20 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

مطالعہ کے لغت کے اعتبار سے کئی معانی ہیں۔

۱۔ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا۔۲۔غور۔۳۔ توجہ دھیان۴۔ کتاب بینی ۔

۵۔ مشاہدہ

جب کہ اصطلاح میں اس کی یہ تعریف ہے کہ بذریعہ تحریر مصنف یا مؤلف کی کلام کی مراد سمجھانا مطالعہ کہلاتا ہے۔لفظ مطالعہ جس لفظ سے بنا ہے علامہ غلام نصیر الدین نے اس لحاظ سے دلچسپ نکتے ذکر کیے ہیں۔

۱۔ مطالعہ کا مادہ طلوع سے ہے اور طلوع پردہ غیب سے عالم ظہور میں آنے کو کہتے ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کی طلعت الشمس یعنی سورج عالم غیب عالم ظہور میں طلوع ہوا، اور مطالعہ باب مفاعلہ سے ہے، اور مفاعلہ میں جانبین سے برابر کے علم کو کہا جاتاہے اب مطالعہ کا یہ معنی ہوا کہ ادھر طالب نے اپنی پوری توجہ کتاب کی طرف مبذول کی اور ادھر کتاب نے طالب کو اپنے فیوض و برکات سے نوازا اب دونوں کے مابین گہری دوستی ہوگئی۔

مدینہ۔مطالعہ ایمان کی مضبوطی اور پختگی کا باعث ہے تو مگر یہ اس وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحید ور سالت کی شمع مزید روشن ہوجائیں اس لیے جب کوئی شخص ایمان کو اور نور نواز نے والی معتبر و مستند کتب جیسے کہ تمہید الایمان بہار شریعت کا پہلا حصہ جا الحق، حافظ ملت عبدالعزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا رسالہ المصباح الجدید بنام حق و باطل کافرق کے مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کو پختگی ملتی ہے، اور اس کے نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلما ن بنتا ہے۔

مطالعہ حصولِ معرفت کا ذریعہ ہے یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مطالعے سے آغاز کرتا ہے پھر کائنات کے مطالعہ مشاہدہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس پر درجہ بدرجہ کائنات کے سربستہ رازوں کے پردے کھلتے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان معرفتِ نفس و جہاں سے ترقی کرتے کرتے معرفتِ باری تعالیٰ کے راستوں کو حاصل کرلیتا ہے گویا کہ مطالعہ معرفت کے لیے سیڑھی کا کام کرتا ہے۔معرفتِ الہی اور نفس کو بیکار بنانے کے لیے احیا العلوم کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔

مدینہ، مطالعہ سے عقل وشعور میں اضافہ ہوتا ہے باشعور انسان ہمیشہ کا میابیوں اور عزتیں سمیٹا ہے اور بے شعور کے حصے اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہا کیا بولنا ہے اور کیا کیا کرنا ہے، یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول وفعل ادا کرتا ہے، اور بے شعور کو سوچنے سمجھنے کی نوبت ہی نہیں، لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت ہے۔

مطالعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کے تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگاہی بخشتا ہے اس آگاہی کے تناظر مین انسان اپنی دیگر تہذیبوں کا تقابل کرتا ہے اور وجہ ترجیح تلاش کرتا ہے اب یا تو اپنے تہزیب پر مزید پختہ ہوجاتا ہے یا پھر اسے خیر باد کہہ کر دوسری طرف تہذیب کو اختیار کرلیتا ہے۔


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ارشاد ہوا۔

اے ابراہیم ! میں علیم ہوں، ہر علیم کو دوست رکھتا ہوں یعنی علم میری صفت ہے اور جو میری اس صفت (علم) پڑھے وہ میرا محبوب ہے۔(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۷۰۔ حدیث ۲۱۲)

مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟

حصولِ علم ِ دین کے لیے مطالعہ انتہائی ضروری ہے کہ اچھی اور دینی معلومات سے بھرپور کتب کا مطالعہ نظرو فکر کی درستگی اور حصولِ علم کا بہترین ذریعہ ہے۔

۲۔ جیسا کہ شیخِ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:

مطالعہ علمِ دین کی جان ہے، اور مطالعہ سے اتنا علم حاصل ہوگا ، گویا جس کی انتہا نہیں۔

سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی ع لیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ گرامی ہے۔

انما العلمہ بالتعلمہ ، یعنی علم سیکھنے سے ہی آتا ہے۔(بخاری کتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل ص ۹۱)

لہذا جس علم سے ہر وقت واسطہ پڑتا ہے اس کی مثال غذا کی طرح ہے کہ جس طرح ہے کہ جس طرح ایک انسان کے لیے غذا لازمی ہے، اسی طرح جس علم سے اس کا تعلق ہے اسے سیکھنے اور اس پر عمل کر نے کے لیے مطالعہ ضروری ہے، کیونکہ عمل کی کیفیت جاننے سے پہلے اس کا علم ہونا بھی ضروری ہے، جیسا کہ حضرت سیدنا شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں۔

عمل سے پہلے علم ضروری ہے کیونکہ عمل کے فرض ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہوجاتا ہے۔(قوت القلوب ، الفضل الحادی والثلاثون ۱۰/۲۲۹ )

مطالعہ کے فوائد و منافع

مطالعہ کے تمام فوائد کو احاطہ تحریرمیں لانا ممکن نہیں، البتہ ان کثیر فوائد میں سے چند تحریر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی قدر مطالعہ کے لیے رغبت و تحریک پیدا کی جاسکے۔

ایمان کی پختگی

مطالعہ ایمان کی مضبوطی و پختگی کا باعث ہے، مگر یہ اسی وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحیدو رسالت کی شمع مزید روشن ہوجائیں،

اگر کوئی شخص ایمان کو ترقی و نور عطا کرنے والی مستند کتب کا مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کی پختگی ملتی ہے، اوراس کی نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے، اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلمان بنتا ہے۔

علم میں ترقی :

مطالعہ سے علم بڑھتا ہے، یاد رہے کہ علم سیکھنے ہی سے آتا ہے ، اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے، اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ مطالعہ ہے

علم کی برکتیں بے شمار ہیں۔

علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نقل فرماتے ہیں۔

علم کے علاوہ حضور نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کسی چیز میں اضافہ کی دعا کا حکم نہیں دیا گیا۔

(فیض القدیر ج ۲، ص ۱۶۸، تحت الحدیث ۱۵۰۴)

معرفت کا حصول

مطالعہ حصولِ معرفت کا ذریعہ ہے، یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مطالعہ سے آغاز کرتا ہے، اور پھر کائنات کے مطالعہ ( مشاہدہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس پر درجہ بدرجہ کائنات کے سربستہ رازوں کے پردے کھلتے چلے جاتے ہین اور ایک وقت آتا ہ ے کہ انسان معرفتِ نفس و جہاں سے ترقی کرتے کرتے معرفت باری تعالیٰ کے راستوں تک رسائی حاصل کرلیتا ہے گویا مطالعہ معرفت کے لیے سیڑھی کا کام کرتا ہے۔

عقل و شعور میں اضافہ

مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے ، باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے، اور بے شعورکے حصہ میں اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا بولنا اور کیا کرنا ہے یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے، اور بے شعور کو سوچنے سمجھنے کی نوبت ہی نہیں آتی، لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ، تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔

مطالعہ کا مقصد

انسان کے ہر کام کے ساتھ اس کی کوئی نہ کوئی غرض یا مقصد وابستہ ہوتا ہے اسی طرح مطالعہ و کتب بینی سے بھی اس کی کئی اغراض اور مقاصد جڑے ہوئے ہوتے ہیں، جن مقاصد کے تحت انسان مطالعہ کرتا ہے،

مطالعہ کا ایک مقصد علم حاصل کرنا ہے، جہاں مطالعہ انسان کی شخصیت کو ترقی کی بلند منزلوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے وہیں یہ حصولِ علم کا بھی وسیلہ ہے اور علم وہ نور ہے کہ جو شے اس کے دائرے میں آجاتی ہے وہ منکشف و ظاہر ہوجاتی ہے۔

