حضور
کی عثمان غنی سے محبت از بنت سرفراز،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
جنت میں ہر
نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے اور میرے ساتھ تھی عثمان ہیں۔ (ابن ماجہ، 1/78، حدیث:
109)
عثمان کی
شفاعت کی بدولت 70 ہزار ایسے افراد جن پر دوزخ لازم ہو چکی ہوگی وہ بلا حساب و
کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔ ( تاریخ دمشق، 39/22)
یوں تو اللہ
پاک کے آخری نبی ﷺ کی مبارک صحبت پانے اور
پھر ایمان کی حالت میں دنیا سے جانے والے ہر صحابی رسول اہل ایمان کے سر کا تاج
اور دل کی راحت ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان ہی نرالی ہے اللہ پاک
کے کسی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا داماد ہونا ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو خوش نصیب
انسانوں کو ہی نصیب ہوتا ہے لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی شخص کے
نکاح میں کسی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی دو بیٹیاں نہیں آئیں اسی وجہ سے آپ کو
ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کہا جاتا ہے۔ ( سنن کبری، 7/115 )
سرکار دوعالم ﷺ
نے اعلان نبوت سے پہلے اپنی شہزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح عثمان غنی رضی
اللہ عنہ سے کیا تھا غزوہ بدر کے موقع پر ان کا انتقال ہوا تو پھر حضور علیہ
الصلوۃ والسلام نے اپنی دوسری شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی آپ سے
کر دیا۔ (تاریخ الخلفاء، ص 118)
ترمذی شریف
میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مقام
حدیبیہ میں بیعت رضوان کا حکم فرمایا اس وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضور
علیہ الصلوۃ والسلام کے قاصد کی حیثیت سے مکہ معظمہ گئے ہوئے تھے لوگوں نے حضور
علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی جب سب لوگ بیعت کر چکے تو رسول مقبول ﷺ نے
فرمایا کہ عثمان خدا اور رسول خدا ﷺ کے کام سے گئے ہیں یعنی حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ کی طرف سے خود بیت فرمائی لہذا
رسول اللہ ﷺ کا مبارک ہاتھ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے ان ہاتھوں سے بہتر ہے
جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنے لیے بیعت کی۔ (ترمذی، 5/392، حدیث: 3722)
ام المومنین
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کے حبیب ﷺ میرے حجرے میں اس
طرح آرام فرما رہے تھے کہ مبارک رانیں یا پنڈلیاں کھلی ہوئی تھی اس دوران حضرت
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حاضری کی اجازت مانگی تو انہیں اسی حالت میں اجازت دی اور
گفتگو فرمائی،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حاضری کا اذن کیا تو انہیں بھی اسی
حالت میں اجازت دی اور ان گفتگو فرمائی اس کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے
حاضری کی اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور لباس مبارک کو درست
فرمایا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بات چیت کرتے رہے جب
آپ چلے گئے تو میں نے عرض کی حضرات ابوبکر عمر آئے تو آپ نے تکلف نہیں فرمایا لیکن
حضرت عثمان کی آمد پر آپ اٹھ بیٹھے اور لباس کو درست فرمایا اس کا کیا سبب ہے نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔(مستدرک،
3/11، حدیث: 4556)
جو تنگی والے
لشکر کے لیے تیاری کا سامان مہیا کرے تو اس کے لیے جنت ہے یہ فرمان عالی شان سن کر
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کے لیے سامان پیش کیا۔
اللہ کے نبی ﷺ
نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص اٹھ کر اپنے ہم پلہ کے پاس چلا جائے یہ فرما کر
نبی کریم ﷺ اٹھ کر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور انہیں گلے
لگا کر ارشاد فرمایا تم دنیا و آخرت میں میرے دوست ہو۔
سرکار مدینہ ﷺ
نے اپنے مرض وصال میں ارشاد فرمایا میں
چاہتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے کوئی میرے پاس ہو حاضرین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ عنہ کو بلانے کے بارے میں پوچھا تو آپ خاموش رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ
سے متعلق دریافت کیا تو بھی آپ نے سکوت فرمایا تیسری بار عرض کی گئی کہ حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ کو آپ کے پاس بلا لائیں ارشاد فرمایا ہاں چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی
اللہ عنہ حاضر خدمت ہو کر خدمت اقدس میں تنہا بیٹھ گئےاب نبی کریم ﷺ نے کچھ گفتگو
فرمائی جسے سن کر عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا جب خلافت کے آخری
دنوں میں باغیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے مکان عالیشان کا محاصرہ کر لیا تو آپ نے
ارشاد فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک عہد لیا تھا اور میں اس پر صبر کروں گا۔
(ابن ماجہ، 1/80، حدیث: 113 )
رسول اللہ ﷺ اپنی شہزادی کے پاس تشریف لائے تو وہ حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ کا سر دھو رہی تھی آپ نے
ارشاد فرمایا اے میری بیٹی ابو عبداللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ یہ میرے ان
صحابہ میں سے ہیں جن کی سیرت میری سیرت سے
بہت مشابہ ہیں۔ (معجم کبیر، 1 / 76، حدیث: 98)
رسول اللہ ﷺ اپنی
اس شہزادی کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں
تھیں اور ارشاد فرمایا اگر میری دس بیٹیاں ہوتی تو میں ضرور ان سب کا نکاح عثمان
سے کر دیتا اور میں نے صرف آسمان سے آنے والی وحی پر ان کے ساتھ یکے بعد دیگرے
اپنی دو بیٹیوں کا نکاح کروایا ہے۔ (معجم اوسط، 2/346، حدیث: 3501)
Dawateislami