قرآن کریم
میں جابجا زمین میں فساد کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ فساد پھیلانے والا
شخص جنت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہوسکتا ہے اور بسا اوقات فساد پھیلانے والے مختلف
طرح کے لوگ ہوتے جیسے کچھ تو توحید کی آڑ میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں گستاخی کرتے اور کچھ تو قرآن کی آڑ میں حدیث کا
انکار کرتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کہ نام پر
فساد پھیلاتے ہیں اور بدتریں کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ آزادی کے
نام پر بے حیائی ،فن کے نام پر حرام افعال ،انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا ،
ارو تہذیب کا نام لے کر اسلام اعتراض کرنا انکا کام ہوتا ہے ۔
اللہ
عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے :
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی
الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ
لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمۂ کنزالعرفان:اورجب
ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم توصرف اصلاح کرنے والے
ہیں۔سن لو:بیشک یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں (اس کا)شعور نہیں۔ (سورۃ البقرہ
، آیت نمبر11،12)
اس آیت سے
ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین جب ایمان والوں سے ملاقات کرتے ہیں تو کہتے ہیں
کہ آپ کے ساتھ ہیں یعنی وہ صرف زبان سے ایمان لانے کی باتیں کرتے تھے اور باطن میں
مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں تو اس
لیے اللہ عزوجل نے انکے اس راز کو کھول دیا ہے۔
جنت کا مستحق کون؟ایک اور
مقام پر اللہ عزوجل کاارشاد ہے :
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا
لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ
الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے
بناتے ہیں جو زمین میں تکبر اور فساد نہیں چاہتے اوراچھا انجام پرہیزگاروں ہی
کیلئے ہے۔ (سورۃ القصص:آیت نمبر83)
اس آیت سے
ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں جانے کے مستحق وہی ہیں جو زمین میں نہ تو ایمان
لانے سے تکبر کرتے ہیں اور نہ ایمان لانے والوں پر بڑائی چاہتے ہیں اور نہ گناہ کر
کہ فساد چاہتے ہیں اور آخرت کا اچھا انجام پر ہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ
بَعْضٍ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌ(۷۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافر آ پس میں ایک دوسرے کے
وارث ہیں اگرتم ایسانہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہوگا۔ (سورۃ
الانفال: آیت نمبر73)
اس آیت سے
ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد پیدا کریں ورنہ
اس کی وجہ سے فساد کبیر پیدا ہوگا کیونکہ کفار تمام کے تمام آپس میں ایک دوسرے کے
دوست ہیں اور وہ مسلمانوں کے عدم اتحاد کی وجہ سے انکے درمیان فساد پھیلائیں گے۔لہذا
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ شریعت کی پاسداری کرتے ہوئے آپس میں باہمی تعلقات اپنائیں
۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن کریم اور احادیث کو صحیح طور پر سمجھنے کی اور
دوسروں تک پہچانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami