محمد
اطہر علی (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
مطالعہ
عقائد کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنا ایک مسلمان کے لیے بنیادی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے
اعمال کی
قبولیت کا
دارومدار درست عقیدے پر ہے عقائد کی اصلاح و درستگی کے بغیر اچھے سے اچھا عمل بھی
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ ارشادِ خدا عزوجل ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ
اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا
یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ(۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ
ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری
کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا یہی ہے دور کی گمراہی۔ (سورۃ ابراہیم:18)
لہذا ثابت
ہوا کہ اگر کوئی انسان کثیر نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کر لے لیکن اس کے عقائد میں
فساد ہو تو یہ ذخیرہ راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگا۔(کتاب العقائد، مقدمہ)
ایک اور
مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ
الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ
الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ
ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ
السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ
الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ
وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ
اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا
مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور
کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور
یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز
قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے
مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی
پرہیزگار ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:177)
تفسیر صراط الجنان:لَیْسَ
الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ: اصل نیکی
یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو۔ مفسرین نے اس آیت کا خاص شانِ
نزول بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ خطاب اہلِ کتاب اور مؤمنین سب کو ہے اور
معنی یہ ہیں کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرلینا اصل نیکی نہیں جب تک عقائد درست نہ ہوں
اور دل اخلاص کے ساتھ ربِّ قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔
اس آیت
مبارکہ سے بھی عقائد کے علم کی اہمیت کے بارے میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى
اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی
اِثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلٰى ثَلَاثٍ
وَسَبْعِينَ مِلَّةٍ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا:
وَمن هِيَ يَا رَسُولَ الله قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وأَصْحَابِيْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
روایت ہے
حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ یقینًا بنی اسرائیل
بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جاوے گی سوا ایک ملت کے
سب دوزخی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ وہ ایک فرقہ کون ہے فرمایا وہ جس پر میں
اور میرے صحابہ ہیں اسے ترمذی نے روایت کیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:1، حدیث نمبر:171)
اس حدیث مبارکہ کے مطابق امت میں 73 فرقوں میں
سے صرف ایک گروہ جنت میں جائے گا، اللہ تعالی کہ کرم سے وہ گروہ جس پر حضور ﷺ اور
حضور ﷺ کے تمام اصحاب علیہم الرضوان ہیں۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے وہ گروہ
اہل سنت و جماعت ہے اس گروہ کے عقائد کو سیکھنا اور اپنانا ہی دائمی کامیابی اور
جہنم سے نجات کا راستہ ہے۔
دورہ حاضر
میں بھی نئے نئے فتنے سر اٹھاتے ہیں اور جو مسلمان عقائد کے حوالے سے کمزور ہوتا
ہے یا جسے اپنے عقائد کے بارے میں صحیح طرح معلوم نہیں ہوتا تو ایسے مسلمانوں کا
گمراہی میں جا پڑنے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اس مسلمان کے مقابلے میں جسے اپنے
عقائد پر گرفت ہوتی ہے اور اپنے عقائد کو جانتا ہے تو اسی لیے مطالعہ عقائد ہر
مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کو گمراہی کے گڑھے میں
گرنے سے بچا سکے۔عقائد کا علم ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالی کی صفات کیا ہیں اور
انبیاء کرام علیہم السلام، بالخصوص حضور نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ کیا ہے جب تک
ہمیں اللہ کی توحید اور رسالت کے صحیح تقاضوں کا علم نہیں ہوگا ہم محبت و اطاعت کا
حق ادا نہیں کر سکتے۔مسلک اعلی حضرت میں عقائد کے علم کا ایک بڑا مقصد دل میں رسول
اللہ ﷺ کے سچی محبت،حضور ﷺ کی تعظیم اور ان کے فضائل و کمالات (جیسے علم غیب،
نورانیت، اور شفاعت)کو اجاگر کرنا ہے جو کہ ایمان کی اصل ہے۔
بزرگان دین کی خدمات: اس حوالے
سے ہمارے بزرگان دین رحمۃ اللہ علیہم نے بہت کام کیا ہے اور اپنی کتابوں میں کتاب
العقائد شامل کر کے عقیدے کی اہمیت کو خوب واضح کیا ہے۔
اگر اعلی
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کو بھی دیکھا جائے تو آپ نے بھی عقائد پر بہت کام
کیا ہے۔بیسویں صدی کے آغاز میں جب نئے فتنے اٹھے، تو آپ نے قدیم عقائد کی حفاظت کی۔آپ
نے "الدولۃ المکیہ" جیسی کتاب لکھ کر اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی
عظمت و شان (عقیدہِ رسالت) کو مدلل طریقے سے واضح کیادورہ حاضر کی عالم بنانے والی
کتاب بہار شریعت جس کے مصنف مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ہیں انہوں نے بھی
اپنی کتاب بہار شریعت میں سب سے پہلے عقائد کے متعلق ہی بحث کی ہے کیونکہ مسلمان
کہ اگر عقائد ہی درست نہ ہوئے تو اس کے سارے اعمال برباد ہیں۔ اور اسی کے ساتھ
ساتھ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب جاءالحق عقیدے کی مضبوطی کے
حوالے سے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
مطالعہ
عقائد کے لیے کتابیں: مطالعہ عقائد کے لیے بہت سی کتابیں علماء اہل سنت نے تصنیف
فرمائی لیکن ان میں سے چند مشہور کتابیں ہم ذکر کر دیتے ہیں جو آپ کے مطالعہ میں
ہوں گی تو ان شاءاللہ آپ کا عقیدہ مضبوط ہوگا۔
Dawateislami