اس تیز رفتار دور میں ہر شخص ایک ہی چیز پانے کے لئے  صبح و شام نجانے کتنی جدوجہد،کتنی دوڑ بھاگ کر رہا ہے۔ ہر ایک کے لئے اس کا معنی الگ ہو سکتا ہے لیکن چاہیے یہ سبھی کو ہے اور وہ بیش قیمتی شے کامیابی کسی کے لئے کسی منصب کو پانے کا نام ہے۔ کسی غریب کے لئے خود کا گھر بنانا تو کسی کے لئے ترقیوں کی منازل طے کرنا ہے مگر ہم سب کا رب کریم ہمیں اصل کامیابی کی کنجی بار بار دے رہا ہے اپنے کلام قرآنِ مجید میں۔اے کاش!اس کنجی کا استعمال کر کے ہم اپنے لئے فلاح کے دروازے کھول پائیں چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے:فلاح پانے کے لئے ایمان شرط ہے۔ سورۂ مومنون کی پہلی آیت ہی وہ یہ واضح کر دیتی ہے کہ ایمان والے ہی فلاح کو پہنچے۔جب ایمان نے فلاح کے دروازے کھول دیے تو اب کون سے اعمال مومن کو فلاں کی بلندیوں پر پہنچائیں؟فہرست لمبی ہے لیکن یہاں دس ایسے فلاح پانے والے اعمال کو مختصرا قرآنِ پاک کی روشنی میں بیان کرنے کی ناقص کوشش ہے۔سورۃ المومنون کی ابتدائی آیتیں ہماری رہبری کرتی ہیں اور ہمیں بتا رہی ہیں کہ کون جنت الفردوس کے وارث اور حقیقی طور پر کامیاب ہے چنانچہ پہلا عمل خشوع کے ساتھ نماز پڑھنا چنانچہ سورۃ المومنون کی دوسری آیت کا ترجمہ ہے:جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔(پ18،المومنون: 2) مشہور مفسر، حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:اس طرح کہ نماز کی حالت میں ان کے دلوں میں رب کریم کا خوف اعضاء میں سکون ہوتا ہے۔نظر اپنے مقام پر قائم ہوتی ہے۔نماز میں کوئی عبث کام نہیں کرتے ۔دھیان نماز میں رہتا ہے۔نماز قائم کرنے کے یہی معنی ہے۔اللہ پاک نصیب کرے۔ آمین۔دوسرا عمل بیہودہ بات سے بچنا:اس آیت کی تفسیر میں مفتی صاحب رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:یعنی ایسا کام نہیں کرتے جس میں دینی یا دنیاوی نفع نہ ہو۔تیسرا عمل:زکوٰۃ دینا۔ (پ18،المومنون:4)اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ زکوٰۃ دیا کرتے ہیں۔(تفسیر نور العرفان) چوتھا عمل:اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنا۔(پ18،المومنون:5)جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اس طرح کہ زنا اور لوازمِ زنا سے بچتے ہیں حتی کہ غیر کا ستربھی نہیں دیکھتے۔پانچواں عمل:امانت میں خیانت نہیں کرتے اور اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں۔سورۃ المومنون کی آٹھویں آیت کا ترجمۂ کنزالایمان ہے:اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔مفتی صاحب رحمۃُ اللہِ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: وہ اس طرح اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں کہ مخلوق کی اور خالق کی امانت میں خیانت نہیں کرتے۔خیال رہے!ہمارے اعضاء رب کی امانتیں ہیں۔ ان سے گناہ کرنا امانت میں خیانت ہے۔ ایسے ہی اللہ پاک سے،اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے اور دیگر مخلوق سے جو وعدے کیے سب پورے کرے۔چھٹا عمل:اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں۔(پ18،المومنون:9)نماز کی حفاظت کی تین صورتیں ہیں:(1) ہمیشہ پڑھنا(2)صحیح وقت پر پڑھنا(3)صحیح طریقے سے واجبات،سنن،مستحبات سے پڑھنا۔صوفیائے کرام کے نزدیک نماز کی حفاظت یہ ہے کہ ایسے گناہوں سے بچے جن سے نیکی برباد ہو جاتی ہے۔اللہ پاک توفیق دے کہ مرتے وقت تک نماز،روزہ، حج وغیرہ کو سنبھالیں۔آمین۔خیریت سے یہ متاعِ منزل مقصود پر پہنچے۔(تفسیر نورالعرفان)ساتواں عمل:اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حکم ماننا:مزید سورۃ النور کی آیت نمبر 51 اور 52ہمیں ہدایت دیتی ہے کہ کامیاب وہ ہیں جو اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کریں اور ان کے حکم کو مانیں۔ان آیات کے تحت مفتی احمدیار خان رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:اس سے معلوم ہوا! حکمِ پیغمبر میں عقل کو دخل نہ دو کہ اگر عقل نہ مانے تو قبول نہ کرو بلکہ جیسے بیمار اپنے کو حکیم کے سپرد کر دیتا ہے ایسے ہی تم اپنے کو ان صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سپرد کر دو پھر دین و دنیا میں کامیاب ہو کیونکہ ہماری آنکھیں،عقل جھوٹے ہو سکتے ہیں مگر وہ سچوں کا بادشاہ یقیناً سچا ہے۔آٹھواں عمل:تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرنا:سورۃ النورکی آیت نمبر52 میں ہے:جو اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔(ترجمۂ کنزالایمان،پ18،النور:52) نواں عمل:ذکرُ اللہ میں مشغول ہونا:پارہ 28 کی سورۃ الجمعہ کی دسویں آیت ہمیں سکھاتی ہے:اللہ کوبہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔(ترجمۂ کنزالایمان،پ28،الجمعۃ:10) یعنی نماز کے علاوہ بھی ہرحال میں رب کو یاد کیا کرو۔ ذکر اللہ تمہارا مشغلہ ہونا چاہیے۔(تفسیر نور العرفان)دسواں عمل:اللہ پاک کی نعمتوں کو یاد کرنا: پارہ8کی سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 69 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو کہ تمہیں تمہارا بھلا ہو۔مفتی صاحب رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:معلوم ہوا! خدا کی نعمتوں کو یاد کرنا اور یاد رکھنا عبادت ہے۔اس میں محفلِ میلاد شریف بھی داخل ہے کہ اس میں حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت کا چرچا ہے اور ولادتِ حضور اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔(تفسیر نورالعرفان) قرآن کا نظریہ فلاں کے بارے میں جاننے کے بعد اگر غور کریں تو کتنے آسان کتنے سہل اعمال میں ہی جنت کی بشارت دے دی اس پاک پروردگار نے۔ کتنا رحمن ہے ہمارا رب سبحان اللہ!نہ صرف بڑی آسانی سے جنت کی ضمانت دے دی بلکہ پرسکون زندگی گزارنے کا بھی بہترین نسخہ بتا دیا۔ اگر عام مومن ان اعمال کو اپنا معمول بنا لے تو اس کا نظریہ بھی بہت جلد بدل جائے گا ان شاءاللہ۔ہر حال میں شکر کرنا اور خوش رہنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ دنیاوی معاملے نپٹ جائیں گے۔ دل جنت کی جستجو میں لگ جائے گا اور ہر آن جنت کی تمنا اور جنت پانے والے کام کو تلاشے گا۔بندہ جو بھی عمل کرے گا اس فکر میں کرے گا کہ میرا رب اس عمل سے راضی ہے خواہ وہ عمل دینی ہو یا دنیاوی اور جب بندہ ایمان کی اس حسین منزل کو پہنچتا ہے تو صحیح معنی میں فلاں کو پہنچتا ہے۔ اللہ کریم ہمیں بھی ان خوش نصیب بندوں میں شامل کر دے جو فلاں کو پہنچے۔ آمین۔ آخر میں مضمون کو اس دعا پر مکمل کرتی ہوں کہ اللھم اجعلنا مفلحین۔

صلوا علی الحبیب! صلی اللہ علی محمد صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


تقویٰ تمام کامیابی کی اصل ہے۔تقویٰ ہی سے ہم دین و دنیا کی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔تقویٰ ہی سے ہمیں رب کی رضا اور حضور اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رضا حاصل ہوتی ہے۔ ربِّ کریم نے قرآنِ مجید میں جگہ جگہ متقین کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ سب سے پہلی آیت1:ترجمہ:یعنی وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچے۔تفسیر:یاد رہے!اس آیت میں فلاں سے مراد مکمل کامیابی مراد ہےاور مکمل کامیابی متقیوں کو حاصل ہے۔تمہید:بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے تو ایسے لوگ کامیاب ہیں۔ہر مسلمان کامیاب کیوں ہے؟ قدرت ہونے کے باوجود شوہر اپنی بیوی کو گناہ سے نہیں روکتا، والدین اپنی اولاد کو گناہ سے نہیں روکتے،استاد اپنے شاگرد کو گناہوں سے نہیں روکتا،امر بالمعروف ونہی عن المنکر یہ دنیا کے ہر ہر انسان کو دیا گیا ہے۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہو بھلائی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔آیت نمبر 2:ترجمہ:اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔تفسیر:امر بالمعروف ونہی عن المنکر یہ تبلیغ کی دو بنیادی چیزیں ہیں اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا!مسلمانوں کو آپس میں مل کررہنے کا حکم دیا گیا ہے۔تمہید:قیامت کے دن ہمارے اعمال کی کیفیت کیا ہوگی؟جس کی نیکی زیادہ ہوگی اس کا وزن زیادہ ہوگا جس کی نیکی کم ہو اس کا وزن بھی کم ہوگا۔ آیت نمبر3:ترجمہ:اور اس دن تول ضرور ہونی ہے تو جن کے پلے بھاری ہوئے وہی مراد کو پہنچے۔تفسیر :اور تیسری چیز یہ کہ اعمال وزن کر کے ان کے رجسٹروں میں نیکیاں زیادہ ہوں گی کیونکہ دنیا ایک سفر ہے تو انسان کو چاہیے آخرت کی تیاری زیادہ کرے، منزل پر پہنچنے کے لئے انسان تیاری کرتا ہے۔تمہید:اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنا:وہی لوگ کامیاب ہیں جو اپنے جان اور مال اللہ کے لئے خرچ کریں تو اللہ ان کو اور دے گا تو اللہ اور رسول ان کو اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔ آیت4:ترجمہ: لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا اور انہی کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد کو پہنچے۔ تفسیر:اور اللہ رسول جو فرمائے اس بات کو مان لے اور اپنی عقل کے گھوڑے نہ دوڑائے۔آیت نمبر 5:ترجمہ:تو جن کی تولیں بھاری ہوئیں وہی مراد کو پہنچے۔ نمبر 6:ترجمہ:مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو عرض کریں کہ ہم نے سنا اور حکم مانا اور وہی لوگ مراد کو پہنچے۔آیت نمبر7:ترجمہ:تو رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو یہ بہتر ہے ان کے لئے جو اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور انہی کا کام بنا۔آیت نمبر8:ترجمہ: تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہو سکے اور فرمان سنو اور حکم مانو اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اپنے بھلے کو اور جو اپنی جان کی لالچ سے بچایا گیا یا تو وہی فلاح پانے والے ہیں۔آیت نمبر9:ترجمہ: اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنایا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کر گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو جا اور جو اپنے نفس کی لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہے۔آیت نمبر10:ترجمہ:تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پہلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جس کے نیچے نہریں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے تمام مسلمانوں کو فلاح اور کامیابی والی زندگی عطا فرمائے ۔آمین


اسلام کی رو سے انسانی فلاح اور کامیابی تو اللہ پاک کی اطاعت اور اس کے پیغمبر نبی ِکریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر مبنی ہے۔علمائے اسلام نے نیک اعمال کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔پہلا حقوق اللہ کہلاتا ہےجس کا تعلق خاص اللہ پاک کی عبادت سے ہے۔دوسرا وہ ہے جس کا تعلق انسانوں کے حقوق سے ہے جن میں بندوں کے حقوق کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جسے حقوق العباد کہا جاتا ہے۔قرآنِ کریم نے ان تمام نیک اعمال کو عملِ صالح یا عملوا الصلحت سے تعبیر کیا ہے۔ اور یقینا نیک عمل کے ذریعے ہی ہم کامیابی کے راستے تک پہنچ سکتی ہیں۔یہاں فلاح و کامیابی پر مرتب دس اعمال کا قرآنی ثبوت کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے:1۔ اے ایمان والو! حقیقت یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کےتیرگندے شیطانی کام ہیں پس ان سے بچو تاکہ تم کامیابی حاصل کرو ۔(المائدۃ:90) اس آیت میں ہمیں مختلف گناہوں سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اگر ہم ان مندرجہ بالا کاموں سے باز رہیں تو یقیناً ہم کامیابی حاصل کر لیں۔2۔ مسلمانو! اللہ پاک سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب تلاش کرو اس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔(المائدۃ:35)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی،حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:اللہ پاک نے فرمایا: میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قرب چاہتا ہے ان میں مجھے سب سے زیادہ فرائض محبوب ہیں اور نوافل کے ذریعے قرب حاصل کرتا رہتا ہے۔(بخاری،4/248،حدیث:6502)3۔یقیناً ایمان والوں نے فلاح حاصل کر لی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں،جو لغویات سے منہ موڑ لیتے ہیں،جو زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں، جو شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔(المومنون:1تا5) مندرجہ بالا آیات میں جو نیک اعمال کا ذکر کیا گیا ہے یقیناً ان میں عمل کیا جائے تو کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔4۔اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(اعراف:69)5۔اے ایمان والو!بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں کامیابی ملے۔6۔اے مسلمانو!تم سب کے سب اللہ کی جناب میں توبہ کرو کہ تم سب کامیابی پاؤ۔(النور:31)مندرجہ بالا آیت میں توبہ کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ یہ کیونکہ توبہ کرنے والا شخص ایسا ہے جیسا اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہ ہو۔سبحان اللہ!ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پاک سے توبہ کریں اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتی رہیں۔7۔دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔(الحشر:20) 8۔اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں ۔(التوبۃ:20) 9۔جو لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیے ہوئے مال میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح و نجات پانے والے ہیں ۔(البقرۃ:2تا5)یقیناً جو لوگ نماز پابندی سے ادا کرتے ہیں اور اللہ پاک کے دیے ہوئے مال میں سے کچھ اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔فلاح اور نجات اور کامیابی حاصل کرنے کے لئے مندرجہ بالا کاموں کو کرنا ضروری ہے ۔ کوئی شخص ایمان لائے بغیر اور آخرت پر پختہ یقین کیے بغیر ہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا۔اللہ پاک ہمیں مندرجہ بالا نیک اعمال کثرت سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


تمہید !تھوڑی سی عقل رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ جو چیز جس کام کے لئے بنائی جائے اگر اُس کام میں نہ آئے تو بے کار ہے، لِہٰذا جو بندہ اپنے خالِق و مالِک کو نہ پہچانے، اُس کی بَنْدَگی و عِبَادَت نہ کرے وہ نام کا انسان تو ہے مگر  حقیقت میں نہیں بلکہ ایک بے کار چیز ہے۔ اس لئے ہم کہہ سکتی ہیں کہ عِبَادَت و بَنْدَگی ہی سے انسان انسان ہے اور اسی سے اس کی فلاحِ دُنْیَوی و نَجاتِ اُخْرَوِی ہے۔یادرکھئے! ایمان لانے کے بعد اَوامرونَواہی( یعنی فرض وواجب اورحرام ومکروہ )میں اللہ پاک کے محبوب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اِتباع کا نام اِطاعت و عبادت ہے خواہ ان کا تعلق گفتار سے ہو یا کردار سےیعنی تمہارا کچھ بولنا یا نہ بولنا اور کچھ کرنا یا نہ کرنا الغرض سب کچھ تمہارے قول و فعل کو شریعت کے مطابق ہونا چاہئے یہی تمہاری کامیابی و فلاح ہے۔قرآنِ کریم،فرقانِ حمید کی روشنی میں فلاح:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:قَدْ اَفْلَحَ الْمؤمنوْنَ0(پ المؤمنون 18)ترجمۂ کنز الایمان بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے۔اس آیت میں ایمان والوں کو بشارت دی گئی ہے کہ بے شک وہ اللہ پاک کے فضل سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہو کر ہر ناپسندیدہ چیز سے نجات پاجائیں گے۔(تفسیرکبیر، المؤمنون،تحت الآیۃ: 1، 8 / 258- روح البیان، المؤمنون، تحت الآیۃ: 1، 6 / 66، ملتقطاً)سورۂ مومنون کی ابتدائی دس آیات کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جب نبی ِاکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ کے چہرۂ اقدس کے پاس مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آواز سنائی دیتی۔ایک دن وحی نازل ہوئی تو ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا مانگی:’’اے اللہ پاک! ہمیں زیادہ عطا کرنا اور کمی نہ فرمانا، ہمیں عزت دینا اور ذلیل نہ کرنا،ہمیں عطا فرما نااور محروم نہ رکھنا،ہمیں چن لے اور ہم پر کسی دوسرے کو نہ چن۔اے اللہ پاک! ہمیں راضی فرما اور ہم سے راضی ہو جا۔اس کے بعد ارشاد فرمایا:’’مجھ پر دس آیات نازل ہوئی ہیں جس نے ان میں مذکور باتوں کو اپنایا وہ جنت میں داخل ہو گا،پھر آپ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے’’قَدْ اَفْلَحَ الْمؤمِنوْنَ‘‘سے لے کر دسویں آیت کے آخر تک پڑھا۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ المؤمنین، 5 / 117، حدیث: 3184)ایمان والوں کے اوصاف:اللہ پاک نے سورۃ المؤمنون کی آیت 2 تا 9 میں ایمان والوں اوصاف بیان کیے ہیں: الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ0جو اپنی نماز میں خشوع و خضوع کرنے والے ہیںوَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ0اور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَ0اور وہ جو زکوٰۃ دینے کا کام کرنے والے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ0اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْمَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ0اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں مگر اپنی بیویوں یا شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی مِلک ہیں پس بیشک ان پر کوئی ملامت نہیں۔فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ0تو جو اِن کے سوا کچھ اور چاہے تووہی حد سے بڑھنے والے ہیں وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ0اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں وَالَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ0 اور وہ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ایمان والوں کی فلاح و کامیابی:سورۃ المؤمنون میں ایمان والوں کے اوصاف بیان کرنے کے بعد آیت نمبر 10 اور 11 میں ارشاد فرمایا:اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَ0الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ ؕهُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ0یہی لوگ وارث ہیں یہ فردوس کی میراث پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔سبحان اللہ! اللہ کریم ہمیں بھی کامل ایمان والا بنائے۔آمین۔سورۃ المائدہ آیت نمبر 35 میں فرمانِ باری ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَجَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ0اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔آیت میں وسیلہ کا معنی یہ ہے کہ ’’جس کے ذریعے اللہ پاک کا قرب حاصل ہو“ یعنی اللہ پاک کی عبادات چاہے فرض ہوں یا نفل، ان کی ادائیگی کے ذریعے اللہ پاک کا قرب حاصل کرو ۔ اگر تقویٰ سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی اور حرام چیزوں کو چھوڑ دینا مراد لیا جائے اور وسیلہ تلاش کرنے سے مُطْلَقاً ہر وہ چیز جو اللہ پاک کے قرب کے حصول کا سبب بنے مراد لی جائے تو بھی درست ہے۔اللہ پاک کے انبیا علیہم الصلوۃ و السلام اولیا رحمۃُ اللہِ علیہم سے محبت،صدقات کی ادائیگی،اللہ پاک کے محبوب بندوں کی زیارت، دعا کی کثرت، رشتہ داروں سے صِلہ رَحمی کرنا اور بکثرت ذِکْرُ اللہ میں مشغول رہنا وغیرہ بھی اسی عموم میں شامل ہے۔ اب معنی یہ ہوا کہ ہر وہ چیز جو اللہ پاک کی بارگاہ کے قریب کر دے اسے لازم پکڑ لو اور جو بارگاہِ الٰہی سے دور کرے اسے چھوڑ دو۔ (تفسیرصاوی، المائدۃ،تحت الآیۃ: 35، 2 / 497)اللہ پاک کا قرب حاصل کرنے اور دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی کے لئے ہمیں عبادت الٰہی کرنی چاہیے اور اس پر استقامت کے لئے اللہ پاک کے نیک بندوں کا دامن تھام لینا ان کی صحبت و قرب احتیار کرنا بھی بہت بڑی کامیابی ہے۔پردہ بھی ہماری فلاح کا ذریعہ ہے چنانچہ سورۃ النور آیت 31 میں فرمانِ خداوندِ کریم ہے:اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹوں یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا اپنی (مسلمان) عورتوں یا اپنی کنیزوں پر جو ان کی ملکیت ہوں یامردوں میں سے وہ نوکر جو شہوت والے نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر اپنے پاؤں اس لئے زور سے نہ ماریں کہ ان کی اس زینت کا پتہ چل جائے جو انہوں نے چھپائی ہوئی ہے اور اے مسلمانو!تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔پردے کے دینی اور دُنیوی فوائد :پردےکے4 دینی فوائد یہ ہیں :(1)پردہ اللہ پاک اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔(2) پردہ ایمان کی علامت، اسلام کا شعار اور مسلمان خواتین کی پہچان ہے۔(3) پردہ شرم و حیا کی علامت ہے اور حیا اللہ پاک کو بہت پسند ہے۔(4) پردہ عورت کو شیطان کے شر سے محفوظ بنا دیتا ہے۔پردے کے4 دُنیوی فوائد یہ ہیں :(1) باحیا اور پردہ دارعورت کو اسلامی معاشرے میں بہت عزت و وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔(2) پردہ عورت کو بُری نظر اور فتنے سے محفوظ رکھتا اور بُرائی کے راستے کو روکتا ہے۔(3) عورت کے پردے سے معاشرے میں بگاڑ پیدا نہیں ہوتا اور معاشرے میں امن و سکون رہتاہے۔(4) پردہ عورت کے وقار میں اضافہ کرتا اور اس کی خوبصورتی کی حفاظت کرتا ہے۔پردے کی ضرورت واہمیت سے متعلق ایک مثال:اگر ایک پلیٹ میں مٹھائی رکھ دی جائے اور اسے کسی چیز سے ڈھانپ دیاجائے تو وہ مکھیوں کے بیٹھنے سے محفوظ ہو جاتی ہے اور اگر اسے ڈھانپا نہ جائے، پھر اس پر مکھیاں بیٹھ جائیں تو یہ شکایت کرنا کہ اس پر مکھیاں کیوں بیٹھ گئیں بہت بڑی بے وقوفی ہے کیونکہ مٹھائی ایسی چیز ہے جسے مکھیوں کے تَصَرُّف سے بچانے کے لئے اسے ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے ورنہ انہیں مٹھائی پر بیٹھنے سے روکنا بڑ امشکل ہے،اسی طرح اگرعورت جو کہ چھپانے کی چیز ہے، اسے پردے میں رکھا جائے تو بہت سے معاشرتی مسائل سے بچ سکتی ہے اور عزت و ناموس کے لٹیروں سے اپنی حفاظت کر سکتی ہے اور جب اسے پردے کے بغیر رکھا جائے تو اس کے بعد یہ شکایت کرنا کہاں کی عقلمندی ہے کہ لوگ عورت کو تانک جھانک کرتے ہیں،اسے چھیڑتے ہیں اور اس کے ساتھ دست درازی کرتے ہیں کیونکہ جب اسے بے پردہ کر دیاتو غیر مردوں کی فتنہ باز نظریں ا س کی طرف ضرور اُٹھیں گی، ان کے لئے عورت کے جسم سے لطف اندوز ہونا اور اس میں تَصَرُّف کرنا آسان ہو گا اور شریر لوگوں سے اپنے جسم کو بچانا عورت کے لئے انتہائی مشکل ہو گا کیونکہ فطری طور پر مردوں میں عورتوں کے لئے رغبت رکھی گئی ہے اور جب وہ بے پردہ عورت کا جسم دیکھتا ہے تو وہ اپنی شہوت و رغبت کو پورا کرنے کے لئے اس کی طرف لپکتا ہے۔


کامیابی کی تعریف بیان کرنا مشکل ہے،کیونکہ ہر شخص کی نظر میں کامیابی کا معیار مختلف ہے،کسی کی نظر میں مال و دولت،بلند مکانات،بڑی بڑی گاڑیوں کا حصول،عزت و شہرت ملنا کامیابی ہے،کہیں بڑا عہدہ مل جانا کامیابی ہے تو کسی کے لئے حکومت کا رکن بن جانا کامیابی ہے۔ اگر کوئی طالبِ علم ہے تو اُس کے لئے بڑی ڈگری حاصل کرنا کامیابی ہے۔ کوئی شخص تاجر ہے یا ملازم ہے تو اُس کے لئے تجارت اور کام کا بڑھنا کامیابی ہے۔ ایک عورت بھی یہ سوچتی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں بہتر ہونا کامیابی ہے۔ الغرض ہر ایک کی نظر میں کامیابی کا معیار و معنی الگ الگ ہے، اور ہر کوئی کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقی کامیابی کیا ہے اور قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے کامیابی کے لئے کن اعمال کا ارشاد فرمایا ہے؟ آىئے !ان میں سے دس اعمال کے متعلق جانتی ہیں۔ چنانچہ1۔ سورۂ توبہ، آیت نمبر 20 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:ترجمۂ کنزالعرفان: وہ جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ (سورہ توبہ، آیت 20 ) 2۔سورۂ احزاب، آیت نمبر 70،71 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والوں! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔اللہ تمہارے اعمال تمہارے لئے سنوار دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرما نبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔ (سورۂ الاحزاب، آیت 70، 71)3۔ سورۂ المائدہ، آیتِ نمبر 119 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنزالعرفان:یہ (قیامت) وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں،وہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہی بڑی کامیابی ہے۔ (سورۂ المائدہ،آیت 119) 4۔سورۂ حج، آیت نمبر 77 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والوں! رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی عبادت کرو اور اچھے کام کرو اس امید پر کہ تم فلاح پا جاؤ۔ (سورۂ حج، آیت 77) 5۔ سورۂ نور، آیت نمبر 31 کے آخر میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنزالعرفان: اور اے مسلمانوں! تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (سورۂ نور، آیت 31) 6۔ سورۂ بقرہ، آیت نمبر 189 کے آخر میں اللہ پاک فرماتا ہے:ترجمۂ کنزالعرفان: اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (سورۂ بقرہ،آیت 189) 7۔ سورۂ الِ عمران، آیت نمبر 104 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنزالعرفان: اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (الِ عمران، آیت 104) 8۔ سورۂ اتغابن، آیت نمبر 16 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنزالعرفان: تو اللہ سے ڈرو جہاں تک تم سے ہو سکے اور سنو اور حکم مانو اور راہِ خدا میں خرچ کرو یہ تمہاری جانور کے لئے بہتر ہو گا اور جسے اس کے نفس کے لالچ پن سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (سورۂ افغان، آیت 16) 9۔ سورۂ المائدہ، آیت نمبر 90 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں تو ان سے بچتے رہو تا کہ تم فلاح پاؤ۔ (سورۂ المائدہ،آیت 90) 10۔ سورۂ الاعراف، آیت نمبر 157 کے آخر میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمۂ کنزالعرفان: وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ الله پاک ہمیں قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے فلاح و کامیابی نصیب فرمائے۔امین


”کامیابی“ یہ لفظ ایک ہے لیکن ہر کسی کے نزدیک اس کی تعریف الگ ہے۔ کسی کے نزدیک اچھی تعلیم حاصل کرنا کامیابی ہے۔ کسی کے نزدیک بڑا گھر بنا لینا کامیابی ہے۔کسی کے نزدیک پردیس میں جاکر جاب کرنا بڑی کامیابی ہےوغیرہ وغیرہ۔لیکن ایک مسلمان کی حقیقی کامیابی کیا ہے؟مسلمان کی حقیقی کامیابی وہ ہے جسے اس کے پالنے والے پیارے پیارے اللہ پاک نے کامیابی قرار دیا ہے۔ اللہ پاک نے کن اعمال کو کامیابی قرار دیا  ہے؟ آئے! قرآن سے پوچھتی ہیں۔قرآنِ کریم کہتا ہے:1۔توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا۔(ال عمران: 185)اس آیت میں جنت میں داخلے کو کامیابی قرار دیا گیا۔لہٰذا مسلمان کی حقیقی کامیابی جنت میں داخل ہونا ہے۔2 ۔بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔ (المومنون:1)اس سے معلوم ہوا!حقیقی کامیابی کو پانے کے لئے ایمان پر جینا مرنا ضروری ہے۔ 3۔بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔( الاعلی:14)معلوم ہوا !کامیابی کے لئے تزکیہ(پاکی) درکار ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:صوفیاء کے نزدیک تزکیہ کا(مطلب)دل(کو)برے عقیدے،برے خیالات (اور) تصورِ غیر سے پاک کرنا ہے۔ (نور العرفان، الاعلی،تحت الایۃ :14، ص:977)4 ۔اور جسے تو نے اس دن گناہوں کی شامت سے بچا لیا تو بیشک تو نے اس پر رحم فرمایا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ ( المومن:9) معلوم ہوا! اصل کامیابی یہ ہے کہ قیامت کے دن بندے کے گناہ معاف کردیے جائیں۔5۔بیشک ڈر والوں کے لئے کامیابی کی جگہ ہے۔(النبا:31)معلوم ہوا! برے اعمال سے بچنے اور اللہ پاک کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے کامیابی ہے۔6۔مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب انہیں اللہ پاک اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرمادے تو وہ عرض کریں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی او ریہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔(النور:51) یہاں رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ہر حکم پر سر ِتسلیم خم کرنے کو کامیابی کہا گیا۔7۔تو رشتے دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی۔یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو الله کی رضا چاہتے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ (الروم:38)8۔اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔(الجمعہ:10) یعنی ہر وقت ذِکْر ُاللہ کرنا بھی کامیابی ہے۔9۔بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔(الشمس:9) معلوم ہوا! نفس کو گناہوں سے پاک کرنا بھی کامیابی میں داخل ہے۔10۔اور اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔(التوبۃ:72)اللہ پاک ہمیں اپنے پیارے حبیب صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صدقے دونوں جہاں کی کامیابیاں عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


کامیابی انسان کی زندگی میں ایک عظیم منزل ہے جسے حاصل کرنے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے اور جو کوشش کرتا ہے تو وہ کامیابی حاصل بھی کر لیتا ہے مگر کسی کوشش کرنے والے کے پاس اس کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی اور اصل کامیابی وہی ہے جسے قرآنِ کریم نے کامیاب فرمایا۔آیئے!قرآنِ کریم کی روشنی میں ایسے اعمال جانتی ہیں جن پر عمل کرنے والوں کے لئے رب قدیر نے کامیابی کی ضمانت کا اعلان فرمایا ہے:(1)ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں۔(البقرۃ:5-4) (2)ترجمۂ کنز الایمان:بے شک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئےان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں ہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔ (بروج:11) (3) ترجمہ:ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو یہ تمہارے لئےبہتر ہے اگر تم جانو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں بسنے کے باغوں میں یہی بڑی کامیابی ہے۔(الصف:12-11)(4)ترجمۂ کنز الایمان:اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔(البقرۃ:189) (5)ترجمہ:بے شک ڈر والوں کو کامیابی کی جگہ ہے۔(نبا:3)(6)ترجمہ:وہ جو ایمان لائے پرہیزگاری کرتے ہیں انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(یونس:64-63)(7)ترجمہ:جو حکم مانے اللہ اور اللہ کے رسول کا اللہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ (نساء:13)(8)ترجمہ:بے شک مراد کو پہنچا جس نے(نفس کو)ستھرا کیا۔(الشمس:9)(9)ترجمہ:بے شک آج میں نے صبر کا انہیں بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔(المومنون:111)(10)ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری سے منع کریں اور یہی لوگ مراد کو پہنچے۔(ال عمران:104)


فلاح و کامیابی کا معیار مختلف لوگوں کے نزدیک مختلف ہے۔ بعض لوگ دنیاوی دولت و شہرت کو کامیابی تصور کرتے ہیں تو بعض کے نزدیک دنیاوی جاہ و منصب ہی کامیابی ہے لیکن جب اللہ والوں کی بارگاہ میں حاضری  دی جائے تو وہاں کامیابی اور فلاح صرف اور صرف اللہ پاک کی رضا کے حصول پر موقوف ہے۔یہ امر طے شدہ ہےکہ جب ایک مسلمان نیک اعمال کرتا ہے تو اس کے بدلے میں اس کو بہترین جزا ملتی اور یہ نیک اعمال اس کےلئے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں رب کریم کی بارگاہ میں عزت افزائی اور اس کی نجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں کئی بارفلاح و کامیابی والے اعمال کا ذکر آیا ہے جن میں سے 10 اعمال درج ذیل ہیں: 1 ۔ کتاب(قرآنِ کریم)و سنتِ رسول پر عمل کرنے والا شخص کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے جیساکہ پارہ 18 سورۃ النور آیتِ مبارکہ 51 اور 52 میں ارشادِ باری ہوتا ہے:إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولواسمعنا وأطعناط وأولٓئک هم المفلحون 0 ومن يطع الله ورسوله ويـخـش اللہ ويـتقـه فأولٓئك هم الفآئزون0 ترجمۂ کنزالایمان: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے جب اللہ اور رسول کی طرف بلائے جائیں کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائےتوعرض کریں کہ ہم نے سنا اور حکم مانا اور یہی لوگ مراد کو پہنچے اور جو حکم مانے اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے اور پر ہیز گاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔ 2۔نماز فلاح و کامیابی کی طرف لے جانے والی ہے کیونکہ پارہ 17 سورۃ الحج کی آیتِ مبارکہ میں پروردگار خود فرماتا ہے: يآيها الذين امنوا اركعواواسجدوا واعبدواربكم وافعلوا الخير لعلكم تفلحون ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلے کام کرو اور اس امید پر کرتمہیں چھٹکارا ہو۔3۔ اللہ پاک کے ذکر کے لئے دنیاوی مصروفیت کا ترک کرنا عظیم فلاح کا ذریعہ ہے۔اس بات کا ثبوت قرآنِ مجید کے پارہ 28 سورۃ الجمعہ کی آیتِ مبارکہ 9 میں ملتا ہےچنانچہ ارشادِ باری ہوتا ہے:فـاسـعـوا إلى ذكر الله وذروا البيع ذلكم خيرلكم إن كنتم تعلمون 0 ترجمۂ کنزالایمان:تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو ۔4 ۔جو لوگ دنیا کے مال کی محبت کو دل سے نکالتے ہوئے اپنے رب کے حکم پر لبیک کہتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں تو ان کے لئے اللہ پاک کی بارگاہ میں کامیابی کا انعام ہے چنانچہ پارہ 6 سورہ النساء کی آیتِ مبارکہ163 میں ہے:والمقيمين الصلوة والمؤتون الزكوة والمؤمنون بالله واليوم الآخر أولٓئك سنوتيهم اجرا عظیما0 ترجمۂ کنزالایمان:اور نماز قائم رکھنے والے اور زکوٰۃ دینے والے اور اللہ اور قیامت پر ایمان لانے والے ایسوں کو عنقریب ہم بڑا ثواب دیں گے۔5۔جس طرح دیگر نیک اعمال کامیابی اور فلاح کا دروازہ کھولتے ہیں اسی طرح صدقہ بھی حصولِ کامیابی میں مددگار و معاون ہے اور اپنی پسندیدہ چیز کو راہِ خدا میں صدقہ کیے بغیر کامیابی کو پانا ممکن نہیں جیساکہ پارہ 4 کی آیتِ مبارکہ میں ہے:لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون 0 ترجمۂ کنزالایمان:تم ہرگز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ کرو۔6۔ایثار ایک ایسا نیک عمل ہے جس کو کرنے والا قرآنِ مجید کی رو سے کامیاب ترین لوگوں کی فہرست میں شامل ہے جیساکہ پارہ 28 سورۃ الحشر کی آیتِ مبارکہ 9 میں ہے:ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولٓئک ھم المفلحون0 ترجمۂ کنزالایمان : اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کو لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں ۔7۔اللہ پاک کا کثرت کے ساتھ ذکر کرتے رہنا جہاں دنیا میں انسان کو بے راہ روی سے بچاتا ہے وہی انسان کو آخرت میں اس کا ثمرہ و کامیابی کی صورت میں ملتا ہے۔ پارہ 28 سورۃ الجمعہ کی آیتِ مبارکہ 10 میں ہے: واذكروا الله كثيرا لعلكم تفلحون0 ترجمۂ کنزالایمان:اور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔8:جو کوئی گناہ میں مبتلا ہو جائے،پھر رحمتِ الٰہی ہاتھ آئے اور توبہ کی توفیق عطا ہو جائے تو ایسے انسان کا مقدر بھی فلاح پاتا ہے اس کو پارہ 18 سورۃ النور کی آیتِ مبارکہ 31 میں اس انداز میں پیش کیا گیا ہے:وتوبوا إلى الله جميعا ايھا المؤمنون لعلكم تفلحون0ترجمۂ کنزالایمان:اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو! سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔9:آخرت کی تیاری انسان کو فلاح کی طرف لے جاتی ہے کیونکہ پارہ 4 سورۂ الِ عمران کی آیتِ مبارکہ 185 میں ہے:اللہ پاک فرماتا ہے:كل نفس ذائقة الموت وإنما توفون أجوركم يوم القيمة فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحيوة الدنيا إلا متاع الغرور0 ترجمۂ کنزالایمان :ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہی مر ادکو پہنچااور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔10۔روزہ رب العالمین کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے کیونکہ روزہ پرہیزگار ی کا باعث بنتا ہے اور پرہیزگاری کامیابی و کامرانی کے زینے طے کرواتی ہے۔ اللہ پاک نے قرآنِ کریم کے پارہ2 سورۃ البقرہ آیت 183 میں فرمایا ہے: يآيها الذين امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون0 ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والوتم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پر ہیز گاری ملے۔قرآنِ مجید،فرقانِ حمید وہ روشن چراغ ہے جس کی روشنی مسلمان کو فلاح کی راہ سے ہٹنے نہیں دیتی ۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ایسے اعمال کی توفیق عطا فرمائے جن سے اللہ پاک کی رضا اور اس کے رسول صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شفاعت ہمارا مقدر ہو ۔امین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


دنیا میں ہر انسان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایک کامیاب زندگی گزارے،اپنے مقاصدکو اس طرح حاصل کرے کہ زمانہ اُسے کامیاب تصور کرے لیکن ایک مومن کی کامیابی کا معیار وہ ہے جو اللہ پاک نے مُقَرّر فرمایا اور جس پر قرآنِ مجید، فُرقانِ حمید کی کئی آیات دلالت کرتی ہیں۔ یقیناً ہر ذی شَعُور مومن اِس بات کو بَخُوبی سمجھ لے گاکہ حقیقی کامیابی وُہی ہے جو اللہ پاک نے بَیان فرمائی، اگر خُدانخواستہ اِس میں ناکامی ہو جائے تو دُنیا میں خواہ کتنی ہی کامیابیوں کی اَسناد حاصِل ہوں سب بےکار ہیں۔فلاح و کامیابی والے کون سے اَعمال ہیں کہ جن کو بَجالانے سے ہم حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہیں۔آئیے!قُرآن کی روشنی میں اِنہیں سَمَجھنے کی کوشِش کرتی ہیں:(1)وَاتَّقُوااللّٰهَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ تَرجَمہ:اور اللہ سے ڈرتے رہو اِس اُمّید پر کہ فَلاح پاؤ۔(پ2،اَلبَقَرۃ:189)اِس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک نے فلاح پانے کے لئے اِتَّقُوْا (اللہ پاک سے ڈَرنے) کا حُکم اِرشاد فرمایا ہے چُنانچِہ حَضرت اَنَس رضی اللہ عنہ سے رِوایت ہے، حُضُور پُر نُور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا اللہ پاک اِرشاد فرماتا ہے:اِس بات کا مُستَحِق میں ہی ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور جو مجھ سے ڈرے گا تو میری شان یہ ہے کہ میں اُسے بَخش دوں گا۔(تفسیر صِراطُ الجِنان،جِلد :1،صفحہ :63،مطبوعہ :مکتبۃ المدینہ) اصل نیکی تقویٰ، خوفِ خُدا اور اَحْکامِ الٰہی کی اِطاعَت ہے۔(تفسیر صِراطُ الجِنان،جِلد:1،صفحہ :304،مطبوعہ :مکتبۃ المدینہ)(2)وَذٰلِكَ الْفَوْزُ العَظِیْمُ :یہ اللہ کی حَدّیں ہیں اور جو حکْم مانے اللہ اور اللہ کے رَسُول کا اللہ اُسے باغوں میں لے جائے گا جِن کے نیچے نَہریں رَواں، ہمیشہ اِن میں رہیں گے اور یہی ہے بڑی کامیابی۔(پ4،اَلنِّساء:13)یہاں اللہ پاک کی حَدّوں سے مُراد وِراثَت کے مَسائل ہیں اور اُن کو توڑنا اللہ پاک کی حَدوں کو توڑنا ہے۔اِس سے معلوم ہوا! مِیراث کی تقسیم میں ظُلْم کرنا عَذابِ اِلٰہی کا باعث ہے نیز یہاں اللہ پاک نے اپنی اور سَیِّدُ المُرسَلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اِطاعَت پر جَنَّت کا وَعدہ فرمایا ہے۔(تفسیر صِراطُ الجِنان ،جِلد :2،صفحہ :159،مطبوعہ :مکتبۃ المدینہ) اور اِسی کو بڑی کامیابی قرار دِیا ہے۔(3)وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ تَرجَمہ:اور اُس کی راہ میں جِہاد کرو اِس اُمّید پر کہ فَلاح پاؤ۔(اَلمائِدۃ، پارہ:6،آیت :35)اِس آیتِ مبارکہ میں حقیقی فلاح حاصِل کرنے کے لئے ایک اور عَمَل یعنی جِہاد کا حُکم دِیا گیا ہے۔جِہاد کرنے کے بہت سے فَضائِل ہیں۔ حضرت ابُو سَعید خُدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حُضُورِ اَقدس صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں عَرض کی گئی:یا رَسُولَ اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم! لوگوں میں سے کون سا شخص اَفضَل ہے؟ اِرشاد فرمایا :جو شَخص اللہ پاک کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جِہاد کرتا ہے نیز حضرت ابُو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے رِوایَت ہے، سَیِّدُ المُرسَلین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا :اللہ پاک نے مُجاہِدین کے لئے جَنّت میں سو دَرَجے مُہَیّا فرمائے، ہر دو دَرَجوں میں اِتنا فاصِلہ ہوگا جِتنا آسمان و زَمین کے دَرمیان ہے۔(تفسیر صِراطُ الجِنان،جِلد :2،صفحہ :281-280،مطبوعہ :مکتبۃ المدینہ)(4)فَاجْتَنِبُوْہٗ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ0:اے اِیمان والو! شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو اِن سے بچتے رہنا کہ تُم فَلاح پاؤ۔ (پ7،المائدۃ،آیت:90)اِس آیتِ مبارکہ میں مومنین کو شراب، جُوئے، بُت اور پانسے (قِسمَت مَعلُوم کرنے کے تِیر)اِن تمام ناپاک چیزوں سے بچنے کا حُکْم دیا گیا ہے اور پِھر اِس پر کامیابی کی ضَمانَت دی گئی ہے۔اِس سے دو مَسائل مَعلُوم ہوئے:ایک یہ کہ صِرف نیک اَعمال کرنے سے کامیابی حاصِل نہیں ہوتی بلکہ بُرے اَعمال سے بچنا بھی ضَروری ہے،یہ دونوں تقوے کے دو پَر ہیں۔پَرِندہ ایک پَر سے نہیں اُڑتا ۔دُوسرے یہ کہ نیکیاں کرنا اور بُرائیوں سے بچنا، رِیا اور دِکھلاوے کے لئے نہ ہونا چاہیے بلکہ کامیابی حاصِل کرنے کے لئے ہو۔(تفسیر نُورُ العِرفان،صفحہ :194،مطبوعہ :پیر بھائی کَمپنی لاہور) (5)وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُالْمُبِیْنُ :اُس دِن جِس سے عَذَاب پھیر دِیا جائے، ضَرُور اُس پر اللہ کی مِہر ہوئی اور یہی کُھلی کامیابی ہے۔(پارہ:6،اَلْاَنعَام ،آیت :16)یعنی قِیامَت میں عَذَاب سے بَچنا،اللہ پاک کے رَحم و کَرَم سے ہو گا،صِرف اپنے اَعمال اِس کے لئے کافی نہیں اَعمال تو سَبَب ہیں۔(تفسیر نُورُ العِرفان ،صفحہ :206،مطبوعہ :پیر بھائی کمپنی لاہور) اور جو اللہ پاک کے رَحم، کَرَم اور فَضْل سے عَذاب سے بَچا لیا گیا، یقیناً کامیاب ہو گیا۔(6)ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ :اور سب میں اگلے پہلے مُہاجِر و اَنصار اور جو بھلائی کے ساتھ اِن کے پیرو ہوئے اللہ اِن سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور اُن کے لئے تَیَّار کر رکھے ہیں باغ جِن کے نیچے نہریں بَہیں ہمیشہ ہمیشہ اِن میں رَہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(پارہ:11،التوبۃ، آیت :100)اِس آیتِ مبارکہ میں اس عَقیدہ کا بَیان ہے جِس کو ماننے والا ہی کامیاب ہے کہ اِس سے مَعلُوم ہوا!قِیامت تک کے تَمام وہ مُسلمان جو مُہاجِرین و اَنصار کی اِطاعَت و پیروی کرنے والے ہیں یا باقی صَحابہ کِرام علیہم الرضوان ، اللہ پاک اِن سب سے راضی ہے نیز قِیامَت تک وہی مُسلمان حَق پر ہیں جو تَمام مُہاجِرین و اَنصار صَحابہ کے پیروکار ہیں۔(تفسیر نُورُ العِرفان ،صفحہ :322،مطبوعہ :پیر بھائی کمپنی لاہور) اور اُن ہی کے لئے اللہ پاک نے جَنّت کا وعدہ فرما کر اِسے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔(7)ذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ :اُنہیں خُوشخَبری ہے دُنیا کی زِندگی میں اور آخِرَت میں اللہ کی باتیں بَدل نہیں سکتیں یہی بڑی کامیابی ہے۔(پارہ:11،یُونُس،آیت:64)اِس آیتِ مبارکہ کے حَوالے سے مُفَسِّرین کے کئی اَقوال ہیں:ایک قول یہ ہے کہ اس خُوشخبری سے وہ مُراد ہے جو پرہیزگار اِیمانداروں کو قرآنِ کریم میں جابَجا دی گئی ہےاور ایسے ہی لوگوں کو کامیاب قرار دیا گیا ہے ،گویا معلوم ہوا! حقیقی کامیابی کے حُصُول کے لئے فَرمانبرداری لازِم ہے نیز یہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اللہ پاک کے وَعدے خِلاف نہیں ہو سکتے جو اُس نےاپنی کِتاب میں اور اپنے رَسُولوں کی زَبان سے اپنے اولِیاء اور اپنے فَرمانبردار بَندوں سے فرمائے۔(تفسیر خزائنُ العِرفان ،صفحہ :389-388،مطبوعہ :پاک کَمپنی لاہور)(8)فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا :اور جو اللہ اور اُس کے رَسُول کی فرمانبرداری کرے،اُس نے بڑی کامیابی پائی۔(پارہ:22،اَلاَحزاب،آیت:71)اِس سے معلوم ہوا! حقیقی کامیاب زِندگی وہ ہے جو اللہ پاک اور اُس کے رَسُول کی اِطاعَت میں گُزرے۔(تفسیر نُورُالعِرفان،صفحہ :681،مطبوعہ :پیر بھائی کمپنی لاہور) یعنی جو حقیقی فلاح و کامیابی کا طالِب ہے اُسے صِرف اِطاعَتِ اِلٰہی اور اِطاعَتِ رَسُول کو اَپنانا ہوگااور زِندگی کے تَمام پہلوؤں میں صِرف شریعت کے اُصُولوں پر نَظَر رکھنی ہوگی تو اُسے دُنیاوی اور اُخرَوی دونوں کامیابیاں عطا کی جائیں گی۔(9)وَاذْکُرُوااللّٰهَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ تَرجَمہ:اور اللہ کو بہت یاد کرو اس اُمّید پر کہ فلاح پاؤ۔(پارہ :28،اَلْجُمُعَۃ،آیت :10)یعنی نَماز کے علاوہ بھی ہر حَال میں رب کو یاد کیا کرو ذِکرُاللہ تمہارا مَشغَلہ ہونا چاہیے۔(تفسیر نُورُالعِرفان ،صفحہ :885،مطبوعہ :پیر بھائی کمپنی لاہور) اور اِس عَمَل پر بھی فلاح کی ضَمانَت دی گئی ہے یعنی جو کَثرت سے ذِکرُاللہ کرے گا تو وہ فلاح پالے گا۔(10)قَدْ اَفْلَحَ الْمومنوْنَ0تَرجَمہ:بے شک مُراد کو پہنچے اِیمان والے۔(پارہ :18،اَلْمومنوْنَ،آیت:1)یہاں تمام اَعمال کا خُلاصَہ یہ ہوا کہ حقیقی کامیابی مومنین ہی کو حاصِل ہےاور وُہی مُراد کو پُہنچے ہیں اِس طرح کہ جَنّت اور وہاں کی نِعمَتوں کے مُستَحِق ہوئے اور دیدارِ اِلٰہی کے حقّ دار بنے یا دُنیا میں مَقبولُ الدُّعاء ہوئے اور اُن کی زِندگی کامیاب ہوئی ۔معلوم ہوا! اِیمان اور تقویٰ دونوں جَہان کی کامیابیوں کا ذَریعہ ہیں اِس سے دُعائیں قَبُول،آفات دُور، مُرادیں حاصِل ہوتی ہیں۔(تفسیر نُورُالعِرفان ،صفحہ :545،مطبوعہ :پیر بھائی کمپنی لاہور)


قرآنِ کریم وہ پاکیزہ کتاب ہے جس میں ہر شے کا بیان موجود ہے۔قرآنِ کریم ہدایت کا مرکز ہے۔زندگی کے ہر موڑ پر قرآنِ کریم مسلمان کے ساتھ ہے۔قرآنِ کریم کی راہ نمائی کے بغیر نہ تو منزل تک پہنچا جاسکتا ہے،نہ ہی اس کی تعلیمات کو بھول کر کامیابی کی اُمید رکھی جاسکتی ہے۔لہٰذا حقیقی کامیابی حاصل کرنے کیلئے قرآنِ کریم سے راہ نمائی حاصل کرنا ازحد ضروری ہے۔دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی دلانے والے اعمال کے متعلق قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:1:قَدْ اَفْلَحَ الْمومنوْنَ0(المؤمنون:1)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔2:وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا0(الاحزاب:71)ترجمۂ کنز العرفان: اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔3:اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمومنیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ؕوَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ0 (النور:51)ترجمۂ کنز العرفان:مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو وہ عرض کریں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اوریہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ 4:فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ ۙاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ0 (الاعراف:157)ترجمۂ کنز العرفان: تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔اس آیتِ مبارکہ میں نور سے مراد قرآنِ پاک ہے۔(تفسیر صراط الجنان، الاعراف:157)5:الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ؕ اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ0(لقمٰن:4-5)ترجمۂ کنز العرفان: وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں ۔6:فَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ ؕذٰلِكَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ0 (الروم:38)ترجمۂ کنز العرفان: تو رشتے دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی۔یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو الله کی رضا چاہتے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔7:وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۚ(الحشر: 9)ترجمۂ کنز العرفان: اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں ۔8:قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا0(الشمس:9)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔9: وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ؕوَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ0(ال عمران: 104)ترجمۂ کنز العرفان:اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔10:فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ؕ(ال عمران: 185)ترجمۂ کنز العرفان: توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا۔


قرآنِ کریم وہ پاکیزہ کتاب ہے جس میں ہر شے کا بیان موجود ہے۔قرآنِ کریم ہدایت کا مرکز ہے۔زندگی کے ہر موڑ پر قرآنِ کریم مسلمان کے ساتھ ہے۔قرآنِ کریم کی راہ نمائی کے بغیر نہ تو منزل تک پہنچا جاسکتا ہے،نہ ہی اس کی تعلیمات کو بھول کر کامیابی کی امید رکھی جاسکتی ہے۔لہٰذا حقیقی کامیابی حاصل کرنے کیلئے قرآنِ کریم سے راہ نمائی حاصل کرنا ازحد ضروری ہے۔دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی دلانے والے اعمال کے متعلق قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:1:ترجمۂ کنز العرفان: بیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔(المؤمنون:1)2:ترجمہ:اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے اس نے بڑی کامیابی پائی۔(الاحزاب:71)3:ترجمہ: مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرمادے تو وہ عرض کریں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ (النور:51)4:ترجمہ:تو وہ لوگ جو اس نبی پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ نازل کیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (الاعراف:157)اس آیتِ مبارکہ میں نور سے مراد قرآنِ پاک ہے۔(تفسیر صراط الجنان ،الاعراف:157)5:ترجمہ:وہ جو نماز قائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔(لقمٰن: 4:5)6:ترجمہ: تو رشتے دار کو ا س کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی۔یہ ان لوگوں کیلئے بہتر ہے جو الله کی رضا چاہتے ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔(الروم:38)7:ترجمہ:اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔(الحشر: 9)حدیثِ پاک میں ہے:شُح(یعنی نفس کے لالچ) سے بچوکیونکہ شُح نے تم سے پہلی امتوں کوہلاک کردیا کہ اسی نے ان کوناحق قتل کرنے اورحرام کام کرنے پرابھارا۔(مسلم،ص1394،حدیث: 56(2578))8:ترجمہ:بیشک جس نے نفس کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔(الشمس:9)9: ترجمہ:اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(ال عمران: 104)تفسیر صراط الجنان میں ہے:اس آیت سے معلوم ہوا! مجموعی طور پر تبلیغِ دین فرضِ کفایہ ہے۔ اس کی بہت سی صورتیں ہیں جیسے مصنفین کا تصنیف کرنا،مقررین کا تقریر کرنا،مبلغین کا بیان کرنا،انفرادی طور پر لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا وغیرہ۔یاد رہے!جہاں کوئی کسی برائی کو روکنے پر قادر ہو وہاں اس پر برائی سے روکنا فرضِ عین ہوجاتا ہے۔10: ترجمہ:توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا۔(ال عمران: 185)اس آیت سے معلوم ہوا! قیامت میں حقیقی کامیابی یہ ہے کہ بندے کو جہنم سے نجات دے کر جنت میں داخل کر دیا جائے جبکہ دنیا میں کامیابی فی نفسہ کامیابی تو ہے لیکن اگر یہ کامیابی آخرت میں نقصان پہنچانے والی ہے تو حقیقت میں یہ خسارہ ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ ایسے اعمال کی طرف توجہ دے اور ان کے لئے کوشش کرے جن سے اسے حقیقی کامیابی نصیب ہو اور ان اعمال سے بچے جو اس کی حقیقی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ (تفسیر صراط الجنان،ال عمران، تحت الآیۃ: 185)


فلاح و کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ جب آدمی ایسے راستے سے گزر جائے جس میں اس کے سامنے بہت رکاوٹیں،کانٹے اور پھسلنے کی جگہیں ہوں اور وہ ان راستوں سے صحیح سلامت گزر جائے تو وہ کامیاب ہے۔اصل کامیابی ہر مسلمان کو حاصل ہے کیونکہ اس کے پاس ایمان کی نیکی ہے۔انسان اپنے اعمال اور عقائد کو درست کر لے تو وہ کامیاب ہے۔(1)ترجمہ:تم سے نئے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔تم فرما دو یہ لوگوں اور حج کے لئے وقت کی علامتیں ہیں اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں میں پچھلی دیوار توڑ کر آؤ ہاں اصل نیک تو پرہیز گار ہوتا ہے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔(پ2،البقرۃ:189)تفسیر:یہ آیت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کے جواب میں نازل ہوئی۔ ان دونوں نے نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم سے چاند کے گھٹنے بڑھنے کے بارے میں سوال کیا اس کے جواب میں چاند کے گھٹنے بڑھنے کے سبب کے بجائے اس کے فوائد بیان فرمائے کہ وہ وقت کی علامتیں ہیں کیونکہ آدمیوں کے ہزاروں دینی اور دنیاوی کام اس سے متعلق ہیں۔زراعت،تجارت،لین دین کے معاملات،روزے اور عیدکے اوقات،عورتوں کی عدتیں،حیض کے ایام،حمل و دودھ پلانے کی مدتیں اور چھڑانے کی مدتیں اور حج کے اوقات اس سے معلوم ہوتے ہیں۔ بہت سے احکام میں چاند کا حساب رکھنا ضروری ہے جیسے بالغ ہونے کی عمر،عیدین،زکوٰۃ میں جو سال گزر گزرے اس کا اعتبار بھی چاند سے ہے۔(تفسیر صراط الجنان،1/303)(2) ترجمہ: اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔(پ4،ال عمران:104)تفسیر:آیتِ مبارکہ میں فرمایا گیا کہ چونکہ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ تمام کے تمام مسلمان ایک ہی کام میں لگ جائیں لیکن اتنا ضرور ہونا چاہیے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہو جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائے،انہیں نیکی کی دعوت دے،اچھی بات کا حکم کرے اور بری بات سے منع کرے ۔مجموعی طور پر تبلیغِ دین فرضِ کفایہ ہے جیسے مصنفین کا تصنیف کرنا،مبلغین کا بیان کرنا وغیرہ۔(تفسیر صراط الجنان،2/26)(3)ترجمہ:اے ایمان والو!دگنا در دگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو اس امید پر کہ تمہیں کامیابی مل جائے۔(پ4،ال عمران:130)تفسیر:اس آیت میں سود کھانے سے منع گیا اور اسے حرام قرار دیا گیا۔زمانۂ جاہلیت میں سود کی ایک صورت یہ بھی رائج تھی کہ جب سود کی ادائیگی کی مدت آتی۔اگر اس وقت مقروض ادا نہ کرپاتا تو قرض خواہ سود کی مقدار میں اضافہ کردیتا اور یہ عمل مسلسل کیا جاتا رہتا، اسے دگنا در دگنا کہا جا رہا ہے۔سود حرامِ قطعی ہے۔اسے حلال جاننے والا کافر ہے۔(تفسیر صراط الجنان،2/56)(4)ترجمہ:اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور اسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔(پ4،ال عمران:200)تفسیر:صبر کا معنی نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو۔مصابرہ کا معنی دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا۔صبر کے تحت اس کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت،حشر و نشر،واجبات مستحبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا،دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں پر صبر، گھر والوں، پڑوسیوں،رشتہ داروں کی بداخلاقی برداشت کرنا وغیرہ۔(1)سرحد پر اپنے جسموں اور گھوڑوں کو کفار سے جہاد کے لئے تیار رکھو (2)اللہ پاک کی اطاعت پر کمر بستہ رہو۔(تفسیر صراط الجنان،2/152)(5)ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو اور اس کی راہ میں جہاد کرو اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔(پ6،المائدۃ:35)تفسیر:آیت میں وسیلے کا معنی یہ ہے کہ جس کے ذریعے اللہ پاک کا قرب حاصل ہو یعنی اللہ پاک کی عبادت چاہے فرض ہو یا نفل ان کی ادائیگی کے ذریعے اللہ پاک کا قرب حاصل کرو۔ تقویٰ سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی اور حرام چیزوں کو چھوڑ دینا اور وسیلہ تلاش کرنے سے مطلقاً ہر وہ چیز جو اللہ پاک کے قرب کے حصول کا سبب بنے مراد لی جائے درست ہےجیسے رب کریم کی بارگاہ میں اس کے نیک بندوں کا وسیلہ بنانا،ان کے وسیلے سے دعا کرنا جائز بلکہ صحابہ کا طریقہ رہا ہے۔نیک بندوں کا وسیلہ بنانا جائز ہے۔(6)ترجمہ:اے ایمان والو!شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہیں تو ان سے بچتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(پ7،المائدۃ:90)تفسیر:اس آیتِ مبارکہ میں چار چیزوں کے نجاست و خباثت اور ان کا شیطانی کام ہونا بیان فرمایا اور ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہ چار یہ ہیں:(1)شراب(2) جوا(3)انصاب یعنی بت(4)ازلام یعنی پانسے ڈالنا۔مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:شراب پینا حرام ہے اس کی وجہ سے بہت سے گناہ پیدا ہوتے ہیں۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جوئے کا روپیہ قطعی حرام ہے۔ امام عبداللہ احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:انصاب سے مراد بت کیونکہ انہیں نصب کر کے ان کی پوجا کی جاتی ہے،ان سے بچنا واجب ہے۔ازلام زمانۂ جاہلیت میں کفار کے تین تیر تھے، ان میں سے ایک پر لکھا تھا” ہاں“دوسرے پر ”نہیں“تیسرا خالی۔وہ لوگ ان کی بہت تعظیم کرتے تھے۔(تفسیر صراط الجنان،3/20) (7) ترجمہ:تم فرما دو کہ گندا اور پاکیزہ برابر نہیں ہیں اگرچہ گندے لوگوں کی کثرت تمہیں تعجب میں ڈالے تو اے عقل والو!تم سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔(پ7،المائدۃ:100)تفسیر:اس آیت میں فرمایا گیا کہ حلال و حرام،نیک و بد،مسلم و کافر اور کھرا کھوٹا ایک درجہ میں نہیں ہو سکتے بلکہ حرام کی جگہ حلال،بد کی جگہ نیک، کافر کی جگہ مسلمان اور کھوٹے کی جگہ کھرا ہی مقبول ہے۔(تفسیر صراط الجنان،3/35)(8)ترجمہ:تو جن کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی کامیاب ہونے والے ہوں گے۔(پ18،المومنون:102 )تفسیر :معنی یہ ہے کہ جس کے عقائد درست اور اعمال نیک ہوں گے تو اس کے اعمال کا اللہ پاک کے نزدیک وزن ہوگا اور ایسے لوگ اپنا مقصد و مطلوب کو پا کر کامیاب ہوں گے۔(تفسیر صراط الجنان،6/564)(9)ترجمہ:بے شک ایمان والے کامیاب ہو گئے۔(پ18، المومنون:1)تفسیر:اس آیت میں ایمان والوں کو بشارت دی گئی ہے کہ بے شک وہ اللہ پاک کے فضل سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے اور ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہو کر ہر ناپسندیدہ چیز سے نجات پا جائیں گے۔(تفسیر صراط الجنان،6/494)(10)ترجمہ:بے شک جس نے خود کو پاک کر لیا وہ کامیاب ہو گیا وہ کامیاب ہو گیا ۔(پ30،الاعلی:14)تفسیر:تزکی کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد خود کو کفر و شرک اور گناہوں سے پاک کرنا ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نماز کے لئے طہارت حاصل کرنا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے زکوٰۃ ادا کر کے مال کو پاک کرنا مراد ہے ۔(تفسیر صراط الجنان،10/639)