اللہ پاک نے ہم پر نماز پنجگانہ فرض کی اور اجمالی طور پر تمام نمازوں کی فضیلت بیان فرمائی۔  اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ ترجمہ کنزالعرفان : بیشک نماز بے حیائی اور بری بات سے روکتی ہے ۔(پ21،العنكبوت : 45)لیکن نماز جمعہ ایک ایسی نماز ہے جس کے متعلق اللہ پاک نے سورہ نازل فرمائی اور اس کی فضیلت بیان فرمائی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔(پ28،الجمعۃ:09)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے سنا کہ خرید و فروخت چھوڑ کر نماز کے لیے جانا بہتر بتایا گیا۔  آئیے حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کس طرح جمعہ کے لئے خرید و فروخت چھوڑ کر جانا بہتر ہے۔

(1)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا اور جماعت کو آیا اور (خطبہ) سنا اور چپ رہا  اس کے لیے ان گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی جو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہوئے ہیں اور( انکے علاوہ)  مزید تین دن ( کے گناہ بخش دیئے جائیں گے) اور جس نے کنکری چھوئی اس نے لغو کیا۔ ( مسلم کتاب الجمعہ ، حدیث: 27 ) یعنی خطبہ سننے کے حالت میں اتنا کام بھی لغو میں داخل ہے کہ کنکری پڑی ہو اسے ہٹا دے۔ (صراط الجنان، سوره جمعہ ، ص 155 )

(2)حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پانچ چیزیں جو ایک دن میں کرے گا اللہ پاک اس کو جنّتی لکھ دے گا: ( 1) جو مریض کو پوچھنے جائے ( 2) جنازہ میں حاضر ہو( 3) روزہ رکھے (4) جمعہ کو جائے( 5 ) غلام کو آزاد کرے۔  (صحیح ابن حبان، حدیث : 276)

(3)یزید بن مریم فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کو جاتا تھا مجھے عبایہ بن رافع ملے انہوں نے کہا کہ مبارک ہو تمہارے یہ قدم اللہ کی راہ میں ہے میں نے ابوعبس کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جس کے قدم اللہ کی راہ میں گرد آلود ہو وہ آگ پر حرام ہیں۔  (جامع الترمذی، حدیث: 1638 )

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے سنا جس نے اچھی طرح وضو کیا اور جماعت کو آیا اور خطبہ سنا اور چپ رہا  اس کے لیے ان گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی جو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہوئے ہیں بندے کے لیے اس سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے اب جمعہ چھوڑنے کی مذمت سنیئے اور جمعہ نہ چھوڑنے کا پختہ ارادہ کر لیجئے۔

(4)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آئیں گے یا اللہ پاک ان کے دلوں پر مہر کر دے گا پھر وہ غافلين  میں سے ہوجائیں گے۔(مسلم  حدیث 40 (

(5)حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ایک بار پڑھ کر جس نے کسی عذر کے بغیر تین جمعہ چھوڑے وہ منافقین میں لکھ دیا گیا۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے سنا کہ جو شخص جمعہ چھوڑ دیتا ہے اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور جو لگاتار تین جمعہ چھوڑ دے وہ منافقین میں لکھ دیا جاتا ہے اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو جمعہ کی نماز کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


یوں تو بندگی کے حسین اظہار کے لئے بدنی، مالی اور دیگر عبادت کا ایک خوبصورت قدرتی نظام قائم ہے جس پر عمل کرکے بندہ خدا کی قربتوں اور اسکی خاص الطاف و عنایات کا مستحق ہو جاتا ہے مگر ان تمام عبادات میں نماز اپنی خصوصیات اور اہمیت کے لحاظ سے ممتاز مقام رکھتی ہے جس کے بغیر بندگی کا کوئی رُخ مکمل نہیں ہو سکتا، بندے کی زمین پر رکھی ہوئی پیشانی جو اسے خدا کی قربتوں تک پہچانے کی ضمانت لیتی ہے ۔ اسی لیے اسلام میں جو  اہمیت اور تاکید نماز کے لیے ہے وہ دیگر عبادات کے لیے نہیں ہے اور نماز میں خاص طور سے جمعہ کی نماز کو انتہائی اہمیت حاصل ہے قراٰن و حدیث میں جس کی ادائیگی کے سلسلہ میں تاکیدات و فرمودات کا ایک جہاں آباد ہے جس کے تناظر میں نماز جمعہ کی اہمیت اور اسکی فضیلت کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

چنانچہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔(پ28،الجمعۃ:09)

مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے جمعہ کے وقت دنیاوی کام حرام قرار دیئے ہیں اور ہر وہ چیز جو جمعہ کے لیے رکاوٹ بنے ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔

جمعہ کا معنی : لفظ جمعہ جو ہفتہ کے دن کا نام ہے فصیح زبان و لغت کے اعتبار سے سے جیم اور میم دونوں کے پیش کے ساتھ ہے ، جیم کے پیش اور میم کے سکون کے ساتھ بھی مستعمل ہوا ہے اس دن کو جمعہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق جمع اور پوری کی گئی تھی، نیز اس دن لوگ جمع ہو کر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں ان وجوہ کا اعتبار کرتے ہوئے اسے جمعہ کہا جاتا ہے اسلام سے پہلے اہل عرب اسے عروبہ کہتے تھے ۔

نمازِ جمعہ کی فضیلت و اہمیت احادیث کی روشنی میں:

(1) حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس قدر ممکن ہو سکے طہارت کرے اور تیل لگائے یا خوشبو ملے جو گھر میں میسر آئے پھر مسجد کے لیے نکلے اور دو آدمیوں کے درمیان اپنے بیٹھنے یا گزرنے کے لیے شگاف نہ ڈالےپھر نماز پڑھے جو مقرر کر دی گئی ہے (یعنی جمعے کی سنت و نوافل قضا) پھر امام خطبہ پڑھے تو خاموش رہے تو اس کے وہ تمام گناہ جو ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اس نے کیے ہیں معاف کردیئے جائیں گے۔(مشکوٰۃ شریف ،حدیث : 1353)

(2) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتاہے تو مسجِد کے دروازے پر فِرشتے آ نے والے کو لکھتے ہیں ، جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں ، جلدی آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ پاک کی راہ میں ایک اُونٹ صدقہ کرتا ہے، اور اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صدقہ کرتاہے، اس کے بعد والا اس شخص کی مثل ہے جومَینڈھا صدقہ کرے، پھر اِس کی مثل ہے جو مُرغی صدقہ کرے، پھر اس کی مثل ہے جو اَنڈا صدقہ کرے اورجب امام (خطبے کے لیے) بیٹھ جاتاہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اورآکر خطبہ سنتے ہیں۔(صَحیح بُخاری ، 1/319، حدیث: 929)

