درود شریف کی فضیلت:حضور نبیِ رحمت، شفیعِ اُمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:" قیامت کے روز اللہ کریم کے عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، تین شخص اللہ کریم کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ایک وہ شخص جو میرے اُمتی کی پریشانی دور کرے، دوسرا میری سنت کو زندہ کرنے والا، تیسرا مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھنے والا۔"

بد شگونی کی تعریف:

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے "مکتبۃ المدینہ" کی مطبوعہ 128 افراد پر مشتمل کتاب"بدشگونی" صفحہ 10 پر ہے: شگون کا معنی ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز، شخص، عمل یا آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اسی وجہ سے برا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں۔

شگون کی قسمیں:

بنیادی طور پر شگون کی دو قسمیں ہیں:1۔برا شگون لینا، 2۔اچھا شگون لینا

علامہ محمد بن احمد الانصاری القرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیرِ قرطبی میں نقل کرتے ہیں:اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے، شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے، انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پایۂ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سنے، تو اس کی طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔(الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، پارہ 26، الاحقاف تحت الآیۃ4، ج8، جزء16، ص132)

آیت مبارکہ:

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: فَاِذَا جَآءَتْہمُ الْحَسَنَۃ قَالُوْا لَنَا ہٰذِہٖ ۚ-وَ اِنْ تُصِبْہمْ سَیِّئَۃ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَہؕ-اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُہمْ عِنْدَ اللّٰہ وَ لٰکنَّ اَکثَرَہمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔

ترجمہ کنزالایمان:"تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے ہیں، یہ ہمارے لئے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسٰی اور اس کے ساتھ والوں سے بد شگونی لیتے، سن لو اس کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے، لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں۔"

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃاللہ علیہ اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں:"جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت آتی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بدشگونی لیتے تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہر ہوئے ہیں، تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے لگیں۔"

حدیث مبارکہ:

آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:ترجمہ "جس نے بد شگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔"(المعجم الکبیر18/162، حدیث355)

حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یااچھا شگون لینا مستحب ہے۔"مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:"اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے، بدفالی بدشگونی لینا حرام ہے۔"

عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں:

مکتبۃ المدینہ کی کتاب بدشگونی کے صفحہ 16 پر لکھا ہے:

1۔نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہو جائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوں، تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔

2۔حاملہ عورت کو میت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔

3۔جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں۔

4۔سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چھُری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹا ہوا ہو گا۔

5۔خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ہوتی ہے اور جب بادلوں میں بجلی کڑک رہی ہو اور سب سے بڑا بچہ باہر نکلے تو بجلی اس پر گر جائے گی۔


بد شگونی کی تعریف:

شگون کا معنیٰ ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، (اسی وجہ سے برا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں)۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 21)

کسی شخص، جگہ، چیز یا وقت کو منحوس جانے کا اِسلام میں کوئی تصور نہیں، یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں، کسی شخص یا چیز کو منحوس قرار دینا مسلمانوں کا شیوہ نہیں، غیر مسلموں کا پُرانا طریقہ ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیوں کے ساتھ ساتھ ایک برائی بدشگونی لینا رائج ہے۔

اسی مناسبت سے عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں بیان کی جاتی ہیں:

1۔حاملہ عورت کو میّت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔(بدشگونی، ص17)

2۔جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں۔(بدشگونی، ص17)

3۔سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چُھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا، اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹا یا چِرا ہوا ہوگا۔(بدشگونی، ص18)

4۔نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہو جائے، اس عورت کو منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔(بدشگونی، ص17)

5۔مہمان کی رُخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو عورتیں منحوس خیال کرتی ہیں۔(بدشگونی، ص18)

بدشگونی کا حکم:

آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان:"جس نے بد شگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔"

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:"اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے، بد فالی، بد شگونی لینا حرام ہے۔"(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 286)


عورتوں میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں

شگون کامعنی ہیں ” فال لینا “ یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اس کی دو قسمیں ہیں:1۔برا شگون لینا، 2۔اچھا شگون لینا۔

اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیاہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سُن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے، جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے۔(بد شگونی،ص 10)

حضرت امام محمد آفندی رومی بِرکلی رحمۃُ اللہِ علیہالطریقۃ المحمدیہ میں لکھتے ہیں:بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔(الطریقۃ المحمدیہ، 2/17، 24، بدشگونی صفحہ12)

جہاں ہمارے معاشرے میں کئی لوگ بدشگونی لینے کے مرض میں مبتلا ہیں، وہاں دیکھا جائے تو عام طور پر عورتوں کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے، جو اِس میں مبتلا ہے، ہم یہاں چندایسی بدشگونیوں کا ذکر کئے دیتے ہیں، جو خاص طور پر عورتوں میں پائی جاتی ہیں:

1۔نئی دلہن منحوس یا خوش قسمت:

نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی فرد فوت ہو جائے ، تو کہا جاتا ہے کہ یہ اس کی نحوست ہے اور کوئی خوشی ملے تو اس دلہن کو اچھا جانا جاتا ہے۔

کیا یہ بات حقیقت ہے؟ نہیں!یاد رکھئے زندگی، موت بندے کے اختیار میں نہیں ہوتی، بلکہ اِس کا تو وقت معین ہے، کسی کے آنے سے کسی کا مر جانا نحوست نہیں ہو سکتا، ہو سکتا ہے وہ دلہن اللہ پاک کے مقرب بندوں میں ہو تو اس کے بارے یہ الفاظ بول کر نہ صرف دل آزاری، بلکہ اللہ پاک کی شدید ناراضگی کا سبب ہے اور مقرب نہ ہو، جب بھی یہ الفاظ دل آزاری کا سبب ہیں۔

2۔بیٹیوں کی پیدائش:

بیٹیوں کی پیدائش پر تو گویا اُس ماں پر نحوست کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، توجّہ فرمائیے، بیٹیاں دینا یا بیٹے دینا اللہ پاک کا کام ہے، جو وہ چاہتا ہے، وہی عطا فرماتا ہے، انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کی عطا پر شکر کرے، یاد رکھئے! ایسے کلمات بعض اوقات کفریہ بھی ہوتے ہیں۔

3۔حاملہ عورت کا میت کے پاس آنا:

کہا جاتا ہے کہ حاملہ عورت میت کے پاس نہ آئے کہ اس سے بچے پر بُرا اثر پڑتا ہے، اللہ اکبر کیوں وہ کہتے ہو، وہ جو شریعتِ مطہرہ نے نہیں کہا، افسوس ہے ایسی سوچ پر۔

4۔جوانی میں بیوہ عورت منحوس ہے:

جو عورت جوانی میں بیوہ ہو جائے، اُسے منحوس سمجھا جاتا ہے، غور کیجئے! کیا کفر سے بڑھ کر کوئی نحوست ہے ؟ہرگز نہیں تو کیا بیوہ ہو جانا نحوست ہے یا کافر ہو جانا نحوست ہے؟ بلاشبہ کفر اور گناہ ہی نحوست ہیں، اِن دل آزار جملوں سے خود کو بچائیے کہ یہ بھی گناہ ہیں۔

5۔رات کے وقت کنگھی کرنا نحوست ہے:

رات کے وقت کنگھی کرنا یا ناخن کاٹنا نحوست جانا جاتا ہے، سُنئے جانِ جاناں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے الفاظ اور غور کیجئے، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایسی عورتوں سے بیزار ہیں، فرمایا:"جس نے بدشگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔"(المعجم الکبیر18/162، حدیث355، بدشگونی:19)

اللہ اکبر!یاد رکھئے جس سے جانِ جاناں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بیزاری کا اعلان فرما دیں، اُس کا دعویٔ محبت جھوٹا ہے اور وہ جنتی نہیں ہوسکتا، کیونکہ جنت تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کرنے والوں کی ہے۔


بدشگونی کیا ہے:

مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 128 صفحات پر مشتمل کتاب بدشگونی صفحہ 10 پر ہے:شگون کا معنیٰ ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، (اسی وجہ سے بد فالی لینے کو بدشگونی کہتے ہیں)۔

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚوَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ ؕاَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۳۱)

ترجمہ کنز الایمان:تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسی اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ(مُقَدَّر) کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں ۔(پ 9، اعراف:131)

بدشگونی کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے:

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے بد شگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔(معجم کبیر حدیث عمران بن حصین، ص162، حدیث 355)

عورتوں میں پائی جانے والی چار بد شگونیوں کی مثالیں:

1۔نئی دلہن کے ہاتھوں اگر کوئی چیز ٹوٹ پھوٹ جائے تو اس کو منحوس سمجھا جاتا ہے اور بات بات پر اس کی دل آزاری کی جاتی ہے۔

2۔اگر کسی گھر پر اُلّو کی آواز سن لی جائے تو اعلان کر دیا جاتا ہے کہ گھر کا کوئی فرد مرنے والا ہے یا گھر پر مصیبت آنے والی ہے۔

3۔اگر کوئی شیشے کا برتن یا شیشہ ٹوٹ جائے تو اسے منحوس سمجھا جاتا اور بدشگونی کی جاتی ہے۔

4۔یوں ہی عورتوں میں ماہِ صفر المظفر کے بارے میں بھی بدشگونی لی جاتی ہے اور اسے تیرہ تیزی کا مہینہ کہا جاتا ہے اور اس مہینے میں شادی کرنے، الغرض کوئی اچھا کام کرنے کو منحوس جانا جاتا ہے۔

بد شگونی کا حکم:

حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: بدشگونی لینا حرام جبکہ اچھا شگون لینا مستحب ہے۔"

بدشگونی سے کیسے بچا جائے:

بدشگونی سے بچنے کے لئے سب سے پہلے اللہ پاک پر توکّل اور بھروسہ رکھا جائے اور اس آیت مبارکہ کو ذہن نشین رکھا جائے:حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔


شگون کا معنی فال لینا ہے یعنی کسی چیز ، شخص ، عمل ، آواز یاوقت کو اپنے حق میں اچھا یا برا جاننا اگر اچھا سمجھا تو نیک فال اور اگر برا سمجھا تو بدفالی یا برا شگون ہے۔

پیارے آقاصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس نے بد شگونی لی اور جس کیلئے بدشگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں ۔ایک اور مقام پہ فرمایا: تین چیزیں جس شخص میں ھوں وہ بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا

(1)جو اپنی اٹکل سے غیب کی خبر دے

(2)فال کے تیروں سے اپنی قسمت معلوم کرے

(3)بدشگونی کے سبب اپنے سفر سے رک جائے

آج کل عورتوں میں بدشگونی بہت عام ہیں جیسے

(1)خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی ھوتی ہے

(2)کسی کا کٹا ہوا ناخن پاؤں کے نیچے آجائے تو آپس میں دشمنی ھوجائے گی

(3)نومولود(بہت چھوٹے بچّے) کے کپڑے دھوکر نچوڑے جائے تو جسم میں درد بیٹھ جاتا ہے

(4) رات کو شیشہ دیکھنے سے چہرے پہ جھرّیاں پڑجاتی ہیں

(5)بچّے کے اوپر سے پھلانگنے سے بچّے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے وغیرہ وغیرہ

اسلام میں بد شگونی کا کوئی تصوّر نہیں

بدشگونی انسان کیلئے دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے بہت زیادہ خطرناک ہے

یہ انسان کو وسوسوں کی دلدل میں اتار دیتی ہے

بدشگونی سے ایمان بھی ضائع ھو جاتا ہے

بدشگونی کا شکار ھونے والے کا اللہ پر توکل ختم ہوجاتا ہے

اللہ پاک کے بارے میں بدگمانی پیدا ھوتی ہے

شیطانی وسوسوں کا دروازہ کھلتا ہے

تقدیر پر ایمان کمزور ھوجاتا ہے

توہم پرستی ، بزدلی ، ڈر ، خوف اور تنگ دلی پیدا ھوتی ہے

دیکھا آپ نے کے بد شگونی کے کتنے نقصانات ہیں یہاں تک کہ ایمان کے ضائع ہونے تک کا کہا گیا ہے اللہ پاک سے دعا ہےکہ ہم کو بدشگونی جیسی آفت سے محفوظ فرمائے ۔ آمین آمین آمین یارب العلمین


شگون کا معنیٰ ہے "فال لینا" یعنی کسی چیز،  شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اس کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں۔1۔بُرا شگون لینا، 2۔ اچھا شگون لینا۔

اچھا شگون:

اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سُن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے اگر کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے۔

شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پایہ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سنے تو اس کی طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی اس کے سبب سے اپنے کام سے رُکے۔"(المدینہ العلمیہ، بدشگونی، صفحہ 10، 11)

بدشگونی حرام اور نیک فال لینا مستحب ہے:

حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ الطریقۃُ المحمَّدیہ میں لکھتے ہیں:"بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یااچھا شگون لینا مستحب ہے۔"(المدینۃالعلمیہ، بدشگونی، صفحہ 12)

بدشگونی کی پانچ مثالیں:

1۔بدشگونی کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص سفر کے ارادے سے گھر سے نکلا، لیکن راستے میں کالی بلّی راستہ کاٹ کر گزر گئی، اب اس شخص نے یہ یقین کرلیا کہ اس کی نحوست کی وجہ سے مجھے سفر میں ضرور کوئی نقصان اٹھانا پڑے گا اور سفر کرنے سے رُک گیا تو سمجھ لیجئے کہ وہ شخص بدشگونی میں مبتلا ہوگیا۔

2۔بدشگونی کی دوسری مثال یہ ہے کہ کبھی اندھے، لنگڑے اور معذور لوگوں سے تو کبھی کسی خاص پرندے یا جانور کو دیکھ کر یا اُس کی آواز کو سُن کر بدشگونی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

3۔اسی طرح اس کی تیسری مثال یہ ہے کہ نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہو جائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوں، تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے اور وہ بد شگونی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

4۔اسی طرح خالی قینچی چلانے سے گھر میں لڑائی یا کسی کا کنگھا ا ستعمال کرنے سے گھر میں جھگڑا ہوتا ہے، یہ بھی بد شگونی کی مثال ہے۔

5۔چھوٹا بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے یا بچہ سویا ہوا ہو، اُس کے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے، یہ بھی بدشگونی ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے میں بدشگونی کی بہت سی مثالیں آپ کو دیکھنے کو ملیں گی۔اللہ پاک آپ کو اور مجھے بدشگونی اور اس جیسی بیماریوں سے دور رہنے اور بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


شگون کا معنیٰ ہے ” فال لینا “ یعنی کسی چیز،  شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اس کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں۔1۔بُرا شگون لینا، 2۔ اچھا شگون لینا۔

علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیرِقرطبی میں فرماتے ہیں:اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی اچھا کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے اگر کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے، شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پایہ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سنے تو اس کی طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی اپنے کام سے رُکے۔(الجامع لاحکام للقرطبی)

سرکار عالی وقار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:یعنی جو شخص بد شگونی کی وجہ سے کسی چیز سے رُک جائے، وہ شرک میں آلودہ ہو گیا۔

ہمارے معاشرے میں جہالت کی وجہ سے رواج پانے والی خرابیوں میں ایک بدشگونی بھی ہے، جس کو بدفالی کہا جاتا ہے، آج کل بدقسمتی سے بعض پڑھے لکھے لوگ بھی ان بد شگونیوں میں مبتلا نظر آتے ہیں، مثلاً

1۔صفرالمظفر کی تیرہ تاریخ تک کوئی خوشی کی تقریب منعقد نہ کی جائے، ورنہ کچھ بُرا ہو سکتا ہے، اسی طرح محرم الحرام میں بھی شادی وغیرہ منعقد کرنا بُرا سمجھا جاتا ہے۔

2۔اگر کسی کے گھر کے دروازے پر بلّی کے رونے کی آواز آئے، تو اسے زبردستی دھمکایا جاتا ہے، کیونکہ ان کی ذہنیت کے مطابق جہاں بلی روئے، وہاں کسی انسان کی میّت ہو جاتی ہے۔

3۔اگر کوئی بچے شرارت سے چارپائی وغیرہ پر بیٹھے ہوں اور اپنے پاؤں نیچے لٹکا کر ان کو ہلانا شروع کردیں تو کہتے ہیں کہ ایسا نہ کرو، ورنہ تمہاری والدہ کی وفات ہو جائے گی۔

4۔اگر کوئی خالی قینچی چلائے تو کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے گھر میں لڑائی ہو جاتی ہے۔

5۔اگر کوئی طلاق یافتہ یا بیوہ خاتون، نئی نویلی دلہن کے قریب جائے تو اسے بُرا سمجھا جاتا ہے، حتٰی کہ ایسی خاتون کو دلہن کی کسی رسم میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی زندگی کے بُرے اثرات نئی نویلی دلہن پہ نہ پڑ جائیں، حالانکہ یہ سب ہندو معاشرے کے اثرات ہیں، جو برصغیر میں رہنے والے مسلمانوں میں آج بھی موجود ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں میں شعُور اُجاگر کیا جائے، تاکہ اس بد شگونی کا معاشرے سے خاتمہ ہوسکے۔


عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں

بد شگونی حرام اور نیک فال لینا مستحب یعنی ثواب کا کام ہے۔ حضرت امام محمد آفندی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ کتاب ” طریقۂ محمدیہ “ میں لکھتے ہیں : بد شگونی حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔

اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اچھی فال کو پسند فرماتے تھے۔(مسند احمد)

اچھا شگون لینا اور برا شگون لینا اس سے کیا مراد ہے، آئیے مثالوں سے سمجھتے ہیں:

اچھے شگون کی مثال یہ ہے کہ ہم کسی کام کو جا رہے ہوں اور کوئی نیک، پرہیز گار شخص سامنے آ گیا، تو ہم نے خیال کیا کہ ان شاء اللہ میں اپنے کام میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ اور بد شگونی کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص سفر کرنے کے لیے گھر سے نکلا، لیکن کالی بلی آگے سے گزری، اب اس شخص نے یقین کرلیا کہ اس کی نحوست کی وجہ سے مجھے ضرور کوئی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تو یوں وہ شخص بد شگونی میں مبتلا ہوگیا۔

بد شگونی کی تعریف: شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اچھا یا برا سمجھنا۔ اسی وجہ سے بد فال لینے کو بد شگونی کہتے ہیں۔

بنیادی طور پر شگون کی دو قسمیں ہیں: (1) برا شگون (2)اچھا شگون

بد شگونی سے متعلق اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس نے بد شگونی لی اور جس کے لیے بد شگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات صفحہ 285- 286)

بد شگونی ایک عالمی بیماری ہے۔ مختلف ممالک میں رہنے والے لوگوں میں الگ الگ قسم کی بد شگونیاں پائی جاتی ہیں، جنہیں سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اب عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں ذکر کی جا رہی ہیں جو ہمارے علاقے میں بھی عام ہیں:

1. گھر سے اگر کوئی سفر پر جائے تو جب تک وہ اپنی منزل پر نہ پہنچ جائے تب تک یا اس دن گھر میں جھاڑو نہیں دی جاتی اسے منحوس سمجھا جاتا ہے۔

2. رات کے وقت کنگی چوٹی کرنے اور ناخن کاٹنے کو بھی برا سمجھا جاتا ہے۔

3. ہمارے یہاں ایک بدشگونی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جھاڑوں کو کھڑا نہ رکھا جائے اس سے گھر میں لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں۔

4. چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ جب پیدا ہو گا تو اس کا ہاتھ، پاؤں یا جسم کا کوئی عضو کٹا ہوا یا چرا ہوا ہو گا۔

5. ہمارے یہاں عورتوں میں ایک بد شگونی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جس عورت کا بھائی ہو وہ جمعرات کے دن سر نہ دھوئے۔

شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی مکمل کرے اور جب برا کلام سنے تو اس کی طرف توجہ نہ کرے اور نہ ہی اس کی وجہ سے اپنے کام کو روکے۔

بدشگونی انسان کے لیے دینی و دنیوی دونوں طرح سے بہت خطرناک ہے، انسان وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بے سکون رہتا ہے۔ اللہ کریم ہمیں بدشگونی سے نجات عطا فرمائے اور شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین


بدشگونی لینا عالمی بیماری ہے، مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ، مختلف چیزوں سے ایسی ایسی بد شگونیاں لیتے ہیں کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے، مگر بدشگونی کہتے کسے ہیں؟آئیے جانتے ہیں:

شگون کامعنی ہے” فال لینا “ یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اسی وجہ سے بُرا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں۔(بدشگونی، ص 10)

حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بدفالی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار ان الفاظ سے فرمایا: لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ وَلَا تُطُیِّرَ لَہٗ۔یعنی جس نے بدشگونی لی یا جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں(یعنی وہ ہمارے طریقے پر نہیں)۔(بدشگونی، ص 19)

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:اسلام میں نیک فال لیناجائز ہے اور بد فالی اور بدشگونی لینا حرام ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 286)

بدشگونی کی مختلف صورتیں ہیں، مگر یہاں عورتوں میں پائی جانے والی 5بدشگونیاں ذکر کی جاتی ہیں:

1۔بعض عورتیں رات کے وقت کنگھی چوٹی کرنے یا ناخن کاٹنے سے بدشگونی لیتی ہیں کہ اس سے نحوست آتی ہے۔

2۔بعض عورتوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر بچہ سویا ہوا ہو، اس کے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے یا چھوٹا بچہ کسی کی ٹانگ کے نیچے سے گزر جائے تو اس کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔(بدشگونی، صفحہ17)

3۔جبکہ بعض عورتوں میں یہ بدشگونی بھی پائی جاتی ہے کہ نومولود(یعنی بہت چھوٹے بچے) کے کپڑے دھو کرنچوڑنے نہیں چاہئیں کہ اس سے بچے کے جسم میں درد ہوگا۔

4۔سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹا یا چرا ہوا ہوگا، اسی طرح گرہن کے وقت حاملہ خواتین کو سلائی کڑھائی سے بھی منع کیا جاتا ہے کیونکہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے بچے کے جسم پر غلط اثر پڑ سکتا ہے۔

5۔عورتوں میں ایک بدشگونی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جب بادلوں میں بجلی کڑک رہی ہو اور سب سے بڑا بچہ(پلوٹا/پہلوٹا) باہر نکلے تو بجلی اس پر گر جائے گی۔

اے عاشقان ِرسول!مذکورہ بالا بدشگو نیوں اور اس طرح کی تمام بدشگونیوں کی شریعتِ مطہرہ میں کوئی حقیقت نہیں، بلکہ شریعت میں تو بدشگونی لینے کو حرام قرار دیا گیا ہے، بدشگونی لینا گناہِ کبیرہ ہے، شریعت میں اس کی بالکل اجازت نہیں، بدشگونی کے ذریعے انسان اپنے آپ کو مشکل میں مبتلا کرتا ہے، اپنے سکون کو برباد کرتا ہے، بدشگونی انسان کو وسوسوں کے دلدل میں اُتار دیتی ہے۔امام حسن علی بن محمد الماوردی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: جان لو! بدشگونی سے زیادہ فکر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی شے نہیں۔ (بدشگونی، ص19)

بدشگونی کے حوالے سے مزید معلومات کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ 128 صفحات پر مشتمل کتاب ” بدشگونی “ کا مطالعہ کیجئے۔

کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی، کر دے شعور و فکر کو پاکیزگی عطا یا ربّ

( وسائل بخشش، ص 93)


بد شگونی ہے کیا؟

شگون کامعنی ہے” فال لینا “ یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اس کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:

1۔برا شگون لینا۔

2۔اچھا شگون لینا۔

علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیرِ قرطبی میں نقل کرتے ہیں:کہ اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بد شگونی ہے۔

شریعت میں اس بات کا حکم ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پائے تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سُنے تو اس طرف توجّہ نہ کرے اور نہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔ (الجامع للحکام القرآن للقرطبی پ 26، الاحقاف تحت الآیۃ:4 ج 8، جزء 16، ص132)

عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں:

1۔حاملہ عورت کو میّت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔

2۔جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں، نیز یہ سمجھتے ہیں کہ حاملہ عورت سورج گرہن کے وقت چُھری سے کوئی چیز کاٹے گی تو اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹایا چِرا ہوا ہو گا۔

3۔مغرب کے وقت راستے میں نہیں بیٹھنا چاہئے کیونکہ بلائیں گزر رہی ہوتی ہیں۔

4۔مہمان کی رخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو منحوس خیال کرتے ہیں۔

5۔نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر کوئی شخص فوت ہو جائے یا کسی عورت کے یہاں اگر بیٹیاں ہی پیدا ہوں تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔( بد شگونی کے ص 15، 16،17 ماخوذا)

اہم نکات:

٭بدشگونی انسان کے لئے دینی اور دنیوی دونوں اعتبار سے بے حد خطرناک ہے، بدشگونی سے ایمان بھی ضائع ہو سکتا ہے۔

٭دورَ حاضر میں بھی غلط سلط اعتقادات، توھمات اور ناجائز رسومات زور پکڑتی چلی جارہی ہیں، جن کا تعلق بدشگونی سے بھی ہوتا ہے، مثلاً ماہِ صفر کو منحوس جاننا، چھینک کو منحوس جاننا، ستاروں کے اثرات کا یقین کر لینا، مسلسل بیٹیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا، گھر میں پپیتا کے درخت لگانے کو منحوس سمجھنا، شوال یا مخصوص تاریخوں میں شادی کو منحوس سمجھنا، عورت گھر اور گھوڑے کو منحوس سمجھنا وغیرہ۔

٭اسلامی عقائد کی معلومات حاصل کرکے اللہ پاک پر سچا توکل کرکے، بدشگونی کے تقاضے پر عمل نہ کرکے اور مختلف وظائف کے ذریعے بدشگونی کا علاج کیا جا سکتا ہے۔اللہ پاک ہمیں بدشگونی جیسی آفت سے محفوظ فرمائے۔آمین


عورتوں میں پائی جانے والی 5  بد شگونیاں

عورتوں میں بہت ساری بدشگونیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

1. اگر کوئی شخص سفر کے ارادے سے گھر سے نکلا اور راستے میں کالی بلی راستہ کاٹ کر گزر گئی اب اس شخص نے یہ یقین کر لیا کہ اس کی نحوست کی وجہ سے مجھے سفر میں کوئی نقصان اٹھانا پڑے گا تو وہ سفر کرنے سے رک جاتا ہے ۔

2. ہمارے معاشرے میں جہالت کی وجہ سے رواج پانے والی خرابیوں میں سے ایک بد شگونی یہ بھی عورتوں میں پائی جاتی ہے کہ کبھی ایمبولینس(Ambulance)کی آواز سے تو کبھی فائر بریگیڈ (fire brigade)کی آواز سے بدشگونی لیتی ہیں ۔

3. جوتے اتارتے وقت جوتے پر جوتا آنے سے بد شگونی لیتی ہیں کہ یہ جوتا کہیں دور لے جائے گا ۔

4. کبھی بلی کے رونے اور کتے کے رونے کو منحوس جانتی ہیں ۔بدشگونی لیتی ہیں کہ بلی جس گھر کے پاس یا چھت پر روئے اس گھر میں فوتگی ہو جاتی ہے ۔( استغفرُاللہ)

نئی نویلی دلہن کے آنے پر اگر خاندان میں کوئی فوت ہو جائے تو دلہن کو منحوس قرار دیتے ہیں کہ اس کے آنے کی وجہ سے ہمارے گھر فوتگی ہو گئی حالانکہ اس میں بدشگونی کے علاوہ دلہن کی دل آزاری بھی ہے اور بدشگونی بھی حرام اور کسی مسلمان کا دل دکھانا بھی گناہ ہے۔(ماخوذ از رسالہ بد شگونی ، 15، 16، 17)


عورتوں میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں

ہمارے معاشرے میں جہالت کی وجہ سے رواج پانے والی خرابیوں  میں ایک بَدشگونی بھی ہےجس کو بد فالی بھی کہا جاتا ہے ۔

شیخُ الاسلام شہابُ الدّین امام احمد بن حجر مکی ہیتمی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ اپنی کتاب” اَلزَّوَاجِرُ عَن اقْتِرَافِ الْکَبَائِر “ میں  بَدشگونی کے بارے میں دو حدیثیں  نَقْل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے ظاہِری معنی کی وجہ سے بَدفالی کو گناہِ کبیرہ شمار کیا جاتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں  ہو جو بَدفالی کی تاثیر کا اِعتقاد رکھتا ہو جبکہ ایسے لوگوں  کے اسلام(یعنی مسلمان ہونے نہ ہونے)میں  کلام ہے۔(الزواجر عن اقتراف الکبار  ، باب السفر ، 1 / 326)

اس کی بنیادی طور پردو قسمیں  ہیں  : (1) بُرا شگون (2) اچھا شگون

فی زمانہ آج کی ماڈرن سوسائٹی کی خواتین میں بھی یہ عمل پایا جاتا ہے جو کہ نری جہالت ہے یا یوں کہا جائے کہ بَدشگونی لینا عالَمی بیماری ہے ، مختلف ممالک میں  رہنے والے مختلف لوگ مختلف چیزوں  سے ایسی ایسی بَدشگونیا ں  لیتے ہیں  کہ انسان سُن کر حیران رہ جاتا ہے صد افسوس اس میں سر فہرست خواتین ہوتی ہیں جو انتہا کی حد تک ان سب پر یقین رکھتی ہیں ۔

1. قینچی چلانے سے گھر میں  لڑائی ہوتی ہے۔

2. دودھ ابل پڑا مصیبت آجائےگی کانچ ٹوٹ جانا ۔

3. جوتا اُتارتے وَقْت جوتے پر جوتا آنے سے بَدشگونی لیتے ہیں ۔

4. کبھی کسی وَقْت یا دن یا مہینے سے بَدفالی لیتے ہیں ۔

5. مُرغادن کے وَقْت اذان دے تو بَدفالی میں مبتلا ہوجاتے۔

6. جوانی میں  بیوہ ہوجانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں۔

7. بیوہ کا سایہ نئی بیاہی دلہن کے لئے منحوس جاننا ،یہ بڑی جہالت بہت سے مواقع پر بیوہ خواتین کی دل آزاری کا سبب بنتی ہے ۔

ابھی یہ ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ ایمان کمزور ہونے کی اس حد تک جاتے ہیں کہ قرآن مجید کا کوئی بھی صفحہ کھول کر سب سے پہلی آیت کے ترجمہ سے اپنے کام کے بارے میں  خودساختہ مفہوم اَخذکرکے فال نکالتے ہیں اس طرح کی فال نکالنا بھی ناجائز ہے۔ حدیقہ ندیہ میں ہے : قرآنی فال ، فالِ دانیال اور اس طرح کی دیگر فال جو فی زمانہ نکالی جاتی ہیں  نیک فالی میں نہیں آتیں  بلکہ ناجائز ہیں (حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ  ،  2 / 26ملخصًا) قرآن پاک سے بَدشگونی لینا مکروہِ تحریمی ہے۔

حدیث شریف میں بدشگونی کے عقیدے کی تردید فرمائی گئی ہے۔

بَدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مُسْتَحَب ہے۔(الطریقۃ المحمدیۃ  ، 2 / 17 ، 24)

   چنانچہ اگر کسی نے بَدشگونی کا دل میں خیال آتے ہی اسے جھٹک دیا تو اس پر کچھ برا نہیں  لیکن اگر اس نے بَدشگونی کے خوف سےاس کا اِعتقاد رکھا اور اِسی اعتقاد کی بنا پر اس کام سے رُک گیا تو اب گناہ گار ہوگا اور کسی چیز کو منحوس سمجھ کر سفر یا کاروبار کرنے سے یہ سوچ کر رُک گیا کہ اب مجھے نقصان ہی ہوگاتو اب گنہگار ہوگا۔

ایسے ہی کچھ لوگ مہینوں کو منحوس جانتے ہیں اس میں بھی خواتین کی من گھڑت کہانیاں کہ اس مہینے پیدا ہونے والا بچہ منحوس ہو گا شادی نہیں کرنی چاہئے وغیرہ وغیرہ جبکہ تمام دن اور وقت اللہ پاک کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں بندوں کے اعمال واقع ہوتے ہیں۔ جس وَقْت میں  بندۂ مومن اللہ پاک کی اطاعت وبندگی میں مصروف ہو وہ وَقْت مبارک ہے اور جس وَقْت میں اللہ پاک کی نافرمانی کے کام کرےوہ وَقْت اس کے لئے منحوس ہے۔ درحقیقت اصل نُحوست کسی دن یا وقت میں نہیں بلکہ گناہوں  میں  ہے۔ سب سے بڑی نحوست انسان کی اپنی بد اعمالیاں اور فسق و فجور ہے۔

قرآن میں ارشاد ہے: مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ٘-وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ (پ 5، النساء: 79)

ترجمہ کنز الایمان: اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے۔

کچھ لوگ چھینک آنے کو بھی برا جانتے ہیں ، علامہ عبدالمصطَفٰے اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں : اب غور کرو کہ جب چھینک کورسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ’’ شاہد عدل(یعنی عادل گواہ) ‘‘ کا لقب دیا تو پھر بھلا چھینک منحوس اور بَدشگونی کا سامان کیسے بن سکتی ہے؟ اس لئے لوگوں کو اس عقیدہ سے توبہ کرنی چاہئے کہ چھینک منحوس اور بَدفالی کی چیز ہے۔ (جنتی زیور ،ص 431) خداوندِ کریم مسلمانوں کو اتباعِ سنت اور پابندی شریعت کی توفیق بخشے آمین۔