کامیاب لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ (سورۃ المؤمنون، آیت 8)

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ وعدہ وفا کرنے والے لوگ آخرت میں کامیاب ہوں گے۔

قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ وعدہ وفائی اسلام کا ایک بنیادی اخلاقی اور ایمانی اصول ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان، تقویٰ اور سچائی کی علامت ہے جبکہ وعدہ خلافی نفاق، اللہ کی ناراضی اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ اگر مسلمان اپنی عملی زندگی میں وعدہ وفائی کو اختیار کر لیں تو فرد بھی سنور جائے اور معاشرہ بھی امن و اعتماد کا نمونہ بن جائے۔

+92 332 3273729

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے  قرآن مجید میں فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پ۶،  المائدۃ  : ۱)

  تفسیر ’’قُرطُبی‘‘ میں منقول ہے  :  اس سے  وہ عقد مراد ہے  جو انسان خود پر لازم کرلیتا ہے  ، جیسے  خرید و فرخت ، اِجارہ ، کرائے  پر کچھ دینا ، نکاح و طلاق کا معاملہ ، کھیتی باڑی کے  لئے  زمین دینا ، باہم صلح کا معاملہ ، کسی کو مالک بنانا ، اِختیارات دینا ، غلام آزاد کرنا اور مُدَبَّر(جس غلام کو اس کے  آقا نے  کہہ دیا ہو کہ میرے   مرنے  کے  بعد تم آزاد ہو۔(بہار شریعت، ۲/ ۲۹۰) بنانا وغیرہ وہ اُمور۔

سرکارِ عالی وقار، مدینے  کے  تاجدارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے  ارشاد فرمایا : خِیَارُکُمُ الْمُوْفُوْنَ الْمُطَیَّبُوْنَ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْخَفِیَّ التَّقِیَّ  تمہارے  بہترین لوگ وہ ہیں جووعدہ پورا کرنے  والے  اور نیک طبیعت کے  مالک ہیں ، بیشک ! اللہ عَزَّوَجَلَّ گمنام اور پرہیزگار بندے  کو پسند فرماتا ہے  ۔(مسند ابی یعلی، مسند ابی سعید الخدری، ۱/  ۴۵۱، حدیث  : ۱۰۴۷)

حضرتِ  علامہ عبد الرء ُوف مناوی رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے  ہیں :  ’’اَلْمُوْفُوْن‘‘ سے  مراد وہ لوگ ہیں جواللہ عَزَّوَجَلَّ کے  لئے  اپنے  وعدوں کی پاسداری کریں ، اور ’’مُطَیَّبُوْن‘‘ سے  مراد وہ قوم ہے  جس نے  اپنے  ہاتھوں کو عِطْر میں ڈبو کر قسم کھائی تھی ، واقعہ کچھ یوں ہے  کہ ایک مرتبہ بنو ہاشم ، بنو زہرہ اور بنو تمیم زمانہ جاہلیت میں ’’دار اِبْنِ جَدْعَان‘‘ میں جمع ہوئے  اور اپنے  ہاتھوں کو عِطْر (کے  ایک پیالے ) میں ڈبو کر یہ وعدہ کیا کہ مجبورو بے  سہارا لوگوں کی مدد اور مظلوموں کی فریاد رسی کریں گے  ، جبکہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  جو اس وقت کم سِن تھے  یہ بھی ان کے  ساتھ موجود تھے  ، چونکہ ان قبیلوں نے  اپنا وعدہ وفا کیا لہٰذا رسولُ اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے  یہ خبر دے  کر کہ مخلوق میں بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنا وعدہ پورا کرتے  ہیں ان لوگوں کی تعریف بیان کی  ۔بظاہر ایسا لگتا ہے  کہ ان لوگوں نے  زمانہ نبوی پالیا ہوگا اور مسلمان ہوگئے  ہوں گے  ، یہاں یہ بھی ممکن ہے  کہ ’’مُطَیَّبُوْن‘‘ سے  مراد وہ لوگ ہوں جو ان قبیلوں کے  نقش قدم پر چلتے  ہوئے  وعدہ وفا کرنے  کے  معاملے  میں امانت دار ہوں  ۔(فیض القدیر ، ۲/ ۵۶۹ ، تحت الحدیث : ۲۲۶۹)

‎‎وعدے کی پابندی:ایفائے عہد اور وعدہ کی پابندی بھی درست اخلاق کی ایک بہت ہی اہم اور نہایت ہی ہری بھری شاخ ہے۔ اس خصوصیت میں بھی رسول عربی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کا خلق عظیم بے مثال ہی ہے۔ حضرت ابو الحمساء رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے کچھ سامان خریدا اسی سلسلے میں آپ کی کچھ رقم میرے ذمے باقی رہ گئی میں نے آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہریئے میں ابھی گھر سے رقم لا کر اسی جگہ پر آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کو دیتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے اسی جگہ ٹھہرے رہنے کا وعدہ فرما لیا مگر میں گھر آ کر اپنا وعدہ بھول گیا پھر تین دن کے بعد مجھے جب خیال آیا تو رقم لے کراس جگہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اُسی جگہ ٹھہرے ہوئے میرا انتظار فرما رہے ہیں ۔ مجھے دیکھ کر ذرا بھی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی پیشانی پر بل نہیں آیا اوراس کے سوا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے اور کچھ نہیں فرمایا کہ اے نوجوان !تم نے تو مجھے مشقت میں ڈال دیا کیونکہ میں اپنے وعدے کے مطابق تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہاہوں ۔ (شفاء شریف ص۷۴)

وعدہ پورا کرنا:ایفائے عہد (وعدہ پورا کرنا) ایک اعلیٰ اخلاقی وصف اور ایمانی تقاضا ہے جس کی اسلام میں بہت فضیلت ہے، یہ نبیوں اور متقین کی نشانی ہے اور اس سے معاشرے میں اعتماد بڑھتا ہے، جبکہ وعدہ خلافی نفاق کی نشانی ہے جس پر سخت وعیدیں ہیں، اس سے سکون ملتا ہے اور اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔

ایفائے عہد کی فضیلت اور اہمیت:اللہ کا حکم: قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو عہد پورا کرنے کا حکم دیا ہے، اور فرمایا ہے کہ عہد سے سوال کیا جائے گا۔

نبیوں کی صفت: یہ انبیاء علیہم السلام اور صالحین کی صفات میں سے ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیشہ عہد نبھایا، یہاں تک کہ جنگ میں بھی۔

‎‎معاشرتی استحکام: اس سے معاشرے میں اعتماد بڑھتا ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، اور لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں۔

ذاتی سکون: وعدہ پورا کرنے سے سکون ملتا ہے اور وقت ضائع ہونے سے بچت ہوتی ہے۔

‎‎وعدہ خلافی کے نقصانات:

گناہ کبیرہ: وعدہ خلافی حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔

ذلت و رسوائی: یہ لوگوں کی نظر میں ذلت اور بے وقاری کا سبب بنتی ہے، اور لوگ ایسے شخص پر اعتماد نہیں کرتے۔

نفاق کی علامت: یہ منافقوں کی تین بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے (جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی، خیانت)۔

اللہ کا عذاب: اس پر اللہ کے عذاب کی وعیدیں ہیں اور آخرت میں جوابدہی ہوگی۔

ایفائے عہد صرف ایک اچھا کام نہیں بلکہ مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے بہت ضروری ہے، اور اس کا ترک کرنا نفاق اور اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتا ہے۔

وعدہ وفائی کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو بات کہے، جس کام کا قول دے، جس ذمہ داری کو قبول کرے، اسے پورا کرے۔ اسلام میں وعدہ وفائی کو بہت اہمیت حاصل ہے، یہاں تک کہ اسے ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ وعدہ کرنا آسان ہے مگر وعدہ نبھانا اعلیٰ کردار کی پہچان ہے۔اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر وعدہ پورا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے، تاکہ مسلمان سچائی، امانت اور دیانت کا پیکر بن جائے۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !یہ خطاب خاص ایمان والوں سے ہے، جس سے معلوم ہوا کہ وعدہ پورا کرنا ایمان کا تقاضا ہے، محض اخلاقی مشورہ نہیں۔

(2)وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء: 34)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !قیامت کے دن وعدوں کے بارے میں بھی سوال ہوگا، اس لیے وعدہ کرتے وقت خوب سوچ لینا چاہیے۔

(3)وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا عہد پورا کروجب قول باندھو۔ (سورۃ النحل: 91)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !جب بندہ کسی سے وعدہ کرتا ہے تو اللہ پاک کو گواہ بناتا ہے، اس لیے وعدہ پورا کرنا اللہ پاک کی رضا کا ذریعہ ہے۔

(4) فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْؕ

ترجمہ کنزالایمان:تو ان کے عہد ان کی مدت تک پورے کرو۔(سورۃ التوبہ: 4)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !اسلام ہمیں ہر ایک کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کا حکم دیتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔

(5)وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: 8)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو !یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ وفائی کامیاب مومنوں کی نمایاں صفت ہے۔

وعدہ وفائی اپنانے کے مدنی پھول:بلا ضرورت وعدہ نہ کریں،وعدہ کر لیا تو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کریں،اگر مجبوری ہو جائے تو فوراً معذرت کر لیں،وعدہ پورا کرنے کی نیت سے کام شروع کریں۔

اللہ پاک ہمیں سچا، امانت دار اور وعدہ وفا کرنے والا مسلمان بنائے، ہمیں قول و عمل کا پکا فرمائے اور وعدہ خلافی جیسی بری عادت سے محفوظ رکھے۔آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


واٹس ایپ نمبر: 03442247303

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو میں راستی، سچائی اور دیانتداری کا درس دیتا ہے۔ ان تمام صفات میں "وعدہ وفائی" ایک ایسی بنیادی صفت ہے جو انسانی کردار کو جلا بخشتی اور معاشرے میں باہمی اعتماد کی فضا قائم کرتی ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ وعدہ پورا کرنا ایک شرعی فریضہ ہے جس کی باز پرس روزِ قیامت کی جائے گی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے واضح حکم ارشاد فرمایا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 1)

اس آیت میں لفظ "عقود" اپنے وسیع تر معنی میں ان تمام عہد و پیمان کو شامل ہے جو انسان اپنے رب سے کرتا ہے یا جو انسانوں کے درمیان باہمی معاملات میں طے پاتے ہیں۔ وعدہ وفائی کا یہ قرآنی تصور اس قدر مضبوط ہے کہ اسے ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، کیونکہ زبان کی پاسداری ہی وہ پیمانہ ہے جس سے انسان کے باطنی خلوص کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر عہد کی اہمیت کو اس طرح اجاگر کیا گیا ہے کہ انسان کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلایا گیا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔( پارہ 15، سورۃ الاسراء، آیت 34)

یہاں "سوال ہونا" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان دنیا میں جو زبان دیتا ہے، اسے اللہ کے ہاں ایک باقاعدہ معاہدہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسلامی فکر کے مطابق، وعدہ کرنا دراصل اپنی ساکھ کو گروی رکھنا ہے، اور جو شخص اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتا، وہ اپنی سماجی اور اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔ سچے بندوں کی تعریف کرتے ہوئے قرآن میں یہ وصف خاص طور پر بیان کیا گیا ہے کہ وہ جب عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ یہ سوچ انسان میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے اور اسے دھوکہ دہی و کذب بیانی سے بچاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ وعدہ وفائی کا سب سے بہترین اور اعلیٰ نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی عہد شکنی نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو بھی انتہائی سختی کے ساتھ نبھایا۔ احادیثِ مبارکہ میں وعدہ خلافی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور اسے منافقت کی علامتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے: "آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَاِذَا وَعَدَ اخْلَفَ، وَاِذَا اؤتُمِنَ خَانَ" ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، جلد 1، صفحہ 24، حدیث 33، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

اس فرمانِ رسول ﷺ کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں قول و فعل کا تضاد کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ایک سچے مسلمان کی یہ پہچان ہونی چاہیے کہ اس کی زبان سے نکلی ہوئی بات ایک ایسی حقیقت ہو جس پر ہر کوئی آنکھ بند کر کے بھروسہ کر سکے۔موجودہ دور کے معاشرتی بگاڑ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے سکونی اور بے اعتباری کی ایک بڑی وجہ وعدہ خلافی ہے۔ کاروبار ہو یا سماجی تعلقات، جب انسان اپنی زبان کی اہمیت کھو دیتا ہے تو معاشرتی ڈھانچہ بکھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ قرآنی فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ "ان شاء اللہ" کہنا کسی وعدے سے فرار کا راستہ نہیں بلکہ اللہ کی مدد مانگ کر اس عہد کو پورا کرنے کا عزم ہے۔ ہمیں یہ سوچ عام کرنے کی ضرورت ہے کہ ہر چھوٹا بڑا وعدہ، چاہے وہ بچوں سے کیا گیا ہو یا بڑوں سے، اس کی پاسداری لازم ہے۔ جب معاشرے کا ہر فرد اپنی زبان کا سچا ہو جائے گا تو باہمی لڑائی جھگڑے ختم ہو جائیں گے اور عدل و انصاف کی فضا قائم ہوگی۔

وعدہ وفائی قرآن و سنت کی وہ روشن تعلیم ہے جو انسانیت کو بلندی عطا کرتی ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقویٰ کا ایک اہم معیار ہے۔ قرآنِ کریم کے احکامات اور نبی کریم ﷺ کے فرامین ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اگر ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اقوال کو افعال میں بدلنا ہوگا اور ہر حال میں عہد کی رعایت کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنے اور ہر عہد کو سچائی کے ساتھ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔


واٹس ایپ نمبر: 03017886772

وعدہ وفائی انسانی اخلاق کی بنیادی قدروں میں سے ایک عظیم قدر ہے، جس پر فرد کی سچائی، کردار اور معاشرتی اعتماد قائم ہوتا ہے۔ اسلام نے اس وصف کو غیر معمولی اہمیت دی ہے اور قرآنِ مجید میں بار بار وعدوں کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ وعدہ محض ایک قول نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے، جس کی پاسداری ایمان کی علامت سمجھی گئی ہے۔قرآنِ مجید انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد ہوں یا بندوں کے ساتھ کیے گئے وعدے، سب کے بارے میں باز پرس ہوگی:

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (بنی اسرائیل: 34)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ وعدہ وفائی کوئی اختیاری عمل نہیں بلکہ جواب دہی سے جڑا ہوا فریضہ ہے۔

مزید برآں، اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (المؤمنون: 8)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا ایک مومن کی پہچان ہے، جبکہ وعدہ خلافی اخلاقی زوال اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔لہٰذا وعدہ وفائی نہ صرف ایک اعلیٰ اخلاقی اصول ہے بلکہ قرآن کی روشنی میں ایک مضبوط دینی تقاضا بھی ہے، جو فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح اور استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتا ۔

‎‎اس کے برعکس وعدہ خلافی کو قرآن نے منافقین کی نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ اگرچہ یہ مضمون احادیث میں زیادہ صراحت سے آیا ہے، لیکن قرآن میں بھی منافقین کے کردار میں عہد شکنی کو نمایاں کیا گیا ہے:

ترجمہ کنز الایمان: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے ۔(سورۃ التوبہ: 77)

یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ توڑنا محض ایک اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ دل کی خرابی اور ایمان کے زوال کا سبب بن جاتا ہے۔

قرآنِ مجید وعدہ وفائی کو صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اجتماعی زندگی میں بھی اس کی سختی سے تاکید کرتا ہے۔ خاص طور پر معاملات، معاہدات اور اجتماعی وعدوں میں دیانت داری کو لازم قرار دیا گیا ہے، کیونکہ معاشروں کا استحکام اعتماد پر قائم ہوتا ہے اور اعتماد وعدہ وفائی سے پیدا ہوتا ہے۔

آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کی روشنی میں وعدہ وفائی ایک جامع دینی اصول ہے، جو ایمان، اخلاق اور معاشرت تینوں کا حسین امتزاج ہے۔ جو قومیں وعدے نبھاتی ہیں وہ عزت، اعتماد اور ترقی حاصل کرتی ہیں، اور جو وعدہ خلافی کو معمول سمجھ لیں وہ زوال اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وعدوں کو پورا کرنے والا، سچا اور باکردار مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اسلامی تعلیمات میں وعدہ وفائی ایمان کی نشانی اور معاشرتی امن کا ستون ہے۔ وعدہ پورا کرنا نہ صرف ایک اخلاقی فریضہ ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے۔

(1) عہد کی باز پرس:اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں واضح طور پر حکم دیا ہے کہ وعدوں کو پورا کیا جائے کیونکہ قیامت کے دن اس بارے میں سوال ہوگا۔

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت: 34)

(2) اہل ایمان کی صفت:قرآنِ کریم نے کامیاب مومنین کی جو صفات بیان کی ہیں، ان میں سے ایک اہم صفت اپنے وعدوں اور امانتوں کی پاسداری کرنا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون، آیت: 8)

(3) تقویٰ اور وعدہ وفائی:اللہ تعالیٰ نے وعدہ پورا کرنے کو تقویٰ (پرہیزگاری) کی شرط قرار دیا ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، وہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کر سکتا۔

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶) ترجمہ کنز الایمان: ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔ (سورۃ آلِ عمران، آیت: 76)

مذکورہ بالا آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی محض ایک رسم نہیں بلکہ ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جس کی زبان اور عمل میں تضاد نہ ہو۔ اگر ہم معاشرے میں اعتماد اور محبت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کی ان تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے وعدے کی پاسداری کرنی چاہیے۔


واٹس ایپ نمبر: 03172084683

وعدہ وفائی انسانی کردار کا وہ روشن پہلو ہے جس پر اعتماد، امن اور باہمی تعلقات کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ اسلام نے وعدے کو محض اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ قرار دیا ہے، کیونکہ وعدہ انسان کو انسان سے اور بندے کو اس کے رب سے جوڑتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا صدق، دیانت اور تقویٰ کی علامت ہے، جبکہ وعدہ خلافی نفاق، بداعتمادی اور معاشرتی انتشار کو جنم دیتی ہے۔ قرآنِ کریم نے وعدہ وفائی کو ایمان کی علامت اور عہد شکنی کو سخت قابلِ گرفت جرم قرار دے کر اس کی غیر معمولی اہمیت واضح فرمائی ہے۔

وعدے کی پاسداری کا قطعی حکم:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1)

اس آیت میں وعدہ وفائی کو براہِ راست ایمان سے جوڑ دیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا محض سماجی تقاضا نہیں بلکہ ایمانی ذمہ داری ہے، اور اس میں کوتاہی ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔

وعدے کے بارے میں باز پرس:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 34)

یہ آیت وعدہ وفائی کو آخرت کی جواب دہی سے جوڑ دیتی ہے اور انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ ہر قول اور ہر عہد اللہ کی بارگاہ میں محفوظ ہے۔

اہلِ ایمان کی نمایاں صفت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: 8)

اس آیت میں وعدہ وفائی کو اہلِ ایمان کی پہچان قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جو شخص وعدے کی پاسداری کرتا ہے وہ دراصل اپنے ایمان کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔

وعدہ خلافی اور نفاق:اللہ تعالیٰ منافقوں کی علامت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۷۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ان میں وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ضرور نیکوں میں ہو جائیں گے۔ (سورۃ التوبہ: 75)

آگے ان کی وعدہ خلافی کا ذکر کر کے واضح کر دیا گیا کہ عہد توڑنا نفاق کی جڑ ہے اور دل کی خرابی کی علامت ہے۔

وعدہ وفائی قرآنِ کریم کی وہ تعلیم ہے جو فرد کے کردار کو وقار، زبان کو اعتبار اور معاشرے کو استحکام عطا کرتی ہے۔ جو شخص وعدہ پورا کرتا ہے وہ نہ صرف لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتا ہے بلکہ اللہ کی رضا کا مستحق بھی ٹھہرتا ہے۔ اس کے برعکس وعدہ خلافی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر انجام کار ذلت، بداعتمادی اور خسارے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ بصیرت وعدہ وفائی کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سچا وعدہ ہی انسان کو دنیا میں معتبر اور آخرت میں سرخرو بناتا ہے، اور یہی وہ شان ہے جسے پڑھ کر دل رشک سے بھر جاتا ہے۔


واٹس ایپ نمبر۔03347474340

وعدہ کر کے اس کو پورا کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے کیونکہ اس کو پورا کرنے کی بہت تاکید آ ئی ہےاللہ تبارک و تعالیٰ نےجہاں نیکی کے طریقے کوبیان فرمایا وہی پر وعدہ وفائی کا تذکرہ بھی فرمایا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نےوعدہ کو پورا کرنے کے متعلق قرآن کریم میں بارہا حکم دیا ہے اور اسی طرح احادیث کریمہ میں بھی اس کو بیا ن کیا گیا۔

اللہ تبارک تعالٰی ارشاد فرماتا ہےکہ:وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا

ترجمہ کنز العرفان: اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں۔(البقرۃ،آیت نمبر:177)

تفسیر صراط الجنان: اور اپنے عہد پورا کرنے والے۔یہاں نیکی کے پانچویں طریقے کابیان ہے اور اس آیت میں عہد سے سارے جائز وعدے مراد ہیں خواہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یا اپنے شیخ سے یا نکاح کے وقت بیوی سے یا کسی اور سے جیسے حکمرانوں کے وعدے عوام سے، بشرطیکہ جائز وعدے ہوں ، ناجائز وعدوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں۔

اسی آیت کے تحت مفتی فیض احمد اویسی صاحب فرماتےہیں: والموفون اس کا عطف مَنْ آمَن پر ہے در اصل عبارت یوں تھی و من اوفو بعهدهم یعنی الله تعالى کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں یعنی اس کے اوامر و نواہی یامنتیں پوری ادا کرنے والے ہیں إِذَا عَاهَدُوا یعنی ان کے اور اللہ تعالیٰ کے یا ان کے اور لوگوں کے مابین وعدے ہیں جو وعدہ کرتے ہیں تو پورا کرتے ہیں یا جب منت مانتے ہیں تو اسے ادا کرتے ہیں اور جو بات کرتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اور جب کسی کی امانت رکھتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں۔

حدیث شریف : ومن اعطى عهد الله ثم نقضه فالله ينظر اليہ یعنی جو اللہ تعالی کا عہد دے کر توڑ دیتا ہے قیامت میں اللہ تعالی اس پر نظر عنایت نہیں فرمائے گا۔

حدیث شریف : ومن اعطى ذمته رسول الله عليه وسلم ثم فالنبي خصمه يوم القيمة جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذمہ دے کر دھو کے کرتا ہے تو قیامت میں اللہ تعالیٰ کا نبی اس سے جھگڑے گا یہود نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ یعنی تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا۔ (فیوض الرحمٰن اردو ترجمہ تفسیر روح البیان صفحہ نمبر111)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو۔ (سورۃ النحل آیت نمبر 91)

بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہدمراد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔(تفسیر خازن جلد نمبر 3 صفحہ نمبر140)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔(المؤمنون:8)

اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے دو وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔

یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ عزوجل کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عزوجل کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔(روح البیان آیت نمبر8 جلد نمبر6صفحہ نمبر69)


واٹس ایپ نمبر: 03172952093

وعدہ پورا کرنا اسلامی تعلیمات کا اہم ترین حصہ ہے۔ قرآن کریم و احادیث رسول میں وعدہ پورا کرنے کا حکم، اس کی اہمیت اور اس کے فضائل اور وعدہ خلافی ‏کی وعیدیں بیان ہوئی ہے ۔

وعدہ کی تعریف: ایفاء کے معنی ہیں پورا کرنا، مکمل کرنا، عہد ایسے قول اور معاملے کو کہا جاتا ہے جو کہ طے ہو یعنی ایفائے عہد: وعدہ پورا کرنا ،اپنے قول کو نبھانا ‏اور اس پر قائم رہنا ہے۔

(‏1) وعدے کی اہمیت : وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

‏ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ( پارہ 15،سورۃ بنی اسرائیل، نمبر 34 )

حضرت سیدنا اسماعیل حقی رحمۃاللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : آیت مبارکہ میں وعدہ پورا کرنے کاحکم دیا گیا ہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا ‏بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔ ( تفسیر خازن، الاسراء ، تحت الآیۃ :٣٤ ، ٣\١٧٤ ملتقطا)

اور بندوں سے عہد میں ہر جا ‏ئز عہد داخل ہے۔ افسوس وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کر ‏کے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کر کے توڑ دیتے ہیں ۔(صراط الجنان، ٥\٤٥٨)‏‎ ‎

(‏2) وعدہ پورا کرنے والوں کی شان : اللہ عزوجل فرماتا ہے :‏ الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (پارہ 13، سورۃ رعد، آیت نمبر 20)

مفسر قرآن حضرت سَیِّدُنا اسماعیل حقی رَحْمَۃ اللهِ تَعَالَى عَلَيْہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: یعنی آخرت کا اچھا انجام اُنہی کے لئے ہے جو اللہ تعالی سے کیا ہوا ‏عہد پورا کرتے ہیں کہ اس کے رب ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور اس کا حکم مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں کو توڑتے نہیں جو اُنہوں ‏نے لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے ہیں۔ (روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۰، ۴‏ / ‏۳۶۳) ‏

(‏3) وعدہ وفا کرنے والوں کو جَنَّتُ الفِرْدَوس کی خوشخبری: ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ‏ وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ(9)‏ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ ‏(10)‏ الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَؕ-هُمْ ‏فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(11)

‏ترجمہ کنز الایمان :اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں یہی لوگ وارث ہیں کہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ ‏رہیں گے۔( پارہ 18 سورۃ المُؤْمِنُون، 8 تا 11 )

قارئین کرام! دیکھا آپ نے کہ وعدہ پورا کرنے کی کتنی اہمیت ہے ۔ اللہ پاک ہمیں اپنے وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


واٹس ایپ نمبر 03121288016

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَترجمہ کنز الایمان:اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو۔ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزند ہیں اور سیّد المرسَلین ﷺ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دو وصف بیان کئے گئے۔ اس میں سے ایک یہ ہے:

(1) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ: 54، 3 / 238)

اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِترجمہ کنز العرفان: تمام عہد پورے کیاکرو۔ عُقود کا معنیٰ عہد ہیں ، انہیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے مراد کون سے عہد ہیں اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں :(1) امام ابن جریج رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ یہاں اہلِ کتاب کو خطاب فرمایا گیا ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ اے اہلِ کتاب کے مومنو! میں نے گزشتہ کتابوں میں سیدُ المرسلین ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی اطاعت کرنے کے متعلق جو تم سے عہد لئے ہیں وہ پورے کرو۔(2) بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت میں خطاب مؤمنین کو ہے، انہیں اپنے عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔(3) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ان عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک میں لئے گئے۔(4) بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس میں مؤمنین کے باہمی معاہدے مراد ہیں۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: 1، 1 / 458)

وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِترجمہ کنز الایمان:اور عہد پورا کرو۔ آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 5 / 155، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 3 / 174، ملتقطاً)

اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں۔(سورۃ المعارج:32)

اس آیت میں چھٹا وصف بیا ن کیا گیا کہ (ان لوگوں میں حرص اور بے صبری نہیں پائی جاتی) جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں کہ امانت میں خیانت نہیں کرتے اور نہ ہی عہد توڑتے ہیں ۔ یہاں امانت میں شرعی امانتیں اور بندوں کی امانتیں دونوں داخل ہیں اور عہد میں مخلوق کے ساتھ کئے ہوئے عہد اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد نذریں اور قسمیں بھی داخل ہیں ۔( تفسیر کبیر، المعارج، تحت الآیۃ: 32، 10 / 646، مدارک، المعارج، تحت الآیۃ: 32، 1280)

لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ

ترجمہ کنز العرفان:اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں۔(سورۃالمؤمنون:8)

اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔

یاد رہے کہ امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: 8، 6 / 69، خازن، المؤمنون، تحت الآیۃ: 8، 3 / 321، ملتقطاً)


pH03323598339

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ ان ہی اعلیٰ اخلاقی اوصاف میں سے ایک اہم وصف وعدہ وفائی ہے۔ وعدہ پورا کرنا مومن کی پہچان اور ایمان کی علامت ہے، جبکہ وعدہ خلافی نفاق کی نشانی قرار دی گئی ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار وعدے کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت کو مختلف انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔

وعدہ وفائی کا مفہوم:وعدہ وفائی کا مطلب ہے کہ انسان جو عہد، اقرار یا بات کسی سے کرے اسے پورا کرے، خواہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہو یا بندوں سے۔ شریعتِ اسلامیہ میں ہر قسم کے جائز وعدے کی پابندی لازم ہے۔

(1) وعدہ پورا کرنے کا صریح حکم:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)ترجمہ کنزالایمان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے۔(سورۃ بنی اسرائیل: آیت نمبر 34)

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ: اور عہد پورا کرو۔ آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ پاک سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 5 / 155)

اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔

(2) مومنوں کی صفات میں وعدہ وفائی:اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: آیت نمبر 8)

انبیائے کرام علیہم السلام کی صفتِ وعدہ وفائی:اللہ تعالیٰ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِترجمہ کنز الایمان: بے شک وہ وعدے کے سچاتھا۔(سورۃ مریم: آیت نمبر 54)

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ وعدہ وفائی انبیائے کرام کی نمایاں صفت تھی، لہٰذا ہر مسلمان کو اس سنت کو اپنانا چاہیے۔

وعدہ وفائی کی اہمیت:وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت ہے،معاشرے میں اعتماد اور بھروسہ قائم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے،قیامت کے دن کامیابی کا ذریعہ ہے۔

وعدہ خلافی کے نقصانات:اللہ تعالیٰ کی ناراضی،معاشرتی بداعتمادی،تعلقات کا ٹوٹ جانا،نفاق کی علامت۔

حضور اکرم ﷺ کا عملی نمونہ:نبی کریم ﷺ وعدہ وفائی میں بے مثال تھے۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے بھی پورے فرمائے۔ صلح حدیبیہ اس کی روشن مثال ہے جہاں بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت شرائط تھیں لیکن آپ ﷺ نے مکمل وفاداری کے ساتھ معاہدہ نبھایا۔

آج کے دور میں وعدہ وفائی کی ضرورت:آج معاشرے میں جھوٹے وعدے عام ہو چکے ہیں، چاہے وہ کاروبار میں ہوں، سیاست میں یا ذاتی تعلقات میں۔ اگر مسلمان قرآن کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے وعدہ وفائی کو اپنالیں تو معاشرہ امن، اعتماد اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

قرآنِ مجید کی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ وعدہ وفائی ایک عظیم اسلامی اخلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا، مومنوں کی صفت قرار دیا، انبیاء کی خصوصیت بتایا اور وعدہ خلافی کی مذمت فرمائی۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے ہر جائز وعدے کو پورا کرے اور اس عظیم صفت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


فون نمبر: 03046224342

وعدہ وفا کرنا اسلامی تعلیمات کا نہایت اہم اور بنیادی اخلاقی وصف ہے جسے قرآن مجید نے ایمان والوں کی نمایاں صفت قرار دیا ہے ۔وعدہ دراصل ایک ذمہ داری اور امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی قرآن کریم ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ اور بندے دونوں کے ساتھ کیا گیا عہد پورا کرنا تقوی اور سچائی کی علامت ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت میں وعدہ وفائی کی روشن مثالیں ملتی ہیں چنانچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قرآن نےصادق الوعدفرمایا وعدہ پورا کرنا معاشرے میں اعتماد محبت اور امن کو فروغ دیتا ہے جبکہ عہد شکنی نفاق اور فساد کا سبب بنتی ہے اسی لیے قرآن کی روشنی میں وعدہ وفائی نہ صرف اخلاقی خوبی بلکہ دینی فریضہ اور کامیابی کا راستہ ہے۔

(1)وعدہ پورا کرنے کا حکم:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنزالایمان:اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے۔( پارہ 15،سورۃ بنی اسرائیل: آیت 34)

تفسیرصراط الجنان :اس آیت میں ہر طرح کے عہد شامل ہیں چاہے اللہ تعالی سے کیا گیا ہو یا بندوں سے قیامت کے دن وعدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اس لیے وعدہ توڑنا سخت گناہ اور وعدہ پورا کرنا مومن کی بنیادی صفت ہے۔

(2)ایمان والوں کی صفت:وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنزالایمان:اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت رکھتے ہیں۔( پارہ 18، سورۃ المؤمنون: آیت 8)

تفسیر صراط الجنان:یہ کامیاب مومنوں کی صفات بیان ہو رہی ہیں امانت اور وعدہ دونوں کی حفاظت ایمان کی علامت ہے جو شخص عہد کی رعایت نہیں کرتا وہ کامل ایمان والوں کی صف میں نہیں رہتا۔

(3)اللہ کے عہد کو پورا کرو: وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا ترجمہ کنزالایمان: اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو ۔ (پارہ 14، سورۃ النحل: آیت 91)

تفسیرصراط الجنان:اللہ کے نام پر کیا گیا وعدہ توڑنا بہت سخت جرم ہےمسلمان کی زبان معتبر ہونی چاہیے عہد شکنی معاشرے میں فساد اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہے۔

(4)عہد پورا کرنے والے محبوبِ خدا:بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶) ترجمہ کنز الایمان: ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔ (پارہ 3،سورۃ آل عمران: آیت 76)

تفسیرصراط الجنان:وعدہ وفائی تقوی کا حصہ ہے جو شخص اپنے قول کا سچاہو وہ اللہ تعالی کی محبت کا مستحق بنتا ہے یہ آیت وعدہ پوراکرنے والوں کے لیے بڑی بشارت ہے۔

(5)نیک لوگوں کی صفت:وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں۔( پارہ 2،سورۃ البقرۃ: آیت 177)

تفسیرصراط الجنان:حقیقی نیکی صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ اخلاقی صفات بھی اس میں شامل ہیں وعدہ پورا کرنا کامل نیکی اور صالحین کی نمایاں صفت ہے۔

الغرض وعدہ وفائی قرآن کریم کی روشن تعلیم اور اہل ایمان کی پہچان ہے جو شخص اپنے عہد کا سچا ہو وہ اللہ کی محبت اور لوگوں کے اعتماد کا حق دار بنتا ہےلہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اپنے وعدوں کی حفاظت کریں تاکہ دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