اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے
برگزیدہ انبیاء علیہم السلام کو بھیجا جو وحی کے نور سے دلوں کو روشن کرتے اور عملی
زندگی میں معلم و مربی بن کر انسانیت کی تربیت فرماتے۔ان سب ہستیوں کے سردار ہمارے
آقا و مولا محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے معلمِ اعظم کا شرف عطا فرمایا۔ آپ ﷺ کا اسلوبِ تعلیم نہایت
حکمت بھرا اور انسانی فطرت کے مطابق تھا۔ آپ ﷺ مشکل سے مشکل حقیقت کو بھی ایسی
مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے واضح فرماتے کہ سننے والا نہ صرف فوراً سمجھ جاتا
بلکہ وہ بات ہمیشہ کے لیے دل میں نقش ہو جاتی ۔ اسی اندازِ مبارک کی روشنی میں ہم ”نبی
کریم ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانا“ کے چند روشن نمونے پیش کرتے ہیں۔
(1)مومن مومن کے لیے عمارت کی
طرح ہے: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک
مومن ، دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا
ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل
کرکے اشارہ فرمایا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب
المظالم ، باب: نصر المظلوم ، جلد 02 ، ص: 863 ، حدیث نمبر: 2314، دار ابن کثیر )
یعنی مومن ایک دوسرے کے ساتھ ایسے
جُڑے رہتے ہیں جیسے دیوار کی اینٹیں، جو ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں۔
(2) میری امت کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے ۔
معلوم نہیں کہ اس کی پہلے والی اچھی ہے یا بعد والی ۔ ( مسند احمد ، جلد 19 ، ص: 334،حدیث نمبر: 12327، مؤسسۃ الرسالۃ ) یعنی جیسے بارش کا ایک ایک قطرہ
برکت والا ہوتا ہے ، اسی طرح میری ساری کی ساری امت خیر والی ہے ۔ (مراۃ المناجیح ،ج 08 ، حدیث نمبر: 6287 ملخصاً)
(3) پانچوں نماز کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے پر نہر ہو اور وہ
روزانہ اُس نہر سے پانچ بار نہائے تو کیا اس پر کوئی کچھ میل رہ جائے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ نمازیں اسی
طرح ہیں ، اللہ تعالی ان کے ذریعے خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ۔ ( سنن ترمذی ،ابواب امثال عن رسول اللہ ﷺ ، جلد 05 ، ص: 146 ، حدیث نمبر: 3084، دار الرسالۃ
العالمیہ )
یعنی جس طرح گھر کے دروازے پر
موجود نہر تک تم بآسانی پہنچ سکتے اور اس میں نہاکر اپنا میل کچیل دور کرسکتے ہو ،
اسی طرح نماز تک پہنچنے کے لیے تمہیں کوئی مشکل جھیلنے کی ضرورت نہیں ، تم بآسانی
نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرسکتے ہو ۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، جلد 07 ، حدیث نمبر:
1043 )
(4) قرآن سے خالی دل کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ ( سنن ترمذی ، ابواب فضائل
القرآن، جلد 05 ، ص: 177 ، حدیث نمبر: 2913، شرکۃ مکتبۃ و مطبعۃ مصطفی البابی
الحلبی، مصر )
جس دل میں قرآن نہ ہو، وہ دل ایسے
ہے جیسے انسانوں اور سامان سے خالی ویران مکان۔
(5) حسد اور خرچ کرنے کی مثال: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے
آگ لکڑی کو ۔ (الترغیب و الترہیب ، باب
في الترهيب من الحسد وذم الحاسد جلد 02 ، ص: 56 ، حدیث: 1134 ، دار الحدیث، القاہرۃ )
یعنی حاسد ایسے کام کر بیٹھتا
ہے جس سے نیکیاں ضبط ہوجائیں گی ، حاسد اور بغض والے کی نیکیاں محسود(جس سے حسد کیا
