اسلام ایک مکمل دین ہے جو انسان کی ظاہری و باطنی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں "عقیدہ" بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اعمال کی قبولیت کا دار و مدار درست عقیدے پر ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو نیک اعمال بھی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہوتے۔ اسی لیے "مطالعۂ عقائد" یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا، سمجھنا اور ان پر یقین رکھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے ۔

عقیدہ کا مفہوم:"عقیدہ” عربی لفظ “عقد” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں "گرہ باندھنا"۔ اصطلاح میں عقیدہ سے مراد وہ پختہ ایمان اور یقین ہے جو دل میں راسخ ہو جائے، جیسے: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، فرشتوں، کتابوں اور یومِ آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان یہ تمام عقائد ایمان کی بنیاد ہیں۔

خود قرآن کریم ایمان کی بنیاد بیان کرنے پر ناطق ہے چنانچہ ارشاد ہوا ۔

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِه۔

ترجمۂ کنز العرفان:رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی۔ (البقرۃ:۲۸۵)

كسی چیز کی اصل ہی اُسکی بقا کا ضامن ہوتا ہے یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ایمان (عقیدہ) دین کی اصل بنیاد ہے۔

عقیدہ کے بغیر اعمال بے فائدہ:لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ(۶۵)

ترجمۂ کنز العرفان: اگر تو نے شرک کیا تو ضرور تیراہر عمل برباد ہوجائے گا اور ضرور توخسارہ پانے والوں میں سے ہوجائے گا۔(الزمر:۶۵)

یہ آیت بتاتی ہے کہ غلط عقیدہ (شرک) تمام اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔بندہ جتنی بھی ریاضتیں کر لے بندگی بجا لائے اگر ذرہ برابر بھی شرک کا مادہ پایا جائے تو تمام اعمال اکارت میں پڑھ جائینگے ۔

علمِ دین حاصل کرنے کا حکم:فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ترجمۂ کنز العرفان:تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔(محمد:۱۹)

ایمان کی تعریف:نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان لاؤ…۔(صحیح مسلم: 8)

یہ حدیث عقائدِ اسلام کی مکمل بنیاد بیان کرتی ہے۔

مطالعۂ عقائد کی ضرورت:صحیح عقیدہ انسان کو کفر، شرک اور بدعت سے محفوظ رکھتا ہےآج کے دور میں مختلف فتنوں اور نظریات کے باعث عقیدہ کا سیکھنا انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ درست عقیدہ ہی اعمال کی قبولیت کی بنیاد ہے۔بغیر اسکے آدمی لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُك کا مصداق ٹھہرتا ہے۔عقیدہ کی درستگی ہی انسان کو سکون اور یقین عطا کرتا ہے۔

مطالعۂ عقائد کی اہمیت: دین کی صحیح سمجھ پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے، عبادات میں اخلاص پیدا ہوتا ہے، معاشرے میں اتحاد پیدا ہوتا ہے، بدعات اور خرافات کا خاتمہ ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں عقیدہ کی اہمیت:آج کے دور میں الحاد، دہریت، اور مختلف گمراہ کن نظریات عام ہو چکے ہیں۔ ایسے میں صحیح عقیدہ کا علم حاصل کرنا اور اس پر قائم رہنا نہایت ضروری ہے، تاکہ انسان اپنے ایمان کی حفاظت کر سکے۔مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے بنیادی ضرورت ہے، کیونکہ یہی ایمان کی بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ صحیح عقیدہ کے بغیر نہ اعمال مقبول ہوتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں کامیابی ممکن ہے۔ لہٰذا اگر ہم فلاح دارین کی حصول کا کڑھن رکھتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم عقائدِ اسلامیہ کو سیکھیں، سمجھیں اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔خدائے رب الانام ہمارے اعمال کے ساتھ عقائد کو درست کرنے کی سعی کرتے رہنے کی توفیق عمل عطا فرمائے آمین یارب الکریم۔


تمام کے تمام اعمال کا دارومدار عقائد پر ہوتا ہے عقیدہ یہ بنیاد ہوتا ہے اگر کسی شخص کے عقائد میں خرابی ہے تو چاہےوہ ہزاروں نیکیاں کرلے تو وہ قابل قبول نہیں کیونکہ اگر عقیدہ صحیح نہیں تو وہ مومن کیسے ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن نہیں تو اسکا ہر عمل برباد ہے چاہے وہ ایمان لاۓ بغیر حج بھی کیوں نہ کرلے اس کا حج بھی قابل قبول نہیں اسی وجہ سے ہمیں پتہ ہونا چاہیے کے ہمارے عقائد کیا ہیں تاکہ ہم شرک بدعت وغیرہ جیسے گناہوں سے بچے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:لَىٕنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ ترجمہ کنز الایمان: اگر تو نے اللہ کا شریک کیا تو ضرور تیرا سب کیا دھرا اَکارت جائے گا ۔(پارہ 24 آیت 65)

اس آیت میں خطاب اگرچہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن مراد سننے والے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو (اور تمام انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو) شرک سے معصوم فرمایا ہے۔(خازن، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۵، ۴ / ۶۲، جلالین، الزّمر، تحت الآیۃ: ۶۵، ص۳۹۰، ملتقطاً)

وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۸۸) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ ( پارہ 6 انعام 88)

أَي: لبطل عَنْهُم، والحبوط: البطولاس تفسیر سے یہ بات سمجھ آئی وہ یہ ہے کے "شرک کرنے سے عمل اکارت ہو جاتے ہیں اور ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔"(مسار الصفحۃ الحاليۃ:فهرس الكتاب الأنعام ٨٨)

وَ لَوْ اَشْرَكُوْا: اور اگر وہ(بھی بالفرض) شرک کرتے۔اس آیت میں عوام و خواص سب لوگوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہ ہوں کیونکہ جب فضیلت اور بلند مقام رکھنے والے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے کہ اگر وہ (بھی بالفرض) شرک کرتے تو ضرور ان کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے۔ تو ان کے مقابلے میں اور لوگوں کا حال کیا ہو گا ۔(روح البیان، الانعام، تحت الآیۃ: ۸۸، ۳ / ۶۲)

تمام گفتگو سے یہ بات سمجھ آتی ہے کے اگر خواہ بندہ کتنے ہی مقام کتنےہی مرتبے والا ہو اگر اس کا عقیدہ رب تعالی اور جناب رحمت للعمین ﷺ کی بارگاہ کے بارے میں درست نہ ہو تو اسکے عمل کا کوئی فائدہ نہیں اسی وجہ سے ہمیں ہمارے عقائد کی حفاظت کرنی چاہیے اور انہیں بغور مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ کہیں ہم خدا نخواستہ اپنے اعمال اور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔


تمام تعریفیں اس اللہ پاک کے لیے جس نے ہماری رہنمائی کے لیے قرآن نازل فرمایا اور درود اس ذات پر جس پر اللہ پاک نے قرآن کو نازل فرمایا اور جن کے فرمامین و تعلیمات کو اور ان کی مقدس ذات کو ہمارے لیے مثل نمونہ بنایاحمد و صلاۃ کے بعدہمارے لیے اس بات کی معلومات حاصل کرنا بہت اہم ہے کہ ہمیں اس پاک ذات یعنی ذات باری تعالیٰ اور اس کے محبوب نبی ﷺ اور ان کی بتائی ہوئی شریعت میں کن باتوں پہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے۔تو سب سے پہلے عقائد کی تعریف کو جانتے ہیں ۔

عقیدہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف:عقائد عربی زبان کے لفظ عقیدہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں:ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے والوں کے لیے اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ ہواصطلاحی اعتبار سے عقیدہ ان دینی امور کا نام ہے جن پہ دل بغیر شک و شبہ کے پختہ ہوجائے ۔(دس اسلامی عقیدے صفحہ7)

جیسے ذات و صفات باری تعالیٰ، نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء و مرسلین، ملائکہ مقربین، جنت دوزخ، بعثت (مرنے کے بعد زندہ ہونا) وغیرہ کے متعلق ہمارا عقیدہ کیا ہونا چاہیے۔

عقیدہ کی ضرورت:بحیثیت مسلمان ہونے کے ایک مسلمان کو مذکورہ عقائد کے متعلق اتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے جس سے وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکے بدمذہبوں اور بدعقیدہ لوگوں کی پہچان کرسکے ورنہ کس طرح اس کا عقیدہ بگڑے اس کو بھی معلوم نا ہوپائے گابالخصوص آج کے اس جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا سے بھرپور دور میں جس طرح ایک سیدھے سادھے مسلمان کے عقیدہ کو قرآن و حدیث بیان کرتے ہوئے خراب کیا جارہا ہے۔ الامان و الحفیظ اللہ پاک تمام مسلمانوں کو دینِ اسلام کے باغیوں سے محفوظ فرمائے۔

عقیدہ کی اہمیت:عقائد کا علم سیکھنا اور درست عقیدہ رکھنا ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین و اہم ترین فرض بنیادی عقائد کا علم حاصل کرنا ہے۔(فتاویٰ رضویہ، 23(623ماخوذا)

جی ہاں پیارے اسلامی بھائیوں عمل پر عقیدہ مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پہ اجر و ثواب کا ملنا اور ان کا شرف قبولیت پانا عقیدے کی درستی پہ موقوف ہے جس کے عقیدے میں بگاڑ ہو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت ہوکر آخرت میں بے فائدہ و بے کار ہوجائیں گے۔اپنی اس بات کی تصدیق میں کلام الہی عز وجل کو ملحوظ خاطر رکھتا چلوں۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔ (پارہ 3 سورۃ آل عمران،آیت 90)

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے، ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (پارہ 3 سورۃ آل عمران،آیت91)

تفسیر صراط الجنان میں ہے :اس سے معلوم ہوا کہ نجات کا دارومدار ایمان پر خاتمہ ہونے پر ہے۔ اگر کوئی شخص تمام عمر مومن رہا اورمرتے وقت کافر ہو گیا تو اس آیت میں شامل ہےاسی لئے صالحین سب سے زیادہ فکر ایمان پر خاتمے ہی کی کرتے تھےچنانچہ حضرتِ یوسف بن اَسباط رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں ایک مرتبہ حضرتِ سفیان ثَوری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس حاضر ہوا۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ساری رات روتے رہے ۔ میں نے دریافت کیا : کیا آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ گناہوں کے خوف سے رو رہے ہیں ؟ تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک تنکا اٹھایا اور فرمایا کہ گناہ تواللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اِس تنکے سے بھی کم حیثیت رکھتے ہیں ، مجھے تو اس بات کا خوف ہے کہ کہیں ایمان کی دولت نہ چھن جائے۔ (منہاج العابدین، العقبۃ الخامسۃ، اصول سلوک طریق الخوف والرجاء، الاصل الثالث، ص۱۶۹)

مذکورہ آیات کریمہ اورواقعات اسلاف سے ہمیں یہ بات سیکھنےکو ملتی ہے کہ ہم نے اس دنیا سے اپنے ایمان کو سلامت لے جانا ہے اور ایمان سلامت اس وقت ہی جائے گا جب ہمارا عقیدہ درست ہوگا اور جس کے عقیدے میں ہی بگاڑ ہو تو وہ کیسے ایمان سلامت لے جائے گایوں سمجھیے کہ لا الہ الا الله محمد الرسول اللہ ﷺ کو پڑھ لینا ایمان ہے اور اس کے تقاضے کو پورا کرنا ہمارا عقیدہ تو ذرا اپنے دل سے پوچھیے جو بندہ فقط زبان سے یہ کلمات ادا کرے اور اس کے تقاضوں کو پورا نا کرے یعنی دل سے اقرار ہی نا کرے تو کیا وہ مسلمان کہلائے گا۔۔۔؟ ہر گز نہیں چونکہ دل سے اقرار کرنا اور اس بات پہ ایسا پختہ فیصلہ کرلینا ضروری ہے جس کے بعد کوئی شک و شبہ باقی ہی نہ رہے اور یہی تو عقیدہ کہلاتا ہے۔لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صحبت کو ان لوگوں تک ہی منحصر رکھیں جن کے عقائد درست ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صحیح العقیدہ سنی عالم دین کی صحبت میں رہیں تاکہ وقتاً فوقتاً عقیدے کی اصلاح کے لیے کچھ نا کچھ سیکھتے رہیں بالخصوص آج کے دور میں ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال سے جتنی قدر ممکن ہو بچنا چاہیےکیونکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس پہ ہر بندہ اپنی بات کو با آسانی تمام لوگوں تک پہنچا سکتا ہے چاہے وہ درست ہو یا غلط اور یہ سوشل میڈیا دشمنانِ اسلام کا بہت بڑا پروپیگنڈہ ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کو تعلیمات محمدیہ ﷺ سے بیزار کرتے ہوئے ان کے دلوں میں اپنی بیہودہ تعلیمات کو راسخ کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے عقیدے و تعلیم سے ہٹ جائے تو ہم اسے نیست ونابود کردیں حالانکہ مسلمان گناہگار ہوسکتا ہے نبی ﷺ کا غدار نہیں تو اگر ہمیں دشمنانِ اسلام کا منہ کالا کرنا ہے تو سب سے پہلے عقائد و تعلیمات اسلام کو مضبوطی سے تھامنا ہوگااللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ امت محمدیہ ﷺ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور انہیں دشمنانِ اسلام پہ غلبہ و فتوحات نصیب فرمائےآمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ۔


مطالعۂ عقائد اسلام کی بنیاد ہے، کیونکہ عقیدہ درست ہوگا تو ایمان مضبوط ہوگا اور اعمال بھی درست ہوں گے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بنیادی عقائد، جیسے توحید، رسالت اور آخرت پر پختہ یقین رکھے اور ان کو صحیح طور پر سمجھے۔آج کے دور میں مختلف گمراہ کن نظریات اور شکوک و شبہات عام ہو چکے ہیں، اس لیے عقائد کا علم حاصل کرنا بے حد ضروری ہے تاکہ انسان اپنے ایمان کی حفاظت کر سکے اور باطل افکار سے بچ سکے۔مطالعۂ عقائد انسان کے دل میں یقین، سکون اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ پیدا کرتا ہے، جو اس کی عملی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ یہی علم اسے حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے۔لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ عقائد کا علم حاصل کرے، کیونکہ یہی اس کے ایمان کی مضبوطی اور نجات کا ذریعہ ہے۔

مسلمان ہونے کی حیثیت سے عقائد کا علم سیکھنا اور عقائد کو درست رکھنا ہمارے لیے انتہائی ضروری اور بڑی اہمیت کا حامل ہے امام اہل سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کریں جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالفت سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔( فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 623)

عقیدہ عمل پر مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پر اجر و ثواب کا ملنا عقیدے کی درستگی پر موقوف ہے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہے تو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت ہو کر آخرت میں کسی کام نہ آئیں گے چنانچہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا :

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے پھر اور کفر میں بڑھے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی اور وہی ہیں بہکے ہوئے۔(سورۃآل عمران:90)

تفسیر صراط الجنان:اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔ یہ آیت ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے کے بعد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور انجیل کے ساتھ کفر کیا ،پھر کفر میں اور بڑھے اور سیدُ الانبیاء محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآن کے ساتھ کفر کیا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی جورسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بعثت سے پہلے تو اپنی کتابوں میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ظہور کے بعد کافر ہوگئے اور پھر کفر میں اور شدید ہوگئے۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۹۰، ۱ / ۲۷۰)

ایمان و کفر میں شدت کی کیفیت کے اعتبار سے کمی زیادتی ہوتی ہے، جیسے قرآن پاک میں بکثرت ایمان میں اضافہ ہونے کی آیات ہیں ، اسی طرح کفر میں شدت کی آیات بھی ہیں۔ یہ آیات اس معنیٰ میں ہے کہ کسی کا ایمان زیادہ قوی اور مضبوط ہوتا ہے جبکہ کسی کا ایمان کمزور ہوتا ہے یونہی کسی کا کفرزیادہ شدید ہوتا ہے اورکسی کا کم شدت والا ہوتا ہے۔ آیت میں فرمایا کہ’’جو کفر کرے اور اس میں بڑھتا جائے اس کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی‘‘ اس کا یاتو یہ معنیٰ ہے کہ ’’ان کی معافی نہیں ،کیونکہ یہ توبہ ہی نہیں کرتے یا یہ معنیٰ ہے کہ’’ان کی توبہ مقبول نہیں ، کیونکہ ان کی توبہ دل سے نہیں بلکہ منافقانہ ہوتی ہے ، دل میں کفر بھرا ہوتا ہے اور زبان سے توبہ کررہے ہوتے ہیں ایسی توبہ ہرگز قبول نہیں۔ البتہ جو توبہ دل سے کی جائے وہ ضرور مقبول ہے۔

حدیث پاک میں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے بارگاہ رسالت میں عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان یعنی بنو تمیم کا مشہور سخی رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یہ اعمال اسے آخرت میں نفع دیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یہ اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے کیونکہ اس نے اللہ پاک پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔(مسلم شریف صفحہ 111 حدیث نمبر 518)

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم مطالعۂ عقائد کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائیں تاکہ ہمارا ایمان مضبوط ہو اور ہم صحیح اسلامی راستے پر قائم رہ سکیں۔ یہی علم ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔


اسلام میں عقیدہ (ایمانیات) بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کے تمام اعمال کی درستگی کا دار و مدار اس کے صحیح عقیدے پر ہوتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو اعمال بھی صحیح سمت میں رہتے ہیں، اور اگر عقیدہ میں خرابی ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے"مطالعۂ عقائد" یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا اور سمجھنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ترجمہ کنز الایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔(سورۃ محمد: 19)

مطالعۂ عقائد کی ضرورت:ایمان کی حفاظت کے لیے:آج کے دور میں مختلف گمراہ کن نظریات پھیل رہے ہیں۔ اگر انسان اپنے عقائد سے واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔

صحیح اور غلط میں فرق کے لیے:مطالعۂ عقائد انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ کون سا نظریہ درست ہے اور کون سا غلط۔

عبادات کی قبولیت کے لیے:درست عقیدہ عبادات کی قبولیت کی شرط ہے۔ غلط عقیدہ انسان کے اعمال کو ضائع کر سکتا ہے۔

مطالعۂ عقائد کی اہمیت:مطالعۂ عقائد صرف علماء کے لیے نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ ایک مسلمان کو کم از کم اپنے بنیادی عقائد (اللہ پر ایمان، رسول ﷺ پر ایمان، آخرت پر ایمان وغیرہ) کا علم ہونا چاہیے۔قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ

ترجمہ کنز الایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا۔ (سورۃ البقرۃ: 285)

یہ آیت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ایمان مکمل طور پر اللہ اور اس کے احکامات کو ماننے کا نام ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب انسان عقائد کو صحیح طور پر سمجھے۔

مطالعۂ عقائد کے فوائد:ایمان میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے،دل میں یقین اور اطمینان آتا ہے،گمراہی سے حفاظت ہوتی ہے،دین پر عمل آسان ہو جاتا ہے،


انسان کی زندگی محض سانس لینے اور دنیاوی مصروفیات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مقصد کے تحت دی گئی امانت ہے۔ اس مقصد کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔وہ"درست عقیدہ" ہے۔ کیونکہ عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی پوری زندگی، اس کے اعمال اور اس کی آخرت کا دارومدار ہوتا ہے۔عقیدہ دراصل دل کے اس یقین کا نام ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت عطا کرتا ہے۔ جب یہ یقین درست اور مضبوط ہو تو انسان کا ہر عمل سنور جاتا ہے، لیکن اگر عقیدہ کمزور یا غلط ہو جائے تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے معنی اور قابل ترک ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے سب سے پہلے عقائد کی درستگی پر زور دیا، پھر عبادات اور معاملات کی تعلیم دی۔

مطالعۂ عقائد کی ضرورت :مطالعۂ عقائد کی سب سے بڑی ضرورت اس لیے ہے کہ یہ ایمان کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آج کا دور فتنوں، شکوک و شبہات اور مختلف گمراہ کن نظریات سے بھرا ہوا ہے۔ ایسے میں اگر انسان کے پاس عقائد کا علم نہ ہو تو وہ بہت آسانی سے غلط راستوں پر جا سکتا ہے۔ لیکن جو شخص عقائد کا مطالعہ کرتا ہے، وہ حق اور باطل میں فرق کرنا سیکھ لیتا ہے اور اس کا ایمان متزلزل نہیں ہوتا۔مزید یہ کہ مطالعۂ عقائد انسان کو اپنے رب کی پہچان عطا کرتا ہے۔ جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ کون ہے، اس کی صفات کیا ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، تو اس کے دل میں اللہ کی محبت، خوف اور یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہی کیفیت انسان کو گناہوں سے روکتی اور نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہے۔عقائد کا علم نہ صرف انفرادی زندگی کو سنوارتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔

ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگوں کے عقائد درست ہوں، وہاں اتحاد، اخلاص اور بھائی چارہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب عقائد میں بگاڑ آ جائے تو اختلافات، بدعات اور انتشار جنم لیتے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ آخرت کی کامیابی کا دارومدار بھی صحیح عقیدہ پر ہے۔ دنیا کی تمام کامیابیاں عارضی ہیں، اصل کامیابی وہ ہے جو مرنے کے بعد حاصل ہو۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان کا ایمان درست اور مضبوط ہو۔ اسی لیے کہا گیا کہ اعمال کا دارومدار عقیدہ پر ہے۔

اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عقائد کا مطالعہ محض ایک علمی ضرورت نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت بھی ہے۔ یہ انسان کے سوچنے کا انداز بدل دیتا ہے، اس کے فیصلوں کو درست کرتا ہے اور اسے زندگی کے ہر موڑ پر سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ ایمان کی حفاظت کرتا ہے، دل کو یقین کی روشنی سے منور کرتا ہے، اور انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کو سیکھیں، سمجھیں اور ان پر مضبوطی سے قائم رہیں، کیونکہ یہی ہماری اصل کامیابی کی کنجی ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے۔ عقیدہ دراصل ان بنیادی ایمانوں کا نام ہے جن پر مسلمان کا ایمان ہونا ضروری ہے، جیسے توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں اور کتابوں پر ایمان۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو عبادات اور اعمال کی کوئی وقعت باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے ہمارے جید اور اکابر علماء نے ہمیشہ عقائد کے صحیح فہم اور ان کے مطالعہ پر زور دیا ہے۔مطالعۂ عقائد کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان کو مضبوط اور محفوظ بنا سکے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ" ترجمہ کنز الایمان: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں۔(سورۃ محمد: 19)

اہلسنت کی معتبر کتب میں بھی عقائد کے مطالعہ پر خاص زور دیا گیا ہے۔ امام ابو حنیفہ کی مشہور کتاب “الفقہ الاکبر” میں بنیادی اسلامی عقائد کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح امام طحاوی کی “العقیدہ الطحاویہ” اہلِ سنت کے عقائد کا ایک جامع خلاصہ ہے، جسے تمام مکاتب فکر میں قبولیت حاصل ہے۔ ان کتب کا مطالعہ انسان کو گمراہی سے بچاتا اور صحیح راستہ دکھاتا ہے۔

مطالعۂ عقائد کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ انسان باطل نظریات اور گمراہ کن افکار سے محفوظ رہ سکے۔ آج کے دور میں مختلف فتنوں، الحاد، اور غلط نظریات کا پھیلاؤ عام ہے۔ اگر مسلمان کے پاس اپنے عقائد کا صحیح علم نہ ہو تو وہ آسانی سے ان فتنوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ امام احمد رضا خان نے اپنی تصنیفات میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ عقائد کی درستگی ایمان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔

یہ قول اس بات کو واضح کرتا ہے کہ عقیدہ بنیاد ہے اور اعمال اس پر قائم عمارت۔

مطالعۂ عقائد کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو بڑھاتا ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی صفات، اس کی قدرت، اور نبی کریم ﷺ کی شان و عظمت کو جانتا ہے تو اس کا ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ یہی مضبوط ایمان انسان کو نیکیوں کی طرف راغب کرتا اور برائیوں سے دور رکھتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ یہ نہ صرف ایمان کی حفاظت کرتا ہے بلکہ انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اہلِ سنت کی مستند کتب کا مطالعہ کریں، علماء سے رہنمائی حاصل کریں، اور اپنے عقائد کو مضبوط بنائیں تاکہ ہم ایک سچے اور پکے مسلمان بن سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقائد کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


انسان کی زندگی کا دارومدار اس کے عقیدے پر ہے۔ عقیدہ دل کا یقین ہے جو انسان کے تمام اعمال کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو عمل بھی درست ہوتا ہے، اور اگر عقیدہ بگڑ جائے تو پوری زندگی بے مقصد ہو جاتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں عقیدے کی درستگی کو سب سے پہلے رکھا گیا ہے۔

عقیدہ کیا ہے؟ عقیدہ عربی لفظ "عقد" سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے گرہ لگانا، باندھنا۔ اصطلاح میں وہ پختہ یقین جو دل میں راسخ ہو جائے اور جس میں شک کا شائبہ تک نہ ہو، اسے عقیدہ کہتے ہیں۔ مسلمان کے بنیادی عقائد ہیں: اللہ کی ذات و صفات پر ایمان، فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، قیامت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان۔

مطالعہ عقائد کی ضرورت کیوں؟

(1)نجات کا انحصار عقیدے پر ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ "جو اس حال میں مرا کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔" (صحیح مسلم: 26)

صرف کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں، اس کے معنی اور تقاضوں کا علم ہونا ضروری ہے۔ یہ علم مطالعے سے ہی آئے گا۔

(2)باطل فرقوں سے حفاظت: آج امت 73 فرقوں میں بٹ چکی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ ان میں سے صرف ایک فرقہ ناجی ہے جو نبی ﷺ اور صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ۔ (ترمذی: 2641)

جب تک ہم صحیح عقائد کا مطالعہ نہیں کریں گے، ہم پہچان نہیں سکیں گے کہ حق پر کون ہے۔ بدعتی، خارجی، معتزلہ، قادیانی، منکرین حدیث جیسے گمراہ فرقے عام مسلمان کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں۔

(3) عمل کی قبولیت عقیدے سے مشروط ہے: قرآن کہتا ہے: وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ٘

ترجمہ کنز الایمان: اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت(ضائع) گیا ۔(المائدۃ: 5)

اگر کوئی شخص ساری زندگی نماز پڑھتا رہے لیکن اس کا عقیدہ شرکیہ ہو، یا وہ ختم نبوت کا منکر ہو، تو اس کی نمازیں کسی کام کی نہیں۔

(4)شک و شبہ کا ازالہ: موجودہ دور سوشل میڈیا اور یوٹیوب کا دور ہے۔ ہر شخص دین پر بات کر رہا ہے۔ ملحدین، مستشرقین اور اسلام دشمن قوتیں سادہ لوح مسلمانوں کے دل میں وسوسے ڈالتی ہیں۔ "تقدیر کا مسئلہ کیا ہے؟"، "عذاب قبر حق ہے یا نہیں؟"، "اللہ کہاں ہے؟" جیسے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کا جواب صرف وہی دے سکتا ہے جس نے علماء اہلسنت کی کتابوں سے عقائد کا مطالعہ کیا ہو۔

مطالعہ عقائد کی اہمیت:(1) دل کو اطمینان ملتا ہے : جب انسان کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہو جائے، اس کی صفات کا علم ہو جائے، تو دل سے بے چینی ختم ہو جاتی ہے۔

(2) اولاد کی تربیت ممکن ہوتی ہے: بچہ سب سے پہلے گھر سے سیکھتا ہے۔ اگر والدین کو خود ہی توحید، رسالت، آخرت کا صحیح علم نہیں ہوگا تو وہ اپنی اولاد کو کیا سکھائیں گے؟ اسی وجہ سے آج کی نسل ملحد ہو رہی ہے۔

(3)دعوت کا کام مؤثر ہوتا ہے: غیر مسلم سے بات کرتے وقت سب سے پہلے عقیدہ توحید ہی پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہمیں خود دلائل نہیں آتے تو ہم کسی کو کیا دعوت دیں گے؟

کن کتابوں کا مطالعہ کریں؟عوام کے لیے آسان کتابیں: بہار شریعت جلد 1، عقائد اہلسنت از صدر الشریعہ، شرح عقائد نسفی، اسلامی عقائد از مفتی احمد یار خان نعیمی۔ علماء سے رہنمائی لے کر پڑھیں تاکہ غلط فہمی نہ ہو۔

یاد رکھیں، اعمال کی عمارت عقیدے کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ بنیاد کمزور ہو تو عمارت گر جاتی ہے۔ لہٰذا نماز، روزے سے پہلے اپنے عقائد درست کریں۔ روزانہ 10 منٹ ہی سہی، مگر مستند علماء کی کتابوں سے عقائد کا مطالعہ ضرور کریں۔ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے۔


ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ آخرت میں کامیاب ہو جائے اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار انسان کے عقیدہ کا درست ہونا اور درست عمل ہونے پر ہے۔ عقیدے اور عمل میں سے عقیدہ سب سے مقدم ہے سب سے پہلا درجہ عقیدے کا ہے اگر ایک مسلمان عقیدہ درست رکھنے والا ہوگا تو اس کے عمل بھی مقبول ہوں گے اور اگر اس کا عقیدہ درست نہ ہوا تو اس کے عمر بھر کے کیے جانے والے نیک اعمال عبادات نماز روزہ اور دیے جانے والے نیک اعمال میں سے زکوۃ صدقات یہ اس کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ تو یاد رکھیے کہ عقیدہ سب سے زیادہ اہم ہے اس وجہ سے ہم اپنے مضمون میں عقیدہ کیا ہونا چاہیے اور عقیدے کے لیے کیے جانے والے مطالعے کی کتنی اہمیت ضروری ہے اس کے بارے میں ہم اس مضمون میں بحث کریں گے ۔

ایک مومن کی زندگی میں درست عقیدے کی اہمیت ایسے ہی ہے جیسا کہ درخت سے اس کے پھلوں کا حاصل کرنا اور درخت سے پھلوں کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب درخت کا وجود ہوگا تو اسی طرح ایک کامل مومن کے اعمال ، نیکیوں کا ثواب آخرت میں بھی درست عقیدہ رکھنے والوں کو اللہ تبارک و تعالی اجر عطا فرمائے گا۔"عقیدہ" عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں: ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے والوں کیلئے اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ ہو۔ اصطلاحی اعتبار سے عقیدہ ان دینی امور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی شک و شبہ کے پختہ ہو جائے۔(حدیقہ ندیہ، 1 / 96)

مسلمان ہونے کی حیثیت سے عقائد کا علم سیکھنا اور عقائد کو درست رکھنا ہمارے لیے انتہائی ضروری اور بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ امام اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اولین و اہم ترین فرض یہ ہے کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالفت سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 23 / 623 ماخوذاً)

عقیدہ عمل پر مقدم ہے یہی وجہ ہے کہ نیک اعمال پر اجر و ثواب کا ملنا عقیدے کی درستی پر موقوف ہے اگر کسی کا عقیدہ خراب ہے تو اس کے بڑے بڑے نیک اعمال بھی غارت و اکارت ہو کر آخرت میں کسی کام نہ آئیں گے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: بے شک وہ جو ایمان لا کر کافر ہوئے، پھر اور کفر میں بڑھے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہو گی اور وہی ہیں بہکے ہوئے، وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے، ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ (پ 3، آل عمران: 90، 91)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! زمانۂ جاہلیت میں ابن جدعان (بنو تیم کا مشہور سخی) رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا، مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ اعمال اسے (آخرت میں) نفع دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایا: یہ اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے، کیونکہ اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ! آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (مسلم، ص 111، حدیث: 518)

ایک مسلمان کیلئے ذات و صفاتِ باری تعالیٰ، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اور دیگر انبیاء و مرسلین، ملائکہ مقربین، مرنے کے بعد زندہ ہونے، جنت و دوزخ، منکر نکیر کے سوالات، حوض کوثر اور پل صراط کے حق ہونے نیز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد سب سے افضل ہونے وغیرہ عقائد کا اتنا علم ضروری ہے کہ جس سے صحیح اور غلط عقیدے کی پہچان ہو جائے ۔ عقیدے کی مضبوطی کے لیے آپ اعلیٰ حضرت کے کتب و رسائل سے فائدہ اٹھا سکتے کیونکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مایہ ناز کتب و رسائل میں دلائل کے ذریعے بے دینوں اور بدمذہبوں کے باطل نظریات کا رد فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف مسلمانوں کے درست عقائد ثابت فرمائے بلکہ انہیں اپنے عقیدے کی حفاظت کا بھرپور ذہن بھی دیا ہے۔

اگر ہم خود مختلف کتابوں سے عقیدے کا مطالعہ کریں گے تو اس کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمارے عقیدے میں پختگی آئے گی اور ہم دوسرے مذاہب کہ لوگوں کی باتیں سن کر confusion کا شکار نہیں ہوں گے اور اسی طرح ہم اپنے ساتھ رہنے والے خاندان دوست احباب کو بھی جب قرآن و سنت اور صحابہ کرام کے معاملات عقیدے کے متعلق بتائیں گے تو اس سے ان کا بھی عقیدہ اور مضبوط ہو جائے گا اور ان کو اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوگا اللہ پاک ہمیں اپنے اس عقیدے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔


اسلامی زندگی کی عمارت جس بنیاد پر قائم ہے، اسے 'عقیدہ' کہا جاتا ہے۔ عقیدہ انسانی وجود میں اس روح کی مانند ہے جس کے بغیر جسم محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔ مطالعہ عقائد کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، مالک اور کائنات کے اصل حقائق کو دل کی گہرائیوں سے پہچان لے اور اپنی زندگی کو ان نظریات کے سانچے میں ڈھال لے۔ جب تک انسان کا نظریہ اور سوچ درست نہیں ہوتی، اس کے اعمال میں پختگی اور اخلاص پیدا نہیں ہو سکتا۔ اہل سنت و جماعت کا عقیدہ درحقیقت وہی روشن راستہ ہے جو صحابہ کرام، تابعین اور بزرگانِ دین سے تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے۔ دورِ حاضر میں، جہاں طرح طرح کے نئے نظریات جنم لے رہے ہیں، ان کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے ایک مضبوط قلعہ ہے جو اسے فکری انتشار سے بچا کر ایمانِ کامل کی مٹھاس عطا کرتا ہے۔

اہل سنت و جماعت کے بنیادی عقائد کا محور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی بے مثال عظمت و محبت ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہ ذہن دیا ہے کہ محض اللہ کو مان لینا کافی نہیں جب تک کہ اس کے رسول ﷺ کی کماحقہ تعظیم نہ کی جائے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ

ترجمہ کنز الایمان: تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیرکرو ۔ (سورۃ الفتح، آیت: 9)

اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر کرنا ایمان کا لازمی جزو ہے۔ اہل سنت کا یہ امتیازی وصف ہے کہ وہ شانِ رسالت میں معمولی ادنیٰ سی گستاخی کو بھی ایمان کی بربادی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ولیوں اور پیاروں کی شان و عظمت کو پہچاننا بھی عقائدِ اہل سنت کا اہم حصہ ہے۔

عقائد کا صحیح مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اولیاء اللہ سے محبت کرنا دراصل اللہ ہی سے محبت کرنا ہے، کیونکہ یہ حضرات اللہ کی رضا کے مظہر ہوتے ہیں۔ اہل سنت کا یہ نظریہ کہ اللہ کے پیارے بندے اس کی عطا سے مخلوق کی فریاد رسی کرتے ہیں، اسی قرآنی تصور کی عملی تشریح ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی اس جماعت کی پیروی کی سخت تاکید کی گئی ہے جو حق پر قائم ہو اور جس کی تعداد سب سے زیادہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:عَلَیْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ ترجمہ:"تم پر بڑی جماعت (سوادِ اعظم) کی پیروی لازم ہے"۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 3950)

تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ سوادِ اعظم سے مراد ہمیشہ اہل سنت و جماعت ہی رہے ہیں۔ اسی طرح اہل سنت کے اس عقیدے کی اصل کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقرب بندوں کو خاص قوتیں عطا فرماتا ہے، جس کی دلیل اس حدیثِ قدسی میں ملتی ہے:فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ ترجمہ:"پھر جب میں اس (بندے) سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے"۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6502)

یہ حدیثِ مبارکہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ کے محبوب بندوں کی سماعت اور بصارت عام انسانوں جیسی نہیں رہتی بلکہ وہ اللہ کی عطا کردہ نورانی طاقت سے کائنات کے اسرار و رموز کا مشاہدہ فرماتے ہیں۔ مطالعہ عقائد سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ انبیاء و اولیاء کو اللہ کی عطا سے صاحبِ اختیار ماننا عین توحید ہے اور یہی وہ عقیدہ ہے جو دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حقیقی تڑپ پیدا کرتا ہے۔

عقیدہ اہل سنت و جماعت درحقیقت اسلام کی روح اور بندگی کا جوہر ہے۔ اس کے مطالعے کی ضرورت اس لیے ہے کہ ہم اپنے ایمان کی بنیادوں کو ٹھوس دلائل پر استوار کر سکیں اور کسی بھی گمراہ کن نظریے کا شکار نہ ہوں۔ یہ عقیدہ ہمیں اعتدال سکھاتا ہے، یعنی نہ تو ہم اللہ کی توحید میں کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے پیاروں کی شان میں تنقیص کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عام عوام کے لیے ان عقائد کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ وہ اولیاء و صالحین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دنیا میں بھی فلاح پائیں اور آخرت میں بھی حضورِ اکرم ﷺ کی شفاعتِ کبریٰ کے حقدار ٹھہریں۔ یہی وہ صراطِ مستقیم ہے جس پر چلنے کی دعا ہم ہر نماز میں مانگتے ہیں۔ اپنے ایمان کی حفاظت اور نسلوں کی صحیح فکری تربیت کے لیے ان بنیادی عقائد کا علم حاصل کرنا وقت کی اہم ترین پکار ہے۔


علمِ عقائد ایک اہم علم ہے جس میں یہ بیان ہوتا ہے کہ ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے بارے میں مسلمانوں کو کیا عقیدہ رکھنا چاہئے، انبیاءِکرام علیہم الصلاۃ والسلام، حضراتِ صحابہ اور اولیاء رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن کے متعلق کیا عقیدہ ہونا چاہئے، قیامت و احوالِ قیامت کیا ہیں، جنّت و دوزخ کسے کہتے ہیں اور ان کے متعلق کیا عقیدہ رکھنا چاہئے، کن کن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے اور کن چیزوں کا انکار آدمی کو کفر و گمراہی کے  گھڑے میں پھینک دیتا ہے اور کون سے ایسے افعال ہیں جن کے کرنے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔مسلمان کے لیے جس طرح ذات و صفات کا جاننا ضروری ہے، کہ کسی ضروری کا انکار یا محال کا اثبات اسے کافر نہ کر دے، اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کے لیے کیاجائز ہے اور کیا واجب اور کیا محال، کہ واجب کا انکار اور محال کا اقرار موجب کُفر ہے اور بہت ممکن ہے کہ آدمی نادانی سے خلاف عقیدہ رکھے یا خلاف بات زبان سے نکالے اور ہلاک ہو جائے۔

‎‎مطالعۂ عقائد (یعنی اسلامی عقائد کو سیکھنا اور سمجھنا) کی بہت زیادہ ضرورت اور اہمیت ہے، کیونکہ یہ انسان کے ایمان اور زندگی کی بنیاد ہے۔ اس کی اہمیت کو مختصر نکات میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

(1) ایمان کی درستگی:‎مطالعۂ عقائد انسان کو صحیح ایمان سکھاتا ہے اور غلط عقائد سے بچاتا ہے۔

(2) اللہ کی پہچان:‎اس کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی وحدانیت کو بہتر طریقے سے سمجھتا ہے۔

(3) اعمال کی درستگی:‎جب عقیدہ درست ہو تو عبادات اور اعمال بھی صحیح ہوتے ہیں۔

(4) شکوک و شبہات کا ازالہ:‎عقائد کا علم انسان کو دین کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات اور شبہات کا جواب دینے کے قابل بناتا ہے۔

(5) آخرت کی تیاری:‎یہ انسان کو آخرت کی کامیابی کے لیے تیار کرتا ہے اور نجات کا راستہ دکھاتا ہے۔

(6) دین پر استقامت:‎صحیح عقیدہ انسان کو دین پر مضبوطی سے قائم رکھتا ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔

‎‎مطالعۂ عقائد ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ ایمان کو مضبوط، زندگی کو درست اور آخرت کو کامیاب بناتا ہے۔مطالعۂ عقائد کی مزید وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے ایمان کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنا ہے۔

(1) عقیدہ کیا ہے؟‎عقیدہ ان بنیادی باتوں کو کہتے ہیں جن پر ایک مسلمان کا ایمان ہوتا ہے، جیسے:‎اللہ تعالیٰ کی وحدانیت (ایک ہونا)‎،‎فرشتوں پر ایمان،‎آسمانی کتابوں پر ایمان،‎‎انبیاء علیہم السلام پر ایمان،‎‎قیامت کے دن پر ایمان،‎‎تقدیر پر ایمان،‎‎‎یہی چیزیں دین کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

(2) مطالعۂ عقائد کیوں ضروری ہے؟‎‎ ایمان کو مضبوط بناتا ہے:جب انسان دلائل کے ساتھ اپنے عقائد کو سمجھتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط اور پختہ ہو جاتا ہے، وہ دوسروں کے اثر میں نہیں آتا۔

‎‎ گمراہی سے بچاؤ:‎دنیا میں بہت سے غلط نظریات اور فرقے موجود ہیں۔ صحیح عقائد کا علم انسان کو ان سے بچاتا ہے۔

‎ صحیح اور غلط میں فرق:‎مطالعۂ عقائد سے انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ کون سی بات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے اور کون سی نہیں۔

‎ دین پر اعتماد پیدا ہوتا ہے:‎جب عقائد کو سمجھ لیا جائے تو انسان کو اپنے دین پر مکمل یقین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

‎ دعوتِ دین میں مدد:‎جو شخص عقائد کو اچھی طرح سمجھتا ہے، وہ دوسروں کو بھی دین کی صحیح بات سمجھا سکتا ہے۔

(3) عملی زندگی میں اہمیت:‎مطالعۂ عقائد کا اثر صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ زندگی پر بھی پڑتا ہے:

‎‎انسان اللہ سے ڈرنے اور اس پر بھروسہ کرنے لگتا ہے،‎مشکل حالات میں صبر آتا ہے،‎‎نیکی کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے،‎برائی سے بچنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔

(4) آخرت کے لحاظ سے اہمیت:‎اسلام میں نجات کا دارومدار سب سے پہلے درست عقیدے پر ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو اعمال بھی قبول نہیں ہوتے۔

‎مطالعۂ عقائد انسان کو صحیح ایمان، مضبوط یقین، اور درست طرزِ زندگی عطا کرتا ہے۔ یہ دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا بنیادی ذریعہ ہے۔


عقائد کی ضرورت و اہمیت دین کی اولین ترجیح ہے، قرآن مجید اور احادیث میں اس کی اہمیت بہت زیادہ بیان ہوئی ہے، عقائد کو سیکھنا اور سمجھنا ہم سب پر فرض عین ہے  جب  ہمارے عقائد ہی درست نہیں ہوں گے تو ہماری عبادات بھی قبول نہیں ہوں گی۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے اعمال اسی وقت مقبول ہوتے ہیں جب انسان کے عقائد  درست ہوگے۔ اگر عقیدہ میں شرک یا بدعت شامل ہو جائے تو نیک اعمال بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔

اسلامی عقائد ونظریات:اسلامی عقائد خود ساختہ نہیں ہیں بلکہ قرآن و حدیث میں واضح کئے گئے ہیں جن پر ایمان لانا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ اسلام میں اللہ عز و جل ، انبیاء علیہم السلام ، آخرت، جنت و دوزخ وغیرہ کے بارے میں عقائد و نظریات بیان کر دیئے گئے ہیں جن پر مسلمان یقین رکھتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں۔

ایمان کی شاخیں : ایمان کی شاخوں سے مراد وہ عقائد ہوتے ہیں جن پر کامل اعتقاد، اسلام میں ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہوتا ہے، عام طورپر ان میں چھ اجزا کا ذکر زیادہ ہوتا ہے۔ اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، الہامی کتب پر ایمان ، رسولوں پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان، تقدیر پر ایمان۔مختصر چند عقائد پیش کئے جاتے ہیں:

اللہ عز و جل پر ایمان :اللہ عزوجل کے متعلق اسلامی تعلیمات یہ ہیں عقیدہ: اللہ عز و جل ایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، نہ ذات میں ، نہ صفات میں ، وہی اس کا مستحق ہے کہ اُس کی عبادت و پرستش کی جائے، اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ واجب الوجود ہے یعنی اس کا وجود ضروری اور عدم (نہ ہونا محال ہے ، وہ قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے ، ازلی کے بھی یہی معنی ہیں، وہ باقی ہے یعنی ہمیشہ رہے گا اور اس کو ابدی بھی کہتے ہیں ، وہ بے پر واہ ہے بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اُس کا محتاج ہے، جس طرح اس کی ذات قدیم ، ازلی ابدی ہے ، صفات بھی قدیم ، ازلی ابدی ہیں۔ اُس کی ذات وصفات کے سوا سب چیزیں حادث ہیں یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیں، وہ نہ کسی کا باپ ہے، نہ بیٹا اور نہ اُس کے لیے بیوی، جو اُسے باپ یا بیٹا بتائے یا اُس کے لیے بیوی ثابت کرے کا فر ہے ، وہی ہر شے کا خالق ہے ، ذوات ہوں خواہ افعال ، سب اُسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں، حقیقتاً روزی پہنچانے والا وہی ہے ، ملائکہ وغیرہ ہم سب وسیلہ ہیں، اللہ تعالی جسم، جہت ، مکان، شکل وصورت اور حرکت و سکون سب سے پاک ہے، وہ ہر کمال و خوبی کا جامع ہے اور ہر اس چیز سے جس میں عیب و نقصان ہے پاک ہے، مثلاً جھوٹ ، دغا، خیانت، ظلم ، جہل، بے حیائی وغیر ہا عیوب اُس پر قطعاً محال ہیں۔

انبیاء علیہم السلام پر ایمان:عقیدہ: اسلامی تعلیمات کے نزدیک نبی اُس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو۔

آسمانی کتابوں پر ایمان :عقیدہ: بہت سے نبیوں پر اللہ تعالی نے صحیفے اور آسمانی کتابیں اُتاریں، اُن میں سے چار کتابیں بہت مشہور ہیں:(1) تورات، حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ۔(2) زبور ، حضرت داؤد علیہ السلام پر۔

(3) انجیل، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر۔(4) قرآن عظیم کہ سب سے افضل کتاب ہے ، سب سے افضل رسول حضور پر نور احمد مجتبیٰ محمد مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر۔

فرشتوں پر ایمان :عقیدہ: فرشتے اجسام نوری ہیں، یہ نہ مرد ہیں، نہ عورت، اللہ تعالی نے اُن کو یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں، کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی دوسری شکل میں۔ وہی کرتے ہیں جو حکم الہی ہے، خدا کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے، نہ قصداً، نہ سہوا، نہ خطاً، وہ اللہ عزوجل کے معصوم بندے ہیں، ہر قسم کے صغائر و کبائر سے پاک ہیں۔

عالم برزخ اور موت کا بیان عقیدہ:دنیا اور آخرت کے درمیان ایک اور عالم ہے جس کو برزخ کہتے ہیں، مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے تمام انس و جن کو حسب مراتب اُس میں رہنا ہوتا ہے ، اور یہ عالم اس دنیا سے بہت بڑا ہے۔ دنیا کے ساتھ برزخ کو وہی نسبت ہے جو ماں کے پیٹ کے ساتھ دنیا کو ، برزخ میں کسی کو آرام ہے اور کسی کو تکلیف۔

حشر کا بیان:عقیدہ: قیامت بیشک قائم ہو گی ، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: " فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ "ترجمہ کنز العرفان: جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(پ26،محمد:19)

عقائد کی اہمیت:عقائد کی اہمیت یہ ہے کہ یہ انسان کو گمراہی سے،باطل نظریات سے،آج کے دور میں مختلف فتنوں اور غلط نظریات سے بچاتا ہے، ایسے میں اگر انسان کے عقائد مضبوط نہ ہوں تو وہ آسانی سے گمراہ ہو سکتا ہے۔

عقائد سیکھنے کے فوائد:(1)سب سے پہلے تو ہمارے دل میں اللہ پاک کی محبت پیدا ہوتی ہیں اور ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔(2)شرک و بدعت سے بچاتا ہے۔(3)ہمارے اعمال درست ہوتے ہیں۔(4)حق و باطل میں پہچان نصیب ہوتی ہے۔(5)آخرت میں کامیابی کا پختہ یقین ہوتا ہے۔

آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گا کہ آج کے اس فتنوں کے دور میں عقائد کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عقائد کے مطابق مستند کتب اور صحیح العقیدہ علماءِ کرام سے صحیح عقائد کا علم حاصل کریں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح عقائد کا علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