مُزَّمِّلٌ: اے چادر اوڑھنے والے۔اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ وحی نازل ہونے کے ابتدائی زمانے میں سیّد المرسلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے،ایسی حالت میں حضرت جبریل صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ ترجمۂ کنز العرفان:اے چادر اوڑھنے والے کہہ کر ندا دی ۔ (المزمل، )مُدَّثِّر: اے چادر اوڑھنے والےحضرت جابر رَضِیَ اللہُ عنہسے مروی ہے،سرکار دوعالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں حرا پہاڑ پر تھا کہ مجھے ندا کی گئی:یا محمد انک رسول اللہ میں نے اپنے دائیں دیکھا تو کچھ نہ پایا، جب اوپر دیکھا تو ایک شخص یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی،آسمان اور زمین کے درمیان بیٹھا ہے،یہ دیکھ کر مجھ پر رعب طاری ہوااور میں حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ عنہا کے پاس آیا ۔میں نے ان سے کہا:مجھے چادر اڑھاؤ،انہوں نے چادر اڑھادی۔اس کے بعد حضرت جبریل رَضِیَ اللہُ عنہ آئے اور انہوں نے کہا:یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ اے چادر اوڑھنے والے۔3۔طٰهٰ۔ یہ حروف ِمقطعات میں سے ہے۔مفسرین نے اس حروف کے مختلف معانی بیان کئے ہیں،ان میں سے ایک یہ ہے کہ طٰهٰ تاجدارِ رسالت صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسمائے مبارکہ میں سے ایک اسم ہے اور جس طرح اللہ پاک نے آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام محمد رکھا،اسی طرح آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام طٰهٰ بھی رکھا ہے۔(تفسیر قرطبی ، طہ، تحت الآیۃ1، 6/72 ، الجز الحادی العشر)يٰسٓ:یہ حروفِ مقطعات میں سے ایک حرف ہے۔اس کی مراد اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے،نیز اس کے بارے میں مفسرین کا قول ہے کہ یہ سیّد المرسلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسمائے مبارک میں سے ایک اسم ہے۔(تفسیرجلالین مع صاوی، یس تحت الآیۃ 1، 5/ 1705)اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ایسے نام ہیں، یہ کہ جن کے معنی سے واقف نہیں اور یہ نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لئے خاص ہوا اور آپ کے سوا کسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال درست نہ ہو۔نوٹ: جن حضرات کا نام يٰسٓ ہے، وہ خود کو غلام يٰسٓ لکھیں اور بتائیں اور دوسروں کو چاہئے کہ اس کو غلام يٰسٓ کہہ کر بلائیں۔5۔ الرُّ سُلُ (الاحقاف 46: 9)اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نِت نئے اعتراضات کرنا کفارِ مکہ کا معمول تھا،چنانچہ کبھی وہ کہتے: کوئی بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے؟ رسول تو کسی فرشتے کو ہونا چاہئے، یہ تو ہماری طرح کھاتے پیتے ہیں!جواب اس آیتِ مبارکہ میں دیا گیا کہ اے پیارے حبیب !آپ ان سے فرما دیں کہ میں کوئی انوکھا رسول نہیں ہوں،بلکہ مجھ سے پہلے بھی رسول آچکے ہیں،وہ بھی انسان ہی تھے اور وہ بھی کھاتے پیتے تھےاور یہ چیزیں ان کی نبوت پر اعتراض کا باعث نہ تھیں۔


محمد (جس کی تعریف کی جائے) ۔ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نامِ نامی محمدصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم قرآن ِکریم میں چار مرتبہ مذکور ہے : سورۂ الِ عمران،آیت144۔سورۂ احزاب،آیت41 ۔سورۂ محمد،آیت3 ۔سورۂ فتح،آیت 30۔سورۂ الِ عمران،آیت 144(2)احمد( الصف،آیت6)( تعریف کیا ہوا )۔اسمِ احمد صرف ایک ہی مرتبہ قرآنِ مجید میں آیا ہے۔(3)رسول (المائدۃ،آیت41) (پیغام لانے والا)۔قرآنِ پاک میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بہت سی جگہوں پر یا ایھا الرسول کہہ کر پکارا گیا ہے ‌ (4) نبی(الانفال، آیت 64) ۔ اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے نبی کا معنی (غیب کی خبر دینے والا) بتایا ہے ۔ جس انسان کو اللہ پاک نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو اسے نبی کہتے ہیں۔(5)مزمل(المزمل،آیت 1)(چادر اوڑنے والا) ۔ اس نام کی پوری سورت قرآنِ پاک میں موجود ہے ۔ وحی نازل ہونے کے ابتدائی زمانے میں سید المرسلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے ایسی حالت میں حضرت جبریل علیہ السلام نے آپ کو یا ایھا المزمل ‌کہ کر ندا دی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایک مرتبہ سید المرسلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم چادر میں لپٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے اس حالت میں آپ کو یہ ندا ہوئی: یا ایھا المزمل (بحوالہ صراط الجنان )(6)مدثر(المدثر،آیت1)(چادر اوڑھنے والا)۔ شانِ نزول: اس نام کی بھی قرآنِ مجید میں پوری سورت ہے۔حضرت جابر رَضِیَ اللہُ عنہ سے مروی ہے،سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں حرا پہاڑ پر تھا کہ مجھے ندا کی گئی:یا محمد انک رسول اللہمیں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو کچھ نہ پایا اور جب اوپر دیکھا تو ایک شخص یعنی وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی آسمان اور زمین کے درمیان بیٹھا ہے یہ دیکھ کر مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور میں حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ عنہا کے پاس آیا اور میں نے انہیں کہا:مجھے چادر اُڑھاؤ ۔انہوں نے چادر اڑھا دی۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: یا ایھا المدثر یعنی اے چادر اوڑھنے والے (بحوالہ صراط الجنان) (7) شاھد (الاحزاب، آیت 45) ۔اللہ پاک نے آپ کو شاہد بنا کر بھیجا ۔شاہد کا ایک معنیٰ ہے: حاضر و ناظر یعنی مشاہد کرنے والا اور ایک معنیٰ ہے گواہ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے شاہد کا ترجمہ حاضر ناظر فرمایا ‌۔اس کے بارے میں نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :شاہد کا ترجمہ حاضر ناظر بہت بہترین ترجمہ ہے۔ (بحوالہ صراط الجنان)(8)مبشر ( الاحزاب، آیت 45‌‌) (خوشخبری دینے والا)۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا خوشخبری دینے والا یہ وصف قرآنِ مجید میں بہت سی جگہوں پر مذکور ہے۔(9) نذیر (الاحزاب، آیت 45) ڈر سنانے والا۔ اللہ پاک نے اپنے حبیب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ایمان داروں کو جنت کی خوشخبری دینے والا اور کافروں کو جہنم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ۔(10)سراج(الاحزاب، آیت 46) ( آفتاب)اللہ پاک نے آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا وصف بیان کیا: سراج منیر یعنی چمکا دینے والا آفتاب۔ یعنی اللہ پاک نے آپ کو چمکا دینے والا آفتاب بنا کر بھیجا۔ محمد نام کی فضیلت میں چند احادیث درج ذیل ہیں:من سمى ولده محمداً،أناشفيعه جس نے اپنے بیٹے کا نام محمد رکھا ، میں اس کی شفاعت کروں گا۔ (العرف الشذی شرح سنن الترمذی(4/181) کتاب الآداب،باب ما جاء یستحب من الاسماء،داراحیاء التراث العربی بیروت)قال امام مالک سمعت أهل مكة يقولون:ما من بيت فيه اسم محمد الا نمى و رزقوا و رزق جيرانهم امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے اہلِ مکہ سے سنا ہے کہ جس گھر میں محمد نام والا ہو تو اس کی وجہ سے ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق دیا جاتا ہے۔(كتاب الشفاء، الباب الثالث، الفصل الاول،(1/176) دارالفکر)


مَا جَاءَ فِي أَسْمَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اسمائے محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔اللہ پاک کے پیارے محبوب، دانائےغیوب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بہت سے نام ہیں لیکن دو نام’’ محمد‘‘اور’’ احمد‘‘ آپصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ذاتی اور باقی صفاتی کہلاتے ہیں ۔چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشادِ عالی شان ہے:زمین پر میرا نام محمد اور آسمان پر احمد ہے۔ (قسطلانی، المواهب اللدنیہ، 1/ 70)نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے یہ تمام اسمائے گرامی عظیم برکتوں عظمتوں اور خصوصیتوں والے ہیں اور اللہ پاک نے ہر نام کی الگ تاثیر اورمنفرد انقلاب انگیزی رکھی ہے۔ اللہ پاک نے اپنے حبیب،احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکو ان محامدو محاسن،خصائص و امتیازات اور کمالات و معجزات سے نوازا جو کائنات میں کسی دوسرے نبی یا رسول کو عطا نہیں کئے گئے۔ قرآنِ کریم میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے جو اسمائے گرامی مذکور ہیں ان میں سے 10 کا ذکر پیشِ خدمت ہے:1:مُحَمَّدٌ۔ تعریف کیا ہوا۔2 :اَحْمَدُ۔بہت ثنا کرنے والا۔3:حَامِدٌ۔حمد کرنے والا۔4: مَحْمُوْدٌ ۔ تعریف کیا ہوا۔5 :قَاسِمٌ۔تقسیم کرنے والا۔6 :ھَادِیٌرہنمائی کرنے والا۔7:مُزَّمِّلٌ۔چادر پہننے والا۔8:مُدَّثِّرٌ۔کمبلی والا۔9 ۔نَاصِرٌ۔ مدد کرنے والا۔10:کَلِیْمُ اللہ۔ الله سے ہم کلام۔اور یہ القابات مذکور ہیں:النبی،الرسول،شاھد، مبشر،نذیر،داعی الی اللہ،سراج منیر ،خاتم النبیین ،رحمة للعلمين۔قرآنِ کریم میں لفظ محمد و احمد کے معانی:محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکے معنی ہے:جن کی تعریف کی جاتی ہے ان میں سب سے زیادہ آپصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعریف کی گئی اور احمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے معنی ہے: جو اللہ پاک کی تعریف کرنے والے ہیں ان میں سب سے زیادہ تعریف کرنے والے بھی آپصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں۔( سیرتِ حلبیہ،1/262)قرآنِ کریم میں نامِ محمد کا استعمال:قرآنِ کریم میں نامِ محمد چار جگہوں پر آیاہے :1۔ومامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل۔ ( اٰلِ عمران :144)’’اور محمد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)ایک رسول ہی تو ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں۔2۔ماکان محمد ابااحد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین۔(الاحزاب:40) ( مسلمانو!) محمد (صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ۔لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں ،اورتمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔والذین امنوا وعملو االصلحت وامنوا بما نزل علی محمد( محمد47:2)۔’’اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اورا نہوں نے نیک عمل کئے ہیں اور ہر بات کو دل سے مانا جو محمد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم) پر نازل کی گئی ہے۔4. محمد رسول الله (الفتح، 48: 29)محمد ( صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔

اسی طرح صاحبُ الوفا نے بھی اسمِ مبارکہ محمد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)کے فضائل بیان فرمائے ہیں۔ذیل میں چند روایات حوالہ قرطاس کی جاتی ہیں: (1)حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے مروی ہے،رسالت پناہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جس دستر خوان پر کھانا کھایا جائے اور دعوت کا اہتمام کیا جائے اور کھانے والوں میں سے کوئی ایسا شخص موجود نہ ہو جس کا نام میرے نام پر ہو تو وہ دگنا کھایا جائے گا (کیونکہ خیرو برکت سے خالی ہوگا)۔(2)حضرت علی بن ابی طالب رَضِیَ اللہُ عنہ سے مروی ہے،نبی التوبہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بھی کوئی قوم مشورہ کے لئے جمع ہو اور ان میں میرا ہم نام شخص موجود نہ ہو تو اس میں خیروبرکت نہیں ہوگی۔(الوفا باحوال المصطفی، امام عبدالرحمن ابن جوزی، ص135)

حوادث منہ چھپاتے ہیں، مصائب رخ بدلتے ہیں نبی کا نام جب لیتی ہوں میں، طوفان ٹلتے ہیں

(3)حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے ،حضور نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمارے لیے اپنے کئی اسمائے گرامی بیان فرمائے۔ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: میں محمد ہوں اور میں اَحمد ہوں اور مقفی (یعنی بعد میں آنے والا) اور حاشر(جس کی پیروی میں روزِ حشر سب لوگ جمع کیے جائیں گے) اور نبی التوبہ (اللہ پاک کی طرف ہمہ وقت رجوع کرنے والا) اور نبی الرحمہ (رحمتیں بانٹنے والا نبی) ہوں۔(اخرجہ مسلم فی الصحيح، کتاب الفضائل، باب فی اسمائہ )اِس حدیث کو امام مسلم،اَحمد اور ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ 


عرب کا مشہور مقولہ ہے:کثرةُ الاسمآء تدلُّ على شرف المسمى یعنی کسی چیز کے ناموں کا بہت زیادہ ہونا اس بات کی دلیل ہوا کرتی ہے کہ وہ چیز بہت زیادہ عزت و شرف والی ہے۔حضورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو چونکہ اللہ پاک نے اس قدر اعزاز و اکرام اور عزت و شرف سے سرفراز فرمایا ہے کہ آپ امام النبیین، سید المرسلین ، محبوب رب العالمین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں اس لئے آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسمائے مبارکہ اور القاب بہت زیادہ ہیں۔حضرت نقاش سے روایت ہے، رسول اللہصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:قرآنِ مجید میں میرے سات نام مذکور ہیں: 1۔محمد 2۔احمد 3۔یٰس 4۔طہ 5۔مدثر 6۔مزمل 7۔عبد اللہ ۔( ذكرہ السیوطی فی المناھل،ص 502)حضرت جبیر بن مطعم رَضِیَ اللہُ عنہ کی روایت میں چھ اسما کا ذکر ہے۔1۔محمد 2۔احمد 3۔خاتم 4۔عاقب 5۔حاشر 6۔ماحی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم۔ (الشفاء،ص289)اسمِ محمد کا ذکر قرآنِ پاک کی روشنی میں:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ (پ22،الاحزاب: 40)ترجمۂ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے ہے۔اس آیت میں حضورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دو اسمائے مبارکہ مذکور ہیں۔ایک یہ کہ سب کے نام ان کے ماں باپ رکھتے ہیں۔لقب قوم دیتی ہے۔خطاب حکومت سے ملتا ہے۔ مگر نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام،لقب خطاب ،سب رب کی طرف سے ہیں۔حضرت عبد المطلب رَضِیَ اللہُ عنہ نے فرشتہ کی تعلیم سے آپ کا نام محمد رکھا،دوسرا یہ کہ سب کے نام پیدائش کے ساتویں دن رکھے جاتے ہیں مگر حضور کانام رب کریم نے مخلوق کی پیدائش سے پہلے رکھ دیا کہ آدم علیہ السلام نے یہ نام عرش کی ساق پر لکھا پایا،نوح علیہ السلام کی کشتی اسی نام کی برکت سے مکمل ہوئی۔عرض کرنے کا مقصد یہ کہ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام محمد قرآنِ کریم سے بھی ثابت ہے۔اس لفظ محمد میں بہت سی تاثرات ہیں، اگر کسی کے ہاں فقط لڑکیاں ہوتی ہوں تو وہ اپنی حاملہ بیوی کے شکم پر انگلی سے لکھ دیا کرے مَنْ کَانَ فِی ھَذَا الْبَطَنِ فَاسْمُہٗ مُحَمَّد چالیس روز تک یہ عمل کرے، مگر شروع حمل ہو، تو ان شاءاللہ لڑکا ہی پیدا ہوگا اور جس بچے کا نام محمد ہو اس کا ادب و احترام کرے۔(تفسیرروح البیان)آیت میں فرمایا گیا کہ وہ اللہ کے رسول ہيں اورنبیوں میں سب سے پچھلے نبی ہیں۔ خاتم ختم سے مشتق اور ختم کے معنی مہر کے بھی ہيں اور آخری کے بھی ،بلکہ مہر کو بھی خاتم اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ مضمون کے آخر ميں لگائی جاتی ہے يا یہ كہ جب كسی تھیلے پر مہر لگ چکی ہو، تو کوئی چیز باہر کی اندر اور اندر کی باہر نہیں جاسکتی،اسی طرح یہ آخری مہر لگ چکی ،باغِ نبوت كا آخری پھول کھل چکا۔خود حضورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خاتم النبیین كا معنی بیان فرماتے ہيں کہ لَا نَبِیَّ بَعْدِی ميرے بعد کوئی نبی نہيں،اب جو شخص كسی طرح كا نبی حضورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم كے بعد مانے وہ بے دين و مرتد ہے۔ اسی طرح جو خاتم النيين کے معنیٰ کرے بالذات نبی اور کسی نبی کا آنا ممکن جانے وہ بھی مرتد ہے۔حضرت عيسیٰ علیہ السلام بے شک تشريف لائيں گے ،مگر وہ تو پہلے سے نبی ہیں نہ کہ بعد کے نئے نبی،اور اب امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔بہر حال حضورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ایک لقب خاتم النبیین بھی ہے۔

کہیں مُزَّمِّل و مُدَّثِّر و طٰہٰ کہیں یٰسِیْں ترے مولیٰ نے قرآں میں تیری کیا کیا ثنا کی ہے (قبالۂ بخشش)

الغرض حضورِ انورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسماوالقاب کثرت کی وجہ سے نا قابلِ بیاں ہے۔اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں حضورصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ادب اور عشقِ مصطفٰی عطا کرے۔ آمین

صلوا علی الحبیب صلی اللہ علی محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


1۔محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم: سورۂ فتح آیت نمبر 29 میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو محمد رسول اللہ فرمایا:ترجمۂ کنزالایمان:محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل، تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے،سجدے میں گر تے،اللہ کا فضل اور رضا چاہتے۔2۔مصطفٰی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم: سورۂ اٰلِ عمران، آیت33 میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مصطفٰی فرمایا۔ ترجمۂ کنزالایمان:بے شک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل و اولاد اور عمران کی آل کو سارے جہان سے ۔3۔مجتبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم: سورۂ اٰلِ عمران آیت 179 میں مجتبی فرمایا۔ ترجمۂ کنزالایمان:ہاں اللہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے۔4۔مرتضٰی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:سورۂ جن آیت نمبر 27 میں آپ علیہ الصلوة والسلام کو مرتضٰی فرمایا۔ترجمۂ کنزالایمان:سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے کہ ان کے آگے پیچھے پہرا مقرر کردیا ہے۔ 5۔یسین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:سورۂ یٰسٓ آیت نمبر 1 میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یٰسٓ فرمایا۔6۔طہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:سورۂ طہ آیت نمبر 1 میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو طہ فرمایا۔ 7۔المزمل صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:سورۂ مزمل آیت نمبر 1 میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مزمل فرمایا۔ ترجمۂ کنزالایمان:اے جھرمٹ مارنے والے۔8۔المدثر صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم: سورۂ مدثر آیت نمبر 1 میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مدثر فرمایا۔ترجمۂ کنزالایمان:اے بالا پوش اوڑھنے والے۔9۔النبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم:سورۂ احزاب آیت نمبر میں آپ علیہ الصلوة والسلام کو نبی، مبشر اورنذیر فرمایا ہے۔ترجمۂ کنزالایمان:اے غیب کی خبریں بتانے والے(نبی)بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا۔10۔سراج منیر صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم: سورۃ الاحزاب آیت نمبر میں آپ علیہ الصلوة والسلام کو سراج منیر فرمایا ہے۔ترجمۂ کنزالایمان :اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔


اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں اپنے محبوبِ کامل صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مختلف صفاتی اسما سے یاد فرمایا ہے جو آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پاکیزہ اور اطہر زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ اس مضمون میں قرآنِ کریم میں مذکور اسماء النبی میں سے دس (10) اسماء النبی پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جائیگی۔پہلا اسمِ پاک:محمد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم) (معنی ہے:بہت تعریف کیا گیا)قرآنِ مجید میں پوری ایک سورت کا نام سورة محمدبھی موجود ہے۔ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام نامی محمد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم) قرآنِ کریم میں چار مرتبہ مذکور ہے ۔اس میں سے ایک آیتِ مبارکہ پیش کی جاتی ہے:مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (الاحزاب: 40)ترجمۂ کنز العرفان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والاہے۔دوسرا اسمِ پاک:احمد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)(معنی ہے:خوب تعریف کرنے والا)اسمِ احمدسورۂ الصف آیت 7میں مذکور ہے:مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ ؕ(الصف: 6) ترجمۂ کنز العرفان:اس عظیم رسول کی بشارت دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے ۔تیسراسمِ پاک:شاہد(صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم) ( مشاہدہ فرمانے والا )اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا ۙ (الفتح:8)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا۔چوتھا اسمِ پاک:مبشر (خوشخبری سنانے والے)وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا ۘ(بنی اسرائیل:105) ترجمۂ کنز العرفان:ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا۔پانچواں اسمِ پاک:منذر (ڈرانے والے)اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ0(الرعد:7) ترجمۂ کنز العرفان: (اے حبیب!) تم تو ڈر سنانے والے ہو اور ہر قوم کے ہادی ہو۔چھٹا اسمِ پاک:مزمل( کملی کی جھرمٹ والے )یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۙ (المزمل:1)ترجمۂ کنز العرفان: اے چادر اوڑھنے والے۔ساتواں اسمِ پاک:مدثر ( چادر اوڑھنے والے )یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ (المدثر:1)ترجمۂ کنز العرفان: اے چادر اوڑھنے والے۔آٹھواں اسمِ پاک: نور ( عظیم الشان نور ) قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌ ۙ(المائدۃ:15)ترجمۂ کنز العرفان: بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آگیا اور ایک روشن کتاب۔نوا اسمِ پاک: رسول ( اللہ پاک کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ) اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ۙ (الشعراء:27)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک میں تمہارے لیے امانتدار رسول ہوں ۔دسواں اسمِ پاک:رحیم ( بے حد رحم فرمانے والے )لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(التوبہ:128)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں ۔


مُحَمَّدٌ (تعریف والا) :جو ہر روز 400 مرتبہ دروداَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِکْ وَسَلَّم کا ورد کرے، وہ ظاہر و باطن میں بےنیاز ہوگا۔ اسمِ محمد 100 مرتبہ روزانہ پڑھنے والا تمام احباب میں محبوب ہوگا۔2۔اَحمَدٌ(سب سے زیادہ حمد کرنے والا):یہ اسمِ مبارک آپ کی ولادتِ باسعادت سے پہلے ہی رکھا گیا، چنانچہ حضرت عیسیٰ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک شان والا رسول آئے گا، اس کا نام احمد ہوگا۔(القرآن)اسمِ احمد 53بار روزانہ پڑھنے سے لوگوں میں عزت و مرتبہ ملے گا۔3۔حَامِدٌ(سراہنے والا):آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ رَضِیَ اللہُ عنہا فرماتیں ہیں:میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے:اے آمنہ!تیرے شکم میں ساری مخلوق سے بہتر اور سب کے سردار جلوہ افروز ہیں، ان کا نام حامد رکھنا۔(الریاض الانیقہ، 139)اسمِ حامد 50 بار روانہ پڑھنے سے تمام عزیز و اقارب میں تعریف ہوگی۔4۔مَحمُودٌ (سراہا گیا) :آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ صفاتی نام ہے۔حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آپ کا یہ نام زبور میں بھی ہے۔حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے:آپ کا نام مبارک آسمانوں میں محمود ہے۔ 5۔قَاسِمٌ(بانٹنے والا) :آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے خود فرمایا: اللہ پاک مجھے عطا فرماتا ہے اور میں قاسم(تقسیم کرنے والا) ہوں۔(بخاری شریف)اسمِ قاسم201 مرتبہ روزانہ پڑھنے سے رزق میں بہت برکت ہوگی۔6۔فَاتَحٌ(کھولنے والا):آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک جگہ فرمایا:اللہ پاک نے مجھے فاتح بنا کر بھیجا ہے اور میں خاتم النبین ہوں اور مجھے جامع فاتح کلمے دئیے گئے ہیں۔(مشکوۃ)اسمِ فاتح 489 بار روزانہ پڑھنے سے مال و دولت میں کشادگی ہوگی۔ حَاشِرٌ:اس سے مراد انبیا کی قیامت کے دن جمع کرنے والے کی حیثیت ہے، وہ تمام لوگ نبی کے پیچھے جمع ہوں گے۔ مُدَّثِّرٌ (چادر اوڑھنے والا):رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ایک لقب مدثر ہے،جس کے معنی ہیں:چادر اوڑھ کر یا لپیٹ کر لپٹنے والا۔ پہلے وحی کے بعد کچھ مدت تک بند رہی اور پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے وہی فرشتہ آسمان پر دیکھا، تو وہی طبعی رعب و ہیبت کی کیفیت طاری ہوئی، جو پہلی وحی پر ہوئی تھی اور آپ سردی محسوس کرنے لگے، آپ گھر تشریف لا کر چادر لپیٹ کر لیٹ گئے،اللہ پاک نے اس منظر کو اور کیفیت کو بھی نہایت لطیف اور محبت بھرے انداز میں یوں بیان فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُ (المدثر)(اے کپڑے میں لپٹنے والے)قَرَشِىٌ (قریش) :اگر کوئی شخص قریشی نام پڑھنے کے بعد ملازمت کرتا ہے، وہ ایماندار ہوگا،اگر وہ اس اسم کو عدالت میں داخل ہونے سے پہلے 100 مرتبہ پڑھے تو فیصلہ اس کے حق میں ہوگا۔10۔صَادِقٌ (سچا):جو اسمِ صادق کا ودر کرتا ہے، روزانہ 10 مرتبہ کرنے سےاس کی بینائی تیز ہوجائے گی۔


حضورِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکی سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت اَظْھَرْ مِنَ الشَّمْسْ ہوجاتی ہے کہ کائنات میں سب سےاعلیٰ اخلاق پر فائز ذات مصطفیٰ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہے، جن کے اخلاق کے عظیم ہونے کی گواہی خود الله پاک نے دے دی۔ 1۔وَمَا مُحَمّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۔(پ3،اٰل عمران: 144)اس آیتِ مبارکہ میں آقاصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نام سے ذکر فرمایا ہے۔ 2۔اِنَّہُ لَقُوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْم ٍ۔(الحآقۃ: 40) اس آیتِ مبارکہ میں آقا صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا رسولصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے نام مبارک سے ذکر فرمایا ہے۔یہ کتنی عظیم بات ہے کہ خدا نے اپنے کلام کو رسولِ کریمصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کلام سے تعبیر فرمایا ہے۔ 3۔قَدْ جَآءَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌوَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ۔(المآئدہ: 15)اس آیتِ مبارکہ میں نور سے مراد سرکارِ دو عالمصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ والا صفات ہے۔4۔وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَةًلِّلْعٰلَمِیْن۔(الانبیاء: 107)یہ آیتِ مبارکہ تاجدارِ رسالتصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عظمت و شان پر بہت بڑی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمتمام جہاں والوں کے لئے رحمت ہیں تو واجب ہوا کہ وہ(اللہ پاک کے سوا) تمام سے افضل ہیں۔5۔اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔(الفتح: 8)اس آیتِ مبارکہ میں شاہد، مبشر اور نذیر سے مراد آقاصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس مراد ہے۔

نبیوں میں نبی ایسے کہ ختم ُالانبیاء ٹھہرے حسینوں میں حسین ایسے کہ محبوبِ خدا ٹھہرے

6۔ طٰہٰ۔(طہ:1)طٰہٰ تاجدارِ رسالتصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسمائے مبارکہ میں سے ایک اسم ہے،جس طرح اللہ پاک نے آپصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام مبارک محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم رکھا ہے، اسی طرح آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا نام طٰہٰ بھی رکھا ہے۔ 7۔وَدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔(الاحزاب: 46)یہاں سرکارِ دو عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا وصف بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ پاک نے آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو چمکا دینے والا آفتاب بنا کر بھیجا۔ 8۔وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔(الاحزاب: 40)آقاصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کثیر ناموں میں سے ایک نام خاتمُ النبیین بھی ہے کہ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم آخری نبی ہیں، آپصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور نبوت کاسلسلہ آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمپر ختم ہو چکا ہے۔

اے ختم ِرُسُل مکی مدنی، کونین میں تم سا کوئی نہیں اے نورِ مجسم تیرے سوا، محبوب خدا کا کوئی نہیں

9۔یٰسٓ۔( یٰس:1)ایک قول کے مطابق سیّد المرسلینصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسمائے مبارکہ میں سے ایک اسم یٰس ہے۔

جن و ملائک تیرے غلام،سب سے سوا ہے تیرا مقام یٰسین و طہ تیرے ہی نام، خیرالبشر پر لاکھوں سلام(ادیب رائے پوری)

10۔یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۔( المزمل:1)اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ کہہ کر ندا کی ہے۔

تیرےتووصف، عیبِ تناہی سے ہیں بری حیراں ہوں میرے شاہ، میں کیا کیا کہوں تجھے

وَ اَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ وَ اَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدَ النِّسَآءُ

خُلِقْتَ مُبَرَّأ مِنْ کُلِّ عَیْبٍ کَاَنَّکَ قَدْخُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ

(حضرت حسّان بن ثابت رَضِیَ اللہُ عنہ سے مذکور اشعار)


1۔رسول:وَاَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا۔ترجمۂ کنزالایمان:اور اے محبوب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لئے رسول بھیجا۔(پ5، النساء:79) عرب ہوں یا عجم،آپ تمام خلق کے لئے رسول بنائے گئے اور کل جہاں آپ کا امتی کیا گیا اور سید عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی جلالت،منصب اور رفعت و منزلت کا بیان ہے۔2۔کلیم اللہ:اللہ پاک سے کلام فرمانے والا ۔مِنْہُمْ من کلم اللہ ورفع بعضہُمْ درجٰتٍ۔ترجمۂ کنزالایمان:ان میں سے کسی سے اللہ نے کلام فرمایا اور کوئی وہ ہے، جسے سب در جوں پر بلند کیا۔(پ3، البقرۃ:353)یعنی بے واسطہ، جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر کلام سے مشرف فرمایااور سید الانبیاء صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو معراج میں وہ حضورپرنور، سید الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہیں کہ آپ کو بدر جاتِ کثیرہ تمام انبیاء علیہم السلام پر افضل کیا، اس پر امت کا اجماع ہے۔ 3۔المدثر:چادر اوڑھنے والا۔یٰٓایُّھَا المدَّثِّر ترجمۂ کنزالایمان:اے بالا پوش اوڑھنے والے۔(پ29،المدثر:1) یہ خطاب حضور سید عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ہے۔شانِ نزول:حضرت جابر رَضِیَ اللہُ عنہسے مروی ہے،سید عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں کوہِ حراپر تھا، مجھے ندا کی گئی: یا محمد انک رسول اللّٰہ میں نے اپنے دائیں بائیں نظر کی تو کچھ نہ پایا، جب اوپر کی جانب نظر کی تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جس نے ندا کی تھی، آسمان اور زمین کے درمیان بیٹھا ہے، یہ منظر دیکھ کر مجھ پر رعب طاری ہو گیا اور میں حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ عنہا کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا:مجھے چادر اڑھاؤ، انہوں نے چادر اڑھا دی، اس کے بعد حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: یایھا المدثر۔4،5،6۔شاھد:گواہی دینے والا۔مبشر:خوشخبری سنانے والا۔نذیر:ڈرانے والا۔یٰٓاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ۔ترجمۂ کنزالایمان:اے غیب کی خبریں بتانے والے نبی بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتا اور ڈر سناتا۔ (پ22،الاحزاب:45)شاھد کا ترجمہ حاضر ناظر بہت بہترین ترجمہ ہے۔مفردات راغب میں ہے:اَلشُّہُوْدُ وَالشَّہَادَۃُ الْجُنُوْدُ مَعَ الْمُشَاہَدَۃَ اِمَّا بَاالْبَصَرِ اَوْبِالْبَصِیْرَۃِ یعنی شہود اور شہادت کے معنی حاضر ہونا مع ناظر ہونے کے بصر کے ساتھ ہو یا بصیرت کے ساتھ اور گواہ کو بھی اس لئے شاہد کہتے ہیں کہ وہ مشاہدہ کے ساتھ جو علم رکھتا ہے، اس کو بیان کرتا ہے۔سیّد عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم تمام عالم کی طرف مبعوث ہیں، آپ کی رسالت عامہ ہے، جیسا کہ سورۂ فرقان کی پہلی آیت میں بیان ہوا تو حضور پرنور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم قیامت تک ہونے والی ساری خلق کے شاہد ہیں اور ان کے اعمال و افعال و احوال،تصدیق،تکذیب،ہدایت،ضلال سب کا مشاہدہ فرماتے ہیں، یعنی ایمان داروں کو جنت کی خوشخبری اور کافروں کو عذابِ جہنم کا ڈر سنانا۔7،8۔سراج:چمکتا ہوا۔منیر:چراغ۔وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا ہے اور چمکا دینے والا آفتاب۔(پ22،الاحزاب:46)سراج کا ترجمہ آفتاب قرآنِ کریم کے بالکل مطابق ہے کہ اس میں آفتاب کو سراج فرمایا گیا ہے، جیسا کہ سورۂ ٔنوح میں وجعل الشمس سراجا اور آخری پارے کی پہلی سورت میں ہے:وجعلنا سراجا وہاجا اور درحقیقت ہزاروں آفتابوں سے زیادہ روشنی آپ کے نورِ نبوت نے پہنچائی اور کفرو شرک کے ظلماتِ شدیدہ کو اپنے نورِ حقیقت افروز سے دور کر دیا اور خلق کے لئے معرفت و توحیدِ الہٰی تک پہنچنے کی راہیں روشن اور واضح کردیں اور ضلالت کی وادی تاریک میں راہ گم کرنے والوں کو اپنے انوارِہدایت سے راہ یاب فرمایا اور اپنے نورِ نبوت سے ضمائر و بصائر اور قلوب و اَرواح کو منور کیا،حقیقت میں آپ کا وجود مبارک ایسا آفتاب عالم تاب ہے، جس نے ہزارہا آفتاب بنا دیئے،اسی لئے اس کی صفت میں منیر ارشاد فرمایا گیا۔9۔خاتم النبیین:آخر الانبیاء۔وَخَاتَمَ النَّبِیِّینَ ترجمۂ کنزالایمان: اور سب نبیوں میں پچھلے۔(پ22،احزاب،آیت نمبر 45)یعنی آخر الانبیاء کے نبوت آپ پر ختم ہوگئی، آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی، حتی کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پا چکے ہیں، مگر نزول کے بعد شریعتِ محمدیہ پرعامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔حضور کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے، نصِ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحابہ کی بکثرت احادیث جو حدِّ تواتر تک پہنچی ہیں،ان سب سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سب سے پچھلے نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں، جو حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے وہ ختمِ نبوت کا منکر اور کافر خارج اَز اسلام ہے۔10۔المزمل:یٰا یُّھَاالْمُزَمّل ترجمۂ کنزالایمان: اے جھڑمٹ مارنے والے۔(پارہ 29،سورۂ المزمل، آیت نمبر 1)یعنی اپنے کپڑوں سے لپٹنے والے، اس کے شانِ نزول میں کئی قول ہیں۔بعض مفسرین نے کہا:ابتداء زمانہ وحی میں سیّد عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے، اسی حالت میں آپ کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کویاایھالمزمل کہہ کرنداء کی۔ایک قول یہ ہے کہ سید عالم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم چادر شریف میں لپٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے، اس حالت میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ندا کی گئی یآیھا المزمل۔ بہرحال یہ نداء بتاتی ہے کہ محبوب کی ہر ادا پیاری ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے معنی ہیں :نبوت و چادرِ رسالت کے حامل ولائق۔


حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکے نام ایک ہزار ہیں۔ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکے دو نام ذاتی ہیں۔محمد،احمد باقی نام صفاتی کیونکہ رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صفات بہت ہیں۔نیز ان کے آستانے پر مختلف حاجت مند اپنی حاجتیں لے کر حاضر ہوتے رہیں گے۔اس لیے اس ذات کے نام بہت ہوئے۔جیساحاجت مند آئے اسی نام سے پکارے۔ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمسے پہلے کسی کا نام محمد نہ ہوا۔ہاں! یہ ثابت ہے کہ نجومیوں نے پیشن گوئی کی تھی کہ نبی آخرالزمان پیدا ہونے والے ہیں جن کا نام محمد ہوگا تو عرب میں چار شخصوں نے اپنے بیٹوں کے نام محمد رکھے۔ کیوں کہ یہ سن کر انہوں نے یہ نام رکھے اسی لیے پہلے حضور ہی کا نام محمد ہوا۔کیونکہ ساری مخلوق بلکہ خود خالق ہمیشہ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہر ادا کی تعریف فرماتا رہے گا اسی لیے نامِ پاک محمد ہوا۔اللہ پاک نے اپنے محبوب کوتیس نام عطا فرمائے۔ عبدالمطلب نے بھی ایک خواب دیکھ کر حضور کا نام محمد رکھا۔حدیثِ پاک : حضرت جبیر بن مطعم رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں :میں نے نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکو فرماتے سنا کہ میرے بہت نام ہیں۔میں محمد ہوں۔میں احمد ہوں۔محو کرنے والا ہوں کہ اللہ پاک میرے ذریعے کفر کو محو فرمائے گا۔میں جامع ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے۔میں عاقب ہوں۔عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۔(بخاری مسلم بحوالہ مراٰۃ المناجیح ، 8 /52)اس حدیثِ پاک کے تحت مرقات میں لکھا ہے :حضور کے تین نام حمد سے مشتق ہیں:(1) محمد(2)احمد(3)محمود۔محمد کے معنی ہر طرح،ہر وقت،ہر جگہ،ہر ایک کا حمد کیا ہوا یا ان کی ہر ادا کی ہر وصف کی ذات کی حمد کی ہوئی مخلوق بھی ان کی حمد کرے۔ خالق بھی ان کی حمد فرمائے،جتنی نعمتیں جتنی سوانح عمریاں ہر زبان میں ہر وقت حضور کی ہورہی ہیں اتنی کسی کی نہیں ہوئیں کیوں نہ ہو کہ قیامت کا دن اس نعمت خوانی میں تو صرف ہوتا ہے۔دن ہے پچاس ہزار سال کا وہ نعمت خوانی میں خرچ ہوگا۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمجامع ہیں حامدیت اور محمودیت میں جیسے آپ مرید بھی اللہ پاک کے اور مراد بھی۔ یوں ہی آپ طالب بھی ہیں مطلوب بھی۔ یوں ہی آپ احمد بھی محمود بھی حبیب بھی ہیں محبوب بھی ۔حضور سورج ہیں۔دوسرے انبیا چاند تارے شمع تھے۔کفر تاریکی ہے اگرچہ تاریکی کو چاند ستارے بھی دور کرتے ہیں مگر وہ رات کو دن نہیں بناتے۔سورج رات کو دن بنا دیتا ہے نیز چراغ وغیرہ ایک محدود جگہ میں روشنی کرتے ہیں سورج ساری زمین کو منور کر دیتا ہے اس لیے صرف حضور کا نام ماحی ہوا۔ سب سے پہلے قبر ِ انور سے حضور اٹھیں گے، پھر دوسرے لوگ سب سے پہلے حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم میدانِ محشر میں پہنچیں گے،پھر حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پیچھے ساری مخلوق نیز سارے لوگ آخر کار شفاعت کی بھیک مانگتے حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کے پاس پہنچیں گے۔حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کے اردگرد جمع ہوجائیں گے،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہی کو گھیر لیں گے اور حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس آکر پھر بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں گے، اس لیے حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم حاشر ہیں۔عاقب بنا ہے عقب سے بمعنی پیچھے، حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سارے نبیوں سے پیچھے دنیا میں آئے نیز حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے پیچھے بہت خیر چھوڑ گئے ،لہٰذا حضور عاقب ہیں اورسب کی عاقبت حضور کے دم سے ہی ہے ۔

اس حدیثِ پاک کے تحت نزہۃ القاری میں ہے: پانچ اسما میں حصر نہیں اس لیے مفہوم عدد حجت نہیں یہاں ان پانچ کے ذکر کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اگلی امتوں اور کتابوں میں مشہور تھے یا اس لئے کہ یہ پانچوں اسما ایسے ہیں جو حضور کے ساتھ مختص ہیں۔کتبِ سابقہ میں احمد ہے اور قرآن میں محمد نیز آسمان میں احمد اور زمین میں محمد۔محمد کا معنیٰ ہے بہت زیادہ تعریف کیا ہوا۔احمد کا معنی بہت زیادہ تعریف کرنے والا ۔اسمائے صفاتِ حضور کتنے ہیں؟اس کا شمار اب تک نہیں ہو سکا۔دلائل الخیرات شریف میں دو سو بارہ ہیں علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے ابنِ عربی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمکے اسما ہزار تک ہیں۔ (نزہۃ القاری، 4 / 508)حدیثِ پاک:حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں:نبی پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلمہم کو اپنے نام بتاتے تھے فرماتے تھے :میں محمد ہوں۔میں احمد ہوں۔مقفی ہوں۔میں حاشر ہوں۔میں توبہ کا نبی ہوں۔میں رحمت کا نبی ہوں۔( مسلم بحوالہ مراۃالمناجیح، 8 /53)


اسماء اسم  کی جمع ہے، اس کا معنی نام ہے، علمائے کرام فرماتے ہیں:حضور پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بے شمار اسمائے مبارکہ ہیں، ان تمام اسمائے مبارک میں سے سب سے افضل نام محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے، جس کو اللہ پاک نے تخلیقِ کائنات سے دو ہزار سال پہلے اپنے محبوب کے لئے منتخب فرما دیا تھا، پہلی آسمانی کتابوں میں آپ کا نام مبارک احمد تھا،اللہ پاک نے آپ کو بھی شمار اسماؤں سے نوازا ہے، کبھی آپ کو مدثر فرما دیا تو کبھی آپ کو مزمل،کبھی اپنی محبت کا مزید اظہار کرنے کے لئے آپ کو نور و بشیر کے خطاب سے نوازا تو کبھی فرمایا:اے اللہ کے رسول۔حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تین نام حمد سے مشتق ہیں: محمد، احمداورمحمود۔علمائے کرام کی رائے:امام ابوبکر بن العربی رحمۃ اللہ علیہ نے ترمذی شریف میں لکھا ہے:اللہ پاک کے ایک ہزار اسم ہیں تو اسی طرح حضور پاک صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بھی ایک ہزار اسم ہیں۔ابنِ دحیہ نے کہا:آپ کے اسما و صفات 300 سے زائد ہیں۔اس کی دلیل قرآنِ پاک کی آیتِ مبارکہ سے ہے۔ارشادِ باری:ترجمہ:محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، کفار پر بہت سخت ہیں۔(الفتح:29)ارشادِ باری:جو میرے بعد آئیں گے، ان کا نام احمد ہے۔( صف، آیت نمبر6) حدیثِ مبارکہ:آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور میں ماحی ہوں،جس کے سبب اللہ پاک کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں اور میرے قدموں میں لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں۔قرآنِ پاک میں اسمائے مصطفی ملاحظہ کیجیئے:1۔آپ کا ایک اسم مبارک المنذر ہے۔2۔آپ کا ایک اسم مبارک الکریم ہے۔3۔آپ کا ایک اسم مبارک نعمت اللہ ہے۔4۔آپ کا ایک اسم مبارک النذیر ہے۔5۔آپ کا اسم مبارک المبین ہے۔6۔آپ کا ایک اسم مبارک الشھید ہے۔7۔آپ کا ایک اسم مبارک الحق ہے۔8۔آپ کا ایک اسم مبارک الصراط المستقیم ہے۔9۔آپ کا ایک اسم مبارک الحبیب ہے۔10۔آپ کا ایک اسم مبارک البشیر ہے۔


ہمارے پیارے نبی،حضرت محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اسمائے گرامی تمام مسلمانوں کے لئے نہایت عزت و احترام رکھتے ہیں۔ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کو کئی مقامات پر صفاتی ناموں سے مخاطب فرمایا۔ یہ اللہ پاک کی نبی کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ خاص محبت ہے۔یہاں آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چند صفاتی نام ترجمہ کے ساتھ ذکر کئے جاتے ہیں جن کا ذکر قرآنِ پاک میں ہے:(1)محمد: بہت زیادہ تعریف کیا گیا۔والذین امنو اوعملوا الصلحت وامنوا بما نزل علی محمدترجمۂ کنزالایمان:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(پ 22:الاحزاب: 40)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے:رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم کو تعجب نہیں ہوتا۔اللہ پاک قریش کی گالیاں اور مجھ پر سے لعنت کیونکر ٹال دیتا ہے۔ وہ مذمم کو برا کہتے ہیں، اس پر لعنت کرتے ہیں۔ میں تو محمد ہوں۔(بخاری،حدیث:3533)(2)رحیم:رحم کرنے والا۔لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رءوف رحیم ترجمہ ٔکنزالایمان:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان مہربان۔(پ 11: التوبہ: 28)اسی رحیمصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:من لا یرحم،لا یرحم ترجمہ:جو شخص دوسرے پر رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔(بخاری،حدیث:5997)یوں تو رحیم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ساری زندگی عفو و درگزر اور مہربانی کے واقعات سے بھری پڑی ہے تاہم یہاں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس میں آپصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفقت اپنے خاندان اور امت کے لئے یکساں نظر آتی ہے۔سید شہداء حضرت حمزہ رَضِیَ اللہُ عنہ کا جو تعلق رحیمصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ غزوۂ احد میں وحشی نے گھات لگا کر انہیں شہید کر دیا۔آپ نے مکہ فتح کیا تو یہ شخص بھاگ کر طائف چلا گیا، پھر مدینہ منورہ آیا۔رسول اللہصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور اپنے قصور کی معافی چاہی، رحیمصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اسے اپنے دامن رحمت میں جگہ دی اور معاف کر دیا۔انسانی تاریخ میں اپنے محسنوں کے قاتلوں کو صرف اللہ پاک کی رضا کے لئے معاف کر دینا رءوف رحیم ہی کا خاصہ ہو سکتا ہے۔(اسدالغابہ،5\410)(3)خیرالبشر:بہترین انسان۔قل سبحان ربی ھل کنت الا بشرارسولاترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ پاکی ہے میرے رب کو میں کون ہوں مگر آدمی اللہ کا بھیجا ہوا۔(پ 15: بنی اسرائیل:93)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بغیر کھانا کھائے اگلے روز کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا تو ایک صحابی نے عرض کی:اے اللہ پاک کے رسولصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم! آپ تو روزہ رکھتے ہیں! تو خیرالبشرصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:وَاَيُّكُمْ مِثْلِى اِنِّى اَبِيْتُ يُطْعِمُنِى رَبِّى وَيَسْقِينِترجمہ:تم میں سے کون میرے جیسا ہے؟ بے شک میرا رب مجھے رات کو کھلاتا اور پلاتا ہے۔(بخاری،حدیث: 1965)(4)رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیۡنَ:تمام جہانوں کے لئے رحمت۔وَمَاۤ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیۡنَترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے۔(پ 17: الانبیاء: 107) (5)خاتم النبیین: سلسلہ نبوت ختم کرنے والا۔مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۔ترجمۂ کنزالایمان:محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔(پ22: الاحزاب:40)حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہصلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اے لوگو !میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں،لہٰذا تم اپنے رب کی عبادت کرو،پانچ نمازیں پڑھو،اپنے مہینے کے روزے رکھو،اپنے مالوں کی خوش دلی کے ساتھ زکوة ادا کرو،اپنے حُکام کی اطاعت کرو (اور) اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔(معجم کبیر، صدی بن العجلان ابو امامتہ الباہلی، الخ، محمد بن زیاد الہانی عن ابی امامتہ،8/115،حدیث:7535)(6)شاہد:گواہی دینے والا۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَیْكُمْ كَمَاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا ؕ

ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے تمہاری طرف ایک رسول بھیجے کہ تم پر حاضر ناضر ہیں جیسے ہم نے فرعون کی طرف رسول بھیجے۔(پ 29: المزمل: 15) (7) رسول اللہ: اللہ پاک کا رسول۔مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ؕ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْترجمۂ کنزالایمان:محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل۔(پ 6: الفتح: 29)(8) عبداللہ:اللہ پاک کا بندہ۔هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ؕ-ترجمۂ کنزالایمان:وہی ہے کہ اپنے بندہ پر روشن آیتیں اتارتا ہے کہ تمہیں اندھیریوں سے اجالے کی طرف لے جائے۔(پ 27: الحدید: 9)(9)سراج منیر: روشن چراغ۔وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا(۴6)ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔(پ 22: الاحزاب: 46)(10)رسول کریم:مہربانی کرنے والا رسول۔ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمترجمۂ کنزالایمان:بے شک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں ہیں۔(پ 29: الحاقہ: 40)