(1) توبہ کی فضیلت: عَنْ اَبِیْ حَمْزَۃَ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ الْاَنْصَارِیِّ خَادِمِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اللہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَۃِ عَبْدِہٖ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلٰی بَعِیْرِہٖ وَقَدْ اَضَلَّہٗ فِیْ اَرْضٍ فَلاَۃٍ ترجمہ خادِمِ رسول حضرتِ سَیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے نَبِیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اُس کا اُونٹ چَٹْیَل میدان میں گُم ہو نے کے بعد اچانک مل جائے ۔ ( بخاری، کتاب الدعوات، باب التوبۃ، 4/191، حدیث: 6309)

(2) تسمے سے زیادہ قریب: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: ’’ جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ ‘‘ ( بخاری ، کتاب الرقاق ، باب الجنۃ اقرب ، 4/ 243 ، حدیث: 6488)

(3) ایمان کا سمٹنا: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ یقینًا ایمان مدینہ کی طرف ایسا سمٹ آوے گا جیسے سانپ اپنے بل کی طرف۔( مشکوٰۃ المصابیح ، جلد ،1 ، کتاب الایمان ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ ، حدیث: 152) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث مبارکہ کی شرح میں لکھتے ہیں مدینہ پہلے بھی مسلمانوں کا جائے امن بنا اور آیندہ بھی بنے گا کیوں نہ ہو کہ یہاں دونوں عالم کے پناہ ﷺ جلوہ فرما ہیں۔ غالبًا یہ واقعہ دجّال کے قریب ہوگا۔سانپ سے تشبیہ دینے میں ادھر اشارہ ہے کہ جیسے سانپ کو کوئی پناہ نہیں دیتا ایسے ہی آخر زمانہ میں لوگ اسلام کو سانپ کی طرح تکلیف دہ سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مدینہ پاک اسلام سے کبھی خالی نہ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:160)

(4) حضور علیہ السلام کی امت پر شفقت: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ ( مسلم ، کتاب الفضائل ، باب الشفقۃ علی امتہ حدیث: 2285)

(5) سونے چاندی کی کانیں: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِهُوْا وَالْاَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’لوگ سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سے جو زمانہ ٔ جاہلیت میں بہتر تھے ، وہ زمانہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ وہ دِین کی سمجھ رکھتے ہوں اور رُوحیں جمع شدہ لشکر ہیں ان میں سے جو آپس میں متعارف تھیں وہ ( دنیا میں ) مُتَّحِد ہیں اور جو ایک دوسرے سے اجنبی تھیں وہ ( دنیا میں ) الگ رہتی ہیں ۔ ( مسلم ، کتاب البر و الصلۃ والآداب ، حدیث: 2638)

اللہ تعالی ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین