انصار مدد کرنے والوں کو کہا جاتا ہے مدینہ منورہ میں موجود مسلمان جنہوں نے مہاجرین کی مدد کی تھی انہیں انصار کا خطاب ملا، آقا جان سید دو عالم محمد مصطفی ﷺ کی انصارِ مدینہ سے محبت بے مثال تھی آپ نے انصار کی محبت کو ایمان کی نشانی قرار دیا ہے اللہ نے قرآن مجید میں انکی عظمت کا ذکر فرمایا ہے: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر: 9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔

آیت مبارکہ میں انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی انتہائی مدح وثنا کی گئی ہے چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنہوں نے مہاجرین سے پہلے یا ان کی ہجرت سے پہلے بلکہ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اس شہر مدینہ کو اپنا وطن اور ایمان کا ٹھکانہ بنا لیا اسلام لائے اور حضور اقدس ﷺ کہ یہ تشریف آوری سے دو سال پہلے مسجدیں بنائیں ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں (اور اس کا عملی ثبوت دیتے ہوئے) اپنے گھروں میں انہیں ٹھہراتے اور اپنے مالوں میں نصف کا انہیں شریک کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس مال کے بارے میں کوئی خواہش اور طلب نہیں پاتے جو ان مہاجرین کو دیا گیا اور وہ اپنے اموال اور گھر ایثار کر کے مہاجرین کو اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود مال کی حاجت ہو اور جس کے نفس کو لالچ سے پاک کیا گیا تو وہی کامیاب ہے۔

انصار کے اوصاف حمیدہ:

علامہ ابو زکریا یحیی بن شرف نووی علیہ الرحمہ نے انصار سے محبت کے متعلق حدیث کی جو شرح فرمائی ہے اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے: انصار صحابہ کرام بہت سی خوبیوں کے حامل ہیں مثلا انصار نے دین اسلام کی مدد و نصرت کی دین اسلام کی اشاعت کی خاطر خوب کوشش کی مہاجرین صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اپنے پاس عزت و احترام سے ٹھہرایا اسلام کی حاطر جانی اور مالی قربانی دی انصار حضور ﷺ سے والہانہ محبت کرتے تھے اپ بھی ان سے محبت فرمایا کرتے تھے انصار بارگاہ رسالت میں اپنے اموال اور قیمتی جانور پیش کیا کرتے تھے انصار نے اسلام کی خاطر سب سے دشمنی مول لی وغیرہ وغیرہ ان تمام اوصاف حمیدہ کی بدولت انہیں یہ مقام ملا کہ ان کی محبت کو ایمان کی علامت اور ان سے بغض کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا۔

انصار کی محبت پر احادیث مبارکہ:

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور انصار سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

فرمایا: اور بے شک انصار میرے رازدار اور میرے خاص لوگ ہیں لہذا ان کے نیک لوگوں کا اکرام کرو اور ان کے خطا کاروں سے درگزر فرماؤ۔ (بخاری، 2/ 560، حدیث: 3799)

انصار کی نمایاں خصوصیات:

1: جو انصار صحابہ سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ عزوجل اسے ناپسند کرتا ہے۔

2: آقا جان ﷺ نے انصار کو اپنا رازدار فرمایا۔

3: حضور ﷺ نے انصار صحابہ کی عزت اور اکرام کرنے کا درس دیا۔

4: اپنے جان اور مال پر اپنے دینی بھائیوں کو ترجیح دینی چاہیے۔

5: حضور جان عالم ﷺ انصار صحابہ سے والہانہ محبت فرماتے تھے۔

6:انصار صحابہ نے دین کو پھیلانے میں حضور ﷺ کا بہت ساتھ دیا۔

اللہ پاک ہمیں انصار صحابہ سے محبت کرنے اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین