حضور
کی اصحابِ اُحد سے محبت از بنت محمد شہباز، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
غزوۂ اُحد کے
موقع پر رسولِ اکرم ﷺ کی اپنے جاں نثار صحابۂ کرام سے محبت، شفقت اور وفاداری
اسلامی تاریخ کا نہایت درخشاں باب ہے غزوہ احد 3 ہجری میں پیش آیا جب کفارِ مکہ نے
مدینہ منورہ پر حملہ کیا اس معرکے میں اگرچہ مسلمانوں کو وقتی آزمائش کا سامنا
کرنا پڑا لیکن حضور نبی کریم ﷺ کی اپنے صحابہ سے محبت اور ان کے لیے دعا و استغفار
کے واقعات واضح طور پر نمایاں ہیں۔
قرآنِ مجید نے
اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ
تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا
اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْاۚ-وَ
لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْؕ- (پ 4، آل
عمران: 155) ترجمہ: بے شک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دونوں جماعتیں
آمنے سامنے ہوئیں، انہیں شیطان نے ان کی بعض کوتاہیوں کے سبب لغزش دی، اور یقیناً
اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔
یہ آیت اس بات
کی دلیل ہے کہ وقتی لغزش کے باوجود اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو معاف فرمایا اور رسول
اللہ ﷺ نے بھی ان سے درگزر فرمایا۔
اسی طرح
فرمایا: فَبِمَا
رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ
لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا
نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪- فَاعْفُ عَنْهُمْ
وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ (پ 4، آل عمران: 159) ترجمہ: تو اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ اے
محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تم تند خو سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس
سے چھٹ جاتے تو انہیں معاف فرما دو اور ان کے لیے بخشش مانگو۔
یہ آیت واضح
کرتی ہے کہ حضور ﷺ کی شفقت اور محبت ہی صحابہ کو آپ کے گرد جمع رکھتی تھی۔
احادیثِ
مبارکہ میں بھی آپ ﷺ کی اپنے صحابہ خصوصاً شہدائے اُحد سے محبت کا ذکر ملتا ہےحضرت
حمزہ بن عبدالمطلب جو اس معرکے میں شہید ہوئےحضور ﷺ کو بے حد عزیز تھے روایت ہے کہ
آپ ﷺ نے ان کی شہادت پر شدید غم کا اظہار فرمایا اور فرمایا: لیکن حمزہ کا کوئی
رونے والا نہیں۔ بعد ازاں انصار کی خواتین نے حضرت حمزہ پر نوحہ کیا تو رسول اللہ
ﷺ نے انہیں اس کے بعد کسی میت پر رونے سے منع فرما دیا۔ (ابن ماجہ، 2/263، حدیث: 1591)
حضرت انس بن
مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شہدائے اُحد کی قبور پر تشریف لائے ان کے لیے
دعا فرمائی اور فرمایا: میں قیامت کے دن تم پر گواہ ہوں گا۔ (بخاری، 3/33، حدیث:
4042)
یہ عمل اس بات
کا ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کو اپنے ان جاں نثاروں سے کس قدر محبت تھی کہ برسوں بعد بھی
ان کی قبور پر جا کر دعا فرماتے۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: اُحد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اُس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 3/45،
حدیث 4083)
یہ ارشاد گویا
غزوۂ اُحد اور اس کے شہداء سے قلبی تعلق اور محبت کا اظہار ہے۔
تاریخ میں
مذکور ہےکہ جنگ کے بعد جب بعض صحابہ کو اپنی کوتاہی کا شدید رنج تھا تو رسول اللہ
ﷺ نے نہ صرف انہیں تسلی دی بلکہ ان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیرت کی
کتب میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے شفقت کا برتاؤ فرمایا اور کسی کو بھی مستقل طور
پر ملامت نہ کیا۔
ان تمام دلائل
سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اپنے اصحابِ اُحد سے محبت محض جذباتی نہیں بلکہ
عملی دعائیہ اور دائمی تھی آپ ﷺ نے ان کی لغزشوں سے درگزر فرمایا شہداء کے لیے
گریہ کیا ان کی قبور پر جا کر دعا کی اور امت کو یہ سبق دیا کہ سچی قیادت محبت عفو
اور رحمت پر قائم ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام بھی آپ ﷺ پر اپنی جانیں نچھاور
کرنے کو سعادت سمجھتے تھے۔
حضور جان عالم
ﷺ کو اپنے صحابۂ کرام سے بے حد محبت تھی۔ صحابہ کرام وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے
حضور ﷺ کی صحبت اختیار کی اور دینِ اسلام کے لیے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کر
دیا۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا اور اسلام کی حفاظت کے لیے بڑی
قربانیاں پیش کیں۔ انہی عظیم صحابہ میں شہدائے اُحد بھی شامل ہیں جنہوں نے اللہ
تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ یہ واقعہ جنگ احد میں پیش آیا جو
اسلام کی تاریخ کا ایک اہم معرکہ ہے۔
جنگِ اُحد
مدینہ منورہ کے قریب احد پہاڑ کے دامن میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے بڑی
بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ میں مسلمانوں کو کچھ مشکلات پیش
آئیں، مگر صحابہ کرام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں
قربان کر دیں۔ اس جنگ میں تقریباً ستر صحابہ کرام شہید ہوئے۔ ان میں حضور ﷺ کے
پیارے چچا حضرت حمزہ بن حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے جنہیں سید
الشہداء کہا جاتا ہے۔
جب حضرت حمزہ
رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ شہید ہوئے تو حضور ﷺ کو بہت زیادہ غم ہوا، کیونکہ آپ
ﷺ اپنے صحابہ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے صبر کیا اور
اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔ حضور ﷺ اکثر شہدائے اُحد کی قبروں کی زیارت کے
لیے تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو
اپنے شہید صحابہ سے کتنی محبت تھی۔
احادیث مبارکہ
میں بھی حضور ﷺ نے شہداء کی عظمت بیان فرمائی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ
کی راہ میں زخمی ہوتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون
نکل رہا ہوگا جس کا رنگ خون کا ہوگا مگر خوشبو مشک کی ہوگی۔ (بخاری، 2/254، حدیث:
2803)
ایک اور حدیث
میں آتا ہے کہ حضور ﷺ شہدائے اُحد کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے لیے دعا
فرمائی۔ (بخاری، 3/33، حدیث: 4042)
حضور کی
اصحابِ اُحد سے محبت از بنت ایاز خان، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
وہ خوش نصیب
صحابہ کرام علیہم الرضوان جو غزوہ احد میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک تھے انہیں
اصحاب احد کہتے ہیں ہمارے پیارے مکی مدنی مصطفی ﷺ اصحاب احد سے بے حد محبت فرماتے
تھے تاریخِ اسلام میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جب حضور پُرنور ﷺ نے اصحاب احد
سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔
آئیے اسی محبت
پر چند احادیث ملاحظہ کرتے ہیں:
جنگ احد کے دن
نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
سعد تیر برساؤ
میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ (بخاری، 3/37، حدیث: 4055)
اس حدیث پاک
سے ہمیں واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی
اللہ عنہ سے کس قدر محبت فرماتے تھے کہ میرے آقا کریم ﷺ نے کس قدر خوبصورت الفاظ
میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دعا دی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو
جائیں سبحان اللہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ کس قدر خوش نصیب ہیں کہ نبی سے محبت رکھنے
والے بڑے بڑے مرتبے پالیتے ہیں اور جن سے حضور محبت کریں ان کی شان کےتوکیاہی کہنے
ہیں۔
اسی طرح جنگ
احد میں شریک صحابی حضرت طلحہ بن عبیداللہ کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے
یہ پسند ہو کہ وہ زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھے وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ
لے۔ ( ترمذی، 5/413، حدیث: 3760)
اس حدیث سے
نبی کریم ﷺ کی حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے لیے محبت صاف جھلک رہی ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے انہیں ان کی بہادری کی وجہ سے چلتے پھرتے شہید کے لقب سے نوازا۔
سبحان اللہ میرے حضور کے محبت کرنے کا انداز کس قدر خوبصورت ہے حضرت طلحہ بن
عبیداللہ کو چلتے پھرتے شہید کے لقب سے پکار رہے ہیں۔
اسی طرح جنگ
احد میں شریک صحابی حضرت حمزہ بن عبد المطلب جو کہ نبی کریم ﷺ کے سگے چچا اور
رضاعی بھائی تھے ان کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہیدوں کے سردار حمزہ بن
عبد المطلب ہیں۔ (مستدرک للحاکم، 4/199، حدیث: 4936)
قربان جاؤں
اپنے آقا کریم ﷺ کے انداز پرحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی محبت میں انہیں سید الشہداء
یعنی شہیدوں کے سردار کے لقب سے نواز دیا اسی طرح جب جنگ احد میں وحشی نے حضرت حمزہ
رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا اور اس کے بعد اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم ﷺ نے
وحشی سے فرمایا: کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا کر رکھو۔
(بخاری، 3/42، حدیث: 4072)
اس حدیث سے
ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے اس قدر محبت
فرماتے تھے کہ جب ان کے قاتل کو دیکھتے تھے آپ ﷺ کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔
شہدائے
احد سے محبت: جنگ
احد میں جو صحابہ کرام علیہم الرضوان شہید ہوئے تھے نبی کریم ﷺ ہر سال ان کے
مزارات پر تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔
حضور
کی اصحابِ اُحد سے محبت از بنت محمد نواز، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اسلامی تاریخ
میں غزوۂ اُحد ایک اہم اور سبق آموز معرکہ ہے۔ یہ جنگ 3 ہجری میں پیش آئی جس میں
مسلمانوں کو بظاہر وقتی آزمائش کا سامنا کرنا پڑالیکن اس معرکے نے صحابۂ کرام رضی
اللہ عنہم کی وفاداری قربانی اور عشقِ رسول کو نمایاں کر دیا حضور نبی کریم ﷺ کی
اپنے جانثار صحابہ سے محبت اس موقع پر اور بھی زیادہ ظاہر ہوئی آپ ﷺ نے ان کی
لغزشوں پر درگزر فرمایازخمیوں کی دلجوئی کی اور شہداء کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ
لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ
الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ (پ 4،
آل عمران: 159) ترجمہ: تو اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل
ہوئے اور اگر تم تند خو سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے چھٹ جاتے تو انہیں معاف
فرما دو اور ان کے لیے بخشش مانگو۔
یہ آیت غزوۂ
اُحد کے بعد نازل ہوئی جب بعض صحابہ سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے
محبوب ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ اس سے
معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا دل اپنے صحابہ کے لیے سراپا رحمت تھا آپ ﷺ نے کسی کو ملامت
نہ کیا بلکہ محبت اور شفقت کا مظاہرہ فرمایا۔
حضور ﷺ نے
فرمایا: اُحد ایک پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری،
3/45، حدیث 4083) یہ فرمانِ نبوی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو میدانِ اُحد اور
وہاں کے جانثاروں سے خاص محبت تھی۔
اسی معرکے میں
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے جامِ شہادت نوش کیا حضور ﷺ شہدا کے جسدِ
اطہر کے پاس تشریف لائے ان کے لیے دعا فرمائی اور فرمایا کہ قیامت کے دن یہ اپنے
زخموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن سے خون بہہ رہا ہوگا مگر خوشبو مشک کی ہوگی۔ (بخاری،
2/254، حدیث: 2803)یہ آپ ﷺ کی محبت اور وفاداری کی روشن دلیل ہے۔
مزید برآں جب
بعض صحابہ زخمی ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور ان کی دلجوئی کی حتیٰ
کہ جن سے وقتی کوتاہی ہوئی ان کو بھی اپنی محبت سے محروم نہ فرمایا غزوۂ اُحد کا
واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنے اصحاب سے بے پناہ محبت فرماتے
تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی اصحابِ اُحد سے محبت صبر، عفو، دعا اور دلجوئی کی شکل میں
ظاہر ہوئی یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم بھی اپنے ماتحتوں اور ساتھیوں کے
ساتھ محبت برداشت اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کریں تو باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے
اور اللہ کی مدد شاملِ حال ہوگی۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں سیرتِ نبوی کو اپنانے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے
آپ ﷺ نے خطا پر درگزرکمزوری پر حوصلہ افزائی اور شہادت پر فخر کا اظہار فرمایا یہ
اسوہ ہمیں بھی سکھاتا ہے کہ قیادت میں نرمی معافی اور محبت بنیادی اوصاف ہیں اگر
ہم بھی اپنے تعلقات میں رحم عفو اور خیر خواہی کو اپنائیں تو معاشرہ امن اور محبت
کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
Dawateislami