اسلام کے بنیادی عقائد (اولین فرائض ) یعنی توحید، رسالت، ملائکہ، آسمانی کتب، قیامت و حشرنشر وغیرہ پر ایمان لانے کے متعلق مکۂ معظمہ کے قیام کے زمانۂ نبوی میں اکثر آیات نازل ہوئیں۔ شرک و بت پرستی کی برائی و مذمت ، اللہ وحدہ لاشریک کی عظمت و جلالت کا اظہار ، قیامت کا ہولناک منظر ، جنت و دوزخ کا پُر اثر بیان۔ رسالت کے خواص اور اس کی ضرورت کے دلائل یہ تمام امور ان آیات میں بیان ہوئے ، عقائد کا مسلسل بیان سورۃالبقرۃ اور سورۃالنساء میں ہے اور یہ سورتیں مدینے میں نازل ہوئیں۔ مکی سورتوں میں زیادہ تر زور توحید ، قیامت کے دن اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت پر صرف ہوا ہے، لیکن مدینے میں اسلام کے تمام عقائد اور اصول اولین کی مجموعی تعلیم شروع ہوجاتی ہے۔

اسلامی عقائد کی حیرت انگیز اثر پذیری کا راز اسلامی عقائد کی بنیادی بات عقیدۂ توحید میں مضمر ہے۔ یعنی اس بات پر ایمان کہ کائنات کو پیدا کرنے والا زندگی کا سر چشمہ اور تمام قوتوں کا مالک اور حاکم اعلیٰ صرف ایک اللہ ہے۔ ایک مالک، صاحب اختیار اور خالق، اللہ پر ایمان لانے سے وحدتِ بنی آدم (ایک برادری) کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ یعنی یہ عقیدہ کہ جب زندگی کا سرچشمہ ایک ہے تو زندگی کے اظہار کی صورتوں کو بھی اپنی اصل اور بنیاد کے اعتبار سے برابر ہونا ضروری ہے، اسی سے مساوات انسانی اور احترام آدمیت کی بنیاد پڑتی ہے اور اسی پر دنیا کی امن و سلامتی کا دار و مدار ہے۔

قرآن کریم نے جو خالص توحیدِ الہٰی کا نظریہ پیش کیا ہے اور جس عجیب انداز سے اسے بیان اور فطری دلائل سے اسے ثابت کیا ہے ، دنیا کی الہامی کتب میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ چند آیات کا ترجمہ ملاحظہ ہو،توحید کا بیان سورۃ البقرۃ میں اس انداز سے ہوا کہ ترجمہ کنز الایمان: اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا ۔ (سورۃ البقرۃ:163)

سورۃ النساء میں اللہ کی یکتائی کو ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے کہ ترجمہ کنز الایمان: اللہ تو ایک ہی خدا ہے پاکی اُسے اس سے کہ اس کے کوئی بچہ ہو اُسی کا مال ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ کافی کارساز(کام بنانے والا) ہے ۔(سورۃالنساء 171)

ترجمہ کنز الایمان: انہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا اور مسیح ابن مریم کو اور انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسے پاکی ہے ان کے شرک سے۔ (سورۃ توبہ : 31)

سورۃابراہیم میں قرآن کو اللہ کی وحدانیت کی علامت طور پر پیش کیا گیاترجمہ کنز الایمان: یہ لوگوں کو حکم پہنچانا ہے اور اس لیے کہ وہ اس سے ڈرائے جائیں اور اس لیے کہ وہ جان لیں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور اس لیے کہ عقل والے نصیحت مانیں۔ (سورۃابراہیم :52)

اس طرح کی متعدد آیات میں عقیدۂ توحید کو دلائل کائنات کے ساتھ متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔ وحدانیت کی تلقین کے ساتھ شرک کا ابطال کیا گیا ہے۔توحید کے بعد دوسرا اہم ترین عقیدہ ’’رسالت ‘‘ ہے۔ انسانی رہنمائی و ہدایت کے لئے اور امت کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ یعنی یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخلوق کی ہدایت و رہنمائی کے لئے حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تک جتنے بھی نبی و رسول آئے، وہ سب سچے اور برحق تھے۔ ہمیں اللہ کے احکام ، اس کی مرضی اور اس کی پسندو نا پسند کا علم، حکم الہٰی کے ذریعے حاصل ہوا۔

رسولوں کی صداقت پر ایمان نہ ہو تو احکام الہٰی کی صداقت بھی مشکوک اور مشتبہ ہو جاتی ہے اور انسان کے سامنے نیکی اور معصومیت کا نمونہ اور کردار و عمل کا کوئی آئیڈل موجود نہیں رہتا جو انسانوں کے عمل کا محرک بن سکے۔ سلسلۂ رسالت کے آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ۔تمام نبی آسمانِ نبوت کے ستارے ہیں ۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی آیا، نہ آئے گا۔ کیونکہ آپ کو خاتم النبیین بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیماتِ قرآن اور آپ ﷺ کی زندگی کا نمونۂ عمل اسوۂ حسنہ ہمیشہ انسانیت کے لئے روشنی کے مینار ہیں، جن سے بنی نوع آدم سفرِ حیات میں رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔

عقیدۂ رسالت ہی کے ساتھ ملائکہ اور آسمانی کتابوں پر ایمان کا بھی تعلق ہے اور وہ توحید و رسالت پر ایمان لانےکا لازمی جز و ہیں، کیوں کہ اللہ کی ذات اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے انسانیت کو روشناس کرانے اور ان کی ہدایت و رہنمائی میں بنی نوع انسان کو چلانے اور قانون ہدایت کو پہنچانے اور اس کی حفاظت کے لئے جن ذرائع کی ضرورت تھی، وہ یہی ہیں، لہٰذا ان پر ایمان لانا لازمی ہے۔

فرشتوں پر ایمان کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے درمیان قاصد اور سفیر ہیں۔ مادیت و روحانیت کے درمیان واسطہ ہیں۔ آسمانی کتابوں پر ایمان کہ ہدایت ربانی جو ہمیں رسولوں کے ذریعے حاصل ہوئی ہے، اسے انسانوں تک، دور دراز کے ملکوں اور قوموں تک پہنچانے کے لئے وہ تحریروں کی شکل میں یعنی کتابوں میں یا لفظ و آواز سے مرتب ہو کر ہمارے سینوں میں محفوظ ہیں۔ ان پر ایمان کے بغیر ہمارے پاس ہدایت ربانی معلوم کرنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں رہ جاتا اور نیکی و بدی کا کوئی معیار باقی نہیں رہتا ،ان تمام آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں صرف قرآن حکیم ہی اب باقی رہ گیا ہے، کیوں کہ یہی اللہ آخری ابدی پیغام ہے۔ اس کی حفاظت کا انتظام بھی اللہ نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ ترجمہ کنز الایمان: بےشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔ (سورۃ الحجر:9)

آخرت پر ایمان کہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جو دائمی اور ابدی ہے۔ مرنے کے بعد ایک دن تمام انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور پھر ہر انسان سے اس کی دنیا کی زندگی کے تمام اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔ اچھے اور نیک اعمال پر اجر ملے گا اور برے اعمال پر سزا دی جائے گی۔ آخرت پر ایمان کہ انسان کو دنیا میں شُترِبے مہار نہیں بننے دیتا۔

اگر یہ نہ ہو تو انسانیت سراپا درندگی بن جائے ،یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو خلوت و جلوت میں اس کی ذمہ داری محسوس کراتا ہے۔ اسے خیر پر ابھارتا اور شر سے باز رکھتا ہے۔ اس طرح خیر و شر کی یہ بنیاد ہی احساس جواب دہی ہے۔ انسان اور جانور میں بنیادی فرق بھی یہی ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جواب دہ ہے اور جانور کسی کو بھی جواب دہ نہیں، جو انسان خود کو اللہ کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا ،درحقیقت وہ جانور ہے، بلکہ اس سے بھی بدتر۔ترجمہ کنز الایمان: وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر گمراہ ۔ (سورۃالاعراف 179)

اسلام کے نزدیک عقیدۂ آخرت اس قدر اہم ہے کہ قرآن حکیم نے بیشتر مقامات پر اس کا ذکر ایمان باللہ کے ساتھ کیا ہے۔ اسلام کے اخلاقی اور اجتماعی نظام کی پوری عمارت ہی اس سنگِ بنیاد پر کھڑی ہے ۔ احتساب اور جزاو سزا کے بغیر دنیا کا کوئی بھی کام ایسا نہیں جو دیانت داری سے کیا جاسکے ۔ سارے اخلاق کا انحصار چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ، جزا و سزا کے تصور پر ہے۔ اسلام اس کی اہمیت کو ایک لمحہ کے لئے بھی فراموش نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اس عقیدے کو مختلف انداز میں بار بار دھراتا ہے۔ کوئی شخص اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ،جب تک کہ اسے آخرت پر ایمان کا مل نہ ہو۔ دل میں شک و شبہ رکھ کر خواہ وہ خود کو کتنا ہی سچا مسلمان ثابت کرے، اس کا اسلام قبول نہیں، زندگی کے بعد موت پر بھی ایسا ہی یقین ہونا چاہیے، جیسا کہ موجودہ زندگی پر ہے۔

توحید و رسالت ، آسمانی کتابوں ، فرشتوں ، رسولوں اور قیامت پر ایمان لانے کے متعلق قرآن میں واضح ہدایت موجود ہیں ۔ترجمہ کنز الایمان: کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ۔(سورۃ البقرۃ:177)

ترجمہ کنز الایمان: رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ (سورۃالبقرۃ:285)

سورۃ نساء میں حکم دیا گیا :ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے اُن رسول پر اُتاری اور اُس کتاب پر جو پہلے اُتاری اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا ۔(سورۃ النساء: 136)

آج کی مادی اور سائنس ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود انسانیت حیوانی زندگی بسر کر رہی ہے اور پستی کے گڑھے میں گری ہوئی ہے تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ زندگی کا مقصد غلط سمجھ لیا گیا ہے۔ دین اور دنیا کے الگ الگ دائرے بنا کر زندگی کی وحدت اور ترقی کے توازن کو ختم کر دیا گیا ہے۔ سیرت النبی نظروں سے اوجھل ہوگئی ہے۔ دین و دنیا کی مکمل علمی، ذہنی، روحانی اور انتظامی خوبیوں اور حلال و حرام کی روزی کی صفات کا اثر اور خواہش نظر نہیں آتی ۔ اخلاقی و ذہنی لحاظ سے انسان ناقص اور اعمال کے اعتبار سے پستی کا شکار ہیں۔ صرف مادیت اور کھانے پینے لباس اور اشیائے تعیش کو مقصدِ حیات بنا لیا گیا ہے۔

ایسا نظریہ ونظام حیات صرف اسلامی الہامی وعقائد پر مبنی اسلامی نظام حیات ہے، جس سے اچھا اور ہمہ گیر اور کوئی نظریہ حیات نہیں ۔ کیونکہ ذوق سلیم نے اسے پسند کیا ہے اور فطرت کی سلامت روی اسی کا تقاضا کرتی ہے ۔ ’’جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور نظام حیات (دین) کو تلاش کرے گا، وہ اس سے ہر گز ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔اس دور کی بے یقین اور شک و شبہات کی فضا میں زندگی کی نئی دعوت اور دنیا پیغام وہی ہے جو اسلامی عقائد کی شکل میں ڈیڑھ ہزار سال قبل محسنِ انسانیت ﷺ کی وساطت سے انسانیت کو ملا تھا۔ یہ ایک بڑا طاقتور ، واضح اور روشن پیغام ہے جس سے زیادہ منصفانہ اور مبارک پیغام اس پورے عرصے میں دنیا نے کسی زبان سے نہیں سنا، یہ بعینہ وہی پیغام ہے جسے سن کر مسلمان مدینہ طیبہ سے نکلے اور تمام دنیا میں پھیل گئے اور دنیا پر حکمرانی کی۔