اللہ پاک نے
اپنے محبوب،سیدالانبیا،حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ
کو وہ مقامِ قرب عطا فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔آپ کی پوری حیاتِ طیبہ اللہ پاک کی محبت،خشیت اور
عبادت سے روشن ہے۔آپ کا ہر عمل،ہر ارادہ،ہر
سانس صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا۔
بچپن ہی سے نبیِ
اکرم ﷺکا دل دنیاوی کھیل کود سے ہٹا ہوا
اور خالقِ حقیقی کی طرف متوجہ تھا۔مکہ کے شور و غل میں جب لوگ بتوں کے آگے سر
جھکاتے،آپ غارِ حرا کی تنہائیوں میں اللہ
کی یاد میں ڈوب جاتے۔وہ راتیں جب آپ کا دل
اللہ کی طرف جھکتا اور نگاہیں آسمان کی وسعتوں میں اس کے نور کو تلاش کرتیں در اصل یہی وہ لمحے تھے جب محبتِ الٰہی کا چراغ
آپ کے دل میں روشن ہوا۔
اللہ پاک نے قرآنِ
کریم میں ارشاد فرمایا:قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ
یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ(پ3،الِ عمرٰن: 31) ترجمہ:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان
بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔
یہ آیت اعلان
ہے کہ نبی ﷺ اللہ کے محبوب ہیں اور
آپ کی پیروی ہی اللہ کی محبت کا راستہ ہے۔
نبیِ کریم کی محبتِ الٰہی کی انتہا دیکھئے کہ جب راتوں کو
قیام فرماتے،آنکھوں سے آنسو بہتے،قدموں پر ورم آ جاتا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا
نے عرض کی:یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں،پھر اتنی مشقت کیوں؟ آپ نے فرمایا:أَفَلَا اُحِبُّ اَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا ترجمہ:کیا
میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں!(بخاری،3/329، حدیث: 4837)
یہ جملہ عشقِ
الٰہی کا وہ درجہ ہے جہاں بندہ اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے مکمل فنا ہو جاتا ہے۔آپ کی زبان ہر لمحہ اللہ کے ذکر سے تر رہتی تھی۔ہر
بات بسم اللہ سے شروع،ہر مصیبت پرالحمد للہ،ہر
کامیابی پراللہ اکبر۔آپ کے دل
میں اللہ کی محبت آپ کو کسی سے غافل نہ کرتی۔ایک حدیث میں نبی نے فرمایا:أَحِبُّوا اللَّهَ
لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ وَأَحِبُّوا
أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي اللہ
سے محبت کرو ان نعمتوں کی وجہ سے جو وہ تمہیں کھلاتا (عطا کرتا) ہے، اور اللہ کی
محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو، اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت
کرو۔(ترمذی،5/434،حدیث:3814)
اللہ پاک نے
آپ کے لیے فرمایا:وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ(۴)(پ30،الم نشرح:4) ترجمہ: اور ہم نے تمہارے لیے تمہارا ذکر بلند کردیا۔
یہ اللہ پاک کی
اپنے محبوب ﷺسے محبت کا سب سے واضح اعلان
ہے کہ جہاں رب کا نام لیا جاتا ہے،وہاں اس
کے محبوب کا ذکر بھی بلند کیا جاتا ہے۔
آخر میں یہی
حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور ﷺکی زندگی
اللہ پاک کی محبت اور قرب کی سب سے روشن مثال ہے۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم آپ کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی زندگی کو ذکر،شکر
اور محبتِ الٰہی سے منور کریں۔یہی کامیابی کا راز ہے،یہی ایمان کی حقیقت ہے۔
Dawateislami