چالیس سال تک مطالعہ

کوشش کیجئے کہ کتاب ہر وقت ساتھ رہے کہ جہاں موقع ملے کچھ نہ کچھ مطالعہ کرلیا جائے اور کتاب کی صحبت بھی میسر رہے۔

حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں،

مجھ پر چالیس سال اس حال میں گزرے ہیں کہ سوتے جاگتے کتاب میرے سینے پر رہتی ہے۔

(جامع بیان العلم وفضلہ ، ۲/۳۶۰ ، الرقم : ۲۳۳۶)

کامیاب مبلغ بننے کے لیے ۔

کامیاب مبلغ بننے کے لیے بھی مطالعہ بے حد ضروری ہے، مطالعہ کرکے تیار کرنے والے مبلغ کا بیان زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب کہ بغیر مطالعے کے بیان کرنے والے مبلغ سے غلطی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لہذا مکتبہ المدینہ سے جو بھی کتاب یا رسالہشائع ہو پہلی فرصت میں خرید کر مطالعہ کی عادت بنانی چاہیے۔

مطالعہ سےمبلغ کو ہی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس طرح تیار کردہ بیان سننے والوں پر بھی جادو کی طرح اثر کرتا ہے، اور سامعین کے کردار میں نمایاں تبدیلی لاتا ہے ۔

بس ے الوگو!

تم لوگ علما کی مجالس سے جدائی اختیار نہ کرو کیونکہ روئے زمین پر اللہ پاک نے علما کی مجالس سے زیدہ معزز کوئی شے پیدا نہ فرمائی۔

سنتوں پر عمل کا جذبہ پانے کے لیے

سنتوں پر عمل کا جذبہ پانے کے لیے بھی مطالعہ ضروری ہے کہ مطالعہ سے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حسنِ اخلاق اچھی زندگی گزارنے کا سلیقہ، شجاعت، صبر وتحمل، صداقت و امانت ، عقل و فہم، عدالت وفقاہت جودو سخا اور حمت و شفقت جیسے اوصاف کا علم حاصل ہوتا ہے۔

مدنی پھول

کتب بینی فقط بیان تیار کرنے کے لیے نہیں بلکہ اگر ذوقِ مطالعہ کے لیے ہو تو بہت فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

حاصل مطالعہ:

سارا دن محنت و مشقت کرنے کے بعد کوئی مزدور اپنی اجرت نہیں چھوڑتا کیونکہ اس نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے اپنی زندگی کا ایک قیمتی دن اس مشقت کی نذر کیا ہوتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص مطالعہ میں صرف ہونے والے اپنے وقت ، ذہنی مشقت، قلبی توجہ اور غور و فکر کا احساس رکھتا ہوگا تو وہ ضرور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو محفوظ کرے گا۔

مطالعہ سے حاصل ہونے والے فائدے کو ہم حاصلِ مطالعہ سے تعبیر کرتے ہیں۔

حاصل مطالعہ کو محفوظ کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں، پہلی یہ کہ قوتِ حافظ مضبوط رہے تو ذہن میں محفوظ کرلیا جائے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر اسے اپنے پاس لکھ لیا جائے اور یہ دوسری ہی زیادہ مفید ہے۔

آخری باتیں

مطالعہ کیجئے، مطالعہ کیجئے اور بس مطالعہ کیجئے

مطالعہ ، ذہن کو کھولتا ہے نتائج سے باخبر کرتا ہے دانائی کی باتوں پر مطلع ہونے میں مدد دیتا ہے، فصیح اللسان بناتا ہے، غور و فکر کی صلاحیت بڑھاتا ہے علم کو پختہ کرتا ہے، اور شبہات ختم کرتا ہے، تنہا شخص کا غم دور کرتا ہے، غور و فکر کرنے والے کے لیے دلچسپی کا سامان ہے، اور مسافر کے لیے اندھیری رات کا چراغ ہے۔

جو نورِ علمی چاہیے تو کیجئے مطالعہ

ہاں معرفت بھی چاہیے تو کیجئے مطالعہ

نظر بھی ہو وسیع تر دماغ بھی ہو تیز تر

بھلے بُرے میں فرق اور کام کا سلیقہ بھی

اپنے نکتہ سنجی چاہیے تو کیجئے مطالعہ

معارف کتاب اور سیرت رسول سے

جو رہنمائی چاہیے تو کیجئے مطالعہ


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

دورِ حاضر میں ترقی پانے کے لیے وقت کی تنظیم کاری پیش ورانہ مہارت اور فرائض کو انجام دینے کے لیے احساسِ ذمہ داری کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے اور یہ تینوں باتیں عملی زندگی میں مطالعے کی ہی وجہ سے ملتی ہیں، کیونکہ کامیاب انسانوں کی سیرت کا مطالعہ ہی ہمیں وقت کی قدر و قیمت کا احساس دلاتا ہے اس لیے بھی مطالعے سے بہت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔  مطالعے کی ہی بدولت سے ماہرین کے تجربات کے مطالعے سے ہم اپنے شعبے میں ترقی کی منازل طے کرسکتے ہیں۔ مطالعے کی ہی بدولت سے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہووتا ہے۔ مطالعہ ہمیں اپنے فرائض کی درست انداز میں انجام دہی پر ابھارتا ہے۔ مطالعے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مطالعے کی مدد سے اللہ تعالیٰ اور بزرگوں کے حقوق سے آگاہی ملتی ہے۔مطالعے کے فوائد مطالعہ انسان کی فکر کو پختہ کرتا ہے۔مطالعہ انسان کوعمل پرابھارنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔یہی علم کاتقاضا ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:

اے لوگو! علم حاصل کرو، پس جو علم حاصل کرے اسے چاہیے علم پرعمل بھی کرے۔

چالیس سال کا معمول:

سیدنا امام حسن بن زیاد کوفی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، میرے چالیس سال اس طرح گزرے ہیں کہ سوتے جاگتے میرے سینے پر کتاب رہی۔ یعنی مطالعہ کرتے ہوئے چالیس سال گزارے۔

فوائد مطالعہ کے حصول کی بنیادی شرط:

مطالعے سے حاصل ہونے والے دینی و دنیوی فوائد کا دار و مدار مواد کی ثقاہت پر موقوف ہے آج کے دور میں انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا پر موجود تحریروں اور کتابوں سے استفادے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے مگر انٹرنیٹ پر کمزور مواد پر مشتمل کتب اور مقالات کی بھی بھرمار ہے اور یہ غیر مستند مواد فوائد مطالعہ کا گلا گھونٹنے، جھوٹ پر سچ کا لیبل لگا کر جہالت کو فروغ دینے، افواہوں کو جنم دے کر حقائق کا چہرہ مسخ کرنے، دنیا میں بے چینی اور اضطراب و انتشار پھیلانے کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ انسان کی گمراہی اور ایمان کی بربادی کاذریعہ بھی بن رہا ہے۔ لہذا انٹر نیٹ کے ذریعے مطالعہ کرنے والوں کو چاہئے کہ مذکورہ خرابیوں سے بچنے کیلئے مواد کی خوب چانچ پڑتال کرنے کی قابلیت پیدا کریں تاکہ اپنے علم کے ذخیرے کو غیر مستند معلومات کے شعلوں سے اور وقت جیسی قیمتی نعمت اور ایمان جیسی لازوال دولت کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔

اللہ پاک ہمیں وقت کی قدر کرنے والا بنائے۔ آمین


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

مطالعہ کرنے کے کافی فوائد ہیں سر فہرست یہ فائدہ کمال درجے کی حیثیت رکھتا ہے کہ دینی مطالعہ سے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے مثلا

(1) علم دین حاصل ہوتا ہے

( 2) بزرگوں کی بات پر عمل ہوتا ہے جیسے امیر اہل سنت اسکی ترغیب ارشاد فرماتے رہتے ہیں اور ہر ہفتے مطالعہ کےلیے رسالہ بھی عنایت فرماتے ہیں

(3) فرض علوم حاصل کرنے کا ذریعہ ہے

(4) دینی کتب کی سمجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے

(5) ترغیب کا ذریعہ بنتا ہےمذکورہ باتیں اچھی نیتوں سے رضا الہی کے اسباب ہیں جو سب سے بڑا فائدہ ہےاب دو فوائد ذکر کئے جائیں گے ایک دینی دوسرا دنیاوی کیونکہ دین اسلام ہی ہمارا سب کچھ ہے اس لیے پہلے دینی فائدہ مگر ذرا رک جائیں ہمیں مطالعہ ہرگز دنیاوی فوائد کی لئے نہیں بلکہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے کرنا ہے ضمنی طور پر یہ فوائد بھی حاصل ہونگے ان شاءاللہ تعالی دینی فائدہ اچھا عالم بننے کے لئے مطالعہ آکسیجن(oxygen) کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے سیدی اعلحضرت کی اس فرمان سے سمجھیے کہ عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے ملفوظات اعلحضرت صفحہ 58 مکتبۃ المدینہ

اس پر غور فرمائیں کہ (اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے ) کتاب سے تب ہی نکال سکے گا جب دینی کتب کا مطالعہ کرتا ہو گا لہذا پتا چلا کہ مطالعہ کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ عالم بننے میں مددگار ہے

کتابیں پڑھنے سے دماغ کے کچھ حصے متحرک ہو جاتے ہیں اور جسم کا عصبی نظام بہتر طور پر کام کرنے لگتاہے ۔

اور ایک اہم بات کہ یہ سب باتیں بھی آپ کو اس تحریر کے مطالعہ سے حاصل ہوئی لہذا مطالعہ کو معمول بنائیں


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

اللہ کے محبوب ،دانائے غیوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دین کا علم سیکھنے کی کئی مقامات پر ترغیب ارشاد فرمائی چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اے لوگو بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے اوردین کی سمجھ غورو فکر سےحاصل ہوتی ہے۔(الكتاب: المعجم الكبير ج ۱۹ ص ۳۹۵،دار النشر: مکتبہ ابن تیمیہ – القاهرة)

علم دین سیکھنا ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک کی رضاپانے ،گناہوں سے بچنے اور ثواب کمانے‘‘ کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔جس طرح علم شفیق استاد، نیک اجتماعات ،علماء کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے اسی طرح اچھی اور معیار ی کتب کا مطالعہ کرنا بھی حصول ِعلم کا بہترن ذریعہ ہے ،مطالعہ کرنے کا بنیادی مقصد علم حاصل کرناہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ دیگر فوائد بھی ہمیں حاصل ہوتے ہیں مثلا :ایمان کی پختگی، علم و عمل میں ترقی، معرفت الہی کا حصول، عقل و شعور میں اضافہ ،دینی اور دنیوی امور میں ترقی، مختلف تہذیبوں سے آگاہی، کائنات میں غور و فکر کا موقع ،انسانی اخلاق کی بہتری ،دل ودماغ کو عمدہ خیالات سے مزین کرنا ،منفی اور بے فائدہ مصروفیت سے بچنا ،تنقیدی اور تحقیقی صلاحیتوں کا بڑھنا ،لوگوں کے علم وتجربات اور مشاہدات سے استفادہ کرنا، مطالعہ کے سبب فضول باتوں سے بچنے کی عادت ملنا ،انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا بڑھنا ،غم اور بے چینی بھلانے کا ذریعہ ہونا ،اچھی تحریر کا انقلاب کا سبب بننا ،دنیا میں مثبت تبدیلی لا نے کا ذریعہ ہونا،تنگ نظری دور ہونا ،وسعت قلبی حاصل ہونا، دوسروں کی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو نقصان سے بچانا ،مختلف مسائل کا آسانی سے حل ملنا،بری صحبت اور برے دوستوں سے بچنا ،معاشرتی ترقی کا ذریعہ ہونا ، فصاحت وبلاغت اور ذھانت میں اضافہ ہونا وغیرہ ۔ حضرت سیّدنا امام بخاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے کسی نے پوچھا :کیا حافظے کو قوی کرنے کے لیے بھی کوئی دوا ہے؟آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:دوا کا تو مجھے معلوم نہیں ،البتہ آدمی کے اِنْہِماک اوردائمی مطالعے کو میں نے قوت حافظہ کے لیے مفید ترین پایا ہے( حافظہ کیسے مضبوط ہو؟ ص ۴۱)

،اللہ پاک ہمیں بھی اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ دینی کتب کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین ، اچھی اور معیار ی کتب کا مطالعہ کرنے کےلئے ’’ماہنامہ فیضا نِ مدنیہ ‘‘ اور مکتبۃ المدینہ کی دیگر کتب اور رسائل کا مطالعہ فرمائیں ۔


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

علم ایک ایسا خزانہ ہے جس کو چرایا نہیں جا سکتا اور اسے حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ کتابوں کا مطالعہ کرنا ہے۔ یقیناً مطالعہ کے بے شمار فوائد ہیں جن کو اجمالی طور پر اس مختصر  مضمون میں تحریر کرنا سہل نہیں تاہم مطالعہ کے چند فوائد یہاں ذکر کیئے جاتے ہیں تاکہ ایک طبقہ جو مطالعہ سے بے رغبتی کا مظاہرہ کرتا ہے اس میں شوق مطالعہ پیدا ہو اور وہ کتب بینی سے خاطر خواہ استفادہ کر سکے۔

مطالعہ آپ کے دماغ کو ٹیلیویژن دیکھنے یا ریڈیو سننے کے مقابلے میں بالکل مختلف طرز کی ورزش فراہم کرتا ہے اس طرح یہ عادت آپ کے دماغ کو سوچ بچار اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے جس سے یاداشت بھی بہتر ہوتی ہے

ایک تحقیق کے مطابق ہم اپنے بولے جانے والے الفاظ کا پانچ 5 سے پندرہ 15 فیصد ذخیرہ مطالعہ کے ذریعے ہی اپنے ذہن کا حصہ بناتے ہیں۔اس لیے بچوں کے اندر اس عادت کا فروغ خاص اہمیت رکھتا ہے

کسی ایسے فرد کے بارے میں پڑھنا جو زندگی کی رکاوٹوں کو پھلانگ کر اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کرتا ہے، درحقیقت آپ کے اندر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے عزم کو بڑھاتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ذہنی اور دماغی صلاحیتیں کم ہوتی جاتی ہیں۔ اس عمل کو دماغی انحطاط یا کوگنیٹوو ڈیکلائن بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں نام اور اشیا کو یاد رکھنے میں دقت، بھولنے کی عادت، نئے علوم سیکھنے میں مشکل اور ذہنی مسائل حل کرنے میں سست روی وغیرہ شامل ہیں۔لیکن تحقیق سے ثابت ہے کہ پڑھنے کی عادت اس عمل کو سست کرتی ہے اور الزائیمر جیسے مرض کو روکتی ہے

اگرچہ ہم سوتے وقت اسمارٹ فون کے عادی ہوتے جارہے ہیں جو نیند کو غائب کردیتے ہیں جب کہ سوتے وقت اچھی کتاب کا مطالعہ نیند کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے

امریکی مصنف اور ماہر ڈاکٹر سوئیس کا کہنا ہےکہ مطالعہ ذخیرہ الفاظ کو بڑھاتا ہے جس کا براہِ راست تعلق ذہانت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں کو مطالعے کی عادت ڈالی جائے تو ان کی ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے ۔مطالعہ سے لکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے بہت سے قابل مصنفین کی کتابوں کے مطالعہ سے ان کا طرز تحریر کا پتا چلتا ہے تو اگر آپ اچھے رائٹر بننا چاہتے ہیں تو اچھے مصنفین کی کتب کا مطالعہ کیجئے۔مطالعہ سے انداز گفتگو بہتر ہوتا ہے چونکہ مطالعہ سے الفاظ کے ذخیرے اور علم میں اضافہ ہوتا ہے تو آپ اچھے انداز سے گفتگو کر سکتے ہیں


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

فی زمانہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ لوگ مطالعہ سے جی چراتے ہیں اور کتابیں خریدنے کو فضول خرچی میں شمار کرتے ہیں آج میں آپ سب کو مطالعہ کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے مطالعہ کے  چند فوائد پر روشنی ڈالنا چا ہوں گی امید ہے آپ سب میری بات کو سمجھ کر اس پر عمل کریں گے اور دوسروں تک بھی پہنچائیں گے ،یوں تو مطالعہ کے بے شمار فضائل اور فوائد ہیں لیکن یہاں میں چند کا ذکر خیر کرتی ہوں

مطالعہ سے سب سے بڑا فائدہ جو ہم کو حاصل ہوتا ہے وہ علم ہے ۔اور علم کی اہمیت سے کون انکار کر سکتا ہے ؟یہ علم ہی تو ہے جس کے ذریعے آدم علیہ السَّلام کو فرشتوں پر فضیلت دی گئی جسے قرآن حکیم کی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 31 اور 33 میں ارشاد ہے : اور اللہ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ فرشتوں نے عرض کی اے اللہ تو پاک ہے ہمیں تو بس اتنا ہی علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھایا بیشک تو ہی علم والا ہے پھر اللہ نے فرمایا اے آدم تم انہیں ان اشیاء کے نام بتا دو پھر جب آدم نے انہیں ان اشیاء کے نام بتا دیئے تو اللہ نے فرمایا کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ۔

اس آیت کے تحت مولانا نقی علی خان اپنے رسالے فضائل علم و علماء میں فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالی کے نزدیک کوئی چیز علم سے بہتر ہوتی تو آدم علیہ سلام کو فرشتوں کے مقابل میں دی جاتی ۔

صرف یہی نہیں بلکہ قرآن کی پہلی وحی کا آغاز ایسی آیت سے ہوا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے کا حکم دیا گیا سورۃ علق کی آیت 1تا 5 میں ہے کہ : پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا کیا پڑھ اور تیرا پروردگار بہت کرم کرنے والا ہے جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی انسان کو وہ باتیں بتائیں جو وہ نہیں جانتا تھا ۔

ایک اور آیت مبارکہ ہے کہ اللہ تعالی تمہارے ایمان والوں کے اور جن کو علم دیا گیا ہے درجات بلند فرمائے گا (سورۃ المجادلہ آیت نمبر 11 )

سبحان اللہ دیکھا اپنے علم کی کیا فضیلت ہے ؟ علم سے انسان کے درجات بلند ہوتے ہیں لیکن یہ علم ہم کس طرح حاصل کر سکتے ہیں ؟

بے شک علم حاصل کرنے کا سب سے آسان طریقہ مطالعہ کرنا ہے آپ کتابیں لائبریری سے حاصل کر سکتے ہیں اور دینی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے نا صرف ہمارے علم میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ دیگر مسائل سے آگاہی کے ساتھ ساتھ ہم میں تقوی و پرہیزگاری بھی پیدا ہوجاتی ہے

چلیں چند حدیث مبارکہ کا بھی ذکر خیر کرتی ہو ں

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص ایک باب کا علم دوسروں کو سکھانے کے لیے چلے اس کو ستر صدیقوں کا اجر دیا جائے گا ۔ (الترغیب والترہیب کتاب الحدیث 119 )

دیکھا آپ نے اگر آپ کسی کتاب کا مطالعہ کر کے علم حاصل کرتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں تو اس کا کتنا اجر ہے؟ ایک اور حدیث پیش خدمت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا (مسلم 253 )

امید ہے اب تو آپ کو مطالعہ کے فوائد سے آگاہی ہو گئی ہوگی

آخر میں میری آپ سب سے التجا ہے کہ آپ مطالعہ کریں اپنی دن بھر کی مصروفیات سے کچھ وقت مطالعہ میں بھی سرچ کریں یقین کریں اس سے آپ کو جتنا فائدہ ہوگا وہ کسی دوسرے کام سے نہیں ہو سکتا دس منٹ کے لئے ہی سہی لیکن مطاٍلعہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

مطالعہ کی تعریف:

لغت میں مطالعہ کا معنیٰ یہ ہے کہ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا ۔(اردو لغت ، 215/18)

جبکہ اصطلاح میں :

بذریعہ تحریر مصنف و مؤلف کی مزاد سمجھنا مطالعہ کہلاتا ہے (ابجدالعلوم 218 )

مطالعہ سے جی نہیں بھرتا : علامہ عبدالرحمن ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں مجھے یاد ہے کہ میں 6 سال کی عمر میں مدرسہ میں داخل ہوا سات سال کی ابھی عمر تھی کہ میں جامع مسجد کے سامنے میدان میں چلا جایا کرتا تھا وہاں کسی مداری یا شعبدہ باز کے حلقے میں کھڑا ہوکر تماشہ دیکھنے کے بجائے محدث کے درس میں شریک ہوتا وہ حدیث کی سیرت کی جو بات کہتے وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتی گھر آکر اس کو لکھ لیتا دوسرے لڑکے دریائے دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے اوراق لے کر کسی طرف نکل جاتا اور الگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جاتا ۔

میں اساتذہ اور بچیوں کے حلقوں میں حاضری دینے میں اس قدر جلدی کرتا کے دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی صبح شام اس طرح گزرتی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوتا (علم و علماء کی اہمیت صفحہ-28 )

آپ رحمۃ اللہ تعالی مزید فرماتے ہیں میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی جب کسی نئی کتاب پر نظر پڑ جاتی تو ایسا لگتا کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے ۔ اگر میں اپنے مطالعے کے بارے میں حق بیان کرتے ہوئے یہ کہوں کہ میں نے زمانے طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو میرا مطالعہ زیادہ ہوگا ۔مجھے ان کتابوں کے مطالعہ سے سلف کے حالات و اخلاق ان کا قوت حافظہ، ذوق عبادت اور علوم نادرہ کا ایسا علم حاصل ہوا جو ان کتابوں کے بغیر نہیں حاصل ہو سکتا تھا (قیمۃ الزمن عند العلماء صفحہ 62 )

اے عاشقان /عاشقات رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : اپنے بزرگان دین علیہم الرحمۃ دین کا جذبہ مطالعہ سماعت فرمایا گھر ہو یا مدرسہ خلوت ہو یا جلوت ان حضرات کے مطالعہ میں کمی نہیں ہوتی تھی ان کے اسی جذبے کی وجہ سے آج دنیا انہیں یاد کرتی ہے ان کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھتی اور دعائیں دیتی ہے کیونکہ علم دین کا اتنا بڑا سرمایہ ان کے ذریعے ہم تک پہنچا۔مزید ذوق مطالعہ بڑھانے کے لیے ملاحظہ فرمائیے ۔

بزرگانِ دین کے ارشادات :

حضرت سیدنا امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا حافظے کی دوا کیا ہے ؟آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کتب کا مطالعہ کرتے رہنا حافظے کی مضبوطی کے لیے بہترین دوا ہے (جامع بیان العلم ،ص ١-۵)

کسی دانا کا قول ہے :جس کی بغل میں ہر وقت کتاب نہ ہو اس کے دل میں حکمت ودانائی راسخ نہیں ہوسکتی (تعلیم المتعلم صفحہ 116 )

علماء کرام رحمھم اللہ السلام فرماتے ہیں کہ کتب فقہ مطالعہ کرنا قیام اللیل یعنی رات میں نفل نماز پڑھنے سے بہتر ہے (در مختار جلد 1 صفحہ 101 )

مطالعہ سے چونکہ علم حاصل ہوتا معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور انسان صاحب علم بنتا ہے اس لئے شیطان اسے روکتا اور سستی دلاتا ہے ۔ مطالعہ کا شوق دل میں اجاگر کرنے اس کی عادت بنانے اور اس پر استقامت پانے کے لئے مطالعہ کرنے کے چند فوائد ملاحظہ فرمائیے ۔