(3)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا اور جمعہ کے لیے آیا اور خاموشی کے ساتھ خطبہ سنا اس کے لیے اُن گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی جو اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہوئے ہیں اور ان کے علاوہ مزید تین دن کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے کنکری چھوئی اس نے لغو کیا۔(صحیح مسلم باب من استمع اونصت فى الخطبۃ، حدیث 27، ص 857) یعنی دورانِ خطبہ اتنا کام بھی لغو میں داخل ہے کہ پڑی ہوئی کنکری کو ہٹا دے۔

((4حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : پانچ چیزیں جو ایک دن میں کرے گا اللہ اسے جنّتیوں میں شمار کر دے گا: (1) جو مریض کی عیادت کو جائے (2) جنازے میں شریک ہو (3) روزہ رکھے (4)جمعہ کو جائے (5) اور غلام آزاد کرے ۔( صراط الجنان سورہ جمعہ پ 28)

(5)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار نامدار مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :الجمعة حج المساکین یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے اور دوسری روایت میں ہے الجمعۃ حج الفقراء یعنی جمعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔

مذکورہ آیات و احادیث کو سامنے رکھ کر کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان نمازِ جمعہ کو ترک کر سکتا ہے ؟ شاید اس کا جواب نفی میں ہونا چاہیے تھا، مگر افسوس کی ایسا نہیں ہے ، جب ہم معاشرے میں نگاہ دوڑاتے ہیں تو اب ایک اچھی خاصی آبادی مسلمانوں میں ایسی نظر آتی ہے جن کے دلوں سے پانچ وقت کی نماز کے ساتھ ساتھ جمعہ کی نماز کی بھی اہمیت ناپید ہو چکی ہے اور اب دنیا کی رنگینیوں نے جمعہ کے دن کے پر کیف سجدے ان کی پیشانی سے چھین لیے ہیں ، ایسے لوگوں سے صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے ابھی وقت ہے اپنی اصلاح کرلیں اور اس جُرمِ عظیم سے توبہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن انہیں اس کا خمیازہ خوفناک جہنم اور دردناک عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑے۔ اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


محمد طاہر عطّاری (درجہ دورہ حدیث شریف جامعۃُ المدینہ فیضان اولیا احمد آباد گجرات ہند)

Wed, 17 Aug , 2022
45 days ago

پیارے اسلامی بھائیو ! اللہ پاک کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ اس نے ہم کو جمعہ  جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا جو تمام دنوں کا سردار ہے ۔ جس طرح پانچ وقت کی نماز ہم پر فرض ہے اسی طرح شرائط پائے جانے کی صورت میں جمعہ بھی فرض ہے۔ جمعہ کی فرضیت کا انکار کرنا کفر ہے۔
اسلام کا پہلا جمعہ : صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: حضوراکرم، نور مجسم شاہ بنی آدم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب ھجرت کر کے مدینۂ طیبہ تشریف لائے تو 12 ربیع الاول پیرشریف کو چاشت کے وقت مقام قباء میں اقامت فرمائی ۔ پیرشریف منگل،بدھ،جمعرات یہاں قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی ۔ روز جمعہ مدینہ طيبہ کاعزم فرمایا، بنی سالم ابن عوف کے بطن وادی میں جمعہ کا وقت آیا اس جگہ کو لوگوں نے مسجد بنایا۔ سرکار مدینہ منورہ،سردار مکہ مکرمہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہاں جمعہ ادا فرمایا اور خطبہ فرمایا۔ (خزائن العرفان ص 667، لاہور)

آئیے اب احادیث مبارکہ کی روشنی میں جمعہ کی اہمیت و فضیلت سماعت کرتے ہیں۔
(1)امام  مسلم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آئیں  گے یا اللہ پاک انکے دلوں پر مہر کر دے گا پھر غافلین میں  ہو جائیں  گے۔(صحیح مسلم  ، کتاب الجمعۃ، باب التغلیظ في ترک الجمعۃ، حدیث :   865 ،ص 430)
(2) سرکار مدینہ،قرار قلب وسینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد رحمت بنیاد ہے جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازہ پر فرشتے آنے والے کو لکھتے ہیں ، جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں، جلدی آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ پاک کی راہ میں ایک اونٹ صدقہ کرتا ہے، اور اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صدقہ کرتا ہے، اس کے بعد والا اس شخص کی مثل ہے جو مینڈھا صدقہ کرے، پھر اس کی مثل ہے جو مرغی صدقہ کرے، پھر اس کی مثل ہے جو انڈا صدقہ کرے اور جب امام (خطبہ کے لیے بیٹھ جا تا ہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اور آ کر خطبہ سنتے ہیں ۔ (صحیح بخاری، 1/127)

(3)حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار نامدار ، دو عالم کے مالک ومختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا، الجمعة حج المساكين و في رواية حج الفقراء یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے اور دوسری روایت میں ہے کہ جمعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔(کنز العمال، 7/290،حدیث: 21028،21027 ،دارالکتب العلميہ بيروت)

(4)اللہ کے پیارے رسول ، رسول مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے ہر جمعہ کے دن میں ایک حج اور ایک عمرہ موجود ہے لہذا جمعہ کی نماز کے لئے جلدی نکلنا حج ہے اور جمعہ کی نماز کے بعد عصر کی نماز کے لئے انتظار کرنا عمرہ ہے۔ (السنن الكبرى للبیہقی، 3/342،حديث: 5950)

(5)صحیح مسلم شریف میں  ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی، فرماتے ہیں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم : میں  نے قصد کیا کہ ایک شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں  اور جو لوگ جمعہ سے پیچھے رہ گئے، ان کے گھروں  کو جلا دوں ۔(صحیح مسلم  ، کتاب المساجد ۔۔۔  إلخ، باب فضل صلاۃ الجمعۃ ۔۔۔  إلخ، حدیث :652 ، ص 327)

پیارے اسلامی بھائیو ! آپ نے دیکھا کہ نماز جمعہ کے کیسے فضائل ہے اور چھوڑ نے کی کیسی وعید ہے۔ آج آپ یہ نیت کرلے کی آج سے میری کوئی نماز جمعہ اور نماز پنجگانہ بھی کبھی بھی نہیں جائےگی۔ ان شاء اللہ اور ہا ں آج تک جو جو نماز قضا ہوئی ہے اس سے ابھی اسی وقت توبہ کریں اور اس کا حساب لگا کر ادا بھی کریں۔


اے عاشقانِ نماز! ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے ہمیں اپنے پیارے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے طفیل میں جمعۃُ المبارک جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا! افسوس ہے ہم جیسے ناقدرے جو جمعہ  کو بھی غفلت میں گزارتے ہیں اور اس کی قدر بھی نہیں کرتے،ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی اہمیت و فضیلت پر غور کرتے ہوئے، جمعۃُ المبارک جیسی عظیم نعمت کو غفلت میں گزارنے کے بجائے اس کی قدر کرتے ہوئے اس نعمت کو اللہ پاک کی عبادت و تلاوت و ریاضت اور اللہ پاک کی فرمانبرداری کرتے ہوئے گزارنا چاہیے۔

جمعۃُ المبارک کے کیا کہنے جمعۃُ المبارک ہمارے لئے یوم عید ہے، جمعہ سید الایام یعنی تمام دنوں کا سردار ہے، جمعہ کے دن جہنم کی آگ نہیں سلگائی جاتی، جمعہ کے روز مرنے والا خوش نصیب مسلمان شہید کا درجہ پائے گا، جمعہ کے دن ایک نیکی کا ثواب بھی ستر(70) اور ایک گناہ کا عذاب بھی ستر گنا ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو ! جمعۃُ المبارک کی فضیلت واہمیت پر چند فرامین مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پڑھ کر جھوم جائیے۔

(1)صحابی ابنِ صحابی حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: الجمعة حج المساکین،یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے،اور دوسری روایت میں ہے کہ الجمعة حج الفقراء،یعنی جمعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔

(2) اللہ پاک کے آخری رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بلا شبہ تمہارے لئے ہر جمعہ کے دن میں ایک حج اور ایک موجود ہے ،لہذا جمعہ کی نماز کیلئے جلدی نکلنا حج ہے اور جمعہ کی نماز کے بعد عصر کی نماز کیلئے انتظار کرنا عمرہ ہے۔

(3) سرکار مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان معظم ہے: جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پاکر اس وقت اللہ پاک سے کچھ مانگے تو اللہ پاک اس کو ضرور دے گا اور وہ گھڑی مختصر ہے۔

(4) حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالی شان ہے: جمعہ کے دن جس گھڑی کی خواہش کی جاتی ہے اسے عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک تلاش کرو۔

(5) حضرت سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے سرکار دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان رحمت نشان ہے: پانچ چیزیں جو ایک دن میں کرے گا اللہ پاک اس کو جنّتی لکھ دےگا۔(1)جو مریض کی عیادت کو جائے (2) نماز جنازہ میں حاضر ہو (3) روزہ رکھے (4) نماز جمعہ کو جائے (5) غلام آزاد کرے۔

روح جب تن سے جدا ہو ماہِ رمضاں دن جمعہ ہو

دو پہر سے دن ڈھلا ہو لب پے جاری یہ صدا ہو

یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک

یا حبیب سلام علیک کا صلوات اللہ علیک

یا اللہ ہمیں رمضان المبارک کا مہینہ ہو اور جمعہ کے دن سامنے روضہ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دیدار کرتے ہوئے آقا کے قدموں میں موت دے دے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 


نماز فرض ہے نماز فرض ہے نماز فرض ہے  یہ الفاظ ہم نے اپنی زندگی میں ہزارہاں مرتبہ سُنے ہوں گے پھر بھی ہم پنج وقتہ نماز استقامت کے ساتھ ادا نہیں کر پاتے بلکہ اب تو حال یہ ہے کے مسلمان کی ایک تعداد ایسی ہےجو نمازِ جمعہ بھی ادا نہیں کرتی پیارے اسلامی بھائیو! کسی کام پر استقامت(ہمیش گی) پانے کے لیے ہمیں اس کام کے کرنے پر ملنے والے فوائد اور اس کام کے نہ کرنے پر ہونے والے نقصان پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ ہم اس کام کو استقامت کے ساتھ کرتے رہے اب ہم نمازِ جمعہ کے پڑھنے کے فوائد نہ پڑھنے کے نقصانات کو حدیث پاک کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں۔

(1)نمازِ جمعہ کے لئے مسجد میں جلد آنے کی فضیلت: اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان عالیشان ہے: جب جمعہ کا دن آتاہے تو مسجِد کے دروازے پر فِرشتے آ نے والے کو لکھتے ہیں ، جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں ، جلدی آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ پاک کی راہ میں ایک اُونٹ صدقہ کرتا ہے، اور اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صدقہ کرتاہے، اس کے بعد والا اس شخص کی مثل ہے جومَینڈھا صدقہ کرے، پھر اِس کی مثل ہے جو مُرغی صدقہ کرے، پھر اس کی مثل ہے جو اَنڈا صدقہ کرے اورجب امام (خطبے کے لیے) بیٹھ جاتاہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اورآکر خطبہ سنتے ہیں۔(صَحیح بُخاری ، 1/319،حدیث:929)

مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:بعض عُلَماء نے فرمایا کہ ملائکہ جمعہ کی طُلُوعِ فَجر سے کھڑے ہوتے ہیں ، بعض کے نزدیک آفتاب چمکنے سے، مگر حق یہ ہے کہ سُورج ڈھلنے (یعنی ابتدائے وقتِ ظہر) سے شروع ہوتے ہیں کیو نکہ اس ی وقت سے وقتِ جمعہ شُروع ہوتاہے ، معلوم ہوا کہ وہ فِرِشتے سب آنے والوں کے نام جانتے ہیں ، خیال رہے کہ اگر اوَّلاً سو آدَمی ایک ساتھ مسجِد میں آئیں تو وہ سب اوّل ہیں۔( مِراٰۃ المناجیح، 2/335)

(2/3)غریبوں کا حج : حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عبّاس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَلْجمعۃُ حَجُّ الْمَسَاکِیْن یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ اَلْجمعۃُ حَجُّ الْفُقَرَاء یعنی جمعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔ (جمع الجوامع لِلسُّیُوطی ، 4/84، حدیث:11108، 11109)

(4) جمعہ تا جمعہ گناھوں کی مُعافی:حضرتِ سیِّدُناسَلمان فارسی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، خاتمُ النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس طہارت ( یعنی پاکیزگی) کی استِطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور گھر میں جو خوشبو ہو ملے پھر نَماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جُدائی نہ کرے یعنی دو شخص بیٹھے ہوئے ہوں اُنھیں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نَماز اس کے لئے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چپ رہے اس کے لئے اُن گناہوں کی، جو اِس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں مغفِرت ہو جا ئے گی۔(صَحیح بُخاری، 1/306،حدیث:883)

(5) نمازِ جمعہ نہ پڑھنے والے کے دل پر مُہر: نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شخص تین جمعہ (کی نَماز) سُستی کے سبب چھوڑے اللہ پاک اس کے دل پر مُہر کر دے گا۔(سنن ترمذی ، 2/38،حدیث:500)

جمعہ فرضِ عَین ہے اور اس کی فرضیّت ظُہر سے زیادہ مُؤَکَّد (یعنی تاکیدی) ہے اور اس کا منکِر (یعنی انکار کرنے والا) کافِر ہے۔(دُرِّمُختار، 3/5، بہارِ شریعت، 1/762)

اللہ پاک ہمیں نمازِ جمعہ کو پابندی سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جمعہ  کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ سرکار مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : یہ تمام دنوں کا سردار ہے۔ جمعہ کے روز مرنے والے سے قبر میں سوالات نہیں کئے جاتے ہیں۔ روز جامعہ میں ایک ایسا وقت ہے جس میں دعا رد نہیں کی جاتی ہے۔ جمعہ کے دن ایک نیکی کا ثواب ستر گناہ زیادہ ملتا ہے جبکہ اور دنوں میں ایک نیکی کرنے پر صرف دس نیکیاں ملتی ہے۔ جمعہ کے دن ہر گھنٹہ میں چھ لاکھ مسلمان عذاب نار سے نجات پاتے ہیں۔ جس پر جہنم واجب ہو چکی ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن ہر کھڑی بڑی قیمتی ہے اس لئے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اسے اور دنوں کی طرح غفلت میں ہرگز نہیں گزارنی چاہئے۔ بلکہ اس دن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رحمت الٰہی سے مالامال ہوتا رہے اور دوسرے کو بھی اس بارے میں بتائیں تاکہ وہ میں جمعہ کے دن سے فیضیاب ہو سکے۔ اللہ پاک ہمیں جمعہ کے دن کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

جمعہ کے دن ناخن کاٹنے پر فرمان مصطفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : جسے بہار شریعت میں صدرُ الشَّریعہ رحمۃُ اللہِ علیہ حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں : جو جمعہ کے روز ناخن تَرَشوائے اللہ پاک اس کو دو سرے جُمعے تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جمعہ کے دن ناخن تَرَشوائے تو رَحمت آ ئے گی گناہ جائیں گے۔(بہارِ شریعت حِصَّہ16، ص226، دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار، 9/668)

لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ ہر جمعہ کو اپنے ناخن تراشنے کی عادت ڈالے اور ثواب کا حقدار بنیں۔ لیکن جن کے ناخن بڑے ہو گئے ہو اور چالیس دن ہونے والے ہو تو اسے جمعہ سے قبل ہی تراش لے۔ جمعہ آنے کا انتظار نہ کرے۔ جیسا کہ صدرُ الشَّریعہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جمعہ کے دِن ناخن تَرشوانا مُستحب ہے، ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتِظار نہ کرے کہ ناخن بڑا ہونا اچّھا نہیں کیوں کہ ناخنوں کا بڑا ہونا تنگیٔ رِزق کا سبب ہے۔ (بہارِ شریعت حِصَّہ16، ص225)

عمامہ باندھنے والے پر فرشتے درود بھیجتے ہیں: حدیث پاک میں ہے : بے شک اللہ پاک اور اس کے فرِشتے جمعہ کے دن عمامہ با ند ھنے والوں پر دُرُود بھیجتے ہیں ۔(مَجْمَعُ الزَّوائِد ،2/394،حدیث:3075)

اللہ پاک کے پیارے رسول، رسولِ مقبول، سیِّدہ آمِنہ رضی اللہُ عنہا کے گلشن کے مہکتے پھول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ تمہارے لئے ہر جمعہ کے دن میں ایک حج اور ایک عمرہ موجود ہے، لہٰذا جمعہ کی نَماز کیلئے جلدی نکلنا حج ہے اور جمعہ کی نَماز کے بعد عَصر کی نماز کے لئے انتظار کرنا عمرہ ہے۔ (السنن الكبرى للبیہقی، 3/342،حديث: 5950)

حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عبّاس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ نامدار ، باِذنِ پروردگار دو عالم کے مالِک و مختار، شَہَنشاہِ اَبرار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اَلْجمعۃُ حَجُّ الْمَسَاکِیْن یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ اَلْجمعۃُحَجُّ الْفُقَرَاء یعنی جمعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔ (جمع الجوامع لِلسُّیُوطی ، 4/84، حدیث:11108، 11109)

حجّ و عُمرہ کا ثواب: حجۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : (نَمازِ جمعہ کے بعد ) عَصرکی نَما ز پڑھنے تک مسجِد ہی میں رہے اور اگر نَمازِ مغرِب تک ٹھہرے تو افضل ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے جامِع مسجِدمیں ( جمعہ ادا کرنے کے بعد وَہیں رُک کر) نمازِ عَصرپڑھی اس کیلئے حج کا ثواب ہے اور جس نے (وَہیں رُک کر) مغرِب کی نَماز پڑھی اسکے لئے حج اور عمرے کا ثواب ہے۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ،1/249)

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان رحمت نشان ہے : جمعہ میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے پاکر اس وقت اللہ پاک سے کچھ مانگے تو اللہ پاک اسکو ضرور د ے گا اور وہ گھڑی مختصر ہے۔ (صَحیح مُسلِم، ص424،حدیث:852)

نوٹ: جمعہ کے فضائل پر مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا رسالہ "فیضان جمعہ " کا مطالعہ فرمائیں بہت مفید ثابت ہوگا ان شاءاللہ الکریم ۔


پیارے پیارے اسلا می بھائیو ! ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے و طفیل ہمیں جمعۃُ المبارک کی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔ افسوس! ہم نا قدرے جمعہ شریف کو بھی عام دنوں کی طرح غفلت میں گزار دیتے ہیں حالانکہ جمعہ یومِ عید بھی ہے، جمعہ سب دنوں کا سردار ہے، بروز جمعہ جہنَّم کی آگ نہیں سُلگائی جاتی، شب جمعہ دوزخ کے دروازے نہیں کھلتے ، جمعہ کو بروزِ قِیامت دلہن کی طرح اُٹھایا جائیگا، بروز جمعہ مرنے والا خوش نصیب مسلمان شہید کا رُتبہ پاتا اور عذاب قَبْرسے محفوظ ہو جاتا ہے۔ مُفسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ کے فرمان کے مطابق، جمعہ کو حج ہو تو اس کا ثواب ستَّر حج کے برابر ہے ، جمعہ کی ایک نیکی کا ثواب ستّرگنا ہے۔ (چونکہ جمعہ کا شرف بہت زیادہ ہے لہٰذا ) جمعہ کے روز گناہ کاعذاب بھی ستّرگناہے۔ (مُلَخَّص از مِراٰۃ ،2/ 325،323، 336)

جمعۃُ المُبارَک کے فضائل کے تو کیا کہنے !اللہ پاک نے جمعہ کے متعلق ایک پوری سورت ’’ سُوْرَۃُ الْجمعہ “ نازِل فرمائی ہے جو کہ قراٰنِ کریم کے 28ویں پارے میں جگمگا رہی ہے اور وہ یہ ہیں:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔(پ28،الجمعۃ:09)

روزِ جمعہ کے4 فضائل :کثیر اَحادیث میں جمعہ کے دن کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ،یہاں ان میں سے 4اَحادیث ملاحظہ ہوں :۔

(1) حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: بہتر دن جس پر سورج نے طلوع کیا، جمعہ کا دن ہے، اسی میں حضرت آدم علیہ السّلام پیدا کیے گئے ، اسی میں جنّت میں داخل کیے گئے اور اسی میں انہیں جنّت سے اترنے کا حکم ہوا اور قیامت جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔( مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، ص425، حدیث: 854)

(2)حضرت ابو درداء رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن مجھ پر درُود کی کثرت کرو کہ یہ دن مشہود ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مجھ پر جو درُود پڑھے گا پیش کیا جائے گا۔حضرت ابو درداء رضی اللہُ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی اور موت کے بعد؟ ارشاد فرمایا: بے شک! اللہ پاک نے زمین پر انبیاء ِکرام علیہمُ السّلام کے جسم کھانا حرام کر دیا ہے، اللہ پاک کا نبی زندہ ہے، روزی دیا جاتا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاتہ ودفنہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، 2 / 291، حدیث: 1637)

(3)حضرت ابو لبابہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللہ پاک کے نزدیک عیدالاضحی اورعید الفطر سے بڑا ہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں :(1) اللہ پاک نے اسی میں حضرت آدم علیہ السّلام کو پیدا کیا۔ (2) اسی میں انہیں زمین پر اُتارا۔ (3) اسی میں انہیں وفات دی۔ (4)اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے اللہ پاک اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے۔ (5)اور اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، کوئی مُقَرَّب فرشتہ، آسمان و زمین ،ہوا ، پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔( ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب فی فضل الجمعۃ، 2 / 8، حدیث: 1084)

(4)حضرت جابر رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا، اسے عذابِ قبر سے بچا لیا جائے گا اور قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس پر شہیدوں کی مُہر ہوگی۔( حلیۃ الاولیاء، ذکر طبقۃ من تابعی المدینۃ۔۔۔ الخ، محمد بن المنکدر، 3 / 181، حدیث: 3629)

جمعہ کے دن دعا قبول ہونے کی گھڑی:جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جس میں اللہ پاک خاص طور پر دعا قبول فرماتا ہے ،جیسا کہ اوپر حدیث نمبر3 میں بیان ہو ا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جمعہ کے دن کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اس میں ایک ساعت ہے، جو مسلمان بندہ اسے پائے اور وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھ رہا ہو، تو اللہ پاک سے جو چیز مانگے گا وہی عطا فرما دی جائے گی ،اور ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ وقت بہت تھوڑا ہے۔( بخاری، کتاب الجمعۃ، باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ، 1 / 321، حدیث: 935) یاد رہے کہ وہ کون سا وقت ہے اس بارے میں روایتیں بہت ہیں ،ان میں سے دو قوی ہیں : (1) وہ وقت امام کے خطبہ کے لیے بیٹھنے سے نماز ختم تک ہے۔(2)وہ جمعہ کی آخری ساعت ہے۔( بہار شریعت، حصہ چہارم، جمعہ کا بیان، 1 / 754، ملخصاً)

جمعہ کی نماز چھوڑنے کی وعیدیں:اَحادیث میں جہاں نمازِ جمعہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں وہیں جمعہ کی نماز چھوڑنے پر وعیدیں بھی بیان کی گئی ہیں چنانچہ یہاں اس کی دووعیدیں ملاحظہ ہوں : (1)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہُ عنہمَا سے روایت ہے، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آئیں گے یا اللہ پاک ان کے دلوں پر مہر کر دے گا، پھر وہ غافلین میں سے ہو جائیں گے۔( مسلم، کتاب الجمعۃ، باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ، ص430، حدیث:865) (2)حضرت اسامہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے ،رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جس نے کسی عذر کے بغیر تین جمعے چھوڑے وہ منافقین میں لکھ دیا گیا۔( معجم الکبیر، مسند الزبیر بن العوام، باب ما جاء فی المرأۃ السوئ۔۔۔ الخ، 1 / 170، حدیث: 422)

٭ حدیثِ پاک میں ہے: جس نے جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنَّم کی طرف پُل بنایا۔ (ترمذی ،2/48،حدیث:513) اس کے ایک معنیٰ یہ ہیں کہ اس پر چڑھ چڑھ کر لوگ جہنَّم میں داخِل ہو نگے۔ (حاشیۂ بہارِ شریعت، 1/761)

ستّر ہزار فرِشتوں کا استغفار:حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ دِلنشین ہے : جو شخص رات میں سُوْرَۃُ الدُّخَان پڑھے تو صبح ہونے تک اس کے لیے ستّر ہزار فرِشتے اِستِغفار کریں گے ۔(سنن ترمذی ،4/406،حدیث :2897)

جمعہ کو ’’یٰسٓ“پڑھنے والے کی مغفرت ہو گی: فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: جو شبِ جمعہ ( یعنی جمعرات اور جمعہ کی د ر میا نی شب) یٰسٓ پڑھے اس کی مغفرت ہوجا ئے گی۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب، 1/298،حدیث:4)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو ! اللہ پاک کا ہم پر فضل و کرم ہے کہ اس خالق کائنات نے ہمیں جمعہ جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔ دیگر عام دنوں کی طرح اس دن کو اور دیگر نمازوں کی طرح نماز جمعہ کو نہیں گزارنا چاہئے بلکہ اس دن کو نیک اعمال کرتے ہوئے گزارنا چاہئے۔ اللہ پاک ہمیں نیک اعمال بجا لانے کی توفیق عطا فرماے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جمعۃُ المبارک کو بڑی فضیلت و اہمیت حاصل ہے، اللہ پاک نے جمعہ کے نام کی ایک پوری سورت ”سورۃُ الجمعہ“ نازِل فرمائی ہے جو قراٰنِ کریم کے اٹھائیسویں پارے میں جگمگا رہی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اس دن کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ سرکارِمدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: جُمُعہ کا دن تمام دِنوں کا سردار ہے اور اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللہ پاک کے نزدیک عیدُالاضحٰی اور عیدُالفطر سےبڑا ہے، اس میں پانچ خصلتیں ہیں:(1)اللہ پاک نے اسی میں حضرت آدم علیہ السّلام کو پیدا کیا (2)اسی میں انہیں زمین پر اُتارا (3)اسی میں انہیں وفات دی (4)اور اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ بندہ اس وقت جس چیز کا سوال کرے اللہ پاک اسے دے گا، جب تک حرام کا سوال نہ کرے (5)اور اسی دن میں قیامت قائم ہوگی، کوئی مُقَرَّب فرشتہ، آسمان و زمین،ہوا، پہاڑ اور دریا ایسا نہیں کہ جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔(ابن ماجہ، 2/8، حدیث: 1084)

