9 ربیع ُالآخر , 1442 ہجری

: : :
(PST)

صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم امتِ مسلمہ میں افضل اور برتر ہیں، اللہ پاک نے ان کو اپنے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت ، نصرت اور اِعانت کے لئے منتخب فرمایا، ان نفوسِ قدسیہ کی فضیلت ومدح میں قراٰنِ پاک میں جابجا آیاتِ مبارکہ وارد ہیں جن میں ان کے حسن ِعمل، حسن ِاخلاق اور حسن ِایمان کا تذکرہ ہے اور انہیں دنیا ہی میں مغفرت اور انعاماتِ اُخروی کا مُژدہ سنا دیا گیاہے۔ جن کے اوصافِ حمیدہ کی خود اللہ پاک تعریف فرمائے ان کی عظمت اور رفعت کا اندازہ کون لگا سکتاہے۔ ان پاک ہستیوں کے بارے میں قراٰنِ پاک کی کچھ آیات درج ذیل ہيں:

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ(۴)

تَرجَمۂ کنز الایمان: یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔([i])

رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)

تَرجَمۂ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔([ii])

پیارے اسلامی بھائیو!انبیائے کرام علیہم السَّلام کے بعد تمام انسانوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب سے زیادہ تعظیم و توقیر کے لائق ہیں یہ وہ مقدّس ومبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعوت پر لبیک کہا، دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے اور تَن مَن دَھن سے اسلام کے آفاقی اور ابدی پیغام کو دنیا کے ایک ایک گوشے میں پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہوگئے۔تاریخ گواہ ہے کہ ان مبارک ہستیوں نے قراٰن وحدیث کی تعلیمات کو عام کرنے اور پرچم اسلام کی سربلندی کے لئے ایسی بے مثال قربانیاں دی ہیں کہ آج کے دور میں جن کاتصوّر بھی مشکل ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے روئے زیبا کی زیارت وہ عظیم سعادت ہے کہ دنیا جہاں کی کوئی نعمت اس کے برابر نہیں ہو سکتی اور صحابۂ کرام تو وہ ہیں کہ شب وروز آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت اور آپ کی صحبتِ فیض سے مستفیض ہوتے رہے قراٰن ودین کو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مبارک زبان سے سنا ۔

آیاتِ قراٰنیہ کے علاوہ کتب ِاحادیث بھی فضائل ِصحابہ کے ذکر سے مالا مال ہیں چنانچہ، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے نیک ترین لوگ ہیں۔([iii]) ایک حدیثِ پاک میں ہے میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کروگے ہدایت پاجاؤ گے۔([iv])

ان سب آیات وروایات پر نظر کرتے ہوئے یہ جزم و یقین حاصل ہوتا ہے کہ ان حضرات کی شان بہت اعلیٰ وارفع ہے ،ان مقدّس ہستیوں پر اللہ پاک کا بے حد فضل وکرم ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہيے کہ ان پاکیزہ نفوس کی محبت دل میں بساتے ہوئے ان کے حالات وواقعات کاگہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں اور دونوں جہاں میں کامیابی کے ليے ان کے نقش ِقدمپر چلتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں۔

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں



([i])پ9،الانفال:4

([ii])پ11، التوبہ : 100

([iii])مشکوٰۃ المصابیح ،2/413،حدیث: 6012

([iv])مشکوٰۃ المصابیح،2/414،حدیث: 6018


صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان بہت بلند وبالا ہے کوئی بھی نماز و رزہ و دیگر نیک اعمال کے ذریعے ان کے مقام و مرتبہ کو ہر گز نہیں پاسکتا۔

حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:(اے لوگو!) تم نماز ، روزہ اور اجتہاد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان سے بڑھنا چاہتے ہو۔(یاد رکھو ! ایسا نہیں ہوسکتا ) وہ تم سے بہتر ہیں۔

لوگوں نے عرض کی، اے ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ارشاد فرمایا: وہ دنیا میں سب سے زیادہ زہد اختیار کرتے اورآخرت میں سب سےبڑھ کر رغبت رکھتے (اس لیے تمہارے اعمال اگر ان سے زیاد ہو بھی جائیں تب بھی اخروی ثواب میں کمی ہی رہے گی۔(بحوالہ مصنف ابن ابی شیبیہ، کتاب الزہد کلام ابن مسعود ج ۸،ص۱۴۲، الحدیث ۳۵)

قرآن پاک اور شان صحابہ :

صحابہ کرام کی فضیلت و مدح میں قرآن پاک میں جا بجا آیاتِ مبارکہ وارد ہوئی ہے، جن میں ان کے حسن و عمل ، حسن اخلاق اور حسن ایمان کا تذکرہ ہے اور انہیں دنیا ہی میں مغفرت اور انعامات اخروی کا مژدہ سنایا گیا ہے جن مقدس مہینوں کے اوصاف حمیدہ اللہ عزوجل خود بیان فرماتا ہے ان کی عظمت ورفعت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے چنانچہ فرمان خدائے ذوالجلال ہے:

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ(۷۴) تَرجَمۂ کنز الایمان:اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑے اور جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہی سچے ایمان والے ہیں ان کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی ۔(الانفال : 74)

ایک اور مقام پر فرمایا: رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ، تَرجَمۂ کنزا لایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبہ : 100)

احادیث مبارکہ اور فضائل صحابہ :

اللہ عزوجل کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر اپنے پیارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و شان بیان فرمائی، چنانچہ

۱۔ ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے معاملے میرا لحاظ کرنا کیونکہ وہ میری امت کے بہترین لوگ ہیں۔(حلیة الاولیا ۳۱۱/۱)

۲۔ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سےپوچھا، کون لوگ بہتر ہیں؟

ارشاد فرمایا، بہتر لوگ اس زمانے کے ہیں جس میں ، میں ہوں اس کے بعد دوسرے زمانے کے اور اس کے بعد تیسرے زمانے کے۔(مسلم کتاب فضائل الصحابہ ص ۱۳۷۱ حدیث ۲۵۳۳)

۳۔ ارشاد فرمایا ، اس مسلمان کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی جس نے میرے صحابی کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہو۔(ترمذی باب ماجا فی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ ۴۲۱، ۵)، حدیث ۳۸۸۴

سب صحابہ سے ہمیں تو پیار ہے

ان شآ اللہ دو جہاں میں اپنا بیڑا پار ہے

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابہ کرام  کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

جن خوش نصیبوں نے ایمان کے ساتھ سرکار عالی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت پائی چاہے یہ صحبت ایک لمحے کے لیے ہی ہو اور پھر ایمان پرخاتمہ ہوا انہیں صحابی کہا جاتا ہے۔

یوں تو تمام ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان عادل متقی ، پرہیزگار اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جان نچھاور کرنے والے اور رضائے الہی کی خوش خبری پانے کے ساتھ ساتھ بے شمار فضائل و کمالات رکھتے ہیں، لیکن ان مقدس حضرات کی طویل فہرست میں ایک تعداد ان صحابہ رضی اللہ عنہم کی ہے جو ایسے فضائل و کمالات رکھتے ہیں جن میں کوئی دوسرا شریک نہیں، اور ان میں سر فہرست وہ عظیم ہستی ہیں کہ جب حضرت سیدنا محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد ماجد حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد ( اس امت کے) لوگوں میں سب سے بہترین شخص کون ہیں؟تو حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (بخاری ، حدیث 3671، ج 2، ص 522)

یوں تو تمام ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان ہی ہدایت کے درخشندہ ستارے ہیں لیکن خلفائے راشدین اس معاملے میں تمام سے ممتاز و یگانہ ہیں ۔

چنانچہ حدیث پاک میں بھی انہیں خلفائے راشدین فرمایا گیا یعنی ہدایت یافتہ خلفا نیز ہمیں ان کی اتباع کی خصوصی تاکید کی گئی ، چنانچہ

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: علیکم بسنتی و سنۃالخلفا الرشدین ، یعنی میری اور خلفائے راشدین کی سنت کو اختیار کرو(مؤطا امام مالک ، تحت الحدیث۔ 709۔ 3/108)

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان عظمت نشان ہے: لا تسبواصحابی فلوان احد کم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصفیہ ۔ یعنی میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ سوناخیرات کرے تو میرے صحابہ میں سے کسی ایک کے نہ مد کو پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی مُد کے آدھے کو ۔(بخاری ، حدیث 3673۔ ج 2، ص 522)

شارح حدیث حضرت علامہ مظہر الدین حسین زیدانی قدس سرہ النورانی اسی حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں۔ صحابہ کی فضیلت محض رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت اور وحی کا زمانہ پانے کی وجہ سے تھی ، اگر ہم میں سے کوئی ہزار سال عمر پائے اور تمام عمر اللہ پاک کے عطا کردہ احکام کی بجا آوری کرے اور منع کردہ چیزوں سے بچے بلکہ اپنے وقت کا سب سے بڑا عابد بن جائے تب بھی اس کی عبادت رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کے ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہوسکتی۔

(المفاتح فی شرح المصبابیح ، تحت الحدیث،4699۔6/288)

شرف صحابیت کا لحاظ لازم ہے:

صحابیت کا عظیم اعزاز کسی بھی عباد ت و ریاضت سے حاصل نہیں ہوسکتا لہذا اگر ہمیں کسی مخصوص صحابی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں کوئی روایت نہ بھی ملے تب بھی بلا شک و شبہ وہ صحابی محترم و مکرم اور عظمت و فضیلت کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں کیونکہ کائنات میں مرتبہ نبوت کے بعد سب سے افضل و اعلیٰ مقام و مرتبہ صحابی ہونا ہے اور صحابہ کرام کی فضیلت کے لئے یہ ایک ہی آیت کافی ہے۔ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ- رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ، تَرجَمۂ کنز الایمان: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو(پیروی کرنے والے) ہوئے

اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبہ : 100)۔(پ ۱۱، التوبہ ۱۰۰)

علامہ ابو حیان محمد بن حیان اندلسی علیہ الرحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ- باحسان سے مراد تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں۔(تفسیر البحر المحیط ۹۶/۵ ، تمت الاول )

صحابی کا تذکرہ بھلائی سے کرو:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب میرے صحابہ کا تذکرہ ہو تو نہایت احتیاط سے بولو۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو فقہا صحابہ میں ایک ممتاز مقام ر کھتے ہیں، آپ ایک موقع پر صحابہ کرام علیہم الرضوان کی عظمت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرماتے۔ جو شخص راہِ راست پر چلنا چاہے تو اسے چاہیے کہ ان لوگوں کے راستے پر چلے اور ان کی اقتدا اور پیروی کرے جو اس جہاں سے گزر گئے کہ زندوں کے بارے میں یہ اندیشہ موجود ہے کہ وہ دین میں کسی فتنہ اور ابتلا میں مبتلا ہوجائیں اور یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابہ کر ام ہیں یہ حضرات امت میں سب سے زیادہ افضل ہیں ساری امت سب سے زیادہ ان کے دل نیکو کار، ان کا علم سب سے زیادہ گہرا، ان کے اعمال تکلف سے خالی ، یہ وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی رفاقت و صحبت اور اقامت و خدمت کے لیے چناتو ان کا فضل و کمال پہنچانو، اور ان کے آثار و طریقوں کی پیر وی کرو اور حتی الوسع ان کے اخلاق اور ان کی سیرت و رَوِش اختیار کرو کہ بے شک یہ لوگ ہدایت مستقیم پر قائم تھے۔

(مشکاة المصابیح ، کتاب الاعتصام ، الحدیث ۱۹۳۱۔۱/۵۷)

ان سب روایات پر نظر رکھتے ہوئے یہ جزم و یقین حاصل ہوتا ہے کہ ان حضرات کی شان بہت اعلٰی و ارفع ہے۔ ان مقدس ہستوں پر اللہ عزوجل کا بے حد فضل و کرم ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ان پاکیزہ نفوس کی محبت دل میں بسائے ہوئے ان کے حالات و واقعات کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کریں اور دونوں جہاں میں کامیابی کے لیے ان کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں

اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نقش وقدم پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم

صحابہ ہیں تاج رسالت کے لشکر

رسو ل خدا تاجدار صحابہ

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

شریعت میں صحابی وہ انسان ہے جو ایمان کی حالت میں حضور اکرم علیہ الصلوة والسلام کو دیکھے یا صحبت میں حاضر ہو اور ایمان پر اس کا خاتمہ ہوجائے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان ایسی ہے کہ کوئی بھی ولی محدث، مفسر، غوث، قطب، ابدال ان کی شان کو نہیں پاسکتا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سب سے افضل خلفائے راشدین ہیں ترتیب کے اعتبار سے پھر عشرہ مبشرہ ،پھر بدر والے، پھر بیعت رضوان والے، پھر اصحاب قبلتین افضل ہیں۔ بحوالہ (مشکوة المصابیح جلد۸،ص 291)

کوئی صحابی فاسق نہیں سب عادل ہیںـ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:تَرجَمۂ کنز الایمان: پرہیزگاری کا کلمہ اُن پر لازم فرمایا اور وہ اس کے زیادہ سزاوار اور اس کے اہل تھے۔(الفتح ۔26)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تَرجَمۂ کنز الایمان: اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی۔(بحوالہ ( سورہ الحجرات آیت۷)

حضور علیہ الصلو ة والسلام نے فرمایا، میرے صحابہ کو برا نہ کہو ، کیونکہ اگر تم میں کوئی احد(پہاڑ) بھر سونا خیرات کرے تو ان کے ایک مد کو پہنچے نہ آدھے کو۔(مسلم ، بخاری، شرح مشکوة المصابیح، جلد ۸،صفحہ ۲۹۱،حدیث ۵۷۴۷)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہو اکہ حضرات صحابہ کا ذکر ہمیشہ خیر سے ہی کرناچاہیے کسی صحابی کو ہلکے لفظ سے یاد نہ کروہ حضرات وہ ہیں جنہیں رب نے اپنے محبو ب کی محبت کے لیے چنا۔

مہربان باپ اپنے بیٹے کو بُروں کی صحبت میں نہیں رہنے دیتا تو مہربان رب نے اپنے نبی کو بُروں کی محبت میں رہنا کیسے پسند فرمایا؟

رسول اللہ طیب ان کے سب ساتھی بھی طاہر ہیں

چنیدہ بہر یاکاں حضرت فاروق اعظم ہیں۔( ایضاً)

حضور علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا۔ اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والوں کو دیکھا(ترمذی)

مفتی احمد یار خان اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : حضور کو دیکھنے والی آنکھ کی زیارت بھی بہشتی ہونے کا ذریعہ ہے، ایک شاعر نے کیا خوب شعر کہا۔

جن اکھیاں نے دلبرڈیٹھااوہ اکھیاں تک لئیاں

توں ملیوں تے ساجن ملیاں آساں لگ گئیاں

(شرح مشکوة المصابیح جلد۸،صفحہ ۲۸۶، حدیث ۵۷۵۲)

اے عاشقانِ صحابہ و اہل بیت ! دیکھا آپ نے کہ صحابہ کرام کی کیسی فضیلت اور شان ہے اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے بھی دلوں میں ان حضرات کی شان اجاگر ہو جائے تو آئیں آپ بھی دعوت اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول میں آئیے اور پائیے، علمائے ، صحابہ، انبیا کی محبت اپنے دلوں میں۔

اللہ ہمیں صحابہ کرام کا خوب خوب ادب و احترام کرنے کی توفیق دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ہر صحابی نبی ۔۔۔ جنتی جنتی

ہر زوجہ نبی ۔۔۔ جنتی جنتی

حسن اور حسین بھی۔۔۔جنتی جنتی

صدیق و عمر ۔۔۔۔۔جنتی جنتی

امیر معاویہ ۔۔۔۔۔۔۔ جنتی جنتی


صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

دنیا میں بہت سارے افراد گزرے ہیں جو صاحب کمال افراد کی صحبت ومعیت میں  رہے۔ ان میں سے بعض کے نام ونشان باقی رہے جبکہ دیگر کے نام و نشاں دنیا سے بالکل ہی ختم ہوگئے لیکن قربان جائیے سیدالمرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبتِ بابرکت پانے والوں کے،یہ وہ عظیم ہستیاں ہیں جن کے نام ونشان اور فضائل وکمالات رہتی دنیا تک قرآن وحدیث میں ان کی عظمت پر شاہد ہیں۔

قرآن کی رُو سے ہر صحابی جنتی ہے:

پارہ27سورۃ الحدید کی آیت نمبر10 میں فرمایا گیا:لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَؕ-اُولٰٓىٕكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠(۱۰)تَرجَمۂ کنز الایمان: تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتحِ مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا وہ مرتبہ میں اُن سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

مفسر قرآن مفتی احمد یار خان علیہ الرَّحمہ نورالعرفان میں لکھتے ہیں:ان(صحابہ کرام علیھم الرضوان) کے درجے اگرچہ مختلف ہیں مگر ان سب کاجنتی ہونا بالکل یقینی ہے کیونکہ رب وعدہ فرماچکا ہے۔تمام صحابہ عادل ومتقی ہیں کیونکہ سب سے رب کریم نے جنت کا وعدہ فرمالیا،جنت کا وعدہ فاسق سے نہیں ہوتا۔(نورالعرفان)

فضائل صحابہ بزبان محبوبِ خدا:

صحابہ کرام کی عظمت وشان کے بارے میں چند فرامین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ کیجیے:

(1)میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کردے تو وہ ان کے ایک مد(ایک پیمانہ) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس مد کے آدھے کو۔(بخاری،ج2؛حدیث3673)

(2)جب اللہ پاک کسی کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل میں میرے تمام صحابہ کی محبت پیدا فرمادیتا ہے۔(تاریخ اصبھان،ج1؛ص467،رقم 929)

(3)جو میرے صحابہ کر برا کہے اس پر اللہ کی لعنت اور جوان کی عزت کی حفاظت کرے، میں قیامت کے دن اس کی حفاظت کروں گا۔(ابن عساکر،ج44،ص22)یعنی اسے جہنم سے محفوظ رکھوں گا۔(السراج المنیر شرح جامع الصغیر،ج3،86)

(4)میرے تمام صحابہ میں خیر(یعنی بھلائی)ہے۔(ابن عساکر،ج29،184)

(5)میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میرے بعد ان کو طعن وتشنیع کا نشانہ نہ بنالینا۔ پس جس شخص نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے بغض کے سبب ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ایذا پہنچائی تو اس نے ضرور مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی تو ضرور اس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو جس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اس کی پکڑ فرمائے گا۔(ترمذی،ج5؛ص463،حدیث3888)

(6) جب تم لوگوں کو دیکھو کہ میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو کہو:اللہ پاک کی لعنت ہو تمہارے شر پر۔(ترمذی:حدیث3892) مفتی احمدیار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کے تحت فرماتے ہیں:یعنی صحابہ کرام تو خیر ہی خیر ہیں تم ان کو برا کہتے ہو تو وہ برائی خود تمہاری طرف ہی لوٹتی ہے اور اس کا وبال تم پر ہی پڑتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح؛ج8؛ص344)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابہ کرام  کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق فرمائی اور اس میں انسان کو پیدا فرمایا اور انسان کی تربیت کے لیے ہر دور میں اور ہر قوم پر رب العزت نے اپنے نبی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور ان تمام انبیا میں سب سے افضل ہمارے آقا دوجہان سرور ِ کون ومکان اور ان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں بھی ایک قوم کو کو تمام آنے والے لوگوں پر فضیلت دی کیونکہ ان لوگوں نے اپنی ایمانی آنکھوں سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت کی ان لوگوں کو صحابہ کہا جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے فضائل آسمان کے ستاروں اور زمین کے ذروں کی طرح بیشمار ہیں، صحابہ کرام کی افضیلت خود رب تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے۔ تَرجَمۂ کنز الایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔ ۱۱، سورة توبہ، آیت ۱۰۰)

تو جب اللہ پاک ان سے راضی ہےتو ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر خوشخبری کیا ہوگی کہ اس کا رب عزوجل اس سے راضی ہے اور جس سے رب راضی ہو اس کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا، رب کریم نے ایک اور جگہ پر انہیں صحابہ کے لیے ارشاد فرمایا: (پارہ ۵، آیت ۹۵) اللہ پاک نے جنت اور وہاں کی نعمتیں ان کے لیے نامزد کردیں۔

حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی افضلیت کو یوں بیان فرمایا :

۱۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس مسلمان کو آگ نہیں چھو سکتی کہ جس نے مجھے دیکھا۔(ترمذی شریف)

۲۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ ایسے ہیں جیسے کھانے میں نمک کہ کھانا نمک کے بغیر ٹھیک نہیں ہوتا، ( طبرانی)

تواب گویا کہ کسی کا ایمان بھی صحابہ کی محبت کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

اسی طرح ہم حنفیوں کے پیشوا حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی نظروں میں صحابہ کتنے افضل تھے کہ آپ فرماتے ہیں ہم اہلسنت تمام صحابہ سے محبت کرتے ہیں اور انہیں بھلائی ہی سے یاد کرتے ہیں۔(فقہ اکبر ص۸۵)

صحابہ کرام امتِ محمدیہ کی وہ جماعت ہے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنا دین اس زمین پر نافذ فرمایا اور صحابہ کرام امت کو گناہوں اور فتنوں سے بچاتے ہیں، جیسا کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابہ کو بچایا

خلافت ، امامت، ولایت، کرامت

ہر اک فضل پر اقتدارِ صحابہ

اللہ کریم ہمیں صحابہ کرام سے محبت عطا فرمائے اور ان کی سیرت کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابۂ  کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

صحابی اس خوش نصیب شخصیت کو کہتے ہیں جس نے حالت ایمان ̔ میں اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا یاصحبت پائی اور حالت ایمان ہی میں دنیا سے رخصت ہوئے ۔
حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان کے فضائل و مناقب ٫قرآن و حدیث میں بکثرت وارد ہوئے ہیں ۔چنانچہ قرآن کریم صحابہ کرام علیہم الرضوان کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ، تَرجَمۂ کنز الایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبہ : 100)

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ تَرجَمۂ کنز الایمان: اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرماچکا(الحدید: 10)

قرآن پاک کی طرح احادیث مبارکہ میں بھی ان ِ نفوس قدسیہ کے فضائل مذکور ہیں۔جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نےمجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا۔(ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل من رأی ّ النبی صلی اللہ علیہ وسلموصحبہ، ، ۴۶۱ / ۵الحدیث۳۸۸۴)

یعنی جس نے بحالت ایمان مجھے دیکھا اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہوا وہ دوزخ سے
محفوظ رہے گا لہذا جو لوگ حضور انور کے بعد مرتد ہوکر مرے وہ اس بشارت سے علیحدہ ہیں،یوں ہی جن لوگوں کو اخلاص سے صحابہ کرام کی صحبت نصیب ہوئی ان کی خدمات میسر ہوئیں وہ بھی دوزخ سے محفوظ ہیں۔(مراۃ المناجیح : 8)

صحابی ہونا ایک ایسی فضیلت ہے کہ روئے زمین کے تمام ولی غوث قطب مل کر بھی ایک صحابی کے مرتبے کو نہیں ُپہنچ سکتے کیونکہ ان حضرات نے اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پانے کا شرف حاصل کیا اور یہ ایک ایسی
جلیل القدر فضیلت ہے جو اب قیامت تک کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوسکتی۔

محترم قارئین! اہلسنت والجماعت کامتفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان عادل ہیں ان میں سے کوئی بھی فاسق نہیں۔لہذا ان حضرات پر کسی قسم کا طعن کرنا یا انہیں برے الفاظ سے یاد کرنا ً قطعا جائز نہیں ان سے بغض و عناد رکھنا اپنی ہی آخرت برباد کرنے کےمترادف ہے۔اللہ ٰ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان کی سچی محبت عطا فرمائے اور صحابہ کرام علیہم الرضوان پر طعن کرنے والوں کےسایہ سے بھی محفوظ فرمائے ،اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

جس مسلماں نے دیکھا انہیں ِاک نظر اس نظرکی َبصارت پہ لاکھوں سلام

(حدائق بخشش)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم امتِ مسلمہ میں افضل و برتر ہیں، ان نفوس قدسیہ کی فضیلت و مدح (تعریف) میں قرآن پاک میں جا بجا آیات مبارکہ وارد ہیں، جن میں ان کے حسن عمل ، حسن اخلاق اور حسنِ ایمان کا تذکرہ ہے، جن کے اوصاف حمیدہ کی خود اللہ عزوجل تعریف فرمائے، ان کی عظمت و رفعت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے ان پاک ہستیوں کے بارے میں قرآن پاک اور حدیث طیبہ میں وارد ہونے والے فضائل ملاحظہ ہوں۔

تَرجَمۂ کنز الایمان:یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔(الانفال :4)

تَرجَمۂ کنز الایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبہ : 100)

ان (یعنی صحابہ کرام) کا تھوڑا عمل عام مؤمنین کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے چنانچہ ، فرمانِ نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی خرچ کردے تو وہ ان کے ایک مد( ایک پیمانہ) کے برابر بھی نہیں، پہنچ سکتا، اور نہ اس مد کے آدھے کو۔(بخاری ۲ ص ۵۲۲)

ان عظمت و رفعت والی ہستیوں سے محبت کا ہونا بھلائی کی امید و دلیل ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔

جب اللہ پاک کسی کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل میں میرے تمام صحابہ کی محبت پیدا فرمادیتا ہے،(فیضان نماز ص 332)

ان سے محبت رکھنا، ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کرنا، جہنم سے رہائی کا پروانہ ہے، شفیع امت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو میرے صحابہ کو بُرا کہے اس پر اللہ کی لعنت اور جو ان کی عزت کی حفاظت کر ے میں قیامت کے دن اس کی حفاظت کروں گا۔(ابن عساکر ج 44، ص 222)یعنی اسے جہنم سے محفوظ رکھوں گا(السراج المنیر ج ۳ص ۸۶)

پیارے اسلامی بھائیوں! جہاں ان سے محبت رکھنے کے فضائل ہیں وہیں ان سے بغض و عداوت پر بھی وعیدیں ہیں ، چنانچہ دو احادیث طیبہ پڑھیں۔

۱۔ جب تم لوگوں کو دیکھو کہ میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو کہو، اللہ پاک کی لعنت ہو تمہارے سر پر۔

۲۔ جس نے انہیں ( یعنی صحابہ کرام کو) ایذا پہنچائی (یعنی برا بھلا کہا) تو اس نے ضرور مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی تو ضرو اس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو جس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو قریب ہے کہ اللہ پا ک اس کی پکڑ فرمائے گا۔(فیضانِ نماز 332)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

 صحابہ کرام کے فضائل حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ان کو دیکھو جو میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو کہو کہ تمہارے شر پر اللہ کی پھٹکار ( ترمذی) یعنی صحابہ کرام تو خیر ہی خیر ہیں تم ان کو برا کہتے ہو تو وہ برائی خود تمہاری طرف ہی لوٹ تی ہے اور اس کا وبال تم پر ہی پڑتا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی پر لعنت کرے مگر وہ لعنت کے لائق نہ ہو تو لعنت خود اس لعنت کرنے والے پر پڑتی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ یعنی میرے صحابہ سے بغض مجھ سے بغض ہے تو اس کے برعکس صحابہ سے محبت مجھ سے محبت ہے صحابہ کرام کی شان تو بہت اونچی ہے صحابہ کرام میں سے کسی کو ستانا درحقیقت مجھے ستانا ہے۔

امام مالک فرماتے ہیں کہ صحابہ کو برا کہنے والاقتل کا مستحق ہے کے اس کا یہ عمل عداوت رسول کی دلیل ہے(مرقات) اور عداوت رسول عداوت رب ہے ایسا مردود دوزخ ہی کا مستحق ہے ۔ (مخرج مراةالمناجیح جلد ہشتم)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابۂ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

اللہ تعالی نے تمام انبیا علیہم السلام کی قربت و محبت کے لیے امت کے بہترین افراد کا انتخاب کیا، تاکہ وہ افراد انبیائے کرام کی تعلیمات کے بعد میں آنے والے لوگوں تک پہنچائیں اور دین اسلام نے ہمیشہ رہنا ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسے اصحاب کو پسند فرمایا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس طریقے ے آگے پہنچائیں کہ وہ تعلیمات ہمیشہ باقی رہیں۔

صحابی کی تعریف:

صحابی وہ خوش نصیب مؤمن ہیں جنہوں نے ایمان اور ہوش کی حالت میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا انہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی پھر ان کا خاتمہ ایمان پر ہوا۔(امیر معاویہ ص ۱۹، مصنف مفتی احمد یار خان )

صحابہ کے فضائل :

قرآن و حدیث میں صحابہ کرام کے لیے بے شمار فضائل ہیں۔

۱۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ- تَرجَمۂ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی ۔( پ ۳۰، سورہ البینہ آیت۸)

یعنی اللہ تعالی اصحاب رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے راضی ہے اور صحابہ کرام بھی اللہ سے راضی ہیں۔

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا، میرا کوئی بھی صحابی جہاں بھی فوت ہوگا تو قیامت کے دن لوگوں کے لیے وہ (صحابہ) قائد اور نور بن کر اٹھے گا۔(جامع ترمذی، جلد ۶، ص ۱۸۰)

۳۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے حضور علیہ الصلوة والسلام نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تو جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے(مشکوة ۶۰۱۷/۲)

میٹھے اسلامی بھائیو تمام صحابہ کر ام اہل خیر و صلاح ہیں اور عادل ہیں، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر کے ساتھ ان کا ذکر کرنا ) فرض ہے۔(بہار شریعت ص ۲۵۲)

اور کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو، کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتا۔(بہار شریعت جلد۲۵۳)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: تابعین سے لے کر تا قیامت امت کا کوئی ولی کیسے ہی عظیم پایہ ( مرتبہ) کو پہنچے ہر گز ہرگز ان (یعنی صحابہ) میں سے ادنی سے ادنی کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا، اور ان میں کوئی ادنی نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، ج ۲۹،ص ۳۵۷)

اللہ ہمیں صحابہ و اہلبیت کا وفادار رکھے اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد صلی اللّٰه علیہ وسلم کو تمام رسولوں کا سردار اور دین اسلام کو کامل دین بنایا اور اس دین کے حاملین کو تمام لوگوں کے درمیان منتخب فرمایا، وہ تھے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کے صحابہ کرام۔ یہ وہ اصحاب تھے جو حضور صلی اللّٰه علیہ وسلم پر ایمان لائے اور انھوں نے آپ کی تصدیق کی جبکہ دوسرے لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے۔ صحابہ کرام نے ہر مشکل گھڑی میں نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ وہ امت مسلمہ کے افضل ترین افراد ہیں، ان کا مقام بلند اور مرتبہ نہایت عالی ہے۔ اللّٰه تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کے اوصاف بیان کئے ہیں اور ان کی تعریف فرمائی ہے۔

فضائل صحابہ اور قرآن مجید:

اے نبی (غیب کی خبر دینے والے!) آپ کے لیے اللّٰه کافی ہے اور آپ کے پیروکار مومن۔(کافی ہیں) (القرآن:64/8)

اور سبقت والے پہلے مہاجرین، انصار اور جنھوں نے اخلاص کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللّٰه تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللّٰه سے راضی، اور ان کے لیے باغات تیار کیئے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے، اور یہ عظیم کامیابی ہے۔(القرآن:89،88/9)

• وہ جنھوں نے اللّٰه اور رسول کے حکم کی تعمیل کی بعد اس کے کہ انہیں زخم لاحق ہو چکا تھا ان میں نیکوکاروں کے لئے عظیم اجر ہے۔ (القرآن:172/8)

•وہ لوگ جو ایمان لائے، ہجرت کی اور اللّٰه کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے پناہ دی اور امداد کی، وہی سچے ایمان والے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور عزت والا رزق ہے ۔ (القرآن:74/8)

رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے عزت و شرافت کا اظہار کرنے کے لیے ان کی محبت و تعظیم پر ابھارا جیسے کہ احادیث مبارکہ میں واقع ہے۔

فضائل صحابہ اور احادیث مبارکہ:

• نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:”، اللّٰه تعالیٰ سے محبت رکھو، کیونکہ وہ تمہیں بطور غذا نعمتیں عطا فرماتا ہے، اور اللّٰه تعالی کی محبت کی بنا پر مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی بنا پر اہل بیت سے محبت رکھو۔) ابن ماجہ:13/2(

• نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی اولاد کو تین خصلتوں کی تعلیم دو۔ (1) اپنے نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم کی محبت (2) نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم کے اہل بیت کی محبت (3) قرآن مجید کی تلاوت“۔ )الترمذی:219/2)

• نبی اکرم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے درمیان ہمارے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پا گیا اور جو سوار نہیں ہوا غرق ہو گیا۔)الطبرانی فی الکبیر:66/3 2679)

رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:”ہمارے صحابہ کرام کی عزت کرو کہ وہ تمہارے بہترین افراد ہیں، پھر وہ جو ان کے ساتھ متصل ہوں گے، پھر وہ جو ان کے ساتھ متصل ہوں گے۔) المنصف:341/11(20710)

اللّٰه تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرام رضی اللّٰه عنھم کی محبت عطا فرمائے اور ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی توفیق دے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
84 days ago

واقعی صحابہ کرام علیہم الرضوان  بے مثال و بے کمال ہیں کہ کوئی بھی اُنکے مقام و مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔

     (1) یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کے اوصافِ حمیدہ خود اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن پاک میں بیان فرمائے : چنانچہ اللہ تبارک و تعالی پارہ ١١ سورہ توبہ کی آیت نمبر ١٠٠ میں ارشاد فرماتا ہے: تَرجَمۂ کنز الایمان: اللہ اُن سے اور وہ اللہ سے راضی اور اُن کے لیے تیار رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ اُن میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

(2) یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کو نبی کریم صلی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دیدار کرنے کا شرف عطا فرمایا۔

             حضرت علّامہ مظہر الدین حسین زیدانی قُدِسَّ سِرَّهُ النُّورانی فرماتے ہیں: صحابہ کی فضیلت محض " رسول اللّٰه صلی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی صحبت (زیارت) کی وجہ سے تھی. ( المفاتيح فی شرح المصابیح، جلد: ٦، صفحہ نمبر: ٢٨٦، تحت الحديث: ٤٦٩٩ ماخوذ از ماہنامہ فیضان مدینہ شوال المکرم ١٤٣٩ سن ہجری)

(3) یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کا جنتی ہونا قرآن پاک سے ثابت ہے. ( پارہ ٢٧، سورہ حدید،  آیت نمبر: ١٩).

      (4) یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جو اُمت میں سب سے افضل و اعلیٰ ہیں جن کے مقام و مرتبہ کو آقاءِ کریم صلی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے یوں واضح کیا: " میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی اُحُد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے تو وہ اُن کی ایک مُد ( ایک پیمانہ) کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا اور نہ اُس مُد کے آدھے کو" ( بخاری، جلد: ٢، صفحہ نمبر: ٥٢٢، حدیث نمبر: ٣٦٧٣، مطبوعہ: دار الکُتُب العلمیہ بیروت ماخوذ از فیضان نماز، صفحہ نمبر: ٣٣٢، مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ.           

(5) یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں جن کے ایمان کو اللّٰه عزوجل نے معیار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ترجمہ کنزالایمان:"  پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پا گئے". ( پارہ: ١، سورہ بقرہ، آیت نمبر: ١٣٧)

   حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللّٰه تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام علیہم الرضوان ایمان کی کسوٹی (معیار) ہیں. ( امیر معاویہ رضی اللّٰه تعالٰی عنہ، صفحہ: ٢٩،مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور ماخوذ از فیضان نماز، صفحہ نمبر : ٣٣١، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

(6) یہ وہ مبارک ہستیاں ہیں کہ احادیث طیبہ میں ان کی شانیں بیان کی گئیں، چنانچہ نبی کریم صلی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نےارشاد فرمایا: " میرے تمام صحابہ میں خیر (یعنی بھلائی) ہے. (ابن عساكر، جلد: ٢٩، صفحہ نمبر:١٨٤ ماخوذ از فیضان نماز، صفحہ نمبر: ٣٣٢)

اللّٰه عزوجل ہمیں صحابہ کرام رضی اللّٰه تعالٰی عنہم کے فضائل و برکات سے مالا مال فرمائے. آمین بجاہ النبی الآمین صلی اللّٰه تعالٰی علیہ وآلہ وسلم.

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں