میرے محترم اسلامی بھائیوں  ابھی ہم انشاءاللہ نا شکری کی مذمت کے متعلق پڑھتے ہیں آئیے پہلے ہم شکر کی تعریف پڑھتے ہیں شکر ہے کیا؟

شکر کی تعریف:‏ ’’شکر کی حقیقت نعمت کا تصور اور اُس کا اظہار ہے، جبکہ ناشکری نعمت کو بھول جانا اور اس کو چُھپانا ہے ۔ تو میرے محترم اسلامی بھائیوں اب ہم خود پہ توجہ کرتے ہیں کہ کیا جو اللہ پاک نے ہمیں نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں کیا ہم ان کو یاد کرتے ہیں کیا شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم ان کا خوب چرچہ کرتے ہیں یقنا ہم نہیں کرتے جبکہ نا شکری کے متعلق اللّہ پاک کے آخری نبی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس  صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے  ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں  کا شکر ادا نہیں  کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں  کرتا اور جو لوگوں  کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ  تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں  کرتا اوراللہ  تعالیٰ کی نعمتوں  کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں  بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، 4/ 514، الحدیث: 9119)

تفسیر صراط الجنان ،پ13،آیت 7 : اب ہمیں چاہئے کہ اس حدیث پاک کو اپنے سامنے رکھیں اور ہمارے پاس جو بھی نعمتیں ہیں ان کا شکر ادا کرنا شروع کر دیں۔۔ اسی طرح ایک اور مقام پہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت حسن  رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ  تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں  تو اللہ  تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ  تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، 1/ 484، الحدیث: 40)

تفسیر صراط الجنان، پ13، آیت 7 : تو میرے محترم اسلامی بھائیوں آج ہم دیکھیں تو ہمیں کتنی نعمتیں اللہ پاک نے عطاء فرمائیں ہیں لیکن ہم ان کا شکر ادا نہیں کرتے تو وہی نعمت ہماری لیے مشکل کا باعث بن جاتی ہے جیسے اگر ہم اپنے معاشرے میں دیکھے تو اکثر ایسا ہوتا ہوا دیکھا ہے کہ جب کسی شادی کی کوئی تقریب ہوتی ہے تو ہم اس میں غیر شرعی کام کرتے ہے تو یہی شادی جسے ہم بہت خوشی کے ساتھ کر رہے تھے یہی بعد میں لڑائی و جھگڑے کا باعث بن جاتی ہے اور بعض اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ طلاق تک معاملہ پہنچ جاتا ہے جبکہ کسی دوسری طرف دیکھتے ہے کہ اگر کوئی ایسی شادی جو شریعت کے مطابق ہوں تو ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔

تو میرے محترم اسلامی بھائیوں نعمتوں کا شکر ادا کرنا اپنے اوپر لازم کر لو تاکہ زندگی خوشحال ہو سکے۔

حضرت کعب  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور اس نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول، 3/ 555، رقم: 93)

تفسیر صراط الجنان، پ2،آیت 152: تو میرے محترم اسلامی بھائیوں ہمیں اس حدیث پاک سے بھی سمجھنا چاہیے کہ ہمارے پاس بہت سی نعمتیں ہے جیسے ہاتھوں کا سلامت ہونا، پاوں کا سلامت ، زبان کا صحیح ہونا، حتی کہ ہمارے پاس جو بھی چیز ہے وہ اللہ پاک کی ایک نعمت ہے لیکن ہم اسے اچھے سے استعمال نہیں کر پارہے کوشش کے باوجود بھی۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم شکر ادا نہیں کر رہے تو میرے محترم اسلامی بھائیوں ہمیں چاہے کہ اللہ پاک کی تمام نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہے نماز و روزہ کی پابندی کرتے رہے اور جو جو کام ہم پہ فرض ہے ان سب کی بجا آوری کرتے رہے ۔

اللہ پاک ہم سب کو شکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عطاء فرمائے (آمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم)


