حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) ہے ۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آۓ ، تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے ۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارہ گاہ الٰہی میں سچی توبہ کرلی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا ۔

(1) نزول احکام:حضرت یونس علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا ، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ 6 ، سورة النساء ، آیت 163)

(2) انعامات الٰہی :اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی ۔ آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا ۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکر الٰہی توفیق بخشی ۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلی درجہ عطا فرمایا ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ ( پ 29 ، سورة القلم ، آیت 48.49.50 )

(3) قوم پر عذاب نہیں آیا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ ( پ 11 ، سورة یونس ، آیت 98)

(4) حضرت یونس علیہ السلام کی دعا :وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ ( پ 17 ، سورة الانبیاء ، آیت 87 )

(5) تسبیح کی اہمیت اور مچھلی کے پیٹ سے نکلنا :فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (پ 23 ، سورة الصفت ، آیت 143.144.145)

حضرت یونس علیہ السلام کی دل ہلا دینے والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو کس کس امتحان میں ڈالتا ہے ہے ۔ لیکن جب بندے امتحان میں پڑ کر صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الراحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرما دیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔


حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہایت محبت اور حکمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو" ذوالنون" بھی کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کے ذریعے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ اگر بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالی ہر مشکل آسان فرما دیتا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید نیکی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی لیکن قوم نے ابتدا میں آپ کی بات ماننے سے انکار کیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی صبر،توبہ،دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا خوبصورت نمونہ ہے۔ ان کا واقعہ قرآن پاک کے ان عظیم واقعات میں شامل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی کی امید دلاتے ہیں۔

قرآن پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکرمختلف مقامات پر آیا ہے۔ان کی طرح ان کا واقعہ قرآن پاک کے ان عظیم واقعات میں شامل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی کی امید دلاتے ہیں۔

(1) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(صافات:142)

(2) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(صافات:139)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(انبیاء:87)

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہر مسلمان کے لیے نصیحت اور ہدایت کا خزانہ ہے۔ اس واقعے سے ہمیں صبر برداشت دعا اور اللہ تعالیٰ پر یقین کا درس ملتا ہے۔ انسان زندگی میں کتنی ہی مشکلات میں کیوں نہ آ جائے اسے کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو نیکی صبر اور دعا سے روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن مجید صرف احکام و قوانین کی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ہدایت و عبرت کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو انسانوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ماضی کے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو بہترین اسلوب میں بیان کرتا ہے۔ ان ہی جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام ہیں، جن کا ذکر قرآن کریم میں نہایت سبق آموز اور منفرد انداز میں کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کا واقعہ انسان کو مایوسی کےاندھیروں سے نکال کر امیدِ الٰہی کی روشن شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔ قرآن مجید میں آپ کا تذکرہ جہاں ایک مصلح کی ذمہ داریوں کو واضح کرتا ہے، وہاں توبہ کی قبولیت اور اللہ کی بے پایاں رحمت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔

قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ:قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی دسویں سورت کا نام ہی آپ کے نام پر "سورۃ یونس" رکھا۔ اس کے علاوہ آپ کا تذکرہ سورۃ الانبیاء، سورۃ الصافات اور سورہ القلم میں بھی ملتا ہے۔

قرآن مجید میں آپ کو دو خاص القاب سے بھی نوازا گیا ہے:

(1)ذو النون: (مچھلی والے) (2)صاحب الحوت: (مچھلی کے ساتھی)

دعوتِ حق اور قوم کی سرکشی:حضرت یونس علیہ السلام کو عراق کے مشہور شہر نینویٰ کے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا، جن کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ اس قوم نے شرک اور بت پرستی کو اپنا رکھا تھا۔ آپ علیہ السلام نے طویل عرصے تک انہیں حق کی دعوت دی، مگر قوم اپنی سرکشی اور ضد پر اڑی رہی۔جب قوم کی طرف سے مسلسل انکار سامنے آیا، تو اللہ کے حکم سے آپ نے انہیں عذاب کی وعید سنائی۔ تاہم، مصلحتِ الٰہی کے حتمی اشارے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام شدید رنجیدہ ہو کر بستی سے رخصت ہو گئے۔

قرآن مجید کی رو سے، حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی یہ انفرادی خصوصیت ہے کہ عذاب کی نشانیاں دیکھنے کے بعد جب انہوں نے سچے دل سے توبہ کی، تو اللہ نے ان کا عذاب ٹال دیا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃیونس:98)

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

اللہ تعالیٰ نے اس مخلصانہ توبہ کو فوری قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔

رب تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے خالق ومالک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔


اللہ عزوجل نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار(124000) انبیاء کرام مبعوث فرمائے جن میں سے 313 رسول ہیں اور ان میں سے اللہ عزوجل کے ایک جلیل القدر نبی اور رسول حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:

نام: آپ کا نام "یونس بن متٰی" ہے۔القاب: ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) نسب: آپ حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

قرآن پاک میں تذکرہ: قرآن پاک میں آپ کا نام مبارک 4 بار ذکر کیا گیا ہے۔اور آپ کا تفصیلی تذکرہ درج ذیل چار سورتوں میں آیا ہے۔(1)سورۃ یونس آیت 98 (2) سورۃ انبیاء آیت87،88

(3)سورۃ صافات آیت 139تا148 (4)سورۃ قلم آیت 48تا50

حضرت یونس علیہ السلام کا مختصر واقعہ: حضرت یونس علیہ السلام بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی آپ علیہ السلام نے 40 سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور شرک سے باز نہ آئے تو اب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا سفر:جب آپ نے قوم کے عذاب میں تاخیر دیکھی تو اپنی قوم کے کفر پر غضبناک ہو کر اللہ کا حکم آنے سے پہلے ہی ہجرت کی ارادے سے چل دیے آپ بھری کشتی میں سوار ہوئے جب کشتی درمیان میں پہنچی تو ٹھہر گئی ملاحوں نے کہا کہ اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام ہے انہوں نے قرعہ اندازی کی تو آپ کا نام نکلا تو انہوں نے آپ کو پانی میں ڈال دیا مگر اللہ کی قدرت کہ ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ صافات آیت 139 تا 142 )

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا اور قبولیت: آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی تو آپ نے اللہ عزوجل سے دعا :

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ انبیاء آیت 87)

اللہ عزوجل نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا سن لی اور اسے شرف قبولیت سے نوازا چنانچہ ارشاد فرمایا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔(سورۃانبیاء،88)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃصافات آیت 145)

اب اس میدان میں نہ کوئی سایہ تھا نہ کھانے پینے کی کوئی چیز تو اللہ نے وہاں ایک کدو کا پیڑ اگا دیا اور روزانہ اللہ کے حکم سے ایک بکری آتی اور اپنا تھن آپ کے منہ مبارک میں دے کر آپ کو صبح شام دودھ پلاتی حتی کہ آپ کی کھال مضبوط ہوئی اور جسم میں توانائی آئی۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ ( سورۃ صافات آیت 146)

اس کے بعد اللہ عزوجل نے آپ کو آپ کی قوم کی طرف واپس بھیجا اور آپ کی قوم آپ پر ایمان لے آئی۔

حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے ملنے والے اسباق:

(1)اللہ عزوجل کے احکام کو ہر کام میں مد نظر رکھنا چاہئے۔

(2)مشکلات میں مایوسی کی بجائے اللہ عزوجل سے رحمت کی امید رکھنی چاہیے۔

(3)ہر حال میں ذکر الہی کرنا چاہیے۔

(4)کاموں میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔

اللہ عز وجل ہمیں انبیاء کرام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ خاتم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔


اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر حضرت یونس علیہ السّلام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آپ علیہ السّلام اللہ کے جلیل القدر نبی تھے جنہیں نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ قرآنِ کریم میں آپ کی دعوت، قوم کا رویہ، آپ پر آنے والی آزمائش، مچھلی کے پیٹ میں جانا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا اور پھر نجات پانا تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصافات: 139)

تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت ہے کہ حضرت ابن عباس اور وہب کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا اس میں تاخیر ہوئی تو آپ ان سے چھپ کر نکل گئے اور آپ نے دریائی سفر کا قصد کیا کشتی پر سوار ہوئے دریا کے درمیان میں کشتی ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی سبب ظاہر موجود نہ تھا ملاحوں نے کہا اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ ڈالنے سے ظاہر ہو جائے گا، قرعہ ڈالا گیا تو آپ ہی کے نام نکلا، تو آپ نے فرمایا: میں ہی وہ غلام ہوں اور آپ پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی ۔

جب قوم نے مسلسل انکار کیا تو حضرت یونس علیہ السّلام ناراض ہو کر بستی سے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء: 87)

تفسیر صراط الجنان میں بیان کیا گیا ہے کہ ” ذَا النُّوْنِ“ حضرت یونس علیہ السّلام کا لقب ہے، جس کا معنی “مچھلی والے" ہے۔ آپ اپنی قوم کے مسلسل انکار کی وجہ سے رنجیدہ ہوکر روانہ ہوئے۔

پھر اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصافات: 142)

پھر حضرت یونس علیہ السّلام نے مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و استغفار کی اور اپنی عاجزی کا اظہار فرمایا۔

قرآنِ مجید میں آپ کی مشہور دعا بھی ذکر کی گئی ہے:لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

اسی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السّلام کو نجات عطا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: 88)

قرآنِ کریم میں حضرت یونس علیہ السّلام کو"ذَا النُّوْن" اور "صَاحِبُ الْحُوْت" جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کے ذریعے صبر، عاجزی، رجوع الی اللہ اور دعا کی اہمیت کو واضح فرمایا۔ ارو حضرت یونس علیہ السّلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور کبھی اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔


اللہ پاک نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور اُن پر بیشمار انعامات عطا فرمائیں اُن کی رہنمائی اور ہدایت کی لیے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا جن میں ایک حضرت یونس علیہ السلام بھی ہے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام یونس بن متٰی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحِبُ الْحُوْت (یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اورتوحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبردی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہِ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا آپ عَلَیْہِ السَّلَام پرجداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا،البتہ وحی کے ذریعے آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر بعض احکام نازل ہوئے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ6، النساء:163 )

اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ:

اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی دعاقبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا۔مچھلی کے پیٹ میں بھی تَوَجّہ اِلَی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکر ِ الٰہی کی توفیق بخشی۔ خاص فضل فرماکرمچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (پ۲۹،القلم:۴۸، ۵۰)

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام ان کی طرف رسول بنا کربھیجے۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آئے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےبارگاہِ الٰہی میں دعا کی :اے اللہ !قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے،پس تو ان پر اپنا عذاب نازل کر دے ۔اس پر ان سے فرمایا گیا:آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے قوم کو نزولِ عذاب کی خبر دےدی۔(خازن،یونس،تحت الاٰیۃ:۹۸، ۲/۳۳۵، روح البیان،یونس،تحت الاٰیۃ:۹۸،۴/۸۲، ملتقطاً)

نزولِ عذاب کی خبر سن کرلوگوں نے آپس میں کہا : حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کو تلاش کیالیکن آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا ۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(خازن،یونس،تحت الاٰیۃ:۹۸، ۲/۳۳۵- ۳۳۶، ملتقطاً. )

قرآنِ کریم میں ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( پ۱۱،یونس:۹۸)

اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ علیہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳)

دوسری طرف حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہوگئی ہے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نازل ہوئے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ خیال کیاکہ اللہ تعالیٰ مجھ پرکوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپرس ہوگی۔حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے وحی الٰہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اس لیے آپ قتل کے اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی متعین وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو معاذ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو(قتل سے بچنے کے لئے ) آپ عَلَیْہِ السَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں۔اس کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن،والصافات،تحت الاٰیۃ:۱۴۰، ۴/۲۶)


قرآن مجید فرقان حمید اللہ کریم کی لاریب اور بے عیب کتاب ہے۔ اس میں اللہ کریم نے اپنے کئی انبیاء ورسل کا ذکر فرمایا مگر جن کا نام لے کر ذکر کیا گیا ہے ان کی تعداد تقریباً پچیس (25) ہے اور ان میں سے ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں ۔ آپ کا تذکرہ قرآن مجید میں نہایت سبق آموز اور منفرد انداز میں کیا گیا اور آپ کا واقعہ نہایت ہی اثر انگیز واقعات میں سے ایک ہے جو کہ اللہ کریم کی رحمت ، انسانی خطا اور پھر سچی توبہ کے گرد گھومتا ہے ۔ قرآن کریم کی متعدد سورتوں (الانبیاء، الصافات، یونس اور القلم) میں آپ کا تذکرہ ملتا ہے ۔ حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کے اہم پہلوؤں میں سے چند درج ذیل ہیں؛

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (الانبیاء: 87)

آیت کریمہ کی اہمیت:حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی کسی مصیبت کے وقت یہ دعا مانگے گا اللہ تعالٰی اس کی دعا قبول فرمائے گا۔ (کنزالعمال فصل: ذکر دعا و استغفار کا بیان حدیث نمبر 3419)

اللہ تعالٰی نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ارشاد فرمایا :

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (الانبیاء: 88)

قرآن میں حضرت یونس علیہ السلام کے القابات :قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کو نہایت معزز القابات سے نوازا گیا۔ جو کہ ذوالنون اور صاحب الحوت ہیں۔ ذوالنون سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 80 میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور صاحب الحوت سورۃ الانعام کی آیت نمبر 48 میں ذکر کیا گیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ سے ملنے والے اسباق:

ذمہ داری کا احساس: ایک داعی اور رہنما کو اللہ کریم کے حکم کے بغیر اپنا محاذ نہیں چھوڑنا چاہیے۔

صبر و استقامت: ہر معاملہ کے اندر صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے اور کسی بھی معاملہ میں عجلت نہ کریں۔

امید کا دامن نہ چھوڑنا: حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔

توبہ و استغفار: حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب انسان غلطی تسلیم کر کے اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہے تو اللہ کریم ہر مشکل سے نکال کرتا ہے۔

اللہ کریم ہمیں بھی صبر و استقامت کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ طہ و یٰسین ﷺ ۔


حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ انبیائے کرام کی اُس درخشاں جماعت میں شامل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے منتخب فرمایا۔ آپ کا واقعہ صبر، توکل، توبہ اور اللہ کی رحمت کے بے پایاں مظاہر کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ بالخصوص قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ایک منفرد اسلوب میں آیا ہے جو نہ صرف تاریخی واقعہ بیان کرتا ہے بلکہ گہرے روحانی اور اخلاقی اسباق بھی فراہم کرتا ہے۔

قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کو ذوالنون (مچھلی والے) کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ آپ کو نینویٰ (Nineveh) کی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا تھا، جو اپنی نافرمانیوں اور گمراہی میں حد سے بڑھ چکی تھی۔ آپ نے انہیں توحید کی دعوت دی، مگر جب قوم نے مسلسل انکار کیا تو آپ کچھ ناامیدی کے عالم میں اللہ کے حکم کے انتظار کے بغیر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ یہی پہلو قرآن کے بیان میں ایک اہم سبق کے طور پر سامنے آتا ہے کہ حتیٰ کہ انبیاء بھی اللہ کے حکم کے پابند ہوتے ہیں اور جلدبازی مناسب نہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ حکیم کے اُن بلیغ اور معنی خیز قصص میں سے ہے جو انسان کو اپنی اصلاح، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اُس کی رحمتِ کاملہ پر یقین کی دعوت دیتے ہیں۔ قرآن مجید نے اس واقعے کو مختلف مقامات پر بیان کیا ہے، اور ہر مقام پر ایک نیا پہلو اجاگر ہوتا ہےکہیں صبر و استقامت، کہیں توبہ و انابت، اور کہیں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت۔

قرآنِ مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کو"ذوالنون" کہا گیا ہے، جیسا کہ سورۃ الانبیاء میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ

ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء: 87)

یہاں"ذوالنون"کا مطلب ہے "مچھلی والے"، اور اس آیت میں حضرت یونس کے اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکل گئے۔ اسی طرح سورۃ الصافات میں مزید تفصیل آتی ہے:

فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (الصافات: 142)

یعنی مچھلی نے انہیں نگل لیا جبکہ وہ ملامت کے مستحق تھے۔ یہ الفاظ دراصل ایک نہایت اہم سبق دیتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بھی اللہ کے حکم کے پابند ہوتے ہیں اور کسی بھی معاملے میں جلد بازی مناسب نہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا سب سے نمایاں پہلو اُن کی وہ دعا ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں کی۔ قرآن اسے یوں نقل کرتا ہے:لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(الانبیاء: 87)

یہ دعا دراصل توبہ، توحید اور عاجزی کا جامع نمونہ ہے۔ مفسرین کے مطابق اس دعا میں تین بنیادی عناصر ہیں:

اللہ کی وحدانیت کا اقرار،اللہ کی پاکی کا بیان،اپنی خطا کا اعتراف۔

اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (انبیاء 88)

یعنی ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دی، اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔ یہ آیت رہتی دنیا تک کے لیے ایک اصول بیان کرتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ کی گئی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔

یہ حدیث اس دعا کی فضیلت اور اس کے اثر کو واضح کرتی ہے، اور ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل حالات میں اللہ کی طرف رجوع ہی اصل نجات کا ذریعہ ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا ایمان لانا بھی ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ یونس میں ارشاد ہوتا ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (یونس: 98)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اجتماعی توبہ بھی اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتی ہے۔

المختصر یہ کہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔ اس میں انسان کے لیے یہ پیغام ہے کہ وہ صبر کرے، اللہ پر بھروسہ رکھے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے، اور ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے، اور وہ اپنے بندوں کو کبھی مایوس نہیں کرتابشرطیکہ بندہ خلوصِ دل سے اُس کی طرف لوٹے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا کشتی میں سوار ہونا، طوفان کا آنا، قرعہ اندازی کے ذریعے سمندر میں ڈالے جانا، اور پھر ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں چلے جانایہ تمام واقعات قرآن میں نہایت اختصار مگر گہری معنویت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکیوں میں آپ کی وہ دعا جو رہتی دنیا تک ایمان والوں کے لیے مشعلِ راہ بن گئی:

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَیہ دعا نہ صرف توبہ کا اعلیٰ نمونہ ہے بلکہ اس میں اللہ کی پاکی، اس کی وحدانیت، اور بندے کی اپنی خطا کا اعتراف شامل ہے۔ قرآن مجید واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی یہ پکار سن لی اور انہیں نجات عطا فرمائی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہر حال میں بندے کے قریب ہے، بشرطیکہ بندہ خلوصِ دل سے رجوع کرے۔

بعد ازاں، حضرت یونس علیہ السلام کو دوبارہ اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا، اور اس مرتبہ قوم نے ایمان قبول کر لیا۔ یہ پہلو حضرت یونس کے واقعہ کو دیگر انبیاء کے واقعات سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ اکثر انبیاء کی قوموں نے انکار کیا، مگر یونس کی قوم نے اجتماعی طور پر توبہ کر کے اللہ کی رحمت حاصل کی۔

قرآن میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ہمیں کئی بنیادی اسباق دیتا ہے: صبر کی اہمیت، اللہ کے فیصلوں پر کامل بھروسہ، اپنی غلطی کا اعتراف، اور سچی توبہ کی طاقت۔ یہ واقعہ ہر دور کے انسان کے لیے امید، اصلاح اور اللہ کی طرف رجوع کا پیغام ہے۔


قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ مقدس کتاب ہے جس میں انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو انسانیت کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے بیان فرمایا گیا حضرت یونس علیہ السلام ان جلیل القدر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا آپ کی حیات مبارکہ صبر دعوتِ دین اللہ تعالی پر کامل بھروسہ اور توبہ و استغفار کا عظیم نمونہ ہے قرآن مجید میں آپ علیہ السلام کے واقعات کو اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور کا انسان اس سے ہدایت نصیحت اور ایمان افروز اسباق حاصل کر سکتا ہے خصوصاً مچھلی کے پیٹ میں آپ کی دعا اللہ تعالی کے قرب و بندگی کی حقیقت اور مشکل گھڑی میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔

(1)حضرت یونس علیہ السلام کی دعوت دین کا ذکر:اللہ تعالی نے حضرت یونس علیہ السلام کو موصل کے علاقہ نینویٰ کی طرف رسول بنا کر بھیجا آپ علیہ السلام ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرنے کی دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اور شرک سے باز نہ آئے قرآن مجید میں آپ علیہ السلام کی دعوت دینے کو کچھ اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ ( پارہ 23،صافات، آیت نمبر 139 )

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے جب دعوت قبول نہ کی نصیحت نہ مانی اور کفر پر قائم رہے اور اپنی قوم سے ناراض ہو کر علاقہ سے باہر تشریف لے گئے اور ہجرت کرنے میں جلدی کی تو قرآن مجید میں اللہ تعالی نے مختلف مقامات پر ان القاب سے ذکر فرمایا: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے ۔(پارہ 17،الانبیاء،آیت نمبر 87)

اور دوسرے مقام پر ذکر فرمایا:وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ

ترجمہ کنزالعرفان:اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔(پارہ29،القلم،آیت نمبر 48)

(2)حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں:جب حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے آپ کی نصیحت نہ مانی تو آپ علیہ السلام بھری کشتی میں سوار ہو گئے اور کشتی دریا کے درمیان میں رک گئی ملَّاحوں نے کہا کہ کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگا ہوا ہے تو انہوں نے قرعہ اندازی کرتے ہوئے قُرعہ ڈالا تو اس میں حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قُرعہ نکلا انہوں نے تین بار قرعہ ڈالا اور تین بار آپ علیہ السلام کا نام نکلا اور پھر حضرت یونس علیہ السلام نے دریا میں چھلانگ لگا دی تو آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی کے حکم سے مچھلی نے نگل لیا اس واقعہ کو قرآن کریم نے اس طرح بیان فرمایا :اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (پارہ 23،صافات،آیت نمبر140تا 142 )

حضرت یونس علیہ السلام کی اللہ تعالی سے بخشش طلب کرنا:حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہو کر بستی سے باہر تشریف لے گئے آپ کی تبلیغ کے باوجود کفار و مشرکین ضلالت اور گمراہی کی راہ سے نہ ہٹے اس پر حضرت یونس علیہ السلام پریشان ہوئے اور اپنی فکری اجتہاد کی بنا پر اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر اپنے لیے ہجرت کو جائز قرار دیا جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو لطیف انداز میں سمجھانے کے لیے مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا ان اندھیروں اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے پروردگار عالم سے اس طرح دعا کی اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہر عیب سے پاک ہے بے شک مجھ سے بے جا ہوا ہے قرآن مجید میں اس کا بیان اس طرح آیا ہے:وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پارہ17،الانبیاء،آیت نمبر 87)

(3)حضرت یونس علیہ السلام کی نجات:جب حضرت یونس علیہ السلام نے دعا کی تو اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہم نے آپ کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں : فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (پارہ 17،الانبیاء،آیت نمبر 88)

قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کی فریاد سنتا ہے توبہ قبول فرماتا ہے اور مشکلات کے اندھیروں میں بھی نجات کی راہیں پیدا فرماتا ہے اس لیے قرآن کریم میں آپ علیہ السلام کا ذکر اہل ایمان کے لیے باعث تسلی امید اور روحانی تربیت قرار دیا گیا ہے۔


حضرت یونس علیہ السلام کا اصل نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت (یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ علیہ السَّلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السَّلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السَّلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے ، تب آپ علیہ السَّلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ مزید تفصیل درج ذیل آیات میں ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم:حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے لوگ موصل کے علاقے نینوی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السَّلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آئے تو آپ علیہ السَّلام نے بارگاہ الہی میں دعا کی: اے اللہ! قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے، پس تو ان پر اپنا عذاب نازل کر دے۔ اس پر ان سے فرمایا گیا: آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ علیہ السَّلام نے قوم کو نزول عذاب کی خبر دے دی۔(روح البیان، یونس، تحت الآیۃ)

قوم یونس کی توبہ اور رفع عذاب:نزول عذاب کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا: حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو حضرت یونس علیہ السَّلام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہو گئے، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تلاش کیا لیکن آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہو گئے اور سب نے بارگاہ الٰہی میں گریہ وزاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جو دین حضرت یونس علیہ السلام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھر کسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کر دیا۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں تو پروردگارِ عالم نے ان پر رحم کیا ، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ،۹۸، ۲/ ۳۳۵ - ۳۳۶)

قرآن کریم میں ہے: فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ:11، سورۃ یونس، آیت:۹۸)

حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی سفر اور مچھلی کا نگلنا:دوسری طرف حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہو گئی ہے تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نازل ہوئے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دیئے اور آپ علیہ السَّلام نے یہ خیال کیا کہ الله تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گا اور نہ ہی اس فعل پر مجھ سے کوئی باز پرس ہو گی۔ حضرت یونس علیہ السلام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے، آپ علیہ السلام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ علیہ السلام نے وحی الہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عزوجل کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اس لیے آپ قتل کے اندیشے سے وہاں سے چل دیئے حالانکہ آپ علیہ السلام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی متعین وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ علیہ السلام کو معاذ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔

حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِی اللہ عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا، جب اس میں تاخیر ہوئی تو(قتل سے بچنے کیلئے) آپ علیہ السَّلام ان سے سے چھپ کر نکل گئے، آپ علیہ السَّلام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہو گئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ، قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں آپ علیہ السَّلام ہی کا نام نکلا، اس پر آپ علیہ السَّلام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ (مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۰،ص ۱۰۰۹)

جب حضرت یونس علیہ السلام دریا میں ڈال دیئے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ علیہ السَّلام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو الہام فرمایا: میں نے حضرت یونس علیہ السلام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔(روح البيان، الصافات، تحت الآیۃ : ۱۴۲، ۴۸۷/۷)

قرآن کریم میں ہے: وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 139 تا 142)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا، جیسے دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار عزوجل سے اس طرح دعا کی: اے میرے رب ! عزوجل، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بےجا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔ (مدارک، الانبياء، تحت الآیۃ : ۸۷، ص ۷۲۴)

قرآن پاک میں ہے: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17، سورۃ الانبیاء، آیت 87)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کی قبولیت:اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی پکار سن لی اور ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازا، چنانچہ انہیں تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے آکر اپنے پیٹ سے نکال دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (پ17، سورۃ الانبیاء، آیت:88)

ذکر الہی اور تسبیح کی برکت:مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس علیہ السلام نے ذکر الٰہی کی کثرت کی اور یہ پڑھا،

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ۔

اس کی برکت سے انہیں نجات ملی، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ضرور قیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔

ارشاد باری تعالی ہے: فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 143، 144)

مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:جب حضرت یونس علیہ السلام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ ایسے کمزور ، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے، آپ علیہ السلام کے جسم کی کھال نرم ہو گئی تھی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔

ارشاد باری تعالی ہے: فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (پ:23، سورۃ الصافات، آیت 145)

حضرت یونس علیہ السلام کے لیے سائے اور غذا کا قدرتی انتظام:جس جگہ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس علیہ السلام کے دہن مبارک میں دے کر آپ علیہ السلام کو صبح و شام دودھ پلاجاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔

قرآن پاک میں ہے: وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 146)

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم میں تشریف آوری:اللہ تعالی نے حضرت یونس علیہ السلام کو پہلے کی طرح موصل کی سرزمین میں قوم نینویٰ کے ایک لاکھ اور اس سے کچھ زیادہ آدمیوں کی طرف انتہائی عزت و احترام کے ساتھ بھیجا، انہوں نے عذاب کے آثار دیکھ کر توبہ کرلی تھی، پھر حضرت یونس علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے پر باقاعدہ آپ علیہ السلام پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ نے قوم کو ان کی آخری عمر تک آسائش کے ساتھ رکھا۔

ارشاد باری تعالی ہے: وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت:147، 148)

مگر اسی حالت میں آپ نے جب آیت کریمہ کا یہ پڑھی اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ و سلامت رکھا اور پھلی کے پیٹ سے انہیں ایک میدان میں پہنچا دیا اور پھر انہیں تندرستی و سلامتی کے ساتھ اُن کی قوم اور وطن میں پہنچا دیا۔ اور ان کی تبلیغ کی بدولت ایک لاکھ سے زائد آدمیوں کو ہدایت مل گئی۔

اللہ پاک ہم سب کو حضرت یونس علیہ السلام کی طرح ہر مشکل و آزمائش میں صبر و استقامت کرنے کی توفیق کے ساتھ ساتھ اپنا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔


حضرت یونس علیہ السلام اور قرآن:آپ علیہ السلام کا نام " یونس بن متی " جبکہ آپ کا لقب "ذوالنون " اور "صاحب الحوت" ( یعنی مچھلی والے ) ہے۔ آپ علیہ ‎السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام بستی نینوی کے نبی تھے ، آپ علیہ السلام نے چالیس سال ‎لوگوں کو بت برستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے ‎تب آپ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقہ سے باہر تشریف لے گئے ،قوم نے جب علاماتِ ‎عذاب کا مشاہدہ کیا تو بارگاہِ ا لٰہی میں سچی توبہ کی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا ۔ (سیرت الانبیاء ،ص 491) ‎

‎ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم

نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورہ یونس ،آیت 98)‎

نکتہ: اس مقام پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری ‎وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں توبہ کی تو اللہ ‎تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی تو دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے ؟ ‎

امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ میں ‎واضح فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب وہ ‎نشانیاں ظاہرہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کرلی تھی ‎۔( تفسیر کبیر،یونس،تحت الآیۃ:98 ,353/6 )‎

‎حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا نگلنا:حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے جب آپ نے دیکھا کہ قوم کو عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں ‎تاخیر ہوگئی ہے تو اللہ کی طرف سے اجازت نازل ہوئے بغیر ہجرت کے ارادے سے چل دیے آپ نے دریائی سفر کا ارادہ کیا اور ‎کشتی پر سوار ہوگئے جب کشتی دریا کے درمیان میں پہنچی تو ٹہر گئی تو ملاحوں نے کہا اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا غلام ‎ہے قرعہ اندازی کی گئی تو اس میں حضرت یونس علیہ السلام کا نام ہی نکلا اس پر آپ نے فرمایا میں ہی وہ غلام ہوں اس کے بعد ‎آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دئیے گئے کیونکہ ان لوگوں کا دستور تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کر دیا جائے اس ‎وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔‎( تفسیرِ کبیر،والصافات،تحت الایۃ،26/4,140 ؛ مدارک،الصافات،تحت الآیۃ: 140,ص 1009,ملتقطا) ‎

جب آپ دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ علیہ السلام کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو ملامت ‎کررہے تھے اس بات پر کہ آپ نے نکلنے میں جلدی کیوں کی؛ مروی ہے کہ اللہ پاک نے مچھلی کو الہام فرمایا: میں نے حضرت ‎یونس کو تیرے لیے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کیلے قید خانہ بنایا ہے لہذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان ‎کے گوشت کو کاٹنا۔ ( روح البیان ،الصافات،تحت الآیۃ:487/7,142 ملخصا )‎

‎ اسی پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ الصّٰفّٰت ،آیت ‎‎139 تا 142)‎

‎حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ‎:جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا ان تاریکیوں میں ‎حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار عزوجل سے اس طرح دعا کی : " اے میرے رب! تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور ‎تو ہر عیب سے پاک ہے بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرے اذن پانے سے پہلے ہی جدا ہوگیا ‎۔اللہ پاک نے قرآن پاک میں اس واقعہ کو کچھ یوں بیان فرمایا ہے ‎:

‎ وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء ،آیت 87)‎

اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کی پکار سن لی اور ان کی دعا قبول فرما لی۔اللہ پاک قرآن مجید فرقان حمید میں فرماتا ہے ‎:‎ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء ،آیت ‎‎88)‎

اللہ جل شانہ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اپنے نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صبر جیسی عظیم نیکی کی توفیق عطا فرما ئے آمین۔


حضرت یونس علی نبینا وعلیہ السلام اورقرآن :انسانی تاریخ میں عظیم ہستیوں کا تذکرہ ہمیشہ سے رہنمائی کا ذریعہ رہا ہے، قرآنِ مجید نے جن عظیم ہستیوں کا ذکر کیا ہےان کو حضراتِ انبیاء کہا جاتا ہے ۔ یقینا ان زندگیوں میں ہر انسان کے لیے ہدایت، نصیحت اور تربیت کا ایک جامع نظام ہے۔ کوئی بھی انسان ان حضرات کی زندگیوں کو اپناکر بہترین لوگوں میں شامل ہوسکتا ہے ۔ انہی برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں، جن کا ذکر قرآنِ کریم میں نہایت حکیمانہ اور مؤثر انداز میں کیا گیا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی ہیں، جنہیں ایک نافرمان اور سرکش قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا۔ قرآنِ مجید میں آپ کو "ذو النون" کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔( سیرت الانبیاء ، 491)

گناہ ہوجائے تو سچی توبہ کیجیے :آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو نہایت اخلاص اور ہمدردی کے ساتھ توحیدِ الٰہی کی دعوت دی اور شرک و گمراہی سے بچنے کی تلقین فرمائی، لیکن قوم نے ابتدا میں آپ کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔یہ قوم قدیم شہر نینویٰ میں آباد تھی، جو دنیاوی لحاظ سے ترقی یافتہ ہونے کے باوجود روحانی طور پر زوال کا شکار تھی۔ بت پرستی اور نافرمانی ان کا معمول بن چکا تھا۔ حضرت یونس علیہ السلام ان کی مسلسل سرکشی سے دل برداشتہ ہوئے ، اللہ تعالی سے ان پر عذاب لانے کی دعا کی ، پھر قوم کو بتایا کہ تین دن بعد عذاب نازل ہوجائے گا اور پھر آپ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ بعدازاں آپ کی قوم نے جب عذاب کے آثار دیکھے تو فوراً بیدار ہوگئی، سچے دل سے توبہ کی اور ایمان لے آئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ کو قبول فرمایا اور عذاب کو ٹال دیا۔ ( سیرت الانبیاء ، ص 493، مکتبۃ المدینہ کراچی )

معلوم ہوا کہ اللہ اپنے بندوں کی سچے دل سے کی گئی توبہ قبول فرماتا ہے کیونکہ سچی توبہ اللہ کی رحمت کو متوجہ کر لیتی ہے۔

تسبیح کیجیے ، مصیبت دور کیجیے :اسی دوران ایک عظیم واقعہ پیش آیا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم سے دور ایک کشتی میں سوار ہوئے ، وہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں ڈال دیے گئے، جہاں ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ یہ انتہائی سخت آزمائش تھی، مگر دراصل یہ اللہ کی خاص حکمت تھی۔ مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے عاجزی کے ساتھ دعا کی، اللہ کی تسبیح کا ورد کرتے رہے ۔ " لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"اللہ تعالیٰ نے اس تسبیح کی برکت سے اس آزمائش کو دورکردیا ۔ اللہ تعالی نے اس واقعہ کو اشارۃً بیان فرمایا :

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے ۔ تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ الصفت ، آیت 139-145)

حضرت یونس علیہ السلام کا یہ قرآنی واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ انسان پر مصیبت آئے ، اللہ تعالی کے ذکر کی تسبیح کرتا رہے ، مصیبت دور ہوجائے گی ۔پریشانی کے وقت انسان کو سب سے پہلے اللہ تعالی کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔ لہذا انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہیں، جن میں ہر پہلو سے ہدایت پوشیدہ ہے۔