بیعت رضوان تاریخ اسلام کا وہ ایمان افروز واقعہ ہے جو رسول اللہ ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی بے پناہ محبت وفاداری اور قربانی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے اور ان سے صرف حضور ہی راضی نہیں بلکہ اللہ بھی ان سے راضی ہے۔ آئیے قرآن پاک سے اہل بیعت رضوان کی شان سنتے ہیں۔

لَقَدْ رَضِیَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ (پ26، الفتح:18) ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ راضی ہوا مسلمانوں سے جب وہ اس درخت کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔

حدیبیہ میں حاضر ہونے سے پیچھے رہ جانے والوں کے احوال بیان کرنے کے بعد یہاں سے اس کی تفسیر میں ہے: اے پیارے حبیب ﷺ بے شک اللہ ایمان والوں سے راضی ہوا جب وہ حدیبیہ کے مقام پر درخت کے نیچے تمہاری بیعت کر رہے تھے اور جس پر بیعت کر رہے تھے اس سے متعلق ان کے دلوں میں موجود صدق اخلاص اور وفا سب اللہ کو معلوم تھا تو اللہ نے ان کے دلوں پر اطمینان اتارا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا اس سے خیبر کی فتح مراد ہے جو کہ حدیبیہ سے واپس آنے کے چھ ماہ بعد حاصل ہوئی۔ (تفسیر کبیر، 10/49)

آئیے بیعت رضوان میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام کی فضیلت سنتے ہیں۔ اس بیعت میں جن صحابہ کرام نے شرکت فرمائی ان کی ایک فضیلت تو اسی آیت میں بیان ہوئی کہ اللہ نے انہیں خاص طور پر اپنی رضا سے نوازا اور دوسری فضیلت حدیث پاک میں بیان ہوئی، جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ (ترمذی، 5/462، حدیث:3886)

بیعت رضوان کا پس منظر: حدیبیہ کے مقام پر جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیعت کی انہیں چونکہ رضائے الہی کی بشارت دی گئی اس لیے اس بیعت کو ”بیعت رضوان“ کہتے ہیں۔

اس بیعت کا ظاہری سبب یہ پیش آیا کہ حضور ﷺ نے حدیبیہ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اشرافِ قریش کے پاس مکہ مکرمہ بھیجا تاکہ انہیں اس بات کی خبر دیں کہ حضور ﷺ کعبہ کی زیارت کے لیے عمرہ کے ارادے سے تشریف لائے ہیں اور آپ کا ارادہ جنگ کرنے کا نہیں ہے اور ان سے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو کمزور مسلمان وہاں ہیں انہیں اطمینان دلا دیں کہ مکہ مکرمہ عنقریب فتح ہوگا اور اللہ اپنے دین کو غالب فرما دے گا۔ حضرت عثمان سردان قریش کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں خبر دی قریش اس بات پر متفق رہے کہ نبی کریم ﷺ اس سال تو تشریف نہ لائیں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر آپ کعبہ مکرمہ کا طواف کرنا چاہیں تو کر لیں حضرت عثمان غنی نے فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے بغیر طواف کروں ادھر حدیبیہ میں موجود مسلمانوں نے کہا حضرت عثمان بڑے خوش نصیب ہیں جو کعبہ مکرمہ پہنچے اور طواف سے مشرف ہوئے حضور نے ارشاد فرمایا: میں جانتا ہوں کہ وہ ہمارے بغیر طواف نہ کریں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق مکہ مکرمہ کے کمزور مسلمانوں کو فتح کی بشارت بھی پہنچائی پھر قریش نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور حدیبیہ میں خبر مشہور ہو گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید کروا دیے گئے ہیں اس پر مسلمانوں کو بہت جوش آیا اور رسول اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کفار کے مقابلے میں جہاد پر ثابت قدم رہنے کی بیعت لی یہ بیعت ایک بڑے خوار دار درخت کے نیچے ہوئی جس سے عرب میں سمرہ کہتے ہیں حضور ﷺ نے اپنا بایاں دست مبارک دائیں دست مبارک میں لے لیا اور فرمایا کہ یہ عثمان کی بیعت ہے اور دعا فرمائی یا رب عثمان تیرے اور تیرے رسول ﷺ کے کام میں ہیں۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سید المرسلین ﷺ کو نور نبوت سے معلوم تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید نہیں ہوئے جبھی تو ان کی بیعت لی مشرکین اس بیعت کا حال سن کر خوفزدہ ہوئے اور انہوں نے حضرت عثمان غنی کو بھیج دیا۔ یہ واقعہ بھی شان اہل بیعت رضوان پر دلالت کرتا ہے۔ (خازن، 4 150، 151،خزائن العرفان، ص 943)

اللہ پاک ہمیں بھی اہل بیعت رضوان کی محبت عطا فرمائے۔ آمین