جائے ) کو دے دی جائیں گی ،یہ خالی ہاتھ رہ ج آئے گی ۔ ( مراۃ المناجیح ، جلد 06 ، حدیث نمبر: 5040)
الغرض نبی کریم ﷺ نے تشبیہات کے
ذریعے نہ صرف بات کو آسان بنایا بلکہ ہمیشہ کے لیے یادگار بھی کردیا۔ اللہ تعالیٰ
ہمیں بھی آپ کی سنت کے مطابق سیکھنے اور
سکھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تشبیہ ہر زبان میں تعبیروتفہیم
اور اظہاروبیان کا ایک مؤثر ذریعہ رہا ہےیہ ہی وجہ ہے کہ کوئی کتاب خواہ وہ انسانی ہو یا آسمانی اس سے خالی نظر نہیں
آتی ۔ کلام اللہ میں بھی بکثرت تشبیہات کو بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کے بعد سب
سے اہم کلام کلام نبوی ہے حضور علیہ السلام نے بھی تبلیغ میں اس طریقے کو اختیار کیا
ہے بکثرت ایسی احادیث موجود ہیں جس میں نبی پاک علیہ السلام نے امت کو تشبیہات کے
ذریعے سمجھایا ہے کیونکہ جو چیز اس طرح سمجھائی جائے وہ ذہن میں پختہ ہو جاتی ہےاور جلدی سمجھ آ جا تی ہے۔
اس مضمون میں ہم ایسی احادیث کو
بیان کریں گے کہ جس میں حضور علیہ السلام نے امت کو تشبیہات کے ذریعے تعلیم فرمائی
اور ان احادیث کی کچھ وضاحت بھی کریں گے۔
(1) مومن کو کھجور کے درخت
سے تشبیہ دی: ترجمہ: عبداللہ بن عمر سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے اور وہ درخت مومن کے مشابہ ہے مجھے بتاو وہ کونسا درخت ہے؟ تو لوگ باغات کے درختوں میں کھو گئے ( راوی
فرماتے ہیں ) میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں شرم کی وجہ سے
خاموش رہا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ اس درخت کے
بارے میں ہمیں بتا دیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا : وہ کھجور کا درخت ہے ۔(
صحيح بخاری كتاب العلم باب الحیاء فی العلم حديث نمبر 131 مکتبہ انعامیہ)
اس حدیث میں آپ نے مسلمانوں کو کھجور کے درخت سے اس لیے تشبیہ
دی کہ کھجور کا درخت ہمیشہ ہرا بھرا رہتا
ہے اس لیے آپ نے فرمایا کہ اس درخت کے پتے
نہیں گرتے گویا کہ اس تشبیہ سے مسلمانوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ مسلمانوں کو بھی
ذکر اور تسبیح کے ذریعے سے ہرا بھرا رہنا چاہیے۔
دوسری بات یہ کہ کھجور کا درخت
بڑا ہی نافع درخت ہے کھجور کے درخت کا پورا وجود انسان کے لیے نفع بخش ہے گویا کہ
اس کو مومن سے تشبیہ دیکر اس کے نفع مند ہونے کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ مومن
کو سماج اور معاشرے کے لیے نافع ہونا چاہیے۔
(2) قرآن کی تلاوت کرنے
اور نہ کرنے والوں کو مختلف اشیاء سے تشبیہ:ترجمہ: حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی پاک علیہ السلام سے روایت
کرتے ہیں حضور علیہ السلام نے فرمایا : اس(مومن)کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے سنگترے کی
طرح ہے جس کا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے اور اس (مومن)کی
مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے لیکن اس کی
خوشبو نہیں ہوتی اور اس فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحانہ پھول کی طرح ہے جس کی
خوشبو تو ہوتی ہے لیکن ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور اس فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ایک جڑی بوٹی کی طرح
ہے جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی خوشبو بھی نہیں ہوتی۔(صحيح بخارى، كتاب
القران ، باب فضل القران على سائر الكلام، حديث نمبر 5020 ، مكتبہ انعامیہ)
اس حدیث میں چار افراد کا تذکرہ
ہے:(1) مومن جو قرآن پڑھتا ہے اس کو
سنگترے کے ساتھ تشبیہ دی سنگترے میں دو خوبیاں ہیں ایک تو اس کا ذائقہ بھی عمدہ
ہوتا ہے دوسرا اس کی خوشبو بھی عمدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح قرآن پڑھنے والے مومن میں بھی
دو صفات ہوتی ہیں ایک باطنی یعنی دلی اعتقاد جو کہ ایمان ہے یہ گویا میٹھا ذائقہ
ہے دوسری صفت ظاہری جس کا اثر لوگوں تک پہنچتا ہے اسے خوشبو سے تشبیہ دی گویا قرآن
پڑھنے والا مومن ظاہر و باطن کے لحاظ سے بہتر ہے۔
(2) وہ مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اسے کھجور کے ساتھ
تشبیہ دی کھجور میں یہ خوبی ہوتی ہے کہ اس کا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے مگر اس میں
خوشبو نہیں ہوتی اس طرح قرآن نہ پڑھنے والا مومن ہے کہ ایمان کی بدولت اس کا باطن
تو اچھا ہےلیکن اس کے ظاہر میں کوئی اثر نہیں۔
(3) فاجر(منافق)جو قرآن
پڑھتا اسے گل ریحانہ کے ساتھ تشبیہ دی گل ریحانہ کی جوشبو تو ہوتی ہے مگر اس کا
ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، قرآن پڑھنے والے منافق میں ظاہری اثر تو ہے لیکن باطن یعنی ایمان
کی دولت سے وہ خالی ہےدیکھنے میں وہ مسلمان نظر آتا ہے مگر اندر سے مسلمان نہیں۔
(4) فاجر( منافق) جو قرآن
نہیں پڑھتا اسے حنظلہ بوٹی کےساتھ تشبیہ دی جس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس کی
خوشبو بھی نہیں ہوتی اس طرح وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا نہ اس کا ظاہر اچھا ہے نہ
اس کا باطن اچھا ہے۔
(3) قرآن کو اونٹ کے ساتھ
تشبیہ دی :حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:قرآن کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے
جس کے گھٹنے بندھے ہوئے ہوں اگر اس کا مالک ان بندھنوں سے اس کی حفاظت کرے تو اس
کو اپنے پاس روکے رکھے گا اور اس کےبندھنوں کو کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا۔(صحیح
بخاری، کتاب فضائل قرآن،باب استذکار القرآن،حدیث نمبر 5031،مکتبہ انعامیہ)
مطلب یہ ہے کہ جب تک قرآن کی
تلاوت کی جاتی رہے گی وہ یاد رہے گا اور
جب اس کی تلاوت چھوڑ دی ج آئے گی تو وہ
بھولا دیا جائے گا اس لیے قرآن کو مسلسل پڑھتے رہنا چاہیے بالخصوص حافظ قرآن کو
چاہیے کہ حفظ کے بعد روزانہ باقاعدگی سے اس کو پڑھے ۔
رسول اللہ سے پوچھا گیا کونسا صدقہ افضل ہے؟ ارشاد فرمایا: جو تندرستی کی حالت میں کیا جائے اس کا تمہیں لالچ بھی ہونیز اس کی وجہ سے مالدار ہونے کی امید اور تنگدستی کا خوف بھی ہو ، صدقہ کرنے میں اتنی تاخیر نہ کی جائے کہ جب روح حلق تک پہنچ جائے تو کہنے لگے فلاں کے لیے اتنا ، فلاں کے لیے اتنا حالانکہ اب تو وہ فلاں کا ہی ہے ۔( صحیح بخاری حدیث نمبر 2748 مکتبہ انعامیہ)
ابتدا ہے رب ذوالجلال کے بابرکت
نام سے جس نے تمام جہانوں کو پیدا کیا جس میں سب سے عظیم شخصیت محمد رسول
اللہ ﷺ کو مبعوث فرما کر عالم آفتاب کو
جگمگ جگمگ کر دیا۔ اسی محبوب ﷺ کو
کہ جس نے نوع انسانی کو نہ صرف جینے کا سلیقہ سکھایا۔
حضور ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں کہ جو کبھی
کوئی کلام فرماتے تو وہ اس انداز میں بیان فرماتے کہ سامنے بیٹھے سامعین اسے اچھی
طرح یاد کر لیتے کہیں بات سمجھ نہ آتی تو مصطفیٰ جان رحمت ﷺ سے
عرض کرتے یا رسول اللہ ﷺ یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیے تو مصطفی جان رحمت ﷺ وہ
بات اس انداز میں بیان کرتے اور کسی ایسی چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر بیان کرتے کہ
سامنے بیٹھے سامعین کو بات اچھی طرح سمجھ آ جاتی ۔
اور ویسے بھی جو بات تشبیہات کے ذریعے یا کسی
چیز کی طرف اشارہ کر کے سمجھائی جائے وہ نہ صرف سمجھ آتی ہے
بلکہ عرصہ دراز تک وہ بات یاد بھی رہتی ہےاور وہ سمجھایا ہوا انداز بھی یاد رہتا
ہے۔ چنانچہ کثیر احادیث طیبہ میں مصطفی جان رحمت ﷺ کا تشبیہات کے ذریعے مثال بیان
فرمانا اور کسی بات کو سمجھانا یہ مذکور ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص روایت کرتے
ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے مومن کی مثال اس سونے
کی ڈلی کی سی ہے جس کے مالک نے اس کو تپایا پھر نہ تو اس کا رنگ بدلا اور نہ وزن
گھٹا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے مومن کی مثال ٹھیک اس شہد کی
مکھی کی سی ہے جس نے عمدہ پھول چوسے، اچھا شہد بنایا اور جس شاخ پر وہ بیٹھی نہ تو
اپنے وزن سے اس کو توڑا نہ خراب کیا۔ (مسند احمد ۱۱/۴۵)
اسی طرح کثیر تشبیہات و تمثیلات
کے ذریعے حضور ﷺ نے کلام فرمایا جو کہ طویل ہے المختصر یہ کہ
حضور ﷺ کا تشبیہات و تمثیلات کے ذریعے سے کلام فرمانا نہایت ہی موثر اور سمجھانے
والا کلام ہوتا ۔ہمیں بھی چاہیے کہ جب کبھی کلام کریں تو مصطفی جان رحمت ﷺ کی
اس سنت کو اپناتے ہوئے کلام کیا کریں۔
عرفان
علی عطّاری (درجہ دورہ حدیث جامعۃُ المدینہ فیضان غوث اعظم کراچی ، پاکستان)
رسول اللہ ﷺ نے
اپنی دعوت و تربیت کے دوران مختلف مواقع پر تشبیہات کا استعمال فرمایا، تاکہ
مخاطبین کو پیچیدہ مفاہیم آسانی سے سمجھائے جا سکیں۔ آپ ﷺ کی یہ حکمت عملی تعلیم و
تربیت کے میدان میں بے مثال ہے۔
تشبیہات کی تعریف: تشبیہ سے مراد کسی چیز کو اس کی مشابہت کی بنا پر کسی دوسری چیز سے
تشبیہ دینا ہے، تاکہ مفہوم کو واضح اور قابل فہم بنایا جا سکے۔
(1) مومن کی مثال کھجور کے درخت سے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مومن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے، جس
کا ہر حصہ فائدہ مند ہوتا ہے۔(صحیح بخاری: 5444)
یہ تشبیہ مومن کی نفع بخشی اور
استقامت کو ظاہر کرتی ہے۔
(2) علم و ہدایت کی مثال بارش سے: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور اس ہدایت کی مثال جو اللہ نے
مجھے دے کر بھیجی ہے، اس بارش کی مانند ہے جو زمین پر برسی۔(صحیح بخاری: 79)
یہ تمثیل علم و ہدایت کے اثرات
کو واضح کرتی ہے ۔
(3) نیک اور برے ساتھی کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: نیک ساتھی کی مثال عطار
کی مانند ہے، اور برے ساتھی کی مثال لوہار کی بھٹی کی مانند ہے۔(صحیح بخاری: 2101)
یہ تشبیہ صحبت کے اثرات کو بیان
کرتی ہے۔
(4) پانچ نمازوں کی مثال بہتی نہر سے: آپ ﷺ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال اس بہتی نہر کی مانند ہے جو کسی کے دروازے کے سامنے ہو، وہ
اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے۔(صحیح مسلم: 668)
یہ تمثیل نماز کی روحانی صفائی
اور گناہوں کی معافی کو ظاہر کرتی ہے۔
(5) مومن کی مثال خوشبودار پھل سے: آپ ﷺ نے فرمایا: قرآن پڑھنے والا مومن خوشبودار پھل کی مانند ہے، جس کی خوشبو اور ذائقہ
دونوں اچھے ہیں۔(صحیح بخاری: 5020)
یہ تشبیہ قرآن کی تلاوت اور اس
پر عمل کرنے والے مومن کی فضیلت کو بیان کرتی ہے۔
(6) میری اور انبیا کی مثال ایک عمارت کی مانند: آپ ﷺ نے فرمایا: میری اور مجھ سے پہلے انبیا کی مثال اس شخص کی مانند
ہے جس نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی رہ گئی۔(صحیح بخاری:
3535)
یہ تمثیل آپ ﷺ کے خاتم النبیین
ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔
(7) سیدھا راستہ اور دیواروں کی مثال: آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے ایک سیدھا راستہ بنایا، جس کے دونوں طرف دیواریں ہیں، ان دیواروں
میں دروازے ہیں جن پر پردے لٹکے ہوئے ہیں۔ (مسند احمد: 17634)
یہ تمثیل شریعت کی حدود اور ان
کی حفاظت کو بیان کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے
تشبیہات کے ذریعے تعلیم و تربیت کا جو طریقہ اپنایا، وہ نہایت مؤثر اور حکیمانہ
تھا۔ ان تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ نے گہرے مفاہیم کو آسان اور قابل فہم انداز میں
بیان فرمایا، جو آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
تفہیم یعنی کسی کو بات سمجھانا
ایک ایسا فن ہے اللہ پاک جس کو عطا فرمادے۔ اس کو تسخیر قلوب کی دولت نصیب ہو
جاتی اور اس کائنات میں سب سے بہتر جس کو
فنِ تفہیم عطا کیا گیا وہ سرکارِ دوعالم ﷺ کی ذات ہے آپ ﷺ نے مختلف اندازِ تفہیم
میں سے ایک تشبیہ کے ذریعے بات سمجھانا بھی ہے جو کہ نہایت قابلِ اثر ہے۔ آئیے سرکارِ دوعالم ﷺ کے تشبیہات سے بات سمجھانے کی
چند مثالیں پڑھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرتے ہیں:
(1) چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری اور لوگوں کی مثال
اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی، جب اس کے گرد پروانے اور کیڑے مکوڑے جمع ہونے لگے
اور وہ اس میں گرنے لگے، تو وہ انہیں اس سے بچانے لگا، لیکن وہ اس کی بات نہ مانے
اور آگ میں گرتے رہے۔(صحیح بخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر 6)
اللہ اکبر کتنا پیارا انداز ہے
کہ اپنے آپ کو مہربان شخص کے ساتھ تشبہ دی اور جہنم کو دنیا کی آگ سے اور لوگوں کو
کیڑے مکوڑوں کے ساتھ کہ جس طرح یہ شخص آگ سے بچا رہا ہے اسی طرح آپ ﷺ اپنی امت کو گناہوں اور جہنم سے
روکنے کے نصیحت،دعوت اور محنت فرماتے ہیں،لیکن بعض لوگ اپنی خواہشات اور گناہوں کی
وجہ سے خود کو نقصان پہنچاتے ہیں، اسی
انداز کو اپناتے ہوئے آپ ﷺ نے
اپنی ختم نبوت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا :
(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال
اس شخص کی مانند ہے جس نے ایک خوبصورت عمارت بنائی، مگر اس میں ایک اینٹ کی جگہ
خالی رہ گئی۔ لوگ اس عمارت کے گرد گھومتے ہیں، اسے پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ
اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو فرمایا: وہ اینٹ میں ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں۔(
صحیح البخاری: حدیث نمبر 3535)
(3) قربان جاؤں حضور ﷺ کے
انداز تفہیم پر کہ آپ ﷺ نے
منافق کا تذبذب ،بے یقینی اور دوغلی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
کہ منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو
ریوڑوں کے درمیان بھٹکتی ہے، نہ اس ریوڑ میں جاتی ہے نہ اس میں۔(صحیح مسلم،
کتاب الزکوٰۃ، حدیث نمبر 27) یعنی جس طرح یہ بکری کسی کی نہیں ہوتی اسی طرح منافق
بھی نہیں ہوتا۔
اللہ پاک ہم سب کو حضور ﷺ کے
فرامین کو پڑھ کر ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
حماد خان ( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان غوث اعظم ولیکا کراچی ، پاکستان)
انسان کی فطرت ہے کہ وہ محض
الفاظ سے کم اور تصویری و تمثیلی انداز سے زیادہ اثر لیتا ہے۔ جب کوئی بات مثال کے
قالب میں ڈھل کر سامنے آتی ہے تو وہ نہ صرف ذہن میں اترتی ہے بلکہ دل پر نقش اور
عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اور جب یہ مثال کسی ایسے معلم اکمل کی
زبانِ مبارک سے نکلے ، جو خود ”یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ“ کا مصداق ہو ، تو وہ مثال دل و دماغ میں اتر جاتی ہے ۔
نبی کریم ﷺ کی ذات
گرامی معلم کامل تھی۔ آپ نے انسانیت کو
راہ ہدایت دکھانے کے لیے جتنے انداز اپنائے ، اُن میں تشبیہات کے ذریعے تربیت
فرمانے کا انداز نہایت مؤثر ، دلنشین اور دل میں اتر نے والا اند از ہے ۔ آپ ﷺ نے ایمان، نفاق، حسن معاشرت،
اخوت، قرآن، دعا اور دیگر بے شمار مضامین کو زندگی سے جڑی مثالوں اور تشبیہات
کے ذریعے سمجھایا بلکہ دلوں کو جیت لیا۔
حضور جان عالم ﷺ کی
تشبیہات کی خوبی یہ تھی کہ وہ مختصر الفاظ میں وسیع معانی کی جامعیت رکھتی تھیں
اور نصیحت ، اثر ، فہم و عمل ہر اعتبار سے قلوب پر گہرا نقش چھوڑ تیں، یہاں چند مثالیں درج ذیل ہیں:
حضور جانِ دو عالم ﷺ کی مؤمنین کی
باہمی محبت کی تشبیہ : حضور
جان عالم ﷺ نے مؤمنین کی باہمی محبت کیسی ہونی چاہیے ، اس
کی تشبیہ سے وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ
وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ
سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
ترجمہ: مومنوں کی آپس کی محبت ،
رحم دلی اور ایک دوسرے پر شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے ، جب جسم کے کسی ایک حصے
کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم بے خوابی اور بخار کے ساتھ اس کا ساتھ دیتا ہے۔ ( صحیح
مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تراحم المؤمنین، جلد 2، صفحہ نمبر 325)
اس حدیث مبارکہ میں حضور جانِ
عالم ﷺ اس بات کو واضح فرما رہے ہیں کہ سچے مسلمان ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں ،
اگر کسی ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے (چاہے وہ کسی بھی ملک یا قوم کا ہو) تو باقی
تمام مسلمانوں کو اس کی تکلیف محسوس ہونی چاہیے جس طرح جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف
ہوتی ہے تو وہ تکلیف پورا جسم محسوس کرتا ہے۔
حضور جانِ دو عالم ﷺ کااچھے اور برے دوست کی مثال کے ذریعے تشبیہ دینا:
حضور جانِ عالم ﷺ نے
اچھے اور بُرے دوست میں فرق کو مثال سے
واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ
السَّوْء، كَحَامِلِ الْمِسْكِ، وَنَافِخِ الْكِيرِ ترجمہ: اچّھے بُرے ساتھی کی مثال مُشک کے اُٹھانے اور
بھٹّی دَھونکنے والے کی طرح ہے۔( صحیح بخاری، کتاب الذبائح والصيد ، باب المسک ،
جلد 2، صفحہ نمبر 345)
اس حدیث مبارکہ میں تشبیہ کے ذریعے
سمجھا گیا ہے کہ نیک دوست خوشبو فروش کی طرح ہوتا ہے ، اُس سے بہر صورت فائدہ ہی
ہوتا ہے۔ جیسے خوشبو فروش سے بہر صورت فائدہ ہی ہوتا ہے ، خواہ اُس سے خوشبو خرید
و یا نہ خریدو، کیوں کہ اُس کے پاس بیٹھنے سے جسم خوشبو دار ہو جاتا ہے اور بُرے دوست کی مثال لوہار کی بھٹی میں کام
کرنے والے شخص کی طرح ہے کہ وہ بہر صورت تمہیں نقصان ہی پہنچائے گا۔ جیسے لوہار کی
بھٹی نقصان پہنچ آتی ہے ، یا تو کپڑے جلا
دے گی یا جسم بد بو دار کر دے گی۔
Dawateislami