پیارے پیارے اسلامی بھائیو اللہ تعالی کی نعمت کا شکر کرنا چاہیے بلکہ اللہ تعالی کی نعمت کرنا شکر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کا عذاب بہت سخت ہے جو بندہ اللہ تعالی کی نعمت ناشکری کرتا ہے اللہ تعالی کل قیامت والے دن اس کا عذاب دے گا اور اللہ تعالی ہمیں ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کو بتاتے ہیں کہ قران پاک کی ایت اور حدیث کی روشنی میں آپ آپ کو نیچے دی ہوئی  قران کی ایت اور حدیث کی روشنی میں پیش کرتے ہیں

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ(152) ترجمۂ کنز الایمان تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔ تفسیر صراط الجنان کائنات کی سب سے بڑی نعمت حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر کرنے کے بعد اب ذکر ِ الہٰی اور نعمت الہٰی پر شکر کرنے کا فرمایا جارہا ہے۔

ذکر کی ا قسام: ذکر تین طرح کا ہوتا ہے: (1)زبانی ۔(2)قلبی۔(3) اعضاء ِبدن کے ساتھ ۔زبانی ذکر میں تسبیح و تقدیس، حمدوثناء،توبہ واستغفار، خطبہ و دعا اور نیکی کی دعوت وغیرہ شامل ہیں۔قلبی ذکر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنا، اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی عظیم قدرت کے دلائل میں غور کرناداخل ہے نیز علماء کاشرعی مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہے۔ اعضاء ِبدن کے ذکر سے مراد ہے کہ اپنے اعضاء سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ اعضاء کو اطاعتِ الہٰی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔ (صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 152، 128؟

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(7)وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۙ-فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ(8) ترجمۂ کنز الایمان اور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے۔ اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور زمین میں جتنے ہیں سب کا فر ہوجاؤ تو بیشک اللہ بے پرواہ سب خوبیوں والا ہے۔

تفسیر صراط الجنان {لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ: اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم اپنی نجات اور دشمن کی ہلاکت کی نعمت پر میرا شکر ادا کرو گے اور ایمان و عملِ صالح پر ثابت قدم رہو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں عطا کروں گا اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعے میری نعمت کی ناشکری کرو گے تو میں تمہیں سخت عذاب دوں گا۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: 5، 4 / 399-400)

حدیث نمبر1 حضرت حسن رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، 1/ 484 الحدیث: 60)?

حدیث نمبر2 حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع،6 / 516، الحدیث: 9119)?

حدیث نمبر3 سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ ترجمۂ کنزالایمان: یعنی اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، 2 / 123، الحدیث: 1522)?

اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین ثم امین جزاک اللہ خیرا


اللہ عزوجل کی بے شمار نعمتیں ساری کائنات کے ذرے ذرے پر پانی کے قطروں کی گنتی سے بھر کر درختوں کے پتوں سے زیادہ دنیا بھر کے پانی کے قطروں سے زیادہ ریت کے ذروں سے زیادہ ہر لمحہ لمحہ ہر گھڑی بن مانگے طوفان بارشوں سے تیز ترس رہی ہیں جن کو شمار کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اس کے باوجود آج کے دور میں بہت سے لوگ اللہ پاک کی نعمتوں کی ناشکری کرتے نظر آتے  ہیں آج ہم انشاءاللہ احادیث کی روشنی میں ناشکری کرنے والوں کے متعلق پڑھیں گے

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا

جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں نہ کرنا ناشکری ہے (شعیب الایمان الثانی والستون من انخ فصل المکافاتہ بالصنائح 6 ، 816 الحدیث 9119 )

حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالی جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالی ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ ناشکری کریں تو اللہ تعالی ان پر عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے (رسائل ابن ابی دنیا کتاب الشکر اللہ عزوجل 484 الحدیث 60)

انسان مختلف صورتوں میں اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے اپنے اعضا کے ذریعے اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے، مثلا فلمیں ، ڈرامے دیکھوالدین کی نافرمانی کرکے والدین جیسی نعمت کی ناشکری ،الغرض کہ انسان اپنے رب کی طرح طرح سے ناشکری کرتا ہے کر آنکھوں کی ناشکری، گانے باجے سن کر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کی بے شمار نعمتوں کی قدر کرکے اس کا شکر ادا کریں تاکہ وہ رب ہمیں مزید اپنی نعمتوں سے نوازے۔

اللہ کریم ہمیں اپنی ناشکری والے کاموں سے بچا کر اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کر ہاتھوں کی ناشکری

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول، 3 / 555، رقم::93


اللہ عزوجل کی بے شمار نعمتیں ساری کائنات کے ذرے ذرے پر پانی کے قطروں کی گنتی سے بھر کر، درختوں کے پتوں سے زیادہ، دنیا بھر کے پانی کے قطروں سے زیادہ، ریت کے ذروں سے زیادہ ہر لمحہ لمحہ ہر گھڑی بن مانگے طوفانی بارشوں سے تیز برس رہی ہیں جن کو شمار کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اس کے باوجود آج کے دور میں بہت سے لوگ اللہ پاک کی نعمتوں کی ناشکری کرتے نظر آتے  ہیں آج ہم انشاءاللہ احادیث کی روشنی میں ناشکری کرنے والوں کی مذمت کے متعلق پڑھیں گے

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا

جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور اور اللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں نہ کرنا ناشکری ہے (شعیب الایمان الثانی والستون من انخ فصل المکافاتہ بالصنائح 6 ، 816 الحدیث 9119 )

اسی طرح ایک حدیث پاک میں حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالی جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالی ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ ناشکری کریں تو اللہ تعالی ان پر عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے (رسائل ابن ابی دنیا کتاب الشکر اللہ عزوجل 484 الحدیث 60)

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول، 3 / 555، رقم::93

حضرت سیِّدُنا ابن عائشہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:منقول ہےکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے کو کوئی نعمت عطا کرے پھر وہ اس نعمت کے مُتَعَلِّق ظلم وزیادتی سے کام لے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس نعمت کو ضرور اس سے زائل کردیتا ہے۔(دین و دنیا کی انوکھی باتیں،ص514)

انسان مختلف صورتوں میں اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے اپنے اعضاء کے ذریعے اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے، مثلا آنکھ کے ساتھ فلمیں، ڈرامے دیکھ کر کان کے ذریعے گانے باجے چغلیاں وغیرہ سن کر، پاؤں کے ذریعے اللہ و رسول (عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے ممنوع جگہوں پر جا کر، ہاتھوں کے ذریعے رشوت سودی مال لینے دینے وغیرہالغرض اللہ پاک کی دی ہوئی نعمتوں کا غلط استعمال بھی کفران نعمت و ناشکری ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کی بے شمار نعمتوں کی قدر کرکے اس کا شکر ادا کریں تاکہ وہ رب ہمیں مزید اپنی نعمتوں سے نوازے۔

اللہ کریم ہمیں اپنی ناشکری والے کاموں سے بچا کر اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


پیارے اسلامی بھائیوناشکری بہت ہی بری چیزہے انسان کوکبھی بھی الله پاک کاناشکرانہیں ہوناچاہیے. ناشکری کرنےسے نعمتوں میں کمی ہوجاتی اورناشکری سےبچنے کی احادیث کریمہ میں بہت مذمت بیان کی گئی ہے الله پاک سے دعاہے کہ مجھے حق اور سچ لکھنے کی توفیق عطافرمائے۔

حدیث نمبر1 حضرت حسن رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ حوالہ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، 1/ 484 الحدیث: 60)

حدیث نمبر2 حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ حوالہ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع،6 / 516، الحدیث: 9119)

حدیث نمبر3سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ترجمۂ کنزالایمان: یعنی اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ حوالہ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، 2 / 123، الحدیث: 1522)

حدیث نمبر4 حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔حوالہ (رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول، 3 / 555 رقم: 93

حدیث نمبر5 دوجہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بحروبر صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : میں نے جہنّم میں اَکْثَرِیَّت عورتوں کی دیکھی ۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: کیونکہ وہ نا شُکری کرتی ہیں ۔ پُوچھا گیا کہ کیا وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نا شُکری کرتی ہیں ؟ ارشاد فرمایا: وہ شوہر اور ا س کے احسان کی نا شکری کرتی ہیں، چنانچہ تم کسی عورت کے ساتھ عُمر بھر اچھا سُلُوک کرو لیکن کبھی تم میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے گی تو کہے گی : میں نے تم سے کبھی بَھلائی دیکھی ہی نہیں ۔حوالہ (بخاری،کتاب النکاح ، باب کفران العشیر…الخ،3/463 حدیث:5197)

اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین ثم امین جزاک اللہ خیرا


اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ‘‘ (ابراہیم: 7) ترجمۂ کنزُالعِرفان:اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ ترجمہ: کنزالایمان تو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو (سورہ ابراھیم 7)

حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم اپنی نجات اور دشمن کی ہلاکت کی نعمت پر میرا شکر ادا کرو گے اور ایمان و عملِ صالح پر ثابت قدم رہو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں عطا کروں گا اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعے میری نعمت کی ناشکری کرو گے تو میں تمہیں سخت عذاب دوں گا۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: 4.5)

یہ آیت اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور انکی قوم کیلئے اتاری گئ لیکن یہ حکم ہم سب کیلئے ہے ہمیں بھی چاہئے کہ ہم رب تعالیٰ کی فرمانبرداری والے کام کریں اور اسکی ناشکری سے بجتے رہیں

شکر اورناشکری سے متعلق 4 اَحادیث بیان کی جاتی ہیں ۔

(1)… حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جسے شکر کرنے کی توفیق ملی وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ‘‘ یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ جسے توبہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے’’وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ‘‘ یعنی اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔ (در منثور، ابراہیم، تحت الآیۃ: 7، 5/ 9)

(2)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، 6/ 516، الحدیث: 9119)

(3)…حضرت حسن رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے، جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا، کتاب الشکر للّٰہ عزّوجلّ، 1 / 484، الحدیث: 60)

(4)…سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘ یعنی اے اللہ ! عَزَّوَجَلَّ، تو اپنے ذکر، اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فی الاستغفار، 2 / 123، الحدیث: 1522)

اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے ، اٰمین۔


حضرت انسان   سکون کے لئے دنیا کی رنگینیوں میں ڈوبے ہوئے دن رات کوشاں ہے ۔ دوست احباب دنیاوی تعلقات کی مضبوطی کو بحال رکھنے کے لئے خالق کائنات عزوجل کی نافرمانیوں کی فہرست بڑھتی ہی جا رہی ہےجبکہ اللہ پاک ان نافرمانیوں کے باوجود بندوں کو اپنی نعمتوں سے نواز رہا ہے ۔حالانکہ بندے کو تو چاہیے تھا کہ رب العالمین کی عطا کردہ نعمتوں پر شکر کے سجدے کرتا اور اپنے ضمیر کو بیدار کرتے ہوئے خالق کائنات عزوجل کی عطاؤں پر سجدوں کی کثرت کرتا جاتا ۔مگر ہاۓ افسوس ! جیسے جیسے خالق کائنات عزوجل کی عطائیں بڑھتی گئی میں شکر حقیقی کرنے کی بجائے خطاؤں کو بڑھا تا گیا

آئیے قارئین کرام ! چند احادیث مبارکہ سے ناشکری کی مذمت پڑھتے ہیں اور اپنے دل و دماغ کو شکر کی لگام ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

من لم یشکر القلیل لم یشکر الکثیر ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، مسند الکوفیین، حدیث النعمان بن بشیر، الحدیث: 18477، ج6، ص394۔ جس نے تھوڑے احسان کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے زیادہ کا بھی شکر نہیں کیا۔ شکریہ کسی چیز کا بدلہ دے کر یا تعریف یا دعا کر کے ادا کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ترمذی شریف کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ، (رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہاکا فرمانِ عالیشان ہے :''جسے کوئی چیز عطا کی گئی اگر وہ استطاعت رکھے تو اس کا بدلہ دے، اگر استطاعت نہ ہو تو اس کی تعریف کر دے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکر ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا اس نے ناشکری کی۔'' (جامع الترمذی،ابواب البر والصلۃ،باب ماجاء فی المتشبع۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث: 2034،ص 1855)

حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے ابن آدم !جب تو میرا ذکر کرتا ہے تو میرا شکر کرتاہے اور جب مجھے بھول جا تا ہے تو میری ناشکری کرتا ہے۔ '' (طبرانی اوسط ،من اسمہ محمد ، رقم 7265 ج 5،ص 261)

جنتی عمل حضرتِ سَیِّدُناعبداللہ بِنْ عَمْرو رضی اللہ عنہ مَا فرماتے ہیں کہ آقائے دو جہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگا ہ میں ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جنتی عمل کون سا ہے ؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:سچ بولنا ،بندہ جب سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب نیکی کرتا ہے محفوظ ہوجاتا ہے اور جب محفوظ ہوجاتا ہے تو جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر اس شخص نے عرض کی:یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جہنم میں لے جانے والا عمل کونسا ہے ؟ فرمایا:جھوٹ بولنا، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتاہے اور جب گناہ کرتاہے توناشکری کرتا ہے اور جب ناشکری کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہوجاتاہے۔(مسند امام احمد، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص، 2/589، حدیث:6652)

احادیث مذکورہ سے ایک صاحبِ عقل کو ناشکری کی مذمت کو سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔ انسان ہر جگہ پریشان ہے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو نعمتیں موجود ہیں ان پر شکر کی مقدار کو بڑھانے کے بجائے ناشکری کرتے ہیں ہوۓ اپنی بے جا خواہشات کی تمنا میں مارا مارا پھرتا ہے۔ ناشکرا انسان یہ سمجھ بیٹھا کج دولت کی فراوانی میں سکون و اطمینان ہے ۔

اے ناشکری پر قائم انسان! اگر تو دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست کو بھی چھان مارے تجھے ایک بات مشترک مکے گی کہ مال کی کثرت کہ باوجود وہ اس موجودہ پر شکر کرنے کی بجاۓ مزید خواہشات کی تکمیل کے لئے اپنے رب کے ہاں سجدہ ریز ہونے کے لئے بھی وقت نہ رہا ۔ ہاۓ افسوس

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اپنے نیک شاکر بندوں کے صدقے ہم ناشکروں کو شکر حقیقی کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین


اللہ جلّ شانہ کی لاتعداد نعمتیں  عالم دنیا کے ہر ہر ذر ے پر بارش کے قطروں سے زیادہ ، دنیا بھر کے سمندروں میں موجود پانی کے قطروں سے زیادہ ، اس عالم میں موجود ریت کے ذروں سے بڑھ کر ہر لمحہ ہر گھڑی بغیر کسی رکاوٹ کے برس رہی ہیں۔قرآن عظیم میں ہے!وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَؕ-قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ: ترجمہ ۔اور بیشک ہم نے تمہیں زمین میں جماؤ دیا اور تمہارے لیے اس میں زندگی کے اسباب بنائے بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ الاعراف (10)

یہاں سے خدائے متعال نے اپنی عظیم نعمتوں کو یاد دلایا ہے یقیناً اللہ پاک کی لامتناہی(بے شمار) نعمتیں ہم پر ہر وقت چھما چھم برس رہی ہیں جن کا شکر ادا کرنا ابن آدم پر لازم ہو جاتا ہے۔چنانچہ ارشاد ہوا ’’ہم نے تمہیں زمین میں ٹھکانہ دیا اور تمہارے لئے اس میں زندگی گزارنے کے اسباب بنائے اور اپنے فضل سے تمہیں راحتیں مہیا کیں ، غذا، پانی، بجلی، ہوا، سورج کی روشنی یہاں تک کہ بدنِ انسانی کا ہر ہر عضو سب اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں میں ناشکری کی نحوست غالب ہے۔ لوگوں کی کم ہی تعداد شکر ادا کرتی ہے اور جو شکر کرتے ہیں وہ بھی کما حقہ ادا نہیں کرتے۔یقیناً نعمتوں کی بے قدری اور ناشکری اللہ پاک کی ناراضگی کا سبب بھی ہے، اور اسکی نحوست سے نعمتں چھن جاتی ہیں۔

ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سرور، دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحر و بر صلی اللہ تعَالٰی عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم میرے پاس تشریف لائے اور روٹی کا ایک ٹکڑا گرا ہوا دیکھا، تو اسے (اٹھا کر ) پونچھا اور ارشاد فرمایا: اے عائشہ اللہ عزوجل کی نعمتوں کا احترام کیا کرو۔ اس لئے کہ جب یہ کسی اہل خانہ سے روٹھ کر چلی جاتی ہیں تو دوبارہ لوٹ کر نہیں آتیں ۔شعب الايمان للبيهقي، باب في تعديد نعم الله الحديث: 4557، ج 4، ص 132۔

