آج کے دور میں جب مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، محدود آمدنی والے افراد کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں بچت کرنا نہ صرف ضروری بلکہ عقلمندی کی علامت بھی ہے۔

محدود آمدنی سے مراد وہ آمدنی ہے جو ایک خاص حد تک ہو، جیسے تنخواہ یا روزمرہ مزدوری، جس میں اضافی آمدن کا کوئی خاص ذریعہ نہ ہو۔ اسی لیے گھر کا بجٹ بنانا بہت ضروری ہے تاکہ اخراجات آمدنی سے زیادہ نہ ہوں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم محدود آمدنی کے مطابق ہی خرچ کریں اور فضول خرچ کرنے سے بچیں۔

جیسے کہ سورہ فرقان میں ہے: وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) (پ 19، الفرقان: 67) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ حد سے بڑھتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں۔

گھر میں بچت کیسے کی جائے؟

1۔ بجٹ بنائیں: ہر ماہ آمدنی اور خرچ کا ایک مکمل بجٹ بنائیں۔ غیر ضروری اخراجات کی نشاندہی کریں اور انہیں کم کرنے کی کوشش کریں۔

2۔ ضروریات اور خواہشات میں فرق: ضروریات جیسے کھانا، بجلی، پانی، تعلیم اور علاج کو ترجیح دیں۔ خواہشات جیسے نئے کپڑے، موبائل یا ہوٹلنگ پر کم خرچ کریں۔

3۔ گھریلو اشیاء کی بچت: بجلی، پانی اور گیس کے استعمال میں احتیاط کریں۔ ان کے بل میں کمی آپ کے بجٹ میں فرق ڈال سکتی ہے۔

4۔ محفوظ سرمایہ کاری: تھوڑی بہت بچت کو کسی محفوظ جگہ پر رکھیں، جیسے بینک یا کمیٹی، تاکہ مستقبل میں کسی ضرورت کے وقت کام آئے۔

گھریلوبجٹ بنانے کا طریقہ: اپنے ماہانہ گھریلوبجٹ کو کچھ حصّوں میں تقسیم کرلیجئے (ہر ایک اپنے رَہَن سَہن(Lifestyle) کے مطابق اس میں کمی یا اضافہ بھی کرسکتا ہے)۔

گھریلو بجٹ کا نمونہ: راشن: 42 فی صد۔ صفائی ستھرائی: 07فی صد۔ کرایہ: 13فی صد۔ علاج: 08فی صد۔ تعلیم: 10فی صد۔ مرمت یا تبدیلی: 04فی صد۔ راہِ خدا میں خرچ: 08فی صد۔ غیر متوقع اخراجات: 03فی صد۔ طویلُ المدت خرچ: 05فی صد۔

(اللہ کی راہ میں لازمی صدقہ و خیرات کریں اس سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے)

اللہ پاک کی رحمت سے اُمید ہے کہ گھریلو اخراجات کا اس طرح جائزہ لینے اور بجٹ بنانے سے فضول خرچی سے بھی جان چھوٹے گی اور بِلاوجہ کسی کے آگے سوال بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ اللہ پاک ہمیں آسانی اور عافیت عطا فرمائے۔ آمین

محدود آمدنی کے باوجود اگر سمجھداری سے خرچ کیا جائے اور بچت کی عادت اپنائی جائے تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔ بچت نہ صرف مالی تحفظ دیتی ہے بلکہ آنے والے وقت کے لیے ایک سہارا بھی بن سکتی ہے۔