حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت محمد شفیق عطاری، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان رضی
اللہ عنہ ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ نے جب لشکر عسرت سامان دیا تو اپنی آستین میں ہزار ا شرفیاں لائے
انہیں حضور ﷺ کی گود میں ڈال دیا میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں الٹ
پلٹ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اج کے بعد سے عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی عمل جو
وہ کریں نقصان نہ دے گا۔ ( مسند امام احمد، 7/358، حدیث: 20655)
روایت ہے کہ
نبی ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کچھ چپکے سے کہنے لگے اور حضرت عثمان رضی اللہ
عنہ کا رنگ بدلنے لگا پھر جب دار والا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم جنگ نہ کریں
فرمایا نہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ایک عہد لیا ہے میں اس پر اپنے کو قائم رکھے
ہوئے ہوں۔ (ابن ماجہ، 1/80، حدیث: 113 )
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے داماد اور
حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو صاجزادیاں یکے بعد دیگرے آ پ کے نکاح میں دیں۔ حضور
نبی کریم ﷺ میں پہلے اپنی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کیا جب ان
کی وفات ہو گئی تو دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی سے کیا، جب حضرت ام کلثوم کا وصال
ہوگیا تو فرمایا کہ اگر میری اور کوئی بیٹی نکاح کے قابل ہوتی تو میں اس کا نکاح
عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیتا۔ (سیرت حضرت عثمان غنی، ص 70)
یا اللہ ہمیں
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کےنقش قدم پر چل کر ان جیسا عشق رسول نصیب فرما اور
سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت ریاض احمد، جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
عثمان
کے نکاح میں دے دیتا: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے
فرمایا کہ میں نے آپ علیہ السلام کا یہ ارشاد سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ سے فرمارہے تھے کہ اگر میری 40 لڑکیاں بھی ہوتیں تو یکے بعد دیگرے میں ان
سب کا نکاح اے عثمان! تم سے کردیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (تاریخ
الخفاء، ص 104)
انبیاء
کرام سے مشابہت: رسول
اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح کیا تو
ان سے فرمایا کہ تمہارے شوہر عثمان غنی رضی اللہ عنہ تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ
السلام اور تمہارے باپ محمد علیہ السلام سے شکل و صورت میں مشابہ ہیں۔
حضرت عبداللہ بن
عباس رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ
تبارک وتعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ میں اپنی صاحبزادی کی شادی عثمان سے
کروں۔ (معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)
حضور نبی اکرم
ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا اس کی امت میں کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے اور بے شک میرا
دوست عثمان بن عفان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)
اللہ پاک کی
ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہم سب کی بے حساب مغفرت ہو۔
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت محمد یاسر،فیضان عائشہ صدیقہ مظفرپورہ سیالکوٹ
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ خلفاء راشدین میں سے تیسرے خلیفہ ہیں رسول اللہ ﷺ آ پ سے بہت
محبت فرماتے تھے رسول اللہ ﷺ نے کئi بار آ پ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا حضور ﷺ
نے آ پ کو ذوالنورین کا لقب عطا فرمایا۔
حضور ﷺ نے
اپنی دو شہزادیوں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو یکے بعد دیگرے آ
پ کے نکاح میں دیااور یہ شرف صرف عثمان غنی کو ہی ملا کسی اور صحابی کو نہ ملا۔
نور
کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھ یعنی جنت میں عثمان ہے۔ (ترمذی،
5/583، حدیث: 3898)
غزوہ تبوک کے
موقع پر جب مسلمانوں کو لشکر کی تیاری کے لیے مالی مدد کی ضرورت پڑی تو حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ نے ایک بڑا حصہ عطیہ کیا جس پر نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے بہت خوشی
اور دعائیں فرمائی۔
حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ بہت زیادہ حیا والے تھے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فرشتے ان سے حیا
فرماتے ہیں۔
حضرت عبد
الرحمن ابن سمرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جب لشکر
عسرت کو سامان دیا تو اپنی استین میں ہزار اشرفیاں لائے انہیں حضور کی گود میں ڈال
دیا میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی
گود میں الٹ پلٹ کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی عمل
جو وہ کرے نقصان نہ دے گا۔ (ترمذی، 5/585،
حدیث: 3701)
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت فیاض احمد،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
حضور ﷺ کی
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت ایک اہم موضوع ہے جس پر بہت سے علماء اور مصنفین
نے لکھا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ تھے اور حضور ﷺ کے
صحابی اور داماد تھے۔
1
نکاح اور رشتہ: حضور
ﷺ نے اپنی دو بیٹیوں، حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ
عنہ کے ساتھ کیا۔ حضرت رقیہ کے انتقال کے بعد حضور ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت ام
کلثوم کا نکاحبھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کر دیا۔ اس بنا پر حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ کو ذو النورین کہا جاتا ہے۔
2 ۔
محبت اور عزت: حضور
ﷺ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بہت عزت کرتے تھے اور ان کی شرم و حیا کو بہت سراہتے
تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ عثمان جنت میں میرے
ساتھ ہوں گے۔
3 ۔
غزوه تبوک میں کردار: غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے
مالی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حضور ﷺ کی مدینہ میں رہائش کے دوران بیٹی
کی تیمارداری کی۔
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت سرفراز،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
جنت میں ہر
نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے اور میرے ساتھ تھی عثمان ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/78، حدیث:
109)
عثمان کی
شفاعت کی بدولت 70 ہزار ایسے افراد جن پر دوزخ لازم ہو چکی ہوگی وہ بلا حساب و
کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ ( تاریخ دمشق، 39/22)
یوں تو اللہ
پاک کے آخری نبی ﷺ کی مبارک صحبت پانے اور
پھر ایمان کی حالت میں دنیا سے جانے والے ہر صحابی رسول اہل ایمان کے سر کا تاج
اور دل کی راحت ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان ہی نرالی ہے اللہ پاک
کے کسی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا داماد ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو خوش نصیب
انسانوں کو ہی نصیب ہوتا ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے
نکاح میں کسی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی دو بیٹیاں نہیں آئیں اسی وجہ سے آپ کو
ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کہا جاتا ہے۔ ( سنن کبری، 7/115 )
سرکار دوعالم ﷺ
نے اعلان نبوت سے پہلے اپنی شہزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح عثمان غنی رضی
اللہ عنہ سے کیا تھا غزوہ بدر کے موقع پر ان کا انتقال ہوا تو پھر حضور علیہ
الصلوۃ والسلام نے اپنی دوسری شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی آپ سے
کر دیا۔ (تاریخ الخلفاء، ص 118)
ترمذی شریف
میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مقام
حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایا اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور
علیہ الصلوۃ والسلام کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے لوگوں نے حضور
علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو رسول مقبول ﷺ نے
فرمایا کہ عثمان خدا اور رسول خدا ﷺ کے کام سے گئے ہیں یعنی حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ کی طرف سے خود بیت فرمائی لہذا
رسول اللہ ﷺ کا مبارک ہاتھ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے ان ہاتھوں سے بہتر ہے
جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بیعت کی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)
ام المومنین
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ میرے حجرے میں اس
طرح آرام فرما رہے تھے کہ مبارک رانیں یا پنڈلیاں کھلی ہوئی تھی اس دوران حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضری کی اجازت مانگی تو انہیں اسی حالت میں اجازت دی اور
گفتگو فرمائی،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حاضری کا اذن کیا تو انہیں بھی اسی
حالت میں اجازت دی اور ان گفتگو فرمائی اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے
حاضری کی اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور لباس مبارک کو درست
فرمایا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بات چیت کرتے رہے جب
آپ چلے گئے تو میں نے عرض کی حضرات ابوبکر عمر آئے تو آپ نے تکلف نہیں فرمایا لیکن
حضرت عثمان کی آمد پر آپ اٹھ بیٹھے اور لباس کو درست فرمایا اس کا کیا سبب ہے نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(مستدرک،
3/11، حدیث: 4556)
جو تنگی والے
لشکر کے لیے تیاری کا سامان مہیا کرے تو اس کے لیے جنت ہے یہ فرمان عالی شان سن کر
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کے لیے سامان پیش کیا۔
اللہ کے نبی ﷺ
نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص اٹھ کر اپنے ہم پلہ کے پاس چلا جائے یہ فرما کر
نبی کریم ﷺ اٹھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور انہیں گلے
لگا کر ارشاد فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے دوست ہو۔
سرکار مدینہ ﷺ
نے اپنے مرض وصال میں ارشاد فرمایا میں
چاہتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے کوئی میرے پاس ہو حاضرین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کو بلانے کے بارے میں پوچھا تو آپ خاموش رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ
سے متعلق دریافت کیا تو بھی آپ نے سکوت فرمایا تیسری بار عرض کی گئی کہ حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس بلا لائیں ارشاد فرمایا ہاں چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ حاضر خدمت ہو کر خدمت اقدس میں تنہا بیٹھ گئےاب نبی کریم ﷺ نے کچھ گفتگو
فرمائی جسے سن کر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا جب خلافت کے آخری
دنوں میں باغیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے مکان عالیشان کا محاصرہ کر لیا تو آپ نے
ارشاد فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا اور میں اس پر صبر کروں گا۔
(ابن ماجہ، 1/80، حدیث: 113 )
رسول اللہ ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ کا سر دھو رہی تھی آپ نے
ارشاد فرمایا اے میری بیٹی ابو عبداللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان
صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے
بہت مشابہ ہیں۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)
رسول اللہ ﷺ اپنی
اس شہزادی کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں
تھیں اور ارشاد فرمایا اگر میری دس بیٹیاں ہوتی تو میں ضرور ان سب کا نکاح عثمان
سے کر دیتا اور میں نے صرف آسمان سے آنے والی وحی پر ان کے ساتھ یکے بعد دیگرے
اپنی دو بیٹیوں کا نکاح کروایا ہے۔ (معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)
آقا جان ﷺ کو
اپنے صحابہ کرام رضی الله عنہ سے بہت محبت تھی اور ان میں حضرت عثمان غنی رضی الله
عنہ کا مقام بہت بلند تھا۔ آپﷺ حضرت عثمان رضی الله عنہ سے خاص محبت فرماتے تھے
کیونکہ وہ بہت نیک، نرم دل، اور سخی انسان تھے۔حضرت عثمان نے دین اسلام کے لیے بڑی
قربانیاں دیں اور آپﷺ کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑے رہے۔ نبی کریمﷺ نے ان سے کئی
بار محبت کا اظہار بھی فرمایا اور اپنی دو بیٹیاں ان کے نکاح میں دیں، اسی وجہ سے
آپ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والے کہا جاتا ہے۔
1۔
حضرت عثمان غنی سے حیا: حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں: ایک دن رسول
الله ﷺ میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، آپ کے کپڑے مبارک ران سے کچھ ہٹے ہوئے تھے
اتنے میں حضرت ابو بکر رضی الله عنہ اندر تشریف لائے، تو آپ اسی حالت میں لیٹے رہے
اور ان سے باتیں کرتے رہے۔ پھر حضرت عمر تشریف لائے، آپ اسی طرح رہے اور ان سے بھی
بات کرتے رہے۔ لیکن جب حضرت عثمان غنی تشریف لائے تو رسول الله اٹھ کر بیٹھ گئے
اور اپنے کپڑے مبارک درست کر لئے۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے عرض کیا: یا رسول الله!
جب ابو بکر اور عمر تشریف لائے تو آپ نے کچھ خیال نہ کیا، لیکن عثمان کے تشریف
لانے پر آپ سنبھل کر بیٹھ گئے؟تو آپﷺ نے فرمایا:کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس
سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟ (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)
2۔
کوئی بھی عمل نقصان نہیں دے گا: رسول اللهﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر
لوگوں کو صدقہ دینے کی ترغیب ارشاد فرمائی تو حضرت عثمان غنی رضی الله عنہ نے ایک
ہزار دینار لا کر آپﷺ کی گود میں رکھ دیئے۔تو رسول اللهﷺ نے دیناروں کو اپنے ہاتھ
مبارک سے الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: آج کے بعد عثمان کوئی بھی عمل کریں گے وہ انہیں
نقصان نہیں دے گا۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:3720)
3۔
جنت میں رفیق: نبی
کریم ﷺ نے حضرت عثمان غنی کے بارے میں فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ہوتا ہے
اور (جنت میں) میرا رفیق عثمان ہے۔ (ترمذی، 5/583، حدیث: 3898)
4۔
شفاعت کی بشارت:نبی
کریمﷺ نے ایک ہی موقع پر دس صحابہ کرام رضی الله عنہم کو زندگی میں ہی جنت کی
بشارت عطا فرما دی۔ جنہیں عشرہ مبشرہ کہا
جاتا ہے ان میں عثمان غنی رضی الله عنہ بھی شامل ہیں جن کو دنیا میں رہتے ہوئے جنت
کی خوشخبری سے نوازا گیا۔
نبی
کریمﷺ کا صحابہ کرام سے محبت کا انداز
انتہائی دلنشین، نرم، مشفقانہ اور دل کو چھو لینے والا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نہ صرف ان
سے محبت کرتے بلکہ ان پر اعتماد کرتے، ان کی عزت کرتے، ان کے جذبات کا خیال رکھتے
اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتے جیسے وہ سب آپﷺ کے بہت قریبی عزیز ہوں۔
رسول الله ﷺ
کی حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے محبت ایک گہری، خالص اور باعمل محبت تھی،
جو صرف جذباتی نہیں بلکہ کردار، قربانی، حیاء، اور دین کے لیے دی گئی خدمات پر
مبنی تھی۔ نبی کریمﷺ کا حضرت عثمان بن عفان سے محبت کا انداز ہمیں کئی پہلوؤں سے
سیکھنے کی دعوت دیتا ہےکہ ایمان، اخلاص اور قربانی کے بدلے میں محبت اور اعتماد کا
اظہار کرنا سنت نبویﷺ ہے۔اچھے اخلاق کی قدر کرنا اور ان خوبیوں کو دوسروں کے سامنے
سراہنا بھی سنت نبوی ﷺ ہے۔نبی کریمﷺ نے دنیاوی مفادات کے بغیر صحابہ کرام سے محبت
کی، جو صرف دین اور کردار کی بنیاد پر تھی۔
نبی کریمﷺ کی
حضرت عثمان رضی الله عنہ سے محبت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت الفاظ سے نہیں، عمل سے
ظاہر کی جاتی ہے۔ محبت میں اعتماد، عزت، رشتہ اور دعا سب شامل ہیں۔
حضور ﷺ حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بے پناہ محبت فرماتے تھے اور انہیں مختلف القابات اور
اعزازات سے نوازا تھا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے داماد اور عشرہ مبشرہ
میں سے تھے نبی کریم ﷺ نے انہیں ذوالنورین کا لقب عطا فرمایا تھا جس کا مطلب دو
نوروں والا اس کی وجہ سے یہ تھی کہ انہوں نے آپ ﷺ کی دو صاحبزادیوں سے نکاح کیا
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔
حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس نے صحابہ سے محبت
کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے صحابہ سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔
رسول اللہ ﷺ نے
دو شہزادیاں حضرت عثمان کے نکاح میں دی ایک کے بعد ایک کو حضور ﷺ کی وہ صاحبزادیاں
حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما تھی۔
حدیث مبارکہ
کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری سو بیٹیاں ہوتی تو ایک فوت ہوتی تو
دوسری بیٹی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا دوسری فوت ہوتی تو تیسری
پھر ایسے ہی سو بیٹیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ آسمان والوں کے لیے نور ہیں اور زمین والوں اور جنت والوں کے لیے
چراغ ہیں۔
روایت ہے حضرت
عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے تھے اپنی رانیں یا پنڈلیاں
کھولے تو جناب ابوبکر نے اجازت مانگی انہیں اجازت دی اسی حالت پر انہوں نے کچھ بات
چیت کی پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی پھر انہوں
نے بھی بات چیت کی پھر جناب عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور
اپنے کپڑے درست کر لیے جب وہ چلے گئے تو جناب عائشہ نے کہا کہ جناب ابوبکر آئے آپ نے
ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے
نہ جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے پھر تو آپ بیٹھ
گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے تو فرمایا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے
بھی حیا کرتے ہیں (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)اور ایک روایت میں ہے کہ جناب عثمان
شرمیلے آدمی ہیں مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت پر اجازت دے دی تو وہ
مجھ تک اپنی حاجت نہ پہنچا سکیں گے۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/432، تحت الحدیث: 6070 )
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان ہیں۔ (ترمذی،
5/583، حدیث: 3898)
روایت ہے حضرت
انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت رضوان کا حکم دیا تو عثمان رسول اللہ
ﷺ کے قاصد تھے مکہ کی طرف حضور ﷺ نے لوگوں سے بیعت لی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
عثمان اللہ کے اور اس کے رسول ﷺ کے کام میں گئے ہیں پھر حضور ﷺ نے اپنے دونوں
ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ عثمان رضی اللہ عنہ
کے لیے ان کے ہاتھ سے بہتر ہو گیا جو ان کے اپنے لیے تھا۔ (ترمذی، 5/392، حدیث:
3722)
ایک آدمی نے
حضور اکرم ﷺ سے پوچھا کیا: جنت میں بجلی ہوگی؟ آپ نے فرمایا: ہاں اس ذات کی قسم جس
کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! بے شک عثمان رضی اللہ عنہ جب جنت میں منتقل ہوں گے
تو پوری جنت اس کی وجہ سے چمک اٹھے گی۔
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت طارق محمود،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اللہ پاک کا
امت مسلمہ پر یہ احسان ہے کہ اس نے اسے ایسی عظیم ہستیاں عطا فرمائیں۔ جنہیں تاریخ
میں بلند مقام حاصل ہے جن کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں۔ ان عظیم ہستیوں میں
منفرد خصوصیات کی حامل شخصیات نیر تاباں
عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ ہیں۔
آپ کی زندگی
کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ
عام انسانیت کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ آپ عشرہ
مبشرہ میں سے ہیں۔ آپ کا شمار حضور اکرم ﷺ
کے صحابہ میں بھی ہوتا ہے۔امت مسلمہ میں کامل الحیا والا ایمان کے الفاظ آپ ہی کی
شان میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے آپ کے بارے میں فرمایا: میں اس شخص سے حیا کیسے نہ کروں جس سے
فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ (مستدرک، 3/11، حدیث:4546)
قبول اسلام کے
کچھ ہی عرصہ بعد آپ رضی اللہ عنہ کا نکاح حضور اکرم ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی
اللہ عنہا سے ہو گیا تھا۔بعد ازاں آپ کوہجرت حبشہ کا شرف بھی ملا۔جب حضور ﷺ نے
مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ بھی مدینہ چلے آئے۔جہاں آپ نے مسلمانوں کے لیے گرانقدر
کارنامے انجام دیے۔جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو آپ ﷺ نے اپنی
دوسری صاحبزادی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ
عنہ سے کر دیا۔ جس کے بعد آپ کا لقب ذوالنورین (یعنی دو نوروں والا)ہو گیا۔
حضرت علی رضی
اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایسی عظیم الشان ہستی ہیں کہ جنہیں آسمانوں
میں ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ (اصابۃ، 4/457)
نبی
کے نور دو لے کر وہ ذوالنّورين کہلائے
انہیں
حاصل ہوئی یوں قربت محبوب رحمانی
عموماً دیکھا
جاتا ہے ایک غلام تو اپنے آقا کی عنایتوں اور اس کے لطف و کرم کے سبب اس کی تعریف
کرتا رہتا ہے۔لیکن کمال تو یہ جب آقا بھی اپنے غلام کی خوبیوں پر تعریف کرے،حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا شمار بھی ان خوش نصیب صحابہ کرام میں ہوتا ہے جن کے حق
میں حضور اکرم ﷺ کے لبہائے مبارک نے جنبش فرمائی کبھی آپ رضی اللہ عنہ کو دربار
رسالت ﷺ جنت کا مژده عطا ہوا،تو کبھی آپ کو میٹھے مصطفی، شہنشاہ دوسرا ﷺ نے اپنا
رفیق قرار دیا۔
حضور کی حضرت
عثمان غنی سے محبت پر مبنی پانچ احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ عثمان مجھ
سے ہے اور میں عثمان سے ہوں۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/102، حديث: 7878)
2۔ جنت میں ہر
نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرے رفیق عثمان بن عفان ہیں۔ (ترمذی، 5/583، حدیث:
3898)
3۔ بروز قیامت
عثمان کی شفاعت سے 70 ہزار ایسے آدمی بلا حساب جنت میں داخل ہوں گےجن پر جہنم واجب
ہو چکی ہوگی۔ (تاریخ ابن عساکر، 39/122، حدیث: 7916)
4۔ میری امت
سب سے زیادہ پیکر شرم و حیا اور معزز و مکرم عثمان بن عفان ہیں۔ (فردوس الاخبار، 1/250،
حدیث: 1790)
5۔ میری امت میں
سب سے زیادہ باحیا انسان عثمان بن عفان ہیں۔ (مستدرک، 4/689، حديث:6335)
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از پنت طارق محمود، جامعۃ المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
مفسر قرآن
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کی محبت کے لیے اس
کے رسول سے محبت ضروری ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے کے لیے حضور کے تمام
صحابہ، حضور کے اہل بیت اور اولاد پاک اور ازواج مطہرات سے محبت لازم ہے یہ تمام
محبت ایمان میں داخل بلکہ عین ایمان یعنی (ایمان کی بنیاد ہیں)۔ (تفسیر نعیمی، 2/137)
تمام امت میں
سے حضرت عثمان کو ہی یہ شرف ملا کہ نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیاں ان کے نکاح میں
آئیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر میری 40 بیٹیاں بھی
ہوتیں تو میں ان سب کو یکے بعد دیگرے عثمان کے نکاح میں دے دیتا یہاں تک کہ ان میں
سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔
نبی کریم ﷺ نے
اپنی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! اپنے شوہر
عثمان کی خدمت کرنا کیونکہ وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق و کردار میں مجھ سے زیادہ
مشابہ ہے۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)
نبی پاک ﷺ نے
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حیا کے متعلق ان کی شان مبارکہ میں ایک فرمان ارشاد فرمایا: کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ (مستدرک،
3/11، حدیث: 4556)
اس مضمون کا
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہ صرف صحابی رسول، داماد رسول ﷺ تھے بلکہ
آپ ﷺ کے بہت ہی زیادہ محبوب صحابیوں میں سے تھے۔ جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت
سنا دی گئی تھی۔ نبی پاک ﷺ ان کی دین کی خدمت اور ان کی حیا کی وجہ سے ان سے بہت
زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے۔ یہ محبت بھی خدائی تھی اور اخلاص پر مبنی تھی۔
اللہ پاک سے
دعا ہے کہ ہمیں بھی ان کی محبت کا کچھ حصہ نصیب فرمائے اور ان کی سیرت مبارکہ پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
حضور کی
عثمان غنی سے محبت از بنت ارشد، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
حضرت عثمان
غنی رضی اللہ عنہ کا ایک مرتبہ ذکر خیر ہونے لگا تو نواسہ رسول حضرت امام حسن
مجتبی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابھی امیر المؤمنین تشریف لائیں گے۔ پھر حضرت علی
المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان خوش
نصیبوں میں سے ہیں جن کی شان میں قرآن کریم میں یہ فرمان نازل ہوا: لَیْسَ عَلَى
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا
مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ
اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۹۳) (پ 7،
المائدة: 93) ترجمہ کنز الایمان: جو ایمان لائے
اور نیک کام کیے ان پر کچھ گناہ نہیں ہے جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور
ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور
اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، 17/91، حدیث:
32723)
یوں تو آخری نبی ﷺ کی مبارک صحبت پانے والا اور پھر حالت ایمان میں دنیا سے
جانے والا ہر مسلمان اہل ایمان کے سر کا تاج ہیں لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی
شان نرالی ہے۔ عثمان غنی کے علاوہ کسی صحابی کے نکاح میں حضور انور ﷺکی دو
شہزادیاں نہیں آئیں اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ اعلیٰ حضرت فرماتے
ہیں:
نور
کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا ہو
مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
شفقت
مصطفی مرحبا: ایک
روایت میں ہے سرکار ﷺ نے دعا کرتے ہوئے عرض
کیا: مولی ٰ! میرا عثمان بڑا ہی شرمیلا
ہے۔ تو کل قیامت میں اس کا حساب نہ لینا کہ وہ شرم و حیا کی وجہ سے تیرے سامنے
کھڑے ہو کر حساب نہ دے سکے گا۔ (مرقاۃ المفاتیح، 10/432، تحت الحدیث: 6070 )
ہمارے آقا ﷺ
عثمان غنی سے بے حدد محبت فرماتے تھے اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ
حضرت عبد الله فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغی گروہ نے عثمان غنی کے مکان کا محاصرہ
کیا تھا ان کے گھر پانی کا ایک قطرہ نہ تھا اور عثمان غنی پیاس کی شدت سے تڑپ رہے
تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو آپ اس دن روزہ دار تھے۔ مجھے دیکھ کر فرمایا: اے عبد الله بن سلام میں نے آج
رات تاجدار رسالت ﷺ کو اس روشن دان میں دیکھا آپ ﷺ نے بے حد مشفقانہ لہجے میں
فرمایا: اے عثمان ان لوگوں نے پانی بند کر کے تمہیں بے قرار کر دیا ؟ میں نے عرض
کی: جی ہاں ! تو فورا آپﷺ نے ایک ڈول میری
طرف لٹکا دیا جو پانی سے بھرا ہوا تھا میں اس سے سیراب ہوا اور اس وقت بھی پانی کی
ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں میں محسوس کر رہا ہوں۔ پھر فرمایا کہ اگر تمہاری خواہش ہو تو ان لوگوں کے
مقابلے میں تمہاری امداد کروں اور اگر تم چاہو تو ہمارے پاس آ کر روزہ افطار کرو،
میں نے عرض کی آپکے پاس آنا مجھے زیادہ عزیز ہے عبد الله بن سلام فرماتے ہیں کہ اسی
دن ان باغیوں نے آپکو شہید کر دیا۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 3/74، رقم: 109)
کئی
دن تک رہے محصور ان پر بند تھا پانی
شہادت
حضرت عثمان کی بے شک ہے لاثانی
محبت
سرکار ﷺ: رسول
ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ (اپنے شوہر ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا
سر دھو رہی تھیں۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے میری بیٹی! ابو عبد اللہ کے ساتھ اچھا
سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے بہت مشابہ
(یعنی ملتی جلتی ) ہے۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)
رک
جائیں مرے کام حسن ہو نہیں سکتا فیضان
مدد گار ہے عثمان غنی کا
اللہ پاک کی
ان پر رحمت ہو اور انکے صدقے ہماری بے حساب بخشش ہو۔
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت مشتاق احمد، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
اس تحریر میں
ان شاء اللہ آقا کریم ﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے محبت کے متعلق احادیث کریمہ
اور کچھ واقعات بیان کیے جائیں گے اور احادیث کریمہ کو ان شاء اللہ حوالہ جات کے
ساتھ بیان کیا جائے گا۔۔
احادیث
مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان رضی اللہ
عنہ ہے، (ترمذی، 5/624، حدیث: 3698)
رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بے شک عثمان میرے صحابہ میں سے خلق کے اعتبار سے سب سے زیادہ میرے
مشابہ ہے۔ (المعجم الکبیر، 1/76، حدیث: 99)
اللہ پاک کا
اس امت پر یہ احسان ہے کہ اس نے اسے ایسی عظیم الشان ہستیاں عطا فرمائیں جنہیں
تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے جن کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں انہی عظیم
ہستیوں میں سے منفرد خصوصیات کی حامل شخصیت عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ
ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زندگی کا ہر پہلو نہ صرف مسلمانوں کیلئے بلکہ عالم
انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے آپ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ایک ہیں آپ کا شمار
حضور اکرم ﷺ کے اصحاب شوریٰ میں بھی ہوتا ہے امت مسلمہ میں کامل الحیاء و ایمان کے
الفاظ آپ کی ہی شان میں استعمال کیے جاتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ عنہ کے
بارے میں ارشاد فرمایا میں اس شخص سے کیسے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے
ہیں۔ (مستدرک، 3/11، حدیث: 4556)
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ اسلام کے سابقین اولین میں سے ہیں اور عظیم قدرو منزلت کے مالک ہیں
انہوں نے اللہ کی راہ میں سخت تکلیفیں اٹھائیں اسکے باوجود وہ نبی کریم ﷺ کی محبت
میں آگے بڑھتے گئے اور نبی کریم ﷺ کی محبت ان سے بڑھتی گئی اور جب ابولہب کے دو
بیٹوں نے (جو کہ نبی کریم ﷺ کے داماد تھے ) اپنے والدین کے حکم سے آپ کی دو
صاحبزادیوں رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دے دی تا کہ اسطرح نبی کریم ﷺ
کو دکھ پہنچے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا
رشتہ طلب کیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کا نکاح کر دیا
حضرت رقیہ ان کی حسن معاشرت سے بہت خوش ہوئیں۔
حضرت عثمان کو
مشرکین مکہ کی طرف سے بہت تکلیفیں اٹھانی پڑیں آخر کار اپنی اہلیہ کے ساتھ حبشہ کی
طرف دو بار ہجرت فرمائی پھر حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں۔
حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ اور آقا کریم ﷺ میں محبت اتنی بڑھ گئی کہ آپ ﷺ نے اپنی دوسری
صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو آپ کے نکاح میں دے دیا اور یہ سن 3ھ کا واقعہ ہے۔
حضور کی حضرت
عثمان سے اگر انتہائی محبت نہ ہوتی اور حضرت عثمان کی آپ سے غایت محبت نہ ہوتی تو
آپ ان سے دوسری صاحبزادی کا نکاح نہ فرماتے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کو
مستقبل میں حضرت عثمان پر بڑا اعتماد تھا اور حضرت عثمان کی یہ عظیم منقبت ہے کہ
سابقہ امتوں میں کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے نبی کی دو بیٹیوں سے شادی کی ہو
سوائے حضرت عثمان بن عفان کے۔
حضرت علی سے
یہاں تک روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور کا یہ فرمان سنا ہے کہ آپ حضرت عثمان سے فرما
رہے تھے کہ اگر میری چالیس لڑکیاں بھی ہوتی تو یکے بعد دیگرے میں ان سب کا نکاح اے
عثمان! تم سے کر دیتا یہاں تک کہ کوئی بھی باقی نہ رہتی۔ (تاریخ الخلفاء، ص 121
حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت جاوید، جامعۃ المدینہ اگوکی سیالکوٹ
حضور ﷺ اور حضرت عثمان غنی ( رضی اللہ عنہ) کے درمیان محبت اور احترام کے بے شمار واقعات
ملتے ہے۔ ایک قابل ذکر واقعہ جنگ تبوک کے موقع پر پیش آیا۔ جب حضور ﷺ نے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت عثمان نے کھڑے ہو کر
عرض کی: یا رسول اللہ ! ساز و سامان کے ساتھ ایک سو اونٹ میں دیتا ہوں۔
حضور ﷺ نے پھر
ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی نے مزید دو سو اونٹ دینے کی پیشکش کی۔ آخر کار انہوں
نے تین سو اونٹ اور ایک ہزار دینار بھی حضور ﷺ کے سامنے پیش کر دیئے۔
حضور ﷺ
نے حضرت عثمان کی یہ سخاوت دیکھی تو آپ کے پیش کردہ دیناروں میں اپنا دست مبارک ڈال کر فرمایا، عثمان کے اس نیک عمل کے بعداب انہیں کوئی بات ضررنہ پہنچائے گی۔
یہ واقعہ
کتاب مشکوۃ شریف کے صفحہ 553 پر بھی ذکر کیا گیا ہے مزید برآں، طبرانی کی روایت کے
مطابق، حضور ﷺ نے حضرت عثمان کے بارے میں فرمایا ان کا عزت بجالاؤ، بے شک وہ میرے صحابہ میں سے
خلق کے اعتبار سے سب سے زیادہ میرے مشابہ ہیں۔
بخاری شریف
میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فضائل مختلف احادیث میں بیان کیے گے ہیں یہاں کچھ احادیث کا ذکر کیا۔
جیش
عسرہ کی تیاری: حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر قربانی دی۔ آپ نے 900 اونٹ
100گھوڑے اور 10000 دینار کا سامان پیش کیا۔ رسول ﷺ نے فرمایا۔ آج کے بعد عثمان جو بھی کریں، انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے
گا۔ (ترمذی، 5/391، حدیث:3720)
Dawateislami