شکر کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے چنانچہ حضرت سیدنا عطارد قرشی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم نور مجسم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل اپنے بندے کو شکر کی توفیق عطا فرماتا ہے تو پھر اسے نعمت کی زیادتی سے محروم نہیں فرماتا۔ (شعب الايمان للبيهقي، باب في تعديد نعم الله الحديث : 4526، ج 4، ص 124۔)

کیونکہ اس کا فرمانِ عالیشان ہے:لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ۔ترجمہ کنز الایمان: اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور رَحْمَةُ اللهِ الْقَوِی فرماتے ہیں: بیشک الله عزوجل جب تک چاہتا ہے اپنی نعمت سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا رہتا ہے اورجب اس کی ناشکری کی جاتی ہے تو وہ اسی نعمت کو ان کے لئے عذاب بنا دیتا ہے۔(الدر المنثور، پ 2 البقرة، تحت الآية 152، ج 1، ص 369۔)

گناہوں کو چھوڑ دینا بھی شکر ہےحضرت سید نا مخلد بن حسین ازدی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:شکر کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ بندہ گناہوں کو چھوڑ دے ۔(الدر المنثور، ب 2 البقرة، تحت الآية 152، ج 1، ص 371۔)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت پانے کا ایک ذریعہ حضرت سیدنا ابوسلیمان واسطی علَيْهِ رَحْمَةُ اللهِ الْكَافِی فرماتے ہیں:الله عزوجل کی نعمتوں کو یاد کرنے سے دل میں اس کی محبت پیدا ہوتی ہے ۔(تاريخ مدينة دمشق لابن عساكر، الرقم 4133 عبد العزيز، ج 36، ص 334۔)

ہمیں ہر وقت اللہ پاک کی نعمتوں کو یاد کرنا چاہیے اور ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں شکر کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین


نا شکری کے بارے میں حکم خداوندی: فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ(152)ترجمہ: کنزالایمانتو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔

تفسیر: صراط الجنان: جب کفرکا لفظ شکر کے مقابلے میں آئے تو اس کا معنی نا شکری اور جب اسلام یا ایمان کے مقابل ہو تو اس کا معنی بے ایمانی ہوتا ہے۔ یہاں آیت میں کفرسے مراد ناشکری ہے۔

شکر کی تعریف : شکر کا مطلب ہے کہ کسی کے احسان و نعمت کی وجہ سے زبان، دل یا اعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کی جائے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :یااللہ! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں کہ میرا شکر کرنا بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: جب تو نے یہ جان لیا کہ ہرنعمت میری طرف سے ہے اور اس پر راضی رہا تو یہ شکر ادا کرنا ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، الشطر الثانی، بیان طریق کشف الغطاء ۔۔۔ الخ، 4 / 105)

شکر کے فضائل اور ناشکری کی مذمت: قرآن و حدیث میں شکر کے کثیر فضائل بیان کئے گئے اور ناشکری کی مذمت کی گئی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ‘‘(ابراہیم: 7)ترجمۂ کنزُالعِرفان:اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

احادیث کی روشنی میں شکر کے فضائل: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہْ تو یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے نعمت دینے سے بہتر ہوتا ہے۔ (ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، 4/ 250، الحدیث: 3805)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمر دراز کرتا ہے اور انہیں شکر کا الہام فرماتا ہے۔(فردوس الاخبار، باب الالف، جماع الفصول منہ فی معانی شتی۔۔۔ الخ، 1/ 148، الحدیث: 954)

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول، 3 / 555، رقم: 93)خدا تعالیٰ ہمیں اپنا شاکر بنائے ۔۔آمین یارب العالمین


اللہ عزوجل نے  اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن کا شمار کرنا ناممکن ہے اگر ہم اپنے آس پاس جہاں کہیں بھی دیکھیں تو ہمیں ہر طرف اللہ عزوجل کی نعمتیں نظر آئیں گی، دینِ اسلام ،ایمان ، ہمارےا عضا ء، والدین ، وقت ، دن و رات وغیرہ الغرض اللہ عزوجل کی اتنی نعمتیں ہیں کہ کوئی بھی قلم انہیں لکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا گویا کہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں، اب ہم یہ غورکریں کہ ہم اپنے رب کی کتنی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور کتنی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں ؟ تو یقینا ً ہمیں یہ یاد بھی نہیں ہوگا کہ ہم نے کتنی اور کس طرح اپنے رب کی نعمتوں کی ناشکری کی ہے۔ناشکری کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیے !

حضرت سیدنا امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں بے شک اللہ عزوجل جب تک چاہتا ہے اپنی نعمت سے لوگوں کو نوازتا ہے اور جب اس کی ناشکری کی جائے تو وہ اسی نعمت کو ان کے لئے عذاب بنادیتا ہے۔ہمیں ناشکری نہیں کرنی چاہیے، ہر حال میں شکر ہی ادا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ترجمہ کنزالایمان۔ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔(پ 13، ابراہیم ،آیت7)

اور حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہہ الکریم نے ارشاد فرمایا:بے شک نعمت کا تعلق شکر کے ساتھ ہے اور شکر کا تعلق نعمتوں کی زیادتی کے ساتھ ہے، پس اللہ کی طرف سے نعمتوں کی زیادتی اسی وقت تک نہیں رکتی، جب تک کہ بندہ اس کی ناشکر نہیں کرتا۔(شکر کے فضائل ص (11)

حضرت شیخ ابن عطا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا گویا وہ ان کے زوال کا سامان پیدا کر تا ہے، اور جو شکر ادا کرتا ہے گویا وہ نعمتوں کو اسی سے باندھ کر رکھتا ہے۔ (التحریر والتنویر ج ۱، ص ۵۱۲)

نعمتوں کے بدلے ناشکری کا نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے۔نعمتوں کی ناشکری میں مشغول ہونا سخت عذاب کا باعث ہے۔(تفسیر رازی ج19، ص 67)


اللہ پاک کی بے شمار  نعمتیں ساری کائنات کے ذرے ذرے پر دنیا میں موجود پانی کے قطروں سے بھی زیادہ ہر لمحہ ہر گھڑی برس رہی ہیں کوئی بھی ان نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتا بلکے کوئی شمار کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ اِنَّ اللّٰهَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ترجمہ کنز العرفان: اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہیں کرسکو گے، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اللہ پاک کی اتنی نعمتیں ہونے کے باوجود انسان پھر بھی کتنا ناشکرا ہے کہ وہ اللہ پاک کی ناشکری اور نافرمانی کرتا ہے۔ حالانکے شکر اعلیٰ درجے کی عبادت ہے اور بقاء نعمت کا ذریعہ ہے۔ قارئین کرام آئیے چند احادیث کریمہ ناشکری کی مذمت پر مطالعہ کرتے ہیں۔

1۔ ناشکری باعثِ عذاب ہے: حضرت سیدنا امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بیشک الله پاک جب تک چاہتا ہے اپنی نعمت سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا رہتا ہے اور جب اس کی ناشکری کی جاتی ہے تو وہ اس نعمت کو ان کے لئے عذاب بنا دیتا ہے۔(الدر المنثور، پ2 البقرہ، تحت آیت 152، ج1، ص369)

2۔ ناشکری سے نعمت عذاب بن جاتی ہے:حضرت سیدنا امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب الله پاک کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر کا مطالبہ فرماتا ہے۔ اگر وہ اس کا شکر کریں تو اللہ پاک انہیں زیادہ دینے پر قادر ہے اور اگر ناشکری کریں تو انہیں عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔ وہ اپنی نعمت کو ان پر عذاب سے بدل دیتا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی، باب تعدید نعم اللہ ج4، ص127، الحدیث 4536)

3۔ نعمتوں کو بیان نہ کرنا ناشکری ہے:حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔

(شعب الایمان، الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی المکافأۃ بالصنائع، ج6، ص516، الحدیث: 9119)

4۔جہنم کے ایک طبق کا کھلنا:حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ،پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول، ج3، ص555، الحدیث93)

5۔ صابر و شاکر ہونے سے محرومی:حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو باتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں اللہ تعالیٰ اسے صابر و شاکر لکھتا ہے اور جس میں یہ دونوں خصلتیں نہ ہوں اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر نہیں لکھے گا (وہ دو خصلتیں یہ ہیں) جو شخص دینی معاملات میں اپنے سے اوپر والے کی طرف دیکھے اور اس کی پیروی کرے اور دنیاوی امور میں اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھے اور اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کرے کہ اسے اس پر فضیلت دی، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو صابر و شاکر لکھتا ہے۔ اور جو آدمی دینی امور میں اپنے سے نیچے والے کی طرف اور دنیاوی امور میں اپنے سے اوپر والے کی طرف دیکھے اور اس پر افسوس کرے جو اسے نہیں ملا، اللہ تعالیٰ اسے صابر و شاکر نہیں لکھتا۔(سنن ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب58، ج4 ص665، الحدیث2512)

قارئین کرام آپ نے چند ناشکری کی مذمت پر احادیث کریمہ کا مطالعہ کیا ان احادیث کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ نعمتوں کے بدلے ناشکری کا نتیجہ ہلاکت و بربادی ہے اور سخت عذاب کا باعث ہے اور نعمت کے زوال کا بھی سبب ہے۔

ہمیں چاہئے کہ ہم ہر لمحہ اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہا کریں چاہے وہ لمحہ خوشی کا ہو یا غم کا ہمیشہ اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہیں

اللہ پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے ہمیں اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے شکر گزار بندوں میں سے چن لے آمین


الله تعالٰی کی رضا پانے حصولِ جنت اور دنیا اور آخرت کی سرخروہ کامیابی کیلئے ہر طرح کے گناہ سے بچنا ضروری ہے پھر بعض گناہوں کا تعلق ظاہری اعضاء سے ہوتا ہے جیسے قتل ، غیبت و چغلی اور بعض گناہ باطنی ہیں جیسے تجسس ونا شکری ۔ ناشکری کی قرآن و حدیث میں بہت مذمت کی گئی ہے جیسے کہ درج ذیل میں5 احاديث هيں۔

(1)عذاب الہی کا سبب :حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالٰی کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالٰی ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے۔ جب وہ ناشکری کریں تو اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ا بن ابی دنیا، کتاب الشكر الله عز وجل ج 1 من 484 حدیث 60)

(2)نعمتوں سے محرومی کا سبب :حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا نا شکری ہے۔ ( شعب الايمان الثاني والستون من شعب الايمان. الخ فصل في المكافاة بالصنائع ج 6 ص516حدیث9119)

(3)جہنم میں داخل ہونے کا سبب :حدیث پاک میں ہے ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہنم میں لے جانے والا عمل کونسا ہے فرمایا جھوٹ بولنا، جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتا ہے۔ اور جب گناہ کرتا ہے تو نا شکری کرتا ہے جب ناشکری کرتا ہے تو جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ (مسند امام احمد مسند المکثرین و غیر هم ج 3 ص 571 حدیث 6800)

(4)جہنم میں عورتوں کی کثرت کا سبب :رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں سے فرمایا اے عور تو صدقہ کیا کرو کیونکہ میں نے اکثر تم کو جہنمی دیکھا ہے خواتین نے عرض کی: یارسول الله صلی الله علیہ وسلم کس سبب سے؟ فرمایا : اس لیے کہ تم لعنت بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ (بخاری ج 1 ص 123حدیث304)

(5)نعمتوں کو بیان نہ کرنا :حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے کوئی عطیہ دیا جائے اگر ہو سکے تو اس کا بدلہ دے دے اور جو کچھ نہ پائے وہ اس کی تعریف کر دے کہ جس نے تعریف کر دی اس نے شکریہ ادا کیا جس نے چھپایا اس نے ناشکری کی اور جو ایسی چیز سے ٹیپ ٹآپ کرے جو اسے نہ دی گئی وہ فریب کے کپڑے بننے والے کی طرح ہے ۔ (کتاب مراة المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 4 حدیث نمبر 3023)

اللہ تعالٰی اپنے فضل وکرم سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اور شکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے۔( آمین بجاہ النبین صلی اللہ علیہ وسلم)