نیکی کے کاموں کے لئے قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی
کو دیں ، امیر اہلسنت کی اپیل
07ذو
الحجۃ الحرام 1447ھ بمطابق 23 مئی 2026ء کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں
دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں
پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل
شرکت کی۔
مذاکرہ
کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے
ہوا جس کے بعد عاشقانِ رسول کے سوالات شروع ہوئے۔ اس دوران شیخِ طریقت، امیرِ
اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے اور
عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت و رہنمائی کی۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال: قربانی کی کھالیں جمع کرنے اورکروانے کے بارے میں امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
مدنی پھول عطافرمائے ۔
جواب:تمام عاشقان رسول ثواب کی نیت سے اپنے ہاں ہونے والی قربانی کی کھالیں دعوتِ اسلامی کو دیں ،دعوتِ اسلامی بہت سے دینی کام کرتی ہے ،اس میں آپ کا بھی
حصہ شامل ہوجائے گا۔اللہ پاک کی رضا کے لیے کھالیں جمع بھی کرنی ہیں۔عموماً لوگ آکر
کھالیں جمع نہیں کرواتے، جاجاکر جمع کرنی ہوں گی ،آپ عاشقانِ رسول سے ملاقات کریں اوران کی قربانی کی کھالیں بک کریں ۔خود بھی نیت کریں کہ جب تک
زندگی ہے،دعوت اسلامی کے لیے کھالیں جمع کروں گا اوردینے والے بھی نیت کرلیں کہ
زندگی بھر اپنے قربانی کےجانورکی کھال دعوتِ اسلامی کودُوں گا،اس نیت کا بھی ثواب
ملے گا۔ان شاء اللہ الکریم
عام
طورپرکھالیں جمع کرنے والوں کے کپڑے بھی ناپاک ہوجاتے ہیں ،پاک کپڑوں کا جوڑاشاپر میں ساتھ رکھیں ،کھالیں جمع کرنے کےدوران بھی پاک
کپڑے پہن کر باجماعت
نمازاداکریں ،کوئی بھی نمازقضا نہیں ہونی
چاہئے،چاہے کیسی ہی مصروفیت ہو ۔
سوال: قربانی کی کھالیں اورقربانی کاگوشت ضائع نہ ہو، اس
کے لیے کیا احتیاط کریں؟
جواب: آج کل گرمی ہے ،اس لیے قربانی کی کھالوں کو پھیلاکرالگ الگ رکھیں،کھال کو
فوراً نمک لگادیں۔قربانی کا گوشت برف میں
رکھیں ،اس کے لیے بڑے برتن کا استعمال کریں،گوشت کے چاروں طرف برف رکھ دیں اورگوشت
کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں ۔چھوٹے پیکٹ بنا کرفریزرمیں رکھیں ۔گوشت کوہمیشہ کے لیے
محفوظ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ
پاک کی رِضا کے لیے عاشقان ِرسول میں تقسیم کردیں ،یہ نیکی ہے اورنیکی ہمیشہ کے
لیے باقی رہتی ہے ۔جو بَٹ گیا(یعنی غریبوں میں
تقسیم ہوگیا) وہ
بچ گیا جو کھالیا وہ فنا ہوگیا۔
سوال: بچےبکرے
کو گھُماتے ہوئے کیا احتیاط کریں ؟
جواب:اس کی دُم اورکان نہ کھینچیں ،رسی بھی زورسے نہ کھینچیں کہ جس سے تکلیف ہواوریہ آپ کو بھی تکلیف نہ دے
۔
سوال: بڑی
عمروالوں کو کون سے شوز (Shoes)پہننے
چاہئیں؟
جواب: میڈیکیٹڈ شوز(Medicated
Shoes) استعمال کریں،ان میں پھسلنے کے چانس کم ہوتے ہیں اورچلنے میں بھی آسانی ہوتی ہے ۔
سوال: سوداخریدتے ہوئے بھاؤکم کروانا کیسا ؟
جواب: یہ سنت ہے ،کم کروانے والا بہت کم قیمت بتائے تو دوکاندارکو ناراض نہیں ہونا چاہئے ۔کم زیادہ کروانے
میں دوکانداراورخریدارکو جھوٹ نہیں بولنا چاہئے ۔
سوال: قربانی کے
جانورکے گوشت کے کتنے حصے
کرنےچاہئیں؟
جواب: قربانی کرنے والا تمام گوشت کا مالک ہے ،اس کے لیے اس کے3 حصے کرنا مستحب ہے ،ایک اپنے لیے ،ایک فقراء(غریبوں) کے لیےاور ایک رشتے داروں کے لیے ۔اگرکوئی ساراگوشت اپنے پاس ہی رکھ
لے توبھی جائزہے،اُسے بُرا نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے بُراکہنا بُراہے ۔
سوال: جانورسرکشی نہ کرے ،اس کے لیے کوئی وظیفہ
بتادیں ؟
جواب: نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے
غلاموں، جانوروں اور بچوں میں سے کسی کا اخلاق بِگڑ جائے (یعنی وہ سرکش و نافرمان ہو جائے)، تو اس کے کان میں (اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ
اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ
یُرْجَعُوْنَ) پڑھو۔
(المعجم الاوسط، جلد 1، صفحہ 27،
رقم الحدیث: 64، الدعوات الکبیر للبیہقی، جلد 2، صفحہ 264، رقم الحدیث: 615)
سوال: جانورکو
ذَبح کرتے وقت کیا پڑھنا ہوتاہے؟
جواب: اللہ
پاک کا نام لیا جائے ،بِسْمِ اللّٰهِ
اَللّٰهُ اَکْبَرپڑھنامُستحب ہے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ فضول
باتوں سے بچنے کی فضیلت ‘‘ پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا ربَّ المصطفٰے! جو کوئی 18 صفحات کارسالہ”فضول باتوں سے بچنے کی
فضیلت“ پڑھ یا سُن لے، اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور بار بار حج و دیدارِ
مدینہ کا شرف عطا فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
تمام زبانیں الہامی ہیں، ہرزبان کا احترام کیا
جائے، مولانا الیاس عطار قادری
29 ذیقعدہ 1447ھ بمطابق 16 مئی 2026ء کو عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی
مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی عاشقانِ رسول
نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
مذاکرہ کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد
عاشقانِ رسول کے سوالات شروع ہوئے۔ اس دوران شیخِ طریقت،
امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے علم و حکمت
سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے اور عاشقانِ رسول کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت
و رہنمائی کی۔
سوال:بال اور ناخن کاٹیں تو بڑھ جاتےہیں لیکن اُنگلی
کٹ جائے تو دوبارہ نہیں بڑھتی اس کی کیا
وجہ ہے؟
جواب:یہ نظامِ قدرت ہے بال اورناخن میں جان ہوتی ہےاسی
لیے تو بڑھتے ہیں مگرکاٹنے سے دردنہیں ہوتا ۔اُنگلی کٹ جائے تو دوبارہ نہیں بڑھتی ،اس میں بال اورناخن والی صلاحیت
نہیں ۔
سوال:قربانی کے جانوروں کو کیاکھلایا جائےاورکتنی مرتبہ کھلایاجائے ؟
جواب:جانورکو کھلایاپلایا جائے،یہ ہماری طرح تین
مرتبہ نہیں کھاتے بلکہ کھاتے رہتے ہیں، اس لیے قربانی کے جانور کے سامنے پانی اور
چارا زیادہ رکھا جائے، کنجوسی نہ کی جائے وہ چاراکھلایا جائے جو وہ کھاتاہے، جس سے جانور خریدنا
ہو اُس سے پوچھ لیاجائے کہ یہ جانور کون ساچارا کھاتاہے۔
سوال:علمائےحق سے وابستہ ہونے کا کیافائدہ ہے ؟
جواب:ہم علمائے حق کے ساتھ وابستہ رہیں گے تو ہماراایمان
کوئی چھین نہیں سکے گا انْ شآءاللہ الکریم۔ان کی تعظیم فرض ہے، اس دورمیں امامِ اہلسنت
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ کا دامن مضبوطی سے تھام لیں اورجو عالمِ دِین ان کا دامن تھامے ہوئے ہیں، اُن کادامن تھام لیں ۔
سوال:نبی ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کون سے مینڈھے(Sheep) کی قربانی فرمائی ہے ؟
جواب:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینۂ منورہ میں سینگوں والے سیاہ وسفید رنگ والےدو مینڈھوں کی قربانی
فرمائی۔(صحیح البخاری، 2/ 612 )حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
فرماتی ہیں کہ نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سینگ والے مینڈھے کو قربانی کے لیےلانے کاحکم دیا پھر مینڈھے کو پکڑ
کرلٹادیا ،اِس کے بعد اسے ذبح فرمادیا۔(مسند احمد،جلد41/39)
سوال:کیا ہرطرح کے الفاظ کا احترام ہے ؟
جواب:جی ہاں !تمام زبانیں الہامی ہیں، ہرزبان کا
احترام کیا جائے ۔ 1980ء میں مَیں نے
سفرحج میں ماچس کی ایک ڈِبیا زمین سے
اٹھائی تھی جس پر کلمہ طیبہ لکھاہوا تھا، مَیں
اسے پاکستان لے آیا تھا۔ہمارے ہاں ادب ہے ،پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے قدموں کی جانب ہیں ۔یہ محبت کی بات ہے ،محبت کی تمام باتیں درست ہیں جو شریعت کی حد نہ توڑیں ۔کعبے
کادروازہ بھی پاکستان کی جانب ہے ۔جتنا ادب کریں کم ہے ،باادب بانصیب ،بے ادب بے
نصیب۔اللہ پاک ہمیں باادب رکھے۔
سوال:دعوتِ اسلامی کے اجتماع میں شرکت کرنے والوں کو
کیانصیحت فرمائیں گے ؟
جواب:اجتماع میں آنے والوں کو چاہیے کہ جوسُنیں اسے یادرکھیں،
اس پر عمل کر یں، انہیں اپنی زندگی میں عملی طورپر نافذکریں، دعوتِ اسلامی کے 12 دینی
کاموں میں شرکت کریں، مال خرچ کرنے سے کم
ہوتا ہے لیکن علم خرچ کرنےسے کم نہیں بلکہ اور بڑھتاہے۔ہرمہینے3دن راہِ خدا کے قافلے
میں سفرکریں، خوفِ خدا، عشقِ رسول، دِین کا درد ملے گا انْ شآء اللہ الکریم۔نیک اعمال کا رسالہ حاصل کریں ،اس میں دیے گئے سوالات کے مطابق روزانہ خانے پُر
کریں اورہر ماہ اپنے ذمہ دارکو جمع کروادیں ۔اس سے نیکیو ں پر استقامت ملے گی
اورآپ معاشرے میں اچھے مسلمان بن کر اُبھریں گے۔
سوال: قافلے
کے جدول(Schedule) پر عمل کرنا کیوں ضروری ہے ؟
جواب:ہم سنتیں سیکھنے کے لیے سفرکرنے والے قافلوں میں
سفرکریں گے اوراس کے جدول (Schedule) پر بھی عمل کریں
گے تو پھر دیکھیں کہ کیسی سدھارآتی ہے، اصلاح ہوتی ہے، دونوں جہاں کا بیڑاپارہوجائے
گا۔بعض قافلے میں تو جاتے ہیں مگران میں عمل کی کمی ہوتی ہے، شایدوہ قافلے کے جدول پر عمل نہیں کرتے ہوں گے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ”عقل مند باپ “ پڑھنے یا
سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
بندے میں تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیئے،
مولانا الیاس عطار قادری
9 مئی 2026ء مطابق 22 ذیعقدہ 1447ھ کی شب عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا
انعقاد کیا گیا جس میں کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور مدنی چینل کے ذریعے
شرکت کی۔
مذاکرہ کا آغاز تلاوت قرآن اور نعتِ رسول سے
ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے
عاشقانِ رسول کے سوالات کے جوابات دیئے اور مختلف امور پر اُن کی رہنمائی فرمائی۔ عاشقانِ
رسول نے دینِ اسلام سے متعلق جو سوالات کئے اُن میں سے بعض درج ذیل ہیں :
سوال:اسلامی تاریخ کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:میں اسلامی(ہجری) تاریخ کو پسند کرتا ہوں جب بھی تاریخ لکھنی
ہو تو اسلامی تاریخ لکھتا ہوں ،پھر عیسوی تاریخ بھی لکھ دیتا ہوں کیونکہ اسی کا زیادہ استعمال ہے۔
سب گواہ ہو جائیں کہ مجھے اسلامی تاریخ سے محبت ہے اور آپ بھی اس سے محبت کریں ، آپ بھی اپنے آپ پر اس کو نافذ کریں ۔
سوال:سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ کے
پوتے اور حجۃ الاسلام مولانا حامدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کچھ بتائیں؟
جواب:مولانا حمادرضا خان نعمانی میاں رحمۃ اللہ علیہ عالمِ
دین، مدرسِ منظرِ اسلام بریلی شریف ہند (India)، استاذُالعلماء اورصاحبِ مجازِ سلسلۂ قادریہ رضویہ تھے۔ ان کی
ولادت 1334ھ مطابق 1916ء کو بریلی شریف میں
ہوئی اور 16ذیقعدہ 1375ھ مطابق 26 جون 1956ء میں باعتبارِ سنِ ہجری 41 سال کی عمر میں منگل کے دن وصال فرمایا۔ آپ کامزار مبارک خاموش کالونی قبرستان، لیاقت آباد ٹاؤن(
کراچی) میں ہے۔ حضرت نعمانی میاں کی عمر جب 4 سال 4 ماہ اور 4 دن ہوئی تو خاندانی
طریقہ و رواج کے مطابق سیدی اعلیٰ حضرت نے بسم اللہ پڑھائی اور سلسلۂ قادریہ رضویہ میں بیعت بھی فرما لیا۔ آپ نے والدۂ
محترمہ سے قرآنِ کریم ناظرہ اور اردو کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔آپ کو تقریباً 5 سال سیدی اعلیٰ حضرت کی زیارت و صحبت حاصل رہی۔
آپ نے علمِ دین اپنےوالدِ محترم حجۃ
الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان سے حاصل کیا اور ان سے سبقاً سبقاً کتبِ تفاسیر و فقہ پڑھیں۔ علامہ محمد ابراہیم خُوشتر صدیقی رحمۃ اللہ علیہ تحریر
فرماتے ہیں: اپنے جدِّ امجد(یعنی اعلیٰ حضرت ) کے زیرِ سایہ 5 سال تک پروان چڑھتے رہے۔ حضرت
نعمانی میاں نے اپنے والدِ ماجد حجۃ الاسلام کا پورا زمانہ پایا۔ سفر و حضر میں
استفادہ کرتے ر ہے۔
سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ:” اپنے ظرف کو
اتنا وسیع رکھیں کہ وہ تنقید کو جذب کر سکے اور تعریف میں بہہ نہ جائے“۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: واہ کیا بات ہے مدینے کی !بڑا پیارا قول مرتب کیا
گیا ہے، بندے میں تنقید کو برداشت کرنے کا مادہ ہونا چاہیئے ،امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ دشمن کی تنقید سے سیکھنا چاہیئے کیونکہ وہ بغیر کسی خوف کے تنقید کرے گا
جبکہ دوست ڈر ڈر کر تنقید کرتا ہے۔ دوسری
بات یہ کہ اپنی تعریف سن کر بہہ نہ جائے یعنی تعریف سُن کر پُھول نہ جائے ۔
سوال: کون سی عظیم ہستیاں سوڈان سے ہیں؟
جواب: حضرت حکیم لقمان رحمۃُ اللہِ علیہ ،حضرت نجاشی رحمۃُ اللہِ علیہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔
سوال: جس کی
بیماری طویل ہو جائے تو اس کے ساتھ ہمارا
کیا انداز ہونا چاہیئے ؟
جواب: ہمارا عزیز، رشتہ دار، دوست یا ہمسایہ بیمار ہو جائے اور بیماری طویل ہو جائے تو گاہے
بگاہے(کبھی کبھار) اس سے ملتے رہیں ،پوچھتے رہیں ،کبھی واٹس ایپ کر دیا کریں تاکہ اُسے بیماری کے ساتھ جدائی کا غم نہ ہو۔ ایسوں کو یا جنہیں کوئی غم ہو جائے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں ۔ میں کئی
مِیل چل کر مریضوں کی عیادت کے لئے گھروں
اور ہسپتال میں جایا کرتا تھا ،میں نے بہت
جنازے پڑھائے ہیں ۔
سوال: مدنی
مذاکرے میں دعوتِ اسلامی کے کن دو مرحومین
کا ذکرِ خیر ہوا؟
جواب:مولانا گلریز عطاری مدنی (منگلا
،کشمیر)اور قاری مسرور عطاری(کراچی)ان دونوں اسلامی
بھائیوں کااسی مہینے میں انتقال ہوا۔دونوں ماشآء
اللہ بااخلاق،مِلنسار، دعوتِ اسلامی
کا دِینی کام کرنے والے اور اپنے اپنے شعبے میں نمایاں طور پر خدمات سرانجام دینے
والے تھے ۔اللہ پاک ان دونوں کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔
سوال: مدرسۃ
المدینہ میں بچوں کو پانی پلانے کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا تاکید فرمائی؟
جواب: مدرسۃ المدینہ اور جامعۃ المدینہ میں طلبہ کوپانی پلانے کااہتمام
کریں ،درجے (کلاس )میں جگ اور گلاس رکھیں تاکہ بچوں کو پانی پینے میں آسانی ہو۔بڑے بھی پانی
پئیں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت کریں گے تو ثواب بھی ملے گا۔ ان شآء اللہ الکریم
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 21 صفحات کا رسالہ ” دِلجوئی کے فضائل “ پڑھ یا سُن لے،اُسے مسلمانوں کے دلوں میں خوشیاں داخل کرنے والابنا کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
2 مئی 2026ء بمطابق 14 ذیقعدہ 1447ھ کی شب
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار
مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل کثیر
عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
مدنی مذاکرے میں تلاوتِ قرآن اور نعت رسولِ
مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد عاشقانِ رسول نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق
رکھنے والی چیزوں کے بارے میں سوالات کئے جس کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت،
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے دوران
ہونے والے بعض سوالات کے جوابات:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھاہوا تھا:”كسی کی تکلیف کو اس کے
گناہوں کی سزا نہ سمجھو“ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟
جواب: یہ نہیں سمجھنا چاہیئے، نہ ہی ہم کسی کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں، نہ کسی کی تکلیف پر خوش ہوا جائے بلکہ اس کے لئے دُعائے خیر کی
جائے کیونکہ ہر آنے والی تکلیف گناہوں کی سزا نہیں ہوتی ،انبیائے
کرام علیہم الصلوۃ و السلام تو گناہوں سے پاک و معصوم ہوتے ہیں،
پھر بھی ان پر تکالیف آتی ہیں، وہ ان کے
درجات کی بلندی کا سبب ہیں، البتہ بعض تکالیف اللہ پاک کی جانب سے ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں،
یہ مومنین کے گناہوں کی معافی اور درجات کی
بلندی کا سبب ہوتی ہیں، البتہ کفار پر سزا کے طور پر آتی ہیں۔
سوال: بعض اوقات جب کسی پر کوئی تکلیف آتی ہے تو لوگ کہتے کہ میرے ساتھ ایسا ایسا کیاتھا تَو اس
پر تکلیف آئی ہے، ایسا کہنا کیسا ہے؟
جواب:اس طرح کہنے والا اپنے آپ کو مقبول کہہ رہا ہے، اپنی تعریف
کر رہا ہے، اس طرح نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ ہمیں یقینی طورپر معلوم نہیں کہ اس پر
تکلیف آنے کی یہی وجہ ہے یا کچھ اور!!! ۔
سوال: حرمین
نام رکھنا کیسا ؟
جواب: جائز ہے ،حرمین
کا معنی دو حرم اور ان سے مراد مکہ مکرمہ اور مدینۂ منورہ مراد لیا جاتا ہے ۔
سوال: کیا بارش کا پانی برکت والا ہے اور بارش برستے وقت دُعا قبول ہوتی ہے ؟
جواب: قرآنِ پاک میں بارش کے پانی کوبرکت والا پانی فرمایا گیا
ہے۔(سورۃ ق، آیت :9) جب بارش ہوتی ہے تو بعض اوقات میں کھڑکی سے باہر ہاتھ
بڑھا کر اس کے پانی سے برکت حاصل کرتا ہوں۔ بارش شروع ہوتے ہی جو پانی ہوتا ہے اسے
نہ پیا جائے کہ فضا گرد آلود ہوتی ہے اور اس کے اثرات اس میں شامل ہو جاتے ہیں
۔بارش کو بُرا نہ کہا جائے ،البتہ دنیا کی ہر نعمت میں زحمت بھی ہوتی ہے ،زیادہ
بارشیں باعثِ زحمت بن جاتی ہیں ،تھوڑی بارش سے بھی بعض اوقات سائیکل اور موٹر سائیکل
والے گِر جاتے ہیں، بارش ہو تو حتی الامکان سائیکل یاموٹر سائیکل نہ چلائی جائے ۔فرمانِ
مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:”2 دُعائیں رد نہیں ہوتیں، اذان کے بعد اور بارش کے
وقت کی دعا“۔(مستدرک للحاکم، حدیث
:2534)
سوال: امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے
اسلامی بہنوں کو کون سی کتابیں ا ور رسائل پڑھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ؟
جواب: اسلامی پردہ ، پردے کے بارے میں سوال جواب اور اسلامی
بہنوں کی نماز۔
سوال: پھلوں کے
چھلکے وغیرہ راستے میں پھینکنے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ؟
جواب:کیلے (Banana)، پپیتے(Papaya) وغیرہ کے چھلکے اور دیگر تکلیف دہ چیزیں راستوں میں پھینک دینا شرعی
،قانونی اور اخلاقی جُرم ہیں، اس سے چلنے
والے گِر سکتے ہیں ،مجھے بتایا گیا کہ میرے
بڑے بھائی کیلے کے چھلکے سے پھسل کر ٹرین
کے نیچے آ کر کٹ گئے تھے اور ان کا انتقال
ہو گیاتھا ۔
سوال: کوّا(Crow) کس طرح لوگوں کو
نقصان پہنچاتا ہے ؟
جواب:چیل(Kite) اور کوّے اپنے
فائدے کے بغیر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، زخمی کر دیتے ہیں، اوپر کوئی چیز پھینک
دیتے ہیں ،چیزیں اُٹھا کر بھی لے جاتے ہیں
،یہ اچھے پرندے نہیں ہیں ۔
سوال: مٹی کے برتن استعمال کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟
جواب: مٹی اور لکڑی
کے برتن استعمال کرنا سنتِ مُسْتَحَبَّہ
ہے، ثواب کی نیت سے رکھیں گے تو ثواب پائیں گےان
شآء اللہ الکریم ۔حضرت سیّدُنا خَباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:”میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوپختہ مٹّی کے برتن سے پانی پیتے ہوئے دیکھا“۔ (معرفۃ
الصحابہ، ج 2،ص174)اعلیٰ حضرت امام
احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم سے تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔ مٹی
یا کاٹھ(یعنی لکڑی) کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزے بھی۔(فتاویٰ رضویہ، ج 22،ص129) مزید فرماتے ہیں: (مٹی کے برتن) میں کھانا پینا بھی تواضُع سے قریب تَر ہے،
کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں نہ اِسراف ہے نہ اِترانا، حدیث
پاک میں ہے:”جو اپنے گھر کے برتن مٹّی
کے رکھے فرشتے اُس کی زیارت کریں“۔(فتاویٰ رضویہ، حصّہ الف، ج 1،ص336ملتقطاً)مٹی کے برتن استعمال کرنے کا میرا معمول بہت پُرانا
ہے،شاید دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے۔مجھے ان سے پیار اور محبت ہے۔ میں جو مٹی کا پیالہ پانی پینے کے لئے
استعمال کرتا ہوں اس طرح کا پیالہ عام طور پر نہیں ملتا،کیونکہ مَیں اس کی پیمائش
سے پانی پیتا ہوں۔
سوال: آپ سونے کے لئے
چٹائی کب سے استعمال کر رہے ہیں ؟
جواب: میراچٹائی پر
سونے کا معمول تو دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے کا ہے اور میں خود بازار لینے جاتا تھا ،میں کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی پسند کرتاہوں اور مُردوں کو نہلانے کے وقت
بھی یہ استعمال ہوتی ہے ۔اس میں موت کی یادبھی ہے ،اب کمزوری کی وجہ سے بیڈ استعمال
کرتا ہوں ،اس پر عموماً چٹائی بچھائی جاتی ہے ۔
سوال: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ
کون تھے ؟
جواب: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ
حنفیوں(یعنی اِمامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکاروں) کے بہت بڑے عالم تھے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”عجیب آزمائش“
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
معاشرے کے لوگوں کی اصلاح کرنے اور انہیں احکامِ
شریعہ سے آگاہ کرنے کے لئے 11 اپریل 2026ء بمطابق 23 شوال المکرم 1447ھ کو دعوتِ
اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا
اہتمام کیا گیا۔
ابتداءً تلاوتِ قرآن کی گئی اور نعت خواں اسلامی
بھائیوں نے پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ
میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت،
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےحاضرین و مدنی
چینل کے ناظرین کو مدنی پھولوں سے نوازا
اور اُن کے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے۔
بعض سوال و جواب
سوال: بچوں کودِین سکھانے کا ماں باپ کوکیادنیاوی فائدہ ہوگا ؟
جواب:ماں باپ اپنے بچوں کو دِین سکھائیں گے تودِینی تعلیم انہیں
ماں باپ کی قدر سکھائے گی،اِنہیں صِلۂ رحمی(یعنی رشتے داروں
کےساتھ حُسنِ سلوک)سےآگاہ کرے گی ۔ والدین کو چاہیئے کہ بچوں کودِین سکھانے میں
دنیاوی تعلیم پر فوقیت دیں ۔
سوال:کیا دِینی منصب کی پذیرائی ہے ؟
جواب: جی ہاں ،دِینی منصب کی پذیرائی ہے ،اگرکسی نے دِین کا کام کیا ہو،کوئی منصب پایا
ہوجیسے امام مسجدکی قدرلوگوں کے دل میں ہوتی ہے ،لوگ ہاتھ چُومتے ہیں ۔
سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھا:” لوگ 4 دن سگریٹ پی کر کہتے
ہیں عادت ہو گئی ہے، موبائل استعمال کر کے کہتے ہیں عادت ہو گئی ہے،کاش ! رمضان کا
پورا مہینا نمازپڑھ کر بھی کوئی کہے کہ
مجھے نماز کی عادت ہو گئی ہے“اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:سگریٹ وغیرہ بُری عادات میں نفس کی مددکرتاہے،بندہ اس میں مبتلارہتاہے، نمازپڑھنےمیں نفس وشیطان
مددنہیں کرتے ۔البتہ کئی لوگ ماہِ رمضان کی برکت سے سارارمضان نمازپڑھتے ہیں، ماہِ
رمضان بغیروعظ کے ایسانورپھیلاتا ہے
کہ لوگ نیکیوں کی طرف مائل ہوجاتے ہیں۔رمضان شریف میں لوگوں
پربھرپورانفرادی کوشش کی جائے(یعنی ایک ایک کونیکی کی دعوت دی
جائے) تو کئی نمازی رمضان کے بعد بھی نماز پر استقامت پائیں گے۔اس لئے ماہِ رمضان میں نئے نمازیوں پرانفرادی کوشش کرنی چاہیئے ۔
سوال:کیا تحریم نام رکھ سکتے ہیں ؟
جواب:جی!تحریم کے کئی معنیٰ ہیں ،عزت کرنا ،حُرمت کرناوغیرہ۔
سوال : ظاہری اصلاح
اورباطنی اصلاح میں سے کس کوفوقیت دینی چاہیئے ؟
جواب: ظاہری اورباطنی
اصلاح دونوں ضروری ہیں ۔دونوں کی اصلاح
ساتھ ساتھ کرنی چاہیئے ۔
سوال : نیکی کی
دعوت کب دینی چاہیئے ؟
جواب: نیکی کی دعوت دینازندگی
کے ساتھ متصل (یعنی ہماری زندگی میں شامل)
ہے۔جب جیسے ہی موقع ملے فوراً نیکی کی
دعوت دینی چاہیئے ۔
سوال : ملازمین کے
ساتھ کیساسلوک کیاجائے ؟
جواب: ملازمین
اورماتحتوں کو عزت دی جائے ،ان کے ساتھ
اچھاسلوک کیا جائے ،ان کا احساس کیا جائے تو ان کا دل خوش ہوگا،آپس میں محبت بڑھے گی ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ محتاط گفتگو کیجئے ‘‘ پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ” محتاط گفتگو کیجئے
“پڑھ یا سن لے،اُسے ہمیشہ محتاط گفتگو اوراعمال میں احتیاطیں کرنا نصیب
فرمااور جنت الفردوس میں ماں باپ سمیت بے حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں امیرِ اہلِ سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ عاشقان ِ
رسول کے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔
اسی سلسلے میں 4 اپریل 2026ء بمطابق 16 شوال
المکرم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام
کیا گیا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے کیا گیا۔
تلاوت و نعت کے بعد براہِ راست اور بذریعہ مدنی
چینل سوالات کا سلسلہ ہوا جس میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ
اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے جوابات دیئے۔
بعض سوال و جواب:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”دوست ایسا ہونا چاہیئے جو آپ
کے سامنے اللہ پاک کا ذکر کرے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں آپ کا ذکر کرے“ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:بہت پیاری بات ہے ،ایسے کی صحبت اختیار کی جائے جو نیک ہو، جسے دیکھ کر خدا یاد آئے اور وہ آپ کے لئے اللہ
پاک سے دعا کرے ۔
سوال: جب بندہ گفتگو
کرتا ہے تو اس کا نیک ہونا ظاہر ہو جاتا ہے ،کیا یہ درست ہے ؟
جواب:یہ درست بھی ہے اور نہیں بھی ۔بعض لوگ نیک ہوتے ہیں اور ان کی گفتگو سے ان کا نیک ہونا ظاہر ہوتا ہے اور بعض گفتار کے غازی ہوتے ہیں(یعنی باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن
عمل کچھ بھی نہیں ہوتا) ،کوئی تصوف
کی کتاب پڑھ لیتے ہیں اور نیکوں والی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ،مگر وہ نیک ہوتے نہیں ،ایسوں کی تو گلی میں بھی نہیں
جانا چاہیئے (یعنی ایسوں
کی صحبت سے بچنا چاہئے)۔
سوال:بچے کو بچپن میں کیا سکھایا جائے ؟
جواب:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :اِفْتَحُوْا عَلٰی صِبْیَانِکُمْ اَوَّلَ کَلِمَةٍ بِـلَآ
اِلٰہَ اِلَّااللہُ یعنی اپنے بچوں
کو پہلی بات لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ سکھاؤ ۔ (شعب الایمان:8649) آپ کا بچہ جب بولنے لگے تو سب سے پہلے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ بولے ۔اس کے لئے اس کے سامنے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پڑھتے رہیں ،پہلے مائیں لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کی لوری دیتی تھیں
،اَب پنگھوڑے(جُھولے) میں میوزک لگا دیتے ہیں ،ایسا نہ کیا جائے بلکہ
بچے کے سامنے کلمہ شریف(لآ اِلٰہَ اِلاَّاللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ) پڑھتے رہیں۔ اس کے علاوہ
آپ سب بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتے رہیں۔میں بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتا رہتا ہوں تاکہ مرتے وقت بھی میرا آخری کلام کلمہ شریف ہو۔
سوال:پہلے دعا میں دل لگتا تھا،خشوع و خضوع نصیب ہوتا تھا ،اب ایسا نہیں،کیا
کروں ؟
جواب:ایسے شخص کو چاہیئے کہ وہ گناہوں سے سچی توبہ کرے اوردُعا میں رونے کی کوشش کرے کہ
نیک لوگوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔یادرکھئے!جو گناہوں میں مصروف رہتا ہے اسے
عبادت میں لذت نصیب نہیں ہوتی ۔
سوال:شوال شریف کی کیا
خصوصیات ہیں ؟
جواب:اس مہینے کا
پہلا دن عیدالفطر ہے جو بہت بابرکت ہے ،اس
میں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کی عام مغفرت ہوتی ہے۔حدیثِ پاک کی
مشہور کتاب صحیح بخاری کے مصنف امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا
یوم عرس بھی اسی دن(یعنی پہلی شوال کو ) ہے ۔
٭شوال میں 6 روزے(شش عید) رکھے
جاتے ہیں ،حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے راوی ، کہ رسول اﷲ صلی
اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے
رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد6 دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا،
جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے“۔( المعجم الاوسط، ج6، ص234، باب المیم، الحدیث: 8622)
٭ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عیدالفطر کے بعد6روزے رکھ
لئے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے 10ملیں گی تو
ماہِ رمضان کا روزہ 10مہینے کے برابر ہے اور ان 6دنوں کے بدلے میں 2 مہینے تو پورے
سال کے روزے ہوگئے“۔ (السنن
الکبری للنسائی، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، ج2، ص162۔163، الحدیث:
2860 ۔ 2861)
٭شوال میں اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی یعنی یہ رسولِ
کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر آئیں۔15 شوال کو سَیِّدُالشَّہَدَاء(شہیدوں کے سردار) حضرت امیر
حمزہ رضی اللہ عنہ
اوردیگرشہدائے اُحد کا یوم عرس ہے ۔
سوال:علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
جواب:علم نافع کا مطلب ہے: نفع دینے والا علم ۔بعض دنیاوی علم بھی نفع دیتے ہیں مگر تمام
دینی علوم نفع دینے والے ہوتے ہیں، اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ علمِ نافع وہ ہوتا ہے جو دل میں اثر کرے اور دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت پیدا کرے، جب دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت ٹھہر جائے تو بندہ نیک اعمال کی طرف رغبت کر لیتا ہے ۔
سوال:عالمِ دین کی کیا شان ہے؟
جواب:عالمِ دین کی بڑی شان ہے،اس کے لئے سمندر میں مچھلیاں
اورزمین میں چیونٹیاں دُعا کرتی ہیں ،جب وہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے چلتا
ہے تو فرشتے اس کے لئے پر بچھاتے ہیں ،عالمِ دِین کو دیکھنا عبادت ہے ۔ہر گھر میں
کم از کم ایک عالم اور ایک عالمہ ہونے چاہئیں ،یہ والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے
اور آخرت میں جنت میں داخلے کا سبب بنیں
گے ،ان شآء اللہ الکریم۔دیگر اسلامی بھائی بھی عالم بنیں ،نہیں بن سکتے تو جتنوں کو ہو سکے جامعۃ المدینہ
میں داخلہ دلوائیں ،اگر ہو سکے تو مجلس جامعۃ المدینہ سے مشورہ کر کے کسی طالب علم کا خرچہ اٹھا لیں ۔ہراسلامی بھائی کم از کم ایک
اسلامی بھائی کو جامعۃ المدینہ میں ضرور
داخل کروائیں اور فالواپ کریں ۔پوچھتے رہیں ،توجہ رکھیں تاکہ وہ چھٹیاں نہ کرے ۔آج
دورہ حدیث والے بھی جمع ہیں ،آپ سب بھی کوشش کریں ۔ اسلامی بہنیں اپنے محارم اور دیگر اسلامی بہنوں
کوتیار کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل
کروائیں ۔علمِ دین عام ہو گیا تو معاشرے کی اصلاح ہو گی اور نیکیوں کا دور دورہ ہو
جائے گا ۔
حدیثِ
پاک میں ہے:اِنَّ
الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ
یعنی بے شک نیکی کی راہ دکھانے والا، نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔( ترمذی ،4 /308، حدیث:2679)مشہور مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا اور مشورہ دینے والا، سب
ثواب کے حقدار ہیں۔(مرآۃالمناجیح،۱ /۱۹۴بتغیر قلیل)سب مل کر زور لگائیں
اور اس سال دُنیا بھرکے جامعۃ المدینہ(بوائز،گرلز) میں 21ہزارطلبہ و طالبات کو داخل
کروائیں ۔ مدرسۃ المدینہ میں اس مرتبہ جتنے حافظ بنے ہیں ان سب پرقاری صاحبان اور
اسلامی بھائی انفرادی کوشش کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔قاری صاحبان خود
بھی عالم بنیں اور حفاظ کو بھی اس کے لیے تیار کریں ۔ حافظِ قرآن اچھا عالمِ دِین بنتا ہے ۔
سوال:معاشرے میں دوسروں کا احساس کم ہے، لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:جہاں قانون پر عمل ہوتا ہے وہاں لوگ ایسے کام نہیں کرتے
جس سے دوسروں کوتکلیف ہو، البتہ قانون خاموش بھی ہو تو دینی تعلیمات موجود ہیں
کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ کسی کو تکلیف ہو ۔حدیث پاک میں ہے: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو
گے۔( بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)ایک اور حدیث پاک میں ہے :مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ( مسند امام احمد ، 2 / 654، حدیث: 6942 )کسی کو شر نہ پہچانا جنت میں لے جانے والا عمل
ہے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” نیک اعمال پراستقامت پانے کے طریقے“
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
جواب:یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال
پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لے، اُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں
باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
28 مارچ 2026ء بمطابق 9 شوال 1447ھ کی شب
معمول کے مطابق دعوتِ اسلامی کے عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں کراچی
کے مقامی عاشقانِ رسول نے براہِ راست جبکہ بیرونِ شہر اور
بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
تلاوتِ قرآن اور نعت شریف سے مدنی مذاکرے کا آغاز کرنے کے بعد عاشقانِ رسول کی جانب سے
سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی
حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔
بعض سوال و جواب
سوال: بچوں کو گلی محلے میں کھیلنے کے لئے بھیجنے کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:گلی محلے کا ماحول عموماً ٹھیک نہیں ہوتا، اس میں
تربیت پر بُرا اثر پڑتا ہے۔ گھر میں کھیلنے کا سامان ہونا چاہیئے تاکہ اسے حسرت نہ
ہو۔ بچوں کو کھیلنے سے منع نہ کیا جائے کہ طبی طور پر اس کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ اسی صور ت میں ہو سکے گا کہ شروع سے ہی اسے
گھر میں رکھا جائے اور گھر کا ماحول بھی اچھا ہو۔ بچپن سے ایسی عادت ڈالیں گے تو ویسا ہی ہو گا۔ گھر میں بھی حتی الامکان موبائل سے دُوررکھیں
۔مگر شاید ہی کوئی گھر اس سے بچا ہو۔ موبائل نے بچوں بلکہ بڑوں کو بھی تباہی کے
دھانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔”بہر
حال بُری صحبت بُرا پھل لاتی ہے، اس سے بچانا ضروری ہے“ ۔
سوال:بچوں کو سمجھانے کا انداز کیسا ہونا چاہیئے؟
جواب:بچوں کوان کے انداز میں سمجھائیں گے تو یہ سمجھیں
گے، مشکل الفاظ استعمال کریں گے تو انہیں سمجھ نہیں آئے گی۔
سوال:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا
یومِ ولادت کون سا ہے؟
جواب:میرے آقااعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا
یومِ ولادت 10شوال ہے۔اس سال پیر(Monday) کو 10 شوال (30-03-2026) ہے ،اس دن
روزہ رکھ کر یومِ ولادت منایا جائے اور اس روزے کا ثواب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو
ایصال کیا جائے ۔
سوال:مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
سے عمرے کی اجازت مانگی تو آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے کیا فرمایا؟
جواب:نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
نے اجازت دیتے ہوئےفرمایا:أَشْرِكْنَايَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ لاَ تَنْسَنَااے میرے بھائی !اپنی دُعا میں ہمیں بھی شامل
رکھنا، بھُولنا نہیں ۔(سنن ترمذی
،5/559)حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس
بات کو یاد کر کے لطف اٹھاتے تھے۔
سوال:بچوں کو کھلانے پلانے میں کیا احتیاط کریں؟
جواب:بچوں کو بسکٹ ،ٹافیوں اور دیگر بازاری چیزوں سے
بچائیں،ورنہ یہ بیمار اور کمزور ہو جائیں گے۔گھر میں بھی کھانے پینے میں احتیاط
کرنی چاہیئے ،بلغمی مزاج ہو تو چاول بھی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں اور نزلہ زکام
ہوجائے گا۔جو کہتے ہیں کہ مجھے دائمی نزلہ ہے وہ بھی چاول کھانا چھوڑ دیں تو نتیجہ خود دیکھ لیں گے ۔
سوال:دعوتِ اسلامی ’’ماہِ اپریل2026ءماہِ اجتماع
‘‘کے طور پر منا رہی ہے، اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:دعوت اسلامی کا ہفتہ واراجتماع بڑی کوششوں سے
شروع ہوا، آپ ہر جمعرات کو ہونے والے ہفتہ واراجتماع میں ضرور شرکت کیا کریں ۔کوشش
کریں کہ کبھی ناغہ نہ ہو، ایک ایک پر انفرادی کوشش کر کے(یعنی
نیکی کی دعوت دےکر،پیارمحبت سے سمجھاکر، ترغیب دلاکر) ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کروائیں ۔اسلامی بہنیں بھی اس میں کوشش کریں کہ خود
بھی اسلامی بہنوں کے اجتماع میں شرکت کریں
اوراپنے محارم(شوہر،والد،بھائی،بیٹےوغیرہ) کو اسلامی بھائیوں کے ہفتہ واراجتماع میں بھیجیں۔
سوال:مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب ’’مکتوباتِ
امیر اہل سُنّت‘‘ کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا؟
جواب:مکتوبات والی کتاب کئی اسلامی بھائیوں نے پڑھ لی
ہے، جس نے نہیں پڑھی وہ بھی پڑھ لیں۔(مکتوب کا معنیٰ ہے خط/Letter)
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” لمبی عمر پانے کا نسخہ “
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں معتکفین کو امیرِ اہلِ
سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی پھول
7
مارچ 2026ء بمطابق 18 رمضانُ المبارک 1447ھ کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف
شہروں سے آئے ہوئے معتکفین سمیت دیگر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ
تراویح ہوا جس میں تلاوتِ قرآنِ پاک کی
گئی اور نعت شریف پڑھی گئی جبکہ وقتِ
مناسب پر شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی آمد بھی ہوئی۔
امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے
مدنی مذاکرے میں شریک تمام لوگوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرتے ہوئے انہیں مختلف
مدنی پھولوں سے نوازا اور اُن کی جانب سے
ہونے والے سوالات کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” ہمارے معاشرے میں صلح کی بیٹھک کا مقصد کمزور کو اپنا حق چھوڑنے پر
مجبور یا راضی کرنا ہوتا ہے“، اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:یہ
صلح نہیں ہے ،یہ تو ظلم ہے ،صلح کروانے کی قرآنِ پاک میں پذیرائی ہے ،اس کو خیرکہاگیا
ہے ۔صلح کروانا سُنّتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بھی ہے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ سے بھی افضل عمل نہ
بتاؤں؟ صحابہ ٔکرام علیہم الرضوان نے عرض کی: یا
رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ضرور بتایئے۔
ارشاد فرمایا: وہ عمل آپس میں رُوٹھنے
والوں میں صلح کرادینا ہے کیونکہ رُوٹھنے والوں میں ہونے والا فساد بھلائی کو ختم
کردیتا ہے۔ (سنن ابو داؤد، 4 / 365،حدیث: 4919)
فرمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:سب سے افضل صدقہ رُوٹھے ہوئے لوگوں میں صلح کرادینا
ہے۔(الترغیب و الترہیب، 3/321) صلح کروانے کی بہت
اہمیت ہے ،صلح کروانے کےہرجملے پر ایک غلام آزادکرنے کا ثواب اورمغفرت کی خوشخبری
ہے۔جوصلح کرواسکتاہو تو اُسے ضرور صلح کروانی چاہیئے ۔
سوال:صلح
کروانے والا کیسا ہونا چاہیئے؟
جواب:صلح
کروانے والے کو صلح کروانا آنا چاہیئے،خود ہی غصہ میں آجاتا ہو تو صلح کیسے کروائے
گا؟ کسی کی رُو رَعایت نہ کرے ،کسی جانب جھکاؤ نہ ہو۔ہمیشہ حق کی حمایت کرے ۔
سوال:باون(52) کا عدد کس کی یاددلاتاہے ؟
جواب:
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی
اللہ عنہ کی یاددلاتاہے ۔بوقت ِشہادت آپ کی عمرمبارک 52سال تھی ۔
سوال:
ادب کی کیااہمیت ہے؟
جواب:
ادب کابول بالاہے، بے ادبی کا منہ کالاہے ۔قول ہے: وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا أَدَبَ
لَهُ یعنی جو باادب نہیں اس کا کوئی
دِین نہیں۔(فتاویٰ رضویہ، 28/ 158)ہم ادب کرنے والوں (اولیائے
کرام وعلمائے کرام) کے پیچھے پیچھے
ہیں اوریہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے پیچھے ہیں،اسی طرح جنت میں داخل ہوں گے۔ان شآء اللہ الکریم
سوال : کون سے نبی علیہ السلام
مچھلی کے پیٹ میں 40 دن رہے؟
جواب: حضرت یونس
علیہ السلام ۔
سوال:
اِس ہفتے کارِسالہ’’ سکون بخش آیتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے
والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
28 فروری کو ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا سلسلہ،
امیر اہلسنت نے مدنی پھول ارشاد فرمائے
عاشقانِ
رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے
کے لئے 28 فروری 2026ء بمطابق 10 رمضانُ المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس
کے بعد نعت خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کی بارگاہ میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت
و نعت کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ
مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے
علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ
کیجئے:
سوال:ایک پوسٹ میں
لکھا تھا:” زیادہ جینا
ہے تو کم کھائیں“، اس بارے میں آپ کیا فرماتے
ہیں ؟
جواب:یہ بات طبّی
طورپر دُرست ہے ،زیادہ کھانے سے جان بنتی نہیں بلکہ بگڑتی ہے ، زیادہ کھانے والے کوطرح طرح
کی بیماریاں لگ جاتی ہیں ،حدیث پاک کے مطابق پیٹ کے 3 حصے کرنے چاہئیں ، ایک حصہ
کھانے،ایک حصہ پانی اورایک حصہ سانس کے لیے مختص کیاجائے ۔فرمانِ مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ
والہ وسلم):آدمی اپنے پیٹ
سے زیادہ بُرابرتن نہیں بھرتا،انسان کے لیے چندلقمے کافی ہیں ،جو اس کی پیٹھ
کوسیدھا رکھیں ،اگرایسانہ کرسکے تو تِہائی (3/1)کھانے کے
لیے ،تہائی پانی کے لیے اورایک تِہائی سانس کے لیے ہو۔(ابن ماجہ ،4/48،رقم، 3349 ) جوباوجودِخواہش اللہ پاک کی رضاکے لیے ایک نوالہ کم کردے تو اس
کا ایک درجہ بلند ہوجاتاہے ۔
سوال:تکبُّراورخود
پسندی میں کیا فرق ہے؟
جواب:اپنے سے دُوسرے کوگھٹیا جانناتکبرہے، خود پسندی یہ ہے کہ کسی کو کوئی نعمت
حاصل ہو تو اسے اپناکمال جانے اوراس کے زوال سے توجہ ہٹ جائے ۔دونوں بڑی آفتیں ہیں ،جس کے دل
میں ذرّہ برابرتکبُّرہوگا اسے جہنم میں
داخل کردیا جائے گا ۔یہ بہت بڑی بلاہے ، بندہ اس سے اللہ پاک کی پناہ مانگے۔ تکبرکے
بارے میں معلومات ہونا فرض علم سے ہے ،اس کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’تکبُّر‘‘کا مطالعہ کریں ۔
سوال:دوسرے کے بارےمیں رائے
قائم کرلینا کہ فلاں متکبِرہے،اس کے بارے آپ کیافرماتےہیں ؟
جواب: بغیر قرینے اوردلیل کےکسی کے متکبِرہونے کی رائے قائم کرلینا بدگمانی
ہے، اس سے بچناضروری ہے ،تکبردل کی کیفیت ہے،یہ باطنی
بیماری ہے،اسے معلوم کرنےکے لیے کوئی مشین نہیں ہے ۔اس طرح رائے قائم کرنے والا
تہمت وغیبت میں مبتلا ہوجاتاہے۔گھروں میں
بھی تہمتوں کا سلسلہ ہے ۔اسکی معافی تلافی مشکل کام ہے۔ پیارے آقا صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے زبان سےلٹکے لوگ
دیکھے ،بتایاگیا یہ گناہ کاالزام لگانے والوں کی سزاہے۔بظاہر نیک نظرآنے
والابھی اس میں مبتلاہوجاتاہے ۔اس کی وجہ یہ ہےکہ لوگ فرض علوم سے ناواقف ہیں ۔
سوال:جھوٹ اورغیبت کی تعریف کیا ہے؟
جواب: سچ کا اُلٹ جھوٹ ہے اوربطورِبُرائی
کسی کا عیب اُس کی غیر موجودگی میں بیان کرنا غیبت ہے۔
سوال
: دُعاکے
وقت کیسااندازہوناچاہئے؟
جواب: دُعاکے
وقت رونا آئے تو سعادت کی بات
ہے،ورنہ رونے کی سی صورت بنائی جائے کہ اچھوں کی نقل بھی ا چھی ہوتی ہے ،دعا کے
وقت آنکھوں میں آنسوآجانااسے قبولیت کے قریب کردیتاہے ۔یہ کہاگیا ہے کہ غموں سے بھرے دل کی دعا قبول
ہوتی ہے
سوال: بزرگ یعنی بڑی عمروالے دُوسروں کو
نمازکی دعوت کیسے دیں ؟
جواب:بزرگ بھی لوگوں کو
پہلےسلام کریں ،پھر
مختصرانداز میں نمازکی دعوت دیں ، بزرگوں
اورامام صاحبان کا اپنا اثرہوتاہے۔ہم سب
نمازکی دعوت دینے والے بن جائیں تو مساجدآبادہوجائیں ۔مساجدکی ویرانی کی ایک
وجہ نمازیوں کانمازکی دعوت نہ دینا بھی ہے۔ ہرمسلمان مبلغ ہے جس کو جتنا آتاہے ،دُوسروں
کو نیکی کی دعوت دے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یااللہ پاک! جو کوئی 24 صفحات کا رسالہ”رمضان الکریم منانے کے پُرکیف انداز“ پڑھ یا سُن لے، اُسے ماہِ رمضان کی محبت سے مشرف فرماکر خوب نیکیاں کرنے کی
توفیق عطا فرما اور اس کو والدین سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ دے کر سب سے
آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کا پڑوس نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ
خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
عاشقانِ رسول کو ماہِ رمضان کی ساعتوں سے فیضیاب
کرنے اور انہیں دینِ مسائل سے آگاہ کرنے کے لئے 21 فروری 2026ء بمطابق 4 رمضانُ
المبارک کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی
مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں معتکفین (یعنی اعتکاف کرنے والے) سمیت
کثیر اسلامی بھائی شریک ہوئے۔
مدنی
مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ تراویح رات تقریباً 10:45 پر تلاوتِ قراٰن سے کیا گیا جس کے بعد نعت
خواں اسلامی بھائیوں نے حضور نبیِ کریم صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ
میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔
تلاوت و نعت کے بعد شیخِ طریقت،
امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر
قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و
ناظرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے علم و حکمت بھرے انداز میں جوابات ارشاد
فرمائے۔
بعض سوال و جواب:
سوال: بچی کا نام فاطمۃُ الزَہرا رکھا جائے یا مجرد فاطمہ ؟
جواب: یہ نام
اچھا ہے۔ زَہراکا معنی ہے” کلی“(Bud) ،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی کلی ہیں مگرحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کانام اکیلا فاطمہ ہے اورزہرااُن کالقب ہے ۔
سوال: نام کیسارکھا
جائے ؟
جواب: بچے کا نام محمد رکھا جائے،پکارنے کے لئے اہلِ بیت
،صحابۂ کرام اوربزرگوں کے نام سے کوئی بھی نام رکھا جائے ۔نام اچھا رکھنا چاہیئے جیسےمحمد ابراہیم، محمد بلال وغیرہ۔یونیک نام رکھتے ہوئے ایسا نام
نہ رکھا جائے جس کا معنیٰ ہی درست نہ ہو۔
سوال: مسجدکے
امام اورمؤذن صاحب کو سحری/افطاری دینے کے
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: مسجدکے امام اورمؤذن کو بھی سحری/افطاری بھیجنی چاہیئے
۔عام طورپر ان کی تنخواہ اورآمدن کم ہوتی ہے ،رقم بھی پیش کریں۔جمعہ کو ہرنمازی
کچھ نہ کچھ خدمت کرے تو ان کا راشن آجائے۔اسی طرح عیدین،دیگراسلامی ایونٹس(Islamic Events/جیسےشبِ
معراج، شبِ براءت،شبِ قدر وغیرہ)کے
موقع پر ان کی خدمت کریں۔یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کہ میرا راستہ بن جائے، ایساہرگزنہیں
، مَیں نے کئی سال امامت کی ہے مگرمسجدکا کبھی کھانا نہیں کھایا،اپنے گھر کا
کھاناکھاتاتھا۔
سوال: امام صاحب کا کسی نمازی سے کوئی سوال یا قرض مانگنے کے
بارےمیں کیا مشورہ دیں گے ؟
جواب: امام صاحب کو چاہیئے کہ لوگوں سے سوال نہ کریں ،قرض بھی
نہ لیں ،اس سے وقاراورعزت کم ہوتی ہے۔ان کا پیشہ عزت وعظمت والاہے ۔دینےوالا آہ کرکے دیتاہے اورلینے والاواہ کرکے
لیتاہے ۔
سوال: مکتبۃ المدینہ
کی شائع کردہ کتاب ’’عمامہ کے فضائل‘‘کے بارے میں امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟
جواب: عمامہ شریف
کےفضائل پرمشتمل المدینۃ
العلمیہ کی کتاب ’’عمامہ کے
فضائل‘‘مکتبۃ المدینہ نے شائع کی ہے۔شاید اردو میں اس موضوع پر اتنی بڑی اورکتاب نہیں ہے ،اسے لیں،پڑھیں اورلائبریری کا حصہ بنائیں ۔اس سے عمامہ شریف
سے محبت میں اضافہ ہوگا۔عمامہ باندھاکریں ،اس سے جھجک ختم ہو جائے گی ، کسی نے کوئی
بات کردی تو اسے برداشت کرلیں کسی سے کوئی جھگڑانہ کریں۔
سوال: آپس کے تعلقات
کے کیا فائدے ہیں ؟
جواب: کھوٹاسِکّہ بھی
وقت پر کام آجاتاہے ،نافرمان بیٹابھی مددکردیتاہے ۔جان پہچان اورتعلقات کاکبھی نہ
کبھی فائدہ ہوتاہے۔جو ملنساراورتعلقات رکھنے والے ہوتے ہیں ،بعض اوقات جاننے والے
اس طرح کام آجاتے ہیں کہ گھر کاکوئی فرد اس طرح کام نہیں آتا۔خاندان والوں اوردیگرلوگوں
کے ساتھ تعلقات رکھنےچاہئیں ۔دس دوست ہوں تو ضروری نہیں سارے کے سارے بے وفاہوں
،ضرورت کے وقت کوئی تو مددکرے گا۔ شادی بھی کرنی چاہیئے، بال بچے ہوں گے تو گھرکی
رونق ہوگی، بیمار ہوں گے تو خدمت کریں گے۔ ہم خودملنسارہوں گےاور لوگوں کے دُکھ
دردمیں شریک ہوں گے تو لوگ بھی ہمارے دُکھ درد میں شریک ہوں گے ۔البتہ تعلقات اللہ پاک کی رضا کے لئے ہونے چاہئیں ۔اچھے لوگوں سے
تعلق بنایاجائے ،جیسے دعوت اسلامی کادِینی ماحول ہے ۔ دعوت اسلامی کا مفادہے کہ ایمان کی
حفاظت ہو،سب نمازی بن جائیں ،جنت کا حصول ہو،اس سے وابستہ ہوجائیں ۔
سوال: گھرآباد ہوں
،جھگڑے نہ ہوں ،گھر نہ ٹوٹیں کیا کریں ؟
جواب: ہمارے معاشرے میں جھگڑے اورگھرٹُوٹنے کا سلسلہ بڑھ گیاہے
۔زیادہ خرابی اس لئے ہوتی ہے کہ دونوں طرف
ضدپیداہوجاتی ہے ۔دونوں کوضدچھوڑنی چاہیئے، جس سے زیادتی ہوئی ہو اسے چاہیئے کہ دوسرے سےمعافی مانگ لے، معافی مانگنے سے لوگوں کے دلوں میں محبت پیداہوتی
ہے ۔ایک کو غصہ آجائے تو دوسرے کو صبرکرنا چاہیئے اورکوئی ایسی ترکیب کرنی چاہیئے
کہ جس سے اس کا غصہ کم ہو ۔بچوں کے سامنے جھگڑا کرنے سے ان کی تربیت میں بُرا
اثرپڑے گا۔جو گھرٹُوٹتاہے اس میں بچوں کا نقصان زیادہ ہوتاہے۔
سوال: گنے کے رس
کے کیافوائدہیں ،کون سارس پیاجائے ؟
جواب: گنے کے رس کے
کئی فوائدہیں ،گنے کا رس ہڈیا ں مضبوط کرتاہے ،خون کی کمی والوں کو مفیدہے
،جگراورگُردوں کی کارکردگی بڑھاتاہے ،دانتوں کے پیلے پن ،چہرے کے کِیل مہاسے
اورجُھریا ں دورکرتاہے ،بغیر برف کے گنے کا رس خریدیں ،گنے کارس وہاں سے لیں جس میں مشین اوربرتنوں کی صفائی کا خیال رکھا جاتاہو ،سکرین والے رس
نہ لیں ،اس کے کافی نقصانات ہیں۔گنا چباکر اس کا رس حاصل کرنا زیادہ فائدے مندہے
۔
سوال: کھا نا کیسے
کھانا چاہیئے ؟
جواب: کھانا
چباکرکھانا چاہیئے ورنہ معدہ خراب ہوجائے گا،دونوں طرف کے دانتوں سے چباکرکھائیں
،اس سے کانوں کی سنوائی میں بھی فائدہ ہوگا۔زیادہ بیماریاں منہ سےجاتی ہیں ،وہ چیزنہ
کھائیں،پئیں جو موافق نہ ہو۔ہم نقصان دہ چیزوں سے بچ نہیں پاتے پھر بیمارہوجاتے ہیں ۔کھانے کی حرص کم کریں صحت مندرہیں گے ،دینی
کام کرسکیں گے۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”رمضان الکریم کی سجاوٹ“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
14 فروری 2026ء مطابق 26 شعبانُ المعظم 1447ھ
کی شب دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران عاشقانِ رسول نے دینی،
اخلاقی اور شرعی امور کے حوالے سے مختلف سوالات کئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے علم و حکمت بھرے جوابات عطا کئے۔
بعض سوال و جواب
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا ہواتھا :کہ آدمی کو مرتے دم تک زندہ رہنا چاہیئے اوراس کے
کردارکو مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہیئے،اس بارے میں آپ کیافرماتے ہیں ؟
جواب: اس کا یہ معنی ہوسکتاہے کہ بندےکو مرتے دم تک زندہ دل
رہنا چاہیئے ، کردارایساصاف سُتھرا ہو اور زندگی اچھائی میں گزارے کہ مرنے کے بعد اسے بھلائی اورنیک نامی
کے ساتھ یاد کیاجائے ۔
سوال:اگر کسی حافظِ قراٰن کونظرکی کمزوری کی وجہ سے عینک لگی ہواورلوگ اُسے کہتے ہوں کہ حفظِ قراٰن کی وجہ سے نظرکمزورہوئی ہے ،اس بارے
میں آپ کیافرماتے ہیں ؟
جواب: یہ غلط فہمی ہے ،ایسا نہیں کہنا چاہیئے کہ اس سے حافظ
صاحب کو بُرالگے گا،اس طرح کہنے سے توبہ
کرنی چاہیئے ۔حفظِ قرآن کی وجہ سے نظر کمزورنہیں ہوتی ،بزرگوں کا قول ہے کہ قراٰنِ
کریم کا دِیدارکرنے سے نظرتیزہوتی ہے ۔ کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین پر اگرقراٰنِ
کریم پڑھیں گے تواس سے نظر کمزور ہوسکتی ہے بالخصوص جب اس کی لائٹ تیز ہو یا کمرے میں
اندھیراہوتو اب بھی اسکرین کی لائٹ آنکھوں کے لئے خطرناک ہے ۔ہرچیز کی ایک حدہوتی
ہے ،جب اسے حدسے زیادہ استعمال کریں گے تونقصان ہوگا۔
سوال: کیا موقع
ملنے کے باوجود بھی نمازِتہجدنہ پڑھنامحرومی ہے ؟
جواب:لوگوں میں عبادت کا جذبہ کم ہے ،کئی لوگوں کو موقع
بھی ملتاہے مگروہ نمازِتہجدنہیں پڑھتے ،یہ
محرومی ہے ۔نیت سچی تھی مگرجاگ نہ سکا
اورتہجدکی نمازنہ پڑھ سکاتوتہجدکی سچی نیت
کی وجہ سے تہجدکا ثواب پائے گا۔ان شاء اللہ الکریم
سوال: ہرکمال
را زوال کا کیا معنی ہے ؟
جواب: ہرکمال را زوال (را۔زوال) کا معنی ہے کہ ہرکمال کو زوال ہے مگرجسے اللہ پاک عزت دے تو اس کی عزت کو زوال نہیں جیسے
حضورغوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ
اللہ علیہ کی عزت اب بھی ہمارے دلوں میں
ہے ۔
سوال: دعوتِ اسلامی
کے بارے میں آپ کے کیاجذبات ہیں ؟
جواب:دعوتِ اسلامی بہت بڑی نعمت ہے ،دعوتِ اسلامی دعوت اسلامی
ہے ،اے دعوت اسلامی تیری دُھوم مچی ہے ۔
سوال:کیا سرسوں کا تیل(Mustard Oil) کھانے میں استعمال کرسکتے ہیں ؟
جواب: جی کرسکتے ہیں
اوراستعمال کرنابھی چاہیئے ،اس کے کئی فوائدہیں ،آنکھوں اور چہرے کے علاوہ سارے
جسم پر سرسوں کا تیل مَل لیاجائے تو خارش کے لئے مفیدہے ۔مگریادرکھیں! کوئی بھی
علاج کرنا ہوتو اپنے حکیم/ڈاکٹر سے مشورہ ضرورکریں۔
سوال: ماہنامہ خواتین(دعوتِ اسلامی) کااسپیشل(Special) شمارہ ’’خواتین کے لئے اُسوۂ رسول ‘‘کے بارے میں
امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا فرمایا ؟
جواب:یہ اسلامی بھائیوں ،اسلامی بہنوں ،بچوں اور بوڑھوں سبھی
کے لئے مفیدہے،یہ ضرورلیں،پڑھیں اورگھر میں
رکھیں۔25فروری 2026 تک مکتبۃ المدینہ سے 20 فیصد رعایت پر لے سکتے ہیں ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ’’ ماہِ رمضان ماہِ نیک اعمال ‘‘پڑھنے
یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جو دنیا سے محبت کرتا ہے تو دنیا اس سے دور
بھاگتی ہے، مولانا الیاس عطار قادری
7 فروری 2026ء بمطابق 19 شعبانُ المعظم 1447ھ
کی شب دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام معمول
کے مطابق ہفتہ وار مدنی مذاکرہ شروع ہوا جس میں کراچی سٹی کے اسلامی بھائیوں نے
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں آکر براہِ راست جبکہ دیگر شہروں و دیگر ممالک کے اسلامی بھائیوں نے بذریعہ مدنی
چینل شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران مختلف سوالات کا سلسلہ ہوا
جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت،
بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نےعلم و حکمت سے بھرپور
جوابات دیئے۔
بعض سوال و جواب:
سوال:جودُنیادُنیا
کرتاہے تو اس کے ساتھ کیا ہوتاہے ؟
جواب: جودُنیا سے محبت کرتاہے ،صرف دُنیا کوہی حاصل
کرنے میں لگا رہتاہے تو دُنیا اس سے دُوربھاگتی ہے اور جو دُنیا سے کنارا کرتاہے،
دُنیا اس کی طرف بھاگ بھاگ کرآتی ہے ۔ بزرگانِ دین کے مزارات بنے ہوئے ہیں ،لوگ ان
کو ایصالِ ثواب کرتے ہیں جبکہ کئی بادشاہوں کے نام لوگ بھول گئے۔اگریاد ہیں بھی
توان کی بُری شہرت ہے جیسےیزیدکی بُری شہرت ہے ،اسے کوئی ایصالِ ثواب نہیں
کرتاجبکہ نواسۂ رسول،امامِ حسین رضی
اللہ عنہ کی ہمارے دلوں پر حکمرانی ہے
،جنت میں بھی یہ جوانوں کے سردارہوں گے ۔
سوال: پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک
سُن کر انگوٹھے چُومنےکا کیا فائدہ ہے ؟
جواب:پیارے
آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام
مبارک سُن کر انگوٹھے چُومنا تعظیم کے لئے ہوتاہے ۔ مستحب یہ ہے کہ اذان و اِقامت
میں جب پہلی شہادت سُنیں تو کہیں:صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ اور جب دُوسری
بار سُنیں تو دونوں انگوٹھے اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے کے بعدکہیں:قَرَّتْ عَیْنِیْ بِکَ
یَارَسُوْلَ اللّٰہِ پھر یہ کہیں اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ
بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ تو حضور نبیِ
کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ جنّت کی
طرف اس کے قائد ہوں گے۔حدیث شریف میں ہے:جس نے اذان میں اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ سُننے کے بعد اپنے دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا
تو جنّت کی صفوں میں، میں اس کا قائد اور داخل کرنے والا ہوں گا۔( ردالمحتار،2 / 84)
مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ عَنْہُ
سے مَروی ہے کہ جب آپ رَضِیَ اللہ عَنْہُ نے مؤذّن کو اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْ لُ اللّٰہ کہتے سُنا تو یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے کی اُنگلیوں
کے پورے جانبِ زیریں سے چُوم کر آنکھوں سے لگائے،اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا،اُس کے
لئے میری شفاعت حلال ہوجائے۔( فتاویٰ رضویہ،5/ 432)
سوال: نیکی کرنے پر کوئی تعریف کرے اوردل میں خوشی محسوس ہوتو کیا یہ بھی رِیا کاری ہے ؟
جواب:یہ
ریا کاری نہیں ،البتہ آزمائش ضرورہے کہ کہیں وہ بندہ اپنے آپ کو نیک نہ سمجھنا
شروع کردے ۔ریا کاری یہ ہے کہ بندہ نیکی
اس لئے کرے کہ لوگوں سے عزت یا مال حاصل
ہو ۔
سوال:تُرک
مسلمان کیسے ہیں ؟
جواب:
تُرک مسلمان بڑے عاشقِ رسول ہیں ۔ان کے عشقِ رسول کے واقعات پڑھ کربندہ حیران رہ جاتاہے ،مدینہ شریف میں جب ان
کی خدمت تھی تو یہ مسجدِنبوی شریف کی تعمیرات میں بھی آوازبلندنہیں ہونے دیتے تھے ،پتھرکی کٹائی بھی مدینۂ منورہ سے باہر
کرکے لاتےتھے وغیرہ ۔
سوال: امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے انگوٹھے چُومنے کی اپنی کیابرکت بتائی ؟
جواب: مَیں بچپن سے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نامِ پاک
سُن کرانگوٹھے چُو متاہوں میری عمر تقریباً 77 سال ہے ،میں بغیر عینک کے گزاراکرلیتاہوں
،مَیں اسے اس کی (یعنی نامِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سُن کر
انگوٹھے چُومنے کی)برکت سمجھتاہوں
۔مَیں تعظیم کے لئے عام طورپرسیدصاحب کے ہاتھ بھی چُوم لیتاہوں ۔
سوال:رمضان شریف کی سجاوٹ کس طرح کریں ؟
جواب: آپ رمضان شریف کی سجاوٹ مدنی چینل پر دیکھ رہے ہوں گے ،آپ بھی تعظیمِ رمضان کی نیت سے اپنے گھروں میں
سجاوٹ شروع کردیں ۔مکتبۃ المدینہ سے رمضان مبارک کی جھنڈیاں اورپینافلیکس خرید لیں،
گھروں کے باہراوراندرلگائیں ۔
سوال: کیا فرض اورنوافل کے بارے میں کسی کوسمجھانے کا
انداز مختلف ہونا چاہیئے ؟
جواب: گھروالوں پرفرض پرعمل کروانے میں سختی کرنے کی صورتیں بھی ہیں مگر نوافل میں سختی کرنے کی اجازت نہیں ،نوافل خود پر نافذ کریں لیکن
گھروالوں پر اس کے لئے سختی نہ کریں ،نرمی کے ساتھ دعوت دے سکتے ہیں ۔
سوال: فالتوباتیں نہ کرنے کا کیا فائدہ ہوتاہے ؟
جواب:فالتو
باتیں ہمارے معاشرے سے ختم ہوجائیں توہمارے ہاں ہونے والے تمام جھگڑے ختم ہوجائیں ۔
سوال: پاکستان میں رمضان شریف میں عموماًچیزوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے،اس
بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: کاش ہمارے ملک پاکستان میں تعظیمِ رمضان کی نیت
سے ماہِ رمضان میں چیزیں سستی ہوجائیں۔تاجرحضرات
جو نفع لیتے ہیں اس میں لفظ ’’اللہ‘‘
کے حرفِ ابجد 66 کی نسبت سے 66% رعایت کردیں ۔
سوال: ماہِ رمضان میں افطاری کا سامان غریب علاقوں میں
بانٹنے کے بارے میں امیراہل سنت دامت
برکاتہم العالیہ نےکیا ترغیب دلائی؟
جواب:ماہِ
رمضان شریف میں رشتہ داروں کو پہلے دیکھیں
،پھر پڑوس کودیکھیں پھر غریب علاقوں میں
افطاری کاسامان غریبوں کے گھروں میں بھجوائیں ۔یہ زکوٰۃ کی رقم سے نہیں بلکہ صاف(Fresh) رقم سے کریں اورغریبوں کی دعائیں لیں ۔ ساداتِ کرام،امام مساجد اورعلمائے
کرام کو ترجیح دیں ۔
سوال:نیکیوں
میں دل نہ لگنے جبکہ گناہوں میں دل لگنے کی
کیا وجہ ہے؟
جواب:نیکیاں
کرنے میں شیطان رکاوٹ ڈالتاہے جبکہ گناہوں اورفضول کاموں میں وہ مددکرتاہے ۔ایک
بزرگ کا فرمان ہے کہ 20 سال تک تلاوتِ قراٰن میں میرا دل نہیں لگا، مگرمیں تلاوت
کرتارہا پھر 20 سال میں نے اس سے نفع اٹھایا یعنی 20 سال کے بعد تلاوت میں دل لگ گیا
۔اولڈ کراچی کی قاضیاں والی مسجدکے( مرحوم) امام صاحب نے مجھے بتایا تھاکہ میں”روزانہ ایک
قراٰن پاک ختم کرلیتاہوں “۔وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے ۔بندہ جس کام میں مشغول ہوجاتاہے تو اس میں دل لگ ہی جاتاہے۔
سوال:
اِس ہفتے کارِسالہ ’’راہِ خدا میں پیاری چیز دینا“پڑھنے یا سُننے والوں
کوامیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
Dawateislami