فرعونیوں پر آنے والے عذابات

جو قومیں اللہ پاک کے احکام و فرامین پر عمل نہیں کرتیں، اللہ پاک ان پر سخت عذاب فرماتا ہے۔

پہلا عذاب طوفان کا عذاب تھا:

اَچانک ایک بڑا بادل آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا، پھر زوردار بارش ہوئی اور طوفان آگیا، فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیااور وہ پانی ان کی گردنوں تک آ گیا، پانی اس قدر تھا کہ جو بھی اس میں بیٹھتا، ہلاک ہو جاتا، یہاں تک کہ ان کے کھیت اور باغات بھی پانی سے تباہ ہوگئے، یعنی وہ سات دن تک عذاب میں گرفتار رہے، یہاں بنی اسرائیل اور فرعونیوں کے مکانات تھے، مگر بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السّلام پر ایمان رکھنے والے تھے، ان کے گھروں میں پانی نہ تھا، مگر برابر میں فرعونیوں کا گھر تھا اور وہ اس عذاب میں مکمل طور پر گرفتار تھے، ان لوگوں میں اس عذاب کو سہنے کی طاقت نہ تھی، فرعونی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے دربار میں حاضر ہوئے اور آکر دعا کرنے کے لئے کہا کہ ہم اس مصیبت سے رہا ہوجائیں اور ہم ایمان بھی لے آئیں گے، طوفان ٹل گیا، ہرطرف سبزہ ہو گیا اور پھلوں کے درخت بھی اُگ آئے، فرعونی یہ سب دیکھ کر کہنے لگے:یہ بارش ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی ہے،انہوں نے اپنے وعدے کو توڑ ڈالا اور ایمان نہ لائے، پھر سرکشی کی اور بنی اسرائیل پر مظالم کرنے شروع کر دیئے۔

فرعونیوں پر آنے والا دوسرا عذاب:

ایک مہینے بعد اللہ پاک نے اس قہروعذاب کو ٹڈیوں کی شکل میں بھیج دیا، اب ٹڈیاں گروہ دَر گروہ آئیں، باغات کو کھانے کے بعدمکانات کی لکڑیوں کو بھی کھا گئیں، فرعونیوں کے گھر ٹڈیوں سے بھر گئے، ان کا سانس لینابھی دشوار ہو گیا، بنی اسرائیل کے مؤمنین اس مشکل میں ہرگز گرفتار نہ ہوئے، ان کے باغات بھی ہرے بھرے تھے، ایک ہفتہ ایسے ہی گزر گیا، اب فرعونیوں کو بڑی عبرت ہوئی، وہ پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،آہ وزاری کی کہ وہ بنی اسرائیل کو تنگ نہ کریں گے اورایمان بھی لے آئیں گے، حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے دل میں نرمی آگئی اور انہوں نے دعا فرما دی، ان ٹڈیوں کے بعد پھر وہ چین سے رہنے لگے اور دوسری دفعہ بھی سر کشی و نافرمانی شروع کردی ۔

تیسرا عذاب:

تیسرا عذاب یہ تھا کہ تمام انا جوں اور غلو ں کو گھن لگ گیا، جو تمام غلو ں اور پھلوں کو کھا گیا، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ایک چھوٹا سا کیڑا تھا، جو تیار فصلوں کو نگل گیا اور ان کے کپڑوں میں گُھس گیا، ان کی داڑھی، مونچھوں، بھنوؤں، پلکوں کو چاٹ چاٹ کر یہاں تک کہ چہروں کو کاٹ کر چیچک زدہ بنا دیا، یہ کیڑے ان کے برتنوں میں گھس گئے، یہ لوگ نہ کھا سکتے تھے، نہ پی سکتے تھے، زندگی گزارنا نہایت ہی دشوار ہوگیا، ایک ہفتہ تکلیف میں گزرا اور بلبلا اُٹھے، حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، دعا کی درخواست کی، ان لوگوں کی بے قراری اور آہ و زاری کو دیکھ کر آپ علیہ السّلام نے اپنے دونوں ہاتھ بارگاہِ خداوندی میں اُٹھا دیئے اور پھر عافیت کی دعا فرمائی، لہذا عذاب رفع دفع ہو گیا، لیکن فرعونیوں کے دل اس قدر سخت تھے کہ انہوں نے یہ عہد دوبارہ توڑ ڈالا، پھر وہ بنی اسرائیل پر ظلم کرنے لگے، یہ ایک اس قدر عجیب و غریب قوم تھی کہ ابھی ایک ماہ بھی نہ گزرا تو دوبارہ عذاب میں گرفتار ہوگئے ۔

چوتھا عذاب:

یہ عذاب مینڈک کا عذاب تھا، ان کی بستیوں اور گھروں میں مینڈک آ گئے، اس قدر ان کی تعداد تھی کہ جو آدمی جہاں بیٹھتا تھا، ان کی مجالس میں ہزاروں مینڈک گھس جاتے، کوئی آدمی بات کرنے کے لئے مُنہ کھولتا تو ان کے منہ میں گُھس جاتے تھے، ہانڈیوں میں یہاں تک کہ ان کے جسموں پر سینکڑوں مینڈک سواررہتے، ان کی تعداد اتنی تھی کہ ہر طرف مینڈک ہی مینڈک تھے، یہ پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، پھر دعافرمانے کو کہا اور ایمان لانے کا پھر سے عہد کیا، پھر سرکشی کی، پھر مظالم ڈھائے اور یہاں تک کہ ایک ماہ بھی نہ گزرا تو پانچواں عذاب آگیا۔

پانچواں عذاب:

پانچواں عذاب خون کا تھا، پھر اچانک خون کا عذاب آیا، ہر قسم کے پانی میں خون ہی خون تھا، انہوں نے یہ سوچا کہ یہ معاذ اللہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی نظر بندی اور جادوگری ہے، یہ سن کر فرعونیوں نے یہ کہا کہ یہ کیسی نظر بندی ہے، کھانے پینے کے برتن خون سے بھرے پڑے تھے، جو مؤمنین حضرت موسیٰ علیہ السّلام پر ایمان لانے والے تھے، ان کے پانی، کنوؤں اورنہروں میں خون کا ایک چھینٹا تک نہ تھا، فرعونی پانی پیتے تو خون ہی خون ان کے حلق سے گزرنے لگتا اور جب بنی اسرائیل کے لوگ پانی پیتے تو وہ صاف و شفاف ہوتا، انہوں نے کہا بنی اسرائیل جہاں سے پانی پیتے ہیں، ہم بھی وہاں سے پانی پئیں گے، لہذا خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ جب فرعونی بھی وہی پانی پینے لگتے تو خون و خون ہو جاتا ۔


فرعونیوں پر آنے والے عذابات     

*اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کو باغوں اور چشموں کی سرزمین مصر سے عمدہ مکانوں سے باہر نکالا تاکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور بنی اسرائیل تک پہنچیں اور پھر فرعون اور اس کی قوم کو غرق کردئیے جانے کے بعد اللہ پاک نے بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی سرزمین اور ان کے خزانو ں اور مکانوں کا وارث بنادیا ۔(پ 19، الشعراء:57۔59)

*جب سورج طلوع ہوا تو فرعونیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور بنی اسرائیل کا تعاقب کیا پھر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا اور ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا تو حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے ساتھیوں نے کہا: بیشک اب وہ ہم پر قابو پالیں گےنہ ہم ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہمارے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ ہے کیونکہ آگے دریاہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو اللہ پاک کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا اس لئے آپ علیہ السّلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ پاک سے براگمان نہ رکھووہ لوگ ہرگز تمہیں نہ پاسکیں گے بیشک میرے ساتھ میرا رب عزوجل ہے اور وہ ابھی مجھے بچنے کا راستہ دکھا دے گا۔(پ 19، الشعراء: 60۔62)

*اللہ پاک نے موسیٰ علیہ السّلام کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو۔حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے دریا پر عصا مارا تو دریا بارہ راستوں میں تقسیم ہوکر پھٹ گیا اور ان کے درمیان خشک راستے بن گئے جن پر چل کر بنی اسرائیل دریا سے پار ہوگئے۔فرعون اور اس کا لشکر بنی اسرائیل کے قریب آئے یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے راستوں پر چل پڑے جو اُن کے لئے دریا میں اللہ پاک کی قدرت سے پیدا ہوئے تھے۔(پ 19، الشعراء:63،64)

*اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور ان کے سب ساتھ والوں کو دریا سے سلامت نکال کر بچالیا اور فرعون اور اس کی قوم کو اس طرح غرق کردیا کہ جب بنی اسرائل سارے کے سارے دریا سے باہر ہوگئے اور تمام فرعونی دریا کے اندر آگئے تو اللہ پاک کے حکم سے دریا مل گیا اور پہلے کی طرح ہو گیا یوں فرعون اپنی قوم کے ساتھ ڈوب گیا۔(پ19، الشعراء: 65، 66)


فرعونیوں پر آنے والے عذابات

اللہ تبارک و پاک نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے انبیاء اور رسول بھیجے، انہیں رسولوں میں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی تھے، جنہیں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا گیا، حضرت موسیٰ کے زمانے میں جو مصر کا بادشاہ تھا، اس کا نام ”ولید بن مصعب“ تھا اور لقب فرعون تھا، اس کے پیروکاروں کو فرعونی کہتے ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو ایمان کی دعوت دیتے رہے، مگر فرعونیوں نے ایمان قبول نہ کیا، فرعون نے مؤمنین پر مظالم کے پہاڑ توڑ ڈالے، فرعون کے مظالم سے تنگ آ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا مانگی، حضرت موسیٰ کی دعا کے بعد اللہ تبارک و پاک نے فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلط فرما دیا، وہ پانچوں عذاب یہ ہیں:

1۔طوفان:

ناگہاں ایک اَبر آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا، پھر انتہائی زوردار بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا اور پانی ان کی گردنوں تک آگیا، ان میں جو بیٹھا، وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا، نہ ہِل سکتے تھے، نہ کوئی کام کر سکتے تھے، یہ لوگ برباد ہوگئے، جب فرعونی عاجز ہو گئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کی، چنانچہ آپ کی دعا سے طوفان ٹل گیا، مگر یہ قوم ایمان نہ لائی، بلکہ مزید ظلم و ستم شروع کر دیئے۔

2۔ ٹڈیاں:

ایک ماہ بعد جب ان کا ظلم و ستم بڑھنے لگا تو اللہ پاک نے اپنے عذاب کو ٹڈیوں کی شکل میں بھیج دیا کہ چاروں طرف سے ٹڈیوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ آ گئے، جو ان کے کھیتوں اور باغات کو یہاں تک کہ ان کے مکانوں کی لکڑیوں تک کو کھا گئے اور فرعونیوں کے گھر ٹڈیوں سے بھر گئے، جس سے ان کا سانس لینا مشکل ہو گیا، آخر اس عذاب سے تنگ آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی، یہ عذاب بھی ٹل گیا، مگر یہ لوگ ایمان لائے۔

3۔گھن:

ایک ماہ بعد ان لوگوں پر ”قمل“ کا عذاب آیا، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ایک چھوٹا سا کیڑا تھا، جو کھیتوں کی تیار فصل کو چٹ کر گیا اور ان کے کپڑوں میں گھس گئے، یہ کیڑے ان کے کھانوں، پانیوں اور برتنوں میں گھس جاتے تھے، جس سے یہ لوگ نہ کچھ کھا سکتے تھے نہ کچھ پی سکتے تھے، نہ سو سکتے تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یہ عذاب بھی ٹل گیا، مگر یہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے۔

4۔مینڈک:

پھر ایک ماہ بعد ان کی بستیوں اور ان کے گھروں میں اَچانک بے شمار مینڈک پیدا ہوگئے، جو آدمی جہاں بھی بیٹھتا، اس کی مجلس میں ہزاروں مینڈک بھر جاتے تھے، آدمیوں کا بات کرنا اور کھانا محال ہو گیا، ہانڈیوں میں مینڈک، ان کے جسموں پر سینکڑوں مینڈک سوار رہتے، موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یہ عذاب بھی اٹھا لیا گیا۔

5۔خون:

ایک دم اَچانک ان لوگوں کے تمام کنوؤں اور نہروں کا پانی خون ہو گیا، مجبور ہو کر فرعون اور فرعونی لوگ گھاس اور درختوں کی جڑیں چَبا چَبا کر چوستے تھے، مگر اس کی رطوبت بھی ان کے منہ میں جا کر خون بن جاتی تھی، الغرض اس خونی عذاب سے بھی نجات مل گئی، ان واقعات سے ہمیں سبق حاصل کر کے عہد شکنی اور بداعمالیوں سے گریز کرنا چاہئے۔

اللہ کریم ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


فرعونیوں  پر آنے والے عذابات

جب جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بھی فرعونی اپنے کفر وسرکشی پر جمے رہے تو اُن پر اللہ پاک کی نشانیاں پے درپے وارد ہونے لگیں کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ اے اللہ پاک فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا ہے اور اس کی قوم نے بھی عہد شکنی کی ہے انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو اُن کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت و نصیحت ہو،

1. تواللہ پاک نے طوفان بھیجا ، ہوا یوں کہ بادل آیا، اندھیرا ہوا اور کثرت سے بارش ہونے لگی ۔قبطیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی اُن کی گردنوں تک آگیا، اُن میں سے جوبیٹھا وہ ڈوب گیا ۔ ہفتہ سے ہفتہ تک اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجود اس کے کہ بنی اسرائیل کے گھر اُن کے گھروں سے متصل تھے اُن کے گھروں میں پانی نہ آیا۔ جب یہ لوگ عاجز ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی عرض کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا ۔ حضرت موسیٰ نے دعا فرمائی تو طوفان کی مصیبت دور ہو گئی، زمین میں وہ سرسبزی وشادابی آئی جو پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ کھیتیاں خوب ہوئیں اور درخت خوب پھلے ۔ یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے :یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے۔

2. ایک مہینہ تو عافیت سے گزرا ،پھر اللہ پاک نے ٹڈی بھیجی وہ کھیتیاں اور پھل ، مکان کے دروازے، حتّٰی کہ لوہے کی کیلیں تک کھا گئیں اور قبطیوں کے گھروں میں بھر گئیں لیکن بنی اسرائیل کے یہاں نہ گئیں۔ اب قبطیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا۔سات روز تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہے،پھر حضرت موسیٰعلیہ السلام کی دعا سے نجات پائی۔ کھیتیاں اور پھل جو کچھ باقی رہ گئے تھے انہیں دیکھ کر کہنے لگے :یہ ہمیں کافی ہیں ہم اپنا دین نہیں چھوڑتے چنانچہ ایمان نہ لائے۔ایک مہینہ عافیت سے گزرا ،

3. پھراللہ پاک نےقمل بھیجے ۔ اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہے تھے وہ کھالئے، یہ کیڑا کپڑوں میں گھس جاتا تھا اور جلد کو کاٹتا تھا، کھانے میں بھر جاتا تھا ،اگر کوئی دس بوری گندم چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے ۔یہ کیڑے فرعونیوں کے بال، بھنویں ،پلکیں چاٹ گئے ،ان کے جسم پر چیچک کی طرح بھر جاتے حتّٰی کہ ان کیڑوں نے اُن کا سونا دشوار کردیا تھا۔ اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کی:ہم توبہ کرتے ہیں ، آپ اس بلا کے دور ہونے کی دعا فرمائیے۔ چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے دور ہوئی، لیکن فرعونیوں نے پھر عہد شکنی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کر دئیے۔

4. اسی طرح ان پر مینڈک کا عذاب آیا اچانک بیشمار مینڈک پیدا ہوگئے ان کے جسموں پہ سینکڑوں مینڈک سوار رہتے ۔کسی حالت میں بھی مینڈکوں سے نجات نہیں ملتی تھی ۔اس عذاب سے بھی فرعونی رو پڑے اب قبطیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا۔،پھر حضرت موسیٰعلیہ السلام کی دعا سے نجات پائی۔

5. مگر پھر یہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو پھر ان پر خون کا عذاب قہر الٰہی بن کر اتر پڑا ایک دم اچانک ان کے تمام کوؤں ، نہروں کا پانی خون ہو گیا ۔حتی کہ فرعونی اگر گھاس اور درختوں کی جڑیں چبا چبا کر چوستے تو اس کی رطوبت بھی انکے منہ میں جاکر خون بن جاتی الغرض فرعونیوں نے پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی تو ساتویں روز پھر آپ کی دعا سے اس خونی عذاب کا سایہ بھی ان کے سروں سے ہٹ گیا ۔

الغرض ان سرکشوں پر مسلسل پانچ عذاب آتے رہے اور ہر عذاب ساتویں دن ٹلتا رہا اور ہر دو عذابوں کے درمیان ایک ماہ کا فاصلہ ہوتا رہا مگر فرعون اور فرعونیوں کے دلوں پر شقاوت و بدبختی کی ایسی مہر لگ چکی تھی کہ پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے اور اپنے کفر پر اڑے رہے اور ہر مرتبہ اپنا عہد توڑتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ پاک کے قہر و غضب کا آخری عذاب آگیا کہ فرعون اور اس کے متبعین سب دریائے نیل میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے خدا کی دنیا ان عہد شکنوں اور مَردُودوں سے پاک و صاف ہو گئی اور یہ لوگ دنیا سے اس طرح نیست و نابود کردیئے گئے کہ روئے زمین پر ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہیں رہ گیا۔

اللہ پاک ہمیں اہنے قہر وغضب سے محفوظ رکھے ۔آمین


فرعونیوں پر آنے والے عذابات

اللہ پاک نے قرآن کریم میں امت محمدی کی عبرت و نصیحت کیلئے جن سابقہ امتوں کی نافرمانیوں کے نتیجے میں نازل ہونے والے عذابات کا بیان فرمایا ہے، ان میں فرعون اور اسکی قوم بھی شامل ہیں۔

اللہ پاک نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی صداقت پر دلالت کرنے والی نشانیوں جیسے روشن ہاتھ اور عصا وغیرہ معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ حضرت موسیٰعلیہ السلام جو نشانیاں لے کر آئے تھے وہ بالکل صاف واضح اور ظاہر تھیں لیکن پھر بھی فرعون اور اس کے درباریوں نے اقرار کی بجائے انکار ہی کیا۔(تفسیر صراط الجنان ، پ 9، الاعراف: 103)

جب فرعونی اپنے کفر وسرکشی پر جمے رہے تو اُن پر اللہ پاک کی نشانیاں پے درپے وارد ہونے لگیں کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ اے اللہ پاک! فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا ہے اور اس کی قوم نے بھی عہد شکنی کی ہے انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو اُن کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت و نصیحت ہو، تو اللہ پاک نے طوفان بھیجا ، ہوا یوں کہ بادل آیا، اندھیرا ہوا اور کثرت سے بارش ہونے لگی ۔قبطیوں (فرعونیوں) کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی اُن کی گردنوں کی ہنسلیوں تک آگیا، اُن میں سے جوبیٹھا وہ ڈوب گیا، یہ لوگ نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کرسکتے تھے۔ ہفتہ کے دن سے لے کر دوسرے ہفتہ تک سات روز اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجود اس کے کہ بنی اسرائیل (حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم) کے گھر اُن کے گھروں سے متصل تھے اُن کے گھروں میں پانی نہ آیا۔ جب یہ لوگ عاجز ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی عرض کی اور کہاکہ یہ مصیبت دور ہو جائے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو طوفان کی مصیبت دور ہو گئی، زمین میں وہ سرسبزی وشادابی آئی جو پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ کھیتیاں خوب ہوئیں اور درخت خوب پھلے ۔ یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے :یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے۔ ایک مہینہ تو عافیت سے گزرا پھر اللہ پاک نے ٹڈی بھیجی وہ کھیتیاں اور پھل، درختوں کے پتے، مکان کے دروازے، چھتیں ،تختے، سامان، حتّٰی کہ لوہے کی کیلیں تک کھا گئیں اور قبطیوں کے گھروں میں بھر گئیں لیکن بنی اسرائیل کے یہاں نہ گئیں۔ اب قبطیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا، اس پر عہد و پیمان کیا ۔سات روز یعنی ہفتہ سے ہفتہ تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہے،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے نجات پائی۔ کھیتیاں اور پھل جو کچھ باقی رہ گئے تھے انہیں دیکھ کر کہنے لگے :یہ ہمیں کافی ہیں ہم اپنا دین نہیں چھوڑتے چنانچہ ایمان نہ لائے، عہد وفا نہ کیا اور اپنے اعمالِ خبیثہ میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک مہینہ عافیت سے گزرا، پھر اللہ پاک نے قُمَّل بھیجے، اس میں مفسرین کا اختلاف ہے ، بعض کہتے ہیں کہ قُمَّل گُھن ہے، بعض کہتے ہیں جوں ،بعض کہتے ہیں ایک اور چھوٹا سا کیڑا ہے۔ اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہے تھے وہ کھالئے، یہ کیڑا کپڑوں میں گھس جاتا تھا اور جلد کو کاٹتا تھا، کھانے میں بھر جاتا تھا ،اگر کوئی دس بوری گندم چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے ۔یہ کیڑے فرعونیوں کے بال، بھنویں ،پلکیں چاٹ گئے، ان کے جسم پر چیچک کی طرح بھر جاتے حتّٰی کہ ان کیڑوں نے اُن کا سونا دشوار کردیا تھا۔ اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کی:ہم توبہ کرتے ہیں ، آپ اس بلا کے دور ہونے کی دعا فرمائیے۔ چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے دور ہوئی، لیکن فرعونیوں نے پھر عہد شکنی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کر دئیے۔ ایک مہینہ امن میں گزرنے کے بعد پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تو اللہ پاک نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ آدمی بیٹھتا تھا تو اس کی مجلس میں مینڈک بھر جاتے، بات کرنے کے لئے منہ کھولتا تو مینڈک کود کر منہ میں چلا جاتا، ہانڈیوں میں مینڈک ،کھانوں میں مینڈک ، چولہوں میں مینڈک بھر جاتے تو آگ بجھ جاتی تھی، لیٹتے تھے تو مینڈک اوپر سوار ہوتے تھے، اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کی: اب کی بار ہم پکی توبہ کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے عہد و پیمان لے کر دعا کی تو سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی دور ہوئی اور ایک مہینہ عافیت سے گزرا ،لیکن پھر اُنہوں نے عہد توڑ دیا اور اپنے کفر کی طرف لوٹے ۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو تمام کنوؤں کا پانی، نہروں اور چشموں کا پانی، دریائے نیل کا پانی غرض ہر پانی اُن کے لئے تازہ خون بن گیا۔ اُنہوں نے فرعون سے اس کی شکایت کی تو کہنے لگاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جادو سے تمہاری نظر بندی کردی ہے۔ اُنہوں نے کہا: تم کس نظر بندی کی بات کر رہے ہو؟ ہمارے برتنوں میں خون کے سوا پانی کا نام و نشان ہی نہیں۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ قبطی بنی اسرائیل کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی لیں۔ لیکن ہوا یوں کہ جب بنی اسرائیل نکالتے توپانی نکلتا ،قبطی نکالتے تو اسی برتن سے خون نکلتا، یہاں تک کہ فرعونی عورتیں پیاس سے عاجز ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آئیں اور اُن سے پانی مانگا تو وہ پانی اُن کے برتن میں آتے ہی خون ہوگیا۔ یہ دیکھ کر فرعونی عورت کہنے لگی کہ تو پانی اپنے منہ میں لے کر میرے منہ میں کلی کردے ۔ مگر جب تک وہ پانی اسرائیلی عورت کے منہ میں رہا پانی تھا، جب فرعونی عورت کے منہ میں پہنچا تو خون ہوگیا ۔فرعون خود پیاس سے مُضْطَر ہوا تواس نے تر درختوں کی رطوبت چوسی ، وہ رطوبت منہ میں پہنچتے ہی خون ہوگئی۔ سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی میسر نہ آئی تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی دور ہوئی مگر وہ ایمان پھر بھی نہ لائے۔(تفسیر بغوی، پ 9، الاعراف، تحت الآیۃ:133 ،2 /159 -161۔ تفسیر صراط الجنان ، پ 9 ، الاعراف 133ماخوذا)

جب بار بار فرعونیوں کو عذابوں سے نجات دی گئی اور وہ کسی عہد پر قائم نہ رہے اور ایمان نہ لائے اور کفر نہ چھوڑا تو جو میعاداُن کے لئے مقرر فرمائی گئی تھی وہ پوری ہونے کے بعد اُنہیں اللہ پاک نے دریائے نیل میں غرق کرکے ہلاک کردیا۔

(تفسیر خازن، پ 9 ، الاعراف، تحت الآیۃ: 136، 2/ 132۔ تفسیر صراط الجنان ، پ 9، الاعراف: 135-137)

اللہ پاک ہمیں عبرت حاصل کرنے، اپنی نافرمانی سے بچنے، اپنی اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ) کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


فرعونیوں پر آنے والے عذابات

الله پاک نے فرعون اور اس کی قوم کی طرف حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السّلام کو مبعوث فرمایا مگر اس قوم نے آپ کی نافرمانی کی اور عذاب الٰہی کا شکار ہوئی

ان لوگوں پر عذاب آنے کی اہم وجہ اللہ پاک کے احکامات کو جھٹلانا ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو دین حق کی دعوت دی مگر چند لوگوں کے علاوہ تمام اپنی سرکشی پر قائم رہے اور فرعونیوں کی سرکشی یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے صاف صاف کہہ دیا تم کیسی بھی نشانی لے کر ہمارے پاس آؤ کہ ہم پر اس سے جادو کرو ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں(پ9،الاعراف:132)

پھر ان پر مختلف قسم کے پانچ عذابات آئے جب بھی کوئی عذاب آتا ہے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آکر سرکشی کو ترک کرنے اور ایمان لانے کا وعدہ کرتے پھر جب وہ عذاب ٹل جاتا تو دوبارہ سرکشی میں مبتلا ہوجاتے ، اللہ پاک کا ارشاد ہے:ترجمۂ کنز الایمان: تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں اور وہ مجرم قوم تھی اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے بیشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھا لیتے ایک مدت کے لیے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے(پ9،الاعراف: 133-135)

الطوفان: ایک بادل آیا اندھیرا چھا گیا اور کثرت سے بارش ہوئی یہاں تک کہ قبطیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا جس سے وہ کھڑے رہ گئے یہ لوگ نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کر سکتے تھے ہفتہ کے دن سے لے کر دوسرے ہفتہ تک سات روز اسی مصیبت میں مبتلا رہے جبکہ بنی اسرائیل کے گھر قبطیوں کے گھروں سے قریب ہونے کے باوجود ان کے گھروں میں پانی نہ آیا بالآخر یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ایمان لانے کا عہد کیا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ مصیبت دور ہوئی اور ایسی سرسبزی اورشادابی آئی کہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی تو فرعونی کہنے لگے یہ پانی تو نعمت تھا اور اپنے وعدے سے پھر گئے پھر ایک مہینہ عافیت سے گزرا

الجراد: پھر اللہ پاک نے ٹڈیاں بھیجیں یہ عذاب بھی سات روز رہا وہ ٹڈیاں کھیتیاں اور پھل، درختوں کے پتے، مکان کے دروازے، چھتیں، تختے اور سامان سب کھا گئیں اور قبطیوں کے گھروں میں بھر گئیں اب قبطیوں نے دوبارہ عاجز آ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا عہد کیا لیکن یہ مصیبت ختم ہونے کے بعد دوبارہ عہد سے پھر گئے پھر ایک مہینہ عافیت سے گزرا

القمل: پھر اللہ پاک نے قمل بھیجے یہ عذاب بھی سات روز رہا بعض مفسرین فرماتے ہیں قمل گھن ہے بعض فرماتے ہیں جوں بعض فرماتے ہیں ایک اور چھوٹا سا کیڑا ہے (سیرت الانبیاء، ص580)

اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی تھے وہ کھا لیے یہ کپڑوں میں گھس جاتا ، جلد کو کاٹتا ، کھانے میں بھر جاتا ، اگر کوئی دس بوری گندم چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے ، یہ فرعونیوں کے بال بھنویں پلکیں چاٹ گئے ان کے جسم پر چیچک کی طرح بھر جاتے یہاں تک کہ ان کا سونا دشوار کر دیا پھر فرعونیوں نے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا عہد کیا تو حضرت موسیٰ علیہ سلام کی دعا سے یہ مصیبت دور ہوئی لیکن فرعونیوں نے دوبارہ سرکشی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کیے پھر ایک مہینہ امن میں گزرا

الضفادع: پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو اللہ پاک نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ ہانڈیوں میں مینڈک کھانوں میں مینڈک چولھوں میں مینڈک بھر جاتے تو آگ بجھ جاتی لیٹتے تو مینڈک اوپر سوار ہوتے پھر دوبارہ عاجز ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے معافی طلب کی پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے سات روز بعد یہ عذاب دور ہوا لیکن فرعونیوں نے دوبارہ عہد توڑ دیا۔

الدم: پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی تو تمام کنوؤں کا پانی نہروں اور چشموں کا پانی دریائے نیل کا پانی غرض ہر پانی ان کے لئے تازہ خون بن گیا سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی میسر نہ آئی تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی دور ہوئی کوئی مگر وہ ایمان بھی نہ لائے۔

محترم قارئین فرعونی جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوتےاور جب مصیبت ٹل جاتی تو دوبارہ نافرمانی میں مبتلا ہو جاتے آج مسلمانوں کی اکثریت ہے جنہیں مشکلات کے وقت ہی دین کے احکامات یاد آتے ہیں اور جب مشکلات ٹل جائیں تو کہتے ہیں کہ ابھی تو بہت وقت ہے جبکہ اس دنیائے فانی کی زندگی کا کچھ نہیں معلوم ہمیں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہنا چاہئے اور آخرت کے لیے تیاری کرنی چاہیے جو باقی رہنے والی ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ایمان پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین


فرعونیوں کے عذابات

فرعون اصل میں ایک شخص کا نام تھا پھر دورِ جاہلیت میں یہ مصر کے ہر بادشاہ کا لقب بن گیا تھا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا۔(تفسیر صراط الجنان ، پ 9 ، الاعراف ، تحت الایۃ:103 )

مفسر سُدِّی کا قول ہے کہ فرعون نے اپنی قوم کے لئے بُت بنوا دیئے تھے اور ان کی عبادت کرنے کا حکم دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تمہارا بھی رب ہوں اور ان بُتوں کا بھی۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ فرعون دَہری تھا یعنی صانعِ عالَم کے وجود کا منکر، اس کا خیال تھا کہ عالَمِ سِفْلِی کی تدبیر ستارے کرتے ہیں اسی لئے اُس نے ستاروں کی صورتوں پر بت بنوائے تھے، ان کی خود بھی عبادت کرتا تھا اور دوسروں کو بھی ان کی عبادت کا حکم دیتا تھا اور اپنے آپ کوزمین کا مُطاع و مخدوم کہتا تھا اسی لئے وہ ” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى(میں تمہارا سب سے اعلیٰ رب ہوں ) کہتا تھا۔(تفسیر مدارک، پ 9، الاعراف، تحت الآیۃ: 127، ص381۔ تفسیر خازن، پ 9 ، الاعراف، تحت الآیۃ: 127، 2 / 128)

جب فرعون اور اس کی قوم اللہ پاک کی روشن نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائی اور اسی سرکشی اور ہٹ دھرمی پر اڑی رہی اور بنی اسرائیل پر مظالم کرتی رہی تو ان پر عذاب کا سلسلہ شروع ہوا ۔سورۃُ الاعراف میں اللہ پاک کا فرمان ہے :

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۱۳۰)

ترجمہ کنزالایمان :اور بے شک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا کہیں وہ نصیحت مانیں۔

قحط سالی کی سختی ان پر اس لئے ڈالی گئی کہ وہ اس سختی سے ہی خدا کو یاد کر لیں لیکن وہ کفر میں اس قدر راسخ ہو چکے تھے کہ ان تکلیفوں سے بھی ان کی سرکشی ہی بڑھتی رہی۔

فرعون کے مظالم سے تنگ دل ہوکر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوند قدس کی بارگاہ میں اس طرح دعا مانگی کہ : یارب فرعون زمین میں بہت سرکش ہو گیا اور اسکی قوم نے عہدشکنی کی انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو ان کے لیے سزاوار ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے بعد اللہ پاک نے فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلط فرما دیا وہ پانچ عذاب یہ ہیں:

طوفان :

اللہ پاک نے طوفان بھیجا، ابر آیا،اندھیرا ہوا، کثرت سے بارش ہونے لگی قبطیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی ہنسلیوں تک آگیا جو بیٹھا ڈوب گیا نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کر سکتے تھے ۔

ٹڈیاں :

اللہ پاک نے ڈیڈی بھیجیں وہ کھیتیاں ،پھل ،درختوں کے پتے ،مکان کے دروازے ، چھتیں ،تخت حتی کہ لوہے کی کیلیں تک کھا گئیں۔

گھن :

اس میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض کہتے ہیں قمل،بعض کہتے ہیں کہ یہ جوں ہے، بعض کہتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا کیڑا ہےاس کیڑے نے بچے کچے پھل اور کھیتیاں کھالیں،کپڑوں میں گھس جاتا، کھانوں میں بھر جاتا یہ کیڑے فرعونیوں کے بال بھنویں پلکیں تک چاٹ گئے، سونا دشوار کر دیا تھا، اس مصیبت سے فرعونی چیخ گئے۔

مینڈک :

حال یہ تھا کہ آدمی بیٹھا تھا تو اس کی مجلس میں مینڈک بھر جاتے تھے، بات کرنے کے لیے منہ کھولتے تو مینڈک کود کر منہ میں چلا جاتا،لیٹتے تھے تو مینڈک اوپرسوار ہو جاتےتھے،اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے۔

خون :

کنوؤں کا پانی ،نہروں کا پانی ،چشموں کا پانی اور دریا نیل کا پانی غرض ہر پانی ان کے لئے تازہ خون بن گیا۔فرعون خود پیاس سے مضطرب ہوا تو اس نے تر درختوں کی رطوبت چوسی اور وہ رطوبت منہ میں پہنچتے ہی خون ہو گئی ان عذابوں کو اللہ پاک نے سورہ اعراف میں اس طرح ذکر فرمایا :فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ- فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ(۱۳۳) ( پ 9، الاعراف :133)

ترجمہ کنزالایمان:تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی۔

الغرض ان سرکشوں پر مسلسل پانچ عذاب آتے رہے اور ہر عذاب ساتویں دن ٹلتا رہا اور ہر دو عذابوں کے درمیان ایک ماہ کا فاصلہ ہوتا رہا مگر فرعون اور فرعونیوں کے دلوں پر شقاوت اور بدبختی کی ایسی مہر لگ چکی تھی کہ پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے اور اپنے کفر پر اڑے رہے اور ہر مرتبہ اپنا عہد توڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ پاک کے قہر و غضب کا آخری عذاب آ گیا کے فرعون اور اس کے متبعین دریائے نیل میں غرق ہوکر ہلاک ہوگئے اور ہمیشہ کے لئے خدا کی دنیا ان عہد شکنوں اور مَردُودوں سے پاک و صاف ہو گئی اور یہ لوگ دنیا سے اس طرح نیست و نابود ہو گئے کہ روئے زمین پر ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہیں رہ گیا ۔

(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص۱۰۱)


فرعون کون تھا؟

فرعون بڑا سرکش تھا،اس نے ربوبیّت کا دعویٰ کیا اور بنی اسرائیل پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھاتا، انکے بچوں کو ذبح کرواتا تھا، جب اس کےمظالم حد سے بڑھ گئے تو اللہ کریم نے اسے سمجھانے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو نبی بنا کر بھیجا، لیکن اس نے ایمان لانے سے انکار کر دیا اور باقاعدہ اس کا مقابلہ کیا،`مناظرہ کروایا، اس نے معجزات طلب کئے، اِتمامِ حُجت کیلئے فرعون اور اس کی قوم کو یدِ بیضاءاور عصاء کے معجزات بھی دکھائے، جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا عصا اَژدھا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیاتوجادوگر سجدے میں گر کر ایمان لائے، مگر فرعون اور اس کے متبعین نے اب بھی ایمان قبول نہیں کیا، بلکہ فرعون کا کفر اور اس کی سرکشی اور زیادہ بڑھ گئی اور اس نے بنی اسرائیل کے مؤمنین اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دل آزاری اور اَذیّت رسانی میں بھر پور کوشش شروع کر دی اور طرح طرح سے ستانا شروع کر دیا، فرعون کے مظالم سے تنگ دل ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اس طرح دعا مانگی:اے میرے ربّ!فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ہے، لہذا تو انہیں ایسے عذابوں میں گرفتار فرما لے، جو ان کے لئے سزا وار ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت ہو۔ (روح البیان، جلد 3، صفحہ220، پارہ 9، اعراف133)

حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دعا کے بعد اللہ پاک نے فرعونیوں پر لگاتار 5 عذابوں کو مسلط فرما دیا، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

1. طوفان:ناگہاں ایک اَبر آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا، پھر اِنتہائی زور دار بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا، پانی ان کی گردنوں تک آ گیا، ان میں سے جو بیٹھا، ہلاک ہو گیا، نہ ہِل سکتے تھے نہ کوئی کام کر سکتے تھے، ان کی کھیتیاں اور باغات طوفان کے دھاروں سے برباد ہو گئے، مسلسل 7روزتک وہ اسی مصیبت میں مبتلا رہے، مگربنی اسرائیل کے گھروں میں سیلاب کا پانی نہیں آیا، وہ نہایت ہی اَمن و چین کے ساتھ اپنے گھروں میں رہتے تھے، جب فرعونیوں کو اس کی برداشت کی تاب نہ رہی، بالکل عاجز ہو گئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے عرض کیا کہ آپ ہماری اس مصیبت کے ٹل جانے کی دعا فرمائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے، چنانچہ آپ نے دعا مانگی تو طوفان کی بلا ٹل گئی اور زمین میں خوب سرسبزی اورشادابی نمودار ہوئی، کھیتیاں شاندار اورغلوں اور پھلوں میں فروانی، یہ دیکھ کر فرعونی پھر اپنے عہد سے پھر گئے اور ایمان نہ لائے، پھر ایک ماہ عافیت کے ساتھ گزر جانے کے بعد جب ان کا ظلم و تکبر اور بڑھنے لگا تو اللہ نے اپنے قہر کو

2. ٹڈیوں :کی شکل میں بھیج دیا کہ چاروں طرف سے ٹڈیوں کے جھنڈ کے جھنڈ آگئے، جو ان کی کھیتیوں اور باغوں کو یہاں تک کہ ان کے مکانوں کی لکڑیاں تک کھا گئیں اور فرعونیوں کے گھروں میں یہ ٹڈیاں بھر گئیں، یہ دیکھ کر فرعونیوں کو بڑی عبرت ہوگئی اور آخر اس سے تنگ آکر پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے عہد کیا کہ آپ اس عذاب کے دفع ہونے کے لئے دعا فرمائیں تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے، چنانچہ آپ کی دعا سے ساتویں دن یہ عذاب ٹل گیا، پھر ایک ماہ تک یہ لوگ نہایت آرام و راحت میں رہے، لیکن پھر عہد شکنی کی اور ایمان نہ لائے، ان کے کفر و عصیان میں پھر اضافہ ہونے لگاغرض ایک ماہ بعد ان لوگوں پر

3. قمل: کا عذاب مسلط ہو گیا، بعض مفسرین کا بیان ہے کہ یہ گھن تھا، جوان فرعونیوں کے اناجوں اور پھلوں میں لگ گیا اور تمام غلوں اور میوں کو کھا گیا اور بعض مفسرین کا بیان ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا کیڑا تھا، جو کھیتوں کی تیار فصلوں کو چَٹ کر گیا اور انکے کپڑوں میں گھس کر ان کے چمڑوں کو کاٹ کاٹ کر انہیں مرغِ بِسمل کی طرح تڑپانے لگا، یہاں تک کہ ان کے سر کر بالوں، داڑھی، مونچھوں، بھنووں اور پلکوں کو چاٹ چاٹ کر اور چہروں کو کاٹ کاٹ کر انھیں چیچک رو بنا دیا، یہاں تک کہ ایک ہفتہ میں اس قہر ِآسمانی و بلاءِ ناگہانی سے بِلبلا کر یہ لوگ چیخ پڑے اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے دعا کی درخواست کی، چنانچہ ان کی گریہ و زاری دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے دعا کی اور یہ عذاب بھی ٹل گیا، لیکن فرعونیوں نے پھر عہد کو توڑ ڈالا اور پہلے سے زیادہ ظلم و ستم کرنے لگے، پھر ایک ماہ بعد ان پر

4. مینڈک: کا عذاب آ گیا، ان فرعونیوں کی بستیوں میں اور گھروں میں اچانک بیشمار مینڈک پیدا ہو گئے، جو جہاں بیٹھتا، وہ مجلس مینڈک سے بھر جاتی، کوئی آدمی بات کرنے لگتا یا کھانے کے لئے منہ کھولتا تو اس کے منہ میں مینڈک کُود کر گھس جاتا، ہانڈیوں میں مینڈک، ان کے جسموں پر سینکڑوں مینڈک سوار رہتے، اس عذاب سے فرعونی رو پڑے اور گڑگڑاتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی بارگاہ میں دعا کی بھیک مانگی، بڑی بڑی قسمیں کھا کر عہد و پیمان کیا، حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے پھر دعا فرمائی اور ساتویں دن یہ عذاب بھی اُٹھا لیا گیا، لیکن یہ مردود قوم پھر راحت ملتے ہی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو ایذاء دینے لگے، ان کی توہین و بے ادبی کرنے لگے تو عذابِ الٰہی نے پھر ان ظالموں کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ان لوگوں پر

5. خون :کا عذاب قہرِ الٰہی بن کر اُتر پڑا، ایک دم بالکل اَچانک ان لوگوں کے تمام کنوؤں، نہروں کا پانی خون ہو گیا، جس برتن سے مُنہ لگا کر پانی پیتے، وہ خون ہو جاتا، لیکن مؤمنین پر اس کا ذرا اثر نہ ہوا، یہاں تک کہ فرعونی بے قرار ہو کر مؤمنین کے پاس آئے اور کہا: ہم دونوں ایک ہی برتن سے ایک ساتھ منہ لگا کر پانی پئیں گے، مگر عجب ہی قدرتِ خُداوندی کا جلوہ تھا کہ ایک ہی برتن سے مُنہ لگا کر پانی پیتے تھے، مگر مؤمنین کے منہ میں جو جاتا، وہ پانی ہوتا اور فرعون والوں کے منہ میں جاتا، وہ خون ہوتا تھا، قرآنِ پاک نے ان پانچوں عذابوں کو اس طرح بیان فرمایا:

ترجمہ کنزالایمان:تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے:اے موسیٰ! ہمارے لئے اپنے رَب سے دعا کریں، اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے، بےشک اگر تم ہم پر عذاب اٹھا دوگے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے، پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھا لیتے، ایک مدت کیلئے جس تک انہیں پہنچا ہے، جبھی وہ پھر جاتے تو ہم ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا، اس لئے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے۔ (پ 9،الاعراف: 133تا136)


فرعون کا مختصر تعارف:

فرعون اصل میں ایک شخص کا نام تھا، پھر دورِ جاہلیت میں یہ مصر کے بادشاہ کا لقب بن گیا، جس طرح فارس کے بادشاہ کا لقب کسریٰ، روم کے بادشاہ کا لقب قیصر اور حبشہ کے بادشاہ کا لقب نجاشی تھا، حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے زمانے کے فرعون کا نام ”ولید بن مصعب بن ریّان “تھا، اس کی عمر 400 سال سے زیادہ تھی۔(تفسیر صراط الجنان، جلد اوّل وسوم)

فرعونیوں پر آنے والے عذابات:

جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا عصا اَژدھا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا تو جادوگر سجدے میں گر کر ایمان لائے، مگر فرعون اور اس کے متبعین(پیروی کرنے والے)اب بھی ایمان قبول نہیں کیا، بلکہ فرعون کا کفر اور اس کی سرکشی اور زیادہ بڑھ گئی اور اس نے بنی اسرائیل کے مؤمنین اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دل آزاری اور اَذیّت رسانی میں بھر پور کوشش شروع کر دی اور طرح طرح سے ستانا شروع کر دیا، فرعون کے مظالم سے تنگ دل ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پاک کے دربار میں اس طرح دعا مانگی:اے میرے ربّ!فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ہے، لہٰذا تو انہیں ایسے عذابوں میں گرفتار فرما لے، جو ان کے لئے سزا وار ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت ہو۔ (تفسیر روح البیان،پ 9، الاعراف، تحت الایۃ: 133)

حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دعا کے بعد اللہ پاک نے فرعونیوں پر لگاتار 5 عذابوں کو مسلط فرما دیا، وہ لگاتار عذاب یہ ہیں:

1۔طوفان:

اچانک ایک اَبر(بادل)آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا، پھر انتہائی زوردار بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا اور پانی ان کی گردنوں تک آ گیا، وہ نہ ہِل سکتے تھے اور نہ ہی کوئی کام کر سکتے تھے، ان کی کھیتیاں اور باغات طوفان کی وجہ سے برباد ہوگئے، مسلسل سات روز تک وہ اسی مصیبت میں رہے اور بنی اسرائیل کے مکانات فرعونیوں کے گھروں سے ملے ہوئے تھے، مگر بنی اسرائیل کے گھروں میں سیلاب کا پانی نہیں آیا اور وہ نہایت ہی اَمن و چین کے ساتھ اپنے گھروں میں رہتے تھے، جب فرعونیوں کو اس مصیبت کے برداشت کرنے کی تاب و طاقت نہ رہی اور وہ بالکل عاجز ہو گئے تو ان لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ یہ مصیبت ٹل جائے تو ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے پاس بھیج دیں گے، چنانچہ آپ نے دعا مانگی تو طوفان کی بلا ٹل گئی اور زمین ایسی سرسبزوشاداب ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی گئی، یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے کہ یہ طوفان کا پانی تو ہمارے لئے بہت بڑی نعمت کا سامان تھا، پھر وہ اپنے عہد سے پھر گئے اور ایمان نہ لائے۔

2۔ٹڈیاں:

ایک ماہ تک تو فرعونی نہایت عافیت سے رہے، لیکن جب ان کا کفر وتکبر بڑھنے لگا تو اللہ پاک نے اپنے قہرو عذاب کو ٹڈیوں کی شکل میں بھیج دیا کہ چاروں طرف سے ٹڈیوں کے جھنڈ کے جھنڈ آگئے، جو ان کی کھیتیوں اور باغوں کو، یہاں تک کہ ان کے مکانوں کی لکڑیوں تک کو کھا گئیں، مگر مؤمنین کے کھیت اور باغ اور مکانات ان ٹڈیوں سے بالکل محفوظ رہے، یہ دیکھ کر فرعونیوں کو بڑی عبرت ہوئی اور آخر اس عذاب سے تنگ آکر پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے آگے عہد کیا کہ آپ اس عذاب کے دفع ہونے کے لئے دعا فرما دیں تو ہم لوگ ضرور ایمان لے آئیں گے، چنانچہ آپ کی دعا سے ساتویں دن یہ عذاب بھی ٹل گیا، پھر ایک ماہ آرام کے بعد یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور مومنین کو ایذاء دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہماری جو کھیتیاں بچ گئی ہیں، وہ ہمارے لئے کافی ہیں، لہذا ہم اپنا دین چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے۔

اسی طرح ہوتے ہوتے ان پر مزید عذابات بھی آئے اور آخرکار مسلسل نافرمانیوں اور عہد شکنیوں کے باعث فرعون اور اس کے متبعین(پیروی کرنے والے)دریائے نیل میں غرق ہوکر ہلاک ہوگئے اور ہمیشہ کے لئے اللہ پاک کی دُنیا ان عہد شکنوں سے پاک و صاف ہو گئی اور یہ لوگ اس طرح نیست و نابود ہو گئے کہ روئے زمین پر ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہ رہا۔

ان واقعات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ عہد شکنی اور اللہ کے نبیوں کی تکذیب و توہین کتنا بڑا اور ہولناک جرم ِعظیم ہے، دوسرا یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا صبر و تحمل اِنتہا کو پہنچا ہوا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ قوم کے پیشوا کے لئے صبر و تحمل اور عفو و درگزر کی خصلت نہایت ضروری ہے۔

حضرت شیخ سعدی رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا:کہ برائی کا بدلہ برائی سے دینا تو بہت آسان ہے، لیکن اگر تم جوان مرد ہو تو بُرائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرو۔(عجائب القران مع غرائب القران)

اللہ پاک ہمیں ان واقعات سے عبرت حاصل کرنے اور معلوم ہونے والے مدنی پھولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


فرعونیوں پر آنے والے عذابات

اللہ پا ک نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے دنیا میں وقتاً فوقتاً اپنے انبیاءِ کرام علیہمُ السّلام کو مبعوث فرما یا تاکہ وہ اپنی قوم کو ایک اللہ کی عبادت کرنے اور باطل بتو ں (معبودوں)کو چھوڑ دینے کی تبلیغ کریں۔

اِسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو اللہ پاک نے فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا ہوا تھا اور اِس کی قوم اس کو سجدہ کرتی تھی، جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے فرعون کو اللہ پاک کی ربوبیّت کا اقرار کرنے اور اس پر ایمان لانے کی دعوت دی اوراس سے فرمایا کہ میں ربُّ العالمین کی طرف تیری اورتیری قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیاہوں تو فرعون نے کہا:تم جھوٹ بولتے ہو اور آپ کے رسول ہونے کا انکار کر دیا، آپ علیہ السّلام اپنی قوم کو برابر تبلیغ کرتے رہے، مگر وہ نہ مانے۔

جب فرعون اور اس کی قوم کی سَرکشی یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے صاف صاف کہہ دیا کہ اے موسیٰ! تم ہمارے اوپر جادو کرنے کے لئے کیسی بھی نشانی ہمارے پاس لے آؤ، ہم ہرگز تم پر ایمان نہ لائیں گےتوحضرت موسیٰ علیہ السّلام نے ان کے خلاف دعا کی، آپ علیہ السّلام چونکہ مُستجابُ الدّعوات (یعنی جس کی دعا قبول ہوتی ہو)تھے،اس لئے آپ کی دعا قبول ہوئی، حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دعائے ضَرر کے بعد فرعون اور اس کی قوم پرجو عذابات آئے، ان کا ذکر اس آیتِ مبارکہ میں موجود ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، پ 9، الاعراف ، تحت الایۃ 133ماخوذا)

ترجمہ کنزالعرفان:تو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور پسو(یاجوئیں) اور مینڈک اور خون کی جدا جدا نشانیاں بھیجیں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی۔(پ 9،الاعراف: 133)

طوفان:

ناگہاں (اچانک )ایک بادل آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا، پھر انتہائی زوردار بارش ہونےلگی، یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا اور وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں تک آ گیا، ان میں سے جو بیٹھا وہ اس میں ڈوب کرہلاک ہوگیا، نہ ہل سکتے تھے، نہ کوئی کام کر سکتے تھے، پھر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے دعا فرمائیں کہ یہ مصیبت ٹل جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے، آپ علیہ السّلام نے دعا کی اور طوفان کی بلا ٹل گئی۔

ٹڈیاں:

ایک ماہ تک توفرعونی نہایت عافیت سے رہے، لیکن جب ان کا کفر و تکبر اورظلم و ستم پھربڑھنے لگا تو اللہ پاک نے اپنے قہر و عذاب کو ٹڈیوں کی شکل میں بھیج دیا، جو چاروں طرف سے جھنڈ کے جھنڈ آگئے، جو ان کے کھیتوں اور باغوں کو یہاں تک کہ ان کے مکانوں کی لکڑیاں تک کو بھی کھا گئیں اور فرعونیوں کے گھروں میں یہ ٹڈیاں بھرگئیں، جس سے ان کا سانس لینا دشوار ہو گیا، مگر بنی اسرائیل کے مؤمنین کے کھیت اور باغ اور مکانات ٹڈیوں سے بالکل محفوظ رہے، یہ دیکھ کر فرعونیوں کو بڑی عبرت ہوئی اور آخر اس عذاب سے تنگ آکر پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے آگے عہد کیا کہ آپ اس عذاب کے دفع ہونے کیلئے دعا فرما دیں، تو ہم لوگ ضرور ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل پر کوئی ظلم و ستم نہ کریں گے، چنانچہ آپ علیہ السّلام کی دعا سے ساتویں دن یہ عذاب ٹل گیا اور یہ لوگ پھر ایک ماہ تک نہایت آرام و راحت کے ساتھ رہے، لیکن پھر عہد شکنی کی اور ایمان نہیں لائے۔

اسی طرح ان پر کھٹمل اور مینڈکوں کا عذاب مسلط کیا گیا، اسی طرح خون کا عذاب کہ ان کے تمام کنوؤں، نہروں کا پانی خون ہوگیا تو ان لوگوں نے اس بار بھی حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے دعا کی درخواست کی تو آپ نے پیغمبرانہ رحم وکرم فرما کرپھر ان کے لئے دعائے خیر فرما دی، تو ان سے عذاب ٹل گیا، لیکن پھر بھی وہ ایمان نہ لائےاور اپنے کُفر پر ڈَٹے رہے اور ہر مرتبہ اپنا عہد توڑ تے رہے، یہاں تک کہ اللہ پاک کے قہر و غضب کا آخری عذاب آ گیا کہ فرعون اور اس کے متبعین(ماننے والے )سب دریائے نیل میں غرق ہو کر ہلاک ہوگئے اور ہمیشہ کے لئے خدا کی دنیا ان عہد شکنوں اور مَردُودوں سے پاک ہو گئی اور یہ لوگ دنیا سے اِس طرح نیست و نابود کر دیئے گئے کہ روئے زمین پر ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہ رہا۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص97 تا 101)

اللہ پاک ہمیں اپنے عذابات سے محفوظ رکھے اور ایمان کی سلامتی عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


فرعونیوں پر آنے والے عذابات

جب جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بھی فرعونی اپنے کفر و سرکشی پر جمے رہے اور فرعون اور اس کی قوم کی سرکشی یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے صاف صاف کہہ دیا، جس کا ذکر پارہ9، سورۃُ الاعراف کی آیت نمبر 132 میں یوں ہے:

ترجمہ کنزالایمان:(اے موسیٰ!)تم ہمارے اوپر جادو کرنے کے لئے ہمارے پاس کیسی بھی نشانی لے آؤ، ہم ہرگز تم پر ایمان لانے والے نہیں۔(پ9 ،الاعراف: 132)

تو حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے ان کے خلاف دعا کی:یاربّ!فرعون زمین میں بہت سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے بھی عہد شکنی کی ہے، انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر، جو ان کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کیلئے عبرت و نصیحت ہو۔

مفسرین کے بیان کے مطابق جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے فرعونیوں کے خلاف دعا کی تو آپ علیہ السّلام کی دعا قبول ہوئی اور یوں ہوا کہ ایک بادل آیا، اندھیرا چھایا اور کثرت سے بارش ہونے لگی، جس سے قبطیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا، یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں کی ہنسلیوں تک آ گیا، ان میں سے جو بیٹھا وہ ڈوب گیا، یہ لوگ نہ ہِل سکتے تھے نہ کچھ کام کر سکتے تھے، ہفتے کے دن سے لے کر دوسرے ہفتے تک سات روز اسی مصیبت میں مبتلا رہے، جب کہ بنی اسرائیل کے گھر قبطیوں کے گھروں سے قریب ہونے کے باوجود ان کے گھروں میں پانی نہ آیا، جب یہ لوگ عاجز ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے عرض کی: کہ ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ یہ مصیبت دور ہو جائے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے، حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے دعا فرمائی تو طوفان کی مصیبت دور ہوگئی اور زمین میں وہ سرسبزی وشادابی آئی، جو پہلے کبھی نہ دیکھی تھی، کھیتیاں خوب ہوئیں اور درخت خوب پھلے، یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے:یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے۔ ایک مہینہ تو عافیت سے گزرا، پھر اللہ پاک نے ٹڈیاں بھیجیں، وہ کھیتیاں اور پھل، درختوں کے پتے، مکان کے دروازے، تختے، سامان سب کھا گئیں اور قبطیوں کے گھروں میں بھر گئیں، لیکن بنی اسرائیل کے یہاں نہ آئیں، اب قبطیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا، اس پر عہدوپیمان کیا، سات روز تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہے، پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دعا سے نجات پائی، ایک مہینہ عافیت سے گزرا۔

پھر اللہ پاک نے قمل بھیجے، اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہ گئے تھے وہ کھا لئے، یہ کیڑا کپڑوں میں گھس جاتا، جلد کو کاٹتا، کھانے میں بھر جاتا تھا، یہ کیڑے فرعونیوں کے بال، بھنویں، پلکیں چاٹ گئے، ان کے جسم پر چیچک کی طرح بھر جاتے، حتیٰ کہ ان کیڑوں نے ان کا سونا دشوار کر دیا تھا، اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے عرض کی کہ ہم توبہ کرتے ہیں، آپ اس بَلا کے دور ہونے کی دعا فرمائیے، چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دُعا سے دور ہوئی۔

ایک مہینہ اَمن میں گزارنے کے بعد پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے دعا کی تو اللہ پاک نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ ہانڈیوں میں مینڈک، کھانوں میں مینڈک، چولھوں میں مینڈک بھر جاتے تو آگ بجھ جاتی، لیٹتے تھے تو مینڈک اُوپر سوار ہوتے تھے، اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے عرض کی کہ اب کی بار ہم پکّی توبہ کرتے ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے ان سے عہد وپیمان لے کر دعا کی تو سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی دور ہوئی اور ایک مہینہ عافیت سے گزرا، لیکن پھر انہوں نے عہد توڑ دیا اور اپنے کفر کی طرف لوٹے۔ حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے دعا کی تو تمام کنوؤں کا پانی، نہروں اور چشموں کا پانی، دریائے نیل کا پانی، غرض ہر پانی ان کے لئے تازہ خون بن گیا، سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز میسر نہ آئی تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا، حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے دعا فرمائی، یہ مصیبت بھی دور ہوئی، مگر وہ ایمان پھر بھی نہ لائے۔(سیرت انبیاء، ص 579تا580 مخلصاً)

قرآن پاک نے ان مذکورہ بالا پانچوں عذابوں کی تصویر کشی ان الفاظ میں فرمائی ہے:

ترجمہ کنزالایمان: تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن (یا کلنی یا جوئیں ) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی اور جب ان پر عذاب پڑتا، کہتے اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے ربّ سے دعا کرو، اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے، بیشک اگر ہم پر سے عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے، پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے، ایک مدت کے لئے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا، اس لئے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے۔ (پ 9 ، الاعراف: 133تا 136)

درس:

ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ عہد شکنی اور اللہ کے نبیوں کی تکذیب و توہین کتنا بڑا اور ہولناک جرمِ عظیم ہے کہ اس کی وجہ سے فرعونیوں پر بار بار عذابِ الٰہی قسم قسم کی صورتوں میں اُترا، یہاں تک کہ آخر میں وہ دریا میں غرق کر کے دنیا سے فنا کر دیئے گئے، ہر مسلمان کو عہد شکنی اور سرکشی اور گناہوں سے بچتے رہنا لازم ہے کہ کہیں بد اعمالیوں کی نحوست سے ہم پر بھی قہرِ الٰہی عذاب کی صورت میں نہ اُتر پڑے۔اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے، ہر طرح کی آفات سے بچائے۔آمین


اللہ پاک نے قومِ فرعون کی ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو مبعوث فرمایا، اس قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی نافرمانی کی اور ایمان قبول نہیں کیا، بلکہ فرعون کا کفر اور سرکشی اور زیادہ بڑھ گئی، اس نے بنی اسرائیل کے مؤمنین اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دل آزاری وایذاء رسانی میں بھرپور کوشش شروع کردی اور طرح طرح سے ستانا شروع کر دیا، فرعون کے مظالم سے تنگ دِل ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے خداوند قدوس کے دربار میں اس طرح دعا مانگی کہ:

اے میرے ربّ!فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے بھی عہد شکنی کی ہے، لہذا تو انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر، جو ان کے لئے سزاوار ہو اور میری قوم اور بعد والوں کیلئے عبرت ہو۔

حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دعا کے بعد اللہ پاک نے فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلط فرما دیا، وہ پانچوں عذاب یہ ہیں:

طوفان کا عذاب۔ ٹڈیاں۔گھن۔ مینڈک۔ خون

الغرض ان سرکشوں پر مسلسل پانچ عذاب آتے رہے اور ہر عذاب ساتویں دن حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی دعا سے ٹلتا یوں کہ فرعونی عذاب سے تنگ آکر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتے کہ آپ ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ یہ مصیبت ٹل جائے تو وہ ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے پاس بھیج دیں گے، چنانچہ آپ کی دعا سے عذاب ٹل جاتا، لیکن پھر وہ اپنے عہد سے پھر جاتے تو اس طرح ان پر دوسرا عذاب نازل ہوتا، ہر دو عذابوں کے درمیان ایک ماہ کا فاصلہ ہوتا رہا، مگر فرعون اور فرعونیوں کے دلوں پر شقاوت و بدبختی کی ایسی مُہر لگ چکی تھی کہ پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے اور اپنے کُفر پر اَڑے رہے اور ہر مرتبہ اپنا عہد توڑتے رہے، یہاں تک کہ اللہ پاک کے قہر و غضب کا آخری عذاب آگیا کہ فرعون اور اس کے متبعین سب دریائے نیل میں غرق ہوکر ہلاک ہوگئے اور ہمیشہ کے لئے خدا کی دنیا ان عہد شکنوں اور مَردُودوں سے پاک و صاف ہو گئی اور یہ لوگ دنیا سے اس طرح نیست و نابود کر دیئے گئے کہ روئے زمین پر ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہیں رہ گیا۔(عجائب القران مع غرائب القران، ص101)

قرآن پاک نے ان مذکورہ عذابوں کی تصویر کشی ان الفاظ میں فرمائی:

ترجمہ کنزالایمان:تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی اور جب ان پر عذاب پڑتا، کہتے اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے ربّ سے دعا کرو، اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے، بیشک اگرتم ہم پر سے عذاب اٹھادو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے، پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھالیتے، ایک مدت کے لئے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا، اس لئے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے۔ (پ 9، الاعراف: 133تا 136)