13 شوال المکرم, 1441 ہجری

: : :
(PST)

علم حدیث کی اہمیت

Mon, 20 Apr , 2020
47 days ago

لغوی معنی: حديث کا لغوی معنی بات کرنا، گفتگو کرنا، وغیرہ کے ہیں۔

اصطلاحی معنی : حضور نبی اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اقوال افعال ، تقریرات اور احوال کو حدیث کہتے ہیں۔

حدیث کی اقسام :حدیث کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔ (1) حدیث قولی(2) حدیث فعلی(3) حدیث تقریری ۔

حدیث قولی : وہ تمام تر روایات جس میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو قولی حدیث کہلاتی ہے۔

حدیث فعلی : ایسی روایات جن میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فعل کا تذکرہ ہو حدیث فعلی کہلاتی ہے۔

حدیث تقریری : ایسی روایت جس میں حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ کا وہ عمل درج ہو جو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے کیا گیا ہو اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع نہ فرمایا ہو، حدیث تقریری کہلاتی ہے۔

حدیث اور سنت میں فرق:

(1) حدیث میں حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اقوال شامل ہوتے ہیں۔

(2)حدیث عام ہے یعنی حدیث کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل پر کیا جاتا ہے، جب کہ سنت خاص ہے اور اس سے مراد آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا طریقۂ زندگی ہے ۔

حدیث کی اہمیت اور اس کی دینی حیثیت :

جس طرح قران کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی حجت ہے، قرآن کی رو سے حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت ہے کچھ آیات سے جائزہ لیتے ہیں۔

(1)اسوہ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم امت کے لئے ذریعہ رہنمائی، ارشاد باری تعالی ہے:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( سورہ الاحزاب آیت ۲۱)

تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے

قرآن کریم کی عملی تفسیر سیرت مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہے ،مسلمان کو ہر معاملے میں رہنمائی اسوہ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ملتی ہے ۔

(2)اتباع رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایمان کی نشانی :

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت کی اتباع سے ہوتی ہے۔

فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ

تَرجَمۂ کنز الایمان: تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اُس کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ ۔(الاعراف 158)

(3)رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی حکمِ الہی کی خلاف ورزی۔

اگر کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق نہیں چلتا تو وہ قرآن اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو (ف۲۲) اور جس سے منع فرمائیں باز رہو

(سورہ حشر:7)

(4)اطاعتِ رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرض ہے :

الله تعالی نے اہل ايمان سے مخاطب ہو کر جہاں اپنی اطاعت کو لازم قرار دیا وہیں اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت بھی لازم قرار دی، اس لئے اگر کوئی قرآن پر ایمان رکھے مگر حدیث کا انکار کردے تو یہ حکمِ الہی سے روگردانی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو۔


علم حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
47 days ago

علم حدیث کی بہت اہمیت ہے  یوں سمجھئے کہ قرآن پاک اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم گویا کہ یہ مومن کے دو پر ہیں جن میں سے ایک بھی کم ہو تو مومن پرواز نہیں کر سکتا ۔

علم حدیث کے حاصل کرنے کی برکت سے مسلمان بدمذہبوں کی گمراہی سے محفوظ رہتا ہے ۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ کن علوم میں انسان کو مہارت حاصل کرنی چاہیے ؟ تو آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ جو شخص اصول فقہ اور اصول حدیث میں مہارت حاصل کر لے تو گمراہی سے محفوظ رہے گا ۔ (ملفوظات اعلی حضرت)

سنیے : رب تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرمادیا اور اس میں دین اور دنیا کی تمام چیزوں کا ذکر ہے تو پھر علم حدیث کو حاصل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ ذرا غور کیجئے حضرت ! قرآن پاک اگرچہ کامل و مکمل کتاب ہے لیکن اس کو کامل ومکمل سمجھانے والا ہونا چاہئے اور اس کو مکمل طور پر وہی سمجھا سکتا ہے کہ جس کے قلب اطہر پر یہ نازل ہوا ہو یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کے اس سمجھانے کو حدیث کہیں گے ۔

علم حدیث کی اہمیت تو اس قدر ہے کہ حضور جان عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں اگر تم اس کو مضبوطی سے تھام لو گے تو تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔ ان میں سے ایک کتاب اللہ ہے اور دوسری اللہ کے نبی کی سنت ۔

اب سنت ہمیں حدیث رسول سے ہی معلوم ہوسکتی ہے جس کو سن کر اور پڑھ کر اللہ کے نبی کی سنت پر عمل کر سکتے ہیں ۔ علم حدیث کی اہمیت حنفیوں کے امام کے قول سے بھی معلوم ہوتی ہے امام اعظم رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں جب تک لوگ علم کو حدیث کو طلب کرتے رہیں گے تو ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے اور جب حدیث کو چھوڑ دیں گے تو ان میں فساد آجائے گا ۔

نوٹ: علم حدیث، بنی ہاشم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ تک پہنچنے کا ایک مقبول ذریعہ ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو سرفروش اور عزت و سعادت مندی کے حق دار بن جاؤ ۔


علم حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
47 days ago

اللہ رب العزت نے انسانی ہدایت کے لیے کتب و صحائب نازل فرمائے اور خاتم النبین احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر آخری آسمانی کتاب قران مجید کو نازل فرمایا۔

قرآن پاک کو تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ

ترجمہ کنز الایمان : ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ (پارہ ۱۴، سورة النحل آیہ 89)

اور حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے متعلق فرمایا: لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ ترجمہ کنز الایمان : کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا۔

(پارہ 14 سورة النحل آیت 44)

لہٰذا حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم قرآن پاک کے شارح ہیں اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث قرآن پاک کی توضیح و تشریح ہے۔

علمِ حدیث کی اہمیت :

دین اسلام میں حدیث نبوی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اہمیت و مرتبہ کسی شخص پر مخفی نہیں ہے اور قران پاک نے خود اس کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے فرمایا:بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِؕ-وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)

روشن دلیلیں اور کتابیں لے کر اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں

(تفسیر صراط الجنان پارہ 14 سورةة النحل آیت 44)

اس آیت کے بعد سے واضح ہوتا ہے کہ سنت کا دامن تھامنا بہت ضروری ہے۔

صحابہ کرام علیہمُ الرِّضوان اپنے پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث مبارکہ کو زبانی یاد کرتے اور بعض صحابہ کرام احادیثِ مبارکہ کو لکھا بھی کرتے تھے۔

(منھج النقد فی علوم البحدیث ص 48 ، مطبوعہ دارالفکر)

عقلی دلیل :

منکرین حدیث خود سنت کو قبول کرتے ہیں اور خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ نماز کی کیفیت رکعتیں، زکوٰة کا نصاب اور اس کی مقدار وغیرہ بہت سے ایسے کام ہوتے ہیں جن پر قرآن پاک سے کوئی واضح دلیل موجود نہیں ہوتی اور یہ چیزیں حضور علیہ السلام کی احادیث سے ہی معلوم ہوتی ہیں۔ (منھج النقد فی علوم الحدیث ص ۳۴، مطبوعہ دارالفکر)

ایک عاشقِ رسول سچا مسلمان کبھی یہ جرات نہیں کرسکتا کہ وہ حدیث نبوی پر اعتراض کرے مسلمان تو قال رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم وسلم سنتے ہی سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔


علمِ حديث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
47 days ago

تحقیق احکامِ شریعت کا سرچشمہ قرآن مجید ہے ۔ بلاشبہ قرآن مجید فرقانِ حمید کی صراحت (وضاحت) وہدایت کے لئے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت و اتباع ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، اطاعت و اتباع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، اطاعت و اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغیر احکام الہی عزوجل کی تفصیلات کا جاننا اور آیات خداوندی کا مقصد و مراد سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔

اللہ کے پیارے حبیب احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا اہم ترین ذریعہ احادیث مبارکہ ہیں۔

حدیث کسے کہتے ہیں:

نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے اقوال احوال اور افعال مبارکہ کو حدیث کہتے ہیں۔

تو لہذا احادیث مبارکہ احکامِ شرع کا ماخذ (خزانہ) قرار پا گئی کہ یہ رسول محتشم صلی اللہ تعالیٰ علیہ ووسلم کے احکام و فرامین اعمال، اور آیات ِ قرآنی کی مراد و تشریح سے باخبر ہونے کا واحد ذریعہ ہے۔بلاشبہ احادیث مبارکہ سے باخبر ہونے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی ایک بیّن صورت محمد مصطفی احمد مجتبی رسول کریم علیہ الصلوة والسلام کی اتباع و اطاعت ہے۔

دیکھتے ہیں کہ فرقانِ حمید ہمیں کیا ہدایت فرماتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔( آل عمران ،31)

بے شک ہر مسلمان اللہ تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے ۔

تفسیر: اس آیت کریمہ کی تفسیر میں صدر الفاضل حضرت علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا ہے کہ اللہ کی محبت کا دعویٰ تب ہی سچا ہوگا جب آدمی پیارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع و فرما نبردار ہو۔ مزید فرماتے ہیں کہ محبت الہی عزوجل کا دعویٰ سید عالم علیہ الصلووة والسلام کی اتباع و فرمانبرداری کے بغیر ممکن ہی نہیں جو اس دعویٰ کا ثبوت دینا چاہے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرلے۔ (تفسیر پارہ ۳، سورہ آل عمران آیت ۳۱)

یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین سلف و خلف رحمہم اللہ المبین نے احادیث کو یاد کرنے اور دیگر لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہر دور میں بے حد اہتمام فرمایا۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان خوب فرماتے ہیں:

میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کس کو زباں نہیں

وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیان ہے جس کا بیاں نہیں

اتباع کا معنی ہے پیچھے چلنا، اصطلا ح میں خالص پیروی اور کامل اطاعت کو اتباع کہا جاتا ہے،

یحببکم اللہ : اللہ تمہیں دوست رکھے گا یقینا ہر کامل مومن کی ایک ہی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی مجھ سے راضی ہوجائے مجھے اپنا محبوب بنالے، تو پھر جسے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا محبوب بنا لے تو اس کے بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) تَرجَمۂ کنز الایمان: سن لو بےشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے نہ کچھ غم(یونس،62)

یغفرلکم ذنوبکم: تمہارے گناہ بخش دے گا، بلاشبہ جس کے گناہ بخشے جائیں تو اس کے لئے جنت کے اعلیٰ درجات ہیں، حضور علیہ الصلوة والسلام کی اطاعت و فرمانبرداری کا دوسرا نام احادیث پر عمل ہے اور کتب احادیث میں بھی حضور علیہ الصلوة والسلام کی اطاعت کے بارے میں ملتا ہے۔

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ منکر کے سوا میری ساری امت جنت میں جائے گی ، عرض کیا گیا منکر کون ہے؟ فرمایا جس نے میری فرمانبرداری کی جنت میں گیا، جس نے میری نافرمانی کی منکر ہوا۔ (رواہ البخاری، مشکوة المصابیح مراة المناجیح، صفحہ نمبر ۱۴۷، مطبوعہ قادری پبلشر)

تو ظاہر ہوا کہ احادیث کا علم حاصل کرکے اس پر عمل پیرا ہونا اللہ کا محبوب بننے بخشش کا ذریعہ حاصل کرنے اور جنت میں داخلے کا بھی سبب ہے۔


علم حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
47 days ago

علمِ حديث کی فضیلت: حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ، حدیث وہ علم ہے جس کی طرف لوگ اپنے کھانے پینے اور شب و روز کی تمام ضروریات میں محتاج ہوتے ہیں۔

حدیث :

جمہور محدثین کرام کی اصطلاح میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قول ،فعل اور تقریر کو کہتے ہیں۔

محدث کبیر، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:حدیث کی فضیلت کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اس کے قائل صاحب لولاک، باعث تخلیق کائنات ، احمد مجتبی، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جن کےفضائل و مکارم اور مدائح وحی محامد کا احصاکسی بشر کے لئے ممکن نہیں۔

امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمہ اللہ علیہ نےتدریب الراوی میں فرمایا:

علمِ حدیث اشرف العلوم ہے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ تعلق اور رابطہ کا موجب ہے،اس علم میں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اقوال و افعال سے بحث کی جاتی ہے، اس کے اشرف العلوم ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ باقی علوم شرعیہ کے لئے اس کی طرف ضرورت واقعی ہوتی ہے، علمِ فقہ میں اس کی طرف احتیاج ظاہر ہے اور علم تفسیر میں حدیث کی طرف ضروریات اس لئے ہے کہ جب تک رسول اللہ کےفعل و قول پر نظر نہ کی جائے کلام الہی سے مراد خداوندی ظاہر نہیں ہوتی یعنی قرآن کا علم حدیث کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا، اور معنی کو جانے بغیر عمل ممکن نہیں اس لئے تفسیر قرآن اور عمل باالقراٰن دونوں کا مدار حدیث پر ہے، علم حدیث علم تفسیر پر مقدم اور اس سے اشرف ہے۔

شرافت و فضیلت علم حدیث کی ایک یہ بھی ہے کہ ہر علم کی فضیلت موضوع کی فضیلت کے باعث ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ علم حدیث کا موضوع ذاتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلق ہیں لہذا علم حدیث بھی افضل العلوم قرار پائے گا۔

حدیث یاد کرنے کی فضیلت:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

نضراللہ امراء سمع مقالتی فحفظھا و وعاھا و ادھا فرب حامل فقہ غیر فقیہ ورب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ۔

ترجمہ :الله تعالي خوشحال کرے اس آدمی کو جس نے ميری بات سنی اور اس کو ياد رکها اور دل کی گہرائيوں میں اسے محفوظ کرکے دوسرے تک پہنچادیا، کیونکہ بہت سے حامل فقیہ غیر فقیہ ہوتے ہیں، اور بہت سے حامل فقہ اپنے سے بڑے فقیہ تک فقہ اٹھالے جاتے ہیں۔(مشکوة شریف کتاب العلم، رقم الحدیث 214)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث یاد کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔

حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ وسلم نے ارشاد فرمایا:من حفظ علی امتی اربعین حدیثا من امردینھا بعثہ اللہ فقیھا وکنت لہ ، یوم القیامة شافعاو شہیدا

ترجمہ : یعنی جو شخص ایسی چالیس حدیثیں جو احکام دین کے متعلق ہیں یاد کرے اور ان کی لوگوں میں تبلیغ کرے، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن شفاعت کرنے اور اس کے حق میں گواہ ہوں گا۔

(اتحاف السادة المتقین جلد ۱، ص ۷۵)

غرضیکہ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنا اور انہیں لوگوں تک پہنچانا ایسی فضیلت اور اجر و ثواب کا موجب ہے کہ ایسا شخص قیامت کے دن فقہا کے گروہ میں اٹھایا جائے گا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے گواہ اور شفارش فرمانےوالے ہوں گے، بشرطیکہ ایمان اور اخلاص کامل کےساتھ ہو اور مرتے دم تک کوئی ایسا گناہ سرزد نہ ہو جس سے یہ نیکی ضائع ہوجائیں کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

انما الاعمال بالخواتیم

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: -وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو(سورة حشر ۔ ۷)

نتیجہ :

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہم کنار ہونا۔

انما الاعمال بالخواتیم

اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اخلاص اور حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


علم حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
47 days ago

حضرت سیدنا ابو المواہب شاذلی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خواب میں اپنے دیدارِآثار سے مشرف کیا اور فرمایا : تم بروز قیامت میرے ایک لاکھ امتیوں کی شفاعت کرو گے۔ میں نے عرض کی اے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس قدر انعام و اکرام کیسے ہوا؟ ارشاد فرمایا :اس لئے کہ تم مجھ پر درود کا ہدیہ پیش کرتے رہتے ہو ۔ (الطبقات الکبری للشعرانی الجزء الثانی صفحہ 101 )

پڑھتے رہو درود و سلام بھائیو! مدام

فضل خدا سے دونوں جہاں کے بنیں گے کام

صلوا علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمد

علم کی تعریف :

علم ایک ایسی صفت ہے کہ جس میں یہ صفت پائی جائے اس پر ہر وہ چیز جسے یہ سیکھنا اور جاننا چاہتا ہے اپنی حقیقت کے مطابق عیاں ہوجائے ۔

حدیث کا مقام :

حضرت مقدم بن معدیکرب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگو یاد رکھو قرآن ہی کی طرح ایک اور چیز یعنی حدیث مجھے اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی ہے خبردار ایک وقت آئے گا ایک پیٹ بھرا یعنی متکبر شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوگا اور کہے گا: لوگو! تمہارے لئے یہ قرآن ہی کافی ہے اس میں جو چیز حلال ہے بس وہی حلال ہے اور جو چیز حرام وہی حرام ہے بلکہ جو کچھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا وہ ایسے ہی حرام ہے جیسے اللہ تعالی نے حرام کیا۔ پس تو گھریلو گدھا بھی تمہارے لئے حلال نہیں(حالانکہ قرآن میں اس کی حرمت کا ذکر نہیں ) نہ ہی وہ درندے جن کے نوکیلے دانت جن سے وہ شکار کرتے ہیں نہ ہی کسی آدمی کی گری پڑی چیز کسی کے لئے حلال ہے ہاں البتہ اس کے مالک کو اس کی ضرورت ہی نہ ہو تو پھر جائز ہے ۔

اسلام میں حدیث کی اہمیت:

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَام

تَرجَمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے (آل عمران ،19)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے انحراف ناپسندیدگی اختیار کرنے والوں سے اللہ پاک کس طرح مخاطب ہے دیکھیں:

اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے رب کی قسم لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دل میں تنگی محسوس نہ کریں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلے (سورۃ النساء 65)

کیا اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر عمل جائز ہے ؟

لوگو تمہارے رب کی طرف سے جو نازل ہوا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے علاوہ اولیاء کی پیروی نہ کرو (سورۃ الاعراف3 )

اور یہ بھی فرمایا اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کا طلب گار ہوگا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔

(سورۃآل عمران، 85 )

اللہ کے نازل کردہ دین میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقام ہے ؟

اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کے ساتھ مخصوص فرما کر آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی مکمل تشریح کا حکم دیا چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے: اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ارشادات نازل ہوئے ہیں وہ لوگوں سے بیان کر دو۔ (سورۃ النحل 44 )

آیت کریمہ سے اس حکم میں دو باتیں شامل ہیں:

۱۔الفاظ اور ان کی ترتیب یعنی قرآن مجید کا مکمل متن امت تک اس طرح پہنچا دینا جس طرح اللہ تعالی نے نازل فرمایا ۔

٢۔ الفاظ جملہ یا مکمل آیت کا مفہوم و معنی بیان کرنا تاکہ امت مسلمہ قرآن حکیم پر عمل کر سکے

قرآن مجید کی جو شرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اس کی کیا حیثیت ہے ؟

دینی امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اللہ کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں۔

اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔

(سورۃ نجم 3 ،4 )

جس نے رسول کی اطاعت کی تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی (سورۃ النساء 80)

یہی وجہ ہے کہ دینی امور میں فیصلہ کن حیثیت اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے ، پس اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر تم اللہ تعالی اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو ، معلوم ہوا کہ اسلام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہے ۔


علم  حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
47 days ago

اللہ عزوجل کا فضل و کرم کہ اس نے ہماری ہدایت کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے ہیں اگر واقعی انسان ایسی ہدایت کا ملتجی ہو (یعنی اس ہدایت کی خواہش رکھتا ہو) اور ان اسباب سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہوسکتا ، ہماری ہدایت کا سب سے پہلا اور بہترین ذریعہ قرآن پاک ہے اور قران پاک کے بعد احادیث کریمہ، ہدایت کا بہترین ذریعہ ہے، اللہ پاک قرآن پاک مین ارشاد فرماتاہے:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۴۴)

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کردو جو ان کی طرف اترا اور کہیں وہ دھیان کریں (النحل ۔44)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ہم نے تمہاری طرف قران نازل کیا تاکہ تم لوگوں کے سامنے اسے کھول کر بیان کرو، اگر قرآن بذاتِ خود ہی کافی ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا بلکہ فرماتا کہ ہم نے یہ قرآن اس لیے نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں کو پہنچادوں اس میں نبی کریم کے بیان کی حاجت ہی نہ ہوتی یہاں کھول کر بیان کرنے سے یہ ثابت فرمادیا کہ اے محبوب اس کے مفاہیم اور مطالب کو سمجھاؤاور لوگوں تک پہنچادو، پھر احادیث کی صورت میں آقا کریم نے مفاہیم اور مطالب لوگوں تک پہنچائےاللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔(حشر،7)

حجۃ الودا ع کے خطبے میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑکے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسراسنت اور تم نے اسے مضبوطی سے تھامے رکھا تو نجات پا جاؤ گے اگر اس سے پھر گئے تو گمراہ ہوجاؤ گے، یعنی جس نے قرآن کے تمام احکامات کو صدق دل سے تسلیم کیا اور احادیثِ طیبہ پر عمل کیا تو وہی شخص دنیا و آخرت میں کامیاب ہے۔

ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی اپنے آقا کریم کی سیرت طیبہ سے سبق حاصل کریں اور کوئی کتنا ہی دل دکھائے تکلیف دے ہمیں عفو و در گزر سے کام لینا چاہیے ہمیں کس طرح حسن سلوک کرنا چاہیے یہ سب احادیث کریمہ سے معلوم ہوا، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی علم دین حاصل کریں قرآن و حدیث کا علم سیکھیں تاکہ ہم بھی ایک بہترین زندگی گزار کر اپنی دنیا و آخرت کو بہترین بناسکیں۔

علمِ دین کا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ الحمدللہ دعوتِ اسلامی کا پیارا مدنی ماحول بھی ہے جہاں کثیر تعداد میں اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں علم دین حاصل کررہی ہیں۔ جیسے خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے ایسے ہی اچھی صحبت اور اچھا ماحول انسان کو اچھا بنادیتا ہے اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن و حدیث پر کما حقہ عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

علم حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
47 days ago

حجیتِ حدیث :

اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال کی پیروی کا حکم دیاہے ، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔

(سورة الحشر:7)

ضرورتِ حدیث:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانی معیشت کے اصول اور مبادیات اجمالا بیان فرمائے ہیں، جن کی تفسیر و تشریح احادیث نبویہ کے بغیر ممکن نہیں ہے نیز احکام کی عملی صورت بیان کرنے کے لیے اسوۂ رسول کی ضرورت ہے۔ صلوة ، زکوة، تیمم اور حج یہ محض الفاظ ہیں، لغت عربی ان الفاظ کے وہ معنی نہیں بتاتی جوشرع میں مطلوب ہیں، پس اگر احادیثِ رسول موجود نہ ہوں تو ہمارے پاس قرآن کریم کے معانی شرعیہ متعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔ (کتاب تذکرہ المحدثین، ص ۲۴)

مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے افعال کی اتباع قیامت تک کے مسلمانوں پر واجب ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بعد کے لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کا کس ذریعہ سے علم ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہمارے لیے نمونہ بنایا ہے، پس جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے سامنے نہ ہو ہم اپنی زندگی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں کیسے ڈھال سکیں گے؟

اورجب کہ ہمیں اسوۂ رسول پر اطلاع صرف احادیث سے ہی ممکن ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جس طرح صحابہ کے لیے بنفس نفیس حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات ہدایت تھی، اسی طرح ہمارے لیے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث ہدایت ہیں۔(کتاب تذکرة المحدثین،ص ۲۵)

رشد و ہدایت:

اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے لیے صرف قرآن کو کافی قرار نہیں دیا، بلکہ قرآن کے احکام کے ساتھ رسول کے احکام کی اطاعت اور آپ کے افعال کی اتباع کو بھی لازم قرار دیا ہے، اور قرآن کے احکام کو جاننے کے لیے احادیث کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

احادیث شریفہ کو اگر معتبر نہ مانا جائے تو نہ صرف یہ کہ حضور کی دی ہوئی، ہدایت سے ہم محروم ہوں گے، بلکہ قرآن کریم کی دی ہوئی ہدایت سے بھی ہم مکمل مستفید نہیں ہوسکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا، لیکن اس کے معانی کا بیان اور اس کے احکام کی تعلیم حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سپرد کردی چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ :ہم نے آپ کی طرف ذکر ( قرآن کریم) نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو بیان کریں کہ ان کی طرف کیا احکام نازل کیے گئے ہیں۔(سورہ النحل ۴۴)

وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے۔( سورہ البقرہ ۱۲۹)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جس طرح معانی قرآن کے مبین اور معلم ہیں اسی طرح آپ بعض احکام کے شارع بھی ہیں، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس حیثیت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا ہے:

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پاک چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔

(سورہ الاعراف ۱۵۷)


علم حدیث کی اہمیت

Sat, 18 Apr , 2020
48 days ago

مسلمانوں کے دین کا سرمایہ اور ان کی شریعت کی متاع کل حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نمونۂ حیات ہے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال و احوال اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے شب وروز کے معمولات ہی ان کے لیے سرچشمہ ہدایت ہے۔

حدیث کسے کہتے ہیں : حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کےاقوال ، افعال احوال حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تقریرات بھی احوال میں شامل ہیں، ان کو حدیث کہتے ہیں۔

ضرورت حدیث :

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانی معیشت کے اصول اور مبادی اجمالاً بیان فرمائے ہیں جن کی تعبیر و تشریح و احادیث نبویہ کے بغیر ممکن نہیں، نیز احکام کی عملی صورت بیان کرنے کے لیے اسوۂ رسول کی ضرورت ہے احادیث رسول ہمیں قرآنی احکام کی عملی تصویر مہیا کرتی ہے اگر حدیث رسول موجوددنہ ہوں تو ہمارے پاس قرآن کریم کے معانی شرعیہ متعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔

حجیت ِ حدیث:

اللہ تعالیٰ قران پاک میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرماں بردار ہوجاؤ ۔

(آل عمران ،31)

معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی اطاعت اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے افعال کی اتباع قیامت تک کے صحابہ کرام ، مسلمانوں پر واجب ہے، اب سوال یہ ہے کہ صحابہ کے بعد کے لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے افعال کا کس ذریعے سے علم ہوگا؟

معلوم ہوا کہ ہمارے لیے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث ہدایت ہیں اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے لیے صرف قرآن کو کافی قرار نہیں دیا، بلکہ قرآن کے احکام کے ساتھ رسول کے احکام کی اطاعت اور ان کے افعال کی اتباع کو بھی لازم قرار دیا ہے۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال جاننے کے کے لیے احادیث کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے

چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ : اور رسول مسلمانوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔

تدوین ِحدیث :

احادیث رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حفاظت اور کتابت کے سلسلے میں عہدِ رسالت سے لے کر تبع تابعین تک پورے تسلسل اور تواتر سے کام ہورہا ہے اور ڈھائی سو سال کے طویل عرصہ کے کسی وقفے میں بھی اس کام کا انقطاع نہیں ہوا، حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے احادیث کو قلم بند کرنا شروع کردیا تھا، چنانچہ روایت سے ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو 2210 ، حضرت انس رضی اللہ عنہ کو 2286 حضرت ابوہریرہ ررضی اللہ عنہ کو 5374 ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو 1540 احادیث حفظ تھیں۔

حدیث کی اقسام:

حدیث کی بہت سی اقسام ہیں مگر حدیث کی اصل تین اقسام ہیں۔

۱۔ صحیح

۲۔حسن

۳۔ضعیف

سب سے بلند مرتبہ صحیح کا ہے سب سے کم درجہ ضعیف کا ہے، حسن کا مرتبہ ان دونوں کے درمیان ہے۔

حدیث کی کتب :

حدیث کی کثیر کتب ہیں مگر سب سے افضل درجہ صحاح ستہ کا ہے:

۱۔ صحیح بخاری

۲۔ صحیح مسلم

۳، جامع ترمذی

۴۔ سنن ابو داؤد

۵۔ سنن نسائی

۶۔ سنن ابن ماجہ

ان کے علاوہ موطا امام مالک مستدرک ، اربعین ، اطراف وغیرہ بہت سی ہیں۔

اب آپ ہی سوچئے ! اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہ بتلاتے تو ہمیں کیسے معلوم ہوتا کہ لفظ صلاة سے یہ ہیئت مخصوص مراد ہے؟موذن کی اذان سے لے کر امام کے سلام پھیرنے تک نماز اور جماعت کی تفصیل ہمیں کیسے معلوم ہوتی، اسی طرح تمام احکام کی تفصیل قرآن میں کہیں نہیں ملتی صرف احادیث رسول سے ہی ثابت ہے۔

میں حدیث رسول لائی ہوں

لو مدینے کا پھول لائی ہوں

(تذکرة المحدثین )


علم حدیث کی اہمیت

Sat, 18 Apr , 2020
48 days ago

حدیث کا لغوی معنی :

لفظ حديث حدث سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی ہيں کسی چيز کا رونما ہونا، بعد میں لفظ حدیث گفتگو یا کلام کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

حدیث کا اصطلاحی معنی :

سرکارِ دوعالم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قول فعل اور تقریر ،صحابہ کرام علیہم الرضوان کے قول ،فعل، تقریر اور تابعین کے قول فعل اور تقریر کو حدیث کہا جاتا ہے۔

حدیث مبارک کی اہمیت کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

اورجو کچھ تمہیں رسول دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ

(سورہ حشر، آیت ۷)

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رب کریم عزوجل نے اپنے محبوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہر طریقے، راستے اور ہر وہ چیز جس سے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم منع فرمادیں ہر صورت میں اس سے رکنے اور حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیرو ی کرنے کا حکم دیا ہے۔

حدیث شریف کی حیثیت:

احکامِ شریعت کو بھی حدیث سے ثابت کیا جاتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قران مجید میں حدیث کی حیثیت کوبیان فرمایا ہے۔

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

’’آپ کے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے جھگڑوں میں آپ کو اپنا حاکم تسلیم نہ کرلیں۔

ایک واضح بات:

یہ بات ہر شخص پر ظاہر اور واضح ہے کہ احکام شریعت کا پہلا سرچشمہ قرآنِ عظیم ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے اور قرآن ہی کی یہ صراحت اور وضاحت رسول خدا کی اطاعت و ابتاع ہے۔

پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ہر حدیث قابل عمل ہے اور مسلمانوں کے لئے اپنی زندگی گزارنے کے لئے علمِ حدیث سیکھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے کیونکہ تقریبا زندگی کے تمام تر معاملات کا صحیح طور پر طریقہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کثیر احادیثوں میں ملتا ہے۔

قرآن کی تشریحات سے باخبر ہونے کا ذریعہ :

بغیر اتباع رسول کے احکامِ الہی کی تفصیلات کا جاننا اور قرآنی آیات کو سمجھنا ناممکن ہے اس لئے اب لامحالہ حدیث بھی اس لحاظ سے احکام شرع کا ماخذ قرار پا گئی کہ رسول خدا کے فرامین ان کے اعمال افعال اور آیات ِقرآنیہ کی تشریحات سے باخبر ہونے کا واحد ذریعہ ہے۔


علم حدیث کی اہمیت

Sat, 18 Apr , 2020
48 days ago

دوڑاتے ہيں دنيا ميں جا بجا نظريں ارے  اے نادان

ایک نظر اپنے دین پر بھی ڈال

ہر بات کو جاننے سے پہلے اس کی تعریف اہمیت فائدے کو مدنظر رکھتے ہیں آج موضوع بڑا دلچسپ ہے کہ علم حدیث کی اہمیت ۔

حدیث کی تعریف :

لغوی معنی :کلام ہے ۔

اصطلاحی معنی: سرکار دوعالم رحمتِ مختار بے چين دلوں کے چین سرور کونین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قول، فعل اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔

حجت حدیث : اس کا مطلب ہے کہ’’احکامِ شرع کو حدیث سے ثابت کیا جائے“ حجت حدیث پر بھی لوگ حجت مانگتے ہیں تو ان کے لئے ہے کہ حدیث کا حجت ہونا قرآن پاک کی متعدد آیات مبارکہ سے ثابت ہے ، خود خدا عزوجل نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت اور پیروی کا حکم دیا ہے اس سے حدیث کی قانونی اورشرعی حیثیت کو واضح فرمایا ہے۔

ارشاد خداوندی ہے:

اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ ۔ اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

حضور حق ہیں ان کی باتیں حق ہیں آیتِ قرآن ہے: وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے۔

نماز کو لیتے ہیں قرآن میں نماز کا جا بجا حکم آیا مگر یہ نہیں بتایا کہ ک نماز کی کتنی رکعت ہیں، اسی طرح زکوة کا حکم بھی ،

تو اس بات کا ہمیں حضور سے معلوم ہوتا ہے ان کے فرمان و اقوال سے۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ- (القرآن و سورة النسا ، ۸۰)

تَرجَمۂ کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔

مجموعۂ کلام: یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قرآن کی تشریح میں ہم اس علم کو کیسے اپنے آپ سے دور کرسکتے ہیں جس کا منبع حضور کی ذات ہو جیسا کہ پیر سید غلام معین الحق گیلانی قدس سرہ النورانی گولڑوی اپنی کتاب یادوں کے دریچے میں فرماتے ہیں۔

تیری بخشش کا ہے انداز زمانے سے جدا

بے طلب اپنی طلب سے سوا ملتا ہے۔

علم حدیث کی اہمیت

Sat, 18 Apr , 2020
48 days ago

حدیث کی اہمیت:

ایک مسلمان کی زندگی میں پیارے آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث مبارکہ کی بے انتہا اہمیت ہے کلام اللہ( قرآن مجید) کے بعد کلام رسول (حدیث شریف) کا ہی درجہ ہے ، کوئی بھی کلام اس سے بڑھ نہیں سکتا۔

حدیث مبارک ہی سے انسان کو معرفتِ الہی حاصل ہوتی ہے اور معرفتِ الہی ہی توحید کی اصل ہے، حدیث مبارک ہی مسلمان کو عبادت کا طریقہ سکھاتی ہیں اور عبادات کا شرعی مفہوم بھی احادیث سے ہی ملتا ہے حدیث مبارکہ زندگی کے ہر ہر شعبے میں رہنمائی فرماتی ہیں، خواہ وہ سیاسی شعبہ ہو یا کاروباری خواہ وہ سائنس ہو یا نجی زندگی، دینی معاملات ہوں یا دنیوی۔

ایک مسلمان کی زندگی میں جہاں قرآن کریم دماغ کی حیثیت رکھتا ہے تو وہیں حدیث شریف دل کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ ان دونوں کے بغیر ہی انسان نامکمل ہے۔

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-

ترجمہ کنزالایمان : اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب و حکمت سکھاتاہے

( آل عمران آیت:۱۶۴)

پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یہ تعلیمات حکمت سے بھرپور کلمات کے ذریعے امت تک پہنچ رہی ہیں اور زندگی کے ہر ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کررہی ہیں۔

ایک جگہ ارشاد فرمایا۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے (الاحزاب :۲۱)

جب تک حدیث مبارک کو ہم نہ لیں گے اس وقت تک قرآن پاک کے اس فرمان پر ہم کیسے عمل کرسکیں گے ۔ جس اسوه کی برکتیں صحابہ کرام نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر حاصل کیں اب وہی اسوہ ہمیں احادیث کے ذریعے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

حدیثِ مبارک بے شمار فوائد کی حامل ہیں کیونکہ قرآن کریم میں اللہ پاک نےنماز،روزہ، زکوة اور حج وغیرہ کی ادائیگی کا محض حکم ارشاد فرمایا ، جب کہ ان کا طریقہ حدیث مبارک سے ہی ملتا ہے، نماز کی ہیئت ، حج کے ارکان روزہ کا اصل مفہوم حدیث مبارک سے ہی ملتا ہے، حدیث مبارک ہی مومن کے لئے مشعل راہ ہے اس کے بغیر نجات ناممکن ہے۔

فرضی خاکہ :

اُم البنین نے اپنی معلمہ باجی سے سوال کیا کہ حدیث کے بغیر انسان کی عبادات و زندگی کس طرح نامکمل ہیں،حالانکہ قرآن کریم میں تو ہر خشک و ترکا بیان ہے، خود اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے۔

تو معلمہ باجی نے ارشاد فرمایا:بیٹابے شک قرآنِ کریم میں حق فرمایا گیا ہے کہ اس میں ہر خشک و تر کا بیان ہے، مگر بہت سی باتیں قرآنِ کریم میں اس طرح مختصر بیان کی گئی ہیں اور بعض پوشیدہ طور پر بیان کی گئی ہیں کہ ان کاحقیقی معنی سمجھنا ناممکن ہوتا ہے ان کو سمجھنے سے ایک عام انسان عاجز ہے مگر ان کا معنی ہمیں حدیث مبارک ہی سے سمجھ آسکتا ہے، بے شک قرآن ہی دین کی اصل ہے مگر اس اصل سے فیوض و فوائد حاصل کرنے کے لئے حدیث ہی بنیادی ذریعہ ہیں۔