پیارے اسلامی بھائیو ! اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس میں ہر شے کا واضح بیان ہے ان ہی میں سے ایک جانوروں کے حقوق بھی ہیں۔ جس میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے ۔ ان کے حقوق کو ادا کرنا ہے۔ آئیے جانوروں کے حقوق کے بارے میں چند احادیث آپ پڑھیے ۔

(1) جانوروں کا خیال رکھو : روایت میں ہے کہ رسول اللہ تعالی علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ان بے زبان چو پایوں کے معاملے میں اللہ پاک سے ڈرو ان پر اس وقت سوار ہوں جب یہ صحیح حالت میں ہوں اور انہیں اسی وقت کوڑا مارو جب یہ ٹھیک ہوں ۔ ( ابو داؤد ، کتاب الجہاد ، باب ما یؤمربہ من القیام علی الدواب و البھائم، جلد 4، صفحہ نمبر 32 حدیث نمبر 2548)

(2) جانوروں کو وقت پر کھانا دینا : حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک عورت جہنم میں گئی ایک بلی کے سبب کہ اسے باندھے رکھا تھا، نہ خود کھانا دیا نہ چھوڑا کہ زمین کا گرا پڑا یا جو جانور اس کو ملتا کھاتی۔(جامع الاحادیث ، باب : ، جلد: 4 ،ص : 199 ، حدیث : 238 ۔ اکبر بک سیلرز لاہور )

(3) جانور کو مثلہ نہ کرو : حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس پر اللہ کی لعنت جو کسی جاندار کو مثلہ کرے ۔ یعنی جانوروں کے اعضاء کو کاٹے۔ ( جامع الاحادیث ، ج : 4 ، ص : 201 ، ح : 2384 ۔ اکبر بک سیلرز لاہور )

(4) ناحق قتل نہ کرو : روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی چڑیا یا اس سے اوپر کے کسی جانور کو ناحق مار ڈالے تو اس کے قتل کے متعلق اللہ اس سے پوچھے گا عرض کیا گیا رسول الله اس کا حق کیا ہے فرمایا کہ اسے ذبح کرکے کھائے یہ نہ کرے کہ اس کا سر کاٹے پھر اسے پھینک دے۔( مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، باب : شکار اور ذبیحوں کا بیان ، جلد : 5 ، ص : 679 ، ح : 3915 مکتبہ اسلامیہ )

(5) بلاوجہ جانوروں کو برا نہ کہو : روایت ہے حضرت خالد ابن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ۔ ( مراۃ المناجیح شرح مشکوة المصابیح ، باب : کس جانور کا کھانا حلال اور کس کا حرام ، جلد : 5 ، صفحہ نمبر : 700 ، حدیث نمبر : 3955 ، مکتبہ اسلامیہ )