مطالعہ کرنے کے فائدے :

ایمان کی پختگی :

مطالعہ کرنے سے ایمان کی مضبوطی حاصل ہوتی ہے کیونکہ عقائد کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کے مطالعہ سے کئی باریکیوں کا علم ہوتا ہے اور انسان محتاط ہونے کے ساتھ ایمان کی فکر بھی ہر وقت پیش نظر رکھتا ہے

علم میں ترقی :

مطالعہ سے علم بڑھتا ہے یاد رہے کہ علم سیکھنے ہی سے آتا ہےحدیث پاک میں ہے ہے بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے ۔(کنزالایمان جلد 1 صفحہ 14 ،حدیث ٢٩٢٥٢) اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ مطالعہ بھی ہے ۔

عقل و شعور میں اضافہ :

مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزت سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی اور ذلت آتی ہے لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ اور تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہی مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے ۔

ذہنی نشاط اور تازگی : مطالعہ نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی عطا کرتا ہے جس طرح ایک اچھا دوست ہمیں پرلطف باتوں دلچسپ نکات اور حیرت میں ڈالنے والے حقائق بتا کر تروتازہ کردیتا ہے جس سے طبیعت میں ایک نئی روح اور نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح کتاب بھی ایک اچھے رفیق و ساتھی جیسا کردار ادا کرتی ہے ، افسوس دینی کتب کا مطالعہ کرنے کا شوق دم توڑتا چلا جارہا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں دینی اعتبار سے جہالت عام ہے ۔

مطالعہ کرنے کے 14عاداب:

اللہ کی رضا اور حصول ثواب کی نیت سے مطالعہ کریں

مطالعہ شروع کرنے سے پہلے حمدوصلوۃ پڑھنے کی عادت بنائیں

صبح کے وقت مطالعہ کرنا بہت مفید ہے کیونکہ عموما اس وقت نیند کا غلبہ نہیں ہوتا اور ذہن زیادہ کام کرتا ہے

شوروغل سے دور پرسکون جگہ پر بیٹھ کر مطالعہ کریں

اگر جلد بازی یا ٹینشن کی حالت میں پڑھیں گے مثلا کوئی آپ کو پکارے اور آپ پڑھے جارہے ہیں یا استنجا کی حاجت ہے اور آپ مسلسل مطالعہ کیے جا رہے ہیں ایسے وقت میں آپ کا ذہن کام نہیں کرے گا اور غلط فہمی کا امکان بڑھ جائے گا

کسی بھی ایسے انداز پر جس سے آنکھوں پر زور پڑے مثلا بہت مدھم یا زیادہ تیز روشنی میں یا چلتےچلتے یا چلتی گاڑی میں یا لیٹے لیٹے یا کتاب پر جھک کر مطالعہ کرنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہیں

کوشش کریں کہ روشنی اوپر کی جانب سے آ رہی ہوں پچھلی طرف سے آنے میں بھی حرج نہیں جبکہ تحریر پر سایہ نہ پڑھتا ہوں مگر سامنے سے آنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے

مطالعہ کرتے وقت ذہن حاضر اور طبیعت تروتازہ ہونی چاہیے

صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ زبان سے بھی پڑھیں کہ اس طرح یاد رکھنا زیادہ آسان ہے

وقفے وقفے سے آنکھوں اور گردن کی ورزش کر لیجئے کیونکہ کافی دیر تک مسلسل ایک ہی جگہ دیکھتے رہنے سے آنکھیں تھک جاتی اور بعض اوقات گردن بھی دکھ جاتی ہے

ایک بار مطالعہ کرنے سے سارا مضمون یاد رہ جانا بہت دشوار ہے فی زمانہ میں ہاضمے بھی کمزور حافظے بھی کمزور لہذا دینی کتب و رسائل کا بار بار مطالعہ کریں

اگر کوئی بات خوب غور و خوض کے بعد بھی سمجھ میں نہ آئے تو کسی اہل علم سے بے بلاجھجھک پوچھ لیجئے ،دوران مطالعہ بارہا ایسی باتیں آتی ہیں جو ہمارے لئے بالکل نئی ہوتی ہیں اور ہم انہیں یاداشت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں اس کے لیے ایک الگ رجسٹر بنانا اور مختصر الفاظ لکھ کر صفحہ نمبر کے ساتھ اس بات کو محفوظ لینا بھی فائدہ مند ہے ۔

بعض اوقات یاد کرنے والا مواد زیادہ ہوتا ہے ایسی صورت میں سب کا سب یاد کرلینا بھی ممکن نہیں ہوتا اسی طرح کبھی کسی کتاب کا مکمل مطالعہ کرکے اس مضامین کو ذہن میں محفوظ رکھنا بھی مطلوب ہوتا ہے تو اس طرح کے مواد کو یاداشت میں برقرار رکھنے کے لئے روزانہ تھوڑا تھوڑا مطالعہ کریں استقامت کے ساتھ اسے جاری رکھنا یاداشت کے لیے اہم ترین ہے (حافظہ کیسے مضبوط ہو صفحہ 17 )

امیراہلسنت اور مطالعہ :

امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ اس قدر منہمک ہو کر یعنی توجہ کے ساتھ مطالعہ فرماتے ہیں کہ بارہا یعنی کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ کتاب گھر یعنی مکتب کے اسلامی بھائیوں میں سے کوئی اسلامی بھائی کسی مسئلہ کے حل کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن مطالعہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے آپ کو اس کے آنے کی خبر نہ ہوئی اور کچھ دیر بعد اتفاق نگاہ اٹھائی تو اسلامی بھائی نے اپنا مسئلہ عرض کیا آپ نے نہ صرف خود مطالعے کا شوق رکھتے ہیں بلکہ اپنے مریدین و متوسلین محبین کو بھی دینی کتب کے مطالعہ کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں (امتحان کی تیاری کیسے کریں صفحہ-23 )

الحمداللہ عزوجل آپ دامت برکاتہم العالیہ کو کثرت مطالعہ اور اکابر علماءکرام کی وجہ سے مسائل شرعیہ اور تصوف و اخلاق پر دسترس حاصل ہے حضرت مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق بہارشریعت کے بارے مطالعہ کے لئے آپ دامت برکاتہم العالیہ کے شوق کا عالم دید ہے ۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی کے عظیم الشان مجموعہ فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کا خاص علمی شغف ہے اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب بالخصوص احیاء العلوم کو آپ اپنے زیر مطالعہ رکھتے ہیں ۔

مطالعہ کے لئے وقت :

فرض کریں ایک شخص کی عمر 65 سال ہے اور وہ اپنی تعلیم سے فارغ ہوکر پچیس سال کی عمر میں مطالعہ شروع کریں تو وہ چالیس سال مطالعہ کرے گا اور اس مدت میں وہ روز صرف بارہ منٹ میں چار صفحات کے مطالعہ کے ذریعے 57600 صفحات پڑھنے میں کامیاب ہوجائے گا اور اگر ایک کتاب کے سو صفحات شمار کریں تو ٥٧٦ کتابوں کا مطالعہ ہو جائے گا تو آپ بھی روزانہ بارہ منٹ مطالعہ کرنے کی نیت فرمالیں ۔


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

بہت ذخیرہ کتابوں کے پڑھ لینے سے بہتر ہے کہ دو لفظ سمجھ لئے جائیں اور بہت ذخیرہ پڑھ لینے سے بہتر ہے کہ دو الفاظ ہی پر عمل کر لیا جائے ۔

علم میں بھی سرور ہے لیکن

یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

(ڈاکٹر اقبال )

میں جس موضوع پر قلم اٹھانے لگی ہوں وہ ہے مطالعہ کے فوائد یہ ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک مختصر تحریر میں بیان کرنا گویا دریا کو کوزے میں بند کرنا ہے ۔

پیارے دوستو ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس پڑھنے کے لیے کتابیں موجود ہیں ورنہ دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو ترستے ہیں ان کے پاس پڑھنے کو کتابیں نہیں ہیں وہ ترستے ہیں کہ ہمیں مطالعہ کے لیے کوئی اچھی کتاب مل جائے اور ہم اپنی علم کی پیاس کو ٹھنڈا کر سکیں یہ جو وقت اللہ رب العزت نے ہمیں اور آپ کو عنایت کیا ہے تو صرف فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی منزل مقصود تک حاصل کرلیں

کامیاب وہی شخص ہے جس نے اپنی زندگی کے لمحات کو پڑھائی میں گزارا مفید مطالعہ میں گزارا ۔آئیے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ مطالعے کے کیا فوائد ہیں اس کی کیا افادیت ہے ۔

وقت کا درست استعمال :

مطالعہ کرنے سے انسان کے وقت کی حفاظت ہوتی ہے وقت کا درست استعمال کرنے والا آدمی وقت کا صحیح استعمال کرنے والا آدمی ہی کامیاب ہے اس شخص کے برعکس جو اپنے وقت کا درست استعمال نہ کر سکے اپنے جدول کو فالو نہ کر سکے جو جی میں آئے کر لے اپنا وقت برباد کرتا پھرے اپنا وقت ضائع کرے ایسا شخص کامیاب نہیں ہوسکتا کتابوں کا مطالعہ کرنے سے وقت کا درست استعمال ہوسکتا ہے ۔

مطالعہ کے ذریعے انسان دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتا ہے :

مطالعہ کی ترغیب کیوں دلائی جاتی ہے کیوں کہا جاتا ہے کہ مطالعہ ہی سب کچھ ہے کامیاب ہونا چاہتے ہو تو مطالعہ کرو حافظہ کمزور ہے تو مطالعہ کرو وقت کا درست استعمال چاہتے ہو تو مطالعہ کرو اس لئے کہا جاتا ہے کہ مطالعہ کے ذریعے آدمی دوسروں کے تجربات سے مستفید ہوتا ہے اور ان کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی سنوار سکتا ہے۔

مطالعہ کے سبب سکون قلب حاصل ہوتا ہے :

آپ یہ سوچ رہے ہونگے کہ اب دل کے سکون کے لیے مطالعے کی کیا ضرورت ہے ؟ جی ہاں تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مطالعہ سکون قلب کا سبب ہے بلکہ وہ لوگ جن کا مطالعہ مشغلہ بن چکا ہے اگر وہ مطالعہ نہ کریں تو ان کو نیند نہیں آتی کتب بینی ان کے دل کو سرور بخشتی ہے

مطالعہ کی وجہ سے انسان کے ذہن اور دماغ کو تقویت ملتی ہے :

یہاں ہمارے وہ دوست توجہ فرمائیں جو کہتے ہیں ہمیں سبق یاد نہیں ہوتا یاد کرتے ہیں بھول جاتے ہیں وہ طالب علم یہاں سے نصیحت پکڑیں اور اچھی کتابوں کے مطالعے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں ساتھ ہی ساتھ رب کے حضور دعا مانگیں پھر دیکھیں کہ یاد ہوتا ہے یا نہیں ۔

علم میں اضافے کا سبب:

مطالعہ کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ مطالعہ علم میں اضافے کا سبب ہے کتابوں کے مطالعہ سے انسان کا ذہن کھلتا ہے روز بروز اس کے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔اس کے ذہن کی گراہیں کھلتی ہیں ، علم کا جو خزانہ کتابوں میں ہے وہ پڑھنے والے کے دل و دماغ میں اس کی شخصیت میں سرایت کر جاتا ہے ۔

ایمان مضبوط ہوتا :

تلاوت نماز روزہ اور دیگر عبادات و ایمان کی مضبوطی کا سبب ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ اگر صحیح دینی کتب کا اور سنی صحیح العقیدہ عالم کے رسائل وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے جو جنت کی طرف راغب کریں جہنم سے دور کریں وہ کتاب جو انسان کو صراط مستقیم پر لے آئے وہ کتاب جو آپ کے عقائد کی درستگی کا سبب بنے وہ کتاب جو آپ کے دل و دماغ سے شکوک و شبہات کا ازالہ کرے بلاشبہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے آپ کا ایمان مضبوط ہوگا ۔

الفاظ کا ذخیرہ :

مطالعہ کرنے والے شخص کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے وہ باآسانی اپنی بات اپنی رائے مخاطب تک پہنچا سکتا ہے ۔عزت دی جاتی ہے :صحیح باعمل عالم کو عزت دی جاتی ہے لوگ اس کے پاس آ کر اپنے مسائل پوچھتے اور اپنے مسائل کے حل کی امید رکھتے ہیں اگر عالم اپنا مطالعہ جاری نہ رکھے تو یہ بات کیسے جان سکے گا کہ جدید مسائل کیا ہیں اور ان مسائل کے کیا حل نکالے جائیں گے

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں زیادہ سے زیادہ دینی کتب کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

کچھ لفظ مطالعہ کے بارے میں :

لغت میں مطالعہ کا معنی یہ لکھا ہے کہ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا ۔ مطالعہ کے اور بھی معنی ہیں جیسے غور، توجہ، دھیان وغیرہ۔ اور قاموس مترادفات میں یہ لکھا ہے ہے خوض، غور ،توجہ ، دھیان خیال مشاہدہ کتاب بینی ،کتاب خوانی ۔

جبکہ اصطلاح میں : بذریعہ تحریر مصنف یامؤلف کی مراد سمجھنا مطالعہ کہلاتا ہے ۔

مطالعہ کا موضوع اور غرض وغایت :

فن مطالعہ کا موضوع تحریر ہے اور خطا سے بچتے ہوئے غرض مصنف کو سمجھنے میں کامیابی اس فن کی غرض و غایت ہے ۔

مطالعہ اور دو دلچسپ نکتے :

لفظ مطالعہ جس لفظ سے بنا ہے علامہ غلام نصیر الدین صاحب نے اس لحاظ سے دو دلچسپ نکتے نقل فرمائے ہیں یہاں ان کا بیان فائدہ سے خالی نہ ہوگا چنانچہ موصوف رقم طراز ہیں

نکتہ اول :

مطالعہ کا مادہ طلوع سے ہے اور طلوع پردہ غیب سے عالم ظہور میں آنے کو کہتے ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے طلعت شمس یعنی سورج عالم غیب سے عالم ظہور میں نمودار ہوا اور مطالعہ باب مفاعلہ سے ہے اور مفاعلہ میں جانبین سے برابر کے علم کو کہتے ہیں اب مطالعے کا معنی یہ ہوا کہ طالب علم نے اپنی پوری توجہ کتاب کی طرف مبذول کی ادھر کتاب نے طالب علم کو اپنے فیوض و برکات سے نوازہ اور اب دونوں کے گہرے رابطے سے کام بن گیا۔

نکتہ دوم:

کسی کو بار بار دیکھا جائے تو اگرچہ وہ ناواقف ہی کیوں نہ ہو لیکن بار بار دیکھنے سے وہ سمجھتا ہے کہ شاید اس کا مجھ سے کوئی تعلق ہے وہ خود ہی اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اسی طرح طالب علم جب کتاب کو بار بار دیکھتا ہے تو کتاب کو اس کے حال پر رحم آ جاتا ہے اور وہ مطالعہ کرنے والے طالب علم سے اپنے انوار وبرکات منعکس کرنا شروع کر دیتی ہے اور اپنی خیرات و فیوضات سے اس کے دامن مراد کو بھر دیتی ہے ۔

مطالعہ کے 8 فوائد :

مطالعہ کے تمام فوائد کو احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں البتہ ان کثیر فوائد میں سے آٹھ یہاں تحریر کئے جاتے ہیں تاکہ کسی قدر مطالعہ کے لیے رغبت و تحریک پیدا کی جا سکے ۔

پہلا فائدہ ایمان کی پختگی :

مطالعہ ایمان کی مضبوطی و پختگی کا باعث ہے مگر یہ اسی وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحید و رسالت کی شمع مزید روشن ہو جائے .

فائدہ علم میں ترقی :

مطالعہ سے علم بڑھتار ہے یاد رہے کہ علم سیکھنے ہی سے آتا ہے اس کے حصول کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے حدیث شریف میں فرمایا گیا بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ مطالعہ ہے علم کی برکتیں بے شمار ہیں علم کی بدولت فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا حضرت یوسف علیہ السَّلام کو بادشاہی ملی اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خلافت الہیہ اور شفاعت کبری کا سہرا بندھا ۔

تیسرا فائدہ معرفت کا حصول :

مطالعہ معرفت حصول کا ذریعہ ہے یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مطالعہ سے آغاز کرتا ہے اور پھر کائنات کے مطالعہ (مشاہدہ) کی طرف متوجہ ہوتا اور پھر اس پر درجہ بدرجہ کائنات کے سر بستہ رازوں کے پردے کھلتے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان معرفت نفس اور جہاں سے ترقی کرتے کرتے معرفت باری تعالی کے راستوں تک رسائی حاصل کرلیتا ہے گویا مطالعہ معرفت کے لیے سیڑھی کا کام کرتا ہے ۔

چوتھا فائدہ کائنات میں غوروفکر :

مطالعہ سے کائنات میں غوروفکر کرنے کا ذہن بنتا ہے جو کبھی ایک عام انسان کو فرش کی پستی سے اٹھا کر عرش کی بلندی تک پہنچا دیتا ہے قرآن کریم اور احادیث کریمہ میں بھی اس غوروفکر کی بہت زیادہ دعوت دی گئی ہے اور جن حضرات نے اس دعوت پر لبیک کہا اور میزان عمل میں قدم رکھ دیا کائنات نے اپنے راز ان پر افشا ں کر دیئے۔

پانچواں فائدہ عقل و شعور میں اضافہ :

مطالعہ سے عقل اور شعور میں اضافہ ہوتا ہے باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزت سمجھتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی اور ذلت آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا بولنا اور کیا کرنا ہے یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول وفعل ادا کرتا ہے اور بے شعور کو سوچنے سمجھنے کی نوبت تک نہیں آتی لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہی مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے ۔

چھوٹا فائدہ دینی و دنیاوی ترقی :

مطالعہ انسان کی دینی اور دنیاوی دونوں ترقیوں کا سبب بنتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر مقاصد معین کرکے مطالعہ کیا جائے تو وہ دین اور دنیا دونوں کی ترقی سے ہمکنار کرتا ہے مگر شرط یہی ہے کہ ہر دو لحاظ سے مطالعہ کی سمت درست ہو جیسا کہ آگے آرہا ہے ۔

ساتواں فائدہ ذہنی نشاط اور تازگی :

مطالعہ انسان کی ذوق میں بالیدگی طبیعت میں نشاط نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی عطا کرتا ہے جس طرح ایک اچھا دوست ہمیں پر لطف باتوں دلچسپ نکات اور حیرت و استعجاب میں ڈالنے والے حقائق بتا کر تروتازہ کر دیتا ہے نیز جس سے ذوق طبیعت اور ذہن و دماغ میں ایک نئی روح اور نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح کتاب بھی ایک اچھے رفیق ساتھی جیسا کردار ادا کرتی ہے ۔

آٹھوں فائدہ تہذیبوں سے آگاہی:

مطالعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کی تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگاہی بخشتا ہے اسی آگاہی کے تناظر میں انسان اپنی اور دیگر تہذیبوں کا تقابل کرتا ہے اور وجہ ترجیح تلاش کرتا ہے اب یا تو اپنی تہذیب پر مزید پختہ ہو جاتا ہے یا پھر اسے خیرآباد کہہ کردوسری تہذیب کو اختیار کرلیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تحریر و تبلیغ کے ذریعے جب اسلامی خوبیوں اور اسلامی تہذیب سے روشناس ہوئے تو اپنی اپنی تہذیبوں کو ترک کرکے جوق در جوق اسلام کے دامن امن سے وابستہ ہوگئے ۔

کتابوں کا سب سے بڑا اور اولین مقصد یہی ہے کہ ان کو پڑھا جائے اور استفادہ کیا جائے وہ مصنف کے طویل مطالعہ کا نچوڑ ہوتی ہیں پڑھنے والا ان سے کم وقت میں بہت سے فوائد حاصل کرسکتا ہے ۔مثلا مطالعہ سے متعدد و متنوع افکار سے واقفیت حاصل ہوتی ہے ایک ہی مضمون کو کئی اسالیب میں اظہار کا ملکہ پیدا ہوتا ہے آدمی کی سوچ اور فکر کا دائرہ وسیع ہوتا ہے دماغی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں ۔مطالعہ کرنے سے حافظہ کو تقویت ملتی ہے ،اپنی کمزوریوں اور جہالت کا ادراک ہوتا ہے اور حصول علم کی جستجو میں مزید اضافہ ہوتا ہے ،صحیح اور غلط کی پہچان اور تنقید کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے وقت فضولیات میں ضائع ہونے سے بچا لیتا ہے ،کتابوں کے مطالعہ سے فن تخلیق کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ،کتابوں کے پڑھنے اور ورق گردانی کے بہت سارے فوائد ہیں مطالعہ انسان سے غم اور بے چینی کو دور کرتا ہے اور اس کو وقت کے ضیاع فضولیات اور گناہ و نافرمانیوں سے بچاتا ہے مطالعہ انسان پرستی اور کاہلی کو غالب آنے نہیں دیتا اور اس کی تحریری صلاحیت کو تقویت پہنچاتا ہے اور اس کی تحریرات میں شگفتگی و شائستگی اور نکھار لاتا مطالعہ انسان کے ذہنی تناؤ کو ختم کرکے اس کو پرسکون ہے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتا ہے مطالعہ انسان کے ادراک کی صلاحیت کو پروان چڑھا کر اس کے الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ کرتا ہے جن سے انسان کے تفکرات و تخیلات میں وسعت اور سوجھ بوجھ اور بصیرت کی صلاحیت کو ترقی ملتی ہے

مطالعہ انسان کو فصاحت وبلاغت کے مقام تک پہنچاتا ہے اور اس کو بلند خیالی اور بصیرت کی صفات سے آراستہ کرتا ہے ۔ مطالعہ سے اذہان کھلتے ہیں خیالات میں پاکیزگی آتی ہے اور معاملہ فہمی میں تیزی آتی ہے انسان دوسروں کے خیالات سے مستفیض ہوتا رہتا ہے اور بلند پایاں مصنفین کا ذہنی طور پر ہمسفر بن جاتا ہے ، مطالعہ انسان کو ذلت و تنزلی کا شکار ہونے سے بچاتا ہے اور عظیم المرتبت شخصیت بنا دیتا ہے ۔ڈاکٹر اقبال نے جب اپنی قوم کی مطالعہ کتب سے بے اعتنائی و دوری اور یورپ میں اپنی کتب کی حفاظت دیکھی تو درد دل کو لفظوں کا جامہ پہنایا

مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی

جو دیکھا ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سی پارہ

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا

خداوند قدوس سے دعا ہے کہ وہ ان سطور بالا کو قبولیت سے ہمکنار فرما کر ہمیں بھی اپنے اسلاف کی طرح ان سے وابستگی مطالعہ کا ذوق کتابوں سے شغف عطا فرمائے ۔آمین بجاہ نبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے۔

علمِ حاصل کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے سبب قوموں کو بلندیوں سے نوازاتا ہے اور انہیں نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایسا رہنما اور ہادی بنادیتا ہے کہ ان کی پیروی کی جاتی ہے۔

(حوالہ، کتاب قوت القلوب صفحہ ۱۰)

حصولِ علم کے لیے چار چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے،

۱۔ پڑھنا۔۲ْ۔لکھنا۔۳۔ سننا۔۴۔دیکھنا

ان سب میں بہترین ذریعہ حصولِ علم پڑھنا( مطالعہ کرنا) ہے۔ مشہور مقولہ ہے

مطالعہ کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، مطالعہ کرنے کے کثیر فوائد ہیں لیکن یہاں چند اہم فوائد کا ذکر کیا جارہا ہے۔

۱۔مطالعہ کرنے کے جس قدر اخروی فوائد ہیں اسی طرح جسمانی فوائد بھی ہیں۔

۲۔ پڑھنا، دماغ کے اندر کئی بہترین طاقتوں کو جگا دیتا ہے۔

۳۔ ایک تحقیق کے مطابق جب کوئی انسان کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو اسی وقت اس کے دماغ کا تہائی حصہ مطالعے میں مصروف ہوتا ہے۔

۴۔ کسی اچھی کتاب کو صرف 6 منٹ تک مطالعہ کرنے سے ذہنی دباؤ (Stress) ستر فيصد تک کم هوجاتا ہے۔

۵۔مطالعہ کرنے سےلغت میں بہتری آتی ہے انسان نئے الفاظ سیکھتا ہے اورانسانی فطرت ہے کہ وہ ہر نئی بات کی طرف متوجہ attract ہوتا ہے، اس لیے نئے ، دلچسپ موضوعات کا مطالعہ کرنا لغت Vocabulary ميں اضافے کا باعث ہّے۔

۶۔ جب کوئی انسان کتاب کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کا سارا دھیان صرف کتاب کے مضمون پر ہوتا ہے، دنیاوی کاموں کو وہ مطالعہ کے وقت یکسر بھول جاتا ہے، اس لیے مطالعہ کرنے سے Concantration حاصل ہوتی ہے ۔

۷۔ مطالعہ کرنے سے معلومات میں قابلِ قدر اضافہ ہوتا ہے، مطالعے سے سوچ و فکر میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔

۸۔ مطالعہ کرنا اتنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ دنیا میں لاکھوں لائبریری بنائی جاچکی ہیں اور مطالعہ کرنے کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک لائبریری جس میں ہزاروں کتابیں ہوں اور ان کتابوں میں لاکھوں الفاظ ہوں کہ وہ الفاظ شمار کرنے میں نہیں آسکیں، اب وہ الفاظ ہمارے ذہن میں آنے کا انتظار کررہے ہیں تو صرف مطالعہ کرنے کے ذریعے وہ الفاظ ہمارے ذہن میں آسکتے ہیں۔

۔مشہور کہاوت ہے۔

"چھری کو تیز کرنا ہو تو اس کو ریتی میں لگاؤ، دماغ کو تیز کرنا ہوتو کتاب پڑھو۔

اب مطالعہ کے اتنے فوائد جان کر ذہن تسلیم کرے گا کہ مطالعہ کرنا چاہیے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مطالعہ کس وقت زیادہ مفید ہے۔

وقتِ مطالعہ

ایک تحقیق کے مطابق دن میں مطالعہ کرنا رات کی بانسبت زیادہ مفید ہے اور رات کو مطالعہ کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ مناسب روشنی استعمال کریں اور نیند بھی پوری کریں۔

طریقہ مطالعہ

کسی بھی کتاب کو پڑھنے کے چار انداز ہوتے ہیں۔

۱۔ کتاب کی ہیڈنگ کو دیکھناْ

۲۔ ہیڈنگ کو سرسری طور پر اندر سے دیکھنا۔

۳۔کتاب کا جدول بنا کر مطالعہ کرنا کہ کس دن کیا مطالعہ کرنا ہے۔

۴۔ نئی، بھولنے والی، اہم چیزوںپر نشان لگانا۔

مطالعہ کے شوق کو مزید بڑھانے کے لیے ہر ہفتہ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے تحریر کیے ہوئے رسالوں کا مطالعہ کرنا مفید ہے۔


مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
132 days ago

 میٹھے اسلامی بھائیو میٹھی میٹھی اسلامی بہنوں آج میں آپ کو مطالعہ کے فوائد کے بارے میں بتاؤں گی ،کیا آپ کو معلوم ہے ؟کہ اللہ عزوجل کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ مطالعہ ہے

اللہ عزوجل کی معرفت حاصل کرنے کا عمدہ ذریعہ مطالعہ ہے

مطالعہ ایک بہترین آلہ ہے

مطالعہ ایک فن ہے

حصول علم کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے

مطالع اگر صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے تو اس کے بہترین نتائج نکلیں گے ۔

مطالعہ علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ

متاع علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے اور علم سے انسان صحیح اور غلط کی پہچان رکھتا ہے اللہ تعالی کے نزدیک علم والوں کا مرتبہ عام لوگوں سے زیادہ ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے : قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- تَرجَمۂ کنز الایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان (پارہ23 الزمر آیت 9 )

علم ایک نور ہے :

علم ایک ایسا نور اور روشنی ہے جس سے جہالت کے اندھیرے دور ہوتے ہیں اور انسان کا دل اور دماغ منور ہوتا ہے علم کے ذریعے ہی انسان نیکی اور بدی میں فرق کرتا ہے ۔انہی کے ذریعے دماغ کی پوشیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں اسی کے ذریعے ہی اللہ تعالی کی قدرت چاند اور سورج اور رات اور دن کی تبدیلی وغیرہ میں غور کرنے کی سعادت حاصل ہوتی ہے جس کا اللہ پاک نے قرآن پاک میں ذکر فرمایا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: اِنَّ  فِیْ  خَلْقِ  السَّمٰوٰتِ  وَ  الْاَرْضِ   وَ  اخْتِلَافِ  الَّیْلِ  وَ  النَّهَارِ  لَاٰیٰتٍ  لِّاُولِی  الْاَلْبَابِۚۙ(۱۹۰)

تَرجَمۂ کنز الایمان: بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے ۔ (پارہ 4، آل عمران آیت 190 )

دین کی سمجھ :

دین کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ علم ہے اور علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ دینی مطالعہ ہے اور جو علم حاصل کرنے کی جستجو رکھتا ہے علم حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے

مالک ہے خزانہ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں

دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے

(حافظہ کیسے مضبوط ہو صفحہ 152 )

موت کے بعد علم کا فائدہ : مطالعہ سے نہ صرف دنیا میں فائدہ ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی اس کے بے شمار فائدے ہیں یعنی ان کے فوائد دنیا ہی تک محدود نہیں ہیں چنانچہ حدیث پاک میں ہے کہ :جو شخص علم کی طلب میں مر جائے گا خدا عزوجل سے ملے گا اور دراں حالیہ (اس حال میں کہ) اس میں اور پیغمبروں میں درجہ نبوت (اور اس کے کمالات) کے سوا کوئی درجہ نہ ہوگا ۔ (فیضان علم و علما صفحہ12 )

حدیث بعد میں ہے کہ ! جب آدمی مرتا ہے اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزوں سے (یعنی 3 چیزوں کے علاوہ)

١۔ کوئی صدقہ جاریہ چھوڑ گیا، ٢۔ ایسا علم جس سے لوگوں کو نفع ہو ، ٣۔ لڑکا صالح (نیک اولاد) اس کے لیے دعا کریں ۔

یعنی تین چیزوں کا فائدہ مرنے کے بعد بھی باقی رہے گا (فیضان علم و علما صفحہ-20 )

کتاب بہترین دوست :--

معرفت کے حصول کا ذریعہ مطالعہ ہے اور کتاب بہترین ذریعہ ہے جسے ہم مطالعہ کرسکتے ہیں اس لیے کتاب انسان کا بہترین دوست بھی کہا جاتا ہے ۔

مطالعہ کے مزید فوائد :-

مطالعہ کا شوق ناصرف آپ کو دماغی امراض سے تحفظ دیتا ہے بلکہ ذہنی تناؤ کو بھی ختم کرتا ہے ،لوگوں سے دوستی کو مضبوط کرتا۔