دعوتِ اسلامی کےزیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 3 اکتوبر 2026ء بمطابق 21 ربیع الآخر 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے عاشقانِ رسول نے کثیر تعداد میں  براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد مدحِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں نعتِ شریف کا نذرانہ پیش کیا گیا۔ مدنی مذاکرے کے دوران مختلف سوال و جواب ہوئے جس میں شرکا نے روزمرہ کے شرعی مسائل، اخلاقیات اور تنظیمی امو ر سے متعلق سوالات پیش کیے۔

اس موقع پر شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کے سوالات کے جامع اور حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:کسی کا بھلانہ ہوسکے تو بُراکرنے کی کوشش نہ کرو دُنیاکمزورہے لیکن دنیا بنانے والا کمزورنہیں ؟

جواب: یہ نیکی کی دعوت اوربُرائی سےبچانے والی پوسٹ ہے یعنی کسی کو نفع نہیں دے سکتے تو نقصان بھی نہ پہنچاؤ،کسی کا دل خوش نہیں کرسکتے تو کسی کا دل نہ دکھاؤ،کسی سے بُرائی نہیں کرنی چاہئے ،دوسروں کواپنے شرسےبچاناجہنم سے بچنے اورجنت میں لےجانے والاکام ہے،اسے صدقہ بھی کہاگیا ہے ۔بندہ کمزورہے مگراللہ پاک تمام مخلوق سے بڑھ کر طاقتورہے۔

سوال: حقوق العبادکا معاملہ کیساہے ؟

جواب:حقوق العبادیعنی لوگوں کے حقوق کا معاملہ بہت سخت ہے ۔

سوال:استادصاحبان طلبہ(Students) کی کس طرح حوصلہ افزائی کریں ؟

جواب:محتاط الفاظ میں حوصلہ افز ائی کریں ،جھوٹ نہیں ہوناچاہئے ۔

سوال:لوگ طرح طرح کےسوالات کرتے ہیں،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:اس طرح کے سوالات نہیں کرنے چاہئیں جس سے سامنے والاجھوٹ میں پڑجائے ،بہتریہ ہے کہ ایسے سوالات ہی نہ کئے جائیں ۔

سوال: دعوتِ اسلامی کے دِینی ماحول سے منسلک ہونے کا کیافائدہ ہوتاہے؟

جواب:دعوتِ اسلامی میں آجائیں ،دِینی کام کریں ،پانچوں نمازوں کے عادی ہوجائیں گے ،سُنّتوں پر عمل کرنے کا جذبہ ملے گا، دِین کے بنیادی علم سے آگاہی ہوگی ۔قرآنِ کریم پڑھنا نہیں آتاہوگا تو درست قرآن پڑھناآجائے گا ۔

سوال: بہت بڑے محدث جن کےالقابات خاتم المُحَققین، محقق الاطلاق ہیں، جن کا آج (21ربیع الآخر) یومِ عرس ہے اور امیراہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے ان کے لیے ایصالِ ثواب بھی کیا ،ان کا نام کیا ہے ؟

جواب:شیخ عبدالحق محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ۔

سوال:امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے تقویٰ کا کیا عالَم تھا ؟

جواب: آپ نے تقویٰ (خوفِ خدا) کی وجہ سے جُھوٹی قسم تو دُورکی بات کبھی سچی قسم بھی نہیں کھائی۔

سوال:حافظے کی کمزوری کی وجوہات کیا ہیں ؟

جواب:گناہ کرنے ،کھٹی چیزیں کھانے ،بدنگاہی کرنے ،عصرکے بعد سونے وغیرہ سے حافظہ کمزورہوتاہے ،مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”حافظہ کیسے مضبوط ہو؟“کا مطالعہ کریں ۔

سوال: سبق یادہونے کے لیے کیا کرنا چاہئے ؟

جواب:سبق باربارپڑھنےاورپھر اس کا تکرارکرنے سے وہ یاد ہو جاتاہے ۔

سوال:مقدس چیزوں کا ادب کیسے کریں ؟

جواب: اللہ کرے ہم باادب ہوجائیں ،جتنا ہوسکے مقدس چیزوں کا ادب کریں ،بیت اللہ شریف کی طرف پاؤں نہ کریں، قرآن پاک کو پیٹھ نہ ہو۔جب پڑھنے بیٹھیں یاسبق یاد کرنے لگیں تو کعبہ شریف کی طرف منہ کرلیں ۔جہاں ہوسکےجب بیٹھیں تو کعبہ شریف کی طرف منہ کرلیں ،یہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت بھی ہے ۔

سوال: اس ہفتے کے رسالے ’’پیدل چلنے کے فوائد‘‘پڑھنے والے کو امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیادعادی ؟

جواب:یا اللہ پاک! جو کوئی 28 صفحات کا رسالہ”پیدل چلنے کے فوائد“ پڑھ یا سُن لے اُس کو عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت سے صحت اچھی رکھنے والے کاموں کی توفیق دے اور ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 26 ستمبر 2026ء (بمطابق 14 ربیع الآخر 1448ھ) کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے عاشقانِ رسول کی ایک کثیر تعداد براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شریک ہوئی۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا جس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں عقیدت و احترام کے ساتھ نعت شریف پیش کی گئی۔ مذاکرے کے دوران سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں مختلف دینی، فکری، اخلاقی اور تنظیمی مسائل پر گفتگو کی گئی۔

شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے شرکا کی جانب سے کیے گئے سوالات کے انتہائی فہم و فراست، علم و حکمت اور شرعی دلائل کے ساتھ جوابات ارشاد فرمائے ۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: کیا خواب کی تعبیر بتانا بھی کوئی فن ہے ؟

جواب: جی ہاں! اور یہ فن سیکھنے سے آتا ہے ،ہر”مدنی“ (دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ سے درسِ نظامی کرنے والوں کو مدنی کہا جاتاہے) بھی اسے نہیں جانتا۔ تعبیر وہ بتائے جو عالم ہو، قرآن و حدیث پر اس کی نظر ہو، چلتے پھرتے کسی سے پوچھا بھی نہ جائے۔مَیں نے یہ فن نہیں سیکھا ،اس لیے میں خواب کی تعبیر نہیں بتاتا۔

سوال:ا یک پوسٹ میں لکھا تھا:”اچھے لوگوں کی سنگت میں رہا کرو کیونکہ سُنار(یعنی سونے Gold کا کام کرنے والے) کا کچرا بھی بادام سے مہنگا ہوتا ہے“۔

جواب: اچھی مثال دی ہے ۔سُنار کے کچرے میں سونے(Gold) کے ذرات ہوتے ہیں ،اس لیے وہ بادام سے مہنگا ہوتا ہے ۔حدیث پاک میں اچھی صحبت کی مثال عطر والے کی دی ہے کہ عطر والے کے پاس جاؤ گے تو وہ یا تو تمہیں عطر دے گا یا اس کی خوشبو تمہیں پہنچے گی۔اچھے بندے کی صحبت بہت بڑی نعمت ہے ۔حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحْمَۃ یعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء، رقم10750، ج7 /335) امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ نیک بندے کے ذکر سے رحمت اُترتی ہے تو اس نیک بندے پر کتنی رحمت اُترتی ہو گی اور جو اس کی صحبت میں رہے گا اس پر کتنی رحمت اُترے گی ۔صحبت اچھی ہونی چاہئے ،صحبتِ صالح تُرا صالح کُنَدْ یعنی نیکوں کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی ،صحبت ِطالح تُرا طالع کُنَدْ یعنی بُرے کی صحبت تجھے بُرا بنا دے گی ۔

سوال: کس کی صحبت اختیار کی جائے، کیا اس کا کوئی معیار (Standard) بھی ہے ؟

جواب: اس دور میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا معیار بنا لیں ،ان کا ذکر سُن کر جس کا چہرہ کِھل اُٹھے اس کی صحبت اختیار کرو اور جس کا چہرہ مُرجھا جائے اس سے دُور بھاگو۔

سوال: غربت سے نجات کا روحانی علاج کیا ہے ؟

غُربت سے نجات کا روحانی علاج

يَا مَلِكُ 90 بار روزانہ جو پڑھ لیا کرے وہ اِنْ شَاءَ اللہِ الکریم غُربت و تنگدستی سے نجات پائے۔

یقیناً اللہ پاک چاہے تو ہی فائدہ ہو۔

مشورہ کسی قاری صاحب کو سنا دیجئے۔

تاکید نمازوں کی پابندی کیجئے اور لوگوں کی ناحق دل آزاری سے بچئے۔

فائدے کی بات روزانہ صبح صدقہ نکال دیجئے چاہے ایک روپیہ ہی ہو۔

سوال: لوگوں میں محبت و خیر خواہی کم اور حسد و دشمنی زیادہ کیوں نظر آتی ہے ،دل کو صاف اور خوف والی زندگی کے لیے کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: علمِ دین کی کمی اور اچھی صحبت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں محبت و خیر خواہی کم اور حسد و دشمنی زیادہ ہے ۔علمِ دین حاصل نہ کرنے کی وجہ سے غیبت اور چغلی کے بارے میں معلومات نہیں ۔جھوٹ اتنا بولا جا رہا ہے کہ سمجھ نہیں پڑتی ہے کہ یہ جھوٹ ہے یا نہیں ۔علمِ دین اور اچھی صحبت ہو گی تو نیکی اور گنا ہ کی پہچا ن ہو گی، گناہوں میں کمی آئے گی اور خوفِ خدا پیدا ہو گا۔ اس کے لیے دینی کتابیں پڑھیں۔سوشل میڈیا پر اُلٹے سیدھے کلپ دیکھنا گویا کیچڑ میں لَوٹ پَوٹ ہونا ہے ۔پھر کہنا کہ کپڑے کیوں صاف نہیں رہتے ۔کپڑے صاف رکھنا چاہتے ہیں تو کیچڑ سے جان چھڑانا ہو گی۔گھر میں درس دیں ، صرف مدنی چینل دیکھیں۔

