صحابہ کرام کے فضائل

Wed, 2 Sep , 2020
1 year ago

سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے تمام صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم امتِ مسلمہ میں افضل و برتر ہیں، ان نفوس قدسیہ کی فضیلت و مدح (تعریف) میں قرآن پاک میں جا بجا آیات مبارکہ وارد ہیں، جن میں ان کے حسن عمل ، حسن اخلاق اور حسنِ ایمان کا تذکرہ ہے، جن کے اوصاف حمیدہ کی خود اللہ عزوجل تعریف فرمائے، ان کی عظمت و رفعت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے ان پاک ہستیوں کے بارے میں قرآن پاک اور حدیث طیبہ میں وارد ہونے والے فضائل ملاحظہ ہوں۔

تَرجَمۂ کنز الایمان:یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور بخشش ہے اور عزت کی روزی۔(الانفال :4)

تَرجَمۂ کنز الایمان:اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(التوبہ : 100)

ان (یعنی صحابہ کرام) کا تھوڑا عمل عام مؤمنین کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے چنانچہ ، فرمانِ نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، میرے اصحاب کو بُرا بھلا نہ کہو، اس لیے کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی خرچ کردے تو وہ ان کے ایک مد( ایک پیمانہ) کے برابر بھی نہیں، پہنچ سکتا، اور نہ اس مد کے آدھے کو۔(بخاری ۲ ص ۵۲۲)

ان عظمت و رفعت والی ہستیوں سے محبت کا ہونا بھلائی کی امید و دلیل ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔

جب اللہ پاک کسی کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل میں میرے تمام صحابہ کی محبت پیدا فرمادیتا ہے،(فیضان نماز ص 332)

ان سے محبت رکھنا، ان کی عزت و حرمت کی حفاظت کرنا، جہنم سے رہائی کا پروانہ ہے، شفیع امت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو میرے صحابہ کو بُرا کہے اس پر اللہ کی لعنت اور جو ان کی عزت کی حفاظت کر ے میں قیامت کے دن اس کی حفاظت کروں گا۔(ابن عساکر ج 44، ص 222)یعنی اسے جہنم سے محفوظ رکھوں گا(السراج المنیر ج ۳ص ۸۶)

پیارے اسلامی بھائیوں! جہاں ان سے محبت رکھنے کے فضائل ہیں وہیں ان سے بغض و عداوت پر بھی وعیدیں ہیں ، چنانچہ دو احادیث طیبہ پڑھیں۔

۱۔ جب تم لوگوں کو دیکھو کہ میرے صحابہ کو برا کہتے ہیں تو کہو، اللہ پاک کی لعنت ہو تمہارے سر پر۔

۲۔ جس نے انہیں ( یعنی صحابہ کرام کو) ایذا پہنچائی (یعنی برا بھلا کہا) تو اس نے ضرور مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی تو ضرو اس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو جس نے اللہ پاک کو ایذا پہنچائی تو قریب ہے کہ اللہ پا ک اس کی پکڑ فرمائے گا۔(فیضانِ نماز 332)

نوٹ: یہ مضامین نئے لکھاریوں کے ہیں۔حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہےادارہ اس کا ذمہ دار نہیں