دن میں پانچ نمازیں فرض ہونے کی نسبت سے نمازِ جمعہ کی فضیلت پر 5 فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:

(1)حضرتِ سیِّدُنا اَنس بن مالک رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ پاک کسی مسلمان کو جمعہ کے دن بے مغفرت کئے نہ چھوڑے گا۔(معجم اوسط، 5/ 109، حدیث: 4817)

(2)سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے: جمعہ کے دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں کوئی گھنٹہ ایسا نہیں جس میں اللہ پاک جہنم سے چھ لاکھ آزاد نہ کرتا ہو، جن پر جہنم واجِب ہو گیا تھا۔ (مسند ابی یعلیٰ، 3/219،حدیث:3421)

(3)حضرت عبداللہ بن عَمْرو رضی اللہُ عنہمَا سے روایت ہے کہ حضورِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں مرے گا، اللہ پاک اسے فتنۂ قبر سے بچالے گا۔ (ترمذی، 2/ 339، حدیث: 1076)

(4)تاجدارِمدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: جو روزِ جمعہ یا شبِ جمعہ (یعنی جمعرات اور جُمُعہ کی درمیانی شب)مرے گا عذابِ قبرسے بچا لیاجائے گااور قِیامت کے دن اِس طرح آئے گا کہ اُس پر شہیدوں کی مُہر ہو گی۔(حلیۃ الاولیاء، 3 / 181، حدیث: 3629)

(5)اللہ پاک کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ فرحت نشان ہے: سوائے روزِ جمعہ کے جہنم(ہر روز)بھڑکایا جاتا ہے۔(ابو داؤد،1/403،حدیث:1083)

اے عاشقان رسول! ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہمیں جُمُعۃ المبارَک کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ افسوس! ہم ناقدرے اس مبارک دن کو بھی عام دِنوں کی طرح غفلت میں گزار دیتے ہیں حالانکہ جمعہ عید کا دن ہے۔ جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: اللہ پاک نے اِسے (یعنی جمعہ کو) مسلمانوں کے لئے عید کا دن بنایا ہے تو جو شخص جمعہ میں آئے وہ غسل کرے اور جس کے پاس خوشبو ہو وہ خوشبو لگائے اور مسواک کرے۔(ابنِ ماجہ، 2/16،حدیث:1098)

اللہ پاک ہمیں اس مبارک دن کی برکتوں سے مالا مال فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


دین ِ اسلام کی خوبصورتیوں میں ایک اس کا نظام  اخوت اور بھائی چارہ اور مساوات بھی ہے۔ یہ اخوت و بھائی چارہ اسی صورت ممکن ہے جب لوگ آپس میں ملیں، گفتگو کریں، حال اور احوال کا تبادلہ کریں۔ آج کے اس جدید سائنسی دور نے اس چیز کو بہت کم کر دیا ہے لیکن اسلام کی خوبصورتی تو دیکھیے کہ اس نے ہمیں اتنے جدید دور میں بھی باہمی تعلقات قائم رکھنے اور ملاقات کے کثیر مواقع فراہم کئے ہیں۔ جیسے باجماعت نماز، حج کہ جس میں دنیا بھر کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ انہی میں ایک ہفتہ وار اجتماع بھی ہے، جس کو ہم نمازِ جمعہ کہتے ہیں۔ قراٰن و حدیث میں اس کی بہت اہمیت و فضیلت بیان ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ جمعہ کے ساتھ بیع (خرید و فروخت) کو ترک کرنے کا حکم فرما دیا گیا۔ آیئے اب ہم اس سلسلے میں پانچ فرامینِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اپنے دل اور روح کو جلا بخشتے ہیں۔

(1)حضرت سَلمان فارسی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، خاتمُ النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس طہارت ( یعنی پاکیزگی) کی استِطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور گھر میں جو خوشبو ہو ملے پھر نَماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جُدائی نہ کرے یعنی دو شخص بیٹھے ہوئے ہوں اُنھیں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نَماز اس کے لئے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چپ رہے اس کے لئے اُن گناہوں کی، جو اِس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں مغفِرت ہو جا ئے گی۔(صَحیح بُخاری، 1/306،حدیث:883)

(2)حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :بہتر دن جس پر سورج نے طلوع کیا، جمعہ کا دن ہے، اسی میں حضرت آدم علیہ السّلام پیدا کیے گئے ، اسی میں جنّت میں داخل کیے گئے اور اسی میں انہیں جنّت سے اترنے کا حکم ہوا اور قیامت جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی۔( مسلم، کتاب الجمعۃ، باب فضل یوم الجمعۃ، ص425، حدیث: 854)

(3) حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن آتاہے تو مسجِد کے دروازے پر فِرشتے آ نے والے کو لکھتے ہیں ، جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں ، جلدی آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ پاک کی راہ میں ایک اُونٹ صدقہ کرتا ہے، اور اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صدقہ کرتاہے، اس کے بعد والا اس شخص کی مثل ہے جومَینڈھا صدقہ کرے، پھر اِس کی مثل ہے جو مُرغی صدقہ کرے، پھر اس کی مثل ہے جو اَنڈا صدقہ کرے اورجب امام (خطبے کے لیے) بیٹھ جاتاہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اورآکر خطبہ سنتے ہیں۔(صَحیح بُخاری ، 1/319،حدیث:929)

(4) حضرت ابو درداء رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن مجھ پر درُود کی کثرت کرو کہ یہ دن مشہود ہے، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مجھ پر جو درُود پڑھے گا پیش کیا جائے گا۔

(5) حضرت ابو لبابہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑا ہے اور وہ اللہ پاک کے نزدیک عیدالاضحی اورعید الفطر سے بڑا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب فی فضل الجمعۃ، 2 / 8، حدیث: 1084)

ان فضائل کو سن کر ہمیں چاہیئے کہ اس مبارک گھڑی کی قدر کریں۔ اس میں جو اعمال و افعال بیان کئے، عمل کریں اور سعادت دارین پائیں۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک کا ہم پر کتنا کرم ہے کہ اس نے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہمیں پانچ وقت کی نمازیں اور نمازِ جمعہ  کی عظیم دولت سے سرفراز فرمایا۔ افسوس ہم نا قدرے اس کو غفلت میں قضا کر دیتے ہیں حالانکہ نمازِ جمعہ کو ادا کرنے والا جنّتی لکھ دیا جاتا ہے۔ نمازِ جمعہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اللہ کریم قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔(پ28،الجمعۃ:09)

تفسیر صراط الجنان میں ہے اس آیت سے نمازِ جمعہ کی فرضیت خرید و فروخت وغیرہ دُنیوی مشاغل کی حرمت اور سعی یعنی نماز کے اہتمام کا وجوب ثابت ہو اور خطبہ بھی ثابت ہوا۔(خزائن العرفان) احادیثِ کریمہ میں بھی نمازِ جمعہ کا ذکر آیا ہے، چنانچہ نمازِ جمعہ کی فضیلت و اہمیت پر پانچ احادیث ملاحظہ ہو۔

(1) جنّت واجِب ہو گئی: حضرتِ سیِّدُناابواُمامہ رضی اللہُ عنہ سے مَروی ہے کہ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فر مایا: جس نے جمعہ کی نَماز پڑھی ،اس دن کا روزہ رکھا ، کسی مریض کی عیادت کی ،کسی جنازہ میں حاضِر ہوا اور کسی نِکاح میں شرکت کی توجنت اس کے لیے واجِب ہوگئی۔(المعجمُ الکبیر ،8/97،حدیث:7484)

(2) مغفرت کی بشارت: حضرتِ سیِّدُنا سَلمان فارسی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، خاتمُ النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس طہارت ( یعنی پاکیزگی) کی استِطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور گھر میں جو خوشبو ہو ملے پھر نَماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جُدائی نہ کرے یعنی دو شخص بیٹھے ہوئے ہوں اُنھیں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نَماز اس کے لئے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چپ رہے اس کے لئے اُن گناہوں کی، جو اِس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں مغفِرت ہو جا ئے گی۔(صَحیح بُخاری، 1/306،حدیث:883)

(3) 200 سال کی عبادت کا ثواب: حضرتِ سیّدنا صدیق اکبر و عمران بن حصین رضی اللہُ عنہما روایت کرتے ہیں کہ تاجدار مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جو جمعہ کے دن نہائے اس کے گناہ اور خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور جب چلنا شروع کیا تو ہر قدم پر بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔ (المعجمُ الکبیر ، 18/139،حدیث: 292) اور دوسری روایت میں ہے : ہر قدم پر بیس سال کا عمل لکھا جاتا ہے اور جب نَماز سے فارغ ہو تو اس ے دو سو برس کے عمل کا اجر ملتا ہے۔(المعجمُ الْاَ وْسَط ،2/314 ،حدیث: 3397)

(4) گناہوں کا کفارہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :پانچ نمازیں، ایک نمازِ جمعہ دوسرے نمازِ جمعہ تک ، ایک رمضان دوسرے رمضان تک کفارہ ہےجو ان کے درمیان گناہ ہوئے جبکہ کبائر (کبیرہ گناہوں) سے اجتناب کیا۔(مسلم،2/186)

(5) دل پر مہر : نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شخص تین جمعہ (کی نَماز) سُستی کے سبب چھوڑے اللہ پاک اس کے دل پر مُہر کر دے گا۔(سنن ترمذی ، 2/38،حدیث:500)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت اور نمازِ جمعہ پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جمعہ  تمام دنوں کا سردار ہے۔ جمعہ پڑھنا فرض ہے مقیم پر۔ جمعہ کے دن اچھے طریقے سے نہا دھوکر، غسل کرکے جانا چاہیے۔ جمعہ کی نماز ایسی عبادت ہے کہ لوگ اس میں ذوق و شوق سے حاضر ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی اس میں لے آتے ہیں۔ آیئے ہم جمعہ کے بارے میں کچھ احادیثِ پاک سنتے ہیں۔

(1) حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جس نے جمعہ کے دن غسل کیا پھر نماز(جمعہ ) کے لئے پہلی گھڑی گیا گویا اس نے اونٹ کی قربانی کی، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے گائے کی قربانی دی، جوتیسری ساعت میں گیا گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا قربان کیا جو چوتھی ساعت میں گیا گویا اس نے مرغی صدقہ کی جو پانچویں ساعت میں گیا گویا اس نے انڈا صدقہ کیا اور جب امام (منبرکی طرف) نکلتا ہے تو اعمال نامے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور قلم روک دئیے جاتے ہیں اور فرشتے منبر کے پاس جمع ہو کر خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔

تشریح: اس حدیث میں جو بیان ہوا وہ ترتیب سے آنے والوں کے لئے فضیلتیں ہیں کہ جو پہلے آیا اس کو اونٹ صدقہ کرنے کا اور جو اس کے بعد آیا گائے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔اور جو اس کے بعد آیا سینگوں والا مینڈھا صدقہ کیا۔تو اس طرح ثوابات مختلف ہیں۔ اللہ ہمیں جلدی جمعہ کے لئے جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین

(2) حضرتِ سیِّدُناسَلمان فارسی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس طہارت ( یعنی پاکیزگی) کی استِطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور گھر میں جو خوشبو ہو ملے پھر نَماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جُدائی نہ کرے یعنی دو شخص بیٹھے ہوئے ہوں اُنھیں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نَماز اس کے لئے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چپ رہے اس کے لئے اُن گناہوں کی، جو اِس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں مغفِرت ہو جا ئے گی۔(صَحیح بُخاری، 1/306،حدیث:883)

ہفتہ بھر گناہوں کی بخشش کی سات صورتیں:(1) غسل (2) مکمل طہارت (3) سر اور داڑھی میں تیل لگاکر گندگی کو دور کرنا۔ (4) خوشبو ہو تو لگائے (5)مسجد میں جائے جہاں جگہ ملے وہی بیٹھ جائے۔ (6)جتنی چاہے نماز پڑھے۔ (7)خطبہ کے وقت خاموش رہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہُ عنہ خطبہ دے رہے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہُ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو آپ نے ان سے فرمایا: کیا یہ آنے کا وقت ہے؟ تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رضی اللہُ عنہ نے عرض کی: اذان سننے کے بعد میں نے صرف وضو کیا اور چلا آیا۔ ‘‘ تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رضی اللہُ عنہ نے فرمایا: کیا صرف وضو؟ حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ پاک کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیں غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔

تشریح: جمعہ کے دن گسل کرنا سنّت ہے، تو اس سنّت پر عمل کرتے ہوئے ہم بھی غسل کرکے مسجد میں جائیں۔

(4) حضرت سَلمان فارسی رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ پھر دوسری بار آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ جمعہ کا دن کیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر آپ نے تیسری یا چوتھی بار ارشاد فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں تمہارے باپ آدم علیہ السّلام کو جمع کیا گیا۔ اس دن جو مسلمان بھی وضو کر کے مسجد میں جائے گا، پھر اس وقت تک خاموش بیٹھا رہے حتّی کہ امام اپنی نماز پڑھ لے، تو یہ عمل اس جمعہ اور اس کے بعد جمعہ کے گناہوں کا کفّارہ ہو جائے گا، بشرطیکہ اس نے خون ریزی سے اجتناب کیا ہو۔(نعمۃ الودود فی شرح ابی داؤد،3/797)

(5)حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن اور رات میں چوبیس گھنٹے ہیں، کوئی گھنٹا ایسا نہیں جس میں اللہ پاک جہنم سے چھ لاکھ آزاد نہ کرتا ہو جن پر جہنم واجب ہو گیا تھا۔

اللہ کریم ہمیں پاک و صاف ہوکر مسجد میں جاکر جمعہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


جمعہ  کا حکم: جمعہ فرضِ عَین ہے اور اس کی فرضیّت ظُہر سے زیادہ مُؤَکَّد (یعنی تاکیدی) ہے اور اس کا منکِر (یعنی انکار کرنے والا) کافِر ہے۔( بہارِ شریعت، 1/762)

جمعۃُ المُبارَک کے فضائل کے تو کیا کہنے !اللہ کریم نے جمعہ کے متعلق ایک پوری سورت ’’ سُوْرَۃُ الْجمعہ “ نازِل فرمائی ہے جو کہ قراٰنِ کریم کے 28ویں پارے میں جگمگا رہی ہے۔ اللہ پاک سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر 9 میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹)ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔(پ28،الجمعۃ:09)

سب سے پہلا جمعہ : حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب ھجرت کر کے مدینۂ طیبہ تشریف لائے تو 12 ربیع الاول پیرشریف کو چاشت کے وقت مقام قباء میں اقامت فرمائی ۔ پیرشریف منگل،بدھ،جمعرات یہاں قیام فرمایا اور مسجد کی بنیاد رکھی ۔ روز جمعہ مدینہ طيبہ کا عزم فرمایا، بنی سالم ابن عوف کے بطن وادی میں جمعہ کا وقت آیا اس جگہ کو لوگوں نے مسجد بنایا۔ سرکار مدینہ منورہ،سردار مکہ مکرمہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہاں جمعہ ادا فرمایا اور خطبہ فرمایا۔ (خزائن العرفان ص 884)

آپ نے مکمل کتنے جمعے ادا فرمائے: حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تقریباً 500 جمعے ادا فرمائے ہیں اس لئے کہ جمعہ بعدِ ھجرت شروع ہوا، جس کے بعد دس سال آپ کی ظاہری زندگی شریف رہی۔ اس عرصے میں جمعے اتنے ہی ہوتے ہیں۔ (مراٰۃ لامناجیح،2/346،تحت الحدیث:1415)

(1)نمازِ جمع کی فضیلت: صحابی ابن صحابی حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عبّاس رضی اللہُ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَلْجمعۃُ حَجُّ الْمَسَاکِیْن یعنی جمعہ کی نماز مساکین کا حج ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ اَلْجمعۃُ حَجُّ الْفُقَرَاء یعنی جمعہ کی نماز غریبوں کا حج ہے۔ (جمع الجوامع لِلسُّیُوطی ، 4/84، حدیث:11108، 11109)

(2)جمعہ کے لئے جلدی نکلنا حج ہے: اللہ پاک کے آخری رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فر مایا :بلا شبہ تمہارے لئے ہر جمعہ کے دن میں ایک حج اور ایک عمرہ موجود ہے، لہٰذا جمعہ کی نماز کے لئے جلدی نکلنا حج ہے اور جمعہ کی نماز کے بعد عصر کی نماز کے لئے انتظار کرنا عمرہ ہے۔ (السنن الكبرى للبیہقی، 3/342،حديث: 5950)

(3) فرشتے خوش نصیبوں کے نام لکھتے ہیں: نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ گرامی ہے: جب جمعہ کا دن آتاہے تو مسجِد کے دروازے پر فِرشتے آ نے والے کو لکھتے ہیں ، جو پہلے آئے اس کو پہلے لکھتے ہیں ، جلدی آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اللہ پاک کی راہ میں ایک اُونٹ صدقہ کرتا ہے، اور اس کے بعد آنے والا اس شخص کی طرح ہے جو ایک گائے صدقہ کرتاہے، اس کے بعد والا اس شخص کی مثل ہے جومَینڈھا صدقہ کرے، پھر اِس کی مثل ہے جو مُرغی صدقہ کرے، پھر اس کی مثل ہے جو اَنڈا صدقہ کرے اورجب امام (خطبے کے لیے) بیٹھ جاتاہے تو وہ اعمال ناموں کو لپیٹ لیتے ہیں اورآکر خطبہ سنتے ہیں۔(صَحیح بُخاری ، 1/319،حدیث:929)

(4) جمعہ تا جمعہ گناھوں سے مُعافی:حضرتِ سیِّدُناسَلمان فارسی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے کہ سلطانِ دو جہاں صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو شخص جمعہ کے دن نہائے اور جس طہارت ( یعنی پاکیزگی) کی استِطاعت ہو کرے اور تیل لگائے اور گھر میں جو خوشبو ہو ملے پھر نَماز کو نکلے اور دو شخصوں میں جُدائی نہ کرے یعنی دو شخص بیٹھے ہوئے ہوں اُنھیں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے اور جو نَماز اس کے لئے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چپ رہے اس کے لئے اُن گناہوں کی، جو اِس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیان ہیں مغفِرت ہو جا ئے گی۔(صَحیح بُخاری، 1/306،حدیث:883)

(5) 3 جمعے سستی سے چھوڑنے سے دل پر مہر: حضور نبیِ رحمت شفیع امت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جو شخص تین جمعہ (کی نَماز) سُستی کے سبب چھوڑے اللہ پاک اس کے دل پر مُہر کر دے گا۔(سنن ترمذی ، 2/38،حدیث:500)

لہٰذا ہمیں نمازِ جمعہ پابندی سے پڑھنا چاہیے، سستی نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ پاک نیک اعمال میں استقامت نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم