علم حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
1 year ago

علمِ حديث کی فضیلت: حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: ، حدیث وہ علم ہے جس کی طرف لوگ اپنے کھانے پینے اور شب و روز کی تمام ضروریات میں محتاج ہوتے ہیں۔

حدیث :

جمہور محدثین کرام کی اصطلاح میں نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قول ،فعل اور تقریر کو کہتے ہیں۔

محدث کبیر، غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:حدیث کی فضیلت کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اس کے قائل صاحب لولاک، باعث تخلیق کائنات ، احمد مجتبی، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، جن کےفضائل و مکارم اور مدائح وحی محامد کا احصاکسی بشر کے لئے ممکن نہیں۔

امام جلال الدین سیوطی شافعی رحمہ اللہ علیہ نےتدریب الراوی میں فرمایا:

علمِ حدیث اشرف العلوم ہے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ تعلق اور رابطہ کا موجب ہے،اس علم میں حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اقوال و افعال سے بحث کی جاتی ہے، اس کے اشرف العلوم ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ باقی علوم شرعیہ کے لئے اس کی طرف ضرورت واقعی ہوتی ہے، علمِ فقہ میں اس کی طرف احتیاج ظاہر ہے اور علم تفسیر میں حدیث کی طرف ضروریات اس لئے ہے کہ جب تک رسول اللہ کےفعل و قول پر نظر نہ کی جائے کلام الہی سے مراد خداوندی ظاہر نہیں ہوتی یعنی قرآن کا علم حدیث کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا، اور معنی کو جانے بغیر عمل ممکن نہیں اس لئے تفسیر قرآن اور عمل باالقراٰن دونوں کا مدار حدیث پر ہے، علم حدیث علم تفسیر پر مقدم اور اس سے اشرف ہے۔

شرافت و فضیلت علم حدیث کی ایک یہ بھی ہے کہ ہر علم کی فضیلت موضوع کی فضیلت کے باعث ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ علم حدیث کا موضوع ذاتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افضل الخلق ہیں لہذا علم حدیث بھی افضل العلوم قرار پائے گا۔

حدیث یاد کرنے کی فضیلت:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

نضراللہ امراء سمع مقالتی فحفظھا و وعاھا و ادھا فرب حامل فقہ غیر فقیہ ورب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ۔

ترجمہ :الله تعالي خوشحال کرے اس آدمی کو جس نے ميری بات سنی اور اس کو ياد رکها اور دل کی گہرائيوں میں اسے محفوظ کرکے دوسرے تک پہنچادیا، کیونکہ بہت سے حامل فقیہ غیر فقیہ ہوتے ہیں، اور بہت سے حامل فقہ اپنے سے بڑے فقیہ تک فقہ اٹھالے جاتے ہیں۔(مشکوة شریف کتاب العلم، رقم الحدیث 214)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث یاد کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے۔

حضرت ابودردا رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ وسلم نے ارشاد فرمایا:من حفظ علی امتی اربعین حدیثا من امردینھا بعثہ اللہ فقیھا وکنت لہ ، یوم القیامة شافعاو شہیدا

ترجمہ : یعنی جو شخص ایسی چالیس حدیثیں جو احکام دین کے متعلق ہیں یاد کرے اور ان کی لوگوں میں تبلیغ کرے، اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن شفاعت کرنے اور اس کے حق میں گواہ ہوں گا۔

(اتحاف السادة المتقین جلد ۱، ص ۷۵)

غرضیکہ احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنا اور انہیں لوگوں تک پہنچانا ایسی فضیلت اور اجر و ثواب کا موجب ہے کہ ایسا شخص قیامت کے دن فقہا کے گروہ میں اٹھایا جائے گا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے گواہ اور شفارش فرمانےوالے ہوں گے، بشرطیکہ ایمان اور اخلاص کامل کےساتھ ہو اور مرتے دم تک کوئی ایسا گناہ سرزد نہ ہو جس سے یہ نیکی ضائع ہوجائیں کیونکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

انما الاعمال بالخواتیم

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: -وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو(سورة حشر ۔ ۷)

نتیجہ :

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہم کنار ہونا۔

انما الاعمال بالخواتیم

اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان اخلاص اور حسن خاتمہ نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم