کتابوں کا ادب

Sat, 22 May , 2021
159 days ago

با ادب بانصیب،کے مقولے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی کتابوں  و قلم اور کاپیوں کی تعظیم کریں انہیں اونچی جگہ رکھئے کتابیں اوپر تلے رکھنے کی حاجت ہو تو ترتیب کچھ یوں ہونی چاہیے سب سے اوپر قرآن حکیم اس کے نیچے تفاسیر، پھر کتب حدیث، پھر دیگر کتب ۔۔وغیرہ کتاب کے اوپر بلا ضرورت کوئی دوسری چیز مثلا ۔۔موبائل وغیرہ نہ رکھیں

تعلیم علم میں کتاب کی تعظیم کرنا بھی شامل ہے، لہذا طالبِ علم کو چاہیے کہ کبھی بھی بغیر طہارت کے کتاب کو ہاتھ نہ لگائے۔

حضرت سیدنا شیخ شمس الائمہ حلوانی قدس سرہ النورانی سے حکایت نقل کی جاتی ہے کہ آپ رحمۃ ا للہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ میں علم کے دریچوں کو تعظیم و تکریم کرنے کے سبب حاصل کیا اور اس طرح کہ میں نے کبھی بھی بغیر وضو کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا۔

طالبِ علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کتابوں کی طرف پاؤں نہ کرے ۔

ہمارے استاد محترم شیخ الاسلام حضرت سیدنا امام برہان الہی علیہ رحمۃ اللہ المبین کسی بزرگ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ سے حکایت بیان کرتے ہیں) کہ ایک فقیہ کی عادت تھی کہ دوات کو کتاب کے اوپر ہی رکھا کرتے تھے تو شیخ نے ان سے فارسی میں فرمایا۔

برنیابی ، یعنی تم اپنے علم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

ہمارے استاد محترم امام اھل فخر الاسلام حصرت سیدناقاضی خان رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ۔ کتابوں پر دوات وغیرہ رکھتے وقت اگر تحقیر علم کی نیت نہ ہوتو ایسا کرنا جائز ہے، مگر اولیٰ یہ ہے کہ ا س سے بچا جائے۔

اے عزیز طالبِ علم

مناسب یہ ہے کہ کتاب وغیرہ کا سائز مربع ہو کہ یہ حضرت سیدنا امام اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کا پسندیدہ سائز ہے کہ ایسی کتاب کے اٹھانے، رکھنے اور مطالعہ کرنے میں سہولت رہتی ہے نیز ایک طالبِ علم کو سرخ سیاہی کا استعمال کرنا بزرگانِ رحمہ اللہ المبین کا نہیں بلکہ فلاسفہ کا طریقہ کار ہے اور ہمارے مشائخ کرام رحمہ اللہ السلام سرخ سیاہی کے استعمال کو مکروہ جانتے تھے۔

حضرت سیدنا شیخ مجدا لدین علیہ الرحمہ اللہ الغنی سے حکایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ جب بھی ہم نے بے احتیاطی کے ساتھ باریک باریک اور چھوٹا چھوٹا کرکے لکھا تو سوائے شرمندگی کے کچھ ہاتھ نہ آیا ، جب کبھی ہم نے طویل کلام سے صرف تھوڑا سا حصہ منتخب کرکے پیش کیا تب بھی شرمندگی اٹھانی پڑی اور جب ہم نے کسی تحریر کا مقابلہ اصل نسخہ سے نہیں کیا، ہم اس وقت بھی شرمندہ و نادم ہوئے،

ہمارے مضمون کا خلاصہ یہی ہے کہ کتابوں کا ادب کیا جائے اور محبت کی جائے کتابوں کو سینے سے لگایا جائے کتابوں کو دوست بنایا جائے ۔

فرمان شانِ ملت۔

کتاب کو سینے سے لگائیے کہ وہ سینے سے لگے گی تو سینے میں اترے گی۔