انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اس کے ذہن میں کچھ بنیادی سوالات ہمیشہ گردش کرتے رہے ہیں میں کون ہوں؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انہی سوالات کے جوابات عقائد کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ عقیدہ دراصل وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی پوری زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقائد کا درست ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ انسان کے خیالات، اس کے فیصلے اور اس کے اعمال سب اسی کے تابع ہوتے ہیں۔

مطالعۂ عقائد کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے، لیکن آج کے جدید اور تیز رفتار دور میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج انسان کو مختلف قسم کے نظریات، خیالات اور معلومات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع نے معلومات کو عام تو کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کو بھی فروغ دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر انسان اپنے عقائد سے اچھی طرح واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔مطالعۂ عقائد انسان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کو محض روایت پر نہیں بلکہ سمجھ اور تحقیق کی بنیاد پر قائم کرے۔ جب انسان اپنے عقائد کو دلائل کے ساتھ سمجھتا ہے تو اس کا یقین مضبوط ہو جاتا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے شبہات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنے عقائد سے ناواقف ہوتا ہے، وہ معمولی باتوں سے بھی متاثر ہو جاتا ہے اور اس کے اندر تذبذب پیدا ہو جاتا ہے۔

آئیے آپ کو چند عقائد کے بارے میں بتاتا ہوں تا کہ آپ کو پتا چلے کہ عقائد سے متعلق مطالعہ کرنے سے کتنی اہم چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے تا کہ آپ کا بھی مطالعہ عقائد پر ذہن بن سکے:

چنانچہ پیارے نبی ﷺ نے اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد یوں بیان فرمائے ہیں:

اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهٖ، وَكُتُبِهٖ، وَرُسُلِهٖ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ یعنی ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور قِیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچّھی، بُری تقدیر کو مانو۔(مسلم،ص21،حدیث :8)

(1) اللہ پر ایمان:اسلام کےبنیادی عقائد میں سب سے پہلے اللہ پاک پر ایمان لانا ہے۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ عقیدہ دیا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ یاد رہے اللہ پاک گنتی اور ہندسے والا ایک نہیں ہے بلکہ وہ واحدِ حقیقی ہے جس کا مطلب واحدو یکتا اور تنہا ہے۔ وہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ ہی کسی کا بیٹا۔نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی رشتہ دار، وہ قبیلے و خاندان سے پاک اور سب سے بے نیاز ہے، ساری مخلوق کو اسی نے پیدا کیا ہے،سب اسی کے محتاج ہیں، وہ سارے عالَم کا پاک پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی تمام جہان کا بنانے والا ہے۔ انسان، جنّات، فرشتے، نباتات، آسمان، زمین، چاند، تارے،جاندار و بے جان سارے کے سارے اُسی ایک ” اللہ “ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ کریم ہر عیب و نَقص اور بُرائی سے پاک ہے۔وہ ظاہر اور چھپی ہرچیز کو جانتا ہے،کوئی بھی چیز اُس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسے اس کی ذات ہمیشہ سے ہے اِسی طرح اُس کی تمام صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔

(2)فرشتوں پر ایمان:فرشتے اللہ پاک کی ایسی مخلوق ہیں کہ جو مذکر و مؤنث ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں پر ایمان لانا لازمی ہے۔ان کی تعداد کتنی ہے یہ اللہ کریم ہی بہتر جانتا ہے۔ آسمانوں میں چار اُنگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جہاں فرشتوں نے سجد ے میں پیشانی نہ رکھی ہو۔(ترمذی، 4/141،حدیث: 2319)

فرشتے نُور سے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایاِ:خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ یعنی فرشتوں کو نُور سے پیدا کیا گیا ہے۔(مسلم،صفحہ1221،حدیث:7495)

(3)کتابوں پر ایمان:اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم نے اپنے رسولوں پر جو کتابیں اُتاری ہیں وہ سب حق ہیں۔(فتح الباری،جلد2/صفحہ108،تحت الحدیث:50)

جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہرمُکَلَّف (عاقِل،بالِغ، مسلمان)پر فَرْض ہے اسی طرح اُن کتابوں پر اِیمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ کریم نے حضور ﷺ سے پہلے نبیوں پر نازِل فرمائیں،البتہ اُن کے جو اَحکام ہماری شریعت میں مَنْسُوخ ہو گئے اُن پرعمل دُرُست نہیں مگر اِیمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقدس قِبْلَہ تھا، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضَروری ہے مگر عمل یعنی نَماز میں بیتُ الْمقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں، یہ حکم مَنْسُوخ ہو چکا۔(خزائن العرفان، پارہ1، سورہ بقرہ،تحت الآیۃ:4)

(4)رسولوں پر ایمان:اس کامطلب یہ ہے کہ رسولوں نے جو خبریں اللہ پاک کے بارے میں دی ہیں ان تمام خبروں اور تمام باتوں کو حق مانا جائے۔(فتح الباری، 2/108، تحت الحدیث:50)

(5)آخِرت پر ایمان:آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا دین اسلام میں کوئی معنیٰ نہیں رکھتا کیونکہ آخرت کو مُسْتَبْعَد(یعنی بعید و ناممکن) سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے۔(عقیدۂ آخرت،صفحہ12)

(6)تقدیر پر ایمان:دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی، بَدی وہ سب اللّٰہ تعالیٰ کے علمِ ازلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔(کتاب العقائد،ص24)

حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ حضورِ اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلۂ تقدیر پر بحث کررہے تھے تو آپ ﷺ ناراض ہوئے حتّٰی کہ چہرہ ٔ انور سُرخ ہوگیا گویا کہ رُخساروں میں انار نچوڑ دیئے گئے ہیں اور فرمایا :کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیاہوں؟ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کئے تو ہلاک ہی ہوگئے میں تم پر لازِم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو۔(ترمذی،4/51،حدیث:2140)


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے۔ جس طرح عمارت کی مضبوطی اس کی بنیاد پر موقوف ہوتی ہے، اسی طرح ایک مسلمان کے اعمال کی قبولیت اس کے درست عقائد پر منحصر ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو اعمال میں اخلاص پیدا ہوتا ہے، اور اگر عقیدہ بگڑ جائے تو بڑے سے بڑا عمل بھی ضائع ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علمائے کرام نے عقائد کے علم کو دین کی اصل قرار دیا ہے۔

عقائد کی اہمیت قرآنِ کریم کی روشنی میں:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت ہے، اور عبادت اسی وقت درست ہوگی جب عقیدہ صحیح ہو۔

مزید ارشاد ہوتا ہے:فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ

ترجمہ کنزالایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں ۔(پارہ 26، سورۃ محمد، آیت 19)

یہاں "جاننے" کا حکم دیا گیا، یعنی توحید کا علم حاصل کرنا ضروری ہے، جو عقائد کی بنیاد ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں عقائد کی اہمیت:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ اَنَّهٗ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ"ترجمہ:"جو اس حال میں مرے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الدلیل علی ان من مات علی التوحید دخل الجنۃ، حدیث: 26)

ایک اور حدیث میں ہے:"اِنَّ اللّٰهَ لَا يَقْبَلُ عَمَلًا اِلَّا بِمَعْرِفَةٍ"ترجمہ:"اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول نہیں فرماتا جو معرفت (صحیح عقیدہ) کے بغیر ہو۔" (شعب الایمان للبیہقی، باب فی الایمان، جلد 1، صفحہ 76، حدیث: 67)

مطالعۂ عقائد کی ضرورت:

ایمان کی حفاظت کے لیے:آج کے دور میں مختلف باطل نظریات اور گمراہ کن افکار عام ہو رہے ہیں۔ صحیح عقائد کا مطالعہ انسان کو ان فتنوں سے محفوظ رکھتا ہے۔

عبادات کی قبولیت کے لیے:نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات اسی وقت بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوتی ہیں جب عقیدہ درست ہو۔

شبہات کے ازالے کے لیے:عقائد کا علم انسان کو دین کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔

دعوتِ دین کے لیے:جو شخص خود صحیح عقیدہ رکھتا ہو، وہی دوسروں کو بھی درست راستہ دکھا سکتا ہے۔

مطالعۂ عقائد کے فوائد:اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔دل میں خشیتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ایمان مضبوط ہوتا ہے۔بدعقیدگی اور گمراہی سے حفاظت ہوتی ہے۔

بزرگانِ دین کا طرزِ عمل:علمائے اہلِ سنت نے ہمیشہ عقائد کے علم کو مقدم رکھا۔ امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے فتاویٰ اور تصانیف میں عقائد کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی، تاکہ امت کا ایمان محفوظ رہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی اصلاح کے لیے عقائدِ اہلِ سنت کا باقاعدہ مطالعہ کریں۔


 انسانی زندگی میں عقائد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ عقیدہ دراصل وہ پختہ یقین ہوتا ہے جو انسان کے خیالات، اعمال اور طرزِ زندگی کو تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے مطالعۂ عقائد نہایت ضروری اور اہم ہے، کیونکہ یہ انسان کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور اسے ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔

سب سے پہلے، مطالعۂ عقائد انسان کو اپنے دین اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر انسان اپنے عقائد سے ناواقف ہو تو وہ دوسروں کے نظریات سے آسانی سے متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ دین اور عقائد کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ عقائد کا مطالعہ انسان کی اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ درست عقائد انسان کو سچائی، دیانتداری، صبر اور برداشت جیسی اعلیٰ صفات اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔

یہ حدیث بتاتی ہے کہ عقیدہ اور اخلاق آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

مزید برآں، موجودہ دور میں مختلف نظریات اور افکار تیزی سے پھیل رہے ہیں، خاص طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے۔ ایسے میں نوجوان نسل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کا شعوری مطالعہ کریں تاکہ وہ گمراہ کن نظریات سے محفوظ رہ سکیں۔

اسی حوالے سے ایک حدیث ہے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما تمسکتم بهما: کتاب الله وسنتي"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، کبھی گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔(مستدرک حاکم، حدیث نمبر 319)

اس کے علاوہ، مطالعۂ عقائد انسان کو مقصدِ حیات سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکتا ہے۔ اس سے اس کی سوچ میں پختگی آتی ہے اور وہ زندگی کے مسائل کا سامنا ہمت اور حوصلے سے کرتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ مطالعۂ عقائد نہ صرف فرد کی ذاتی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ یہ انسان کو فکری استحکام، اخلاقی بلندی اور صحیح راستے کی پہچان عطا کرتا ہے۔ لہٰذا ہر فرد کو چاہیے کہ وہ اپنے عقائد کا باقاعدہ مطالعہ کرے اور انہیں سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کرے تاکہ وہ ایک کامیاب اور بامقصد زندگی گزار سکے۔


عقائد سے مراد وہ بنیادی اصول اور نظریات ہیں جو کسی دین یا مذہب کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اسلامی عقائد کا مطالعہ کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے دین کو صحیح طریقے سے سمجھ سکے اور اس پر عمل کر سکے۔

عقائد کی اہمیت:عقائد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت، اور آخرت ہیں۔ اگر کوئی شخص ان عقائد پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ مسلمان نہیں ہو سکتا۔

(1) توحید: توحید کا مطلب ہے اللہ کی وحدت اور یکتائی پر ایمان رکھنا۔ یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔

(2)رسالت: رسالت کا مطلب ہے اللہ کے پیغمبروں پر ایمان رکھنا، خاص طور پر محمد ﷺ پر جو آخری نبی ہیں۔

(3) آخرت: آخرت کا مطلب ہے قیامت، جنت، اور جہنم پر ایمان رکھنا۔

مطالعہ عقائد کی ضرورت:عقائد کا مطالعہ کرنا ضروری ہے تاکہ:

(1) صحیح ایمان: ہم صحیح ایمان حاصل کر سکیں اور غلط عقائد سے بچ سکیں۔

(2)دین کی سمجھ: ہم دین کو صحیح طریقے سے سمجھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں۔

(3) بدعات سے بچاؤ: ہم بدعات اور غلط عقائد سے بچ سکیں۔

(4) دلیل اور استدلال: ہم اپنے عقائد کی دلیل اور استدلال کے ساتھ حفاظت کر سکیں۔

مطالعہ عقائد کے فوائد:عقائد کا مطالعہ کرنے کے بہت سے فوائد ہیں:

(1) ایمان کی تقویت: عقائد کا مطالعہ ایمان کو تقویت دیتا ہے۔

(2) عقلی و ذہنی سکون: یہ ذہنی سکون اور اطمینان کا باعث بنتا ہے۔

(3) دین کی سمجھ: یہ دین کی صحیح سمجھ فراہم کرتا ہے۔

(4) غیر مسلموں سے گفتگو: یہ غیر مسلموں سے گفتگو کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

عقائد کا مطالعہ کرنے کے طریقے:عقائد کا مطالعہ کرنے کے لیے چند طریقے ہیں:

(1) قرآن و حدیث: قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنا۔

(2) عقائد کی کتب: عقائد پر لکھی گئی کتب کا مطالعہ کرنا۔

(3) علماء سے استفادہ: علماء سے استفادہ کرنا اور درس لینا۔

(4) مناظرے اور گفتگو: مناظروں اور گفتگو میں شرکت کرنا۔

عقائد کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے دین کو صحیح طریقے سے سمجھ سکے اور اس پر عمل کر سکے۔ یہ ایمان کی تقویت، ذہنی سکون، اور دین کی صحیح سمجھ کا باعث بنتا ہے۔


انسان کی کامیابی کا اصل دارومدار اس کے عقائد پر ہے۔ اگر عقائد درست ہوں تو اعمال بارگاہِ الٰہی میں قبول

ہوتے ہیں، اور اگر عقائد میں خرابی آ جائے تو بسا اوقات نیک اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دینِ اسلام میں سب سے پہلے عقائد کی درستی پر زور دیا گیا ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ترجمۂ کنز العرفان:تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ (سورۃ محمد، آیت 19)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ

ترجمہ کنزالايمان: اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر ۔ (سورۃ النساء، آیت 136)

پیارے اسلامی بھائیو!یہ آیات واضح طور پر اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں کہ ایک مسلمان کے لیے سب سے پہلے اپنے عقائد کا درست ہونا ضروری ہے، کیونکہ یہی اس کے ایمان کی بنیاد ہیں۔

عقائد کی بنیاد اور اہمیت:عقائد دراصل دین کی جڑ ہیں۔ جیسے ایک درخت اپنی جڑوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح ایک مسلمان کا ایمان بھی صحیح عقائد کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کامل یقین، انبیائے کرام علیہم السلام سے سچی محبت، اور آخرت کے دن پر پختہ ایمان یہ سب وہ بنیادی عقائد ہیں جن پر اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

یہ حدیث ہمیں واضح طور پر بتاتی ہے کہ ایک مسلمان کے بنیادی عقائد کیا ہونے چاہئیں، اور انہی کو سیکھنا اور سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

مطالعۂ عقائد کی اہمیت:پیارے اسلامی بھائیو!آج کا دور فتنوں کا دور ہے۔ ہر طرف مختلف نظریات اور گمراہ کن باتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع کے ذریعے انسان کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کیے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ہم نے اپنے عقائد کو مضبوط نہ کیا تو ہم بہت آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔اسی لیے عقائد کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ جب انسان صحیح اسلامی کتب کا مطالعہ کرتا ہے، علماءِ اہلِ سنت کی باتیں سنتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے، دل کو سکون ملتا ہے اور وہ حق و باطل میں فرق کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔

پیارے اسلامی بھائی!ہمیں چاہیے کہ ہم روزانہ کچھ وقت نکال کر دینی کتب کا مطالعہ کریں، خاص طور پر عقائد کے بارے میں سیکھیں۔ اپنے بچوں کو بھی صحیح عقائد سکھائیں اور ایسے ماحول سے بچیں جو ایمان کے لیے نقصان دہ ہو۔یاد رکھیں! عقائد کی حفاظت دراصل اپنے ایمان کی حفاظت ہے، اور یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقائد سیکھنے، ان پر عمل کرنے اور ان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی پہچان اور عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔دین اسلام میں کسی بھی عمل کے قبول ہونے کے لیے سب سے ضروری چیز صحیح عقیدہ کا ہونا ہے ۔ اگر عقیدہ صحیح نہ ہو تو اعمال کی کوئی خاص حیثیت نہیں رہتی۔ جیسے ایک درخت اپنی جڑوں کے بغیر نہیں کھڑا رہ سکتا، اسی طرح اعمال بھی عقیدے کے بغیر مضبوط نہیں ہوتے۔ اس لیے عقیدہ ہی اصل ہے اور عمل اس کی شاخیں ہیں۔

عقیدے کی اہمیت قرآن کی روشنی میں:قرآن پاک میں ایمان کی درستی پر بہت زور دیا گیا ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ

ترجمہ کنز الایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا۔(سورۃالبقرۃ:285)

اس آیت سے ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ باتوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور یہی سچے مومن کی پہچان ہے۔

مطالعہ عقائد کیوں ضروری ہے؟آج کل کے دور میں بہت سے نئے نظریات اور غلط باتیں پھیل رہی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں شک پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں عقائد کا علم حاصل کرنا بہت ضروری ہے:

ایمان کی حفاظت: اس سے انسان کے دل میں آنے والے شکوک ختم ہوتے ہیں۔

باطل کی پہچان: جب تک صحیح بات کا علم نہ ہو، غلط کو پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔

اعمال کی درستگی: اس علم سے پتا چلتا ہے کہ کون سی بات درست ہے اور کون سی غلط، تاکہ ہم اپنا ایمان بچا سکیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم مستند ذرائع سے عقائد سیکھیں، خاص طور پر "بہارِ شریعت" کا مطالعہ کریں۔ اس سے ہمارا ایمان پختہ ہوگا اور ہم غلط نظریات سے بچ سکیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ نصیب فرمائے اور خاتمہ ایمان بالخیر فرمائے۔ آمین۔


  مطالعۂ عقائد سے مراد اپنے دینی عقائد کو سمجھ کر، دلیل کے ساتھ اور شعور کے ساتھ پڑھنا ہے۔ یہ ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ عقائد ہی ایمان کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک مضبوط عمارت کے لیے مضبوط بنیاد ضروری ہوتی ہے، اسی طرح درست عقائد کے بغیر ایمان بھی کمزور ہو جاتا ہے۔

مطالعۂ عقائد کی ضرورت:آج کے دور میں مختلف قسم کے شبہات، غلط نظریات اور فتنوں کا پھیلاؤ ہے۔ ایسے حالات میں اگر انسان اپنے عقائد سے واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہ ہو سکتا ہے۔ مطالعۂ عقائد ہمیں اپنے دین کی حقیقت سمجھنے اور ہر قسم کے شکوک و شبہات کا جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔

مزید فرمایا عقائد کے بغیر ایمان کامل نہیں عقیدہ نہ رکھنے والا ایسے ہے جیسے عقیدہ کا منکر ہو یا غلط عقیدہ رکھنے والا مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے کا انکار کرتا ہے یاکل کائنات کے مالک ہونے کا یا اس کے نظام کو چلانے کا منکر ہو یا اس میں کسی کو شریک ٹھہرانے کو ماننے والا ہو تو وہ ایمان سے گیا۔اسی طرح کلمہ شہادت کا منکر ہو عبادت کے لائق کسی اور کو بھی سمجھتا ہو ۔حضور ﷺ کے بعد بھی کسی نبی کے آنے پر یقین رکھتا ہو ۔

اسی وجہ سے عقیدہ اہلسنت بہت ضروری ہے اس میں کسی بھی بات سے اعراض نہیں کیا جاسکتا ۔

آج کے دور میں جہاں نئی نئی ذہنی و فکری گمراہیاں جنم لے رہی ہیں، وہاں دینِ اسلام کا مطالعہ اور صحیح سمجھ نہایت ضروری ہو گئی ہے۔ جب انسان دینی تعلیمات سے دور ہو جاتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ عقائد اسلام اور اسکی اہمیت سے بھی غفلت برتنے لگتا ہے، جو کہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ یہ نہ صرف ایمان کی کمزوری کی علامت ہے بلکہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔

جیسے آج کل کچھ motivational speaker لوگوں کے ذہن خراب کرتے ہیں ان کو تقدیر پر اعتماد کرنے کہ بجائے ان کا ذہن اسباب کی طرف کرتے ہیں یعنی مسبب الاسباب سے دور کیا جا رہا ہے اسی لیے عقائد کا درست علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے بے حد ضروری ہے تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکے اور اپنی زندگی کو سنت کے مطابق ڈھال سکے۔

تو ایمان میں عقیدہ کا پوری طرح عمل دخل ہے زندگی موت جنت دوزخ حشر نشر قیامت کے دن اٹھایا جانا حساب و کتاب سب پہ عقیدہ ہونا ضروری ہے اگر ان پہ عقیدہ نہیں ہو گا تو ہم اپنی عبادات میں بھی غفلت میں پڑ جائیں گے ۔

مطالعۂ عقائد کے فوائد:

(1) ایمان کی مضبوطی:مطالعۂ عقائد سے انسان کے ایمان میں پختگی پیدا ہوتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ، انبیاء اور آخرت پر مضبوط یقین حاصل کرتا ہے۔

(2) صحیح اور غلط کی پہچان:یہ علم انسان کو صحیح عقائد اور باطل نظریات میں فرق کرنا سکھاتا ہے، جس سے گمراہی سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔

(3) شکوک و شبہات کا ازالہ:عقائد کا علم دل میں پیدا ہونے والے شک و شبہات کو ختم کرتا ہے اور ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔

(4) دین کی صحیح سمجھ:مطالعۂ عقائد سے دین اسلام کی بنیادیں واضح ہوتی ہیں، جس سے عبادات اور اعمال درست طریقے سے انجام دیے جاتے ہیں۔

(5) آخرت کی کامیابی:صحیح عقائد انسان کو نجات کی راہ دکھاتے ہیں، کیونکہ اسلام میں اعمال کے ساتھ عقیدہ درست ہونا بھی ضروری ہے۔

(6) بدعات اور گمراہی سے حفاظت:یہ علم انسان کو غلط رسم و رواج اور بدعات سے بچاتا ہے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔

(7) دعوتِ دین میں آسانی:جس شخص کے عقائد مضبوط ہوں، وہ دوسروں کو بھی بہتر انداز میں دین کی دعوت دے سکتا ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو سمجھ کر سیکھیں اور ان پر عمل کریں تاکہ ہمارا ایمان مضبوط ہو اور ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو۔


اسلام کے بنیادی عقائد (اولین فرائض ) یعنی توحید، رسالت، ملائکہ، آسمانی کتب، قیامت و حشرنشر وغیرہ پر ایمان لانے کے متعلق مکۂ معظمہ کے قیام کے زمانۂ نبوی میں اکثر آیات نازل ہوئیں۔ شرک و بت پرستی کی برائی و مذمت ، اللہ وحدہ لاشریک کی عظمت و جلالت کا اظہار ، قیامت کا ہولناک منظر ، جنت و دوزخ کا پُر اثر بیان۔ رسالت کے خواص اور اس کی ضرورت کے دلائل یہ تمام امور ان آیات میں بیان ہوئے ، عقائد کا مسلسل بیان سورۃالبقرۃ اور سورۃالنساء میں ہے اور یہ سورتیں مدینے میں نازل ہوئیں۔ مکی سورتوں میں زیادہ تر زور توحید ، قیامت کے دن اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر صرف ہوا ہے، لیکن مدینے میں اسلام کے تمام عقائد اور اصول اولین کی مجموعی تعلیم شروع ہوجاتی ہے۔

اسلامی عقائد کی حیرت انگیز اثر پذیری کا راز اسلامی عقائد کی بنیادی بات عقیدۂ توحید میں مضمر ہے۔ یعنی اس بات پر ایمان کہ کائنات کو پیدا کرنے والا زندگی کا سر چشمہ اور تمام قوتوں کا مالک اور حاکم اعلیٰ صرف ایک اللہ ہے۔ ایک مالک، صاحب اختیار اور خالق، اللہ پر ایمان لانے سے وحدتِ بنی آدم (ایک برادری) کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ یعنی یہ عقیدہ کہ جب زندگی کا سرچشمہ ایک ہے تو زندگی کے اظہار کی صورتوں کو بھی اپنی اصل اور بنیاد کے اعتبار سے برابر ہونا ضروری ہے، اسی سے مساوات انسانی اور احترام آدمیت کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی پر دنیا کی امن و سلامتی کا دار و مدار ہے۔

قرآن کریم نے جو خالص توحیدِ الہٰی کا نظریہ پیش کیا ہے اور جس عجیب انداز سے اسے بیان اور فطری دلائل سے اسے ثابت کیا ہے ، دنیا کی الہامی کتب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ چند آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہو،توحید کا بیان سورۃ البقرۃ میں اس انداز سے ہوا کہ ترجمہ کنز الایمان: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا ۔ (سورۃ البقرۃ:163)

سورۃ النساء میں اللہ کی یکتائی کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: اللہ تو ایک ہی خدا ہے پاکی اُسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اُسی کا مال ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ کافی کارساز(کام بنانے والا) ہے ۔(سورۃالنساء 171)

ترجمہ کنز الایمان: انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا اور مسیح ابن مریم کو اور انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسے پاکی ہے ان کے شرک سے۔ (سورۃ توبہ : 31)

سورۃابراہیم میں قرآن کو اللہ کی وحدانیت کی علامت طور پر پیش کیا گیاترجمہ کنز الایمان: یہ لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں۔ (سورۃابراہیم :52)

اس طرح کی متعدد آیات میں عقیدۂ توحید کو دلائل کائنات کے ساتھ متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ وحدانیت کی تلقین کے ساتھ شرک کا ابطال کیا گیا ہے۔توحید کے بعد دوسرا اہم ترین عقیدہ ’’رسالت ‘‘ ہے۔ انسانی رہنمائی و ہدایت کے لئے اور امت کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ یعنی یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی نبی و رسول آئے، وہ سب سچے اور برحق تھے۔ ہمیں اللہ کے احکام ، اس کی مرضی اور اس کی پسندو نا پسند کا علم، حکم الہٰی کے ذریعے حاصل ہوا۔

رسولوں کی صداقت پر ایمان نہ ہو تو احکام الہٰی کی صداقت بھی مشکوک اور مشتبہ ہو جاتی ہے اور انسان کے سامنے نیکی اور معصومیت کا نمونہ اور کردار و عمل کا کوئی آئیڈل موجود نہیں رہتا جو انسانوں کے عمل کا محرک بن سکے۔ سلسلۂ رسالت کے آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ۔تمام نبی آسمانِ نبوت کے ستارے ہیں ۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آیا، نہ آئے گا۔ کیونکہ آپ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیماتِ قرآن اور آپ ﷺ کی زندگی کا نمونۂ عمل اسوۂ حسنہ ہمیشہ انسانیت کے لئے روشنی کے مینار ہیں، جن سے بنی نوع آدم سفرِ حیات میں رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔

عقیدۂ رسالت ہی کے ساتھ ملائکہ اور آسمانی کتابوں پر ایمان کا بھی تعلق ہے اور وہ توحید و رسالت پر ایمان لانےکا لازمی جز و ہیں، کیوں کہ اللہ کی ذات اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے انسانیت کو روشناس کرانے اور ان کی ہدایت و رہنمائی میں بنی نوع انسان کو چلانے اور قانون ہدایت کو پہنچانے اور اس کی حفاظت کے لئے جن ذرائع کی ضرورت تھی، وہ یہی ہیں، لہٰذا ان پر ایمان لانا لازمی ہے۔

فرشتوں پر ایمان کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے درمیان قاصد اور سفیر ہیں۔ مادیت و روحانیت کے درمیان واسطہ ہیں۔ آسمانی کتابوں پر ایمان کہ ہدایت ربانی جو ہمیں رسولوں کے ذریعے حاصل ہوئی ہے، اسے انسانوں تک، دور دراز کے ملکوں اور قوموں تک پہنچانے کے لئے وہ تحریروں کی شکل میں یعنی کتابوں میں یا لفظ و آواز سے مرتب ہو کر ہمارے سینوں میں محفوظ ہیں۔ ان پر ایمان کے بغیر ہمارے پاس ہدایت ربانی معلوم کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں رہ جاتا اور نیکی و بدی کا کوئی معیار باقی نہیں رہتا ،ان تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں صرف قرآن حکیم ہی اب باقی رہ گیا ہے، کیوں کہ یہی اللہ آخری ابدی پیغام ہے۔ اس کی حفاظت کا انتظام بھی اللہ نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔ (سورۃ الحجر:9)

آخرت پر ایمان کہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جو دائمی اور ابدی ہے۔ مرنے کے بعد ایک دن تمام انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور پھر ہر انسان سے اس کی دنیا کی زندگی کے تمام اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ اچھے اور نیک اعمال پر اجر ملے گا اور برے اعمال پر سزا دی جائے گی۔ آخرت پر ایمان کہ انسان کو دنیا میں شُترِبے مہار نہیں بننے دیتا۔

اگر یہ نہ ہو تو انسانیت سراپا درندگی بن جائے ،یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں اس کی ذمہ داری محسوس کراتا ہے۔ اسے خیر پر ابھارتا اور شر سے باز رکھتا ہے۔ اس طرح خیر و شر کی یہ بنیاد ہی احساس جواب دہی ہے۔ انسان اور جانور میں بنیادی فرق بھی یہی ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جواب دہ ہے اور جانور کسی کو بھی جواب دہ نہیں، جو انسان خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا ،درحقیقت وہ جانور ہے، بلکہ اس سے بھی بدتر۔ترجمہ کنز الایمان: وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ ۔ (سورۃالاعراف 179)

اسلام کے نزدیک عقیدۂ آخرت اس قدر اہم ہے کہ قرآن حکیم نے بیشتر مقامات پر اس کا ذکر ایمان باللہ کے ساتھ کیا ہے۔ اسلام کے اخلاقی اور اجتماعی نظام کی پوری عمارت ہی اس سنگِ بنیاد پر کھڑی ہے ۔ احتساب اور جزاو سزا کے بغیر دنیا کا کوئی بھی کام ایسا نہیں جو دیانت داری سے کیا جاسکے ۔ سارے اخلاق کا انحصار چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ، جزا و سزا کے تصور پر ہے۔ اسلام اس کی اہمیت کو ایک لمحہ کے لئے بھی فراموش نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اس عقیدے کو مختلف انداز میں بار بار دھراتا ہے۔ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ،جب تک کہ اسے آخرت پر ایمان کا مل نہ ہو۔ دل میں شک و شبہ رکھ کر خواہ وہ خود کو کتنا ہی سچا مسلمان ثابت کرے، اس کا اسلام قبول نہیں، زندگی کے بعد موت پر بھی ایسا ہی یقین ہونا چاہیے، جیسا کہ موجودہ زندگی پر ہے۔

توحید و رسالت ، آسمانی کتابوں ، فرشتوں ، رسولوں اور قیامت پر ایمان لانے کے متعلق قرآن میں واضح ہدایت موجود ہیں ۔ترجمہ کنز الایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ۔(سورۃ البقرۃ:177)

ترجمہ کنز الایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ (سورۃالبقرۃ:285)

سورۃ نساء میں حکم دیا گیا :ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے اُن رسول پر اُتاری اور اُس کتاب پر جو پہلے اُتاری اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا ۔(سورۃ النساء: 136)

آج کی مادی اور سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود انسانیت حیوانی زندگی بسر کر رہی ہے اور پستی کے گڑھے میں گری ہوئی ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ زندگی کا مقصد غلط سمجھ لیا گیا ہے۔ دین اور دنیا کے الگ الگ دائرے بنا کر زندگی کی وحدت اور ترقی کے توازن کو ختم کر دیا گیا ہے۔ سیرت النبی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ دین و دنیا کی مکمل علمی، ذہنی، روحانی اور انتظامی خوبیوں اور حلال و حرام کی روزی کی صفات کا اثر اور خواہش نظر نہیں آتی ۔ اخلاقی و ذہنی لحاظ سے انسان ناقص اور اعمال کے اعتبار سے پستی کا شکار ہیں۔ صرف مادیت اور کھانے پینے لباس اور اشیائے تعیش کو مقصدِ حیات بنا لیا گیا ہے۔

ایسا نظریہ ونظام حیات صرف اسلامی الہامی وعقائد پر مبنی اسلامی نظام حیات ہے، جس سے اچھا اور ہمہ گیر اور کوئی نظریہ حیات نہیں ۔ کیونکہ ذوق سلیم نے اسے پسند کیا ہے اور فطرت کی سلامت روی اسی کا تقاضا کرتی ہے ۔ ’’جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور نظام حیات (دین) کو تلاش کرے گا، وہ اس سے ہر گز ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔اس دور کی بے یقین اور شک و شبہات کی فضا میں زندگی کی نئی دعوت اور دنیا پیغام وہی ہے جو اسلامی عقائد کی شکل میں ڈیڑھ ہزار سال قبل محسنِ انسانیت ﷺ کی وساطت سے انسانیت کو ملا تھا۔ یہ ایک بڑا طاقتور ، واضح اور روشن پیغام ہے جس سے زیادہ منصفانہ اور مبارک پیغام اس پورے عرصے میں دنیا نے کسی زبان سے نہیں سنا، یہ بعینہ وہی پیغام ہے جسے سن کر مسلمان مدینہ طیبہ سے نکلے اور تمام دنیا میں پھیل گئے اور دنیا پر حکمرانی کی۔


"عقیدہ" عربی زبان کا لفظ ہے ۔جس کی تعریف یہ ہے عقیدہ اُن اسلامی امور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی شک وشُبہ کے پختہ ہوجائے۔(حدیقہ ندیہ،1/ 96)

محترم قارئین! مسلمان کیلئے اسلامی عقائد کی وہی اہمیت ہے جو زندہ رہنے کیلئے سانس کی ہے جس طرح سانس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اسی طرح اسلامی عقائد کے بغیر وہ مسلمان نہیں بن سکتا۔آخرت میں سرفرازی اُسی وقت ہوگی جب بندے کے عقائد درست ہونگے اور اُنہی عقائد پر اُس کا خاتمہ ہوا ہوگا۔جس کو قرآن پاک نے واضح لفظوں میں یوں بیان کیا :

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)ترجمہ کنزالایمان : وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (سورةآل عمران،آیت91)

عقائد کی اہمیت اس حدیث سے بھی لگائی جاسکتی ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا ،کیا یہ اعمال اسے( آخرت میں) نفع دیں گے؟رسول مکرم صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم نے فرمایا یہ اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے،کیونکہ اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔(مسلم ،حدیث 518)

ایک مسلمان کیلئے ذات و صفاتِ باری تعالٰی، نبی پاک صَلَّی اللہ عَلَیْہ واٰلہ وسَلَّم اور دیگر انبیاء و مرسلین،ملائکہ مقربین، جنت ودوزخ، مرنے کے بعد زندہ ہونے،حوض کوثر اور پل صراط کے حق ہونے نیز عظمت صحابہ کِرام و اہل بیت عِظام وغیرہ عقائد کا اتنا علم ضروری ہے جس سے صحیح اور غلط کی پہچان ہوسکے۔

محترم قارئین! درست اسلامی عقیدہ درخت کی طرح اور دیگر نیکیاں و عبادات پھل کی طرح ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ درخت کے بغیر پھل کا حصول ممکن نہیں۔یہی معاملہ درست عقیدے اور قبولیت عبادات کا ہے کہ بغیر عقیدے کے عبادات و نیکیوں کی قبولیت ناممکن ہے ۔سیدی اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں سب سے اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالف سے کافر یا گمراہ ہوجاتا ہے۔ (فتاوی رضویہ، 623/23 ماخوذا)

اگر ہم مطالعہ کریں تو اپنے عقیدے کے دلائل احقاق حق اور ابطال باطل کرسکیں گے اور ہمارا اپنا عقیدہ بھی مضبوط و مستحکم ہوگا اور ہمارے خاندان، دوست احباب حضرات کے سامنے حسب موقع ہم وہ دلائل احسن اندازسے بیان کرے گے تو قرآن وسنت اور آثار صحابہ سن کو ان کو بات سمجھ آجائے گی اور وہ تصدیق کرنے پر بخوشی راضی ہوجائیں گے اور یہ ہمارا فرض بھی بنتا ہے کہ ہم لوگوں کو درست راہ کی طرف گامزن کریں۔عقائد کی متعلق علماء اہلسنت کی بیسیوں کتابیں(جیسے دس اسلامی عقیدے، جاء الحق، بنیادی عقائد اور معمولات اہلسنت وغیرہ)دستیاب ہیں اگر ہم ان کتابوں کا مطالعہ کریں تو ہمارے اوپر یہ بات آشکار ہوگی کہ ہمارے عقائد قرآن پاک کی آیات بینات ،احادیث صحیحہ معتمدہ اور آثار معتبرہ سے ثابت ہیں۔

لہذا ہم پر ضروری و اہم فرض ہے کہ ہم عقائد اسلامیہ کی معلومات کیلئے ان کتب کا مطالعہ کرے جن میں دلائل کے ذریعے بے دینوں اور بدمذہبوں کے باطل نظریات کا رد کرکے قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف مسلمانوں کے درست عقائد ثابت فرمائے گئے ہیں۔بلکہ انہیں اپنے عقیدے کی حفاظت کا بھر پور ذہن بھی دیا ہے۔اللہ پاک ہمیں عقائد اہلسنّت پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور عقائد سے متعلقہ کتب پڑھنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے۔ اگر بندے کے عقائد درست ہوں تو اس کے اعمال کام آئیں گے، ورنہ سارے اعمال رائیگاں ہو جائیں گے۔ کیونکہ عقائد کا جاننا بندے کے لیے کتنا ضروری ہے، اس کا اندازہ آپ اس آیت مبارکہ سے لگا سکتے ہیں:

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا(۱۰۵)

ترجمۂ کنز العرفان:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سب اعمال برباد ہوگئے، پس ہم ان کے لیے قیامت کے دن کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔

یقیناً آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا، لیکن افسوس کہ آج کل ہم مسلمان عقائد کی ضرورت و اہمیت سے بالکل ناواقف ہیں۔ حالانکہ اس دور میں دین کے راہزن قدم قدم پر تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ اللہ نہ کرے اگر ہم یوں ہی چلتے رہے تو بروزِ قیامت ہمیں بہت خسارے اٹھانے پڑیں گے۔

دورِ حاضر میں بد مذہب اپنے مذموم و مزعوم عقائد کے اثبات کے لیے قلیل و محدود احادیث کا سہارا لیتے ہیں اور معاذ اللہ قرآنی آیات کی نامناسب تفسیر و تاویل کر کے دینِ اسلام میں تحریف کرتے ہیں۔ ادھر ہماری قوم کی سستی اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ نہ تو اپنے عقائد کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔آج کے دور میں وجودِ باری تعالیٰ کے منکرین پیدا ہو گئے ہیں اور ہم خاموش بیٹھے ہیں، معاذ اللہ! ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو کذبِ باری تعالیٰ کو ممکن مان رہے ہیں، اور ہم کچھ نہیں کر رہے۔ حالانکہ ہمارے پاس قوی دلائل ہونے کے باوجود ہم خالی ہاتھ بیٹھے ہیں۔ اسی طرح عقائد کا مطالعہ نہ کرنے کی وجہ سے ہم مختلف باطل فرقوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔افسوس! یہودیت، نصرانیت، قدریہ، معتزلہ، قادیانیت، خوارج، مرجیہ اور باطنیہ وغیرہ سب اپنے باطل نظریات کے ساتھ سرگرم ہیں، اور ہم محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ نہ خود بچ رہے ہیں اور نہ دوسروں کو بچا پا رہے ہیں۔

حالانکہ ان تمام نقصانات کو دیکھتے ہوئے ہمیں جلد از جلد اپنے عقائد کو سمجھنے اور ان کے مطالعہ کی طرف قدم بڑھانا چاہیے، مگر ہم اس سے غافل ہیں۔اگر ہم اپنے گرد و نواح اور پسماندہ علاقوں کی طرف دیکھیں تو وہاں بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جنہیں بنیادی عقائد کا بھی علم نہیں ہوتا، اور بد مذہب وہاں جا کر اپنے باطل عقائد ان کے دلوں میں راسخ کر دیتے ہیں، اور وہ بے چارے لاعلمی میں قبول کر لیتے ہیں۔

اگر ہم خود عقائد کا مطالعہ نہیں کریں گے تو دوسروں کو کیسے بچائیں گے؟ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی عقائد کا مطالعہ کریں اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں اور ان کی صحیح عقائد کے ساتھ تربیت کریں، کیونکہ بروزِ قیامت تربیت کے بارے میں بھی سوال ہوگا۔اس کے علاوہ اہلِ علاقہ اور اہلِ اسلام کی طرف بھی توجہ دیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ضروری عقائد سکھا کر انہیں بد مذہبی سے بچائیں۔ ہمیں چاہیے کہ بد عقیدہ اور بری عادات و کردار والے لوگوں کی صحبت سے بچیں اور نیک، صالح اور درست عقائد رکھنے والے لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ صحبت کا اثر ضرور پڑتا ہے۔بری عادات بہت جلد انسان میں سرایت کر جاتی ہیں۔ اسی طرح اعمال کے لیے عقائد کا درست ہونا اور باطن کا صاف ہونا بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح پانی پر عمارت قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح اعمال بھی درست عقائد اور اخلاص کے بغیر قائم نہیں رہ سکتے۔اگر عقائد درست نہ ہوں یا ان میں کمزوری ہو تو اعمال کی عمارت قائم نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ہر عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین اور اعمال کی بنیاد صحیح عقائد، اخلاص، تقویٰ اور پرہیزگاری پر رکھے تاکہ اس کے اعمال اسے فائدہ دیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں درست عقائد سیکھنے، سکھانے، سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔


مطالعہ عقائد کی ضرورت و اہمیت کو سمجھنا ایک مسلمان کے لیے بنیادی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے اعمال کی

قبولیت کا دارومدار درست عقیدے پر ہے عقائد کی اصلاح و درستگی کے بغیر اچھے سے اچھا عمل بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ ارشادِ خدا عزوجل ہے:

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب سے منکروں کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں ساری کمائی میں سے کچھ ہاتھ نہ لگا یہی ہے دور کی گمراہی۔ (سورۃ ابراہیم:18)

لہذا ثابت ہوا کہ اگر کوئی انسان کثیر نیک اعمال کا ذخیرہ جمع کر لے لیکن اس کے عقائد میں فساد ہو تو یہ ذخیرہ راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگا۔(کتاب العقائد، مقدمہ)

ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھوڑانے میں اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں اور صبر والے مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی اور یہی پرہیزگار ہیں۔ (سورۃ البقرۃ:177)

تفسیر صراط الجنان:لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ: اصل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو۔ مفسرین نے اس آیت کا خاص شانِ نزول بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ خطاب اہلِ کتاب اور مؤمنین سب کو ہے اور معنی یہ ہیں کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کرلینا اصل نیکی نہیں جب تک عقائد درست نہ ہوں اور دل اخلاص کے ساتھ ربِّ قبلہ کی طرف متوجہ نہ ہو۔

اس آیت مبارکہ سے بھی عقائد کے علم کی اہمیت کے بارے میں بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلٰى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةٍ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمن هِيَ يَا رَسُولَ الله قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وأَصْحَابِيْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ یقینًا بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جاوے گی سوا ایک ملت کے سب دوزخی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ وہ ایک فرقہ کون ہے فرمایا وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں اسے ترمذی نے روایت کیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1، حدیث نمبر:171)

اس حدیث مبارکہ کے مطابق امت میں 73 فرقوں میں سے صرف ایک گروہ جنت میں جائے گا، اللہ تعالی کہ کرم سے وہ گروہ جس پر حضور ﷺ اور حضور ﷺ کے تمام اصحاب علیہم الرضوان ہیں۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے وہ گروہ اہل سنت و جماعت ہے اس گروہ کے عقائد کو سیکھنا اور اپنانا ہی دائمی کامیابی اور جہنم سے نجات کا راستہ ہے۔

دورہ حاضر میں بھی نئے نئے فتنے سر اٹھاتے ہیں اور جو مسلمان عقائد کے حوالے سے کمزور ہوتا ہے یا جسے اپنے عقائد کے بارے میں صحیح طرح معلوم نہیں ہوتا تو ایسے مسلمانوں کا گمراہی میں جا پڑنے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے اس مسلمان کے مقابلے میں جسے اپنے عقائد پر گرفت ہوتی ہے اور اپنے عقائد کو جانتا ہے تو اسی لیے مطالعہ عقائد ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کو گمراہی کے گڑھے میں گرنے سے بچا سکے۔عقائد کا علم ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالی کی صفات کیا ہیں اور انبیاء کرام علیہم السلام، بالخصوص حضور نبی کریم ﷺ کا مقام و مرتبہ کیا ہے جب تک ہمیں اللہ کی توحید اور رسالت کے صحیح تقاضوں کا علم نہیں ہوگا ہم محبت و اطاعت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔مسلک اعلی حضرت میں عقائد کے علم کا ایک بڑا مقصد دل میں رسول اللہ ﷺ کے سچی محبت،حضور ﷺ کی تعظیم اور ان کے فضائل و کمالات (جیسے علم غیب، نورانیت، اور شفاعت)کو اجاگر کرنا ہے جو کہ ایمان کی اصل ہے۔

بزرگان دین کی خدمات: اس حوالے سے ہمارے بزرگان دین رحمۃ اللہ علیہم نے بہت کام کیا ہے اور اپنی کتابوں میں کتاب العقائد شامل کر کے عقیدے کی اہمیت کو خوب واضح کیا ہے۔

اگر اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کو بھی دیکھا جائے تو آپ نے بھی عقائد پر بہت کام کیا ہے۔بیسویں صدی کے آغاز میں جب نئے فتنے اٹھے، تو آپ نے قدیم عقائد کی حفاظت کی۔آپ نے "الدولۃ المکیہ" جیسی کتاب لکھ کر اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان (عقیدہِ رسالت) کو مدلل طریقے سے واضح کیادورہ حاضر کی عالم بنانے والی کتاب بہار شریعت جس کے مصنف مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ہیں انہوں نے بھی اپنی کتاب بہار شریعت میں سب سے پہلے عقائد کے متعلق ہی بحث کی ہے کیونکہ مسلمان کہ اگر عقائد ہی درست نہ ہوئے تو اس کے سارے اعمال برباد ہیں۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب جاءالحق عقیدے کی مضبوطی کے حوالے سے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

مطالعہ عقائد کے لیے کتابیں: مطالعہ عقائد کے لیے بہت سی کتابیں علماء اہل سنت نے تصنیف فرمائی لیکن ان میں سے چند مشہور کتابیں ہم ذکر کر دیتے ہیں جو آپ کے مطالعہ میں ہوں گی تو ان شاءاللہ آپ کا عقیدہ مضبوط ہوگا۔


مطالعۂ اسلامی عقائد ہر مسلمان کے لیے نہایت اہم اور بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ یہی عقائد دینِ اسلام کی اصل روح اور بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صحیح عقائد انسان کے ایمان کو مضبوط کرتے ہیں اور اسے گمراہی، فتنوں اور باطل نظریات سے محفوظ رکھتے ہیں۔اسلام میں عقائد کی حیثیت جڑ کی مانند ہے جس طرح درخت کی مضبوطی اس کی جڑ پر منحصر ہوتی ہے، اسی طرح انسان کے اعمال کی قبولیت اس کے صحیح عقیدہ پر موقوف ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآنِ مجید میں بارہا ایمان کی درستگی پر زور دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۃ الاخلاص میں ارشاد فرماتا ہے: قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)

ترجمہ کنز العرفان:تم فرماؤ وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے۔(سورۃالاخلاص:1،2)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے پہلے صحیح عقیدہ کا علم حاصل کرنا ضروری ہے جو یہاں پر شرک کے مقابل لایا گیا ہے، تاکہ انسان کا ایمان پختہ بنیادوں پر قائم ہو سکے۔آج کے دور میں جب فتنوں، شکوک و شبہات اور فکری انتشار کا غلبہ ہے، مطالعہ عقائد کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف نظریات آسانی سے عام ہو رہے ہیں، جن میں بہت سے ایسے ہیں جو اسلامی تعلیمات و عقائد سے بحث کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستند کتب اور اہلِ علم کی رہنمائی سے اپنے عقائد کو مضبوط کرے، تاکہ وہ ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رہ سکے۔

مزید برآں، صحیح عقائد انسان کے اخلاق اور کردار کو بھی سنوارتے ہیں۔ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی صفات، انبیاء ورسل اور قیامت کے دن حساب و کتاب کا یقین ہوتا ہے تو وہ اپنے اعمال میں اخلاص، دیانت داری اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اگر میں اس حوالے سے کہو تو بچے کی عمر چار سال ہوجائے تو اسے مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا دینا چاہیے۔ اس کے برعکس اگر عقیدہ کمزور ہوا تو انسان دنیا کی ظاہری چمک دمک میں کھو جائے گا اور آخرت کو بھول جاے گا۔

خلاصہ یہ ہے کہ مطالعۂ عقائد کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہ صرف ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ ایک متوازن اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقائد کو درست کرے، ان کا گہرا مطالعہ کرے اور اپنی آنے والی نسلوں تک صحیح عقیدہ منتقل کرے، تاکہ دینِ اسلام کی اصل روح برقرار رہے اور ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