سوال: جس کو ہر ایک پر تنقید کرنے کی عادت ہو تو اس کی اصلاح کیسے ہو؟

جواب: اسے قفلِ مدینہ لگانا (یعنی اپنی زبان کی حفاظت کرتے ہوئے حتی الامکان فضول گفتگو سے بچنا) چاہئے اور حُسنِ ظن کے جام پینا(یعنی کسی کے بارے میں ہمیشہ اچھا سوچنا،اچھا خیال رکھنا) سیکھنا چاہئے ،حدیثِ پاک ہے کہ اچھا خیال اور گمان کسی کے لیے قائم کرنا اچھی عبادت سے ہے ۔وہ شخص یہ عبادت اپنا لے ۔ہر ایک کو اپنے سے بہتر سمجھے ،بڑی عمر والا ہے تو اسے بہتر سمجھے کہ اسے عبادت کا زیادہ موقع ملا ہے ،چھوٹا ہے تواسے بہتر سمجھے کہ اس کے گناہ مجھ سے کم ہوں گے۔ سنجیدگی سے حُسنِ ظن(یعنی ہمیشہ اچھا گُمان رکھنے ) کی عادت بنائیں گے توتنقید کی عادت بدل جائے گی ۔کوشش کریں گے تو کامیابی ہو گی ۔ تنقید کرنے والے کی مثال مکھی کی طرح ہے جو پورے درست بدن کو چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھتی ہے ۔

سوال: علمِ دین حاصل کرنا کتنا اہم ہے ؟

جواب:علمِ دین حاصل کرنا ،علمِ دین کی باتیں سننا عبادت ہے ۔یہ ذکرو اذکار سے بڑی عبادت ہے۔اس سے ہماری دِینی معلومات ،اپنی اصلاح ،ایمان کی حفاظت کی صورتیں بنتی ہیں ،نفل روزے رکھنے سے علمِ دین حاصل کرنے میں رکاوٹ ہو تو نفل روزے نہ رکھے جائیں ۔نوافل کی مصروفیت اچھی چیز ہے مگر علمِ دین حاصل کرنے کی مصروفیت اس سے افضل ہے ۔دینی کتاب پڑھ کر بھی علمِ دین حاصل ہوتا ہے ۔نیکی کی دعوت پر مشتمل دعوتِ اسلامی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے جاری ہونے والے مختلف کلپس سننے سے بھی علمِ دین حاصل ہو گا۔

سوال: دُرودِ پاک کس نیت سے پڑھنا چاہئے کہ ثواب زیادہ ملے ؟

جواب: سرکار صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی تعظیم کی نیت سے دُرود شریف پڑھیں ۔حقیقت میں یہ دعا ہے اور سب سے افضل دعا ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر دُرود پڑھنا،نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا اُمّت پر حق ہے ۔

سوال: مسکین کو اپنے ہاتھ سے صدقہ دینے کا کیا فائدہ ہے؟

جواب: مسکین کو اپنے ہاتھ سے صدقہ دینا بُری موت سے بچاتا ہے ،اس لیے اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ خیرات کرنی چاہئے ۔

سوال: صَحَاحِ سِتَّہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب: صَحَاحِ سِتَّہ حدیث پاک کی 6 مشہور کتابوں کو کہتے ہیں (بخاری، مسلم ،ترمذی ، ابنِ ماجہ ،ابو داؤد اور نِسائی) ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” گیارہویں شریف کی برکتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 28 صفحات کا رسالہ”گیارہویں شریف کی برکتیں“پڑھ یا سُن لے ،اُسے ہر ماہ گیارہویں شریف منانے کی سعادت عنایت فرما ، اس کو قیامت میں غوث پاک کے غلاموں میں اُٹھا اور ماں باپ سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


19 ستمبر 2026ء بمطابق 07 ربیع الآخر 1448ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں نعت شریف پیش کر کے کیا گیا جس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا نیز شرکا نے مختلف دینی، شرعی اور تنظیمی موضوعات پر سوالات پیش کیے۔

مدنی مذاکرے کے دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے شرکا کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی تربیت کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے بھی نوازا۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: حضور غوث ِاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بہت زیادہ اللہ پاک کا ذِکر کرنے والے،راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والے اور اچھی صفات اور عادات والے تھے ،ہم ان صفات و عادات کو کیسے اپنا سکتے ہیں ؟

جواب: دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہیں گے، مکتبۃ المدینہ سے نیک اعمال کا رسالہ لے کراس کے مطابق زندگی گزاریں گے، روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لے کر اپنے ہاں کے نیک اعمال ذمہ دار کو ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو نیک اعمال کا رسالہ جمع کرواتے رہیں گے تو اچھی اچھی عادات اور نیکیوں کا جذبہ اپنے اندر پائیں گے ۔ ان شاء اللہ الکریم

سوال: فیضان آن لائن اکیڈمی میں بذریعہ انٹرنیٹ پڑھنے والے اپنے استاد (Teacher) سے دُور ہوتے ہیں، وہ اپنے استاد کا ادب کس طرح کر سکتے ہیں؟

جواب: اُستادصاحب جو اچھی اچھی باتیں بتائیں ،ان پر عمل کریں،اُن کی غیر موجودگی میں بھی مذاق نہ اُڑائیں اور نہ ہی کسی طرح کی بے ادبی کریں ۔کسی سے استادصاحب کی بُرائی نہ کریں ، اگر استاد صاحب کی کوئی بات پسند نہ آئے تو کسی سے بھی اس کا تذکرہ نہ کریں،بہت ساری باتیں وقت کے ساتھ سمجھ میں آتی ہیں ، ادب کے ساتھ استاد کے سامنے صرف ہاتھ باندھنا ہی ادب نہیں اور بھی صورتیں ہیں،جتنا ادب کریں گے اُتنا زیادہ فائدہ ہو گیا ۔با ادب بانصیب ۔

سوال: دعوتِ اسلامی کا معنی ٰ کیا ہے ؟

جواب: دعوت معنی بُلانا ،دعوتِ اسلامی کا معنی ہے اسلام کی طرف بُلانا،اسلام کے اصولوں کی طرف، عبادات اور اسلامی آداب کی طرف بلانا، دعوت دینا سب اس میں شامل ہے ۔ عملی طور پر دعوتِ اسلامی کے معنی سمجھ آ بھی رہے ہیں ،ہزاروں غیر مسلم دعوتِ اسلامی کی برکت سے مسلمان ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے نمازی، نمازی بن گئے ہیں ،بے شمار بھٹکے ہوئے راہِ راست پر آگئے ہیں،گناہوں سے توبہ کرکےنیکیوں کے راستے پرچل پڑے ہیں ۔یوں دعوتِ اسلامی اِسْمِ بَامُسَمٰی ہے(یعنی جیسااس دِینی تنظیم کا نام ہے،دعوتِ اسلامی والے اِسی طرح دینی کام کر بھی رہے ہیں) مدنی چینل پر بھی اورآپ کے اپنے علاقوں میں بھی نظر آ جاتا ہو گا کہ ماشاءاللہ الکریم دعوتِ اسلامی والے اسلام پر عمل کر رہے ہوتے ہیں ۔

سوال: خوداعتمادی(Self-confidence) اور تکبر کے درمیان کیافرق ہے؟ تربیت کے دوران بچوں کو تکبر سے بچاتے ہوئے خود اعتمادی اپنانا کیسے سکھایا جائے؟

جواب: خود اعتمادی (Self-confidence) کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ پر اتنا اعتماد ہونا کہ مَیں یہ کام کر سکتا ہوں،جوکر نے والا کام ہو وہ کر سکتا ہو تو ڈرے نہیں ۔یہ سمجھنا کہ مَیں یہ کام کر ہی نہیں سکتا، والدین یا دیگر لوگوں کا کہنا کہ تم یہ کام کر ہی نہیں سکتے، بعض استاد بھی نادانی میں کہتے ہوں گے جس سے بچہ احساس ِکمتری(Inferiority Complex) کا شکار ہو جاتا ہو گا کہ مَیں تو نہیں کر سکتا۔ اللہ پاک کے بھروسے پر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کی جائے، جو کرنے والے کام ہیں ،جو وہ کر سکتا ہے ،اس سے پیچھے نہ ہٹے اور بھر پور کوشش کرے اور بھرو سہ اللہ پاک پر اور اس کی مدد پر رکھے ۔تکبر تو باطنی امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے اور عام ہے۔ تکبر کا معنیٰ ہے کسی کو اپنے آپ سے گھٹیا(کمتر)سمجھنا۔خود اعتمادی اور تکبر دونوں الگ چیزیں ہیں ۔

سوال:ختمِ قادریہ شریف مختلف کتابوں میں الگ الگ انداز سے لکھا ہو تا ہے، اس میں ہمیں کیسے معلوم ہو کہ کون سا درست ہے ؟

جواب: ان میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو تو سبھی درست ہیں ۔یہ بزرگوں سے چلا آ رہا ہے ۔کسی مُستند عالم کی کتاب میں لکھا ہو تو اس پر عمل کریں ۔مکتبۃ المدینہ کی کتاب مدنی پنج سورہ میں بھی ختمِ قادریہ لکھا ہوا ہے۔اس کی کئی برکتیں ہیں ۔اچھے عقیدے اور اللہ پاک کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے اس کو پڑھنے سے بندے کے کام بن جاتے ہیں ۔

سوال: UK میں 3دن کا اجتماع ہو رہا ہے ،شرکائے اجتماع کو کچھ مدنی پھول عطا فرما دیں ؟

جواب: ہرحال میں نماز کی پابندی کریں ،نمازوں میں بہت سُستی پائی جاتی ہے ۔ نماز نہیں آتی تو سیکھنی ہے ،اَب تو بہت آسانیاں ہو گئی ہیں ۔آن لائن سیکھ سکتے ہیں ۔قرآن پاک بھی سیکھنا بہت ضروری ہے ،دنیا کی کئی ڈِگریاں تو حاصل کر لی جائیں مگر قرآن ِپاک دیکھ کر بھی نہ پڑھنا آئے تو یہ بدنصیبی ہے ۔اللہ پاک نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔دولت اور ڈِگریاں جمع کرنا منع نہیں ہے مگر جو بھی کر نا ہے جائز و حلال طریقے سے اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے تحت کرنا ہے ۔ ہم اللہ پاک کی نافرمانی کے لیے دنیا میں نہیں آئے ۔جو اللہ پاک کی نافرمانی کر رہے ہیں ،ربّ کی ناراضی کی صورت میں ان کا انجام اچھا نہیں ہے ۔جتنا ہمارے اختیار میں ہے، نیکیاں کرنی ہیں گناہوں سے تو بچنا ہی بچنا ہے ،اگر کوئی گناہ کر رہا ہے تو فوراً اس سے توبہ کرنی اور مکمل چھوڑنا ہے۔ یہ نہیں کہ گناہ آہستہ آہستہ چھوڑوں گا ۔نیکیاں کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے تو ہم اچھے مسلمان رہیں گے ۔اللہ کریم کے اولیائے کرام مثلاً حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد آج کل ہم منا رہے ہیں ،یہ کہیں کے بادشاہ نہیں تھے مگر ہمارے دل کے بادشاہ ہیں ،آج بھی ان کی عقیدت ہمارے دل میں ہے، مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اللہ پاک کی فرمانبرداری کی تو آج بھی ہم ان کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔اپنے اخلاق کو بھی اچھا کرنا ہے ۔اجتماع کے بعد قافلوں میں بھی سفر کریں ،3 دن کے قافلے میں تو سفر ضرور کریں ۔

سوال: موت کو کس طرح یاد کیا جائے ؟

جواب: مثال کے طور پر ایک ماہی گیر(یعنی مچھلیاں پکڑنے والے/Fisherman)نے رسی کے ساتھ ایک کانٹا دریا میں ڈالا تو اسے ایک مچھلی نے نگل لیا ،ماہی گیر جس وقت چاہے اسے دریا سے نکال لے گا۔ اسی طرح ہم میں سے ہر ایک نے موت کا کانٹا نگل لیا ہے ۔یہ رسی کسی اور کے ہاتھ میں ہے، جس دن وہ رسی کھینچے گا ،ہم دھڑام سے گِریں گے اور قبر میں جا پڑیں گے ۔اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے ،ہمیں ہر وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ کریم کو راضی کرنے والا ہو۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”بے ادبی کی سزا ‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”بے ادبی کی سزا“پڑھ یا سُن لے، اُس کو اور اس کی آنے والی نسلوں کو اولیائے کرام کی بے ادبی اور بے ادبوں کے شَر سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

عاشقانِ رسول کی عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام 12 ستمبر 2026ء بمطابق 30 ربیع الأول 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کی نشست کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں اس مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز کیا گیاجس میں عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے کو مدنی چینل کے پلیٹ فارم سے عالمگیر سطح پر بھی براہِ راست (Live) نشر کیا گیا جس کے ذریعے دنیا بھر سے لاکھوں عاشقانِ رسول ان لمحاتِ تربیت سے مستفید ہوئے۔

علمِ دین سے بھرپوراس مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ والہ سلم سے ہوا جس کے بعد امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی مدنی مذاکرے میں تشریف آوری ہوئی۔

مدنی مذاکرے کے دوران بانیِ دعوتِ اسلامی امیرِ اہلِ سنّت دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی طرف سے ہونے والے سوالات کے تفصیلی جوابات عنایت فرمائے۔ آپ نے اپنے مدنی پھولوں کے ذریعے حاضرین و ناظرین کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی بنیادوں پر جامع تربیت فرمائی۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھاکہ :’’كبهى مشكل ميں كسى بُزدل سے مشورہ مت لينا كيونكہ وه تمہارى بچى ہوئى ہمت كو بهى ختم كر دے گا‘‘اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: باہر وہی آتا ہے جو اندر ہوتا ہے ،جو پہلے ہی ڈرا ہوا ہو گا، وہ ہمت بڑھانے والی بات نہیں کرے گا۔مشورہ اُس سے لیا جائے جو ہمت بڑھانے والا ہو ۔وہ اس چیز کا مشورہ دے گا کہ ہمت میں رہنا ہے اور جو مشکل ہے اس کا مقابلہ کرنا ہے ۔مشورہ اچھا دینا چاہئے اور ہمت بڑھانی چاہئے کہ رکھ مولیٰ تے آس(یعنی بندہ اللہ پاک پر بھروسہ کرے،اُس کی رحمت پر اُمید رکھے)۔

سوال: اگر کسی کی طرف سے دل آزاری کرنے پر دل میں گھٹن ہوتی ہو تو کیا کریں ؟

جواب: بعضوں کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ جب کوئی دل آزاری کر دے تو جب تک کسی کے سامنے اپنی بھڑاس نکال نہ دیں،اِنہیں سکون نہیں آتا، ایسوں کو صبر کرنا چاہئے کہ اگر کسی کو بتائیں گے اور یہ بتانا شرعی طور پر درست نہ ہوا تو اس شخص کی بُرائی اور غیبت میں مبتلا ہوں گے جبکہ اس نے دل آزاری تنہائی میں کی ہو۔ انبیائے کرام علیہم السلام پر لوگوں نے ظلم و ستم کیے ،مگر اُنہوں نے صبر کیا ،گِلہ شکوہ ان کے ہاں نہیں تھا، اسی طرح کی مثال کربلا والوں کی ہے،اِنہیں کیا کیا نہیں کہا گیا مگر انہوں نے صبر کیا ،یہ استقامت کا پہاڑ تھے۔

سوال:خَاتَمَ النَّبِیّٖنْ کا مکمل مفہوم اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی تفصیلی تشریح ارشاد فرما دیں۔

جواب: خَاتَمَ النَّبِیّٖنْ کا معنیٰ ہے نبیوں میں سب سے آخری نبی۔انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام تو بہت سے تشریف لائے مگر سب سے آخر میں ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے۔ اب ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ،حدیث پاک ہے کہ لَانَبِیَّ بَعْدِی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب تشریف لائیں گے مگر وہ نئے نبی نہیں ،مزید وہ انجیلِ مقدس کی تعلیم نہیں دیں گے بلکہ قرآنِ کریم کی تعلیم دیں گے ۔مکتبۃ المدینہ کا رسالہ’’ سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم ‘‘ پڑھیں ،اس سے درس بھی دیں ،گھر والوں کو بھی مکمل پڑھ کر سنائیں ۔

سوال: عقیدہ کیا ہوتا ہے؟

جواب: عقیدہ بیج کی طرح ہے اور عمل اس کی شاخیں اور پتیاں ہیں ۔اللہ و رسول کوماننا عقیدہ ہے،تمام ضروریاتِ دِین عقیدہ ہیں ۔ عقیدہ اُن دِینی اُمور کا نام ہے جن پر دل بغیر کسی شک وشبہ کے پختہ ہو جائے۔ ( حدیقہ ندیہ، 1/ 96)

سوال: اِیثار سے کیا مراد ہے ؟

جواب: کسی کو کسی چیز کی خود ضرورت ہے مگر اپنے نفس پر دُوسرے کو ترجیح دے یعنی وہ خود اِستعمال نہ کرے بلکہ دُوسرے کودیدے تو یہ اِیثار ہے ،صحابۂ کرام اور بزرگانِ دِین بہت ایثار کرتے تھے ۔ غزوۂ یرموک کے موقع پر ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنے زخمی چچازاد بھائی کے لیے پانی لے کر پہنچے۔ چچازاد بھائی نے خود پانی پینے کے بجائے قریبی زخمی صحابی حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ کو پانی دینے کا اشارہ کیا۔ جب وہ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے بھی دوسرے زخمی کی طرف پانی بھیج دیا، مگر وہ شہید ہو چکے تھے۔ جب واپس حضرت ہشام رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے اور آخر میں اپنے چچازاد بھائی کے پاس پہنچے تو وہ بھی جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ اس واقعے سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایثار، ہمدردی اور دُوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دینے کی عظیم مثال نظر آتی ہے۔

سوال: کیا آپ جہلم شہر میں بھی تشریف لے گئے ہیں ؟

جواب: میں جہلم(پنجاب،پاکستان) میں دو تین مرتبہ حاضر ہوا ہوں اور مسجد میں بیان کئے ہیں ۔

سوال: صدیقِ اکبر کا کیا معنی ہے اور یہ کس کا لقب ہے ؟

جواب: صدیق کا معنی سچا، اکبر کا معنی بہت بڑا۔ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت سچ بولتے تھے ،یہ آپ کا لقب ہے۔

سوال: رشتے میں رکاوٹ ہو تو کیاپڑھیں ؟

جواب: رشتے کی رُکاوٹ ہو توجہاں رشتہ کرنا ہو وہاں جاتے ہوئےیَاعَزِیْزُ 40 مرتبہ پڑھ لیجئے۔ان شاءاللہ الکریم کامیابی ملے گی۔لڑکی کو دیکھنے آرہے ہوں اُس وقت لڑکی یہی عمل کرے۔

مشورہ: کسی قاری صاحب کو سنا دیجئے۔

مُدّت: ایک بار میں کام نہ بنے تو ضرورت کے مطابق ہر بار کرتے رہئے۔

لازمی: نماز کی پابندی اور بندوں کی حق تلفی سے پرہیز۔

(انٹرویو دینے جائیں، گھر دکان وغیرہ کا سودا کرنے جائیں، قرض کی وصولی، الغرض جس کام کیلئے جائیں یہ عمل مفید ہے)

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”کم بولنے کے فائدے‘‘ پڑھ یا سُن لے ،اُس کو کم بولنے اور اچھے کام زیادہ کرنے کی توفیق دے اور ماں باپ اور خاندان سمیت اس کی بے حساب بخشش فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

توجہ فرمائیں:امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کی طرف سے دُنیا بھر کے اسلامی بھائیوں،اسلامی بہنوں،جامعات المدینہ،مدارس المدینہ ،دار المدینہ میں پڑھنے،پڑھانے والوں کو رسالہ”کم بولنے کے فائدے“(پڑھنے یا آڈیو رِسالہ سُننے) کی 19لاکھ کارکردگی کا ہدف عنایت فرمایا ہے، سب مل جُل کر اس ہدف کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔

5 ستمبر 2026ء بمطابق 23 ربیع الأول 1448ھ کو عاشقانِ رسول کی دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے تحت ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز بعد نمازِ عشاء عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہوا جس میں کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مقیم اور موجود شرکاکے علاوہ مدنی چینل کے ذریعے اس مدنی مذاکرے کو دنیا بھر میں براہِ راست (Live)نشر بھی کیا گیا۔

تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد مدنی مذاکرے میں بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی آمد ہوئی۔

تعلیم و تربیت کی اس نشست کے دوران امیرِ اہل ِسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیے۔ اس موقع پر آپ نے شرکا کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی اعتبار سے تربیت فرماتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے نوازا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال: وعدہ خلافی سے کیا مرا دہے ؟

جواب: وعدہ کرتے ہوئے یہ ذہن ہونا کہ میں نے پورا نہیں کرنا یہ وعدہ خلافی ہے۔یہ گناہ ہے ،وہ کام کر بھی لیا تو وعدہ خلافی سے توبہ کرنا ضروری ہے ۔3 فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم: (1)جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے اس پر اللہ پاک اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ نفل۔ (بخاری، 2/370، حدیث: 3179)غیر مسلم کو بھی وعدہ خلافی اور دھوکا دینے کی اجازت نہیں ۔(2) منافق کی 3 نشانیاں ہیں: جب بات کرے جھوٹ کہے، جب وعدہ کرے خلاف کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خلاف کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)(3) جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کر سکے، وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر گناہ نہیں۔ (ابو داؤد، 4/388، حدیث: 4995) 

سوال: اگرکوئی جنگل وغیرہ میں اکیلا ہواورنماز سے پہلے اذان دے تو کیا اس کی بھی کوئی فضیلت ہے؟

جواب: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا ربّ اُس بکری چرانے والے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی اونچی چوٹی میں ہو، نماز کی اذانیں دے اور نماز پڑھے ۔اللہ پاک فرماتا ہے :میرے اس بندے کو دیکھو ،اذان دیتا ہے نماز قائم کرتا ہے مجھ سے ڈرتا ہے میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کروں گا۔(سنن ابو داؤد، حدیث :667)

سوال: امیر اہل سنت(مولانا الیاس قادِری دامت برکاتہم العالیہ) نے کون سے عالمِ دِین کا ذکرِ خیر فرمایا؟

جواب: پیر طریقت حضرت مولانا عبدالرشید رضوی سمندری والے رحمۃ اللہ علیہ بہت باعمل عالمِ دین تھے۔حضور محدثِ اعظم پاکستان علامہ سردار احمد چشتی قادری رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد و خلیفہ تھے۔ ہمیشہ سرپر عمامہ شریف باندھا کرتے تھے ۔آج وفات کے بعد بھی میں اِن کا ذکرِ خیر کر رہا ہوں ۔

ایسے رہا کرو کہ کریں لوگ آرزو

ایسا چلن چلو کہ زمانہ مثال دے

سوال: کیا غزوہ ٔاُحد میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دانت مبارک شہید ہوا تھا ؟

جواب: پورا دانت مبارک شہید نہیں ہوا تھا ،دانت مبارک کا کچھ حصہ یا کوئی کونہ متاثر ہوا تھا ۔

سوال: صحابی اور تابعی کی تعریف کیا ہے ؟

جواب: جنہوں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ سلم کی ایمان کی حالت میں زیارت کی ایمان پر خاتمہ ہوااُنہیں صحابی کہتے ہیں اورجس نے ایمان کی حالت میں کسی صحابی کی زیارت کی اور ایمان پر خاتمہ ہوا،اُنہیں تابعی کہتے ہیں۔

سوال: حضرت اویس قرنی کون تھے ؟

جواب: حضرت خواجہ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ تابعی بلکہ خیُر التابعین(تابعین میں بہترین) ہیں ۔ان کا دانت مبارک توڑنے کا واقعہ صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں ،من گھڑت اوران کی طرف غلط منسوب ہے ۔یہ بات کہ کیلا ان کے لیے جنت سے آیا تھا یہ بھی غلط ہے ۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ” الفاظ استعمال کرتے وقت ایسے ہی احتیاط کریں جیسے مچھلی کھاتے وقت کانٹوں سے کرتے ہیں، کیونکہ یہ سچ ہے کہ کانٹے تو صرف جسم کو تکلیف دیتے ہیں لیکن الفاظ دِلوں کو چِیر دیتے ہیں“۔

جواب: اچھی مثال دی ہے ،الفاظ دِلوں کوچِیر دیتے ہیں، چھید دیتے یعنی دِل میں سوراخ کر دیتے ہیں ۔تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے مگر زبان کا زخم نہیں بھرتا، اس لیے اپنے الفاظ کا بہت خیال رکھنا ہوتا ہے ،ایک ہی بات کے لیے دو الفاظ ہوتے ہیں ،وہ الفاظ بولے جائیں جو سامنے والے کو خوش کر دیں ۔ضرور آئیے گا ،ضرور آنا، دونوں میں پہلے والے الفاظ بہتر ہیں ۔

سوال: کیا مچھلی(Fish) کھانی چاہئے ؟

جواب:جی ہاں!یہ اللہ پاک کی نعمت ہے۔جنّتیوں کا پہلا کھانا مچھلی کی کلیجی کا کنارا ہو گا، مچھلی کا سر (Head)بھی کھانا چاہئے، اس کے کھانےسے دِماغ تیز ہوتاہے۔ بنگلہ دیش اور کیرالہ(ہند) کے لوگ مچھلی کا سر کھاتے ہیں ،یہ دنیا بھرمیں ہوتے ہیں اور بہت ہوشیار(ذہین) ہوتے ہیں ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” علم و عمل کی باتیں (قسط :3) “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”علم و عمل کی باتیں (قسط :3) ‘‘پڑھ یا سُن لے اُس کو علمِ دین و نیک اعمال سے مالا مال کر دے۔ اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

29 اگست 2026ء بمطابق 16 ربیع الأول 1448ھ کو منعقدہ اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے فیضانِ مدینہ کراچی میں بالمشافہ شرکت کی جبکہ کثیر عاشقانِ رسول نے مدنی چینل کے ذریعے براہِ راست (Live) شمولیت اختیار کی۔

مدنی مذاکرے کے دوران مدنی چینل اور فیضانِ مدینہ کراچی میں موجود عاشقانِ رسول کی جانب سے مختلف دینی، اخلاقی، معاشی اور شرعی موضوعات پر سوالات پیش کیے گئے۔ بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے تمام سوالات کے حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے ۔

بعض سوال وجواب

سوال: اِمامِ اہلسنت ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی کتابیں مشکل ہیں، ہم ان سے کس طرح فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ؟

جواب: جس کو اچھی اُردو آتی ہو تو اُسے پڑھنا قدرے آسان ہے ،بہارِ شریعت میں لکھا ہے کہ اسے آسان کر کے لکھا گیا ہے پھر بھی جو مشکل لگے اسے علما سے پوچھ لیا جائے، اسی طرح فتاویٰ رضویہ میں بھی جو مشکل ہو ، اُسے علمائے کرام سے پوچھ لیا جائے۔

سوال: ایک مبلغ کا معاشرتی انداز کیسا ہونا چاہیے ؟

جواب:عوا م کے دُکھ سُکھ میں حصہ ضرور لینا ہو گا ،لوگوں کے دلوں میں اُترنا ہے تو ان کے دُکھ میں ساتھ دیں۔ میں نے بہت جنازے پڑھائے ہیں ،جا جا کر تعزیتیں کی ہیں ۔جن کو نہیں جانتا تھا ان کا بھی کوئی فوت ہوتا تو تعزیت کرتا، ایصالِ ثواب کرتا، مریضوں کو دم کرنے کے لیے ان کے گھروں میں جاتا۔ نیکی کی دعوت دینی ہے تو یہ سب کچھ کرنا ہو گا، عوام سے ملنا جلنا ، ان کے ساتھ مل جُل کر کام کرنا ہوگا۔دعوتِ اسلامی کے پاس ایسا کرنے والے کئی ہیرے ہیں ۔مگر بھاری تعداد ہے جو عیادت و تعزیت میں کمزور واقع ہوئی ہے ۔نفسیات کے مطابق مریض کو پوچھنا چاہیے،زیادہ سوالات کر کے تنگ بھی نہ کیا جائے ۔

سوال: اگر کوئی نیکی کا ارادہ کرے مگر عمل نہ کر سکے توکیا ثواب ملے گا ؟

جواب: نیت کا ثواب ملے گا ،عمل کا نہیں ۔

سوال: کیا نیکیوں میں چھپا ہوا کوئی گناہ بھی ہوتا ہے ؟

جواب: نیکیوں میں چھپا ہوا گناہ رِیا ہے۔ یعنی عبادت یا نیکی اس نیت سے کرنا کہ دیکھنے والوں کے دل میں میری عزت پیدا ہو گی یا وہ مجھے کچھ دیں گے۔ لہٰذا ہر عبادت اور نیکی صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے کرنی چاہیے۔ حُبِ جاہ یعنی شہرت اور عزت کی خواہش و محبت، رِیا کے لیے ایک گیٹ(Gate) کی مانند ہے۔ جب دل میں حُبِ جاہ پیدا ہوتی ہے تو انسان رفتہ رفتہ رِیا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس لیے جب بھی اپنے نیک اعمال کا اظہار کرنے لگیں تو فوراً الرٹ ہو جائیں کہ کہیں اس میں رِیا(دِکھاوا) شامل نہ ہو جائے اور اپنے دل کی نیت کو ضرور جانچ لیں کہ یہ عمل صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے ہے یا لوگوں سے عزت اور تعریف حاصل کرنے کے لیے۔

سوال: اس سال(1448ھ/2026ء) ربیع الاول کی بارہویں رات کودعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے عظیمُ الشّان اجتماعاتِ میلاد میں بچوں کی ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں کہ نعتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کے دوران وہ مسلسل آنسو بہار ہے ہیں اور ان پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہے۔ یہ منظر دیکھ کر دل خوش بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچوں کے دل میں عشقِ رسول کی یہ کیفیت کیسے پیدا ہوئی؟ انہیں اس کی کیا سمجھ ؟

جواب: یہ بچوں کے بہت رِقّت انگیز مناظر ہیں۔ عشقِ رسول کسی کی میراث نہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کا ذکرِ مبارک سن کر بچوں کے دلوں میں بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ بچوں کا اس طرح رونا بھی ان کی سعادت ہے۔ رِقّت انگیز ماحول، نعت خواں کا اثر اور کلام کا اثر، یہ سب مل کر اپنا کام دکھا رہے ہوتے ہیں۔ بچے بھی بہت کچھ سمجھتے ہیں اور ان کے بھی جذبات اور احساسات ہوتے ہیں۔

سوال: دعوتِ اسلامی میں شامل ہونے کے لیے کیا کرنا ہو گا ؟

جواب: دعوتِ اسلامی میں آنے کے لیے کوئی فیس اور فارم نہیں ،ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کریں ،قافلے میں سفر کریں ،ہمارے ہاں یہ نہیں ہے کہ یہ کریں گے تو آپ دعوتِ اسلامی میں آ سکیں گے۔ یہ تو نیکی کی دعوت ہے ،اس میں مالی تعاون کر کے بھی آپ حصہ لے سکتے ہیں ۔

سوال:مسواک کی کیا اہمیت ہے ؟

جواب: مسواک کرنے کا معمول بنا لیں ،مسواک پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم کی سنت ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلم مختلف اوقات میں مسواک استعمال فرماتے ،علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ جو مسواک کا عادی ہو گا اس کا ایمان پر خاتمہ ہو گا اور جو افیون کھاتا ہے اس کا خاتمہ بُرا ہونے کا اندیشہ ہے ۔

سوال: درُود و سلام کس طرح پڑھنا چاہیے ؟

جواب: درُود و سلام کی برکتیں اتنی ہیں کہ کسی اور وظیفے میں کیا ہوں گی، خشوع(مکمل توجہ،سکون کے ساتھ) اور تصور باندھ کر درُود و سلام پڑھیں تو اس کی اپنی برکتیں ہیں، اگرچہ ایک ہی بار پڑھیں ۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” فرامینِ امیرِ اہلِ سنت“ پڑھنے یا سُننے والوں کو خلیفۂ امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ” فرامینِ امیرِ اہلِ سنت“پڑھ یا سُن لے اُسے ان فرامین کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اس کے ظاہر و باطن کو اچھا کر اور اس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و صحبہ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 22 اگست 2026ء بمطابق 8 ربیع الاول 1448ھ کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔

اس مدنی مذاکرے میں ملک بھر سے آئے ہوئے کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے بالمشافہ شرکت کی جبکہ مدنی چینل کے ذریعے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے کثیر عاشقانِ رسول براہِ راست اس میں شریک ہوئے۔

مدنی مذاکرے کے دوران بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلَ سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کو حکمت و دانائی سے بھرپور مدنی پھولوں سے نوازا۔ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی اعتبار سے تربیت فرمائی اور اُن کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال جواب

سوال: مسرور کا کیا معنی ہے ؟

جواب: جو خوش ہوتا ہے، اسے مسرور کہا جاتا ہے ۔

سوال: بچوں میں عشق ِرسول بڑھانے کے لیے گھرکا ماحول کیسا ہونا چاہیئے ؟

جواب: شاید ربیع الاول سے بڑھ کر عشقِ رسول بڑھانے کا کوئی اور موقع نہ ملے ،اس مبارک مہینے میں خوشیوں کا سماں ہوتا ہے ،حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے عشق و محبت کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں ،گھر گھر نعتیں پڑھی جاتی ہیں ،نعتوں کے اشعار سُن کر عشقِ رسول کا جذبہ خودبخود پیدا ہوتا ہے،دعوتِ اسلامی کو بنے قریباً 2 سال ہوئے تھے ،میں مدینۂ منورہ سے ایک چھوٹی چھوٹی بتیوں(Lights) کی لڑی(جھالر) لایا تھا اور ربیع الاول کے ابتدائی دنوں میں اپنے گھرکی بالکونی میں اس کو لگایا تھا۔میری آل(Family) کا ایک چھوٹا فرد نظر نہیں آ رہا تھا ،تلاش شروع کی ،بالکونی کی جانب پردہ اُٹھا کر دیکھا تو وہ اس لڑی کے ایک بلب کو چُوم رہا تھا۔ میں نے محبت سے اُسے اُٹھا لیا اور پوچھا کہ یہ کیا؟ تو وہ اپنی زبان میں کہنے لگا کہ مدینے کا ہے نا! اس طرح گھر میں ربیع الاول میں چراغاں کیا جائے تو بچوں کے دلوں میں آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی محبت پیدا ہوتی ہے ۔ربیع الاول کے ان دنوں میں بڑی تر اوٹ ملتی ہےاور خشکی دُور ہوتی ہے ۔عشقِ رسول کے چشمے دلوں سے پُھوٹ رہے ہوتے ہیں ۔جو اس کی لذت سے ناآشنا ہے ان کے گھروں میں اندھیرے ہیں ۔

سوال: قرآنِ کریم میں اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی حیاتِ مبارکہ کو اُسوۂ حسنہ یعنی بہترین رول ماڈل قرار دیا گیا ہے۔ اس کا اثر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی آل یعنی اہلِ بیتِ اطہار(آپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وصحبہ وسلم کے گھر والوں) میں بھی نظر آتا ہے۔ ہمیں اپنی اولاد کو بچپن میں سیرتِ مصطفیٰ کے کن خاص پہلوؤں سے متعارف کروانا چاہیئے تاکہ اُن کی شخصیت بھی سیرتِ نبوی کے رنگ میں ڈھلنا شروع ہو جائے۔

جواب: پیارے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کی سیرت کا ہر پہلو(یعنی ہر حصہ/ہر باب) روشن ہے، بالخصوص بچے جس میں غلطیاں کرتے ہیں ،اس میں ایک یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ، جھوٹ بولنے سے انہیں اپنے مطلب کی چیز مل جاتی ہے ، عارضی طور پر فائدے ملتے ہیں ۔یہ سمجھتے کہ جھوٹ بولنا اچھا ہے ،ان کی نفسیات کے مطابق ان کی تربیت کرنی ہو گی ،قبر و آخرت کی باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں ،ان کی تربیت اس طرح کی جائے کہ جب یہ سچ بولیں تو انہیں انعام (Prize) دیا جائے ۔انہیں یہ بتایا جائے کہ اللہ پاک جھوٹ بولنے سے ناراض ہوتا ہے ، آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم بھی ناراض ہوتے ہیں۔یہ باتیں انہیں کچھ نہ کچھ سمجھ آئیں گی ۔اسی طرح نصیحت آموز واقعات سنائیں جائیں ۔ان کی عقل کے مطابق کہانی سنائی جائی ۔(توجہ فرمائیں !!! بچوں کی بہترین تربیت سے متعلق مکتبۃ المدینہ کے یہ رسائل حاصل کریں مثلاً❁ بچوں کے لئے 50 درسِ حدیث شریف❁ جھوٹا چور❁ بیٹا ہوتو ایسا❁ بچوں کی سچی کہانیاں❁ اچھے بچوں کی خصوصیات❁ بچوں کی اخلاقی تربیت❁ بچوں کو اسلامی عقیدے سکھائیے، وغیرہ)۔

سوال: انسان کو مٹی سے ،فرشتوں کو نور سے اورجنات کو آگ سے بنایا گیا ہے۔ روح کو کس سے بنایا گیا ہے ؟

جواب: روح، اللہ پاک کے حکم کُنْ( یعنی ہوجا) سے بغیر کسی مادہ کے پیدا کی گئی ہے ۔روح اللہ پاک کے حکم سے ہے ،روح ایک لطیف وجود ہے ۔

سوال: قبر کے سوالات میّت کی روح سے ہوتے ہیں یا جسم سے بھی ؟

جواب: روح کا تعلق جسم کے ساتھ رہتا ہے ،قبر کےسوالات روح سے ہی ہوتے ہیں ۔

سوال: جب کوئی فوت ہوتا ہے تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ فُلاں بندہ قضائے اِلٰہی سے وفات پا گیا ہے اور کچھ کہتے ہیں فلاں بندہ رضائے اِلٰہی سے وفات پا گیا ہے درست کیا ہے ؟

جواب: دونوں درست ہیں ۔

سوال: ربیع الاول کے کیا معنی ہیں ؟

جواب:ربیع معنی بہار، اوّل معنی پہلی یعنی پہلی بہار، جب مہینوں کے نام رکھے گئے تو موسم وغیرہ کو دیکھ کر نام رکھ لیے گئے ،ان دنوں بہار کا موسم تھا اس مہینے کو ربیع الاول کہہ دیا گیا ۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ”اربعینِ عطار(قسط4 ) “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یااللہ پاک !جو کوئی 44 صفحات کا رسالہ ”اربعینِ عطار(قسط4 ) “ پڑھ یا سُن لے اُسے خواب میں اپنے سب سے آخری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ و سلم کا جلوہ دکھا، اُس کو ایمان پر مدینے میں موت عطا فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وصحبہ وسلَّم


اسلام کے امن و سلامتی پر مبنی پیغام کو عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی بیداری کے لیے کوشاں عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کا تربیتی سفر پوری وُسعت کے ساتھ جاری ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 15اگست 2026ء (02ربیع الاوّل 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار ”مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا گیا۔

اس بابرکت نشست کی باقاعدہ شروعات قرآنی آیات کی تلاوتِ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت و احترام سے نذرانۂ نعت پیش کرکے کی گئی۔ تقریب کا اصل حُسن و بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی موجودگی تھی۔

مذاکرے کا سب سے اہم اور حلم و حکمت سے لبریز حصہ سوال و جواب کا سیشن تھاجس میں امیرِ اہلِ سنّت نے اجتماع میں موجود افراد اور آن لائن موصول ہونے والے دینی، فقہی اور تربیتی سوالات کے معقول و دلنشین جوابات عطا فرمائے۔ اس دلکش گفتگو کے دوران انہوں نے اصلاحِ معاشرہ، والدین سے حسنِ سلوک اور دینی و فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے اہم حکمتیں اور نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال:جلوسِ میلادمیں لنگرِ میلاد(کھانے پینے کی چیزیں) کس طرح لوگوں تک پہنچائیں؟

جواب: جلوس ِمیلاد میں لنگرِ میلاد( یعنی کھانے پینے کی چیزیں)لُٹانے یا پھینکنے کے بجائے ہاتھوں میں دیں تاکہ رزق ضائع نہ ہو۔

سوال: بالخصوص نوجوان نسل میں عدمِ برداشت اور غُصّہ عام ہے، اس کا کیا حل ہے ؟

جواب: غُصّہ تو ایک دن کے بچے کو بھی آتا ہے ،وہ رو کر اپنے غُصّے کا اظہار کرتا ہے۔ ،بڑھاپے میں غُصّہ بڑھ جاتا ہے، بہر حال ہر عمر میں غُصّہ آتا ہے ،غُصّہ آنا مسئلہ نہیں ،بلکہ اسے ٹھنڈا کس طرح کرنا ہے(یعنی غُصّہ کنٹرول کیسے کرناہے؟)، یہ اہم بات ہے ،جہنم میں ایک دروازہ ہے جو اُن لوگوں کے لیے خاص ہے(یعنی اس کے ذریعے وہ جہنم میں داخل ہوں گے ) جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔غُصّہ آنا بعض اوقات نجات کا باعث ہوتا ہے جیسے غُصّہ آیا اور اللہ پاک کی رضا کے لیے اسے قابو کر لیا تو بندہ ثواب کا حقدار ہو جاتا ہے ،یہ نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جانے والی ہے ۔بہترین گھونٹ غُصّے کا گھونٹ پینا ہے ۔یہ محاورہ ہے ،یہ کوئی مائع چیز نہیں کہ اسے بندہ پانی کی طرح پی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ غُصّے کو کنٹرول کر لے ۔ غُصّہ پینے والے اللہ پاک کے پیارے ہیں ۔غُصّہ آئے تو بندہ وضو کر لے کہ غُصّہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفی( صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)ہے:اللہ پاک کے  نزدیک غُصّے کا  گھونٹ پینے سے زیادہ کسی گھونٹ کا ثواب نہیں جسے بندہ اللہ پاک کی رضا کے  لئے  پی لے۔( ابن ماجہ، 4/463، حدیث 4189)

مکتبۃ المدینہ کے رسالے غُصّے کا علاج کا مطالعہ کریں اور اس سے درس دیں،بالخصوص جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے ہوں وہاں یہ رسالہ تقسیم کریں اور مکمل پڑھنے کی ترغیب دِلائیں ۔

سوال: ظلم سے بچنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب: ظلم گناہِ کبیرہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،ظلم قیامت کا اندھیرا ہے، ظلم سے بچیں ۔

سوال: اعلیٰ حضرت اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں گھر میں کس لقب سے پکارا جاتا تھا ؟

جواب: اَمّن میاں ۔ گھر میں ایک بچہ اَمّن میاں بھی ہونا چاہئے تاکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ ہوتی رہے ۔

سوال: مدنی پرچم کی اب کیا تنظیمی اصطلاح ہے ؟

جواب: میلادی جھنڈا۔

سوال: بچوں کے ساتھ مذاق کرنا کیسا؟

جواب:تابعی بزرگ حضرت محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے:’’ بچوں کے ساتھ زیادہ مذاق نہ کرو ،ورنہ ان کے دل سے تمہاری عزت جاتی رہے گی ۔‘‘بچوں سے زیادہ فری نہ ہوں۔(ان سے قدرے سنجید ہ رہیں) ، ورنہ مسائل ہو سکتے ہیں ۔

سوال: اچھی ملازمت پانے کے لیے کوئی روحانی علاج بتا دیں ؟

جواب:سورۂ مزمل شریف تین بار (اول آخر 11 بار درود شریف) پڑھئے پھر حلال روزی اور اچھی نوکری ملنے کے لئے دعا کیجئے۔(تا حصول مراد روزانہ بعد نماز عشاء)

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” اچھا بولنے سُننے کے فائدے “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”اچھا بولنے سننے کے فائدے “ پڑھ یا سُن لے، اس کو اچھا بولنے اور سننے کی توفیق عطا فرما، اُس کا ظاہر و باطن اچھا کر اور اُس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


اسلام کے امن و سلامتی پر مبنی پیغام کو عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی بیداری کے لیے کوشاں عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کا تربیتی سفر پوری وُسعت کے ساتھ جاری ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 15اگست 2026ء (02ربیع الاوّل 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار ”مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا گیا۔

اس بابرکت نشست کی باقاعدہ شروعات قرآنی آیات کی تلاوتِ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت و احترام سے نذرانۂ نعت پیش کرکے کی گئی۔ تقریب کا اصل حُسن و بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی موجودگی تھی۔

مذاکرے کا سب سے اہم اور حلم و حکمت سے لبریز حصہ سوال و جواب کا سیشن تھاجس میں امیرِ اہلِ سنّت نے اجتماع میں موجود افراد اور آن لائن موصول ہونے والے دینی، فقہی اور تربیتی سوالات کے معقول و دلنشین جوابات عطا فرمائے۔ اس دلکش گفتگو کے دوران انہوں نے اصلاحِ معاشرہ، والدین سے حسنِ سلوک اور دینی و فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے اہم حکمتیں اور نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال:جلوسِ میلادمیں لنگرِ میلاد(کھانے پینے کی چیزیں) کس طرح لوگوں تک پہنچائیں؟

جواب: جلوس ِمیلاد میں لنگرِ میلاد( یعنی کھانے پینے کی چیزیں)لُٹانے یا پھینکنے کے بجائے ہاتھوں میں دیں تاکہ رزق ضائع نہ ہو۔

سوال: بالخصوص نوجوان نسل میں عدمِ برداشت اور غُصّہ عام ہے، اس کا کیا حل ہے ؟

جواب: غُصّہ تو ایک دن کے بچے کو بھی آتا ہے ،وہ رو کر اپنے غُصّے کا اظہار کرتا ہے۔ ،بڑھاپے میں غُصّہ بڑھ جاتا ہے، بہر حال ہر عمر میں غُصّہ آتا ہے ،غُصّہ آنا مسئلہ نہیں ،بلکہ اسے ٹھنڈا کس طرح کرنا ہے(یعنی غُصّہ کنٹرول کیسے کرناہے؟)، یہ اہم بات ہے ،جہنم میں ایک دروازہ ہے جو اُن لوگوں کے لیے خاص ہے(یعنی اس کے ذریعے وہ جہنم میں داخل ہوں گے ) جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔غُصّہ آنا بعض اوقات نجات کا باعث ہوتا ہے جیسے غُصّہ آیا اور اللہ پاک کی رضا کے لیے اسے قابو کر لیا تو بندہ ثواب کا حقدار ہو جاتا ہے ،یہ نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جانے والی ہے ۔بہترین گھونٹ غُصّے کا گھونٹ پینا ہے ۔یہ محاورہ ہے ،یہ کوئی مائع چیز نہیں کہ اسے بندہ پانی کی طرح پی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ غُصّے کو کنٹرول کر لے ۔ غُصّہ پینے والے اللہ پاک کے پیارے ہیں ۔غُصّہ آئے تو بندہ وضو کر لے کہ غُصّہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفی( صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)ہے:اللہ پاک کے  نزدیک غُصّے کا  گھونٹ پینے سے زیادہ کسی گھونٹ کا ثواب نہیں جسے بندہ اللہ پاک کی رضا کے  لئے  پی لے۔( ابن ماجہ، 4/463، حدیث 4189)

مکتبۃ المدینہ کے رسالے غُصّے کا علاج کا مطالعہ کریں اور اس سے درس دیں،بالخصوص جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے ہوں وہاں یہ رسالہ تقسیم کریں اور مکمل پڑھنے کی ترغیب دِلائیں ۔

سوال: ظلم سے بچنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب: ظلم گناہِ کبیرہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،ظلم قیامت کا اندھیرا ہے، ظلم سے بچیں ۔

سوال: اعلیٰ حضرت اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں گھر میں کس لقب سے پکارا جاتا تھا ؟

جواب: اَمّن میاں ۔ گھر میں ایک بچہ اَمّن میاں بھی ہونا چاہئے تاکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ ہوتی رہے ۔

سوال: مدنی پرچم کی اب کیا تنظیمی اصطلاح ہے ؟

جواب: میلادی جھنڈا۔

سوال: بچوں کے ساتھ مذاق کرنا کیسا؟

جواب:تابعی بزرگ حضرت محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے:’’ بچوں کے ساتھ زیادہ مذاق نہ کرو ،ورنہ ان کے دل سے تمہاری عزت جاتی رہے گی ۔‘‘بچوں سے زیادہ فری نہ ہوں۔(ان سے قدرے سنجید ہ رہیں) ، ورنہ مسائل ہو سکتے ہیں ۔

سوال: اچھی ملازمت پانے کے لیے کوئی روحانی علاج بتا دیں ؟

جواب:سورۂ مزمل شریف تین بار (اول آخر 11 بار درود شریف) پڑھئے پھر حلال روزی اور اچھی نوکری ملنے کے لئے دعا کیجئے۔(تا حصول مراد روزانہ بعد نماز عشاء)

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” اچھا بولنے سُننے کے فائدے “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”اچھا بولنے سننے کے فائدے “ پڑھ یا سُن لے، اس کو اچھا بولنے اور سننے کی توفیق عطا فرما، اُس کا ظاہر و باطن اچھا کر اور اُس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


دینِ اسلام کی پرامن تعلیمات عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی اصلاح کے لئے کوشاں عالمی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام تربیتی سلسلوں کا تسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 08اگست  2026ء (25 صفر المظفر 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس کا محور شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی بابرکت موجودگی تھی۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ تقریب کا بنیادی حصہ سوال و جواب کا وہ سیشن تھا جس میں امیرِ اہلِ سنت نے شرکائےمحفل اور آن لائن موصول ہونے والے مختلف دینی، شرعی اور معاشرتی سوالات کے انتہائی جامع، حکمت بھرے اور دل کو چھو لینے والے جوابات ارشاد فرمائے۔ گفتگو کے دوران اصلاحِ معاشرہ، والدین کے حقوق اور دینی تحریک کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے قیمتی مدنی پھول نچھاور کئے گئے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: اعلیٰ حضر ت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کا با جماعت نماز پڑھنے کا جذبہ کیسا تھا ؟

جواب:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تمام نمازیں با جماعت پڑھتے تھے ۔ آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کا آپریشن ہوا تو احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) آپ کی خواہش کے مطابق ایک ماہ تک آپ کو کُرسی(Chair) پر مسجد لے جاتے رہے یہاں تک آپ چلنے کے قابل ہو گئے۔

سوال: حدائقِ بخشش کا معنی کیا ہے؟ اور یہ کن کی لکھی ہوئی ہے؟

جواب: حدائق،حدیقہ کی جمع ہے یعنی بخشش کے باغات،حدائقِ بخشش اعلیٰ حضر ت رحمۃ اللہ علیہ کے کلاموں کا مجموعہ ہے ۔نعت پڑھنا بخشش کا ذریعہ ہے،جس میں عشق کا ذوق نہ ہو تو وہ حدائقِ بخشش پڑھتا رہے ،اشعار یاد کرتا رہے تو عشق کا ذوق حاصل ہو جائے گا۔

سوال: علمائے کرام کے احترام کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں؟

جواب: جو عاشقِ رسول یعنی علمائے اہلِ سنت ہیں،ان کا احترام سب پر لازم ہے ۔ ان کے بارے میں ہرگز زبان نہ کھولی جائے ۔زبان کٹ جائے مگر کسی عالمِ دِین کے خلاف زبان نہ کھُلے ،اگر کوئی عالمِ دِین باعمل نہ ہو تب بھی عوام کو ان پر زبان کھولنے کی اجازت نہیں کہ وہ علمِ دِین کی وجہ سے عوام سے افضل ہیں ۔ ان کےسِینے میں علمِ دِین کا نور ہے ۔ عالمِ دِین حافظِ قرآن سے افضل ہے۔

سوال: اعلیٰ حضرت اپنے احباب کے لیے کس طرح دعا کیا کرتے تھے؟

جواب: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک فہرست(List) تھی جس میں آپ کے احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) کے نام درج تھے، آپ ان کا نام لے کر دعا کیا کرتے تھے ۔

سوال: نبی ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا ولادت کا دن کس طرح مناتے تھے؟

جواب: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیر(Monday)کو روزہ رکھتے تھے ،اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اور اسی روز میرے اوپر قرآن نازل کیا گیا۔(صحیح مسلم، 2/819، حدیث نمبر 1162)

سوال: بچوں کی بر تھ ڈے(Birthday) انگریزی تاریخ کے اعتبار سے منائی جائے یا ہجری سن کے اعتبار سے ؟

جواب: ہجری(اسلامی)سن کے اعتبار سے منایا کریں ،یوں بچوں کو اسلامی تاریخ کا فیضان بھی حاصل گا ۔ان شاء اللہ الکریم

سوال: اعلیٰ حضرت کی وفات کس وقت ہوئی اور اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے25صفرشریف1340ھ کو ہند (India) کے وقت کے مطابق دو بج کر اڑتیس منٹ 02:38pm پر وصال فرمایا ،پاکستانی وقت کے مطابق دو بج کر آٹھ منٹ(02:08pm) تھے ،دیگر ممالک میں اسی اعتبار سے فرق ہے۔ تمام عاشقانِ رسول کی مساجد میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت بیان کریں ،02:08pm پر فاتحہ خوانی کریں۔یہ محبت کی بات ہے کوئی فرض یا واجب نہیں، اسلامی بہنیں گھروں میں بھی فاتحہ خوانی کر لیں ۔فاتحہ کے ساتھ نیازبھی کر لیں۔

سوال: جشن ِولادت اور عُرس منانے کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب: جشنِ ولادت منانے، درست انداز سے عُرس و فاتحہ خوانی کرنے کے کئی فوائد ہیں ،یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک ذریعہ ہے ۔

سوال: امتحان میں پاس ہونے کا کوئی وظیفہ بتادیں ؟

جواب: صرف تین دن مسلسل کسی بھی ایک نماز کے بعد ”یَا حَسِیْبُ“111(اوّل آخر11 بار دُرود شریف)پڑھ کر امتحان میں اچھے رزلٹ کے لئے دُعا کیجئے، ان شاء اللہ الکریم کامیابی ملے گی۔

سوال: کیا مسلمان کو تکلیف پہنچے تو اُسے اجر ملتا ہے ؟

جواب: حدیث پاک ہے کہ مسلمان کو کوئی تکلیف ،فکر، بیماری ملال (رنج و غم )اذیت اور کوئی غم نہیں پہنچتا یہاں تک کہ کانٹا جو اُسے چُبھے مگر اللہ کریم ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔(بخاری شریف ،حدیث نمبر 5642 )علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی انسان کا دنیا میں مصیبت اور آفتوں میں مبتلا ہونا اس بات کی علامت (نشانی )ہے کہ اللہ پاک اس سے بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے،اسی لیے اسے گناہوں کی سزادُنیا میں ہی کسی مصیبت وغیرہ کے ذریعے دے دی اور اسے آخرت پر مؤخر نہ کیا۔ (فیض القدير ،5/626)

سوال: صفر کا مطلب کیا ہے؟ اس کو صفر کیوں کہتے ہیں ؟

جواب: صفر کا معنی ٰ خالی ہونا ہے ۔جن دنوں مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے ان دنوں میں گھر کھانے پینے کی چیزوں سے خالی ہو جاتے تھے اور کمانے کے لیے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا ،اس لیے اس مہینے کا نام صفر پڑا۔

سوال: دانت مضبوط رکھنے کا کوئی وظیفہ بتا دیں ؟

جواب:ایک بزرگ جن کی عمر سوسال کے قریب تھی جبکہ دانت صحیح سلامت تھے۔ جب ان سے دانتوں کی محفوظی اور مضبوطی کے بارے میں پوچھا گیاتو فرمایا:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے مجھے بچپن میں یہ عمل بتایا تھاکہ ”عشاء کے وتر جب پڑھے جائیں تو پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اِذَا جَاءَ (یعنی نصر)، دوسری میں تَبِّت یَدَا (یعنی سورہ لہب) اور تیسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنے سے دانت عمر بھر ہر تکلیف سے محفوظ رہتے ہیں“ جب سے میں اسے پڑھتا ہوں اور اسی کی یہ برکت ہے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھ یا سُن لے، اُس کا دل دنیا کی محبت اور گناہوں کی نحوسَت سے پاک کر دے اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے ایک خصوصی ”مدنی مذاکرے“ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ روحانی و علمی نشست 13 اگست (جمعرات) کو ہفتہ وار اجتماع کے بعد رات تقریباً 10:15 بجے شروع ہوگی۔ اس خصوصی مدنی مذاکرے میں بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی شرکت فرمائیں گے۔

یہ پروگرام مدنی چینل پر لائیو نشر کیا جائے گا۔YouTube،Facebookاور امیرِ اہلسنت کے آفیشل Pagesکے ذریعے دنیا بھر میں براہِ راست دیکھا جا سکے گا۔

اس خصوصی نشست میں یومِ آزادی کی اہمیت، ملکی سلامتی و بقا اور دینی و اخلاقی موضوعات پر امیرِ اہلسنت کے بصیرت افروز بیانات اور عوام کے سوالات کے جوابات شامل ہوں گے۔


لوگوں کی اصلاح کرنے اور انہیں دینِ اسلام کی  باتیں بتانے کے لیے عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے کی شب مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے 18 جولائی 2026ء بمطابق 4 صفر المظفر 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کی خاص بات یہ رہی کہ عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے دوران ہونے والے بعض سوال و جواب

سوال: اللہ پاک جگہ سے پاک ہے ،یہ بتائیں کہ مسجد کو اللہ کا گھرکیوں کہتے ہیں ؟

جواب: مسجد میں اللہ پاک کے کام یعنی عبادت ہوتی ہے ،اس لیے مسجد کو اللہ کا گھر کہتے ہیں ۔

سوال: کیا دل(Heart) بدلتا رہتا ہے ؟

جواب: جی ہاں ! دل اُلٹ پَلٹ ہوتا رہتا ہے ،اسی لیے عربی میں اسے قلب کہتے ہیں ،دل کی کیفیت بدلتی رہتی ہے ،اس لیے نیکی کا جیسے ہی خیال آئے توفوراً کر لینی چاہئے۔

حضرت امام باقر رحمۃ اللہ علیہ واش روم میں گئے تو فوراً باہر آ گئے اور اپنا کوٹ اُتار کر خادم کو دیا کہ اسے خیرات کر دو۔ عرض کیا کہ حضور فراغت کے بعد خیرات کر دیتے فوراً باہرآ نے کی وجہ کیا ہے؟فرمایا :میں نے سوچا کہ خیرات کا خیال بدل نہ جائے ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نیکی میں جلدی کرنی چاہئے ۔

سوال: کیا دل بھی سخت اور نرم ہوجاتا ہے ؟

جواب: جی ہاں!دل سخت اور نرم ہوتا ہے۔ نرم دل میں خشیت یعنی خوفِ خدا ہونا ،اللہ پاک کی فرمانبرداری ہوتی ہے ،دل سخت ہونے کے بھی کئی اسباب ہیں مثلاً خوفِ خدا کی کمی ، فضول باتیں کرنا، گناہ کرنا وغیرہ ۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھاکہ باتوں کی مٹھاس اندر کا بھید نہیں کھولتی، مور کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ سانپ کھاتا ہو گا، آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: بعض اوقات بظاہر بہت خوش اَخلاقی کا بر تاؤ کیا جا رہا ہوتا ہے مگر اس میں اپنا کوئی دُنیاوی مقصد ہوتا ہے مثلاً دوکاندار گاہک کو مال تھمانے کے لیے خوب خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر تا ہے ۔بعض لوگ کسی کے آنے پر کہتے ہیں کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مگر دل میں یہ ہوتاہے کہ یہ کہاں سے آگیا ؟۔بہر حال ملاقات تو خوش اخلاقی سے کرنی چاہئے مگر جو دل میں نہ ہو وہ الفاظ نہ بولے جائیں مثلاً دل میں خوشی نہیں تو یہ نہ کہے کہ مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی وغیرہ۔

سوال:تصوف کی معلومات کے لیے کون سی کتابیں پڑھیں،اسلامی بہنیں تصوف کی راہ پر چلنے کے لیے کیا کریں ؟

جواب:امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب منہاج العابدین،احیاءُ العلوم وغیرہ کا مطالعہ کریں(یہ کتابیں دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net سے فری ڈاؤن لوڈ اورمکتبۃ المدینہ سے قیمتاً حاصل کی جاسکتی ہیں)۔اسلامی بہنیں بھی دعوتِ اسلامی سے وابستہ رہیں ،اسلامی بہنوں کے ساتھ دِینی کاموں میں مصروف رہیں ۔

سوال: صالحین کی پہچان فی زمانہ کیسے ہو؟

جواب: اس دور میں صالحین(نیک بندوں) کی پہچان کا معیار اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،جواِن سے محبت کریں اور ان کی رہنمائی کے مطابق دِین پر عمل کریں تو اُسی کی صحبت اختیار کریں ۔

سوال: انسان نما بھیڑیا کون ہوتا ہے ؟

جواب: جو لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں وہ انسان نما بھیڑیے ہیں، ان سے بچنا چاہئے، ان کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے، بعض تو ایمان ضائع کرنے والے ہوتے ہیں گویا انسان کا لباس پہنے بھیڑے ہوتے ہیں، ان سے بچنے کے لیے ان کی کوئی بات نہ سنیں اور دعوتِ اسلامی کے دِینی ماحول سے وابستہ رہیں ۔

سوال: عشقِ مجازی ہو جائے تو اس کا علاج کیا ہے؟

جواب: عشقِ مجازی ( کسی انسان کا کسی دوسرے انسان کی خوبصورتی،اَخلاق یا شخصیت کی محبت میں گرفتار ہوجانا عشقِ مجازی کہلاتا ہے) بڑا مُوذی اور خطر ناک مرض ہے، بندہ صبر کرے ،بغیر اجازتِ شرعی آپس میں نہ ملے ،خط و خطابت،(واٹس ایپ،موبائل میسج) اور تحفہ تحائف لینا دینا نہ کرے ۔مکتبہ المدینہ کی کتاب ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ صفحہ 148 تا181 کا مطالعہ کریں۔

سُوال: عشق بازی سے پیچھا چُھڑانے کے لیے کوئی وظیفہ بھی بتا دیں۔

جواب: عشق بازی سے پیچھا چُھڑانے کے لیے قرآنی آیات پر مشتمل یہ عمل کریں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،لَآاِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ،اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌبا وضو 3، 3 بارپڑھ کر(اوّل و آخر ایک بار دُرُود شریف )پانی پر دم کر کے پی لیں یہ عمل 40 دن تک کریں۔

سوال: عشق ِمجازی سے بچنے بچانے کے لیے کیا کریں ؟

جواب: بچوں اور بچیوں کو ایک ساتھ کھیلنے نہ دیں۔گھر میں شرعی پردہ نافذ کریں۔بچیوں کو پردے اور حیا والا لباس پہنائیں۔نگاہوں کی حفاظت کریں،سوشل میڈیا کا دُرست اِستعمال کریں،فلموں ڈراموں اور گناہوں بھرے چینل نہ دیکھیں، رومانی ناول اور مضامین نہ پڑھیں۔

سوال:حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کون ہیں ؟

جواب:حضرت سیدجلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ حسینی سیّد ہیں،ان کی پیدائش 595ھ کو بخارا میں ہوئی، وہیں حفظ ِقرآن کیا ، یہ مادر زاد(پیدائشی) ولی تھے، آپ عالمِ دین تھے ۔ایک غیر مسلم بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈال دیا مگر آگ نے آپ پر اثر نہ کیا، آپ کے کپڑے سرخ(Red) ہو گئے ،اس وجہ سے سرخ پوش کہلاتے ہیں ۔آپ کا وصال 19جمادی الاولیٰ 690ھ اُچ شریف ،ضلع بہاولپور پنجاب پاکستان میں ہوا اور یہیں آپ کا مزارمبارک ہے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” زبان کی حفاظت کی اہمیت “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”زبان کی حفاظت کی اہمیت“ پڑھ یا سُن لے، اُسے زبان سے ہونے والے اور دیگر تمام گناہوں سے بچا، اپنا پسندیدہ بندہ بنا اور اُس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم