عقائد (ایمانیات)
دینِ اسلام کی بنیاد اور اساس ہیں۔ جس طرح ایک عمارت مضبوط بنیادوں کے بغیر قائم
نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک مسلمان کا دین بھی درست اور مضبوط عقائد کے بغیر مکمل
نہیں ہوتا۔ عقائد سے مراد وہ بنیادی ایمانی تصورات ہیں جن پر ایمان قائم ہوتا ہے،
جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، فرشتوں، کتابوں ، رسولوں ،یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان
لانا۔ عقائد کی ضرورت اس لیے ہے کہ انسان فطری طور پر کسی نہ کسی نظریے اور یقین
کا محتاج ہوتا ہے اگر اسے صحیح عقیدہ نہ ملے تو وہ گمراہی اور باطل نظریات کا شکار
ہو جاتا ہے اسلام انسان کو خالص اور سچا عقیدہ دے کر اس کی فکری اور روحانی رہنمائی
کرتا ہے قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ ترجمہ کنزالایمان:رسول
ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا
اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں ۔(سورۃ البقرۃ: 285)
عقائد کی
اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تمام انبیاء کرام نے اپنی دعوت
کا آغاز عقیدۂ توحید سے کیا۔ قرآنِ مجید میں ہے ترجمہ کنزالایمان: ا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود
نہیں۔ (سورۃ الاعراف: 59)
درست
عقائد انسان کے اعمال کو بھی درست بناتے ہیں۔ جب انسان کا ایمان مضبوط ہو تو وہ ہر
عمل اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو نیک اعمال بھی ضائع ہو
سکتے ہیں قرآنِ مجید میں ارشاد ہے ترجمہ کنزالایمان:اور
جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت(ضائع) گیا ۔(سورۃ المائدۃ: 5)
عقائد
انسان کو قلبی سکون اور اطمینان بھی عطا کرتے ہیں جب بندہ اپنے رب پر کامل یقین
رکھتا ہے تو وہ ہر حال میں مطمئن رہتا ہے قرآن میں ہے ترجمہ کنزالایمان:سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے ۔(سورۃ
الرعد 28)
خلاصہ یہ ہے کہ عقائد دینِ اسلام کا
بنیادی ستون ہیں یہ انسان کے ایمان اعمال اخلاق اور مکمل زندگی کی اصلاح کرتے ہیں
درست عقائد کے بغیر نہ عبادات کی حقیقت باقی رہتی ہے اور نہ ہی انسان کو دنیا و
آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقائد کو
قرآن و سنت خصوصاً کنزالایمان کی روشنی میں سیکھے سمجھے اور ان پر مضبوطی سے قائم
رہے۔
Dawateislami