9 صفر المظفر, 1442 ہجری

: : :
(PST)

استاد کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

حصول ِعلم کے بنیادی ارکان میں اہم رُکن استاد ہے،  تحصیلِ علم میں جس طرح درسگاہ و کتاب کی اہمیت ہے اسی طرح حصول ِعلم میں استاد کا ادب و احترام مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ استاد کی تعظیم و احترام شاگرد پر لازم ہے کہ استاد کی تعظیم کرنا بھی علم ہی کی تعظیم ہے اورادب کے بغیر علم تو شاید حاصل ہوجائےمگر فیضانِ علم سے یقیناً محرومی ہوتی ہے اسے یوں سمجھئے : ”باادب بانصیب ،بے ادب بے نصیب“

استاد کے ادب کے مختلف دینی اور دُنیوی فوائد طالبِ علم کو حاصل ہوتے ہیں جن میں بعض یہ ہیں:

(1) امام بُرھان الدّین زرنوجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایک طالبِ علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس سے نفع اٹھاسکتا ہے جب تک کہ وہ علم ،اہلِ علم اور اپنے استاد کی تعظیم و توقیر نہ کرتا ہو ۔

(2) امام فخرالدین ارسا بندی رحمۃ اللہ علیہ مَرْو شہر میں رئیسُ الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت و ادب کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔

(3) کیو نکہ استاد ہو یا طبیب دونوں ہی اس وقت نصیحت نہیں کرتے جب تک ان کی تعظیم وتکریم نہ کی جائے ۔([1])

(4)صلاحیت ِفکر وسمجھ میں اضافہ ہونا

(5)ادب کے ذریعے استادکے دل کو خوش کرکے ثواب حاصل کرنا، حدیث ِپاک میں ہے: اللہپاک کے فرائض کے بعد سب اعمال سے زیادہ پیارا عمل مسلمان کادل خوش کرناہے۔([2])

(6)ادب کرنے والوں کو اساتذۂ کرام دل سے دُعائیں دیتے ہیں اور بزرگوں کی دعا سے انسان کو بڑی اعلیٰ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔([3])

(7)ادب کرنے والے کو نعمتیں حاصل ہوتیں ہیں اور وہ زوالِ نعمت سے بچتا ہےکیونکہ جس نے جو کچھ پایا ادب واحترام کرنے کے سبب ہی سے پایا اورجس نے جوکچھ کھویا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔([4])

(8)استاد کےادب سے علم کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں۔([5])

والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کو علم و اہلِ علم کا ادب سکھائیں۔حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص سے فرمایا: اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ بے شک تم سے تمھارے بیٹے کے بارے میں پوچھا جائے گا اور جو تم نے اسے سکھایا اور تمھاری فرمانبرداری کے بارے میں اس لڑکے سےسوال کیا جائے گا۔([6])

اللہ پاک ہمیں اپنے والدین، اساتذہ اور پیر ومرشد کا فرمانبردار اور باادب بنائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

محمد عمیرعطّاری مدنی

(مدرس جامعۃ المدینہ فیضانِ غوثِ اعظم،ولیکا سائٹ، کراچی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

([1])راہ علم، ص 35 تا38ملتقطاً(2)معجم اوسط ، 6/37، حدیث:7911(3)صراط الجنان، 8/281 (4)تعلیم المتعلم،ص35 (5)علم وعلماء کی اہمیت، ص108 (6)شعب الایمان ،حدیث:8409




([1])راہ علم، ص 35 تا38ملتقطاً

([2])معجم اوسط ، 6/37، حدیث:7911

([3])صراط الجنان ،8/281

([4])تعلیم المتعلم، ص 35

([5])علم وعلماء کی اہمیت، ص108

([6])شعب الایمان ،حدیث:8409


استاد کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

دنىا مىں سب سے پاکىزہ رشتہ استاد و شاگرد کا ہے اور اس رشتے مىں ترقى اس وقت تک نہىں ہوتى جب تک ادب ملحوظ خاطر نہ رکھا جائے۔ کسى عربى شاعر نے کىا خوب کہا ہے:

ماہ وصل من وصل الابالحرمۃ

وما سقط من سقط الابترک ا لحرمة

جس نے جو کچھ پاىا ادب و احترام کرنے کى وجہ سے پاىا اور جس نے جو کچھ کھوىا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہى کھوىا۔(کامىاب طالبِ علم کون؟ ص ۵۵)

اردو مىں اس شعر کو عام طور پر ان الفاظ کے ساتھ بولا جاتا ہے’’با ادب بانصىب ، بے ادب بے نصىب‘‘

استاد کے ادب کے بے حد فوائد ہىں آئىے سب سے پہلے ہمارے بزرگانِ دىن رحمہم اللہ الممبین اپنے استاد کا کىسا ادب کرتے تھے اور انہىں کىسے فوائد و ثمرات ملے اس بارے مىں ملاحظہ فرمائىں۔

حضرت سىدنا امام فخر الدىن ارسا ہندى رحمۃ اللہ علیہ جلىل القدر بزرگ تھے ، ’’مرو‘‘ شہر مىں رئىس الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطان الوقت آپ کا بے حد ادب و احترام کىا کرتا تھا آپ رحمۃاللہ علیہ اس مقام کو پہنچنے کى وجہ بىان کرتے ہوئے فرماتے ہىں :کہ مجھے ىہ منصب اپنے استاد کى خدمت کرنے کى وجہ سے ملا ہے زىب اپنے استاد کى خدمت کىا کرتے تھے ىہاں تک کہ مىں نے ان کا تىن سال تک کھانا پکانا اور استاد کى عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مىں نے کبھى بھى اس مىں سے کچھ نہ کھاىا۔ (راہِ علم ص ۳۱)

دىکھا آپ نے ہمارے بزرگانِ دىن اساتذہ اکرام کا کس قدر ادب و احترام اور خدمت کىا کرتے تھے۔جس کى برکت سے انہىں اپنے فوائد ثمرات ملے کہ انہىں آج رئیس الائمہ کے لقب سے ىاد کىا جاتاہے۔ آئىں امام الائمہ ،سراج الغمہ ،امام اعظم ابو حنىفہ رضى اللہ تعالىٰ عنہ کا اىک بہت ہى مشہور واقعہ ملاحظہ کىجئے۔

الخىراث الحسان مىں ہے، آپ رضى اللہ تعالىٰ عنہ زندگى بھراپنے استاد محترم سىدنا امام حماد علیہ الرحمۃالجوا د کے مکان عظمت نشان کى طرف پاؤں پھىلا کر نہىں لىٹے حالانکہ ک وہ آپ کے مکان عالى شان اور استادمحترم علىہ الرحمۃ کے مکان عالى شان اور استادِ محترم علیہ الرحمۃ اکرم کے مکان عظىم الشان کے درمىان تقرىبا سات گلىاں پڑتى تھىں۔(اشکوں کى برسات ۹)

سبحان اللہ عزوجل ہمارے امام اعظم اپنے استاد کا کتنا ادب فرماتے! اس ادب کى برکت سے آپ رضى اللہ تعالى عنہ کو کىسا مقام عطا ہوا کہ پورى امت کا بار آپ کے کاندھوں پر رکھا گىا ،اور آپ کو اىسے قوانىن و اصو ل بنانے کا شرف حاصل ہوا کہ تا قىامت امت محمدىہ ان پر عمل پىرا رہے گى۔

اسى طرح مشہور محدىث حصرت سىدنا امام محمد بن اسماعىل بخارى رحمۃ اللہ علیہ کى سىرت کا اىک حسىن پہلو استاد کا حکم ماننا بھى ہے جس کى وجہ ہے آپ کو نماىاں مقام حاصل ہوا، اور آپ کى کتاب کی شہرت ہوئى قران پاک کے بعد آپ کى کتاب کو مقدس و افضل جانا جاتا ہے، جى ہاں اس صحىح بخارى شرىف کے بارے مىں بات کررہى ہوں۔

آپ کا واقعہ کچھ ىوں بىان کىا جاتا ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ اپنے استاد محترم حضرت سىدنا امام محمد کى خدمت سراپا عظمت مىں حاضر ہوئے اور فقہ مىں کتاب الصلوة سىکھنے لگے ، حضرت سىدنا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے جب ان کى طبیعت مىں ،فقہ مىں عدم دلچسپى اور علم حدىث کى طرف رغبت دىکھى تو ان سے فرماىا: تم جاؤ اور علم حدىث حاصل کرو، پس جب حضرت سىدنا امام بخارى رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ا ستاد کا مشورہ قبول کىا اور علم حدىث حاصل کرناشروع کىا تو دىکھنے والوں نے دىکھا کہ آپ رحمۃ اللہ علیہ تمام آئمہ حدىث سے سبقت لے گئے۔(راہِ علم ص ۳۶)

دىکھا آپ نے استاد کے ادب کى برکت بزرگانِ دىن رحمۃ اللہ علیہ کو کىسا علمى مقام عطا ہوا کہ قىامت تک لوگ ان کے علمى کارناموں سے مستفىد ہوتے رہىں گے۔

اللہ عزوجل سے دعا کہ وہ ہمىں بھى اپنے اساتذہ کا ادب کرنے ان کى تعظىم کرنے اور ان کى خدمت کرنے کى توفىق نصىب فرمائے۔


استاد کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

ادب کسے کہتے ہیں؟   :

ادب ایک ایسے وصف کا نام ہے کہ جس کے ذریعے انسان اچھی باتوں کی پہچان حاصل کرتا ہے ،اور اچھے اخلاق اپناتا ہے۔

ادب کی اہمیت:

حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : دینی اور دنیاوی تمام امور کی زینت ادب ہے۔ مخلوقات کو ہر مقام پر ادب کی ضرورت ہے۔

ادب کے فوائد :

ہمارا پیارا دین ' اسلام ' تعلیم دیتا ہے کہ جو عمر اور مقام و مرتبے میں چھوٹا ہو اس کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاوً کریں اور جو عمر ، علم ، منصب ، عہدے وغیرہ میں بڑا ہو ان کا ادب و احترام بجالائیں۔ ہمارے بڑوں میں ہمارے ماں باپ ، اساتذہ کرام ،پیر و مرشد اور علماءو مشائخ اور تمام ذی مرتبہ لوگ شامل ہیں ۔ ان کے ادب و احترام کا ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یوں ارشاد فرمایا ہے : بڑوں کی تعظیم و توقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو تم جنّت میں میری رفاقت پالو گے ۔ ( شعب الایمان، ج 7 ، ص 458 حدیث 1098 بیروت)

استاد کے ادب کے تو بے شمار فوائد ہیں لیکن اگر ایک طالب علم استاد کی تعظیم وتوقیر کرے گا تو گذشتہ حدیث پاک کے تحت وہ حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا جنّت میں رفیق ( یعنی ساتھی ) ہوگا ۔

کہتے ہیں کہ علم اور ادب کا بہت بڑا ساتھ ہے کہ جہاں ادب نہیں وہاں علم کا کوئی فائدہ نہیں ایک طالب علم کو استاد ، کتاب اور تعلیمی ادارے کا ادب ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے بعض دفع بڑے ذہین طلبہ بھی بے ادبی کی وجہ سے علم سے دور اور محروم ہو کر رہ جاتے ہیں۔

استاد کا ادب کتنا ضروری ہے اس کی اہمیت کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اتنا کافی ہے کہ استاد، وہ مُحسن ہے جو طالب علم کو جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے ، رہنے کا ڈھنگ بتاتا ہے اور برائیوں کو دور کرکے اسے معاشرے کا ایک مثالی فرد بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

دینِ اسلام میں استاد کے ادب کو بہت اہمیت دی گئی ہے حتی کہ استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے لہذا طالب علم کو چاہیے کہ وہ استاد کو اپنے حق میں حقیقی باپ سے بڑھ کر مخلص جانے۔ حضرت سیّدنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:

جو بے ادب ہو وہ علم سے بہرہ مند نہیں ہوسکتا۔

لہذا اگر ایک طالب علم استاد کی اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادب کرے گا تو اسے فوائد ہی فوائد نظر آئیں گے اور جس قدر استاد سے محبت ہوگی اور جتنا استاد کا ادب ہوگا اسی قدر علم میں برکت ہوگی۔

اللہ تبارک وتعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں اساتذہ کرام کا صحیح معنوں میں ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے سے ہمیں دین ودنیا کے ثمرات و فوائد نصیب فرمائے۔ آمین

سوئے مقدر کو جگاتے ہیں ہمارے استاد

زندگی کے زریں اصول بتاتے ہیں ہمارے استاد

ہماری زندگی کی تعمیر و تکمیل میں

اپنا ہر ہنر سکھاتے ہیں ہمارے استاد

با ادب ہوتا ہے ہمیشہ بانصیب

یہ قول زریں سناتے ہیں ہمارے استاد


استاد کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

حدىث مبارکہ :

پىارے آقا مکى مدنى مصطفى صلى اللہ تعالىٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرماىا:بوڑھے مسلمان، عالمِ دىن، حافظِ قرآن، عادل بادشا ہ اور استاد کى عزت کرنا تعظىم ِخداوندى مىں داخل ہے۔ (با ادب بانصىب ص ۱۲۰)

استاد کى عظمت سب سے زىادہ ہے، ہر طالبِ علم کو چاہىے کہ استاد کى تعظىم و توقىر کو اپنے اوپر لازم کرلے، اسى مىں طالبعلم کے لىے دنىا و آخرت مىں کامىابى ہے، کوئى طالب علم اس وقت نہ علم حاصل کرسکتا ہے اور نہ اس سے نفع حاصل کرسکتا ہے جب تک کہ استاد کى تعظىم نہ کرے، عربى مقولہ ہے: ’’ما وصل من وصل الابالحرمة وما سقط من سقط الابترک الحرمة ‘‘ ترجمہ : جس نے جو پاىا ادب کى وجہ سے پاىا اور جس نے جو کھوىا بے ادبى کى وجہ سے کھوىا۔(راہ علم ،ص ۲۹)

ادب کے سبب بے شمار فوائد :

طالب علم کو اپنے اساتذہ کے ادب کے سبب دىنى و دنىاوى بے شمار فائدے اور برکتىں حاصل ہوئى ہىں چند ىہ ہىں۔

۱۔ اللہ اور اس کے رسول کى رضا حاصل ہوتى ہے۔

۲۔ دنىا مىں رب عزوجل اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا اور آخرت مىں بھی اس کے لىے مغفرت کا سبب ہوتا ہے۔

۳۔ ادب کى وجہ سے اىک طالب علم کو رب عزوجل و ہ برکتىں عطا فرماتا ہے جس کا وہ تصور بھى نہىں کرسکتا۔

۴۔ علم ِنافع کى دولت اسے حاصل ہوتى ہے۔

۵۔لوگوں کى نظر مىں اس کى عزت و مرتبے مىں اضافہ ہوتا ہے ۔

۶۔ ہر کام مىں کامىابى سے سرفراز ہوتا ہے۔

استاد کا ادب کىسے کىا جائے :

۱۔ ہمىشہ استاد کے احسانات کو پىش نظر رکھنا چاہىے۔

۲۔استاد کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے عمل پر مقدم رکھو۔

۳۔اپنے استاد کے سامنے عاجزى کا اظہار کرو۔

۴۔ ان سے پہلے گفتگو نہ کرے۔

۵۔ چلتے وقت ان سے آگے نہ بڑھے

۶۔ہر اس کام سے بچے جس مىں بے ادبى کا اندىشہ ہو۔

۷۔ اپنے مال م مىں سے کسى چىز سے استاد کے حق مىں بخل نہ کرے ىعنى جو کچھ درکار ہو بخوشى حاضر کردے۔

ہمارے اسلاف کا استاد کا ادب کرنے کا انداز :

امام اعظم اپنے استاد کا اس قدر ادب کرتے کہ پورى زندگى کبھى اپنے استاد کے گھر کى طرف پاؤں نہ پھىلائے۔

امام احمد ادب کى وجہ سے اپنے استاد کا نام نہ لىتے بلکہ ان کا ذکر ان کى کنىت سے کرتے تھے۔

استاد کے ادب کى برکت سے اللہ عزوجل نے انہىں کىسا بلند مقام و مرتبہ عطا فرماىا۔

عزىز طالب علموں ىاد رکھیں استاد اور شاگرد کا رشتہ انتہائی مقدس ہے، جو طالب علم اپنے منزلِ مقصود کو پہنچا ادب کى وجہ سے پہنچا اور جو گرا بے ادبى کے سبب گرا۔ ىاد رکھىے جو استاد کى بے ادبى کرے گا وہ کبھى علم کى روح نہىں پاسکتا، اور جس نے استاد کو اذىت دى وہ علم کى برکات سے محروم رہتا ہے۔

باادب بانصىب بے ادب بے نصىب

اللہ عزوجل ہمىں بادب بنادے اور بے ادبى سے محفوظ فرمائے۔

امین بجاہ النبی الامین صلى للہ علیہ وسلم


استاذ کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

مشہور قول ہے کہ ’’جس نے معالج کی عزت نہ کی وہ شفا سے محروم رہا اور جس نے استاذکی عزت نہ کی، وہ علم سے محروم رہ گیا۔‘‘ بلاشبہ، اسلام میں معلّم (استاذ) کی بڑی قدرومنزلت ہے۔ امام الانبیاء، خاتم النبیّین، سیّد المرسلین، رحمۃ للعالمین، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رسالت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلّم کا منصب عطا فرمایا گیا۔ چناںچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اِنما بعثت معلما‘‘ ترجمہ: میں بطور معلّم (استاد) مبعوث کیا گیا ہوں۔ (ابنِ ماجہ)

سیّدنا جابر بن عبداللہسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے مشکلات میں ڈالنے والا اور سختی کرنے والا بناکر نہیں، بلکہ معلّم اور آسانی کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’میں تمہارے لیے باپ کی حیثیت رکھتا ہوں کہ تمہیں علم و حکمت سِکھاتا ہوں۔‘‘ استاذ کا درجہ باپ کے برابر ہے۔حضور نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ ’’تیرے تین باپ ہیں، ایک وہ تیرے دنیا میں آنے کا باعث بنا، یعنی والد، دوسرا وہ، جس نے تجھے اپنی بیٹی دی، یعنی سسر اور تیسرا وہ، جس نے تجھے علم و آگہی سے نوازا، یعنی استاذ۔‘‘

امیرالمومنین سیّدنا عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا ’’آپ اتنی عظیم الشان اسلامی سلطنت کے خلیفہ ہیں، کیا اس کے باوجود آپ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے؟‘‘ فرمایا! ’’کاش! میں ایک معلّم ہوتا۔‘‘ امیرالمومنین سیّدنا علی مرتضیٰ کا قول ہے کہ’’ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا، میں اسے استاد کا درجہ دیتا ہوں۔‘‘

استاذ کا مرتبہ و مقام:

علم کا حقیقی سرچشمہ اللہ رب العزت ہے کہ جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو علم کی بِناء پر فرشتوں پر برتری دی اور پھر انبیاء کے ذریعے انسانوں کو عِلم کے زیور سے آراستہ کیا۔ نبی آخرالزماں جب منصبِ رسالت پر فائز ہوئے، تو اللہ جل شانہ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت جبرائیل کے ذریعے جو پہلی وحی نازل فرمائی، وہ پڑھنے ہی سے متعلق تھی۔ فرمایا۔ ترجمہ: ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے، جس نے (عالم کو) پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں، جس کا اسے علم نہ تھا۔ (سورۃ العلق۔ 14:96)

اسلام سے قبل عربوں میں لکھنا پڑھنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔بعثتِ نبوت کے وقت پورے عرب میں صرف17افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ حضور نے عِلم کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کی ترویج و اشاعت پر خصوصی توجّہ فرمائی۔ مدینہ ہجرت فرماتے ہی مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ مسجد کے صحن میں درس و تعلیم کے لیے ایک چبوترے کی تعمیر فرمائی، جو ’’صفّہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دنیائے اسلام کی پہلی درس گاہ قرار پائی، جہاں صحابہ کرام اجمعین نے حضور سے قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرکے دنیا کی تاریکی کو اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور فرمایا۔ اصحابِ صفّہ، دن رات خدمتِ دین اور حصولِ علم میں مصروف رہتے۔اللہ کے نبی بنفسِ نفیس ان اصحاب کو درس و تعلیم دیتے اور ان کی تربیت فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ ’’میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ ہے، جس نے علم حاصل کیا اور پھر اسے پھیلایا۔‘‘ (بیہقی)

غزوئہ بدر میں جو قیدی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہدیہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’جو قیدی دس مردوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے، تو اسے آزاد کردیا جائے گا۔‘‘ شریعتِ اسلامی میں معلّم (استاذ) کا مقام و مرتبہ نہ صرف بہت اعلیٰ و بلند ہے، بلکہ اس کے فرائضِ منصبی کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔

استاذکا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے شاگرد اس کا ادب و احترام کریں، اس کے ساتھ عزت، عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئیں۔ اس کا کہنا مانیں اور جو تعلیم وہ دے، اس پر عمل پیرا ہوں۔ استاذ روحانی باپ ہوتا ہے، اس کا حق اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے، جتنا ایک باپ کا اولاد پر۔ ماں باپ اگر اس کے دنیا میں آنے کا ذریعہ بنتے ہیں، تو استاد اسے اچھی اور باعزت زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ اسے علم کے زیور سے آراستہ کرکے اس کی اخلاقی تربیت کرتا ہے


استاد کے آداب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

حضرت ابوہرىرہ رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے حضور اکرم صلى اللہ تعالى علیہ وآلہ وسلم نے فرماىا : علم سىکھو او علم کے لىے ادب و احترام سىکھو، جس استاد نے تجھے علم سکھاىا ہے اس کے سامنے عاجزى اور انکسارى اختىار کرو۔(المعجم الاوسط ،حدىث ۶۱۸، ہ ۴،ص۳۴۲)

استاد کے ادب کے بہت سے فوائد ہىں وہى شخص علمِ دىن مىں مرتبہ حاصل کرتا ہے جو استاد کا ادب کرتا ہے ،کہا جاتا ہے کہ ادب و احترام کرنا اطاعت کرنے سے زىادہ بہتر ہے۔

طالبِ علم نہ تو اس وقت تک علم حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہى اس سے نفع اٹھا سکتا ہے، جب تک کہ وہ اپنے استاد کى اور اہل علم کى تعظىم و توقىر نہ کرتا ہو۔ کسى نے کہا ہے: "جس نے جو کچھ پاىا ادب و احترام کرنے کے سبب ہى پاىا اور جس نے جو کچھ کھوىا ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہى کھوىا۔ (راہ علم ص ۸)

آخراے بادِ صبا ! ىہ سب تىرا ہى احسان ہے

جو شخص استاد کے لىے اذىت و تکلىف کا باعث بنتا ہے وہ علم کى برکتوں سے بھى محرو م ہوجاتا ہے، اور علم سے کما حقہ فائدہ نہىں اٹھا سکتا۔ کسى عربى شاعر نے کىا خوب کہا ہے: ترجمہ ۔ استاد اور طبىب اس وقت تک نصىحت نہىں کرتے جب تک ان کى عزت و تکرىم نہ کى جائے۔

اگر تو طبىب سے بدسلوکى کرتا ہے تو پھر اپنى بىمارى پر صبر کرنے کے لىے تىار ہوجا۔

اگر استاد سے بدسلوکى کرتا ہے تو پھر اپنى جہالت پر قناعت کر۔(والدىن اور زوجىن اور اساتذہ کے حقوق)

آخر مىں اللہ سے دعا ہے کہ مىں استاد کا ادب کرنے کى توفىق عطا فرمائے۔

امین بجاہ النبى الامین صلی اللہ علیہ وسلم


استاد کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

عربى مقولہ ہے:  الادب شجر والعلم ثمر فکیف تجدون الثمر بدون الشجر ترجمہ ۔ادب درخت ہے اور علم پھل ہے، پھر تم بغىر درخت کے پھل کىسے حاصل کرسکتے ہو؟

اسلام مىں استاد کا مقام:

اسلام مىں استاد کو روحانى باپ کا درجہ حاصل ہے اور استاد کى تعظىم با پ سے بڑھ کر ہے کہا جاتا ہے: باپ پدر گِل (جسم کا باپ) ہوتا ہے اور استاد بدر دل (دل کا باپ) ہوتا ہے۔

اُستاد کا ادب:

استاد کا ادب تعمىلِ علم کے لىے بنىاد ہے اور بے ادب علم کى نعمت سے محروم رہتا ہے ، جب کہ ادب کو تھامنے والے فلاح و کامرانى کى ان بلندىوں پر پہنچ جاتے ہىں کہ ان کا نام آسمان ہدایت مىں چمکتے ہوئے ستاروں کى طرح تا ابد افشاں رہتا ہے اور اس کى روحانى تعلىمات سے اىک عالم مىں یاب ہوتا ہے۔کسى عربى شاعر نے کہا:

ما وصل من وصل الاىالحرمة

وما سقط من سقط الا بترک الاحرمة

ىعنى ، جس نے جو کچھ پاىا ادب و احترام کرنے کى وجہ سے پاىا اور جس نے جو کچھ کھوىا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہى کھوىا۔ (کامىاب طالب علم کون؟ ص ۵۵)

ادب تعلىم کا جوہر ہے، زىور ہے جوانى کا

وہى شاگرد ہىں جو خدمت ِاستاد کرتے ہىں

استاد کے ادب کرنے کے فوائد :

ىہى ادب تھا جس سے شىر خدا على المرتضى کرم اللہ تعالىٰ وجہہ الکرىم کو دروازہ علم کے لقب ِباکمال سے سرفراز کىا ، آپ رضى اللہ تعالىٰ عنہ فرماتے ہىں: جس نے مجھے اىک حرف سکھاىا مىں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے ، چاہے تو آزاد کردے اور چاہے تو غلام بنا کر رکھے۔ (راہِ علم ص ۲۹)

ىہى ادب تھا جس کى وجہ سے صحابى رسول حضرت عبداللہ بن عباس رضى اللہ تعالىٰ عنہ کو امام المفسرىن، حبر الامة (امت کے بہت بڑے عالم) اور بحرا لعلم ( علم کا سمندر) کا لقب عطا ہوا۔

امام شعبى نے رواىت کىا کہ حضرت زىد بن ثابت رضى اللہ تعالىٰ عنہ نے اىک جنازے پر نماز پڑھى ، پھر سوارى کا خچر لاىا گىا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضى اللہ تعالىٰ عنہ نے آگے بڑھ کر رکاب تھام لى ىہ دىکھ کر حضرت زىد رضى اللہ تعالىٰ عنہ نے فرماىا، اب رسول اللہ صلى اللہ تعالىٰ علیہ وسلم کے چچا کے بىٹے آپ ہٹ جائىں، اس پر حضرت ابن عباس رضى اللہ تعالىٰ عنہ سے فرماىا: علما و اکابر کى اسى طرح عزت کرنى چاہىے۔ (جامع البىان العلم وفضلىت صفحہ ۱۱۶)

ىہى ادب تھا جس نے امام ابوحنىفہ رحمۃ اللہ تعالىٰ علیہ کو امام اعظم، فقىہ اعظم اور سرا ج الامة، جىسے القابات سے ملقب کىا، آپ رحمۃ اللہ تعالىٰ علیہ زندگى بھر اپنے استادِ محترم سىدنا امام حماد علیہ الرحمۃ کے مکان عظمت نشان کى طرف پاؤں پھىلا کر نہىں لىٹے حالانکہ آپ رضى اللہ عنہ کے مکان کى شان اور استادِ محترم کے مکانِ عظىم الشان کے درمىان تقرىبا سات گلىاں تھىں۔ (الخىرات الحسان ص ۸۲۰)

ىہى ادب تھا جس نے حضرت سىدنا امام فخر الدىن ارسا بندی علیہ الرحمۃکو مرو شہر مىں رئىس الائمہ کے مقام پر فائز کىا، سلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب و احترام کىا کرتا تھا ، آپ رحمۃاللہ علیہ فرماىا کرتے تھے۔

مجھے ىہ منصب اىسے استاد کى خدمت کرنے کى وجہ سے ملا ہے کہ مىں اپنے استاد کى خدمت کىا کرتا تھا ىہاں تک کہ مىں نے ان کا تىن سال تک کھانا پکاىا اور استاد کى عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مىں نے کبھى بھى اس مىں سے کچھ نہ کھاىا۔(ّماخوذ از راہ علم ، ص ۳۱، مطبوعہ مکتبہ المدىنہ )

ادب استاد ِدینى کا مجھے آقا عطا کردو

دل و جاں سے کروں ان کى اطاعت ىارسول اللہ


استاد کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
96 days ago

استاد دنیا کی وہ روشنی ہے جو بچوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے ۔اور انہیں روشنی پھیلانے کی تلقین کرتا ہے۔ دنیا میں ہر وہ انسان یقیناً کامیاب ہے جس نے استاد کا ادب کیا ہو۔ اگر آپ خود بھی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو استاد کا ادب کرنا سیکھ لیں۔

ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

کچھ بچے اس سے لا علم ہوتے ہیں بظاہر تو وہ ادب کرتے ہیں لیکن جب کسی کے پاس ہوتے ہیں تو استاذ کی برائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔۔ادب بظاہر تو لازمی ہے اور پیٹھ پیچھے بھی۔ استاد کا ادب کرنا بھی ضروری ہےعلم جو بھی ہو جیسا بھی ہو۔استاد کا ادب و احترام ضروری ہے۔ انسان جس سے بھی کچھ سیکھے اس کا احترام فرض ہے۔

اگر سیکھنے والا ، سکھانے والے کا احترام نہیں کرتا تو وہ علم محض ’’رٹا‘‘ ہے۔ حفظ بے معرفت گفتار ہے،اس میں اعمال کا حسن نہیں ، گویا وہ علم جو عمل سے بیگانہ ہووہ ایک بے معنی لفظ ہے ۔( ہاں کچھ علم سمجھے بغیر پڑھے جائیں جب بھی بے معنی لفظ نہیں ہوتے جیسے قرآن کی تلاوت)۔ بہر کیف علم کا عطا کرنے والا قابلِ عزت ہے اور جب تک ادب و احترام کا جذبہ دل کی گہرائیوں سے نہیں اٹھے گا  تب تک نہ علم کا گلزار مہک سکے گا اور نہ ہی علم طالب علم کے قلب و نظر کو نورانی بنا سکے گا ۔ باقی تمام چیزیں انسان خود بناتا ہے مگرانسان کو کون بناتاہے۔میری مراد انسان کی تخلیق نہیں انسان کا بشریت سےآدمیت کی طرف سفر ہے۔انسان کو بنانے والے کا نام ہے، ’’معلم‘‘۔ اسی لیے اس کا کام دنیا کے تمام کاموں سے زیادہ مشکل ، اہم اور قابلِ قدر ہے ۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ روحانی رشتہ ہے یہ تعلق دل کے گرد گھومتا ہے۔ اور دل کی دنیا محبت ، ارادت کی کہکشاں سے بکھرتی ہے۔

؎ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو معلم کہا۔ آپ کے شاگرد یعنی آپ کےصحابہ آپ کا کتنا احترام کرتےتھے ۔ دنیا کی تاریخ ایسی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ دوستو! احترامِ استاد ایک عظیم جذبہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ: ’’جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا میں اس کا غلام ہوں۔ چاہے وہ مجھے بیچ دے یا آزاد کردے‘‘

 خلیفہ وقت ’’ہارون الرشید ‘‘نے معلم وقت امام مالک سے درخواست کی کہ وہ انہیں حدیث پڑھا دیا کریں۔ امام مالک نے فرمایا : ’’علم کے پاس لوگ آتے ہیں ۔ علم لوگوں کے پاس نہیں جایا کرتا ۔ تم کچھ سیکھنا چاہتے ہو تو میرے حلقہ درس میں آسکتے ہو‘‘ ۔

 خلیفہ آیا اور حلقہء درس میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ عظیم معلم نے ڈانٹ پلائی اورفرمایا:  خدا کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ بوڑھے مسلمان اور اہل علم کا احترام کیا جائے ۔ یہ سنتے ہیں خلیفہ شاگردانہ انداز میں کھڑا ہوگیا ۔

میر ا باپ میرے جسم کی پرورش کرتا ہے اور استاد میری روح کی‘‘۔ استاد کا مرتبہ ایک عظیم الشان مرتبہ ہے۔آج تک جو بھی جس مقام پر ہے وہ استاد کی وجہ سے ہے

اگر آپ یہ عبارت پڑھنے کے قابل ہیں تو اس میں بھی آپ کے استاد کا ہاتھ ہے۔


استاد کے ادب کے فوائد

Sat, 20 Jun , 2020
99 days ago

یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ- (المجادلہ ۱۱) ترجمہ کنز الایمان : اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔

زندگى مىں لوگ ہمىں مثالىں دے دے کر سمجھاتے ہىں اور زندگى کى بہترىن رہنمائى کے لىے اہم اور عمدہ مثال قرآن ہے، اور قرآن مىں جا بجا علم کا تذکرہ ہے اور علم ہمىں استاد سے حاصل ہوتا ہے۔

آسان سى بات ىہ ہے کہ جب انسان اىک گھر کى تعمىر کرتا ہے اس کى عمارت عمدہ بنائے، سىڑھىاں بنائے پر ذرا سوچے کہ اگر اس نے اوپر منزل پر جانا ہے تو اسے سىڑھوں کا سہارا چاہىے اگر وہ اسے استعمال نہ کرے تووہ اوپر نہىں جاسکتا اور سىڑھىوں کے ساتھ ساتھ تمیز سے بھى چلنے کى تاکىد ہوتى ہے کہ بے دھىان سے گرسکتا ہے اسى طرح انسان کى زندگى مىں استاد کى اہمىت ہوتى ہے علم کے لئے استاد ضرورى اور اس کے لئے تمىز اور ادب بھى ضرورى ہے۔

بغىر ادب کے وہ اس سے فائدہ حاصل نہىں کرسکتا، سب باتوں کو چھوڑىں ىہ دىکھىں کہ خود رسول صلى اللہ تعالىٰ علیہ وسلم نے فرماىا کہ : انما بعثت معلماً یعنی مىں معلم بنا کر بھىجا گىا ہوں۔

آپ صلى اللہ تعالىٰ علیہ وسلم کو معلم جیسا اہم مرتبہ بھی عطا ہوا صحابہ کرام بھی آپ کا ادب کرتے تھے۔

اور ادب کى بات ىہ ہے کہ جو استاد کہے کرنا چاہىے کہ استاد روحانى باپ ہوتا ہے والدىن بچے کى جسمانى پرورش کرتے ہىں، لىکن استاد بچوں کو زندگى کى سىڑھىاں چلنا سکھاتا ہے بس بات ىہ ہے کہ استاد بادشاہ نہىں ہوتا مگر بادشاہ بنادىتا ہے، اور استاد کا ادب کامىابى کى پہلى سىڑھى ہے