ہمارے تمام معاملات میں اللہ کے بتائے سے اللہ کے محبوب نے رہنمائی فرمائی ۔ اس کا تعلق عبادت سے ہو، عقیدہ سے ہو، باطنی بیماری سے ہو ظاہری بیماری سے ہو وہ بیماریاں جس کے سبب بندہ لوگوں اور اللہ و رسول سے دور ہو جاتا ہے ان میں سے ایک فساد فی الارض بھی ہے اس کی مذمت قرآن میں موجود ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) ترجمہ کنز الایمان: اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں ۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔ (سورۃ البقرۃ،آیت نمبر 11 ، 12 )

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں شیخ الحدیث و التفسیر مفتی قاسم دامت برکاتہم العالیہ تحت لکھتے ہیں :جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔

دوسرے مقام پر ارشاد باری ہے:وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵) ترجمہ کنز الایمان : اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔ اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فسادسے راضی نہیں۔ (سورۃالبقرۃ:آیت 204،205)

مذکورہ آیت کا شانِ نزول کچھ یوں ہے کہ : یہ آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َکی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت کا دعویٰ کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو آگ لگائی تھی۔ (صراطالجنان )

ایک اور مقام پر ارشاد ہے :تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) ترجمۂ کنزالایمان: یہ آخرت کا گھر ہم اُن کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیزگاروں ہی کی ہے۔ (سورۃ القصص آیت نمبر 83)

ان آیات کو ملاحظہ کر کے یہ معلوم ہوا کہ فساد فی الارض وہ بیماری جس سے بندے کے معاملات بگڑ جاتے ہیں نسلوں کی نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں فساد فی الارض کو بڑپا کرنے والے میٹھی زبان استعمال کرتے کہ اس سے لوگ متاثر ہوتے ہیں یہ سامنے چہرہ اور رکھتے پیٹ پیچھے اور چہرہ رکھتے ہیں ہمارے دور میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو فساد فی الارض کو اصلاح کا نام دیتے ہیں اللہ پاک ہمیں ان سے محفوظ فرمائے آمین یا رب العالمین۔