اسلام کے امن و سلامتی پر مبنی پیغام کو عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی بیداری کے لیے کوشاں عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کا تربیتی سفر پوری وُسعت کے ساتھ جاری ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 15اگست 2026ء (02ربیع الاوّل 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار ”مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا گیا۔

اس بابرکت نشست کی باقاعدہ شروعات قرآنی آیات کی تلاوتِ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت و احترام سے نذرانۂ نعت پیش کرکے کی گئی۔ تقریب کا اصل حُسن و بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی موجودگی تھی۔

مذاکرے کا سب سے اہم اور حلم و حکمت سے لبریز حصہ سوال و جواب کا سیشن تھاجس میں امیرِ اہلِ سنّت نے اجتماع میں موجود افراد اور آن لائن موصول ہونے والے دینی، فقہی اور تربیتی سوالات کے معقول و دلنشین جوابات عطا فرمائے۔ اس دلکش گفتگو کے دوران انہوں نے اصلاحِ معاشرہ، والدین سے حسنِ سلوک اور دینی و فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے اہم حکمتیں اور نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال:جلوسِ میلادمیں لنگرِ میلاد(کھانے پینے کی چیزیں) کس طرح لوگوں تک پہنچائیں؟

جواب: جلوس ِمیلاد میں لنگرِ میلاد( یعنی کھانے پینے کی چیزیں)لُٹانے یا پھینکنے کے بجائے ہاتھوں میں دیں تاکہ رزق ضائع نہ ہو۔

سوال: بالخصوص نوجوان نسل میں عدمِ برداشت اور غُصّہ عام ہے، اس کا کیا حل ہے ؟

جواب: غُصّہ تو ایک دن کے بچے کو بھی آتا ہے ،وہ رو کر اپنے غُصّے کا اظہار کرتا ہے۔ ،بڑھاپے میں غُصّہ بڑھ جاتا ہے، بہر حال ہر عمر میں غُصّہ آتا ہے ،غُصّہ آنا مسئلہ نہیں ،بلکہ اسے ٹھنڈا کس طرح کرنا ہے(یعنی غُصّہ کنٹرول کیسے کرناہے؟)، یہ اہم بات ہے ،جہنم میں ایک دروازہ ہے جو اُن لوگوں کے لیے خاص ہے(یعنی اس کے ذریعے وہ جہنم میں داخل ہوں گے ) جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔غُصّہ آنا بعض اوقات نجات کا باعث ہوتا ہے جیسے غُصّہ آیا اور اللہ پاک کی رضا کے لیے اسے قابو کر لیا تو بندہ ثواب کا حقدار ہو جاتا ہے ،یہ نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جانے والی ہے ۔بہترین گھونٹ غُصّے کا گھونٹ پینا ہے ۔یہ محاورہ ہے ،یہ کوئی مائع چیز نہیں کہ اسے بندہ پانی کی طرح پی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ غُصّے کو کنٹرول کر لے ۔ غُصّہ پینے والے اللہ پاک کے پیارے ہیں ۔غُصّہ آئے تو بندہ وضو کر لے کہ غُصّہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفی( صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)ہے:اللہ پاک کے  نزدیک غُصّے کا  گھونٹ پینے سے زیادہ کسی گھونٹ کا ثواب نہیں جسے بندہ اللہ پاک کی رضا کے  لئے  پی لے۔( ابن ماجہ، 4/463، حدیث 4189)

مکتبۃ المدینہ کے رسالے غُصّے کا علاج کا مطالعہ کریں اور اس سے درس دیں،بالخصوص جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے ہوں وہاں یہ رسالہ تقسیم کریں اور مکمل پڑھنے کی ترغیب دِلائیں ۔

سوال: ظلم سے بچنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب: ظلم گناہِ کبیرہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،ظلم قیامت کا اندھیرا ہے، ظلم سے بچیں ۔

سوال: اعلیٰ حضرت اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں گھر میں کس لقب سے پکارا جاتا تھا ؟

جواب: اَمّن میاں ۔ گھر میں ایک بچہ اَمّن میاں بھی ہونا چاہئے تاکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ ہوتی رہے ۔

سوال: مدنی پرچم کی اب کیا تنظیمی اصطلاح ہے ؟

جواب: میلادی جھنڈا۔

سوال: بچوں کے ساتھ مذاق کرنا کیسا؟

جواب:تابعی بزرگ حضرت محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے:’’ بچوں کے ساتھ زیادہ مذاق نہ کرو ،ورنہ ان کے دل سے تمہاری عزت جاتی رہے گی ۔‘‘بچوں سے زیادہ فری نہ ہوں۔(ان سے قدرے سنجید ہ رہیں) ، ورنہ مسائل ہو سکتے ہیں ۔

سوال: اچھی ملازمت پانے کے لیے کوئی روحانی علاج بتا دیں ؟

جواب:سورۂ مزمل شریف تین بار (اول آخر 11 بار درود شریف) پڑھئے پھر حلال روزی اور اچھی نوکری ملنے کے لئے دعا کیجئے۔(تا حصول مراد روزانہ بعد نماز عشاء)

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ اچھا بولنے سُننے کے فائدے پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”اچھا بولنے سننے کے فائدے “ پڑھ یا سُن لے، اس کو اچھا بولنے اور سننے کی توفیق عطا فرما، اُس کا ظاہر و باطن اچھا کر اور اُس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


اسلام کے امن و سلامتی پر مبنی پیغام کو عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی بیداری کے لیے کوشاں عالمگیر دینی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کا تربیتی سفر پوری وُسعت کے ساتھ جاری ہے۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 15اگست 2026ء (02ربیع الاوّل 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار ”مدنی مذاکرے“ کا انعقاد کیا گیا۔

اس بابرکت نشست کی باقاعدہ شروعات قرآنی آیات کی تلاوتِ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عقیدت و احترام سے نذرانۂ نعت پیش کرکے کی گئی۔ تقریب کا اصل حُسن و بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنّت حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی موجودگی تھی۔

مذاکرے کا سب سے اہم اور حلم و حکمت سے لبریز حصہ سوال و جواب کا سیشن تھاجس میں امیرِ اہلِ سنّت نے اجتماع میں موجود افراد اور آن لائن موصول ہونے والے دینی، فقہی اور تربیتی سوالات کے معقول و دلنشین جوابات عطا فرمائے۔ اس دلکش گفتگو کے دوران انہوں نے اصلاحِ معاشرہ، والدین سے حسنِ سلوک اور دینی و فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے اہم حکمتیں اور نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال:جلوسِ میلادمیں لنگرِ میلاد(کھانے پینے کی چیزیں) کس طرح لوگوں تک پہنچائیں؟

جواب: جلوس ِمیلاد میں لنگرِ میلاد( یعنی کھانے پینے کی چیزیں)لُٹانے یا پھینکنے کے بجائے ہاتھوں میں دیں تاکہ رزق ضائع نہ ہو۔

سوال: بالخصوص نوجوان نسل میں عدمِ برداشت اور غُصّہ عام ہے، اس کا کیا حل ہے ؟

جواب: غُصّہ تو ایک دن کے بچے کو بھی آتا ہے ،وہ رو کر اپنے غُصّے کا اظہار کرتا ہے۔ ،بڑھاپے میں غُصّہ بڑھ جاتا ہے، بہر حال ہر عمر میں غُصّہ آتا ہے ،غُصّہ آنا مسئلہ نہیں ،بلکہ اسے ٹھنڈا کس طرح کرنا ہے(یعنی غُصّہ کنٹرول کیسے کرناہے؟)، یہ اہم بات ہے ،جہنم میں ایک دروازہ ہے جو اُن لوگوں کے لیے خاص ہے(یعنی اس کے ذریعے وہ جہنم میں داخل ہوں گے ) جن کا غُصّہ کسی گناہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔غُصّہ آنا بعض اوقات نجات کا باعث ہوتا ہے جیسے غُصّہ آیا اور اللہ پاک کی رضا کے لیے اسے قابو کر لیا تو بندہ ثواب کا حقدار ہو جاتا ہے ،یہ نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جانے والی ہے ۔بہترین گھونٹ غُصّے کا گھونٹ پینا ہے ۔یہ محاورہ ہے ،یہ کوئی مائع چیز نہیں کہ اسے بندہ پانی کی طرح پی جائے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ غُصّے کو کنٹرول کر لے ۔ غُصّہ پینے والے اللہ پاک کے پیارے ہیں ۔غُصّہ آئے تو بندہ وضو کر لے کہ غُصّہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے بنا ہے اور پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ فرمانِ مصطفی( صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم)ہے:اللہ پاک کے  نزدیک غُصّے کا  گھونٹ پینے سے زیادہ کسی گھونٹ کا ثواب نہیں جسے بندہ اللہ پاک کی رضا کے  لئے  پی لے۔( ابن ماجہ، 4/463، حدیث 4189)

مکتبۃ المدینہ کے رسالے غُصّے کا علاج کا مطالعہ کریں اور اس سے درس دیں،بالخصوص جہاں لڑائی جھگڑے ہوتے ہوں وہاں یہ رسالہ تقسیم کریں اور مکمل پڑھنے کی ترغیب دِلائیں ۔

سوال: ظلم سے بچنا کیوں ضروری ہے ؟

جواب: ظلم گناہِ کبیرہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ،ظلم قیامت کا اندھیرا ہے، ظلم سے بچیں ۔

سوال: اعلیٰ حضرت اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن میں گھر میں کس لقب سے پکارا جاتا تھا ؟

جواب: اَمّن میاں ۔ گھر میں ایک بچہ اَمّن میاں بھی ہونا چاہئے تاکہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی یاد تازہ ہوتی رہے ۔

سوال: مدنی پرچم کی اب کیا تنظیمی اصطلاح ہے ؟

جواب: میلادی جھنڈا۔

سوال: بچوں کے ساتھ مذاق کرنا کیسا؟

جواب:تابعی بزرگ حضرت محمد بن منکدر رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے:’’ بچوں کے ساتھ زیادہ مذاق نہ کرو ،ورنہ ان کے دل سے تمہاری عزت جاتی رہے گی ۔‘‘بچوں سے زیادہ فری نہ ہوں۔(ان سے قدرے سنجید ہ رہیں) ، ورنہ مسائل ہو سکتے ہیں ۔

سوال: اچھی ملازمت پانے کے لیے کوئی روحانی علاج بتا دیں ؟

جواب:سورۂ مزمل شریف تین بار (اول آخر 11 بار درود شریف) پڑھئے پھر حلال روزی اور اچھی نوکری ملنے کے لئے دعا کیجئے۔(تا حصول مراد روزانہ بعد نماز عشاء)

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ اچھا بولنے سُننے کے فائدے پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”اچھا بولنے سننے کے فائدے “ پڑھ یا سُن لے، اس کو اچھا بولنے اور سننے کی توفیق عطا فرما، اُس کا ظاہر و باطن اچھا کر اور اُس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت فرما ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


دینِ اسلام کی پرامن تعلیمات عام کرنے اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی و روحانی اصلاح کے لئے کوشاں عالمی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام تربیتی سلسلوں کا تسلسل جاری ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر 08اگست  2026ء (25 صفر المظفر 1448ھ) کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس کا محور شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی بابرکت موجودگی تھی۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہوا۔ تقریب کا بنیادی حصہ سوال و جواب کا وہ سیشن تھا جس میں امیرِ اہلِ سنت نے شرکائےمحفل اور آن لائن موصول ہونے والے مختلف دینی، شرعی اور معاشرتی سوالات کے انتہائی جامع، حکمت بھرے اور دل کو چھو لینے والے جوابات ارشاد فرمائے۔ گفتگو کے دوران اصلاحِ معاشرہ، والدین کے حقوق اور دینی تحریک کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے حوالے سے قیمتی مدنی پھول نچھاور کئے گئے۔

مدنی مذاکرے کے چند مدنی پھول ملاحظہ کیجئے:

سوال: اعلیٰ حضر ت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ علیہ کا با جماعت نماز پڑھنے کا جذبہ کیسا تھا ؟

جواب:اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تمام نمازیں با جماعت پڑھتے تھے ۔ آپ کے پاؤں کے انگوٹھے کا آپریشن ہوا تو احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) آپ کی خواہش کے مطابق ایک ماہ تک آپ کو کُرسی(Chair) پر مسجد لے جاتے رہے یہاں تک آپ چلنے کے قابل ہو گئے۔

سوال: حدائقِ بخشش کا معنی کیا ہے؟ اور یہ کن کی لکھی ہوئی ہے؟

جواب: حدائق،حدیقہ کی جمع ہے یعنی بخشش کے باغات،حدائقِ بخشش اعلیٰ حضر ت رحمۃ اللہ علیہ کے کلاموں کا مجموعہ ہے ۔نعت پڑھنا بخشش کا ذریعہ ہے،جس میں عشق کا ذوق نہ ہو تو وہ حدائقِ بخشش پڑھتا رہے ،اشعار یاد کرتا رہے تو عشق کا ذوق حاصل ہو جائے گا۔

سوال: علمائے کرام کے احترام کے بارے میں آپ کیافرماتے ہیں؟

جواب: جو عاشقِ رسول یعنی علمائے اہلِ سنت ہیں،ان کا احترام سب پر لازم ہے ۔ ان کے بارے میں ہرگز زبان نہ کھولی جائے ۔زبان کٹ جائے مگر کسی عالمِ دِین کے خلاف زبان نہ کھُلے ،اگر کوئی عالمِ دِین باعمل نہ ہو تب بھی عوام کو ان پر زبان کھولنے کی اجازت نہیں کہ وہ علمِ دِین کی وجہ سے عوام سے افضل ہیں ۔ ان کےسِینے میں علمِ دِین کا نور ہے ۔ عالمِ دِین حافظِ قرآن سے افضل ہے۔

سوال: اعلیٰ حضرت اپنے احباب کے لیے کس طرح دعا کیا کرتے تھے؟

جواب: اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک فہرست(List) تھی جس میں آپ کے احباب(قریبی عزیز،رفقاءوغیرہ) کے نام درج تھے، آپ ان کا نام لے کر دعا کیا کرتے تھے ۔

سوال: نبی ِکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا ولادت کا دن کس طرح مناتے تھے؟

جواب: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیر(Monday)کو روزہ رکھتے تھے ،اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا کہ اسی روز میری ولادت ہوئی اور اسی روز میری بعثت ہوئی اور اسی روز میرے اوپر قرآن نازل کیا گیا۔(صحیح مسلم، 2/819، حدیث نمبر 1162)

سوال: بچوں کی بر تھ ڈے(Birthday) انگریزی تاریخ کے اعتبار سے منائی جائے یا ہجری سن کے اعتبار سے ؟

جواب: ہجری(اسلامی)سن کے اعتبار سے منایا کریں ،یوں بچوں کو اسلامی تاریخ کا فیضان بھی حاصل گا ۔ان شاء اللہ الکریم

سوال: اعلیٰ حضرت کی وفات کس وقت ہوئی اور اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے25صفرشریف1340ھ کو ہند (India) کے وقت کے مطابق دو بج کر اڑتیس منٹ 02:38pm پر وصال فرمایا ،پاکستانی وقت کے مطابق دو بج کر آٹھ منٹ(02:08pm) تھے ،دیگر ممالک میں اسی اعتبار سے فرق ہے۔ تمام عاشقانِ رسول کی مساجد میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت بیان کریں ،02:08pm پر فاتحہ خوانی کریں۔یہ محبت کی بات ہے کوئی فرض یا واجب نہیں، اسلامی بہنیں گھروں میں بھی فاتحہ خوانی کر لیں ۔فاتحہ کے ساتھ نیازبھی کر لیں۔

سوال: جشن ِولادت اور عُرس منانے کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب: جشنِ ولادت منانے، درست انداز سے عُرس و فاتحہ خوانی کرنے کے کئی فوائد ہیں ،یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک ذریعہ ہے ۔

سوال: امتحان میں پاس ہونے کا کوئی وظیفہ بتادیں ؟

جواب: صرف تین دن مسلسل کسی بھی ایک نماز کے بعد ”یَا حَسِیْبُ“111(اوّل آخر11 بار دُرود شریف)پڑھ کر امتحان میں اچھے رزلٹ کے لئے دُعا کیجئے، ان شاء اللہ الکریم کامیابی ملے گی۔

سوال: کیا مسلمان کو تکلیف پہنچے تو اُسے اجر ملتا ہے ؟

جواب: حدیث پاک ہے کہ مسلمان کو کوئی تکلیف ،فکر، بیماری ملال (رنج و غم )اذیت اور کوئی غم نہیں پہنچتا یہاں تک کہ کانٹا جو اُسے چُبھے مگر اللہ کریم ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔(بخاری شریف ،حدیث نمبر 5642 )علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی انسان کا دنیا میں مصیبت اور آفتوں میں مبتلا ہونا اس بات کی علامت (نشانی )ہے کہ اللہ پاک اس سے بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے،اسی لیے اسے گناہوں کی سزادُنیا میں ہی کسی مصیبت وغیرہ کے ذریعے دے دی اور اسے آخرت پر مؤخر نہ کیا۔ (فیض القدير ،5/626)

سوال: صفر کا مطلب کیا ہے؟ اس کو صفر کیوں کہتے ہیں ؟

جواب: صفر کا معنی ٰ خالی ہونا ہے ۔جن دنوں مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے ان دنوں میں گھر کھانے پینے کی چیزوں سے خالی ہو جاتے تھے اور کمانے کے لیے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا ،اس لیے اس مہینے کا نام صفر پڑا۔

سوال: دانت مضبوط رکھنے کا کوئی وظیفہ بتا دیں ؟

جواب:ایک بزرگ جن کی عمر سوسال کے قریب تھی جبکہ دانت صحیح سلامت تھے۔ جب ان سے دانتوں کی محفوظی اور مضبوطی کے بارے میں پوچھا گیاتو فرمایا:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ نے مجھے بچپن میں یہ عمل بتایا تھاکہ ”عشاء کے وتر جب پڑھے جائیں تو پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اِذَا جَاءَ (یعنی نصر)، دوسری میں تَبِّت یَدَا (یعنی سورہ لہب) اور تیسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنے سے دانت عمر بھر ہر تکلیف سے محفوظ رہتے ہیں“ جب سے میں اسے پڑھتا ہوں اور اسی کی یہ برکت ہے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ” امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 20 صفحات کا رسالہ ”امام غزالی کی سنہری باتیں(قسط2) “ پڑھ یا سُن لے، اُس کا دل دنیا کی محبت اور گناہوں کی نحوسَت سے پاک کر دے اور اُس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں بے حساب داخلہ عطا فرما۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے ایک خصوصی ”مدنی مذاکرے“ کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ روحانی و علمی نشست 13 اگست (جمعرات) کو ہفتہ وار اجتماع کے بعد رات تقریباً 10:15 بجے شروع ہوگی۔ اس خصوصی مدنی مذاکرے میں بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی شرکت فرمائیں گے۔

یہ پروگرام مدنی چینل پر لائیو نشر کیا جائے گا۔YouTube،Facebookاور امیرِ اہلسنت کے آفیشل Pagesکے ذریعے دنیا بھر میں براہِ راست دیکھا جا سکے گا۔

اس خصوصی نشست میں یومِ آزادی کی اہمیت، ملکی سلامتی و بقا اور دینی و اخلاقی موضوعات پر امیرِ اہلسنت کے بصیرت افروز بیانات اور عوام کے سوالات کے جوابات شامل ہوں گے۔


لوگوں کی اصلاح کرنے اور انہیں دینِ اسلام کی  باتیں بتانے کے لیے عالمی سطح کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے کی شب مدنی مذاکرے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اسی سلسلے کو برقرار رکھتے ہوئے 18 جولائی 2026ء بمطابق 4 صفر المظفر 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کی خاص بات یہ رہی کہ عاشقانِ رسول کی جانب سے ہونے والے مختلف سوالات کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے دوران ہونے والے بعض سوال و جواب

سوال: اللہ پاک جگہ سے پاک ہے ،یہ بتائیں کہ مسجد کو اللہ کا گھرکیوں کہتے ہیں ؟

جواب: مسجد میں اللہ پاک کے کام یعنی عبادت ہوتی ہے ،اس لیے مسجد کو اللہ کا گھر کہتے ہیں ۔

سوال: کیا دل(Heart) بدلتا رہتا ہے ؟

جواب: جی ہاں ! دل اُلٹ پَلٹ ہوتا رہتا ہے ،اسی لیے عربی میں اسے قلب کہتے ہیں ،دل کی کیفیت بدلتی رہتی ہے ،اس لیے نیکی کا جیسے ہی خیال آئے توفوراً کر لینی چاہئے۔

حضرت امام باقر رحمۃ اللہ علیہ واش روم میں گئے تو فوراً باہر آ گئے اور اپنا کوٹ اُتار کر خادم کو دیا کہ اسے خیرات کر دو۔ عرض کیا کہ حضور فراغت کے بعد خیرات کر دیتے فوراً باہرآ نے کی وجہ کیا ہے؟فرمایا :میں نے سوچا کہ خیرات کا خیال بدل نہ جائے ۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ نیکی میں جلدی کرنی چاہئے ۔

سوال: کیا دل بھی سخت اور نرم ہوجاتا ہے ؟

جواب: جی ہاں!دل سخت اور نرم ہوتا ہے۔ نرم دل میں خشیت یعنی خوفِ خدا ہونا ،اللہ پاک کی فرمانبرداری ہوتی ہے ،دل سخت ہونے کے بھی کئی اسباب ہیں مثلاً خوفِ خدا کی کمی ، فضول باتیں کرنا، گناہ کرنا وغیرہ ۔

سوال: ایک پوسٹ میں لکھا تھاکہ باتوں کی مٹھاس اندر کا بھید نہیں کھولتی، مور کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ سانپ کھاتا ہو گا، آپ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: بعض اوقات بظاہر بہت خوش اَخلاقی کا بر تاؤ کیا جا رہا ہوتا ہے مگر اس میں اپنا کوئی دُنیاوی مقصد ہوتا ہے مثلاً دوکاندار گاہک کو مال تھمانے کے لیے خوب خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر تا ہے ۔بعض لوگ کسی کے آنے پر کہتے ہیں کہ آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مگر دل میں یہ ہوتاہے کہ یہ کہاں سے آگیا ؟۔بہر حال ملاقات تو خوش اخلاقی سے کرنی چاہئے مگر جو دل میں نہ ہو وہ الفاظ نہ بولے جائیں مثلاً دل میں خوشی نہیں تو یہ نہ کہے کہ مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی وغیرہ۔

سوال:تصوف کی معلومات کے لیے کون سی کتابیں پڑھیں،اسلامی بہنیں تصوف کی راہ پر چلنے کے لیے کیا کریں ؟

جواب:امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب منہاج العابدین،احیاءُ العلوم وغیرہ کا مطالعہ کریں(یہ کتابیں دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ www.dawateislami.net سے فری ڈاؤن لوڈ اورمکتبۃ المدینہ سے قیمتاً حاصل کی جاسکتی ہیں)۔اسلامی بہنیں بھی دعوتِ اسلامی سے وابستہ رہیں ،اسلامی بہنوں کے ساتھ دِینی کاموں میں مصروف رہیں ۔

سوال: صالحین کی پہچان فی زمانہ کیسے ہو؟

جواب: اس دور میں صالحین(نیک بندوں) کی پہچان کا معیار اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،جواِن سے محبت کریں اور ان کی رہنمائی کے مطابق دِین پر عمل کریں تو اُسی کی صحبت اختیار کریں ۔

سوال: انسان نما بھیڑیا کون ہوتا ہے ؟

جواب: جو لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں وہ انسان نما بھیڑیے ہیں، ان سے بچنا چاہئے، ان کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے، بعض تو ایمان ضائع کرنے والے ہوتے ہیں گویا انسان کا لباس پہنے بھیڑے ہوتے ہیں، ان سے بچنے کے لیے ان کی کوئی بات نہ سنیں اور دعوتِ اسلامی کے دِینی ماحول سے وابستہ رہیں ۔

سوال: عشقِ مجازی ہو جائے تو اس کا علاج کیا ہے؟

جواب: عشقِ مجازی ( کسی انسان کا کسی دوسرے انسان کی خوبصورتی،اَخلاق یا شخصیت کی محبت میں گرفتار ہوجانا عشقِ مجازی کہلاتا ہے) بڑا مُوذی اور خطر ناک مرض ہے، بندہ صبر کرے ،بغیر اجازتِ شرعی آپس میں نہ ملے ،خط و خطابت،(واٹس ایپ،موبائل میسج) اور تحفہ تحائف لینا دینا نہ کرے ۔مکتبہ المدینہ کی کتاب ”پردے کے بارے میں سوال جواب“ صفحہ 148 تا181 کا مطالعہ کریں۔

سُوال: عشق بازی سے پیچھا چُھڑانے کے لیے کوئی وظیفہ بھی بتا دیں۔

جواب: عشق بازی سے پیچھا چُھڑانے کے لیے قرآنی آیات پر مشتمل یہ عمل کریں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،لَآاِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ،اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ، لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌبا وضو 3، 3 بارپڑھ کر(اوّل و آخر ایک بار دُرُود شریف )پانی پر دم کر کے پی لیں یہ عمل 40 دن تک کریں۔

سوال: عشق ِمجازی سے بچنے بچانے کے لیے کیا کریں ؟

جواب: بچوں اور بچیوں کو ایک ساتھ کھیلنے نہ دیں۔گھر میں شرعی پردہ نافذ کریں۔بچیوں کو پردے اور حیا والا لباس پہنائیں۔نگاہوں کی حفاظت کریں،سوشل میڈیا کا دُرست اِستعمال کریں،فلموں ڈراموں اور گناہوں بھرے چینل نہ دیکھیں، رومانی ناول اور مضامین نہ پڑھیں۔

سوال:حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ کون ہیں ؟

جواب:حضرت سیدجلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ علیہ حسینی سیّد ہیں،ان کی پیدائش 595ھ کو بخارا میں ہوئی، وہیں حفظ ِقرآن کیا ، یہ مادر زاد(پیدائشی) ولی تھے، آپ عالمِ دین تھے ۔ایک غیر مسلم بادشاہ نے انہیں آگ میں ڈال دیا مگر آگ نے آپ پر اثر نہ کیا، آپ کے کپڑے سرخ(Red) ہو گئے ،اس وجہ سے سرخ پوش کہلاتے ہیں ۔آپ کا وصال 19جمادی الاولیٰ 690ھ اُچ شریف ،ضلع بہاولپور پنجاب پاکستان میں ہوا اور یہیں آپ کا مزارمبارک ہے۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ زبان کی حفاظت کی اہمیت پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ زبان کی حفاظت کی اہمیت پڑھ یا سُن لے، اُسے زبان سے ہونے والے اور دیگر تمام گناہوں سے بچا، اپنا پسندیدہ بندہ بنا اور اُس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم

11 جولائی 2026ء  بمطابق 26 محرم الحرام 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی کے مختلف علاقوں سے عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز رات تقریباً 09:45 بجے تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مدنی پھولوں کے ذریعے حاضرین اور ناظرین کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔

اس موقع پر عاشقانِ رسول کی جانب سے سوالات بھی کیے گئے اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اُن کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

بعض سوال و جواب

سوال: بچوں میں بزرگوں کی محبت کیسے پیدا کریں ؟

جواب: گھرکا ماحول اچھا ہو،گھر میں بزرگانِ دِین کی باتیں سناتے رہیں، گیارہویں شریف کا اہتمام ہو، سال میں کم ازکم ایک مرتبہ نعت خوانی ہو تو بچوں کے دلوں میں ساداتِ کرام اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اللہ والوں کی محبت ا ورادب پیدا ہوگا۔ان شاء اللہ الکریم

اللہ پاک کے آخری نبی،حضور مکی مدنی صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم نے اِرْشاد فرمایا:اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ یعنی اپنے بچوں  کو 3 چیزیں سکھاؤ۔(1)حُبِّ نَبِیِّکُمْ اپنے نبی کی مَحَبَّت(2)وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہٖاَہلِ بیت کی مَحَبَّت(3)وَ قِرَاءَۃِ الْقُرْاٰنِ اور قرآنِ پاک کی تلاوت۔ (کنزالعمال، 16/ 189، رقم: 45409) گھر میں مدنی چینل چلتا رہے گا تو اس سے بھی ان پاکیزہ ہستیوں کی محبت حاصل ہوگی ۔

سوال: بچوں کے اِغواہونے کی خبریں سُنی جا رہی ہیں،اس سےحفاظت کے لیے کیا اقدامات کریں ؟

جواب: بچوں کی حفاظت کرتے ہوئےان کا خاص خیال رکھیں، کہتے ہیں کہ بکرا سنبھالنا آسان ہے بچے کو سنبھالنا مشکل ہے۔ بکرا کتنا بھی شرارتی ہو، اس کے گلے میں رسی ڈال کر کونے میں باندھا جا سکتاہے مگر بچے کو گھر میں روکنا مشکل ہے، دروازہ بند کیا جائے تو وہ کسی طرح بھی کھول کر باہر نکل جاتا ہے۔ آزمائش توہے بہر حال بچے کو بڑوں سے دوستی نہ کرنے دیں، اگرچہ وہ بڑا کتنا ہی اچھا اور نیک نمازی کیوں نہ ہو۔ بُری خواہش(شہوت پرستی)بادشاہوں کو غلام بنا دیتی ہے ۔بِلا ضرورت بچوں کو گھر سے باہر نہ جانے دیں ۔گھرکی چار دیواری میں ان کی حفاظت کریں ۔میری والدہ نے بچپن میں مجھے سکھایاتھاکہ کوئی سونے کا ڈھیر بھی دے تو اُس سے لینا نہیں ،بچوں کو کسی سے کوئی چیز نہ لینے کا عادی بنائیں ۔سگا بھائی یا والد خود مدرسہ یا اسکول چھوڑنے لینے جائیں، چچا زاد بھائی کے سپرد بھی یہ کام نہ کریں ۔اللہ پاک کی راہ میں صدقہ و خیرات کریں،اس سے بھی حفاظت ہوگی۔ ہر عمل اللہ پاک کی رضا کے لیے ہونا چاہئے ۔صدقہ و خیرات سے بڑی بڑی بلائیں ٹل جاتی ہیں ۔بچوں کو یہ وظیفہ سکھا دیں ،گھر سے نکلتے ہوئے گھر سے نکلنے کی دُعا:بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ پڑھ لیا کریں، یَاحَفِیْظُ یَاسَلَامُ 11 مرتبہ، اَللّٰہُمَّ سَلِّمْنِیْ وَسَلِّمْ مِنِّی ایک ساتھ پڑھ لیں، حفاظت ہوگی۔بڑے بھی پڑھ لیا کریں ۔وضو کرتے وقت ہر عُضْو دھوتے ہوئے یَاقَادِرُ پڑھ لیا کریں، اسے اپنا معمول بنا لیں۔ اپنے مشائخ کا شجرہ شریف پڑھتے رہیں ،اس کے بھی فوائد ہوں گے ۔

سوال: تصرف کا کیا معنی ہے؟

جواب: تصرف کا معنی اختیار استعمال کرنا ،مَن مانی کرنا وغیرہ ہیں ۔

سوال: جب کوئی مشکل آئے تو کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: جب کوئی مشکل آئے تو یہ کہنا چاہئے قَدَّرَاللہ ُمَاشَاءَفَعَلْ۔حدیثِ پاک ہے، فرمایا: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کر لیتا تو ایسا ہو جاتا بلکہ کہو:قَدَّرَ اللہ ُ مَاشَاءَ فَعَلْ یعنی اللہ  پاک نے مُقَدَّر کیا اور جو چاہا، وہی کیا۔ مزید فرمایا:فَاِنَّ لَوتَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ بیشک اگر مگر شیطان کا کام کھول دیتا ہے۔( مسلم، ص1027، حدیث:2664)

سوال: قرینہ کا کیا معنی ہے ؟

جواب: قرینہ کا معنی نمایاں و واضح اشارہ ہے۔مثلاً کسی کا شراب خانے سے نکلنا،اس کا شراب پینے کا نمایاں اشارہ ہے اور جو مسجد سے نکلے اس کا نماز پڑھنے کا واضح اشارہ ہے ۔

سوال: خرگوش کو خرگوش کیوں کہتے ہیں ؟

جواب:خر کا معنی گدھا اور گوش کا معنی کان ہیں، خرگوش کے معنی گدھے جیسے کان والا ہے ۔ خرگوش جلد بازی میں مشہور ہے۔

سوال:جلد بازی اور تحمل مزاجی میں کیا فرق ہے ؟

جواب: کوئی کام بغیر سوچے سمجھےکرنا جلد بازی کہلاتا ہے، اسے عُجلت بھی کہتے ہیں ۔بندہ اپنے کاموں کو سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد شروع کرے تو اسے توقف یعنی ٹھہراؤ کہتے ہیں ۔کا م کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ کرنا تاکہ وہ کام بہتر انداز سے تکمیل تک پہنچے اسے تحمل و بُردباری (Tolerance) کہتے ہیں۔رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اطمینان اللہ کریم کی طرف سے ہےاورجلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ ( ترمذی،3 / 407 ،حدیث : 2019)

سوال: جلد بازی میں بد دعا دینے کا کیا نقصان ہے؟

جواب: بعض اوقات یہ بد دعا قبول ہو جاتی ہے پھر بندہ پچھتاتا ہے ۔لوگ اپنے بچوں کو کوستے اور بد دعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔مائیں بچوں کو بد دعائیں دیتی ہیں، بچے تنگ بھی بہت کرتے ہیں، بہر حال وہ تو بچے ہیں، ماؤں کو صبر کرنا چاہئے اور بد دعا نہیں دینی چاہئے کبھی قبولیت کی گھڑی بھی ہوتی ہے ۔

سوال: کیا دِین اور دُنیاوی دونوں طرح جلد بازی کی جاتی ہے؟

جواب: جی ہاں!لوگ دِینی اور دنیاوی دونوں کاموں میں جلد بازی کر رہے ہوتے ہیں اس جلد بازی کی وجہ سے ان کی عبادات برباد ہو جاتی ہیں اور دنیاوی طور پر شدید نقصانات اٹھاتے ہیں ،پھر ندامت اور پچھتاوے کے سوا باقی کچھ نہیں رہتا۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ”احیاء العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:1)پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یا اللہ پاک! جو کوئی 17 صفحات کارسالہ”احیاءُ العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:1)“ پڑھ یاسُن لے،اُسے سنتوں کا پابند بنا کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 4 جولائی 2026ء بمطابق 19 محرم الحرام 1448ھ کو ہفتہ وار  مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

اس مدنی مذاکرے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے سوالات کیے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے نہایت وضاحت و آسان انداز میں جوابات دیئے۔

مذاکرہ میں شرکاء نے اپنی دینی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے بھی سوالات کیے جن پر امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے نہ صرف دینی رہنمائی کی بلکہ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مدنی پھولوں سے نوازا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:’’تم جن کی قبروں پر سال بعدجاتے ہووہ ہمارے گھرمیں 10 منٹ لیٹ آنے پرتڑپ جاتے تھے‘‘اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:میت جس سے دنیا میں محبت کرتی تھی وہ اس کی قبرپر جائے تو وہ چاہتی ہے کہ وہ اس کی قبرپرزیادہ وقت بیٹھے، اس لیے ہمیں اپنے محبت کرنے والوں کی قبرپر جاناچاہئے اور وہاں جاکر ایصالِ ثواب اوردُعائے مغفرت کرنی چاہئے، زندوں کی طرف سے مُردوں کے لیے سب سے بہترین تحفہ انہیں ایصالِ ثواب اوردُعائے مغفرت کرنا ہے ۔

سوال: کسی کو نیکی کی دعوت دیں اور وہ نہ مانے تو کیا کریں ؟

جواب:سمجھاتےرہیں، سمجھانانہ چھوڑیں، ہمارا کام نیکی کی دعوت دیناہے،نیکی کی توفیق دینا اللہ پاک کےدستِ قدرت میں ہے۔تبلیغ کالغوی معنی پہنچانا ہے، نیکی کی دعوت، نمازکی تلقین وغیرہ جاری رکھیں، نیکی کی دعوت دیتے رہیں گے تو لوگ نیکی کی طرف آتے رہیں گے، سمجھاتے رہیں، سمجھاتے رہیں، سمجھاتے رہیں تو سمجھانے کا فائدہ دیکھ ہی لیں گے۔سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰت کی آیت نمبر 55 میں ارشاد ہوتاہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ترجمۂ کنزالعرفان:اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔

دعوتِ اسلامی اسی طرح بڑھی ہے ۔اگرکوئی ہماری نیکی کی دعوت سےاپنی اِصلاح نہ بھی کرےتو ہمیں نیکی کی دعوت کا ثواب تو مل جائے گا۔

سوال: کیا نیکی کی دعوت قبول کرنے میں سمجھانےکےانداز کابھی عمل دخل ہوتا ہے ؟

جواب: جی ہاں! عام طورپر سمجھانےکااندازسخت اور رُوکھا(Rough) ہوتا ہے جو درست نہیں ۔حکمتِ عملی کے ساتھ نیکی کی دعوت دینی چاہئے،جس کو سمجھایا ہےاس کی اصلاح کی دعابھی کریں۔مزیدمعلومات کےلیےمکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’نیکی کی دعوت‘‘کامطالعہ کریں۔

سوال: ہم تک جو کھانا پہنچتاہے، اس میں کتنےافراد کی کوشش شامل ہوتی ہے؟

جواب: ہم تک جو کھانا اورروٹی پہنچتی ہےوہ بہت سارےمراحل سےگزرکرآتی ہے۔ روایت میں ہے کہ روٹی تمہارے سامنے اس وقت تک نہیں رکھی جاتی جب تک اس میں 360 کاریگر اثرانداز نہ ہوں ۔ ان میں سب سے پہلے حضرت میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں جو کہ رحمت کے خزانے سے پانی کو ناپتے ہیں پھر وہ فرشتے جو بادلوں کوچلاتے ہیں پھر سورج، چاند،اَفلاک اور اس کے بعد ہوا کے فرشتے پھر زمینی چوپائے اور سب سے آخر میں روٹی پکانے والا ہے۔( فيض القدير، 2 / 117، تحت الحديث : 1424)اس لیےاس کی قدرکی جائے،بلکہ جوذرّے دسترخوان پر گِرجاتے ہیں ،یہ بھی کھالیں یا جانوروں کو ڈال دیں۔

سوال:کیامیدانِ کربلامیں حضرت امام زین العابدین بن امام حسین رحمۃ اللہ علیہ کےعلاوہ اوربھی کوئی زندہ بچاتھا؟

جواب:جی ہاں!حضرت حسن مثنّٰیرحمۃ اللہ علیہ شدیدزخمی ہوئے،علاج سےدرست ہوئے، یہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے بیٹےاورتابعین میں سےتھے، ان کا نکاح حضرت فاطمہ صغریٰ بنت امام حسین رحمۃ اللہ علیہا سے ہوا۔ان کے بیٹے حضرت حسن محض پہلے حسنی حسینی سیدہیں۔

سوال: ہمیں کس طرح زندگی گزارنی چاہئے؟

جواب:ہرمسلمان کوچاہئےکہ وہ اللہ و رسول کی اطاعت میں زندگی گزارے،اپنی زندگی کے مقصد یعنی اللہ پاک کی عبادت کو پیشِ نظررکھے ،ہماراتعلق جس بھی شعبےسے ہو، ہمیں باعمل مسلمان بن کر جینا اورمسلمان ہی مرنا ہے ۔ان شاء اللہ الکریم

سوال: جانوروغیرہ پالیں تو ہمیں کیاکرنا ہوگا؟

جواب:ان کےکھانے(چارا،پانی وغیرہ)کاانتظام کرنا ہوگا، یہ زیادہ کھاتےہیں، اس لیے ان کےسامنے کھانا رکھنا ہوگا، پانی بھی پلانا ہوگا، کھانا یا پانی ناپاک ہوجائےتو پاک کھانا اورپاک پانی کا اہتمام کرنا ہوگا۔ جانوروں کوآپس میں لڑنے نہ دیں اوردیگربہت سارےمعاملات کا خیال رکھنا ہوگا۔ہرشعبےاورکام کے بارے میں شرعی احکام موجود ہیں، انہیں سیکھنا ضروری ہے۔ہر مسلمان مرد و عورت پر علم دِین سیکھنا فرض ہے، علم سے بقَدَرِ ضرورت شرعی مسائل مراد ہیں، لہٰذا روزے نماز کے مسائلِ ضروریہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض، تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجر پر،حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عَین فرض ہیں۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ”فیضانِ مُفتی اعظم ہند “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یااللہ پاک!جوکوئی 26صفحات کارسالہ”فیضانِ مفتی اعظم ہندپڑھ یا سُن لے، اُسے اولیائے کرام کی سچی محبت دے کر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راضی ہوجا ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

27 جون 2026ء بمطابق 12 محرم الحرام 1448ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کا ہفتہ وار مدنی مذاکرہ منعقد ہوا جس میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد نے براہِ راست اور مدنی چینل کے ذریعے شرکت کی اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی پھولوں سے مستفیض ہونے کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس دوران شرکا نے مختلف سوالات کیے جن کے جواب میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اپنی علمی و روحانی بصیرت سے رہنمائی کی جس پر عاشقانِ رسول نے دین کی عملی تعلیمات کو سمجھنے اور اُن پر عمل پیرا ہونے کی نیتیں کیں۔

دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا مقصد عشقِ مصطفیٰ کی ترویج اور سنتِ رسول کو زندہ کرنا ہے جس میں ہر عمر کے عاشقانِ رسول بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا تاکہ دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو عوام تک پہنچایا جا سکے۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال وجواب

سوال:زلزلہ آنے کی صورت میں کیا احتیاط کی جائے ؟

جواب:زلزلہ آئےتو فوراً کسی میدان میں چلے جائیں،عمارت کے اندریا قریب میں نہ رہیں ،اس میں بچنے کی زیادہ صورتیں ہیں، زلزلے کا اصل سبب لوگوں کے گناہ ہیں، زلزلہ آئے تو اِستغفارکریں (اَسْتَغْفِرُاللہ پڑھیں)۔گھرکی دیوارپریَاظَاہِرُلکھ کر لگا دیں تو وہ گرنے سے بچی رہے گی (زلزلے سے حفاظت کے علاوہ اور بھی اس کے فوائد ہیں)۔

سوال:سفرِمدینہ کے لیےکوئی وظیفہ بتادیں ؟

جواب:دُرودشریف پڑھتے رہیں،ان شاء اللہ الکریم سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا کرم ہوگا۔ جب بُلایا آقا نے خود ہی اِنتظام ہو گئے ۔

سوال:حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو جنّتیوں کا سردارکیوں کہتے ہیں ؟

جواب:تمام اَنبیا کے سردار حضرت محمد مصطفےٰصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے :”اَلْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَاشَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ“یعنی حَسن اور حُسین جنّتی جوانوں کے سردار ہیں۔ (ترمذی ، 5 / 426 ، حدیث : 3793) جنّت میں کوئی بھی بوڑھا نہیں ہوگا بلکہ سب بوڑھے اور بچّے جنّت میں 30 سال کے جوان ہوں گے۔( ترمذی ، 4 / 254 ، حدیث : 2571)

حسنین ِکریمین (حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما) جوانی میں فوت ہونے والے اہلِ جنت کے سردار ہیں ورنہ جنت میں تو سبھی جوان ہوں گے۔ (مراٰۃ المناجیح ، 8 / 475ملخصاً)

سوال:جوانی کی عمرکتنی ہے ؟

جواب:جوانی کی عمر ہجری سن(اسلامی سال) کے حساب سے 18 سے 30 سال تک ہے ۔اس کے بعد اُدھیڑ عمر شروع ہوجاتی ہے۔

سوال:گھرسے نکلتے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے ؟

جواب:گھرسے باہرنکلتے ہوئے بِسْمِ اللہ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ ایک مرتبہ اوریَا حَفِیْظُ یَا سَلامُ 11 مرتبہ پڑھ لیں، یہ اللہ پاک کے نام ہیں ،ان کے پڑھنے سے حفاظت وسلامتی حاصل ہوگی ۔مَیں یہ دعا بھی پڑھتا ہوں:اَللّٰهُمَّ سَلِّمْنِي وَسَلِّمْ مِنِّي یعنی اے اللہ مجھے سلامتی عطا فرمااورمیری طرف سے دوسروں کو خیرپہنچے ۔

سوال:کون سے جاندارغذاذخیرہ(یعنی جمع) کرتے ہیں ؟

جواب:انسان، چیونٹی اور چُوہا۔

سوال:چیونٹیوں کوبغیر کسی وجہ کے مارنا کیسا ؟

جواب:چیونٹیاں بھی اللہ پاک کی مخلوق ہیں جواللہ پاک کا ذِکر کرتی ہیں اِنہیں بِلاوجہ نہیں مارنا چاہیے۔ ہا ں! اگر کاٹتی ہوں تو اپنے سے ضرر دُور کرنے کے لیے انہیں مار سکتے ہیں ۔ اَلبتہ جہاں  مارنے کے بجائے ہٹانے سے کام چل سکتا ہو تو پھر انہیں نہ مارا جائے مثلاً اگر کپڑوں یا بدن وغیرہ  پر چڑھ گئیں تو کپڑے کو جھاڑنے یا پھونک مارنےکے ذریعے  بھی اِنہیں دُور کیا جا سکتا ہے۔ یہ بہت ہی نازک ہوتی ہیں ،بعض لوگ انہیں  بڑی بے دردی کے ساتھ پکڑتے یابِلاوجہ جھاڑو وغیرہ سے ہٹاتے ہیں جس سے یہ فوراً مر جاتی ہیں یاپھرسخت زخمی ہو کر تڑپتی رہتی ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

سوال:دعوتِ اسلامی کا بڑااجتماع پہلے کتنے دن کا ہواکرتاتھا ؟

جواب:دعوتِ اسلامی کے شروع میں 2 دن کااجتماع ککری گراؤنڈ،لی مارکیٹ کراچی میں بڑا اجتماع ہواتھا،اس کے بعد بھی ہوا،کورنگی(کراچی) میں بھی ہوا،پھر ملتان منتقل ہوگیا ۔اجتماعات میں کھانے کے اسٹال لگائے جاتے تھے، اسلامی بھائی خریدکر کھاناکھاتے تھے، مَیں مختلف علاقوں کے اسلامی بھائیوں کے کیمپوں میں جاتااوراسلامی بھائیوں کی حوصلہ افزائی کرتا تھا،اجتماع کے بعد مختلف علاقوں اور شہروں سے آنے والے قافلے واپس چلے جاتے تو ان کے نگران وذمہ داران کو مکتوب(Letter)بھیجتاتھا کہ ساتھ آنے والے اسلامی بھائیوں کوبھول نہ جائیں بلکہ رابطے میں رہیں، اجتماع میں شرکت پر ان کا شکریہ اداکریں،مسلسل رابطہ رکھیں حتی کہ وہ دعوتِ اسلامی کے دینی کام کرنے والے بن جائیں ۔مَیں نے بہت خط(Letter) لکھے ہیں ،جومکتوبات کی کتاب(مکتوباتِ عطار) شائع ہوئی ہے وہ تو اس کا عُشْرِ‌ عَشِیر یعنی سَواں حصہ ہے ۔

سوال:بڑے اجتماع کی تیاری کے لیے آپ کا دعوت دینے کا کیا اندازہوتا تھا ؟

جواب:دعوتِ اسلامی کے شروع میں 2دن کے اجتماع کی دعوت کے لیے ایک دوماہ پہلےکراچی سے قافلے کاآغازکرتے تھے پہلا اسٹاپ حیدرآباد ہوتا تھا پھر سفرکرتے کرتے پشاورتک جاتے تھے ۔

سوال:اِس ہفتے کارِسالہ”شانِ صحابہ و اہلِ بیت“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یااللہ پاک! جوکوئی 16 صفحات کا رسالہشانِ صحابہ و اہلِ بیتپڑھ یا سُن لے اس کو صحابہ و اہلِ بیت کے فیضان سے مالا مال کر اور اس کو ماں باپ سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دعوتِ اسلامی کے تحت شانِ صحابہ و اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان کے سلسلے میں ہونے والے 6 مدنی مذاکرے کا اہتمام 20 جون 2026ء بمطابق 5 محرم الحرام 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں کیا گیا ۔

تفصیلی معلومات کے مطابق یہ مدنی مذاکرہ مدنی چینل کے ذریعے مختلف زبانوں میں دنیا کے کئی ممالک میں براہِ راست (Live) نشر کیا گیا جبکہ کراچی کے مختلف علاقوں میں رہنے والے عاشقانِ رسول نے فیضانِ مدینہ کراچی میں آکر مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔

تلاوت و نعت سے آغاز ہونے والے اس میں مدنی مذاکرے میں بالخصوص پر شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی آمد ہوئی۔

اس دوران امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کے مختلف سوالات کے علمِ و حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں۔

بعض سوال وجواب

سوال: کیا فضول باتیں نقصان دہ ہیں ؟

جواب:جی ہاں! فضول باتیں نقصان دہ ہیں او رگناہ بھری باتیں اس سے زیادہ نقصان دہ ہیں ۔بندہ فضول باتیں شروع کرتاہے تو پھر گناہ والی باتوں میں مصروف ہو جاتاہے ،اس لیے فضول باتوں کا دروازہ بند کردیا جائے یعنی فضول باتیں کی ہی نہ جائیں ۔ علمِ دِین ہوگا تو فضول اورگناہ بھری باتوں سے بچ پائیں گے، اس کے لیے دِینی کتابوں، رسائل کا مطالعہ کریں، مدنی مذاکرے دیکھیں، سُنیں۔مکتبۃ المدینہ کا رسالہ ’’خاموش شہزادہ‘‘پڑھنابھی مفیدہے۔(نوٹ: مکتبۃ المدینہ سے یہ کتابیں اور رسائل بھی حاصل کرکے پڑھنے سے بہت ساری معلومات میں اضافہ ہوگا۔ گفتگو کے آداب، فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت زبان کی حفاظت کی اہمیت اچھی گفتگو کیجئے محتاط گفتگو کیجئے)

سوال: کیا بندے کے اعضا کا بھی اس پر حق ہے ؟

جواب: ہرعُضْو (Part of the Body)کا بندےپرحق ہے ،جس کادرست استعمال کرنا ضروری ہے ۔سونا کھانا سب کی ضرورت ہے۔اپنےعُضْوکوگناہوں میں مبتلا کرکے جہنم کی طرف نہ جھونکاجائے ۔زبان کے درست استعمال سے دیگراعضا کی حفاظت ہوگی۔اعضا کے درست استعمال سے زندگی بھر فائدہ ہوگا۔

حضرت عبداللہ بن عمروْ بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اے عبداللہ! کیا میری یہ اطلاع صحیح ہے کہ تم دن میں روزے رکھتے ہو اور رات بھر عبادت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ والہ وسلم )! نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، روزے بھی رکھو اور بغیر روزہ بھی رہو۔ رات میں عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ (صحيح البخاري،كتاب النكاح،حدیث: 5199)

سوال: امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے لوگوں کو تکلیف نہ دینے سےکن الفاظ سے منع فرمایا ؟

جواب: اپنی ذات سے کسی کوراحت(آرام/سکون) نہیں پہنچاسکتے توتکلیف بھی نہ دو۔

سوال: کیا نیکی کبھی پرُانی نہیں ہوتی ؟

جواب: جی ہاں،اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: اَلْبِرُّ لَا یَبْلَی وَالْاِ ثْمُ لَا یُنْسَی وَالدَّیَّانُ لَا یَمُوتُ فَکُنْ کَمَا شِئْتَ کَمَا تَدِینُ تُدَانُ یعنی نیکی کبھی پرُانی نہیں ہوتی اور گناہ بُھلایا نہیں جاتا ، جزا دینے والا (یعنی اللہ پاک)کبھی فنانہیں ہوگا، جو چاہو بنو!(یعنی نیک یا گنہگار)جیسا کروگے ویسا بھروگے۔

سوال:امیراہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کربلاکے کس شہیدکا خصوصیت کے ساتھ ذکرفرمایا؟

جواب: مجھے بچپن سےہی کربلا کے ننھے منے شہیدحضر ت علی اصغر رحمۃ اللہ علیہ سے بہت محبت ہے، شہادت کے وقت ان کی عمر قریباً صرف 6ماہ تھی۔

سوال: حضرت عباس علمبردار رحمۃ اللہ علیہ کو ”علمبردار“ کیوں کہاجاتاہے ؟

جواب: عَلَم جھنڈےکو کہتے ہیں ،حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے کربلاوالے قافلے میں جس کے پاس اس قافلے کا جھنڈاتھا وہ حضرت عباس علمبردار رحمۃ اللہ علیہ کے پاس تھا۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ’’ فضائلِ اہل بیت ‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یاربَّ الحسنین! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ فضائلِ اہل بیتپڑھ یا سُن لے، اُسے فیضانِ اہل بیت سے مالا مال فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

لوگوں کو بزگانِ دین کی سیرت سے آگاہ کرنے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں  اُن کی رہنمائی کرنےکے لیے دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر ہفتے کی رات ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا جاتا ہے جوکہ مدنی چینل کے ذریعے براہِ راست دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں 13 جون 2026ء بمطابق 28 ذوالحجہ 1447ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا آغاز بعد نمازِ عشا تلاوتِ قرآن و نعت ِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے شروع ہوا۔

اس موقع پر براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل مختلف سوالات کئے گئے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

بعض سوال وجواب

سوال: سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”پردہ معاشرتی فساد کوروکتا ہے اور ایک با وقار ماحول پیدا کرتا ہے“اس سے کیا مرادہے ؟

جواب: اس سے مُراد کسی کے عیب کا پردہ رکھنا یا عورتوں کا اسلامی پردہ ہو سکتا ہے، دونوں صورتوں میں پردہ مفید ہے ۔عورت کے لیے اسلامی پردہ اور مرد کے لیے آنکھوں کا پردہ ہونا چاہئے، جس چیز کو دیکھنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی اُسے نہ دیکھے۔کسی کا عیب ہے تو اس کو بھی نہ دیکھے اور معلوم ہو جائے تو اس کا پردہ رکھے یعنی اسے چھپائے ۔جو کسی کا عیب چھپاتا ہے وہ جنت پاتا ہے۔ جو دنیا میں کسی کے عیب چھپائے گا اللہ پاک اس کے دنیا و آخرت کے عیب چھپائے گا۔ یوں بہت سارے معاملات میں پردہ مفید ہوتا ہے ۔جو اپنی پڑھائی میں کمزور ہے تو اس کا بھی پردہ رکھا جائے ۔بِلا وجہ کسی کے بارے میں کہنا کہ وہ پڑھتا نہیں، اسی طرح وہ فیل ہو گیا تو کہنا وہ تیاری نہیں کرتا ،فیل نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ اگر کسی نے کوئی غلطی کی جس سے کوئی شرعی خرابی پیدا نہیں ہو رہی تو اس کا بھی پردہ رکھنا چاہئے ۔اسی طرح کسی نے آپ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا تو اب بھی اس کا پردہ رکھنا چاہئے ۔اس طرح غور کرتے جائیں گے تو پردے رکھنے اور پردہ فاش نہ کرنے کی بہت ساری صورتیں سامنے آتی جائیں گی۔مختلف ذرائع مثلاً سوشل میڈیا وغیرہ کے ذریعے ہم لوگوں کا پردہ فاش نہ کریں اور لوگوں کے عیوب ڈَھکنا سیکھ جائیں تو ہمارا معاشرہ اتنا صاف ستھرا ہو جائے کہ کئی جھگڑے اور مسائل دم توڑ جائیں گے۔

سوال: کھانے کے وقت کیا احتیاط کی جائے کہ معیوب نہ لگے اور نظر بھی نہ لگے ؟

جواب: کوئی اچھے کھانے کھائے تو اکیلا کھائے تاکہ نظر نہ لگے ۔کھانا کھاتے ہوئے اور بھی چند باتوں کا خیال رکھے مثلاً سُورۂ قریش (لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ)پڑھ کر دم کر لے ،کھانے سے پہلے کی دُعا پڑھ لیں کہ کھانے میں کوئی مضر(نقصان دہ) چیز ہو تو وہ نقصان نہ کرے گی، عبادت پر قوت حاصل کرنے کی نیت بھی کر لیں، محض لذت کے لیے نہ کھائیں کہ قرآنِ پاک میں صرف لذّت کی خاطر کھاتے رہنا کفار کی صفت بیان ہوئی ہے ۔

کھانا کھانے سے پہلے کی دُعا

بِسْمِ اللّٰہ وَبِاللّٰہِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّمَعَ اسْمِہٖ شَیْیٔ ٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ

ترجمہ : اللہ پاک کے نام سے شروع کرتاہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اے ہمیشہ زندہ و قائم رہنے والے۔کھانا شُروع کرنے سے قبل یہ دُعا پڑھ لی جائے، اگر کھانے پینے میں زَہر بھی ہوگا تو اِنْ شَآءَ اللّٰہُ الکریم اَثَر نہیں کرے گا۔( کَنْزُ الْعُمَّال، ج 15، ص 109، حدیث:40792)

سوال: خرگوش(Rabbit) کیسا جانور ہے ؟

جواب: خرگوش بڑا پیارا اور حلال جانور ہے ۔ہند کے صوبے گجرات میں ایک شہر احمد آباد ہے ،اس میں کافی تعداد مسلمانوں کی ہے ،میں جب وہاں گیا تو وہاں مجھے بتایا گیا کہ اس شہر کو آباد کرنے والے بادشاہ کا نام احمد تھا ،جب وہ یہاں آیا تو یہاں جنگل تھا ،اس نے دیکھا کہ ایک خرگوش شیر کے اوپر بیٹھا ہوا ہے ،اس نے کہا کہ جہاں کا خرگوش اتنا بہادر اور نڈر(یعنی ہمت والا،بے خوف) ہے کہ شیر کے اُوپر بیٹھا ہواہے تویہاں ایک شہر بسانا چاہئے ،چنانچہ اس نے یہاں احمد آبادشہر قائم کیا۔

سوال: حضر ت موسیٰ علیہ السلام کا ایک اُمّتی خرگوش کیسے بنا دیا گیا؟

جواب: عیون الحکایات میں ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ایک شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام سے علمِ دین حاصل کیا کرتا تھا ،ایک مرتبہ اس نے اپنے وطن جانے کی اجازت طلب کی، آپ نے اُسے اجازت دے دی ۔ اس نے وہاں جا کر لوگوں سے عزت اور مال حاصل کرنے کے لیے کہنا شروع کیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے یہ فرمایا وہ فرمایا یعنی اپنے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کامقرب(قریبی آدمی) ظاہر کرنا شروع کیا،لوگ اس کی عزت کرتے اور مال پیش کرتے ،اللہ پاک اس سے ناراض ہو گیا اور اسے خرگوش بنا دیا ۔

سوال: مردوں میں ہا رٹ اٹیک(Heart Attack) کا مرض عورتوں سے زیادہ ہے، اس کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟

جواب: کمانے کی زیادہ فکر کرنا کہ گھرکی بعض عورتیں زیادہ رقم کاتقاضا کرتی ہیں ،جبکہ عورتوں کو یہ فکر نہیں ہوتی ۔مردوں کا کھانے پینے میں احتیاط نہ کرنا جبکہ عورتیں کھانا پکا پکا کر سیر ہو جاتی ہیں، کھانے کے وقت کم کھاتی ہیں ۔عورتوں کا رو دھو کر اپنا غم ہلکا کر لینا جبکہ مردوں کا ایسا نہ کر پانا ، اسی طرح عورتوں کی بنسبت مردوں کا نشے میں زیادہ مبتلا ہونا ،شراب نوشی کرنا ۔سگریٹ پینا وغیرہ وہ اسباب ہیں جس کی وجہ سے ان میں ہا رٹ اٹیک زیادہ ہوتے ہیں ۔

سوال: کون سی تین ہستیوں کا زیادہ رونا مشہور ہے ؟

جواب:تین شخصیات کازیادہ رونامشہورہے ۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام خوفِ خدا کی وجہ سے بہت روتے تھے جبکہ حضرت امام زین العابدین علی اوسط رضی اللہ عنہ کے دل میں کربلا کے واقعات اس طرح گھرکر گئے تھے(یعنی میدانِ کربلا میں اپنے پیاروں کے شہیدہونے کامنظر دل میں بیٹھ چکا تھا) جب انہیں یاد آتے تو بے اختیارآنسو جاری ہو جاتے تھے ۔

سوال:کیا کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جن کا رونا ان کے شاگرد پر زیادہ اثر کر گیاہو ؟

جواب: جی ہاں! حضرت عبدالرحمن ابن ِجوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مَیں اپنے ایک استاذ کے پاس حدیث پا ک سننےکے لیے جاتا تھا، وہ حدیث پاک بیان کرتے ہوئے روتے تھے توان کا رونا حدیث سے زیادہ مجھ پر اثر انداز اور مفید ہوا۔

سوال: کیا ہم اپنے ایصالِ ثواب کے لیے اپنی زندگی میں ہی کلمہ شریف وغیرہ پڑھ کر محفوظ کر لیں ؟

جواب: بندہ جو بھی نیکی کرتا ہے اس کا ثواب تو اُسے مل ہی جاتا ہے ،اپنے آپ کو ایصال ِثواب کرنے کے کوئی معنیٰ نہیں بلکہ اپنی نیکیوں کا ثواب جتنوں کو ایصال کریں گے تو اتنا اس کے نامہ اعمال میں بڑھا دیا جائے گا۔(ایصال کا معنی ہے پہنچانا۔عموماًیہ لفظ ”ایصالِ ثواب“ میں استعمال ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کسی کی روح کو ثواب پہنچانا)

سوال: نیکیاں محفوظ کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟

جواب: اپنی نیکیوں کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے آپ کو گناہوں اور دوسروں پر ظلم کرنے، مال چھین لینے وغیرہ سے بچانا ہو گا۔ورنہ اپنی نیکیاں مظلوموں کو دینی پڑیں گی اور بندہ نیکیوں سے محروم ہو جائے گا۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ چار بُرائیاں‘‘پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہچار بُرائیاں‘‘پڑھ یا سُن لے، اُسے تمام بُرائیوں اور خطر ناک بیماریوں سے محفوظ فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کراچی، 6 جون 2026ء:

دعوت ِاسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 6 جون 2026ء بمطابق 21 ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔

معمول کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت سے کیا گیا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سولات کے جوابات دیئے اور انہیں مدنی پھولوں سے نوازا۔

کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: امیروں کی شاہانہ زندگی اور لائف اسٹائل(Life Style) دیکھ کر عام افراد میں مال حاصل کرنے کا جذبہ بڑھ جاتا ہے اور جب مال کی لالچ بڑھتی ہے تو انسان حلال و حرام بھول جاتا ہے۔اس خطر ناک سوچ سے بچنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟

جواب: پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری پیاری سیرت پڑھیں،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کس طرح زندگی گزاری اور دولت سے دُور رہے ،آپ کے ارشاد ات بھی موجود ہیں کہ مَیں چاہوں تو یہ پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلیں لیکن آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا بلکہ جب بھی کوئی مال آتا تو راتوں رات اسے راہِ خدا میں تقسیم فرما دیتے، روزانہ ایک مرتبہ کھانا کھاتے اور دوسرے دن کے لیے بچا کر نہ رکھتے تھے ۔ آپ نے ظاہری دولت کبھی بھی جمع نہیں فرمائی ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں مثال دی ہے کہ جب تک کشتی پانی میں ہےتو نہیں ڈُوبے گی، مگر جب پانی کشتی میں آگیا تو وہ ڈُوب جائے گی ۔ اسی طرح جس کے پاس مال و دولت ہے، وہ نقصان نہیں پہنچا رہا مگر جس دن یہ مال دل میں آگیا تو سب کچھ لے ڈُوبے گا۔ مال سے محبت کے بجائے اللہ پاک سے محبت کی جائے ،دُنیا سے محبت کے بجائے میٹھے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کی جائے تو ساری دولت ہمارے قدموں میں ہو گی ۔ورنہ دنیا کی محبت گناہوں کی جڑ ہے ۔

نوٹ:مکتبۃ المدینہ کی سیرت کے موضوع پر کتابیں اور رسائل مثلاً”سیرتِ مصطفیٰ،سیرتِ رسول ِ عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم،آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پیاری سیرت،مختصر سیرتِ رسول“حاصل کرکے مطالعہ کریں۔

سوال:آپ علمائے کرام سے محبت فرماتے ہیں،علماء سے محبت کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب: علمائے کرام اگر معاشرے سے مائنس ہو جائیں تو کچھ نہیں بچے گا ،قدم قد م پر علماء سے رہنمائی کی حاجت ہوتی ہے حتّٰی کہ علماء کی حاجت جنت میں بھی ہو گی ۔اللہ پاک جنتیوں سے فرمائے گا !مانگو کیا مانگتے ہو؟ یہ علمائے کرام کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے ان سے پوچھیں کہ ہم اللہ پاک سے کیا مانگیں؟علمائے کرام قیامت کے دن بھی کام آئیں گے ،علمائے کرام کو روکا جائےگا کہ پہلے اپنے چاہنے والوں کی شفاعت کریں تاکہ وہ بھی جنت میں داخل ہو جائیں، علمائے کرام کو اگر کسی نے پانی بھی پلایا ہو گا تو وہ اس کی بھی شفاعت کریں گے ۔ حدیث پاک ہے کہ عالِم بنو یا طالِبِ عِلْم، عِلْمِ دین سننے والے بنو یا عِلْمِ دِین سے محبّت کرنے والے بنو،پانچوے مت بننا، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔( جامع بیان العلم و فضلہ 1/ 158، حدیث:151 )

سوال: اس زمانے میں کسی کا عقیدہ جاننے کا معیارکیا ہے ؟

جواب: اس دور میں ہمارا معیار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،انہوں نے ہمیں قرآن و حدیث کادرست مفہوم سمجھایا ہے اور ہمیں عقائد واضح کر کے سمجھائے ہیں۔ان سے جو محبت کرتا ہے وہ ہمارے سرکا تاج ہے اور جو اِن پر تنقید کرتا ہے، ان کا ذکرِ خیرسُن کر اس کے منہ پر بادل چھا جاتے ہیں، کدورت منہ پر آتی ہے تو ہمیں نہ چلے(یعنی ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں) ،مَیں اعلیٰ حضرت والا ہوں ۔جس کا چہرہ اعلیٰ حضرت کا نام سُن کر خوشی سے کِھل اُٹھے تووہ اپنا ہے ۔

سوال: رِیا نہ ہو جائے، اس لیے کسی نیک عمل کو چھوڑ دینا کیسا؟

جواب: رِیا کے خوف سے نیک عمل چھوڑ دینا یہ بھی رِیا ہے ،بندہ نیک عمل کرے اور اللہ پاک سے اخلاص کی دعا کرے ۔

سوال:اگر کوئی توبہ کرے لیکن پھر گناہ میں مبتلا ہو جائے تواب کیا کرے ؟

جواب: توبہ کرتے ہوئے دل کی کیفیت کو دیکھنا ضروری ہے ،توبہ کرتے وقت شرمندگی کے ساتھ اس نیت کے ساتھ توبہ کرے کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کروں گا تَو یہ توبہ ہے۔ اگر تذبذب ہے کہ چھوڑوں گا یا نہیں چھوڑوں گا تو یہ توبہ نہیں ۔بہر حال درست توبہ کی پھر کسی وجہ سے وہی گناہ ہو گیا تو دوبارہ توبہ کرے ،یہ توبہ کرنا ایک دن گناہ کی عادت کو ختم کر دے گا ۔

سوال: شماتت کیا ہے ؟

جواب: دوسرے کی مصیبت کو دیکھ کر خوش ہونا شماتت ہے اوریہ باطنی بیماری ہے ،اس کا علاج ضروری ہے ،حدیث پاک میں ہے کہ اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی (شماتت) کا اظہار نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ پاک اس پر رحم فرمائے اور تمہیں اسی آزمائش میں مبتلا کر دے ۔(سنن ترمذی ،حدیث نمبر 2543)

سوال: کسی کے گھر جائیں تو انداز کیا ہونا چاہئے ؟

جواب: جب کسی کے گھر میں داخل ہونا چاہیں تو اِس طرح کہیں: السلامُ علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟٭اگر داخلے کی اجازت نہ ملے تو بخوشی واپس لوٹ جائیں۔ ہو سکتا ہے کسی مجبوری کے تحت صاحبِ خانہ نے اجازت نہ دی ہو٭جب آپ کے گھر پر کوئی دستک دے تو سُنّت یہ ہے کہ پوچھیں: کون ہے؟ باہر والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے: مثلاً کہے: محمد الیاس۔ نام بتانے کے بجائے اس موقع پر مدینہ! میں ہوں! دروازہ کھولو وغیرہ کہنا سنّت نہیں٭جواب میں نام بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں تاکہ دروازہ کھلتے ہی گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔

سوال: کیا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چھوٹے بچوں کی بھی نعت سنتے ہیں ؟

جواب: جی ہاں ! اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سننے کی یہ طاقت دی ہے کہ جب ہم دُرود شریف پڑھتے یا نعت پڑھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہماری آواز سنتے ہیں،نعت شریف پڑھنے والا بچہ ہو یا بڑ اہو ۔

سوال:حدیث پاک میں ہے کہ مومن لعنت کرنے والا، طعنہ دینے والا، فحش گو اور بےہودہ گفتگو کرنے والا نہیں ہوتا۔( ترمذی، حدیث : 1984) تو صرف اتنا کہنا کہ لاکھ دی(پنجابی میں لخ دی) ،کیا یہ بھی لعنت ہے ؟

جواب: جی ہاں! یہ بھی لعنت ہے اور اشارے سے بھی لعنت ہوتی ہے ۔لعنت کرنا گنا ہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک بندہ جب کسی چیز کو لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر وہ دائیں اور بائیں جانب کی راہ لیتی ہے۔اگر جگہ نہیں پاتی تو جسے لعنت کی گئی اگر وہ اس کا اہل ہوتا ہے تو اس کی طرف جاتی ہے ورنہ دینے والے پر لوٹ آتی ہے۔(سنن ابو داؤد، حدیث: 4905)یقینی کافر اور شیطان کو بھی لعنت کرنا صرف مباح ہے یعنی نہ ثواب ہے اور نہ ہی گنا ہ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ذکرُ اللہ کے واقعات پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہذکرُ اللہ کے واقعات پڑھ یا سن لے اُسے دونوں جہاں میں سکون اور چین عطا فرما کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

کراچی، 30 مئی 2026ء:

دعوت ِاسلامی کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 30 مئی 2026ء بمطابق 14 ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سولات کے جوابات دیئے۔

کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: کیا مدینہ پاک کی حاضری میں خواص اور عوام کے ذوق میں کوئی فرق ہوتا ہے ؟

جواب: جی ہاں ! خواص مدینۂ منورہ میں زیادہ مدت رہیں تو ان کے ذوق میں اضافہ ہوتاہے ،میرے مرشد حضرت مولانا ضیاء الدین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ 75سال مدینۂ منورہ میں رہے اور اُن میں ذوقِ مدینہ بہت تھا، عوام زیادہ دن رہیں تو ان کاذوق کم ہوجاتاہے۔اس لیے مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ امیرُالمؤمنین حضرت عمرفاروق ِاعظم رضی اللہ عنہ حج کے اختتام پر لوگوں کو اپنے وطن واپس جانے کا حکم فرماتے تھے۔ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مقدس مقامات کا باادب بنائے۔

یادرکھئے!بےادب اللہ پاک کے فضل و رحمت سے محروم ہے ۔میرا مشورہ ہے کہ مکہ ومدینہ میں ملازمت یا کاروبارکے لیے سفرنہ کریں ۔ایسوں کے لیے ذوق وادب برقراررکھنا مشکل ہے ۔

سوال: ہمیں مدینۂ منورہ کس اندازسے حاضر ہونا چاہئے ؟

جواب:حاضری ِمدینہ کے وقت نعتیں پڑھتے ہوئے ،ہرشے سے بے گانہ ہوکر ،نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تصورمیں ڈُوب کر جانا چاہئے، اس کے لیے پہلے ہی مدینۂ منورہ کے فضائل پڑھ لے تاکہ ذوق حاصل ہو۔ذوق و رِقَّت کے لیے صحبت بھی مفیدہے، اگر عاشقانِ رسول بالخصوص جو پہلی مرتبہ گئے ہوں ان کا ساتھ نصیب ہوجائے تو ذوق بڑھے گا ۔

سوال:حاجی صاحبان یاعلمائے کرام تشریف لائیں تو ان کو پھولوں کے ہارپہنانا کیسا؟

جواب: حاجیوں، علمائے کرام کو اُن کی تعظیم کے لیےاوردُولہاکی خوشی میں اضافے کے لیے ہارڈالے جاتے ہیں ،جب مَیں کہیں جاتاتھا تو مجھے بھی بہت ہار پہناتے تھے مگر مجھے ان سے کوفت ہوتی تھی ،ایک تو اس سے کپڑوں پر پھولوں کے داغ لگ جاتے ہیں، دوسرا اس میں کافی ساری رقم خرچ ہوتی ہے اور ہار پہنانا تو تھوڑی دیرکے لیے ہوتاہے ،پھر مَیں نے سمجھانا شروع کیا کہ آپ لوگ مجھے ہارپہنانے کے لیے جورقم خرچ کرتے ہیں اس کے مکتبۃ المدینہ کے مختلف رسائل تقسیم کردیا کریں کہ یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک بہترین طریقہ ہے ۔

سوال:آج کل ہمارے معاشرے میں بالخصوص دعوتوں میں کھانا ضائع ہوتاہے ،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟

جواب: دانہ دانہ بچانا چاہئے، جب قِلّت ہوتی ہے تو اس کی قدرہوتی ہے، کھا نا ضائع کرنا اِسراف ہے اور یہ گنا ہ ہے، میں سمجھاتا رہتا ہوں ،آپ بھی سمجھاتے رہیں اور سمجھانے میں تھکیں نہیں۔دعوتوں میں جوکھانا بچ جائے اسے پیک کروا کر غریبوں کو دے دیں ،کسی مدرسے میں بھیج دیں ۔دعوتِ اسلامی کے ذریعے بھی اسے غریبوں میں تقسیم کروایا جاسکتاہے۔دعوتِ اسلامی کے شعبے FGRF کے ذریعے بھی کھانا تقسیم کروایاجاسکتاہے ۔

سوال:بھینس اورکٹےکی قربانی کی جاسکتی ہے ؟

جواب: جی ہاں شرائط پائی جانے کی صورت میں بھینس اورکٹے(نر بھینس/Bull Buffalo) کی قربانی کی جاسکتی ہے، بھینس گائے کی فیملی سے ہے، یہ دودھ کی ٹینکی ہے ،لوگ غلط فہمی ڈالتے ہیں کہ اس کی قربانی نہیں ہوتی، اس لیے اگلی مرتبہ ہو سکے تو گھرگھربھینس یاکٹے کی قربانی کریں ۔جواسے پال سکتاہے تو ابھی سے پالنا شروع کردے ۔یہ گائے سے سستی ہوتی ہے ،اس کا گوشت گائےکی بنسبت مقدار میں زیادہ ہوتاہے ۔

سوال: بھینس کے گوشت کے کیا فوائد ہیں ؟

جواب: بھینس کے گوشت میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہےجوپٹھوں کے لیے مفیدہے اور اس کی نشوونمامیں مددکرتی ہے۔اس میں آئرن زیادہ ہوتاہے جوانسانی بدن کےخون کے لیے مفیدہے،اس میں وٹامن بی(Vitamin B) زیادہ ہوتاہے جو مدافعتی نظام(Immune System) کو مضبوط کرتاہے ،اس کا گوشت کھانے سے پیٹ زیادہ دیرتک بھرا رہتاہے ۔اس میں گائے کے مقابلے میں چربی بھی کم ہوتی ہے ۔

سوال: حج وعمرہ کرنے والے، لوگوں کے لیے کیا تحفہ لائیں ؟

جواب: سب سے بہترین تحفہ آبِ زم زم ہےجو کہیں اورنہیں ہوتا،یہ حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں کی ٹھوکرکی برکت ہے، حاجی کوئی بھی چیزدے تو شکریہ کے ساتھ اسے قبول کرلیا کریں۔بعض لوگ آب زم زم میں اپنے ہاں کا پانی اور دیگر اپنے وطن کی چیزیں بھی ڈال دیتے ہیں ،اس لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس میں وضاحت بھی کردیا کریں کہ کون سی چیزمکہ مدینہ کی ہے اورکون سی چیزکہیں اور کی ہے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یاربَّ المصطفٰے!جو کوئی 18 صفحات کا رسالہ”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ پڑھ یا سُن لے اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا اور بار بار حج و دیدارِ مدینہ کا شرف عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النَّبیّٖنْ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم