قرآن مجید
فرقان حمید میں فرمان باری ہے کہ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ
الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
نفاق ہلاکت
ڈالنے والے امور، جہنم میں لے جانے و الے اعمال میں سے ایک ہے جس کی یہاں سخت وعید
بیان کی گئی ہے۔چنانچہ نفاق کے لیے منافقت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس کی
دو صورتیں ہیں: پہلی نفاق اعتقادی یہ کہ زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل
میں اسلام سے انکار کرنا،یہ کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے اور ایسے کو کل بروزِ قیامت
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا اور دوسری صورت
نفاق عملی یہ کہ زبان و دل کا یکساں نہ ہونا، یہ گناہِ
کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220) اس کی قرآن وحدیث میں شدید
مذمت وارد ہوئی۔
منافقت نیک
اعمال کی قبول نہ ہونے اور اکارت و بربادی کا سبب ہے چنانچہ قرآن پاک میں منافق کے
بارے میں فرمایا گیا کہ قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ
كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْؕ-اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(۵۳) (پ 10،
التوبۃ،53) ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ کہ تم خوشدلی سے خرچ کرو یا ناگواری سے
(بہرصورت) تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ بیشک تم نافرمان قوم ہو۔
منافق دو چہرے
والا اور بدترین شخص ہے،چنانچہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں میں سے
بدترین شخص دو چہروں والا ہوتا ہے، جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور ان
لوگوں کے پاس دوسرے چہرے سے آتا ہے۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
منافق زبان کا
عالم دل کا جاہل ہےکہ اللہ کے محبوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنے بعد نہ کسی مومن
سے خوف ہے نہ کافرسے کیونکہ مومن کو اس کا ایمان برائی سے روکے رکھے گااور کافر کو
اللہ اس کے کفر کے سبب ذلیل فرمائے گا۔ البتہ مجھے تم پر منافق کا ڈر ہے جو زبان
کا عالم ہو، دل کا جاہل ہو، زبان سے وہ کہے جسے تم اچھا سمجھتے ہو اور کام وہ
کرےجسے تم برا سمجھتے ہو۔ (مسند الربیع، 1/362- حضرت ابو عبیدہ بن جراح، ص 55)
حضرت حسن بصری
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مومن کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے، جب بھی وہ
کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو سوچتا ہے اگر اس کے حق میں ہو تو بولتا ہے اور
اگر مخالف ہو تو رُک جاتا ہے جبکہ منافق کا دل اس کی زبان کے کنارے پر ہوتا ہے،
یعنی دل میں جو خیال پیدا ہوتا ہے بول دیتا ہے، لمحہ بھر توقف نہیں کرتا بلکہ اس
بات سے واپس بھی نہیں پلٹتا۔ (قوت القلوب مترجم، 1/468)
منافق دو
بکروں کے درمیان گھومنے والی بکری کی مثل ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: منافق اس بکری کی
طرح ہے جو دو بکروں کے درمیان گھومے (چکر لگائے)کبھی اس بکرے کے پاس پہنچ جائے کبھی
اس بکرے کے پاس۔ (مسلم، ص 1498، حدیث:2784)
یہ اتنی مذموم
خصلت ہے کہ حضور ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا گیا کہ الٰہی میرے دل کو نفاق سے پاک
رکھ۔ (مراۃ المناجیح، 4/117)
نیز صدر
الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن
العرفان میں فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں
اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو
مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔( باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220 (
اس مذموم صفت
سے مومن کا بچنا چاہیے کہ اور اس کے لیے نفاق کی نشانیوں،شاخوں اور علامات کو
جاننا ضروری ہے۔
فحش گوئی
زیادہ بولنا نفاق کی دو شاخیں ہیں۔ (یعنی ہر بات بے دھڑک منہ سے نکال دینا منافق
کی پہچان ہے،زیادہ بولنے والا گناہ بھی زیادہ کرتا ہے یعنی اسی فی صدی گناہ زبان
سے ہوتے ہیں۔ اسی طرح منافق کی چار نشانیاں بیان کی گئیں کہ جس میں چار عیوب ہوں
وہ نرا منافق ہے اورجس میں ایک عیب ہو ان میں سے اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک
کہ اُسے چھوڑ نہ دے: جب امانت دی جائےتو خیانت کرے،جب بات کرے توجھوٹ بولے،جب وعدہ
کرے تو خلاف کرے،جب لڑے تو گالیاں بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
منافق
کی پہچان: منافق
کی پہچان یہ بھی بیان کی گئی کہ دوخصلتیں اچھے اخلاق اور دینی فقہ منافق میں جمع
نہیں ہوتیں۔ منافق حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت نہیں کرتا۔ منافقوں
پرفجراورعشاءسے زیادہ کوئی نمازبھاری نہیں۔ نماز میں سستی کرنا منافقوں کی علامت
ہے۔ نماز نہ پڑھنا یا صرف لوگوں کے سامنے پڑھنا جبکہ تنہائی میں نہ پڑھنا یا لوگوں
کے سامنے خشوع و خضوع سے اور تنہائی میں جلدی جلدی پڑھنا یا نماز میں ادھر ادھر
خیال لیجانا، دلجمعی کیلئے کوشش نہ کرنا وغیرہ سب سستی کی علامتیں ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ
ہم ان باتوں سے بچیں اور کوئی علامت یا پہچان ہم میں جمع نہ ہو، اللہ پاک اپنی
امان میں رکھے۔ آمین
انسانی
معاشرے میں کردار اور نیت کی سچائی کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ کسی
بھی فرد کی اصل پہچان اس کے ظاہر اور باطن کے ہم آہنگ ہونے میں ہے۔جب انسان کے قول
و فعل میں تضاد پیدا ہو جائے اور وہ بظاہر کچھ اور حقیقت میں کچھ ہو تو ایسے رویے
کو نفاق کہتے ہیں۔
لفظِ
منافق لغت میں نافقاء الیربوع سے مشتق ہے۔ کہتے ہیں کہ جنگلی چوہے یربوع کے بل کے
دو سوراخ ہوتے ہیں۔ایک داخل ہونے کیلئے اور دوسرا نکلنے کیلئے ہوتا ہے۔ایک سوراخ
سے ظاہر ہوتے ہیں اور دوسرے سے بھاگ نکلتے ہیں منافق کو بھی منافق اس لئے کہتے ہیں
کہ وہ بظاہر تو مسلمانوں کی شکل میں ہوتا ہے مگر کفر کی طرف نکل جاتا ہے۔
حدیث
شریف میں ہے: منافق کی مثال ایسی نووارد بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان ہو،کبھی
اس ریوڑ کی طرف بھاگتی ہے اور کبھی اس ریوڑ کی طرف دوڑتی ہے۔ (مسلم، ص 1498، حدیث:
2784)
منافقت
یہ ہے کہ کوئی شخص آپس میں مخالف دو اشخاص میں سے ہر ایک کے پاس جائے اور ہر ایک
سے اس کے موافق بات کرے، یہ عین نفاق ہے۔ آقاﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص دنیا میں
دو چہروں والا ہو بروز قیامت اس کی دو آگ کی زبانیں ہوں گی۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
بروز
قیامت تم اللہ کے بندوں میں سے سب سے برا اس شخص کو پاؤ گے جس کے دو چہرے ہیں جو
ادھر کچھ کہتا ہے اور ادھر کچھ کہتا ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں: جو ان کے پاس
ایک چہرے سے آتا ہے اور دوسروں کے پاس دوسرے چہرے سے
جاتا
ہے۔ (مسلم، ص 1120، حدیث: 6454)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں سید عالمﷺ بدترین شخص منافق کو قرار دیا ہے جو دو گروہوں کے سامنے
اپنے مفاد کے مطابق ان کے موافق بات کرتا ہے۔ ایسا شخص معاشرے کی نظر میں بھی
بدترین شخص ہوتا ہے۔جھوٹ، دھوکہ چاپ لوسی جیسے برے امراض اس کی ذات کا حصہ ہوتا
ہے۔
حضرت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
چار
علامتیں جس شخص میں ہوں گی تو وہ خالص منافق ہوگا اور اگر ان میں سے ایک علامت
ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے: جب
امانت دی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی
کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
مذکورہ حدیث مبارکہ میں غور
کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ منافق شخص اپنے قول میں جھوٹا، اپنے وعدوں میں کچا اور
بری زبان کا مالک ہوتا ہے۔ بات بات پر جھوٹ بولنا اس کی ذات کا حصہ ہوتا ہے۔یہی
وجہ ہے کہ سید عالمﷺ نے اپنی امت کیلئے منافق کا خوف محسوس کیا چنانچہ فرمان سید
عالم ﷺ ہے:
مجھے اپنے بعد نہ کسی مومن سے خوف ہے نہ کافرسے کیونکہ مومن کو اس کا ایمان برائی
سے روکے رکھے گااور کافر کو اللہ اس کے کفر کے سبب ذلیل فرمائے گا۔ البتہ
مجھے تم پر منافق کاڈر ہے جوزبان کا عالم ہو،دل کا جاہل ہو، زبان سے وہ کہے جسے تم
اچھا سمجھتے ہو اور کام وہ کرے جسے تم برا سمجھتے ہو۔ (حضرت ابو عبیدہ بن جراح، ص
55)
کھلے دشمن
سے زیادہ خطرناک دشمن منافق ہوتا ہے کیونکہ یہ سرعام وار نہیں کرتا بلکہ خاموشی سے
پیٹھ پیچھے وار کرتا ہے جو زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ اپنے جھوٹ اور فریب سے وہ
اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور دلوں میں نفرت پیدا کرتا ہے۔
دین
میں نفاق کی دو اقسام ہیں: نفاق اعتقادی اور نفاق عملی۔ نفاق اعتقادی یعنی اعتقاد/عقائد
میں نفاق تو یہ کفر کا اعلی درجہ ہے۔ جبکہ نفاق عملی یعنی اعمال میں منافقت تو یہ
بھی مذموم ہے۔
منافق کی سزا: اللہ
کریم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ
النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء:
145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز
ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
مولانا
سید محمد نعیم الدین مراد آبادی آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر
سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا
رہاہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء
کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
پس
مسلمان کو چاہئے کہ اپنی ذات میں غور و فکر کرکے خود کو نفاق سے بچائےاور اللہ
کریم کے عذاب سے خود کو ڈراتا رہے۔
اللہ
کریم ہمیں نفاق کی نحوست سے محفوظ فرمائے۔
زمانے کے
ناسوروں میں سے ایک ناسور نفاق بھی ہے۔یہ ایسا ناسور ہے جو کہ عہد نبی ﷺ میں بھی
تھا۔ ایسی باطنی بیماری کہ جس کے بارے میں انسان کو معلوم ہی نہیں۔
علمائے اہل
سنت یوں نفاق کی تعریف بیان کرتے ہیں کہ زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرنا اور دل
میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی
کہلاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219)
نفاق
کی مذمت قرآن میں:
لفظ منافقت
نفاق سے ماخوذ ہے یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی مذمت میں کئی آیت مبارکہ اور احادیث
مبارکہ ہیں۔
اللہ پاک قران
پاک میں فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا
قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا
یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5،
النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا
چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے
لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
صدر الافاضل
حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان
میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ
وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود
مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔ (باطنی
بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220)
نفاق
کی مذمت احادیث مبارکہ میں:
حضرت انس رضی
اللہ عنہ نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ
غضب فرماتا ہے اور فاسق کی تعریف سے عرش الہی کانپ اٹھتا ہے۔ (انوار الحدیث، ص 398)
اللہ اکبر جب
فاسق کی مدح و تعریف کرنے سے عرش الہی کانپنےلگتا ہے تو بددین و بدمذہب کی تعریف
کرنے سے عرش الہی کس قدر کانپتا ہوگا ( اللہ پاک کی پناہ)۔
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے
ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ
دے: (۱)جب امانت دی جائے تو خیانت کرے (۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۳)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (۴)جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔(بخاری،
1/25، حدیث: 34)
غور کیجیے
کہیں ہم میں بھی تو یہ ساری علامات یا ان میں سے کوئی ایک علامات تو نہیں پائی
جاتی کہ کہیں ہم بھی غضب الہی کے مستحق تو نہیں۔
نفاقِ اعتقادی
کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے، منافق اعتقادی کو کل بروزِ قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا جبکہ نفاق عملی گناہِ کبیرہ، حرام اور
جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 220)
آج کا مسلمان
نفاق کی مذمت تو دور کی بات ہے یہ بھی نہیں جانتا کہ نفاق کیا ہے کہ زبان سے کلمے
کا اقرار کر لیا بس یہ مسلمان ہونے کے لیے کافی ہے لیکن ایسا بالکل بھی درست نہیں
کیا عبداللہ بن ابی نے بھی کلمہ نہیں پڑھا تھا کہ اللہ پاک نے اسے قرآن پاک میں
بیشتر جگہ میں منافق بتایا۔
نبی
کریم ﷺ کا طرز عمل: ہمارے پیارے آقا ﷺ تو منافق کی نماز جنازہ تک نہ
پڑھائی اور ہمیں اس باطنی بیماری کی پروا نہ ہو اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ نفاق سے
بچنے کے لیے یوں دعا فرمایا کرتے: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عداوت سے، نفاق
سے، اور بد اخلاقی سے۔
اللہ سے دعا
ہے کہ وہ ہم سب کو صراط مستقیم پر ثابت قدمی سے چلائے اور کفار اور منافقین کی
چالوں سے،ان کی گمراہیوں سے ہم کو بچا کر رکھے۔ آمین
نفاق
(منافقت)کی تعریف: زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں
اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتا
ہے۔
آیت
مبارکہ: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
ارشاد فرمایا
کہ بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ہرگز ان کا کوئی
مددگار نہ پائے گا جو انہیں عذاب سے بچا سکے اور جہنم کے سب سے نچلے طبقے سے انہیں
باہرنکال سکے۔ (روح البیان، 2/ 309)
یاد رہے کہ
منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں خود کو مسلمان کہہ کرکے
مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کافر ہونے کے باوجود مسلمانوں کو دھوکہ دینا
اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
حدیث مبارکہ
میں منافق کی چار علامتیں بیان کی گئی ہیں، حضرت عبدالله بن عمرو رضی الله عنہ سے
روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف و رحیمﷺ نے ارشاد فرمایا:چار علامتیں جس شخص میں
ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئ تو اس شخص میں نفاق کی ایک
علامت پائ گئ یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے:(۱) جب
امانت دی جائے تو خیانت کرے(۲) جب
بات کرے تو جھوٹ بولے(۳) جب وعدہ کرے
تو وعدہ خلافی کرے(۴) جب جھگڑا کرے
تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
حضرت فضیل بن
عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب عمل خالص ہو لیکن درست نہ ہوتو اسے قبول نہیں کیا
جائے گا اور جب عمل درست تو ہو لیکن خالص نہ ہو تویہ بھی قبول نہیں کیا جائے
گا،عمل صرف وہی مقبول ہے جو خالص اور درست ہو اور عمل خالص اس وقت ہو گا جب اسے اللہ
کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا جائے اور درست اس وقت ہو گا جب وہ سنت(یعنی شریعت کے
بتائے ہوئے طریقے ) کے مطابق ہو گا۔ (جامع العلوم والحکم، ص 24)
اس سے ان
لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق عمل نہیں کرتے
اور اگر انہیں کوئی سمجھائے تو اپنا عمل درست کرنے کی بجائے یہ کہہ کر ٹال دیتے
ہیں کہ اللہ قبول کرے گا۔
نفاق اعتقادی کفر
کا سب سے بڑا درجہ ہے، منافق اعتقادی کو کل بروز قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے
سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا جبکہ نفاق عملی گناہ کبیرہ،حرام اور جہنم میں لے
جانے والا کام ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 220)
جس طرح کچھ
نیکیاں ظاہِری ہوتی ہیں جیسے نماز اورکچھ باطِنی مثلاً اِخلاص وغیرہ اسی طرح بعض
گناہ بھی ظاہری ہوتے ہیں جیسے قتل اوربعض باطِنی جیسے نفاق,تکبر وغیرہ۔ نفاق نہایت
مہلک باطنی بیماریوں میں سے ہے اور بنیادی طور پر یہ دو طرح کا ہوتا ہے: زبان سے
مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان
و دل کا یکساں نہ ہونانفاق عملی کہلاتاہے۔(1)
رسولِ اکرم،
رحمتِ عالم ﷺ نے منافق کی چند واضح نشانیاں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: چار
علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس
شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے: (۱)جب امانت دی جائے تو خیانت کرے (۲) جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۳)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (۴)جب جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (2)
منافق کی قرآن
میں بھی سخت مذمت آئی ہے، چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے۔ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان:
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے
مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ
کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
ایک اور مقام
پر ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ
مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
صدر الافاضل
حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان
میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ
وہ دنیا میں اظہار اسلام کرکے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہاہے اور کفر کے باوجود
مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
حضرت مالک بن
دینار فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں یہ پڑھا ہے کہ جب بندے کا نِفاق کامِل ہو
جاتا ہے تو وہ اپنی آنکھوں کا مالِک بن جاتا ہے، پھر جب چاہتا ہے رونے لگتا ہے۔
یعنی وہ جب
چاہے لوگوں کے سامنے دکھاوے کے طور پر رو لیتا ہے مگر اس کے دل میں ایسی کیفیت
نہیں ہوتی۔
حضرت خضر علیہ
السلام عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ مدینہ مشرفہ میں جمع ہوئے عمربن
عبدالعزیز نے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی نصیحت فرمادیں تو آپ نے فرمایا: اے عمر! اس
بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس
کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تووہ منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے۔یہ
سن کر حضرت عمربن عبدالعزیز یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی۔(3)
نفاقِ اعتقادی
کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے، منافق اعتقادی کو کل بروزِ قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے
جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ڈالا جائے گا جبکہ نفاق عملی گناہِ کبیرہ، حرام اور
جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
اللہ پاک دونوں
طرح کے نفاق سے تمام مسلمانوں کو محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین
حوالہ
جات:
(1) بہار
شریعت، 1/182- جامع العلوم و الحکم، ص 529
(2) بخاری،
1/25، حدیث: 34
(3) تنبیہ
المغترین، ص 39
اسلامی
تعلیمات میں نفاق ( منافقت) کو اخلاقی اور روحانی اعتبار سے بدترین عیب قرار دیا
گیا ہے۔ نفاق ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے ایمان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
نفاق ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو دوزخ کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے۔اور یہ ایک ایسا
گناہ ہے جو انسان کو ایمان سے محروم کر دیتا ہے اور نفاق ایک ایسی قلبی بیماری اور
اخلاقی برائی ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
آئیے جانتے ہیں! کہ نفاق کیا ہے؟
نفاق
( منافقت) کی تعریف: زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں
اسلام سے انکار کرنا نفاق کہلاتا ہے۔یعنی زبان پر ایمان ہو لیکن دل میں کفر اور
برائی چھپی ہو۔
قرآن و حدیث
کی روشنی میں نفاق کی مذمت کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
قرآن
مجید میں نفاق کی مذمت: قرآن مجید میں نفاق کی سخت مذمت کی گئی ہے جیسا کہ
سورۃ النساء میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
اس آیت مبارکہ
سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق کا انجام تو کافر سے بھی بدتر ہے اللہ پاک نے ان کے لیے
دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے اور اللہ پاک کے مقابلے میں کوئی اس کا مددگار نہیں
جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان:
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے
مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ
کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
صدر الافاضل
حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں
اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ
دنیا میں خود کو مسلمان کہہ کر مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کافر ہونے کے
باوجود مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اسلام کے ساتھ استہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
(باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220 )
احادیث
مبارکہ:
نبی کریم ﷺ نے
منافق کو پہچاننے کے لیے چند واضح علامات بیان فرمائی ہیں تاکہ مسلمان اپنی اصلاح
کر سکیں وہ علامات درج ذیل ہیں، چنانچہ حضورِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: چار علامتیں
جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا اور ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس شخص میں
نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے: (1) جب امانت دی جائے تو
خیانت کرے (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے (4) جب
جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
ایک اور مقام
پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بد ترین انسان وہ ہے جو دو چہروں والا ہے جو ایک
گروہ کے پاس ایک چہرے کے ساتھ اتے ہیں اور دوسرے گروہ کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ۔ (بخاری،
4/466، حدیث: 7179)
اس حدیث سے
ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے منافق کو بدترین شخص قرار دیا ہے
اور قرآن مجید میں بھی منافق کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے۔
الغرض اسلام میں نفاق کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کا
حکم دیا گیا ہے۔
نفاق صرف
انفرادی گناہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ نفاق کے بہت سے نقصانات
ہیں جن میں سے چند پیش خدمت ہیں: (1) منافقت سے لوگوں کے درمیان بھروسہ ختم ہو
جاتا ہے (2) منافق ہمیشہ دو گروہوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے فساد کرواتا ہے
(3) نفاق سے انسان کا دل سخت ہو جاتا ہے۔
نفاق سے بچنے
کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرے اور ہر کام اللہ پاک کی رضا
کے لیے کرنا کھاوے کے لیے نہیں، ان کے علاوہ جو عیوب منافق میں پائے جاتے ہیں ان
سے بچنا چاہیے اور اپنی خطاؤں پر نادم اور توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔
آخر میں اللہ پاک
سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قول و فعل کے تضاد سے محفوظ رکھے اور ہمارے دلوں کو
ایمان کے نور سے منور فرمائے۔
نفاق یعنی
منافقت ایک باطنی بیماری ہے دین اسلام میں یہ ایک انتہائی مذموم اور سنگین گناہ ہے
نفاق کی تعریف کئی طرح سے کی جاسکتی ہے اسے عام الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ
دل میں کچھ اور اور زبان پر کچھ اور رکھنا نفاق کہلاتا ہے دین اسلام میں نفاق کو
سخت ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ اسلام تو نام ہی سچائی اور خلوص کا ہے قرآن وحدیث
میں جگہ جگہ نفاق کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
قرانی
آیات کی روشنی میں نفاق کی مذمت: قرآن مجید میں اللہ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔ اس آیت مبارکہ کے متعلق تفسیر صراط الجنان میں بیان کیا گیا ہے کہ منافق
کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں خود کو مسلمان کہہ کر مجاہدین کے
ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کافر ہونے کے باوجود مسلمانوں کو دھوکہ دینا اور اس کے
ساتھ استہزاء کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔
اس آیت مبارکہ
اوراس کی تفسیر سے ہمیں یہ معلوم ہورہا ہے کہ منافق کا انجام تو کافر سے بھی بدتر
ہے اللہ پاک نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے اور اللہ کے مقابلے میں
کوئی بھی اس کا مددگار نہیں جو انہیں عذاب سے بچا سکے۔
اسی طرح ایک
اور مقام میں اللہ نے ارشاد فرمایا: وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ
الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-هِیَ حَسْبُهُمْۚ-وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُۚ-وَ
لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ(۶۸) (پ 10، التوبۃ: 68) ترجمہ: اللہ نے
منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں
ہمیشہ رہیں گے اور انہیں بس ہے اور اللہ کی ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے قائم رہنے
والا عذاب ہے۔
صرف قرآن کریم
میں ہی نفاق کی مذمت نہیں بیان کی گئی بلکہ متعدد احادیث میں بھی نفاق کی مذمت
بیان کی گئی ہے آئیے اسی میں سے ایک حدیث ملاحظہ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: بد ترین انسان وہ دو چہروں والا شخص ہے جو ایک گروہ کے پاس ایک چہرے کے
ساتھ آتا ہے اور دوسرے گروہ کے پاس دوسرے چہرے کے ساتھ۔ (بخاری، 4/466، حدیث:
7179)
اس حدیث سے
ہمیں معلوم ہو رہا ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے منافق کو بد ترین شخص قرار دیا ہے
اور قرآن مجید میں بھی منافق کے حوالے سے فرمایا گیا ہے کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے
الغرض اسلام میں نفاق کی بہت مذمت بیان کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کا
حکم دیا گیا ہے ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں نفاق جیسے موذی مرض سے خود
کو بچائے۔
آخر میں اللہ
رب العزت سے یہ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نفاق جیسی باطنی بیماری سے بچنے کی توفیق
عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔
نفاق یعنی
منافقت ایک انتہائی مذموم اور ناپسندیدہ فعل ہے شریعت میں اسے سخت ناپسند کیا گیا
ہے اور اسکی بہت مذمت بیان کی گئی ہے نفاق یہ ہے کہ انسان ایک بات ظاہر کرئے اور
دل میں اسکے برعکس رکھے قرآن واحادیث میں اسکی شدید مذمت بیان کی گئی ہے جیسا کہ
قرآن کریم کی آیت ہے اللہ پاک نے فرمایا: وَّ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ
الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ
السَّوْءِؕ-عَلَیْهِمْ دَآىٕرَةُ السَّوْءِۚ-وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ لَعَنَهُمْ
وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا(۶) (پ 26، الفتح:
6) ترجمہ کنز الایمان: اور عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں
مشرک عورتوں کو جو اللہ پر برا گمان رکھتے ہیں انہیں پر ہے بری گردش اور اللہ نے
ان پر غضب فرمایا اور انہیں لعنت کی اور ان کے لیے جہنم تیار فرمایا اور وہ کیا ہی
برا انجام ہے۔
اسی طرح
منافقوں پر عذاب کے بارے میں سورہ الاحزاب میں بھی بیان ہے فرمان باری ہے: لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ
الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ
یَتُوْبَ عَلَیْهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ(۲۴) (پ
21، الاحزاب: 24) ترجمہ کنز الایمان: تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا صلہ دے اور
منافقوں کو عذاب کرے اگر چاہے یا انہیں توبہ دے بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اللہ اکبر
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ منافقت کرنے والے کے لیے کس قدر وعیدیں بیان ہوئی
ہیں قرآن مجید میں۔ اسی طرح احادیث میں بھی نفاق کی مذمت کا بیان ہے، فرمان آخری
نبی ﷺ ہے: جو شخص دو رخا ہو (یعنی ایک کے سامنے ایک بات اور دوسرے کے سامنے دوسری
بات کرے) وہ قیامت کے دن بد ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
ہمیں خوف
کھانا چاہیے اور اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ کہیں ہم تو اس باطنی بیماری میں مبتلا
تو نہیں کیونکہ یہ کس قدر خطر ناک ہے کہ مصطفی کریم نے اس بارے میں اتنا سخت انداز
احتیارفرمایا۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں منافقت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اخلاص عطا فرمائے اور ہمار
ا خاتمہ بالخیر فرمائے۔
نفاق یعنی
منافقت کی تعریف ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا
اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق
عملی کہلاتا ہے۔
نفاق کی اقسام
میں سے کوئی بھی ہو نفاق ایک انتہائی مذموم فعل ہے دین اسلام میں اسے برا سمجھا
جاتا ہے اور اس سے بچنے کی ترغیب دلائی جاتی ہیں قرآن کریم کی آیات اور متعدد
احادیث میں نفاق کی مذمت، منافق کی پہچان اور نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔
آئیے ان میں
سے چند روایات ملاحظہ فرمائیں:
قرآن مجید میں
ارشاد باری ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ
عَلَیْهِمْؕ-وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۷۳) (پ 10،
التوبۃ: 73) ترجمہ کنز العرفان: اے غیب کی خبر دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں
اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کیا ہی بری جگہ
پلٹنے کی۔
اس آیت کے
حوالے سے تفسیر صراط الجنان میں بیان ہے کہ کافروں پر تو تلوار اور جنگ سے اور
منافقوں پر حجت قائم کرنے سے جہاد کرو اور ان سب پر سختی کرو۔
اسی طرح حدیث
پاک میں بھی بیان ہوئے ہیں، چنانچہ فرمان آخری نبی ﷺ ہے کہ بدترین انسان وہ دو
چہروں والا شخص ہے جو ایک گروہ کے پاس ایک چہرے کے ساتھ آتے ہیں اور دوسرے گروہ کے
پاس دوسرے چہرے کے ساتھ۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
ان قرآنی آیات
اور احادیث سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ منافقت کس قدر گناہ کا کام،اور اللہ کریم کی
ناراضگی کا سبب ہے۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں منافقت جیسے گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب سے اپنی
رضا والے کام لے۔
نفاق ایک بہت
بڑی اخلاقی اور معاشرتی برائی ہے۔ نفاق کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ظاہر اور باطن
میں فرق ہو، یعنی وہ لوگوں کے سامنے اچھا اور مخلص بنے لیکن دل میں اس کے برعکس
خیالات رکھے۔ ایسا شخص سچائی اور اخلاص سے دور ہوتا ہے اور اپنے فائدے کے لیے
دوسروں کو دھوکا دیتا ہے۔
اسلام میں
نفاق کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبویہ میں منافقین کی سخت
مذمت بیان کی گئی ہے۔ منافق وہ شخص ہوتا ہے جو بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے مگر
دل سے ایمان نہیں رکھتا۔ وہ لوگوں کے سامنے دیانت دار اور نیک بننے کی کوشش کرتا
ہے لیکن حقیقت میں اس کے اعمال اس کے دعووں کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام
میں منافقت کو ایک سنگین گناہ قرار دیا گیا ہے۔
اللہ پاک ارشاد
فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان:
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے
مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ
کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف
ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
نفاق دوزخ کے
سب سے نچلے درجے کا باعث ہے۔
منافقت
کا انجام: منافقین
کے لیے آخرت میں دردناک عذاب ہے اور وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔
لہذا ایک اچھا
انسان اور سچا مسلمان وہی ہے جس کے ظاہر اور باطن میں یکسانیت ہو۔ ہمیں چاہیے کہ
ہم اپنے کردار کو پاکیزہ بنائیں، سچ بولیں، وعدے پورے کریں اور امانت کی حفاظت
کریں۔ اسی طرح ہم نفاق جیسی برائی سے بچ سکتے ہیں اور ایک اچھا اور پُرامن معاشرہ
قائم کر سکتے ہیں۔
نفاق عربی
زبان کا لفظ ہے جو نفق سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں چھپانا یا دو رُخی راستہ اختیار
کرنا۔ شرعی اصطلاح میں زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے
انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتاہے۔ (باطنی
گناہوں کی معلومات، ص 164)
نفاق ایک بہت
بڑا اخلاقی اور روحانی مرض ہے۔ نفاق کا مطلب ہے کہ انسان ظاہر میں مسلمان ہو لیکن
دل میں ایمان نہ ہو، یا زبان سے کچھ اور کہے اور دل میں کچھ اور رکھے۔ منافق شخص
بظاہر نیک اور دیندار نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ سچائی سے دور ہوتا ہے۔ اسلام نے
نفاق کو سختی سے منع کیا ہے اور منافقین کو خطرناک دشمن قرار دیا ہے کیونکہ وہ
مسلمانوں کے درمیان رہ کر نقصان پہنچاتے ہیں۔
اللہ قرآن پاک
میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ
خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ
النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ
5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب
دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے
جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
حدیث کریمہ
میں بیان ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں؛ جب بات کرے جھوٹ
بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
نفاق کے بے
شمار نقصانات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ملاحظہ کیجیے تاکہ ان سے بچا جاسکے
نفاق ایمان کو
کمزور کرتا ہے، معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، اللہ ناراض ہوتا ہے، آخرت میں
سخت عذاب ملتا ہے، منافق کو عزت نصیب نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے
کہ نفاق ایک خطرناک باطنی بیماری ہے جو انسان کے ایمان اور کردار کو تباہ کر دیتی
ہے۔ قرآن و حدیث میں منافقین کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ
وہ سچائی، امانت داری اور اخلاص کو اختیار کرے اور نفاق جیسی بری صفت سے اپنے آپ
کو بچائے تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں نفاق اور اس جیسی تمام مہلک بیماریوں سے محفوظ فرماے اللہ کریم
اپنا ڈر اور مسلمانوں کا احترام عطا فرمائے۔ آمین
انسان میں جس
طرح کبھی جسمانی امراض پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح بعض باطنی روحانی/ قلبی ( دل کے
امراض )بھی ہوتے ہیں۔ جسمانی امراض انسان کے لیے دنیاوی زندگی میں نقصان کا باعث
بنتے ہیں جبکہ باطنی امراض زیادہ مہلک ہیں کیونکہ یہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے
کا سبب ہیں۔
انہی باطنی
امراض میں سے ایک مرض نفاق بھی ہے۔
نفاق یعنی دل
کا معاملہ ظاہر کے خلاف ہو (ظاہر کچھ اور کرنا اور دل میں معاملہ اسکے برعکس ہو)۔
نفاق کی دو
قسمیں ہیں: نفاق اعتقادی اور نفاق عملی۔
نفاق اعتقادی
نفاق عملی سے زیادہ خطرناک ہے۔ نفاق اعتقادی یعنی زبان سے اسلام کا دعویٰ کرنا اور
دل میں اسلام سے انکار کرنا۔یہ خالص کفر ہے اور ایسوں کے لیے جہنم کا سب سے نچلا
طبقہ ہے۔
اللہ پاک فرماتا
ہے: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
جبکہ نفاق کی
دوسری قسم جس میں کوئی شخص دعویٰ اسلام میں تو سچا ہو لیکن منافقین کی علامات،
عادات اس میں پائی جاتی ہوں ( اخلاق اچھے نہ ہوں ) جیسے جھوٹ ہولنا،جھگڑاکرنا،
وعدہ خلافی وغیرہ۔
قرآن و حدیث
میں نفاق کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے اور دونوں طرح کے نفاق سے بچنے کا فرمایا گیا
ہے
یہاں تک کہ
قرآن کریم میں ایک پوری سورت ہے جس کا نام سورہ منافقون ہے۔اسکے آغاز میں بھی
منافقین کا عمل بیان ہوا۔
احادیث مبارکہ
میں بھی نفاق کی مذمت بیان ہوئے اور نفاق کی علامات کو خود سے دور کرنے کا فرمایا
گیا۔ نفاق کی کئی علامتیں ہیں اس لیے احادیث مبارکہ میں مختلف تعداد کے ساتھ بیان
ہوئی ہیں۔
ایک روایت میں
کچھ یوں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: (1) جب بات
کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت
کرے۔ (بخاری،1/24، حدیث: 33)
نفاق کی مذمت
کا اندازہ اس بات سے بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے آقا ﷺ نفاق سے بچنے کے لیے دعا فرمایا
کرتے تھے۔ روایت ہے حضرت ام معبد سے وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے
سنا: الٰہی میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو دکھلاوے سے اور میری زبان کو جھوٹ
سے اور میری آنکھ کو بددیانتی سے پاک رکھ کیونکہ تو جانتا ہے خیانت والی آنکھ کو اور
اس کو جسے سینے چھپاتے ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 4/117)
نفاق آج بھی
پایا جاتا ہے لیکن ہم کسی کو منافق نہیں کہہ سکتے پیارے آقا ﷺ کو اللہ پاک نے علم
عطا فرمایا تھا، لیکن اب اگر کوئی اعتقادی منافق ہو تو وہ کافر ہی ہے جبکہ عملی
نفاق ہو تو اس کو خود سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
لہذا ہمیں
چاہیے کہ ہم بھی اپنا جائزہ لیں اور نفاق کی اگر کوئی نشانی ہم میں پائی جاتی ہو
تو اس کو خود سے دور کریں جھوٹ حسد کینہ خیانت وغیرہ باطنی امراض سے بچنے کی کوشش
کریں اور اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں اخلاص ہوگا تو نفاق بھی نہیں رہےگا اور
ذکر و درود کی عادت اپنانے اور جسمانی روحانی امراض سے بچنے کے لیے اللہ پاک سے
دعا کو اپنا معمول بنائیں۔
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے ہمارے ظاہر وباطن کو پاک فرمائے اور اخلاص عطا فرمائے۔
آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami