اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، جن کی زندگیاں ایمان، صبر، توکل اور اطاعتِ الٰہی کا روشن نمونہ ہیں۔ انہی مقدس ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السلام بھی جلیل القدر نبی ہیں، جن کا ذکر قرآنِ مجید میں نہایت مؤثر انداز میں آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کے واقعات میں دعوتِ حق، اللہ تعالیٰ کی رحمت، دعا کی قبولیت اور توبہ و رجوع کے عظیم اسباق موجود ہیں۔ قرآنِ کریم نے آپ کے واقعہ کے ذریعے امت کو صبر، امید اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کی تعلیم دی ہے۔

آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ہے(یعنی مچھلی والے) ہے۔آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی تھے۔ جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔

نزول احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)

انعامات الٰہی:اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا۔ اور خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔(سورۃ قلم :48تا 50)

تفسیر صراط الجنان:فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔ یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کو مہلت دینے اور ان کے خلاف آپ کی مدد کو مُؤخّر کرنے کے معاملے میں آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر کریں ۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱، ملتقطاً)

وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔ اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ جب اُحد کے میدان میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح آپ بھی آزمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد کریں جب اُس نے اِس حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کوپکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں بہت غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔(تفسیرکبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱۰ / ۶۱۶، خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱، ملتقطاً)۔

لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ: اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی اور اللّٰہ تعالیٰ اُن کے عذر اور دعا کو قبول فرما کر ان پر انعام نہ فرماتا تو وہ ضرور ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے چٹیل میدان میں پھینک دیئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحمت فرمائی اور وہ بغیر ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ فرماتی تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے ،پھر وہ ضرور ملامت کئے ہوئے میدانِ حشر میں پھینک دیئے جاتے۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۹، ص۱۲۷۱، تفسیر کبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۴۹، ۱۰ / ۶۱۷، ملتقطاً)

فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ: تو اسے اس کے رب نے چن لیا۔ یعنی حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی اور انہیں ہر ایسا کام کرنے سے محفوظ کر دیا جسے چھوڑ دینابہتر ہو۔( مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۱۲۷۱، روح البیان، ن، تحت الآیۃ: ۵۰، ۱۰ / ۱۲۶-۱۲۷، ملتقطاً)۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید میں ہمارے لیے عظیم نصیحت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے اور سچے دل سے توبہ و دعا کرنے والوں کی فریاد قبول فرماتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی زندگی صبر، توکل، رجوع الی اللہ اور ثابت قدمی کا بہترین نمونہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے امید وابستہ رکھیں، صبر اختیار کریں اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کریں۔