1- شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامْ کی قوم کی نافرمانیاں

2- حضرت شعیب علیہ السلامکو دو قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا۔ حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ عَنْہ کا قول ہے کہ اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلامکو اصحاب ایکہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مدین کی طرف بھی ۔ اصحاب ایکہ توابر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مدین زلزلہ میں گرفتار ہوئے اور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہوگئے۔

3- آپ علیہ السلامکی قوم میں شرک کے علاوہ بھی جو گناہ عام تھے ان میں سے ایک ناپ تول میں کمی کرنا اور دوسرا لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا اور تیسرا لوگوں کو شعیب علیہ السلامسے دور کرنے کی کوششیں کرنا تھا۔ آپ علیہ السلامنے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے اور لوگوں کو ان کی اشیاء گھٹا کر دینے سے منع کیا اور زمین میں فساد کرنے سے روکا ۔

4- آپ علیہ السلامکی مدین کو تبلیغ :

5- مدین حضرت شعیب علیہ السلامکے قبیلے کا نام ہے اور ان کی بستی کا نام بھی مدین تھا۔

6- اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا : انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آگئی تو ناپ اور تول پورا پورا کرو اور لوگوں کوان کی چیزیں کم کرکے نہ دو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ۔یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان لاؤ۔

7- شعیب علیہ السلاماوراصحاب ایکہ:

8- ''ایکہ'' جھاڑی کو کہتے ہیں ان لوگوں کا شہر سرسبز جنگلوں اور ہرے بہرے درختوں کے درمیان تھا۔ اللہ پاک نے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب علیہ السلامکو بھیجا۔انہوں نے آپ کو جھٹلا دیا اورکہا اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا کر ہم کو ہلاک کردو۔ا س کے بعداس قوم پر خداوند قہار و جبار کا قاہرانہ عذاب آگیا وہ عذاب کیا تھا؟ سنئے اور عبرت حاصل کیجئے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ پاک نے ان لوگوں پر جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جس سے پوری آبادی میں شدید گرمی اور لو کی حرارت و تپش پھیل گئی اور بستی والوں کا دم گھٹنے لگا تو وہ لوگ اپنے گھروں میں گھسنے لگے اور اپنے اوپر پانی کا چھڑکاؤ کرنے لگے مگر پانی اور سایہ سے انہیں کوئی چین اور سکون نہیں ملتا تھا۔ اور گرمی کی تپش سے ان کے بدن جھلسے جارہے تھے۔ پھر اللہ پاک نے ایک بدلی بھیجی جو شامیانے کی طرح پوری بستی پر چھا گئی اور اس کے اندر ٹھنڈک اور فرحت بخش ہواتھی۔ یہ دیکھ کر سب گھروں سے نکل کر اس بدلی کے شامیانے میں آگئے جب تمام آدمی بدلی کے نیچے آگئے تو زلزلہ آیا اور آسمان سے آگ برسی۔ جس میں سب کے سب ٹڈیوں کی طرح تڑپ تڑپ کر جل گئے۔ ان لوگوں نے اپنی سرکشی سے یہ کہا تھا کہ اے شعیب! ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا کر ہم کو ہلاک کردو۔ چنانچہ وہی عذاب اس صورت میں اس سرکش قوم پر آگیا اور سب کے سب جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔(تفسیر صاوی،ج4، ص 1474،پ19، الشعرآء:189) (عجائب القرآن مع غرائب القرآن ص(348:


حضرت شعیب علیہ السلام اللہ پاک کے نبی ہیں، آپ علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے،  دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح آپ نے بھی اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی اور اللہ پاک کی وحدانیت کی گواہی دی اور اُسی کو عبادت کے لائق تسلیم کرنے کا حکم دیا، آپ کے قبیلے کا نام مدین تھا، ان کی بستی کا نام بھی مدین تھا، مدین ان کی بستی کا نام اس لئے تھا کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ایک بیٹے کی اولاد میں سے تھے، حضرت شعیب علیہ السلام ان کی قوم میں سے تھے۔

حضرت شعیب علیہ السلام کو بھی باکمال معجزات سے نوازا گیا، آپ کا ایک معجزہ یہ تھا کہ آپ نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو بکریاں تحفے میں دیں اور فرمایا کہ یہ بکریاں سفید اور سیاہ بچے جنیں گی، چنانچہ جیسے آپ علیہ السلام نے فرمایا، ویسے ہی ہوا۔

جیسے دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی قوموں نے سرکشی کی اور عذابِ الہی کے حقدار بنے، ایسے ہی یہ قوم بھی اللہ پاک کے نبی کی نافرمانی سے اللہ پاک کے عذاب میں مبتلا ہوئی، یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی اور لوگوں میں اشیاء کو کم کرکے فروخت کرتی، جس پر حضرت شعیب علیہ السلام نےان کو منع فرمایا اور اللہ پاک سے ڈرنے کا حکم دیا، جب انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کے حکم کو جھٹلایا اور اللہ پاک کی وحدانیت پر انکار کرتے ہوئے جواب دیا، جس کا قرآن پاک میں ذکر ہے:

"یعنی کیا ہم ان خداؤں کی عبادت کرنا چھوڑدیں، جن کی ہمارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں۔"(ثمود:87)

اس سے معلوم ہوا کہ انہوں نے بت پرستی کو چھوڑنے کا انکار کیا اوراور حقیقی معبود کو جھٹلایا، دوسری بات ایسے کہی:

یعنی کیا ہم مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں۔"

اس بات سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے مال کو اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرنا چاہتے تھے اور چاہے وہ اُس کو حلال طریقے سے خرچ کریں یا حرام، بھلے اس کو بڑھا کر اشیاء کو فروخت کریں۔

جب انہوں نے اللہ پاک کے حکم کو جھٹلایا تو اللہ پاک نے انہیں عذاب میں مبتلا کر دیا، جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے :

"تو انہیں شدید زلزلے نے اپنی گرفت میں لے لیا تو صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔"

اس آیت میں یوں بیان کیا گیا کہ ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے، شاید یوں ہو کہ جب زلزلہ آ رہا ہو تو پہلے چیخ کی آواز آئی ہو، حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم جو ایمان لا چکے تھے، اللہ پاک نے انہیں عذاب سے محفوظ رکھا اور بے ایمانوں کو زلزلے کی گرفت کر دیا، جس کی وجہ سے صبح ان کا شہر ویران ہوگیا اور زلزلے نے ان کی بستی کو تہس نہس کر دیا تو اللہ پاک کی نافرمانی اور رسول کے احکام کو جھٹلانے سے کیسے عذاب نازل ہوا۔

اللہ پاک ہمیں اپنی نافرمانی سے بچائے اور اللہ پاک کے تمام احکام کو پورا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین 


حضرت شعیب علیہ السلام کا مختصر تعارف:

حضرت شعیب علیہ السلام تیسرے عرب نبی ہیں، جن کا اسم گرامی قرآن پاک میں بیان ہوا ہے، آپ علیہ السلام کا نام قرآن کریم میں 11 بار ذکر ہوا ہے، اللہ پاکنے حضرت شعیب علیہ السلام کو مدین اور ایکہ کے لوگوں کی طرف بھیجا، تا کہ آپ لوگوں کو وحدانیت کی طرف ہدایت کریں اور بت پرستیوں اور دیگر برائیوں سے منع فرما ئیں۔

مدین حضرت شعیب علیہ السلام کے قبیلے کا نام ہے اور ان کی بستی کا نام بھی مدین تھا، اس بستی کا نام مدین اس لئے ہوا کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ایک بیٹے مدین کی اولاد میں سے تھے، مدین اور مصر کے درمیان اَسّی دن کی مقدار کا فاصلہ تھا۔

حضرت شعیب علیہ السلام بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں، آپ علیہ السلام کی دادی حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔(سورہ اعراف، آیت:87، تفسیر صراط الجنان)

مدین کے لوگ بت پرستی، بُرائی اور لین دین میں خیانت اور دھوکہ کیا کرتے تھے، ناپ تول میں کمی اور خرید و فروخت میں خیانت کرتے، دنیا کی محبت اور دولت اکٹھا کرنے کی خواہش میں دھوکا اور فریب جیسی برائیوں میں ملوث اور کئی طرح کی معاشرتی برائیوں میں مبتلا تھے۔

اللہ پاک نے قرآن کریم میں سورہ ھود میں حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی قوم کی نافرمانیوں کا ذکر فرمایا :

ترجمہ کنزالعرفان:"اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا، انہوں نے کہا اے میری قوم!اللہ پاک کی عبادت کرو، اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو، بے شک میں تمہیں خوش حال دیکھ رہا ہوں، بے شک مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔"(ھود:84)

حضرت شعیب علیہ السلام سارا دن وعظ فرماتے اور ساری رات نماز میں گزارتے، آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام سے کہتی کہ اس نماز سے آپ کو کیا فائدہ ہوا؟

آپ علیہ السلام فرماتے، نماز خوبیوں کا حکم دیتی اور برائیوں سے منع کرتی ہے اور اس پر وہ آپ کا مذاق اُڑاتے، جس کا ذکر اللہ پاک نے قرآن مجید کی سورہ ہود، آیت 87 میں نازل فرمایا:

ترجمہ کنزالعرفان:" قوم نے کہا:اے شعیب!کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا ؤں کے خداؤں کو چھوڑ دیں یا اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق عمل نہ کریں، واہ بھئی! تم تو بڑے عقلمند، نیک چلن ہو۔"(سورہ ھود، آیت87)

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم میں بڑے عقلمند اور نیک چلن آدمی کی حیثیت سے مشہور تھے، لیکن جب حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان میں نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کی پُوجا کے جاہلانہ طریقے کو چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے حیران ہو کر کہا کہ آپ تو بڑے عقلمند اور نیک چلن ہیں، پھر آپ ہمیں کیسے یہ حکم دے رہے ہیں کہ ہم اپنے نسل در نسل چلتے ہوئے بتوں کے طریقے کو چھوڑ دیں۔"(تفسیر کبیر،سورہ ہود، تحت الآیۃ:87، 6/387، ملخصاً)

اسی طرح سورہ عنکبوت میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:

"مدین کی طرف ان کے ہم قوم کو بھیجا تو اس نے فرمایا: اے میری قوم!اللہ کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھر و، تو انہوں نے اسے جھٹلایاتو انہیں زلزلے نے آلیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے۔(عنکبوت:36، 37)

نیز سورہ شعراء میں ارشاد فرمایا:

ترجمہ کنزالعرفان:"ایکہ جنگل والوں نے رسولوں کو جھٹلایا، جب ان سے شعیب علیہ السلام نے فرمایا: کیوں تم ڈرتے نہیں؟ بیشک میں تمہارے لئے امانتدار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور میں اس (تبلیغ) پر تم سے کچھ اُجرت نہیں مانگتا، میرا اَجر تو اسی پر ہے، جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔"(الشعراء:176، 177، 178، 179، 180)

حضرت شعیب علیہ السلام نے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور انھیں سابقہ قوم پر آئے عذابات یاد دلاتے، جس کا ذکر ربّ پاک نے سورہ ہود کی آیت نمبر 89 میں ارشاد فرمایا: ترجمہ کنزالعرفان:"اور اے میری قوم!میری مخالفت تم سے یہ نہ کروا دے کہ تم پر بھی اسی طرح کا عذاب آپہنچے، جو نوح کی قوم، ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر آیا تھا اور لوط کی قوم تو تم سے کوئی دُور بھی نہیں۔"

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم!مجھ سے تمہاری عداوت اور بغض، میرے دین کی مخالفت، تمہارے اللہ پاکسے کفر پر اصرار کرنے اور بتوں کی پوجا پر قائم رہنے، لوگوں سے ناپ تول میں کمی کرنے کو نہ چھوڑنے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں اعراض کرنے کی وجہ سے کہیں تم پر بھی ویسا ہی عذاب نازل نہ ہو جائے، جیسا حضرت نوح، حضرت ہود اور حضرت لوط علیہم السلام کی اقوام پر نازل ہوا، حضرت شعیب علیہ السلام کی ان نصیحتوں کے جواب میں قوم نے سرکشی کرتے ہوئے کہا:اے شعیب علیہ السلام!آپ ہمیں جو بھی نصیحتیں دے رہے ہیں اور ان پر جو دلائل پیش کر رہے ہیں، یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتی، نیز بیشک آپ ہمیں ہمارے درمیان کمزور نظر آتے ہیں، اگر ہم آپ کے ساتھ ظلم و زیادتی کریں تو آپ میں دفاع کرنے کی طاقت نہیں۔(تفسیر صراط الجنان، سورہ ھود، آیت:91)

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور بُرے کاموں سے دستبردار ہونے کی نصیحت پر پوری کوشش کی، لیکن ان کا طغیان اور سرکشی بڑھتی ہی گئی، ان لوگوں میں سوائے چند افراد کے کوئی ایمان نہ لایا، بلکہ انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کو طرح طرح کی اذیتیں دیں، دھمکی دی، مذاق اڑایا، کبھی آپ پر الزام لگایا، آپ کو کذّاب(جھوٹا) کہا، جو لوگ آپ علیہ السلام پر ایمان لائے، انہیں بھی ڈراتے اور دھمکیاں دیتے کہ ہم تمہیں شہر سے نکال دیں گے، مگر یہ کہ ہمارے بت پرستی کے دین پر آ جاؤ۔

ان کی یہ سرکشی او فسق قائم رہا، یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام ان کے ایمان لانے سے بالکل نا اُمید ہو گئے اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا، پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ربّ پاک سےیوں دعا فرمائی:

ترجمہ کنزالعرفان:"اے ہمارے ربّ! ہم میں اور ہماری قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔"(اعراف:89)

اس دعا کے بعد اللہ پاک نے عذاب یوم الظلہ نازل کیا۔

جبکہ سورہ ہود میں اس طرح ہے:

ترجمہ کنزالعرفان:"اور ظالموں کو خوفناک چیخ نے پکڑ لیا۔"

تفسیرابوسعود میں ہے کہ"ممکن ہے کہ زلزلے کی ابتداء اس چیخ سے ہوئی ہو، اسی لئے کسی جگہ سورہ ہود میں ہلاکت کی نسبت سببِ قریب یعنی خوفناک چیخ کی طرف کی گئی اور دوسری جگہ جیسے اس آیت میں سببِ بعیدیعنی زلزلے کی طرف کی گئی۔

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اللہ پاکنے حضرت شعیب علیہ السلام کو اصحابِ ایکہ کی طرف بھی مبعوث فرمایا تھا اور اہلِ مدین کی طرف بھی، اصحابِ ایکہ تو اَبر سے ہلاک کئے گئے اور اہلِ مدین زلزلے میں گرفتار ہوئےاور ایک ہولناک آواز سے ہلاک ہو گئے۔(خازن العراف تحت الآیۃ:91، 12/12)

جب مدین والوں پر عذاب نازل ہوا تو اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو محض اپنی رحمت اور فضل کی وجہ سے اس عذاب سے بچا لیا کہ بندے کو جو بھی نعمت ملتی ہے، وہ اللہ پاک کے فضل اور رحمت سے ملتی ہے۔

نتیجہ:اللہ پاک کے انبیاء کرام نے اپنی قوم کو شرک و بت پرستی کے ذِلت خیز اندھیرے سے نکال کر توحید پرستی کی روشنی اور نورِ ایمان سے منور کرنے کی، اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کی تمام تر کوششیں کیں، لیکن کئی قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی اور طغیانی اور سرکشی کی حدوں کو عبور کر دیا۔جس کے نتیجے میں ان پر عذابِ الٰہی کا نزول ہوا اور غضبِ پروردگار نے ان کو اپنے عقاب میں جکڑ دیا۔عذاب کی صورتیں اور ان کا سیاہ انجام مستقبل میں آنے والی اقوام کے لئے درس ِعبرت اور نشانِ خوف بن کر رہ گیا۔


حضرت شعیب علیہ السلامکی قوم کی نافرمانیاں

آپ کا نام شعیب اور احسن انداز سے بیان کرنے کی وجہ سے آپ کا لقب خطیب الانبیاء ہے اللہ پاک نے آپ کو دو قوموں کی طرف مبعوث فرمایا ایک بار اہل مدین اور دوسری بار اصحاب ایکہ کی طرف بھیجا۔

آپ کی قوموں کا تعارف

اہل مدین سے وہ شہر مراد ہے جس میں آپ کی قوم رہتی تھی

اصحاب ایکہ سے مراد سر سبز جنگل اور جھاڑیوں والے اور ان کو قرآن پاک میں اصحاب ایکہ فرمایا گیا

اہل مدین کی نافرمانیاں

حضرت شعیب علیہ السلامنے اہلِ مدین کو جب دعوتِ حق کی تبلیغ فرمائی تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا اور کفر و شرک پر اڑے رہے اہل مدین بہت سی نافرمانیاں کرتے تھے جن میں سے چند درج ذیل ہے ۔

اللہ کی وحدانیت کا انکار کرنا،شرک کرنا،بتوں کی پوجا کرنا،اہل مدین کو اللہ پاک نے بے شمار نعمتوں سے نوازا لیکن وہ شکر ادا نہ کرتے تھے،

ناپ تول میں کمی کرنا،قتل و غارت کرنا،ڈاکہ ڈالنا، لوگوں کو اذیت دینا ،حرام کام کرنا ، ظلم کرنا ان کا مشغلہ تھا ،مسلمانوں اور اہل علم پر طنز اور مذاق کرنا ان کو بیماری اور غربت کی وجہ سے عار دلانا۔

اہل ِمدین پر عذابِ الہی

حضرت شعیب علیہ السلامکی مسلسل تبلیغ کے باوجود کچھ لوگ ایمان لائے اور باقی اپنے کفر و شرک پر اڑے رہے تو ان پر اللہ کا عذاب زلزلہ اور ہولناک چیخ کے ذریعے نازل ہوا اور وہ ہلاک ہوگئے۔

اصحاب ایکہ کی نافرمانیاں

اصحاب ایکہ بھی اہلِ مدین کی طرح نافرمانیاں کرتے تھے ان کو حضرت شعیب علیہ السلامنے روکا لیکن وہ بھی اپنے کفر و شرک پر اڑے رہے ان پر بھی ایک بادل کے شامیانے کی صورت میں عذابِ الہی نازل ہوگیا۔اللہ پاک ہم سب کو گناہوں سے نفرت عطا فرمادے آمین (از سیرت الانبیاء ، باب حضرت شعیب علیہ السلام )


اللہ پاک نے قومِ لوط کے واقعہ کے بعد سورۂ اعراف میں فرمایا:حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:"اے قوم!دیکھو تو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہوں اور اس نے وہاں سے مجھے نیک روزی دی ہو(تو کیا میں اس کے خلاف کروں گا) اور میں نہیں چاہتا کہ جس اَمر سے  میں تمہیں منع کروںاور خود اس کو کرنے لگون، میں تو جہاں تک مجھ سے ہوسکے (تمہاری معاملات کی اصلاح چاہتا ہوں اور اس بارے میں)مجھے توفیق کا ملنا خداہی کے فضل سے ہے، میں اسی پر بھر وسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور اے میری قوم میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرا دے کہ جیسی نوح علیہ السلام کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر واقع ہوئی تھی، ویسی مصیبت تم پر واقع ہو پھر(انہوں نے کہا اے شعیب علیہ السلام تمہاری بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہم میں کمزور بھی ہو اور اگر تمہارے بھائی بہن نہ ہوتے تو ہم تم کو سنگسار کر دیتے اور تم ہم پر(کسی طرح) غالب نہیں ہو، حضرت شعیب نے فرمایا:(اے قوم! کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر خدا سے زیادہ اور اس کو ہم نے پیٹھ پیچھے ڈال رکھا، میرا ربّ تو تمہارے سب اعمال پر احاطہ کئے ہوئے ہے اور اے میری قوم اپنی جگہ کام کئے جاؤ، اپنی جگہ کام کئے جاتا ہوں، تم کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ رُسوا کرنے والا عذاب کس پر آتا ہے اور جھوٹا کون ہے اور تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں اور جب میرا حکم آ پہنچا تو ہم نے شعیب کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو تواپنی رحمت سے بچا لیا اور جو ظالم تھے ان کو پچھاڑنے آدبوچا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے، گویا ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔


قوم شعیب علیہ السلامکی نافرمانیاں

حضرت شعیب علیہ السلامکا تعارف: آپ علیہ السلامکا اسم گرامی شعیب ہے، آپ اللہ پاک کے برگزیدہ رسول حضرت موسیٰ علیہ السلامجیسے جلیل القدر پیغمبر کے صہری والد اور حضرت ابراہیم علیہ السلامکی نسل میں سے تھے آپ مدین شہر میں رہتے تھے۔

حسن بیان کی وجہ سے آپ کو خطیب الانبیاء کہا جاتا ہے امام ترمذی لکھتے ہیں حضور پر نور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب حضرت شعیب علیہ السلامکا تذکرہ فرماتے تو فرماتے وہ خطیب الانبیاء تھے کیوں کہ انہوں نے اپنی قوم کو انتہائی احسن طریقہ سے دعوت دی اور دعوت دینے میں لطف و مہربانی اور نرمی کو بطور خاص پیش نظر رکھا اللہ پاک نے آپ کو دو قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا (1) اہل مدین (2) اصحاب الایکہ

اہل مدین کا تعارف: مدین حضرت شعیب علیہ السلامکے قبیلے کا نام ہے اور ان کی بستی کا نام بھی مدین تھا اس بستی کا نام مدین اس لئے ہوا کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلامکی اولاد سے ایک بیٹے مدین کی اولاد میں سے تھے اس بستی کی طرف حضرت شعیب علیہ السلامکو رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔

اصحاب ایکہ کا تعارف: جنگل اور جھاڑی کو ایکہ کہتے ہیں ان لوگوں کا شہر چونکہ سر سبز جنگلوں اور مرغزاروں کے درمیان تھا اس لیے انہیں قرآن پاک میں اصحب الایکہ یعنی جھاڑی والے فرمایا گیا یہ شہر مدین کے قریب واقع تھا اور اس کے لوگ حضرت شعیب علیہ السلامکی قوم سے تعلق نہ رکھتے تھے۔

اہلِ مدین اور اصحابِ ایکہ کی نا فرمانیاں: اہل مدین اور اصحاب ایکہ دونوں قومیں چونکہ بین الاقوامی شاہراہ کے قرب و جوار میں آباد اور تجارت پیشہ تھیں اس لئے دونوں ایک ہی طرح کی نافرمانیوں میں مبتلاتھی ان قوموں کی نافرمانیوں کی طویل فہرست ہے جن میں 18یہ ہیں:

1اللہ پاک کی وحدانیت کا انکار کرنا2بتوں کی پوجا کرنا 3نعمتوں کی ناشکری کرنا4ناپ تول میں کمی کرنا5لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا

6قتل و غارت گری اور دیگر گناہوں کے ذریعے زمین میں فساد کرنا7ڈاکے ڈال کر لوگوں کا مال لوٹ لینا 8، 9لوگوں کو اذیت دینے کے لئے راستوں میں بیٹھنا اور جس چیز کو دیکھنا ان کے لئے حلال نہیں اسے دیکھنا10 غریبوں پر ظلم کرنا11 درہم و دینار بنا کر انہیں کسی غرض صحیح کے بغیر توڑ دینا12 تا 16 مسلمانوں کا مذاق اڑانا،نماز پڑھنے والوں اور اہل علم پر طنز کرنا، انہیں جبری احکام دینا، ان پر اپنی بڑائی جتانا اور انہیں حقیر جاننا17 بیماری اور غربت کی وجہ سے عار دلانا18 لوگوں کو حضرت شعیب علیہ السلامسے دور کرنے کی کوششیں کرنا۔

محترم قارئین اہلِ مدین اور اصحابِ ایکہ کفر و شرک کے علاوہ جس بنیادی گناہ کے سبب رسوائے زمانہ ہوئے وہ ناپ تول میں کمی کرنا تھا اور انتہائی افسوس کے یہی گناہ فی زمانہ ہمارے معاشرے کا بھی ایک ناسور بن چکا ہے جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔اللہ پاک ہمیں ناپ تول میں کمی کرنے سے محفوظ فرمائے۔ 


حضرت شعیب علیہ السلامکا نام و لقب

آپ علیہ السلامکا مبارک نام شعیب ہے اور حُسنِ بیان کی وجہ سے آپ کو خطیب الانبیاء کہا جاتا ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب حضرت شعیب علیہ السلامکا تذکرہ کرتے تو فرماتے وہ خطیب الانبیاء تھے کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو انتہائی احسن طریقے سے دعوت دی اور دعوت دینے میں لطف اور مہربانی اور نرمی کو بطور خاص پیشِ نظر رکھا۔

انعامات الہی:

نبوت و رسالت وہ انعام ِالہی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اللہ پاک نے حضرتِ شعیب علیہ السلامکو اس عظیم انعام سےمشرف فرمایا، معجزات سے نوازا اور اپنی رحمت سے آپ علیہ السلاماور اہل ایمان کو دنیوی عذاب سے محفوظ رکھا۔ اللہ پاک نے آپ علیہ السلامکو دو قوموں کی طرف مبعوث فرمایا، (1) اہلِ مدین (2) اصحابُ الایکہ۔

آپ علیہ السلامکے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلامنے حضرت موسیٰ علیہ السلامکو بکریاں تحفے میں دے کر فرمایا کہ یہ بکریاں سفید اور سیاہ بچے جنیں گی چنانچہ جیسے آپ نے فرمایا تھا ویسے ہی ہوا۔ قرآن کریم میں آپ علیہ السلامکی دو شہزادیوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں سے ایک کا نکاح حضرت موسیٰ علیہ السلامکے ساتھ ہوا۔ (کتاب سیرت الانبیاء ص 505)

اہلِ مدین کا تعارف

مدین حضرت شعیب علیہ السلامکی بستی کا نام تھا اور بستی کا نام مدین اس لیے ہوا کہ یہ لوگ حضرت ابرہیم علیہ السلامکی اولاد سے ایک بیٹے کی اولاد سے تھے۔ اہل مدین بہت سے گناہوں اور جرائم میں مبتلا تھے جس میں سے چند یہ ہیں :

(1) بتوں کی پوجا کرنا (2) ناپ تول میں کمی کرنا (3) نا شکری کرنا (4) لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا (5) مسلمانوں کا مذاق اڑانا۔ (کتاب سیرت الانبیاء ص 507)۔

قوم کو عذاب الٰہی سے ڈرا کر نصیحت:

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍؕ-وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ(۸۹) وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ(۹۰)

ترجمہ کنزالایمان: اور اے میری قوم تمہیں میری ضد یہ نہ کموادے(برا کام کروا دے) کہ تم پر پڑے جو پڑا تھا نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر اور لوط کی قوم تو کچھ تم سے دور نہیں اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ بےشک میرا رب مہربان محبت والا ہے۔ (پ12،سورہ ہود، آیت 89، 90)

قوم کی ہٹ دھرمی اور دھمکی:

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًاۚ-وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ٘-وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: بولے اے شعیب ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بےشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں ( پ12،سورہ ہود: 91)

حضرت شعیب علیہ السلامکی دعا:

جب حضرت شعیب علیہ السلامکو قوم کے ایمان لانے کی امید نہ رہی تو آپ علیہ السلامنے یوں دعا فرمائی

رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ(۸۹)

ترجمہ کنزالایمان: اے رب ہمارے ہم میں اور ہماری قوم میں حق فیصلہ کر اور تیرا فیصلہ سب سے بہتر۔ (پ9، اعراف آیت 89)

اللہ پاک نے حضرت شعیب علیہ السلامکی دعا قبول فرمائی۔

سورۃ العنکبوت کی آیت 36,37 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ان لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلامکو جھٹلایا اور اپنے فساد سے باز نہ آئے توانہیں زلزلے کی صورت میں اللہ پاک کے عذاب نے آ لیا یہاں تک کہ ان کے گھر ا ن کے اوپر گر گئے اور صبح تک انکا حال یہ ہو گیا کہ وہ اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بَل مردے بے جان پڑے رہ گئے۔

تفسیر صراط الجنان

اصحابِ الایکہ کو تبلیغ اور نزولِ عذاب:

مدین کے قریب ہی سرسبز جنگلوں اور مَرغزاروں کے درمیان ایک دوسرا شہر موجود تھا، یہاں رہنے والوں کا تذکرہ قرآن مجید میں اصحابِ اَیکہ یعنی جنگل والوں کے نام سے کیا گیا ہے۔

حضرت شعیب علیہ السلام اپنی اس قوم کو بھی نرمی کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتے اورفرماتے کہ ناپ تول کو گھٹانے والوں میں سے نہ ہو جاؤ، اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اس پر آپ کی قوم نے کہا کہ ہم آپ کو جھوٹوں میں سے سمجھتے ہیں۔ تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گِرا دو اگر تم سچے ہو اور آپ علیہ السلامکو جھٹلا دیا۔

پھر ان پر عذاب الہٰی نازل ہو گیا اور ان لوگوں پر جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا جس سے پوری آبادی میں شدید گرمی اور لو کی حرارت و تپش پھیل گئی اور شہر والوں کا دَم گھٹنے لگا۔ پھر اللہ پاک نے بادل کا ایک ٹکڑا بھیجا جو شامیانے کی طرح پوری بستی پر چھا گیا اور اس کے اندر ٹھنڈک اور فرحت بخش ہواتھی۔ یہ دیکھ کر سب گھروں سے نکل کر اس بادل کے شامیانے میں آ گئے تو اچانک زلزلہ آیا اور اس بادل سے آگ برسنے لگی جس میں سب ٹڈیوں کی طرح تڑپ تڑپ کر جل گئے۔

ان لوگوں میں اپنی سرکشی سے کہا تھا کہ "اے شعیب! ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گِرا دو" اس لئے وہی عذاب اس صورت میں اُس سرکش قوم ہر آگیا اور سب کے سب جَل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔(کتاب سیرت الانبیاء، ص 523)


حضرت شعیب علیہ السلام کے قبیلے کا نام مدین ہے۔(پارہ 7،  آیت نمبر 58)

حضرت شعیب علیہ السلام کے قوم کے متکبر سردار اُن کی نصیحتیں سن کر کہنے لگے:اے شعیب!ہم قسم کھاتے ہیں کہ ہم ضرور تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے، اِن کی قوم کے سرداروں کی بے ادبی اِن کی ہلاکت کا سبب بنی، کافر سرداروں نے حضرت شعیب علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا:"کہ تم ہمارے دین میں لوٹ آؤ۔"

کافروں نے عوام کو شک و شبہ میں ڈالنے کے لئے اِس طرح کلام کیا، تا کہ لوگ یہ سمجھیں کہ آپ علیہ السلام پہلے ان کے دین و مذہب پر ہی تھے۔(پارہ 7، آیت نمبر 88)

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کا جواب سُن کر اِن سے فرمایا تھا کہ :"کیا ہم تمہارے دین میں آئیں، اگرچہ ہم سے بیزار ہوں؟اس پر انہوں نے کہا:ہاں، اس پر آپ علیہ السلام نے کہا:اللہ پاک نے تمہارے باطل دین سے ہمیں بچا ہوا ہے اور تمہارے باطل دین کے فساد کا علم دے کر مجھے شروع سے ہی کُفر سے دور رکھا۔" جب حضرت شعیب علیہ السلام کو اپنی قوم کے ایمان لانے کی اُمید نہ رہی تو آپ علیہ السلام نے یوں دعا فرمائی:اے ہمارے ربّ! ہم میں اور ہماری قوم میں حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔"(پارہ 7، آیت 89)

جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی گمراہی اپنی انتہا کو پہنچ گئی اور ہر طرح سے سمجھانے کے باوجود بھی یہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو ان پر اللہ پا ک کا عذاب نازل ہوا۔(پارہ 7، آیت 91)

حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا تو آپ علیہ السلام نے ان سے منہ پھیر لیا اور قوم کی ہلاکت کے بعد جب آپ ان کی بے جان نعشوں پر گزرے تو ان سے فرمایا:"اے میری قوم!بے شک میں نے تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچا دیئے تھے۔"


قوم شعیب کی نافرمانیاں

بحیرہ احمر کے کنارے ملک اردن کے قریب مدین کے رہنے والوں کو اللہ پاک نے بڑی نعمتیں عطافرمائی تھیں ۔ اللہ پاک نے انہیں گھنے باغات اور جنگلات عطا فرمائےتھے اسی لئے یہ قوم "أصحاب الایکہ "( جنگل والے ) بھی کہلاتی ہے ۔ اللہ پاک نے ان کی تجارت میں بھی برکت رکھی تھی۔ لیکن اس قوم نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے بہت زیادہ ناشکری کی۔ نفع ملنے کے باوجود ناپ تول میں بے ایمانی کرنے لگے ۔ سامان تول کر دیتے ہوئے کمی کرتے اور لیتے ہوئے حق سے زیادہ لینے کی کو شش کر تے ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ تجارتی قافلوں کو لوٹ کر ان کامال بھی چھین لیتے تھے ۔اللہ نے ان لوگوں کو سید ھاراستہ دکھانے کے لئے انہی میں سے حضرت شعیب علیہ السلامکو رسول بنایا۔ حضرت شعیب علیہ السلامکو اپنی قوم کی ان نافرمانیوں پر شدید غم تھا۔ لیکن قوم نے ان کا مذاق اڑایا اور کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ تم بڑے سمجھ دار ہو۔ کیا تمہاری نماز تم کو یہی سکھاتی ہے کہ ہم ان بتوں کی پوجا چھوڑ دیں جنہیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں ؟ کیا ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی بھی نہ چلائیں؟ حضرت شعیب نے قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ۔ آپ علیہ السلامنے ان سے فرمایا کہیں ایسانہ ہو کہ تمہارے برے اعمال کی وجہ سے تم پر بھی ہولناک عذاب آجائے۔ یاد رکھو تم سے پہلے قوم نوح قوم ثمود اور قوم لوط پر آیا تھا۔ قوم نے کہا کہ اگر ہمیں تمہارے قبیلہ کا خیال نہ ہو تا تو تم کو ہلاک کر دیتے ۔ حضرت شعیب علیہ السلامنے فرمایا کہ تمہیں میرے قبیلہ کا اللہ سے زیادہ لحاظ ہے اور تم اللہ کو بالکل بھلا چکے ہو۔یہ بگڑی ہوئی قوم جب باز نہ آئی تو اللہ نے عذاب کو ( بادل کے سایہ کی شکل میں ان کی طرف بھیجا۔ لوگ اسے اپنی طرف آتاہوادیکھ کر خوشیاں منانے لگے ۔ وہ خوش تھے کہ اب بارش ہو گی ، گرمی دور ہو جائے گی باغات ہرے بھرے ہو جائیں گے ۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ ( بادل کا سایہ اللہ کی رحمت نہیں بلکہ اس کا عذاب لارہا ہے ۔ چنانچہ ایک زور دار چیخ اور زلزلہ نے ان نافرمانوں کو ہلاک کر دیا۔ ان کی بستیاں ایسے ہو گئیں جیسے کبھی یہ لوگ یہاں ہی نہ تھے۔ اللہ نے حضرت شعیب اور ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے بچالیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ

ا۔ حضرت شعیب علیہ السلامنے اپنی قوم کو صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔( پ12، ہود 93 تا95، پ19، الشعراء: 189) ہمیں گناہوں پر اللہ سے معافی مانگنی چاہیئے اور اس کی نافرمانی چھوڑ کر فرماں برداری اختیار کرنی چاہیے۔ (پ12، ہود:90 ) ناپ تول میں کمی کر نا اور لوگوں کو نقصان پہنچانا اللہ کو پسند نہیں ہے ۔ (پ8، الاعراف:85، پ12، ہود:85،84 ) ناپ تول میں کمی کرنے اور لوگوں کو ان کی چیز میں کم کر کے دینے سے زمین میں فساد اور بگاڑ پید اہو تا ہے۔ (پ8، الاعراف: 85، پ12،ہود :85، پ19، الشعراء:181 تا 183 ) 4۔ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا اور دین میں ٹیڑھ تلاش کرنا گناہ کے کام ہیں۔ (پ8،الاعراف:82 ) 5- رسولوں کی بات نہیں ماننے والے نقصان اٹھاتے ہیں۔ (پ8-9،الاعراف:90،82 )اہل ایمان کو مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ اللہ فرماں بر داروں اور نافرمانوں کے در میان فیصلہ فرمادیتا ہے۔ (پ8-9،الاعراف:89،87 ، پ12،ہود:92، 93) برے لوگ چاہتے ہیں کہ اچھے لوگ بھی برائی اختیار کر لیں۔ ہمیں برے لوگوں کی بات نہیں ماننی چاہئے (پ9،الاعراف:89،88 ) مال ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے ۔ اسے اللہ کی مرضی کے مطابق کمانا اور خرچ کرنا چاہیے۔ (پ12،ہود:88،87 ) ۔ ہمیں نافرمان قوموں کے برے انجام سے سبق سیکھ کر نافرمانی سے بچناچاہئے۔ (پ9،الاعراف: 92،91،پ12، ہود:95،89،پ19، الشعراء:189،190)


درود شریف کی فضیلت:

مصطفی جان رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد حمد و ثناء و درود شریف پڑھنے والے سے فرمایا:"دعا مانگ قبول کی جائے گی، سوال کر دیا جائے گا۔"

خاصیت:

اللہ پاک نے مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب علیہ السلام کو بھیجا، مدین حضرت شعیب کے قبیلے کا نام ہے اور ان کی بستی کا نام بھی مدین تھا، اس بستی کا نام مدین اس لئے ہوا کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ایک بیٹے مدین کی اولاد میں سے تھے۔

مدین اور مصر کے درمیان اَسّی دن کے سفر کی مقدار برابر فاصلہ تھا، حضرت شعیب بھی حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے، آپ علیہ السلام کی دادی حضرت لوط کی بیٹی تھیں، حضرت شعیب اہلِ مدین کے ہم قوم تھے اور آپ علیہ السلام انبیاء بنی اسرائیل میں سے نہ تھے۔

پیشہ:

آپ علیہ السلام کی قوم ناپ تول کا پیشہ کرتی تھی۔

نافرمانیاں:

1۔حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں شرک کے علاوہ بھی جو گناہ عام تھے، ان میں سے ایک ناپ تول میں کمی کرنا ہے۔

2۔دوسرا یہ کہ یہ قوم لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے دیتی تھی۔

3۔یہ قوم لوگوں کو حضرت شعیب سے دور کرنے کی کوششیں کرتی۔

4۔یہ قوم زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد پھیلانے والے تھے۔

5۔یہ لوگ مدین کے راستہ پر بیٹھ جاتے تھے اور ہر راہ گیر سے کہتے تھے کہ مدین شہر میں ایک جادوگر ہے، یہ بھی کہا گیا کہ ان کےبعض لوگ مسافروں پر ڈکیتیاں ڈالتے تھے۔حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی کرنے اور لوگوں کو ان کی اشیاء گھٹا دینے سے منع کیا اور زمین میں فساد کرنے سے روکا، کیونکہ اس بستی میں اللہ پاک کے نبی تشریف لے آئے اور انہوں نے نبوت کے احکام بیان فرما دیئے تو یہ بستی کی اصلاح کا سب سے قوی ذریعہ ہے، لہذا اب تم کو کفروگناہ کر کے فساد برپا نہ کرو۔اس سے پتہ چلا کہ بعض احکام کے کفار بھی مکلف ہیں، کیونکہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی کافر قوم کے لوگوں کو ناپ تول درست کرنے کا حکم دیا اور نہ ماننے پر عذابِ الہی آ گیا، قیامت میں کافروں کو نماز چھوڑنے پر بھی عذاب ہوگا۔اللہ پاک ہمیں نمازوں کی پابندی کرنے اور اپنی نافرمانی کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


اہلِ مدین کی نافرمانیاں:

مدین سے مراد وہ شہر ہے، جس میں رہنے والوں کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا۔

اہلِ مدین کے گناہوں اور جرائم و نافرمانیوں کی ایک طویل فہرست ہے، ان میں سے15 گنا ہ یہ ہیں:

1۔اللہ پاک کی وحدانیت کا انکار کرنا۔

2۔بتوں کی پوجا کرنا۔

3۔نعمتوں کی ناشکری کرنا۔

4۔ناپ تول میں کمی کرنا۔

5۔لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے دینا۔

6۔قتل و غارت گری اور دیگر گناہوں کے ذریعے زمین میں فساد کرنا۔

7۔ڈاکے ڈال کر لوگوں کا مال لوٹ لینا۔

8۔لوگوں کو اذیت دینے کے لئے راستوں میں بیٹھنا اور (9)جس چیز کو دیکھنا ان کے لئے حلال نہیں، اسے دیکھنا۔

10۔غریبوں پر ظلم کرنا۔

11۔درہم ودینار بنا کر انہیں کسی صحیح غرض کے بغیر توڑ پھوڑ دینا۔

12۔مسلمانوں کا مذاق اڑانا۔

13۔نماز پڑھنے والوں اور اہلِ علم پر طنز کرنا، انہیں جبری احکام دینا، ان پر اپنی بڑائی جتانا اور انہیں حقیر جاننا۔

14۔بیماری اور غربت کی وجہ سے عار دلانا۔

15۔لوگوں کو حضرت شعیب سے دور کرنے کی کوشش کرنا۔

محفوظ سدا رکھنا شہا! بے اَدَبوں سے

اور مجھ سے بھی سرزَد نہ کبھی بے اَدَ بی ہو


حضرت شعیب علیہ السلامکی قوم کی نافرمانیاں

*حضرت شعیب علیہ السلامکا تعارف:

آپ علیہ السلامکا نام، "شعیب" ہے- اور حسن بیان کی وجہ سے آپ کو، "خطیب الانبیاء" کہا جاتا ہے –

شعیب علیہ السلامکی بعثت

اللہ پاک نے آپ علیہ السلامکو دوقوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا –

١)اہل مدین

٢)اصحاب الایکہ

١)قوم مدین کا تعارف اور نافرمانیاں :-

یہاں مدین سے مراد وہ شہر ہے جس میں رہنے والوں کی طرف حضرت شعیب علیہ السلامکو رسول بنا کر بھیجا گیا – تاکہ آپ علیہ السلامانہیں توحید ورسا لت پر ایمان لانے، ناپ تول میں کمی نہ کرنے اور دیگر گناہوں سےبچنے کی دعوت دے کر راہِ راست پر لائیں – پر قوم مدین مسلسل نافرمانیاں کرتی رہی گناہوں سے باز نہ آئی حضرت شعیب علیہ السلاماپنی قوم کوعذاب الٰہى سے ڈراتے اور اللہ پاک کی نافرمانیوں سے روکتے – اور اپنی قوم کوبتا تےکہ پچھلے قوموں کی نافرمانیاں کرنے کی وجہ سے اللہ پاک نے ان پر کیسے عذاب نازل فرمائے، اور کہتے کہ بیشک میرا رب اپنے ان بندوں پر بڑا مہربان ہے جو توبہ و استغفار کرتے ہیں – اور اہل ایمان سے محبت فرماتے ہیں –

پر وہ سرکش قوم نافرمانیاں کرنے سے باز نہیں آرہی تھی – تب اللہ پاک نے اس قوم کی ہولناک چیخ اور زلزلے کے عذاب سے گرفت فرمائی اور یہ قوم ہلاک ہو گئ۔

قوم مدین کے گناہ اور نا فرمانیاں :

اہل مدین کے گناہوں اور جرائم کی ایک طویل فہرست ہے – ان میں سے چند گناہ یہ ہیں

١)اللہ کی وحدانیت کا انکار کر نا –٢)بتو ں کی پوجا کرنا –٣)نعمتوں کی ناشکری کرنا ٤)ناپ تول میں کمی کرنا-٥)لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے دینا-٦)قتل وغارت گری اور دیگر گناہوں کے ذریعے زمین میں فساد کرنا-٧)ڈاکے ڈال کر لوگوں کامال لوٹ لینا-٨)غریبوں پر ظلم کرنا –

٩)مسلمانوں کا مذاق اڑانا-١٠)نماز پڑھنے والوں اور اہل علم پر طنز کرنا-١١)لوگوں کو شعیب علیہ السلامسے دور کرنا –اور پھر اللہ پاک نے آپ علیہ السلامکو دوسری قوم کی طرف بھیجا "اصحاب الایکہ "

اصحاب الایکہ قوم کا تعارف اور نافرمانیاں :

جنگل اور جھاڑ کو ایکہ کہتے ہیں ان لوگوں کا شہر چونکہ سرسبز جنگلوں اور مرغزاروں کے درمیان تھا اس لئے انہیں قرآن پاک میں "اصحاب الایکہ " یعنی جھاڑی والے فرمایا گیا – اہل مدین اور اصحاب الایکہ دونوں قومیں چونکہ بین الاقوامی شاہراہ کے قرب و جوارمیں آباد تجارت پیشہ تھیں اور اس لیے دونوں قومیں ایک ہی طرح کے گناہوں میں مبتلاتھی –

جیسے:-

کفر و شرک کے علاوہ ناپ تول میں کمی کرناتھا-

یہ قوم بھی اہل مدین کی طرح اللہ پاک کی نافرمانیاں اور دیگر گناہوں سے باز نہیں آئی آپ علیہ السلامنے اس قوم کو بھی ایمان کی دعوت دی پر یہ قوم آپ علیہ السلامکو جھوٹا کہتی اور اس قوم کے لوگ آپ علیہ السلامکو کہتے ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرادو اگر تم سچے ہو – جب اصحاب الایکہ کسی طرح بھی ایمان نہیں لائے اور اپنی بداعما لیوں کو ترجیح دی تو اللہ پاک نے اس قوم پر عذاب نازل فرما دیا یعنی بادل کا ایک ٹکڑا بھیجا جو شامیانے کی طرح پوری بستی پر چھا گیا اور اس کے اندر ٹھنڈک اور فرحت بخش ہواتھی – یہ دیکھ کر سب گھروں سے نکل کر اس بادل کے شامیانے میں آگئے جب تمام لوگ اس کے نیچے آگئے تو اچانک زلزلہ آیا اور اس بادل سے آگ برسنے لگی جس میں سب کے سب ٹڈیوں کی طرح تڑپ تڑپ کر جل گئے،ان لوگوں نے چونکہ کہا تھا کے اے شعیب ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دواس لئےوہی عذاب اس صورت میں اس سرکش قوم پر آگیا اور سب جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے-

اہم باتیں ملا حظہ ہو:-اہلِ مدین اور اصحاب الایکہ کفر و شرک کے علاوہ جس بنیادی گناہ کے سبب مبتلا ئے عذاب اور رسوائے زمانہ ہوئے وہ ناپ تول میں کمی کرنا تھا –انتہائی افسوس کہ یہی گناہ فی زمانہ ہمارے معاشرے کا بھی ایک ناسور بن چکا ہے - جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے ۔

{سیرت الانبیاء کتاب}(صفحہ نمبر :504 )