کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

بادب بانصیب کے مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی کتابوں قلم اور کاپیوں کی تعظیم کرلیں انہیں اونچی جگہ پر رکھئے۔

دورانِ مطالعہ ان کا تقدس برقرار رکھئے ان کی طرف پاؤں نہ کریں کتابیں اوپر تلے رکھنے کی حاجت ہو تو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہیے سب سے اوپر قرآن کریم، اس کے نیچے تفاسیر، پھر کتب احادیث ، پھر کتبِ فقہ، پھر دیگر کتب صرف نحو وغیرہ کتاب کے اوپر بلا ضرورت کوئی چیز مثلا قینچی، موبائل وغیرہ نہ رکھیں۔

امام برہان الدین رحمہ اللہ علیہ اپنے مشائخ میں سے کسی بزرگ رحمہ اللہ علیہ سے حکایت بیان کرتے تھے کہ ایک فقیہ کی عادت تھی کہ دوات کو کتاب کے اوپر ہی رکھ دیا کرتے تھے تو شیخ نے ان سے فارسی میں فرمایا۔

برنیابی ، یعنی تم اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ راہ علم صفحہ40

فخرالاسلام عرف قاضی کان فرماتے ہیں، کتابوں پردوا ت وغیرہ رکھتے ہوئے اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہوتو ایسا کرنا جائز ہے مگر اولیٰ یہ ہے کہ اس سے بچا جائے۔ راہِ علم صفحہ 40

کتابوں کا ادب کرنے میں یہ بات بھی ضروری ہے کہ کتابوں کو کبھی بھی بغیر طہارت ہاتھ نہ لگائے، ہمیشہ باوضو ہی کتابوں کو لے ، چنانچہ

شیخ امام حلوانی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم و تکریم کے سبب حاصل کیا وہا س طرح کہ میں نے کبھی بھی کاغذ کو بغیروضو ہاتھ نہیں لگایا۔ کامیاب طالبِ علم کون ، صفحہ50

ایک مرتبہ شیخ شمس الائمہ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا پیٹ خراب ہوگیا آپ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار اور بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے اس رات پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو سترہ ۱۷ مرتبہ وضو کرنا پڑا کیونکہ آپ بغیر وضو تکرار نہیں کیا کرتے تھے۔ راہِ علم صفحہ 39

بزرگانِ دین کو وضو سے اس وجہ سے محبت تھی کہ علم نور ہے اور وضو بھی نور ہے بس وضو کرنی سؒم کی نورانیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ راہِ علم صفحہ 40

کتابوں کے ادب میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بلاوجہ کتابوں اور کاپیوں کے پیچ نہ پھاڑے جائیں اور نہ ہی بلا ضرورت ان پر لکھا جائے کہ اس سے بھی کتابوں کی بے ادبی ہوتی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو کتابوں اور کاپیوں کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے، امین

محفوظ سدا رکھنا شہا بے ادبوں سے

اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو


کتابوں کا اَدب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

ہر اہل فکر و دانش اور علم و حکمت کا متلاشی یہ حقیقت تسلیم کرتا ہے کہ نہیں ہے کوئی رفیق کتا ب سے بہتر ۔ اور تاریخ اس سچ کی گواہی دیتی ہے کہ وہ اقوام اپنے علم و فن کی بناء پرترقی کی منازل طے کرتی ہیں اور فاتح اقوام کی صف میں شمار ہوتی ہیں۔جن کا ہتھیار قلم اور اوڑھنا بچھونا کتاب ہوتی ہے اور ساتھ اس کاادب، لیکن اس کے برعکس جو اقوام کتابوں کا ادب نہیں کرتیں اور کتاب سے اپنا  رشتہ توڑ لیتی ہیں وہ نہ تو معراج انسانی کے کمال کو پاسکتی ہیں اور نہ ہی ترقی اورفکر وفن کی منزل طے کرپاتی ہیں، کتاب کے ادب کی اہمیت کے پیش نظر مشہو ر فرانسیسی مفکر و الٹر کہتا ہے کہ

تاریخ میں چند غیر مہذب وحشی قوموں کو چھوڑ کر کتابوں کا ادب کرنے والوں نے ہی لوگوں پر حکومت کی ہے۔

آج بھی مغربی سماج کی ترقی میں اہم کردار ادب کتب کا ہے کتاب کا ادب بہت سے لوگوں کی زندگی میں روشن قندیل کا کام کرتی ہے، لیکن آج ہمارے طالبِ علموں نے کتابوں کے ادب کو چھوڑ دیاہے۔

یہ حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں میں کتاب دوستی اور ان کا ادب رہا وہ دنیا پر حکمران رہے لیکن جیسے جیسے انہوں نے کتابوں کے ادب کو چھوڑا تو محکومی وزوال ان کا مقدررہا۔

ہوئی ہے زیر فلک امتوں کی رسوائی

خودی سے جب دین و ادب ہوئے بیگانہ

آج ہمارے علما کرام بھی کہتے ہیں کہ ’’باادب بانصیب بے ادب بے نصیب‘‘ یہ کتاب ہی ہے جس کا دب کرنے سے ہم ادب و احترام سیکھتے ہیں لیکن جب اس کتاب کی ہم بے حرمتی شروع کردیں اور ان سے لاتعلقی اختیار کرلیں تو پھر ہمارے لیے علم وتحقیق کی محزن تک رسائی حاصل کرنا ناممکن ہے، اپنا اسلاف کے محزن فکرو فن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کتاب سے عشق اور احترام ہم پر لازم ہے۔

گرخواہش ہے رمز تحقیق و علم کی

غزالی کے محزن فکر و فن کی

پھر لازم ہے تم پر احترامِ کتاب

پھر لازم ہےتم پر احترام ِ کتاب

اللہ رب العزت ہمیں احترامِ کتاب اور کتاب سے دوستی کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح معنوں میں علم کی شمع سے استفادہ کرسکیں ۔ آمین

نوٹ۔۔کتاب دینی ہو یا دنیاوی ادب دونوں کا ضروری ہے۔


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

علم کے بے شمار فضائل ہیں لیکن علم اس وقت تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک علم ، اہلِ علم، اور استاد کی تعظیم نہ کی جائے۔ ادب کے بغیر علم حاصل تو ہوجائےگامگر فیضان علم  سے محرومی ہوسکتی ہے۔

ادب کے فضائل

ادب کے بےشمار فضائل ہیں جن سے چند یہ ہیں۔

1=ادب کرنے سے نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور بے ادبی سے نعمتیں زائل ہوتی ہیں۔

2=ادب ایک اچھی خصلت ہے۔

3=جو ادب کرتا ہے وہ صلہ پاتا ہے اور بے ادب ہلاک ہو جاتا ہے کیونکہ علم تو ابلیس کے پاس بھی تھا لیکن بے ادبی کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔

4=ادب کرنے سے فیض حاصل ہوتا ہے۔

5=ادب کرنے سے عزت ملتی ہے۔

علم کے تعظیم میں سے ایک تعظیم کتاب کی بھی ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس نے جو کچھ پایا ادب کرنے کے سبب سے پایا جس نے جو کچھ کھویا وہ ادب نہ کرنے کے سبب سے کھویا۔

لہذا! طالب علم کو چاہئے کہ وہ جب بھی کتاب کا مطالعہ کرے تو ادب کو ملحوظ رکھے اور باوضو ہو کر کتابوں کو ہاتھ لگائے۔

حضرت شیخ شمس الآئمہ حلوائی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم وتکریم کرنے کے سبب سے حاصل کیا وہ اس طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا ۔ ( راہ علم، ص 33)

*طالبِ علم کتابوں کی طرف پاؤں نہ کرے کیونکہ یہ بے ادبی ہے۔

*ادب کا لحاظ رکھتے ہوئے کتب تفاسیر کو تمام کتب کے اوپر رکھیں اور کتب کے اوپر کوئی چیز نہ رکھے۔

شیخ الاسلام حضرت سیدنا امام برہان الدین علیہ الرحمہ اپنے مشائخ میں کسی بزرگ سے حکایت بیان کرتے تھے کہ ایک فقیہ کی عادت تھی کہ دوات کتاب کے اوپر رکھ دیا کرتے تھے تو شیخ نے ان سے فارسی میں فرمایا برنیابی یعنی تم اپنے علم سے فائدہ نھیں اٹھا سکتے۔( راہ علم، ص 34)

قارئین کرام !علم کو کما حقہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کتابوں کا ادب کیجئے کیونکہ انسان گناہ کرنے سے کافر نہیں ہوتا بلکہ اس کو ہلکا سمجھنے سے کافر ہوتا ہے اس لئے کہا جاتا ہے۔

"باادب بانصیب بے ادب بے نصیب"


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

مقولہ ہے کہ جس نے جو کچھ پایا ادب و احترام کرنے کے سبب ہی سے پایا اور جس نے جو کچھ کھویا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ، ( راہِ علم ص ۲۹)

معززقارئین ! موجودہ دور میں اگرچہ علم سیکھنے اور سکھانے کے بہت سے وسائل ہیں، لیکن تعلیم و تعلم کےلیے کتاب ایک بہت پرانا اور بہتر ین ذریعہ ہے، لیکن ا س سے بھی ہم کامل طور پر اس وقت فائدہ حاصل کرسکتے ہیں جب ان کو پڑھنے اور سیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کتابوں کا ادب بھی کریں۔ جیسا کہ حضرت ابن مبارک علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہمیں زیادہ علم حاصل کرنے کے مقابلے میں تھوڑا سا ادب حاصل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔(آداب مرشد کامل ص ۲۷) الرسالۃ القشیریہ ، باب الادب ص ۳۱۷)

لہذا ہمیں بالعموم تمام کتابوں کااور بالخصوص دینی کتابوں کا بہت ادب کرنا چاہیے تاکہ علم کی قدر ہمارے سینوں میں اترے اور عمل کی توفیق بھی ملے۔

کتابوں کا ادب کرنے میں مندرجہ ذیل امور کو پیش نظر رکھیں اور کبھی بھی بغیر طہارت کے کتاب کو ہاتھ نہ لگائیں، حضرت سیدنا شیخ شمس الائمہ حلوانی قدس سرہ النوارنی نے فرمایا کہ میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم و تکریم کرنے کے سبب حاصل کیا وہ ا س طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا،(راہِ علم ص ۳۳، المدینہ العلمیہ)

علم نور ہے اور وضو بھی نور، بس وضو کرنے سے علم کی نورانیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

۲۔ کتابوں کی طرف کبھی بھی پاؤں نہ کریں، نیز اگر نیچے کی جانب کتاب تشریف فرما ہو تو اوپر کرسی وغیر پر نہ بیٹھے بلکہ نیچے ہی بیٹھ جائیں۔

۳۔قرآن کریم کے اوپر کوئی دوسری کتاب نہ رکھیں، کتابیں رکھنے کی ترتیب یوں ہو، کہ پہلے ( سب سے اوپر) مصحف شریف، پھر تفاسیر، پھر احادیثِ مبارکہ کی کتب، پھر کتب فقہ اور اس کے بعد نحو و صرف اور دیگر کتابیں ان کی افضلیت اور مقام کے مطابق۔

۴۔ کتابوں کے اوپر کوئی چیز نہ رکھیں، بعض طلبا کتابوں کے اوپر دوات و قلم اور کھانے کی چیزیں وغیرہ رکھ دیتے ہیں تو ایسا نہ کریں احتیاط کریں۔

۵۔ کتابیں ہاتھ میں ہوں تو ہاتھ لٹکا کر مت چلیں جیسا کہ حضرت سیدنا حافظ ملت علیہ الرحمہ کو جب کوئی کتاب لے جانی ہوتی تو داہنے Right ہاتھ میں لے کر سینے سے لگالیتے، کسی طالب علم کو دیکھتے کہ کتاب ہاتھ میں لٹکاکر چل رہا ہے تو فرماتے۔ کتاب جب سینے سے لگائی جائے گی تو سینے مین اترے گی اور جب کتاب کو سینے سے دور رکھا جائے گا تو کتاب بھی سینے سے دور ہوگی۔(شانِ حافظِ ملت ص ۶، المدینہ العلمیہ )

۶۔ ٹیک لگا کر یا لیٹ کر کتاب نہ پڑھیں، بیٹھ کر بھی پڑھیں گے توں پاؤں نہ پھیلائیں کہ جتنا زیادہ ادب ، اتنی زیادہ برکتیں۔

محفوظ شہا رکھنا سدا بے ادبوں سے

اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو

اللہ پاک ہمیں علم کا اور کتابوں کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

با ادب بانصیب،کے مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی کتابوں  و قلم اور کاپیوں کی تعظیم کریں انہیں اونچی جگہ رکھئے کتابیں اوپر تلے رکھنے کی حاجت ہو تو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہیے سب سے اوپر قرآن حکیم اس کے نیچے تفاسیر، پھر کتب حدیث، پھر دیگر کتب ۔۔وغیرہ کتاب کے اوپر بلا ضرورت کوئی دوسری چیز مثلا ۔۔موبائل وغیرہ نہ رکھیں

تعلیم علم میں کتاب کی تعظیم کرنا بھی شامل ہے، لہذا طالبِ علم کو چاہیے کہ کبھی بھی بغیر طہارت کے کتاب کو ہاتھ نہ لگائے۔

حضرت سیدنا شیخ شمس الائمہ حلوانی قدس سرہ النورانی سے حکایت نقل کی جاتی ہے کہ آپ رحمۃ ا للہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں علم کے دریچوں کو تعظیم و تکریم کرنے کے سبب حاصل کیا اور اس طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا۔

طالبِ علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں کی طرف پاؤں نہ کرے ۔

ہمارے استاد محترم شیخ الاسلام حضرت سیدنا امام برہان الہی علیہ رحمۃ اللہ المبین کسی بزرگ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ سے حکایت بیان کرتے ہیں) کہ ایک فقیہ کی عادت تھی کہ دوات کو کتاب کے اوپر ہی رکھا کرتے تھے تو شیخ نے ان سے فارسی میں فرمایا۔

برنیابی ، یعنی تم اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

ہمارے استاد محترم امام اھل فخر الاسلام حصرت سیدناقاضی خان رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ۔ کتابوں پر دوات وغیرہ رکھتے وقت اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہوتو ایسا کرنا جائز ہے، مگر اولیٰ یہ ہے کہ ا س سے بچا جائے۔

اے عزیز طالبِ علم

مناسب یہ ہے کہ کتاب وغیرہ کا سائز مربع ہو کہ یہ حضرت سیدنا امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا پسندیدہ سائز ہے کہ ایسی کتاب کے اٹھانے، رکھنے اور مطالعہ کرنے میں سہولت رہتی ہے نیز ایک طالبِ علم کو سرخ سیاہی کا استعمال کرنا بزرگانِ رحمہ اللہ المبین کا نہیں بلکہ فلاسفہ کا طریقہ کار ہے اور ہمارے مشائخ کرام رحمہ اللہ السلام سرخ سیاہی کے استعمال کو مکروہ جانتے تھے۔

حضرت سیدنا شیخ مجدا لدین علیہ الرحمہ اللہ الغنی سے حکایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ جب بھی ہم نے بے احتیاطی کے ساتھ باریک باریک اور چھوٹا چھوٹا کرکے لکھا تو سوائے شرمندگی کے کچھ ہاتھ نہ آیا ، جب کبھی ہم نے طویل کلام سے صرف تھوڑا سا حصہ منتخب کرکے پیش کیا تب بھی شرمندگی اٹھانی پڑی اور جب ہم نے کسی تحریر کا مقابلہ اصل نسخہ سے نہیں کیا، ہم اس وقت بھی شرمندہ و نادم ہوئے،

ہمارے مضمون کا خلاصہ یہی ہے کہ کتابوں کا ادب کیا جائے اور محبت کی جائے کتابوں کو سینے سے لگایا جائے کتابوں کو دوست بنایا جائے ۔

فرمان شانِ ملت۔

کتاب کو سینے سے لگائیے کہ وہ سینے سے لگے گی تو سینے میں اترے گی۔


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

محترم قارئین!آپ نے وہ کہاوت تو سنی ہوگی کہ" کتابیں ہماری بہترین دوست ہوتی ہیں" جی ہاں! پیارے مدنی منّو اورمدنی منّیو!اساتذہ کے بعد کتابیں ہی ہمیں اچھے پڑھنے اور اچھے لکھنے میں مدد کرتی ہیں،  تو اب ہمارا فرض یہ بنتا ہے کہ ہم اپنی کتابوں کا ادب کریں، یقیناً یہ بات پڑھتے ہی بہت سے بچوں کے دماغ میں آیا ہوگا کہ آخر ہم اپنی کتابوں کا ادب کیسے کریں؟ ٹھہریئے! میں بتاتی ہوں:

اکثر بلکہ زیادہ تر بچوں کی کتابیں اور کاپیاں سال کے آغاز میں ہی لی جاتی ہیں اور جب امتحانات کے بعد سال ختم ہو جاتا ہے، تو کاپیوں میں صفحات بچ ہی جاتے ہیں، جو کہ ضائع ہو جاتے ہیں، یہ پھر امّی ردّی والے کو دے دیتی ہیں، ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ کاغذ بھی اللہ عزوجل کی نعمتوں میں سے ایک ہے اور ہمیں اللہ عزوجل کی نعمتوں کا صحیح استعمال کرنا چاہئے، صحیح استعمال کا مطلب آپ ان صفحات کو پھاڑ کر سوئی دھاگے سے سی لیں یا پھر پھر اسٹیپلر کر دیں، اس طرح آپ اس کتاب کو کسی بھی کام میں لا سکتے ہیں، جیسے مہینے کا سودا سلف، گھر کا کوئی سامان لکھ لیں یا اپنی ڈائری بنا لیں، اسی طرح کتاب کو اپنے سے ایک یا دو سال چھوٹے کزن کو دے دیں یا پھر کسی غریب بچے کو اچھی نیت سے۔

پھر انشاءاللہ عزوجل جب بھی کوئی بچہ اس کتاب سے پڑھے گا، آپ کو ثواب ملتا رہے گا، پیارے بچو!ہمیں اپنی کتابوں کو اِدھر اُدھر پھینکنا نہیں چاہئے اور نہ ہی ان پر فالتو لکیریں بنانی چاہیئں، بلکہ ان کے لئے ایک صاف ستھری جگہ بنانی چاہئے، جہاں پر ساری کتابیں ہوں۔


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

ادب: عزت،  تکریم، احترام۔

ادب عربی زبان کا لفظ ہے، لفظ ادب دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے، ایک معنی ہیں"ادب" وہ ہے جس میں انسانی زندگی کا اور اس سے وابستہ ہر شے کا مطالعہ کیا جاتا ہے، دوسرے معنوں میں "ادب" سے مراد دوسروں کی عزت، تکریم اور احترام کرنا ہے، یعنی"respect"کہتے ہیں، باادب بانصیب۔

اب جہاں دوسروں کی عزت کرنے کی بات آتی ہے، اس میں بہت سی صورتیں آتی ہیں کہ ادب کس کا کیا جائے؟ اب جس طرح ہم سے ہمارے بڑے اساتذہ اور والدین وابستہ ہوتے ہیں اور ان کا ادب ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے، وہیں ان سب کے علاوہ ہمارے موضوع کے مطابق ہم سے ہماری کتابیں(books) بھی وابستہ ہوتی ہیں کہ ان کا ادب بھی ہمارے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے۔

اب اگر ہم کتابوں کے ادب کی بات کریں، تو ہم میں سے ہر کوئی اپنے ذہن کے مطابق کچھ نہ کچھ جانتا تو ہے کتابوں کے ادب کے بارے میں، لیکن اگر کسی سے ادب کا حقیقی معنی پوچھ لیا جائے تو ہماری حالت کیا ہوتی ہے کہ" بارہا میں نے سنا تو ہے یا میں جانتا تو ہوں کتابوں کے ادب کے بارے میں، لیکن میں ابھی صحیح سے نہیں بتا سکتا کہ اس سے مراد کیا ہے؟یا اگر یوں کہا جائے کہ مجھے کتابوں کا ادب کرنا تو ہے، لیکن کس طرح کرنا ہے؟ یہ نہیں معلوم!!!

اب بات آتی ہے کتابوں کے ادب کی تو اس میں سب سے پہلی چیز آتی ہے، "کتابوں سے محبت، اُس کتاب کے مطالعہ کا شوق"اب اگر کتاب سے محبت ہوگئی تو پڑھنے کا دل خود بخود کرے گا"، اب یہاں محبت سے مراد یہ نہیں کہ جو کتاب دل کو اچھی لگی، بس وہی پڑھنی، اس کے علاوہ کسی دوسری کو دیکھنا ہی نہیں یا جو یاد نہیں ہوتی کتاب وہ اچھی بھی نہیں اور اس کو پڑھنا بھی نہیں، ہرگز ایسا مطلب نہیں۔

پیار و محبت سے یوں لیا جاسکتا ہے کہ گویا آپ نہیں، وہ کتاب آپ سے محبت کرے، وہ کتاب آپ سے محبت کرے، آپ کتاب سے محبت کریں تو پھر کام بنتا ہے ورنہ نہیں۔

اب اس کے بعد آ جاتی ہے کتابوں کی دیکھ بھال۔

اب کچھ کتابیں پڑھنے والوں کی کتب کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کتب کی جلد کہیں اور جا رہی ہوتی ہے اور کتب کے اندر کے صفحات کہیں جا رہے ہوتے ہیں، مطلب کے کتب کی وہ وقعت نہیں رہتی، جو خریدتے وقت ہوتی ہے، اب اگر آپ کتاب کا خیال رکھیں گے تو یقیناً کتاب بھی آپ کا خیال رکھے گی، مطلب کے آپ کے دل میں اترے گی۔(ایک ہوتا ہے دل میں اترنا اور ایک ہوتا ہے ذہن میں اترنا اور یہ دونوں الگ ہیں)

اب آتا ہے کتاب کو پڑھنے کا ادب، اگر ہم خود کو دیکھیں تو ہمیں کوئی لحاظ نہیں ہوتا، کتاب نیچے رکھی ہے تو خود اوپر بیٹھے ہیں، نہیں تو کتاب کو بالکل بیٹھنے کے مقام کے برابر رکھا ہے، اگر کتاب کہیں گری ہے تو گری رہے، اٹھانا نہیں، کسی جگہ سے کتاب شہید ہے تو اس کو جلد نہیں کرنا، بلکہ گویا کہ اس کے پوری طرح ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا انتظار کرنا ہے، لہذا اب پورے مضمون کا خلاصہ یہ کہ کتاب سے محبت کیجئے، کتاب کی دیکھ بھال کیجئے، کتاب کا مطالعہ ہمیشہ کتاب کو اونچی جگہ رکھ کر کیجئے، کتابوں کو سینے سے لگائیے، کتابوں کو اپنا دوست بنائیے۔

فرمانِ حافظِ شانِ ملت:

"کتاب کو سینے سے لگائیے کہ وہ سینے سے لگے گی تو سینے میں اُترے گی۔"


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

کتابوں کو پڑھتے وقت ادب و احترام لازم ہے اور بہتر یہ ہے کہ جب پڑھنا شروع کریں تو درودِ پاک پڑھ کر کتاب شروع کریں،  تاکہ کتاب سمجھنے میں آسانی ہو اور جب تک دلجمعی ہو، پڑھتے رہیں اور ذرا سی بھی اُکتاہٹ محسوس ہو تو پڑھنا بند کر دیں اور بے توجہی کے ساتھ ہرگز ہرگز نہ پڑھیں۔(سیرت مصطفی، صفحہ 45)

مشہور مقولہ ہے کہ" با ادب بانصیب، بے ادب بے نصیب"یعنی ادب ہی ایسی چیز ہے، جو انسان کو جنت تک لے جاتی ہے۔

حضرت ابو علی بن دقاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:"بندہ اطاعت سے جنت تک اور ادب سے خدا عزوجل تک پہنچ جاتا ہے۔"(آداب مرشد کامل، ص26)

حضرت سیّدنا شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ سادہ کاغذ کا بھی ادب و احترام فرماتے تھے، چنانچہ ایک روز اپنے بچھونے پر تشریف فرما تھے کہ یکایک بے قرار ہو کر نیچے اُتر آئے اور فرمانے لگے"معلوم ہوتا ہے کہ اس بچھونے کے نیچے کوئی کاغذ ہے"(آداب مرشد کامل، صفحہ 29)

سبحان اللہ عزوجل!کیسی کتابوں اور سادہ کاغذ کی نفیس تعلیم ارشاد فرمائی گئی ہے، ہمارے اسلاف کرام رحمھم اللہ السلام سادے کاغذ کا بھی ادب فرمایا کرتے تھے، آج بعض لوگوں کا یہ حال ہے کہ عموماً تاریخی کتابوں کو نہایت ہی لاپرواہی کے ساتھ پاکی، ناپاکی ہر حالت میں پڑھتے اور نہایت ہی بے توجّہی کے ساتھ اِدھر اُدھر پڑھ کر ڈال دیا کرتے ہیں، اس طرح دینی کتابوں کو بھی بے توجّہی کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں، بلکہ دینی کتب کا بے حد ادب کرنا چاہئے کہ ہمارے اسلاف صرف سادے کاغذ کے ٹکڑے کا بھی ادب فرمایا کرتے تھے۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نےسترہ سال کی عمر میں تعلیم وتدریس کی ابتداء کر دی تھی، حدیث شریف پڑھانے سے پہلے غسل کرتے، عمدہ بیش قیمت کے لباس ملبوس فرماتے، خوشبو لگاتے، پھر ایک تخت پر نہایت عجز و انکساری سے بیٹھتے اور جب تک درس جاری رہتا، انگیٹھی میں عُود اور لوبان ڈالتے رہتے تھے، درسِ حدیث کے درمیان کبھی پہلو نہیں بدلتے تھے۔(تذکرۃ المحدثین، صفحہ 94)

سبحان اللہ عزوجل! ہمارے امام جب درس حدیث ہورہی ہوتی تو پہلو بھی نہ بدلتے۔

عبداللہ بن مبارک بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں درسِ حدیث میں حاضر ہوا، امام مالک روایتِ حدیث فرما رہے تھے، اسی دوران ایک بچھو کی نیش زنی کے باوجود آپ نے نہ پہلو بدلا نہ سلسلہ روایت ترک کیا اور نہ ہی آپ کے تسلسل کلام میں کچھ فرق واقع ہوا، بعد میں آپ نے فرمایا: میرا اس تکلیف پر اس قدر صبر کرنا، کچھ اپنی طاقت کی بناء پر نہ تھا ، بلکہ محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی وجہ سے تھا۔(تذکرۃ المحدثین، صفحہ 94)

دینی کتب پڑھنے، پڑھانے میں بہت احتیاط و ادب ہونی چاہئے، کیونکہ بعض اوقات ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی ہوتی ہے، مگر ادب کی برکتوں کی وجہ سے وہ چیز ہم باآسانی سمجھ بھی لیتے ہیں اور مصنفین کی برکتیں بھی ہمیں میسر ہو جاتی ہیں، ہمارے پیر و مرشد امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:

محفوظ سدا رکھنا شہا بے اَدَبوں سے

مجھ سے بھی نہ سرزد کبھی بے اَدَ بی ہو

( وسائلِ بخشش)


کتابوں کا ادب 

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

تنہائی کی ساتھی ہوتی ہیں کتابیں،

زندگی کی راہی ہوتی ہیں کتابیں،

کبھی کھولو انھیں تم کھلے آسماں میں،

ہر ورق، ہر لفظ، میں زندگی سموتی ہیں کتابیں،

ہر لفظ لگے گا دل کو اچھا،

جب پڑھو گے تم اس کو سمجھ کر سچا،

مجھے نہیں ضرورت کسی کے ساتھ کی،

اے دوست

کیونکہ—

میری تنہائی کی ساتھی ہیں میری کتابیں،

میری زندگی کی راہی ہیں میری کتابیں.

(بنت چوہدری محمد اشرف)

کتابیں اور ان کا ادب ایک ایسا موضوع ہے کہ جس کا علم ہوتا تو ہم سب کو ہے پر عمل کوئی کوئی کرتا ہے کتابیں ہماری زندگی بناتی ہیں کتابیں ہی ہمیں جینا سکھاتی ہیں پھر چاہے وہ دینی ہوں یا دنیاوی۔ہم مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس کتاب ہمارا قرآن پاک ہے جو ہماری زندگی کو بہتر سے بہترین بناتا ہے بشرطیکہ ہم اس پر عمل کریں۔ہماری زندگی کے شروع ہوتے ہی کتابیں ہمارا مقدر بن جاتی ہیں جیسے کورس کی کتابیں ، مختلف علماء کی کتابیں اور تو اور اب اس جدید دور میں اگر ہمیں کسی الیکٹرونک آلے کو سمجھنے کی ضرورت ہو تو اس کے لیے بھی کتاب ہوتی ہے۔

مختصرا کتابیں زندگی ہیں اور ان کا ادب ہم پر لازم ہے ادب سے مراد یہ نہیں کہ ہم انہیں اپنے گھر کے سب سے اوپری حصے میں رکھ دیں جیسے کہ ہم قرآن پاک کو رکھ کر بھول جاتے ہیں نہیں بلکہ ان کا ادب یہ ہے کہ آپ انہیں عزت و تعظیم سے بیٹھ کر پڑھیں اور ان پر عمل کریں اور ان کے علم کو آگے پہنچائیں۔کتابوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے تمام انبیاء پر کتابیں نازل کیں یعنی انبیاء کی آمد بھی کتابوں کے ساتھ ہوئی۔

مختصرا یہ کہ ہمیں کتابوں کا ادب و احترام کرنا چا ہیے ان کو شہید ہونے سے بچانا چاہیے اور ان کے علم سے خود کو اور باقی سب کو فیضیاب کرتے رہنا چاہیے۔

کتابوں کا ادب اس لیے بھی کرنا چاہیے کہ جب ہم ان کی قدر کریں گے تو ہی وہ ہمیں کچھ فائدہ دے پائیں گی کیونکہ جب ہم ان کی قدر نہیں کریں گے انہیں احتیاط سے نہیں رکھیں گے تو وہ پھٹ جائیں گی اور پھر وہ ضائع ہوکر ڈسٹبن کی نظر ہوجائیں گی تو جس چیز کی ہم نے کئیر نہیں کی اسے اس کے حق کے ساتھ نہیں پڑھا تو ہمیں کیا معلوم کہ اس میں ہمارے لیے کیا سبق تھا اور جب سبق معلوم نہ ہو تو بندہ فیل ہی ہوتا ہے۔اس لئے زیادہ سے زیادہ کتابیں پڑھنا اپنا مقصد بنائیں اور ان کی قدر کریں ان کی کئیر کریں اور سب سے مقدس کتاب قرآن پاک پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو بہترین علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

فرضی حکایات:

کلثوم کتابوں(books) اور کاپیوں(copies) کے صفحات(pages) پھاڑتی اور ہوائی جہاز بنا کر انہیں اُڑانے کی کوشش کر رہی تھی، ابھی ایک دن پہلے ہی اس کے ابُّو یہ کتابیں اور کاپیاں خرید کر لائے تھے، امّی جان نے جیسے ہی کلثوم کو کتابوں کی بے ادبی کرتے دیکھا، اس کے قریب آ کر بولیں" پیاری بیٹی! یہ تو آپ کی اسکول(school) کی کتابیں ہیں، آپ کوانہیں سنبھال کر رکھنا اور ان کا احترام کرنا چاہئے، مگر آپ تو ان کے اوراق(pages) پھاڑ کر ہوائی جہاز بنا رہی ہیں، تحریر شدہ کاغذ سے جہاز بنانے سے علماء منع فرماتے ہیں، امّی جان! مجھے جہاز بنانے کا بہت شوق ہے اور اس کھیل میں مجھے بہت مزہ آتا ہے، کلثوم نے اپنے دل کی بات بتائی، اس کی امّی نے اسے سمجھایا" میری بیٹی! اگر آپ اس طرح کھیل کھیل میں جہاز اور دوسری چیزیں بنانے کے لئے صفحات پھاڑتی رہیں گی تو سبق کون سی کتاب سے پڑھیں گی؟ اور جب آپ کو ہوم ورک (home work)ملے گا تو وہ کونسی کاپی پر کریں گی؟ کلثوم نے فوراً جواب دیا: میں بابا جان سے کہہ کر اور کتابیں منگوا لوں گی، امّی جان کہنے لگیں: پیاری بیٹی! اس طرح تو آپ کے باباکتابیں کاپیاں خرید کر لاتے رہیں گے اور ان کے کافی پیسے اسی میں خرچ ہو جائیں گے، پھر آپ کو چیز کے پیسے(pocket money) کہاں سے ملے گے؟ کتابیں تو ہماری تنہائی کی دوست ہوتی ہیں، ہمیں اچھی اچھی باتیں سکھاتی ہیں، ہمیں بلند مقام تک پہنچنے میں مدد دیتی ہیں، ہمیں تو ان کی حفاظت اور ان کا ادب کرنا چاہئے، اگر ہم کتابوں کی یوں بے ادبی کریں گے تو ان کی برکتوں سے محروم رہ جائیں گے، امّی جان کی یہ پیاری نصیحتیں سُن کر کلثوم نے اپنی امّی کا شکریہ ادا کیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ میں اپنی کتابوں اور کاپیوں کا ادب کروں گیاور ان کی حفاظت بھی کیا کروں گی۔

پیارے مدنی منّو اورمدنی منّیو!اس فرضی حکایت سے معلوم ہوا کہ کتابوں کاپیوں کی حفاظت اور ان کا ادب کرنا چاہئے، کیونکہ ان کا ادب اور ان کی حفاظت نہ کرنے سے انسان علم کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے اور پیسے بھی ضائع ہوتے ہیں،

کتابوں کی حفاظت کے حوالے سے مدنی پھول قبول کیجئے:

کتابوں کو زمین پر نہ رکھئے، کیونکہ اس طرح مقدس تحریروں کی بے ادبی ہونے کے ساتھ ساتھ زمین کی نمی(گیلاپن) سے کتابوں کی جلد(binding) بھی کمزور ہو جاتی ہے، کتابوں کے صفحات نہ موڑئیے، اس سے کتاب کا حُسن خراب ہوتا ہے، کتابوں کی صفائی وقتاً فوقتاً کرنے کی ترکیب بنائیے، ورنہ کتابوں کے کناروں پر مٹی کی تہہ جم جاتی ہے، اس مٹی میں کیڑے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ کیڑے چھوٹے چھوٹے سوراخ کرکے کتابوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، کتابوں کو تیز دھوپ اور پانی سے بچائیے، بعض لوگ کتابوں پر پانی گر جانے کی صورت میں اُنہیں سکھانے کے لیے دُھوپ میں رکھ دیتے ہیں، دھوپ میں صفحات کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے، اگر کتابوں پر پانی گر جائے تو اسے پنکھے کی ہوا میں سکھانا چاہئے، کتابوں، کاپیوں پر قلم سے لکیریں نہ کھینچئے، ان پر سیاہی(ink) نہ گرے اس کا بھی خیال رکھئے، صفحے پلٹتے وقت احتیاط کرتے ہوئے زور سے نہ کھینچئے کہ صفحے پھٹ سکتے ہیں، پڑھائی(study) کرتے وقت کتابیں اور کاپیاں اس انداز سے رکھیں کہ ان کی جلد(binding) خراب نہ ہو۔


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

تمام حمد و ثناء  اس ربّ کائنات کے لئے ہے، جو معبود برحق ہے اور تمام درود و صلوۃ وسلام کے تحفے اس ذاتِ جمال و رحمت عالم کے لئے ہیں کہ جو محبوبِ ربِّ کائنات ہیں۔

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"مجھ پر درود پاک کی کثرت کرو، بیشک تمہارا مجھ پر درود پڑھنا تمہارے لئے پاکیزگی کا باعث ہے۔"(ابوداؤد)

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخل کر دیتی ہے۔"( الجامع الصغیر، ص557، الحدیث 9229)

میں نیت کرتی ہوں کہ رضائے الہی اور خوشنودی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصول، نیز امر باالمعروف پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کچھ قلمبند کرنے کی سعی کرتی ہوں۔(سنن ابن ماجہ، ج4، ص189، حدیث3671 پر حدیثِ مبارکہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرو اور انہیں آدابِ زندگی سکھاؤ۔"

سکھانے والا معلم ہوتا ہے اور سیکھنے کے لئے مواد کئیں طرح سے حاصل ہوتا ہے، مشاہدے سے، تجربے سے، کتابوں سے، انسانی رویّوں سے، سب سے بہترین ماخذ" کتاب" ہے، کتاب کے لغوی معنی" لکھنا" ہیں، اصطلاح میں کسی بھی شعبے سے متعلق اس فن کے ماہر حضرات کا مشاہدے و تجربات اور رویّوں کے نچوڑ سے مسائل و ان کے حل کو ترتیب وار قلمبند کرنا، لیکن سب سے اہم اور مفید و جامع کتاب ہے، جو اپنے اندر تمام شعبہ زندگی کے مسائل اور ان کے حل اور تمام علومِ دنیا اور دین کے ماخذ و نچوڑ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، وہ ہے"قرآن کریم"۔

فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھاؤ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اہلِ بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت اور قراءتِ قرآن۔"

کسی بھی علم کو سیکھنے، سمجھنے اور اُسے خود پر لاگو کرنے کے لئے سب سے بڑا عنصر محبت ہوتی ہے، جو جسم سے ہوتی ہوئی دل پر اثر کرتی اور کو سیراب کرتی ہوئی ادب کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے، ادب سے مراد اخلاقی ملکہ، جو ناشائستہ باتوں سے روکتا ہو یعنی فخوش طبعی۔"

ایک مشہور معقولہ ہے کہ" اگر کسی قوم کو کمزور کرنا ہو تو اس کا نظامِ تعلیم کمزور کرو، قوم خود بخود کمزور ہو جائے گی۔" سو ہم جہاں کتب سے اتنا کچھ سیکھتے ہیں اور ہم نے یہ بھی سیکھا کہ تعلّم کا سلسلہ تب ہی مفید ہوتا ہے، جب اس میں ادب کے خوبصورت موتی ہوں، کتابوں کا ادب ہم کیسے کر سکتے ہیں، آئیے جائزہ لیتے ہیں:

1۔دینی کتب کو حتی الامکان باوضو، قبلہ رو ہو کر مطالعہ کیا جائے، کیونکہ قرآن کریم اور احادیث و فق کی کتب آتی ہیں، جو کہ قرآن پاک کی تشریح و تفسیر ہیں۔

2۔کسی بھی دینی کتب کا مطالعہ کرنے سے قبل جہاں باوضو ہوا جائے، وہیں حمدوثناء کے بعد تعوذ و تسمیہ سے آغاز کیا جائے۔

3۔کتب چاہے دینی ہوں یا دنیاوی، اسے لا پرواہی سے استعمال نہ کیا جائے، بلکہ حفاظت سے رکھا جائے تاکہ ہمارے بعد آنے والی نسل جہاں تک ممکن ہو اس سے فائدہ حاصل کرے۔

4۔ کتب کے لئے مخصوص جگہ بنائیے اور حفاظت سے رکھئے، اگر کسی سے مستعار کتاب لی ہو تو اسے بھی سنبھال کر رکھیں۔

5۔ کتاب کا کوئی بھی صفحہ اگر شہید ہو جائے تو اسے ضائع نہ کریں، بلکہ ہو سکے تو بائیڈنگ کروائیں تاکہ محفوظ ہو سکے ورنہ ٹھنڈا بکس میں ڈال دیجئے۔

6۔جان بوجھ کر نا سمجھ بچوں کے اگے درسی کتب/مطالعہ کتب نہ رکھئے۔

7۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ دنیاوی کتب ردّی میں فروخت کر دی جاتی ہیں، ایسا کرنے کی بجائے کسی مستحق بچے کو دے دی جائیں تو بہتر ہوگا۔

بہرحال حتی الامکان کوشش کی جائے کہ کتابوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، کیونکہ یہ ایک قوم کا اثاثہ ہوتی ہیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کا فرمانِ عالیشان ہے:"جو دل اچھائی کو اچھائی نہ سمجھے اور برائی کو برائی نہ جانے، اس دل کے اوپر والے حصّے کو ایسے خالی یعنی نیچے کر دیا جائے گا، جیسے تھیلے کو اُلٹا کیا جاتا ہے اور تھیلے کے اندر کی چیزیں بکھر جاتی ہیں۔( مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 8، صفحہ 667، رقم 124 تا125)

یہ تمام اچھی باتیں سیکھنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے ماحول سے وابستہ ہوجائیے، ان شاءاللہ عزوجل محبت و ادب کی صفات پیدا ہوں گی۔

اللہ تعالی ہمیں ان صفات سے آراستہ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
126 days ago

ادب و احترام اخلاقیات کا حصہ اور ہمارے دینِ اسلام کا اہم جُز ہے۔ اسلام میں ادب و احترام کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں ملحوظ رکھا گیا ہے بلکہ یہ ہماری بنیادی تربیت کا حصہ بھی ہے ۔فرمانِ سیّدُ الانبیاء صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے:کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اچھا ادب سکھانے سے بڑھ کر کوئی عطیہ نہیں دیا۔(ترمذی ،3/383،حدیث:1959)

اس حدیثِ پاک سے ادب کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔اس مضمون میں ہم کتابوں کے ادب کے حوالے سے بات کررہے ہیں، قراٰنِ پاک ہو، مطالعہ کی کتابیں ہوں یا مقدس اوراق، ان کا ادب بہرحال لازم ہے۔ اگر کتاب کا وجود نہ ہوتا تو آج ہمارے پاس قراٰنِ کریم، سنّت و احادیث کی کتابیں جامع صورت میں موجود نہ ہوتیں، چنانچہ یہ کہا جائے کہ کتابیں اللہ پاک کی نعمت ہے تو غلط نہ ہوگا۔ خدائے کریم کی نعمت کی حفاظت، ادب اور شکر گزاری مسلمانون کا مذہبی فریضہ ہے۔

باادب با نصیب کے مقولے پرعمل پیراہوتے ہوئے ان کتابوں، قلم اور کاپیوں کی تعظیم کریں، باوضو ہو کر کتابوں کو چھوئیں ، انہیں اونچی جگہ پر رکھیں اور دورانِ مطالعہ ان کا تقدس برقرار رکھیں۔ کتابیں اوپر تَلے رکھنے کی حاجت ہو تو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہئے: سب سے اوپر قراٰنِ حکیم، اس کے نیچے تفاسیر، پھر کتبِ حدیث، پھر کُتُبِ فقہ پھر دیگر کتبِ صرف و نحو وغیرہ رکھیں۔کتابوں سے صفحے نہ پھاڑیں، کتابوں کے کونے نہ موڑیں، دورانِ مطالعہ کہیں جانا پڑے تو کتابوں کو کھلا چھوڑ کر نہ جائیں۔ کتابوں کے اوپر بلا ضرورت کوئی دوسری چیز مثلاً پتھر ، موبائل وغیرہ نہ رکھیں، کھانا کھاتے وقت کتابوں کو نہ چھوئیں کہ چکنائی وغیرہ لگنے کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح کتابوں پر کھانے کی چیزیں، چائے، پھل وغیرہ بھی نہ رکھیں۔ کتابیں خَستہ ہوجائیں تو ان کو ردی میں نہ بیچیں بلکہ ان کو دفن کردیں یا ٹھنڈا کردیں۔

امیرِ اہلِ سنّت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے بھی کتابوں کے ادب کے حوالے سے طلبہ و طالبات کے لئے نیک اعمال کے رسالہ میں تحریر فرمایا ہے:

”کیا آج آپ نے اپنی کتابیں، کاپیاں وغیرہ لاپرواہی کے ساتھ اِدھر اُدھر رکھ کر یا کتابیں اور لکھے ہوئے اوراق نیچے ہوں اور آپ نے اوپر(یعنی کرسی وغیرہ پر ) بیٹھ کر بے ادبی تو نہیں کی؟“(92 مدنی انعامات،ص15)

شیخُ الاسلام شمسُ الائمہ امام حلوانی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں نے علم کے خزانوں کو تعظیم و تکریم کے سبب حاصل کیا وہ اس طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کاغذ کو ہاتھ نہیں لگایا۔

امام سرخسی رحمۃُ اللہِ علیہ کی عادت تھی کہ رات کے وقت کتابوں کی تکرار و مباحثہ کیا کرتے تھے۔ ایک رات پیٹ خراب ہونے کی وجہ سے آپ کو سترہ بار وضو کرنا پڑا کیونکہ آپ بغیر وضو تکرار نہیں کیا کرتے تھے۔( تعلیم المتعلم طریق التعلم، ص 48)

اللہ پاک اپنے ان نیک بندوں کے طفیل ہمیں بھی کتابوں کا ادب کرنے اور کتابوں سے فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم