ایوانِ اقبال کمپلیکس، لاہور میں پروفیشنلز کے
درمیان حاجی عمران عطاری کا بیان
دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام 04 ستمبر 2026ء بروز جمعہ، ایوانِ اقبال کمپلیکس، لاہور میں ” گرینڈ
میلاد المصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
سیمینار “
کے سلسلے میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مرکزی عنوان ” سیرت
النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
روشنی میں ہماری معاشرتی و اخلاقی ذمہ داریاں (Our
Social & Moral Responsibilities in Light of Seerah) “ تھا جس سے
نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمدعمران عطاری مُدَّ
ظِلُّہُ العالی نے خصوصی بیان کیا۔ پروگرام میں یونیورسٹی فیکلٹی ممبران، اساتذہ اور مختلف
شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع
پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، اراکین شوریٰ حاجی محمد اسلم
عطاری، حاجی یعفور رضا عطاری، حاجی محمد اظہر عطاری بھی موجود تھے۔
نگران
شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی نے حیا کی دینی و اخلاقی اہمیت پر گفتگو کرتے
ہوئے فرمایا کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
کا ارشادِ گرامی ہے کہ ”حیا اور ایمان دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں، جب ایک اٹھا
لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے“۔مزید فرمایا گیا کہ ”ہر دین کا ایک
اخلاق ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے“۔ گھروں میں جنم لینے والے متعدد مسائل،
شکوک و شبہات اور بے سکونی کی بنیادی وجہ بے حیائی کا فروغ ہے۔ اگر اللہ کی توفیق
سے گھروں میں حیا کا ماحول قائم ہو جائے تو اکثر خاندانی مسائل خود بخود ختم ہو
سکتے ہیں۔
گھریلو
ماحول اور مساوات پرنگران شوریٰ کا کہنا تھا کہ گھر کے اندر کوئی بھی شخص پروفیسر،
لیکچرار، جنرل، میجر، یا افسر نہیں ہوتا، بلکہ سب عام انسان اور ایک ہی خاندان کے
افراد ہوتے ہیں۔ کامیا بی کا راز اس بات میں ہے کہ ہم اپنے منصب اور عہدے کا غرور
باہر چھوڑ کر گھر میں ایک عام و مثبت فرد کی حیثیت سے رہیں اور ماحول کو خوشگوار
بنائیں۔
ٹیچرز
اور معلمات پر عائد ذمہ داریاں پرکلام کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے فرمایا کہ اساتذہ، لیکچرار اور اسکول، کالج یا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے
والے معلمین کے ہاتھوں میں پوری قوم کا مستقبل ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود کو معلم بنا کر بھیجے جانے کا
ارشاد فرمایا ہے، اس لیے ہر استاد پر اجتماعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئی نسل
کی اخلاقی اور دینی تربیت پر توجہ دے۔
امر
بالمعروف و نہی عن المنکر پردعوتِ اسلامی کی خدمات کوبیان کرتےہوئے حاجی عمران عطاری نے کہا کہ نسل نو کو تباہی سے
بچانے کے لیے نیکی کی دعوت اور برائی سے منع کرنے کے عمل کو عام کرنا لازمی ہے۔ اسی
مقصد کے تحت دعوتِ اسلامی بیوروکریسی، اساتذہ، سیاسی شخصیات، اور عام عوام کو ایسے
سیمینارز میں دعوت دیتی ہے تاکہ ہر فرد معاشرے میں حیا اور مثبت اخلاقی قدروں کو
بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
یہ
تقریب اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ معاشرتی اصلاح، خاص طور پر حیا اور اخلاقی
قدروں کی پاسداری کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی، بالخصوص اساتذہ اور پروفیشنلز کو
مل کر اپنا اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔
پروگرام
کے اختتام پر صلوۃ و سلام پڑھا گیا اوربارگاہِ رب العزت میں دعا کی گئی۔
کیڈٹ کالج اوکاڑہ میں سالانہ محفلِ میلاد النبی کا
انعقاد ، نگران شوریٰ نے خصوصی بیان فرمایا
دعوت
اسلامی کے زیر اہتمام 03ستمبر2026ء کو کیڈٹ کالج اوکاڑہ میں
سالانہ محفلِ میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران، عالمی مذہبی
اسکالر مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی تھے۔ اس محفل میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ کرام
اور کیڈٹ کالج کے اسٹوڈنٹس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نگران
شوریٰ مولانا
حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کو Guard of Honour بھی پیش کیا گیا۔
نگرانِ
شوریٰ نے اپنے بیان کا آغاز درودِ پاک کی فضیلت سے کیا۔ انہوں نے حدیثِ مبارک کا
حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کی دُشوار گزار گھاٹیوں سے جلد نجات پانے والا
شخص وہ ہوگا جس نے دنیا میں نبی کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
پر کثرت سے درود و سلام بھیجا ہو گا۔ کثرتِ درود سے انسان کو ذہنی اور روحانی سکون
میسر آتا ہے، کردار میں نکھار آتا ہے اور قوتِ ایمان مضبوط ہوتی ہے جو بالخصوص عسکری و تربیتی اداروں کے کیڈٹس کے لیے
انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مختلف درودِ پاک کا ذکر کرتے ہوئے "درودِ ابراہیمی"
کو سب سے افضل قرار دیا اور کیڈٹس کو روزانہ ایک مقررہ وقت نکال کر 1000 سے 1500
بار درود پاک پڑھنے کا معمول بنانے کی ترغیب دی۔
بیان کے دوسرے حصے میں نگرانِ شوریٰ نے 17 رمضان
المبارک 2 ہجری کو پیش آنے والے تاریخی غزوۂ بدر کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے
ہوئے بتایا کہ صرف 313 مسلمانوں نے ظاہری
سامانِ حرب (گھوڑے،
تلواریں، نیزے)
کم ہونے کے باوجود، جدید ترین جنگی ساز و سامان سے لیس کفار کے لشکرِ جرار کا
مقابلہ صرف اور صرف اللہ پاک پر کامل توکل اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بابرکت موجودگی کے اعتماد پر کیا۔انہوں
نے Hijri
Calendar کے آغاز کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ
اس کی ابتدا امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر
فاروق اعظم رضی
اللہ عنہ
نے ہجرتِ مدینہ کے سال سے فرمائی تھی۔
نگرانِ
شوریٰ نے صف بندی اور نظم و ضبط (Discipline) کی
اہمیت پر زور دیتے ہوئے میدانِ بدر کا ایک انتہائی رقت انگیز واقعہ بیان کیا کہ میدانِ جنگ میں حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مبارک چھڑی (Stick)
سے
صحابہ کرام کی صفیں سیدھی فرما رہے تھے۔ حضرت سواد انصاری رضی اللہ عنہ کا پیٹ
صف سے تھوڑا سا باہر تھا، تو آپ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
نے چھڑی سے اشارہ کر کے سیدھا ہونے کا فرمایا۔ اس پر صحابی نے قصاص (بدلے)
کا
تقاضا کیا۔ رحمت اللعالمین صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
نے فوراً اپنا مبارک پیٹ ظاہر فرما کر بدلہ لینے کی اجازت دی۔ حضرت سواد انصاری رضی
اللہ عنہ
نے آگے بڑھ کر بدلہ لینے کے بجائے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ اقدس کو چومنا شروع کر دیا۔ جب
آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت
فرمایا، تو صحابی نے عرض کیا کہ ”آقا! جنگ میں جا رہا ہوں، معلوم نہیں زندہ لوٹوں یا
نہیں، میری تمنا تھی کہ آخری بار آپ کے جسمِ اقدس کو چھو کر آخرت کا ذخیرہ بنا لوں“۔
نگرانِ شوریٰ نے ڈاکٹر اقبال کے اس شعر کا مفہوم بھی پیش کیا
شہادت
ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ
مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
تقریب
کے اختتام پر کیڈٹس اور اساتذہ نے نگرانِ شوریٰ کے اس جامع اور روح پرور بیان کو
سراہا اور اسے سیرتِ طیبہ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
اور عسکری نظم و ضبط کو یکجا کرنے والا ایک یادگار اور فکر انگیز پیغام قرار دیا۔
تقریب کے آخر میں ملک و ملت کی سلامتی اور کیڈٹس کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی
گئی۔
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام 02 ستمبر 2026ء بروز بدھ، نشتر میڈیکل
یونیورسٹی ملتان کے اسمبلی ہال میں ”میلاد
النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم“ کے سلسلے میں
سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مرکزی عنوان ”اسوۂ حسنہ کی
روشنی میں ہمارا کردار (Our Character
in Light of Uswa-e-Hasanah)“ تھا
جس سے نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی مولانا حاجی محمدعمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی نے خصوصی بیان کیا۔ تقریب میں سینئر پروفیسرز،
کنسلٹنٹ ڈاکٹرز، ہسپتال کےاونرز اور ایم بی بی ایس کے اسٹوڈنٹس نے بڑی تعداد میں
شرکت کی۔
نگرانِ
شوریٰ نے اپنے بیان کے دوران بتایا کہ 2 0ستمبر کو ”یومِ دعوتِ اسلامی“ کی
مناسبت بھی حاصل ہے، کیونکہ 1981ء میں امیرِ اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس دینی و اصلاحی تحریک کا آغاز کیا
تھا اور آج اسے 45 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اِن 45 برسوں میں یہ دینی تحریک دنیا کے
تقریباً 190 ممالک میں پھیل چکی ہے، جہاں فیضانِ مدینہ، جامعۃ المدینہ، مدرسۃ المدینہ،
دار المدینہ اور خواتین کے لیے فیضانِ صحابیات جیسے عالمی شعبہ جات قائم ہیں۔
ڈاکٹرز
کی تربیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر بات کرتے ہوئے مولانا عمران عطاری نے کہا کہ
ڈاکٹرز مریضوں کو محض ”کلائنٹ“ یا ”کسٹمر“ سمجھ کر صرف بینک بیلنس
بنانے کی فکر نہ کریں، بلکہ طب کا شعبہ انسانوں کی حقیقی خدمت اور اللہ کی رضا کا
بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے انسان اور ڈاکٹرز کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ
تمام تر جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے باوجود ایک وقت ایسا آتا ہے جب ڈاکٹر بھی یہی
کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ”اب صرف دعا کریں“۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ
انسان چاہے کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، اصل قدر و اختیار صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ
کے
پاس ہے۔
بیان
میں دورِ حاضر کے سوشل میڈیا چیلنجز اور اخلاقی تنزلی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
نگرانِ شوریٰ نے بتایا کہ دعوتِ اسلامی اپنے ”مدنی چینل“ اور سوشل میڈیا کے ذریعے (جس
پر 7 کروڑ سے زائد فالوورز ہیں) مثبت اسلامی تعلیمات عام کر رہی ہے۔ فحش
اور منفی کارٹونز کے سدِباب کے لیے بچوں کے لیے اسلامی اور اخلاقی Cartoons
تیار کیے گئے ہیں۔ مدنی کلینکس کے ذریعے کم سے کم خرچ پر علاج معالجے کے ساتھ ساتھ
زلزلہ، سیلاب اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ دعوتِ
اسلامی کے دینی و اخلاقی ماحول کی برکت سے 2026ء تک 30 سے 35 ہزار سے زائد غیر
مسلم اسلام قبول کر چکے ہیں۔
تقریب
کے اختتام پر نگرانِ شوریٰ نے تمام حاضرین کو اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے، مساجد کو
آباد کرنے اور اپنے پیشہ ورانہ شعبوں میں ایمانداری و شفقت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین
کی۔آخر میں صلوۃ و سلام اور دعا پڑھی گئی۔
دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام یکم ستمبر 2026ء کو فور سیزنز ہال، نثار صدیقی روڈ IBAسکھر
میں ”عظیم الشان مولدُ النبی صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سیمینار“ کا انعقاد کیا
گیا جس میں نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ
مولانا حاجی عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی نے خصوصی شرکت کی اور بیان فرمایا۔
اس
تقریب میں IBAسکھر
کے پرو وائس چانسلر، فیکلٹی ممبران، اساتذہ کرام اور یونیورسٹی کے طلبہ نے بڑی
تعداد میں شرکت کی اور نگرانِ شوریٰ کے خیالات و نصائح سے مستفید ہوئے۔ اس موقع پر
نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری
بھی موجود تھے۔
نگران
شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نوجوانوں،
بالخصوص یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ مبارکہ کو زندگی کے تمام
شعبوں میں مشعلِ راہ بنایا جائے، عصرِ حاضر میں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی
اقدار، کردار سازی اور خوفِ خدا کے فروغ کی ضرورت کو اُجاگر ہماری ذمہ داری ہے، اس
کے علاوہ طلبہ کو نصیحت کی گئی کہ وہ اپنی
سائنسی و دنیاوی تعلیم کو معاشرے اور دین کی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔
سیمینار
کے اختتام پر امتِ مسلمہ کی سلامتی، ملک و ملت کی ترقی، اور ساری زندگی صراطِ
مستقیم پر قائم رہنے کے لیے دعا کی گئی۔ IBA کے انتظامیہ اور طلبہ نے تقریب
کے انعقاد کو بے حد سراہا اور اسے ایک یادگار و برکت والی نشست قرار دیا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ، ٹنڈو جام میں
”سیرتِ مصطفیٰ سیمینار“ کا انعقاد
ڈائریکٹوریٹ
جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ، ٹنڈو جام کے مین آڈیٹوریم میں 31 اگست 2026ء بروز پیر”سیرتِ
مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سیمینار“ کا
انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی میزبانی ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ ڈاکٹر
مظہر الدین کاریو نے کی۔ اس تقریب میں زرعی سائنٹسٹ، P.H.D
اسکالرز، محققین، ڈائریکٹوریٹ کے افسران، اسٹوڈنٹس اور پردے رہ کر طالبات اور خواتین
اسٹاف نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع
پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور اراکین شوریٰ حاجی فاروق جیلانی
عطاری اور حاجی محمد علی عطاری بھی موجود
تھے۔
سیمینار
کے مہمانِ خصوصی دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد
عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی تھے۔ انہوں نے ”تعلیماتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور
آج کا مسلمان (The Teachings of the Holy
Prophet and Today’s Muslim ) “ کے
عنوان پر حکمت و نصیحت سے بھرپور سنتوں بھرا بیان فرمایا۔
مولانا
عمران عطاری نے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا کہ
انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ (20 سے 40 سال) تعلیم حاصل
کرنے، روزگار تلاش کرنے اور گھر سمیٹنے میں گزار دیتا ہے۔ 50 سال کی عمر تک پہنچتے
پہنچتے انسان بچوں کی تعلیم اور پرورش کی فکر میں گھلتا رہتا ہے اور خود اپنے لیے
کچھ نہیں کر پاتا۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیاوی غم، بیماریاں اور پریشانیاں اس فانی
دنیا کا حصہ ہیں جبکہ
حقیقی اور دائمی سکون صرف اور صرف جنت میں ہے۔
انہوں
نے شرکا کو متوجہ کیا کہ دنیا میں مسلسل محنت اور دُکھ اٹھانے کے بعد اگر قبر و
آخرت میں بھی سختی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ انسان کی شدید نادانی ہے۔ عقلمند شخص
وہ ہے جو دنیاوی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، باقاعدگی سے نماز کی پابندی، سچائی،
دیانتداری اور عدل و انصاف کی زندگی اپنا کر اپنی آخرت بہتر بنائے۔
دورانِ
بیان نگرانِ شوریٰ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے عشقِ مصطفیٰ
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دلنشین
مثالیں پیش کیں: ٭مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ: جب آپ سے
پوچھا گیا کہ آپ کو حضور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
سے کتنی محبت ہے، تو آپ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیں
اپنے مال، اولاد، والدین اور سخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب ہیں“۔ ٭حضرت
عبداللہ بن عمر رضی
اللہ عنہما:
پاؤں سن ہونے پر اپنے سب سے محبوب ہستی یعنی نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ مبارک ”یا محمد!“ پکار
کر شفایاب ہوئے۔ ٭حضرت انس رضی اللہ عنہ: حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سالن میں
سے کدو شریف (لوکی)
تلاش
کر کے تناول فرماتے دیکھا تو اسی دن سے خود بھی کدو شریف سے محبت کرنے لگے۔
بیان کے اختتام پر انہوں نے تمام اسٹوڈنٹس، سائنسٹسٹ
اور پردے میں موجود طالبات کو نصیحت کی کہ وہ اپنی زندگیوں کو مغرب یا فلمی دنیا
کے بجائے سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
کے سانچے میں ڈھالیں۔ آنکھیں بند ہوں تو مدینے والے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ادائیں اور سنن یاد آئیں، کیونکہ
سچی کامیابی اطاعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
میں ہی مضمر ہے۔
یہ
روحانی و اصلاحی تقریب ملک و قوم کی سلامتی، زرعی ترقی اور امتِ مسلمہ کے لئے دعا
پر اختتام پذیر ہوئی اور بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
میں
درود سلام پڑھا گیا۔
دعوتِ
اسلامی کے شعبہ تعلیم کے زیرِ اہتمام 30 اگست 2026ء کو J.N.J بینکوئٹ بحریہ کالج میر پور خاص روڈ میں
اساتذہ، اسکول اونرز، پروفیسرز اور تعلیم سے وابستہ شخصیات کے لئے ایک گرینڈ
اجتماع (Teachers'
Grand Congregation) کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب
میں نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی، مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی نے خصوصی بیان فرمایا۔ نگران شوریٰ نے ”فرامینِ
مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی
روشنی میں ہماری ذمہ داریاں (Our
Responsibilities in Light of the Teachings of the Holy Prophet)
“کے
موضوع پر حکمت و بصیرت سے لبریز بیان فرمایا۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت
حاجی محمد شاہد عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔
نگرانِ
شوریٰ نے اپنے خطاب میں جدید تعلیمی نظام کے المیے، اساتذہ اور والدین کی ذمہ داریوں،
اصلاح و تربیت کے نبوی اسالیب اور تعلیمی اداروں میں پھیلتی ہوئی منشیات کی نحوست
اور اس کی روک تھام پر تفصیلی گفتگو کی۔
دورانِ
بیان مولانا محمد عمران عطاری نے فرمایا کہ اصلاح عموماً طبعی طور پر انسان کو
ناگوار گزرتی ہے کیونکہ یہ انجکشن کی چبھن کی طرح ہوتی ہے، لیکن جس طرح انجکشن میں
شفا چھپی ہوتی ہے، اسی طرح اصلاح میں انسان کی بہتری اور شفا پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں
نے نصیحت کی کہ کسی کی اصلاح یا تربیت کرنے کے بعد اس سے یہ نہ پوچھا جائے کہ ”بُرا
تو نہیں لگا؟“ کیونکہ اصلاح بنیادی طور پر چبھتی ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد سیرتِ
مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق
افراد کی کردار سازی اور تزکیہ کرنا ہے۔
نگران
شوریٰ نے بیان کرتے ہوئے بتایاکہ رسول
اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ
مبارکہ کا ایک بہت بڑا حصہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی
تربیت پر محیط تھا۔ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب صحابہ کرام کی
موجودگی کا ایک بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ امت عملی طور پر دین کے احکام و مناسک کو سیکھ
لے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صرف علم
عطا نہیں فرمایا بلکہ ”وَيُزَكِّيهِمْ“ کے
تحت نفوس کا تزکیہ بھی فرمایا۔
نگرانِ
شوریٰ نے عصرِ حاضر کا سب سے بڑا بحران یہ قرار دیا کہ موجودہ تعلیمی اداروں (خصوصاً
عصری و سیکولر اداروں) میں ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کی شکل میں تعلیم تو دی
جا رہی ہے، لیکن اخلاقی تربیت، خوفِ خدا، امانت، دیانت، اور خیر خواہی مفقود ہوتی
جا رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ دینی مدارس میں استاد کا ادب اور احترام آج بھی
زندہ ہے کیونکہ وہاں علم کے ساتھ ادب و تربیت کا عنصر غالب ہوتا ہے۔
حاجی
عمران عطاری نے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں بڑھتی ہوئی منشیات کی نحوست پر گہری
تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سنگین مسئلے پر پنجاب سمیت مختلف
مقامات پر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، جامعہ کی انتظامیہ اور ایوانِ صدر کی سطح تک جا
کر پرسنلی بات کر چکے ہیں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو نشے کی باڑ سے بچایا جا سکے۔
نشہ آور اشیاء نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں اور اس کی وجہ سے استاد کے احترام کا
تقدس بھی متاثر ہو رہا ہے۔
بیان
میں انہوں نے کہا کہ کریکٹر بلڈنگ (Character
Building) کی پہلی نرسری والدین کا گھر
ہے۔ بچے دن کا زیادہ تر وقت گھر میں گزارتے ہیں، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ
وہ ان کے لیے نیک اور متقی اساتذہ کا انتخاب کریں۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی چاہیے کہ
وہ صرف سلیبس اور نصاب پورا کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے عمل، کردار اور نماز
کی پابندی کے ذریعے طلبہ کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔
اجتماع
کے اختتام پر شرکا نے نگرانِ شوریٰ کے خیالات کو سراہا اور اپنے اداروں میں تعلیمی
ماحول کے ساتھ ساتھ اخلاقی و دینی تربیت کو یکجا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ آخر میں
صلوۃ و سلام پڑھا گیا اور بارگاہِ ربُّ العزت میں دعا کی گئی۔
دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام 30 اگست 2026ء کو بھٹائی
ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج، میرپور خاص میں محفلِ میلادُ النبی صلی اللہ علیہ
والہ وسلم
کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مرکزی مہمان نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی، مولانا
حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی تھے جنہوں نے ”سنت کی روشنی میں زندگی گزارنا(Living
Life in the Light of Sunnah) “ کے
عنوان پر شعبہ طب سے وابستہ افراد، ڈاکٹرز، اور میڈیکل اسٹوڈنٹس کے درمیان حکمت و
دانائی سے بھرپور بیان فرمایا۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد
عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔
مولانا
محمد عمران عطاری نے اپنے بیان میں جہاں سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طبی و سائنسی حکمتوں کو اُجاگر کیا،
وہیں میڈیکل کی دنیا میں بڑھتے ہوئے کمرشلائزیشن، اخلاقی ذمہ داریوں اور مریضوں کے
ساتھ ہمدردانہ رویے کی ضرورت پر اہم گفتگوکی۔
نگرانِ
شوریٰ نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آقا علیہ الصلوۃ
والسلام
نے آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ عمل جسمانی
صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے موجودہ
دور کے ایئر کنڈیشننگ (AC) کے استعمال کی مثال دیتے ہوئے
بتایا کہ اچانک شدید ٹھنڈے ماحول سے گرمی میں جانا یا تیز دھوپ میں نکلنا بلڈ
سرکولیشن اور جسم کے درجہ حرارت کو متاثر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں تدریجی طریقہ (Step-by-step
transition) اپنایا جاتا ہے تاکہ جسمانی
نظام معتدل رہے۔
حاجی
عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے طبی
شعبے کو ایک مقدس و عظیم پیشہ قرار دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب اس
میں محض پیسہ کمانے کا عنصر شامل ہو جاتا ہے تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ بیان
میں بعض معالجین کی جانب سے مریضوں کو بلاضرورت بار بار بلانے (Re-visits)
اور
بعض ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز کو مارکیٹنگ کا ذریعہ بنا کر مریضوں کو بلاوجہ ایڈمٹ
رکھنے کے رجحان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ علاج میں کاروباری ذہنیت کے
بجائے نبوی شفقت اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذہن دیا گیا۔
میڈیکل
اسٹوڈنٹس کو مخاطب کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے کہا کہ آنے والے وقت میں وہ مختلف اعلیٰ
عہدوں اور ایسوسی ایشنز کا حصہ بنیں گے۔ اسٹوڈنٹس کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ طبی شعبے
میں موجود برائیوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق امت
کی خیر خواہی کو اپنا شعار بنائیں۔
نگرانِ
شوریٰ نے جعلی ڈگریوں اور رشوت کے بل بوتے پر کلینک چلانے والوں کو انسانی جانوں
کے لیے شدید خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جعلی افراد اور عطائیوں کی نااہلی
کی وجہ سے اصل، محنتی اور کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اور ادارے بدنام ہوتے ہیں۔ اس موقع پر
انہوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بھی پیش کیا جہاں ایک غلط انجکشن کی وجہ سے مریض کا
بازو شدید متاثر ہوا اور اس بات پر زور دیا
کہ ایک شخص کی غفلت پورے ادارے کا نام خراب کر دیتی ہے۔
مولانا
عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے بھٹائی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج کےاسٹوڈنٹس کو
نصیحت کی کہ وہ کل عملی زندگی میں جہاں بھی جائیں، ان کا کردار اور پیشہ ورانہ رویہ
(Professionalism) ان
کے ادارے کی شناخت بنے گا۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ بہترین اخلاق اور قابلیت کے
ساتھ اپنے ادارے کا نام روشن کریں۔
محفل
میلاد میں بھٹائی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج، میرپور خاص کے اسٹوڈنٹس، ڈاکٹرز اورکالج
کے دیگراسٹاف شریک تھے جنہوں نے نگرانِ
شوریٰ کے خیالات کی تحسین کی اور ان اخلاقی و دینی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا عزم
ظاہر کیا۔آخر میں میڈیکل کالج کی جانب سے نگران شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کو شیلڈز پیش کی گئی جبکہ صلوۃ و سلام اور دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔
آج رات جہلم کے ہفتہ وار اجتماع میں نگرانِ شوریٰ
حاجی عمران عطاری بیان فرمائیں گے
تبلیغِ
قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام ہر
جمعرات کی شام دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا باقاعدہ انعقاد کیا
جاتا ہے۔ معمول کے مطابق آج رات بھی عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت ملک پاکستان
کے مختلف شہروں اور دنیا کے تقریباً 100 سے زائد ممالک میں قائم مدنی مراکِز و
مساجد میں ہزاروں مقامات پر یہ اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں جن میں لاکھوں کی تعداد
میں عاشقانِ رسول شرکت کریں گے۔
اجتماع
کا آغاز نمازِ مغرب کے بعد تلاوتِ قرآنِ پاک اور بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیہ نعت
سے ہوتا ہے۔ تلاوت و نعت کے بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین و مبلغینِ
دعوتِ اسلامی مخصوص دینی و اخلاقی موضوعات پر سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
تفصیلات
کے مطابق آج رات گراؤنڈ گورنمنٹ ہائی اسکول نزد DHQجہلم پنجاب
سے مدنی چینل پر براہِ راست (LIVE) نشر
ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں
رات 9:15 بجے دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران
عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اجتماع
کے لئے گورنمنٹ ہائی اسکول کے وسیع و عریض گراؤنڈ کا انتخاب کیا گیا ہے جو کہ DHQ
ہسپتال کے بالکل قریب واقع ہے۔ انتظامی کمیٹی کے مطابق شرکا کے بیٹھنے اور گاڑیوں
کی پارکنگ کے لئے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری
کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
تمام
عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ آج رات دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں
خود بھی شرکت فرمائیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لانے کی نیت کریں۔
09 ستمبرکو جناح کنونشن سینٹر میں ” میلاد
اجتماع اینڈ ایوارڈ ڈسٹری بیوشن سیریمنی“ کا انعقاد کیا جائیگا
دعوتِ
اسلامی کے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام 09 ستمبر 2026ء کو جناح کنونشن سینٹر،اسلام
آباد میں ” میلاد اجتماع
اینڈ ایوارڈ ڈسٹری بیوشن سیریمنی“ منعقد ہونے جارہا ہے۔ اس تقریب کا
آغاز رات 9:00 بجے تلاوت قرآن پاک سے کیا جائے گا۔
تقریب
میں خصوصی بیان رئیس دارالافتاء اہلسنت شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم
عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی اور دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ
کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی فرمائیں گے۔
تقریب
کی خصوصیت:
کنز
المدارس بورڈ اور دینی شعبہ جات میں نمایاں
خدمات و کارکردگی کے حامل افراد میں اعزازات اور ایوارڈز کی تقسیم کاری کی جائے
گی۔
تمام
عاشقانِ رسول سے اس تقریب میں شرکت کرنے کی درخواست ہے۔
ہفتہ وار مدنی مذاکرہ، 5 ستمبر کو امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم
العالیہ خصوصی تربیت و رہنمائی فرمائیں
گے
دعوتِ اسلامی
کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہر ہفتے کی رات باقاعدگی سے شروع ہونے والا”مدنی
مذاکرہ“ 05 ستمبر 2026ء بمطابق 23 ربیع
الاول 1448ھ کو بھی رات تقریباً 09:00 بجے منعقد کیا جائے گا۔
مختلف ذرائع
سے ملنے والی معلومات کے مطابق اس مدنی مذاکرے میں امیرِ اہلِ سنت، بانیِ دعوتِ
اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ خصوصی شرکت
فرمائیں گے۔
علاوہ ازیں امیرِ
اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ مدنی مذاکرے میں شریک عشاقِ رسول کو مدنی
پھولوں سے نوازیں گے اور ان کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت و رہنمائی فرمائیں
گے۔
آج رکن شوریٰ حاجی عبد الحبیب عطاری مدنی چینل پر
ہفتہ وار اجتماع میں بیان فرمائیں گے
دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام ہر جمعرات کی طرح آج بھی دنیا بھر میں ہزاروں مقامات پر
ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان اجتماعات کا بنیادی
مقصد امتِ مسلمہ کی اصلاح، دینی معلومات کی فراہمی، سنتوں کے احیاء اور فکرِ آخرت
پیدا کرنا ہے۔ پاکستان کےعالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی اور تمام چھوٹے بڑے شہروں سمیت دنیا بھر میں یہ
اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔
اجتماع
کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوگا جس کے بعد نعت خواں حضرات بارگاہِ رسالت
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں گلدستہٴ
نعت پیش کریں گے۔تلاوت و نعت کے بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین و
مبلغین دعوت اسلامی قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور اسلافِ کرام کے واقعات کی روشنی
میں معاشرتی، اخلاقی اور روحانی تربیتی امور پر بیان فرمائیں گے۔
تفصیلات
کے مطابق آج رات مدنی چینل پر براہِ راست (Live)
نشر
ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری،
مدنی مرکز فیضان مدینہ لطیف گیٹ ٹنڈو آدم سندھ سے سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اس کے
علاوہ جامع مسجد چرڈ مہتاب ڈیفنس میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، رضائے
مصطفٰے مسجد کورنگی نمبر 4 کراچی میں رکن شوریٰ حاجی محمد امین عطاری، مدنی
مرکزفیضان مدینہ لالہ زار کالونی بھلوال مین رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل
عطاری مدنی ، مدنی مرکز فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں رکن شوریٰ حاجی
یعفور رضا عطاری اور جامع مسجد غوثیہ
، بولی پاڑہ (قریب
ٹرک ٹرمینل روڈ) C.D.A
، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد
المبین عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
2 ستمبر کو ” یومِ دعوتِ اسلامی “ کا انعقاد: امیرِ اہل سنت
کا خصوصی بیان ہوگا
دعوتِ اسلامی کو دینِ اسلام کی خدمات سرانجام دیتے
ہوئے 40 سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران دعوتِ اسلامی نے
جہاں بے شمار مساجد تعمیر کروائیں اور لوگوں کو دینِ اسلام کی طرف راغب کیا وہیں اس کی کاوشوں اور دعوت سے متعدد غیر مسلموں
نے بھی اسلام قبول کیا۔ دعوتِ اسلامی نے مختلف شعبہ جات کے ذریعے دینِ اسلام کی
ترویج و اشاعت کا اہم بیڑا اٹھا رکھا ہے۔
اسی سلسلے میں ان شاء اللہ
الکریم 02 ستمبر 2026ء بمطابق 20
ربیع الاول 1448ھ بروز بدھ تقریباً رات
09:00 بجے ” یومِ دعوتِ اسلامی “ کا عظیم الشان اجتماع منعقد کیا جا رہا ہے جسے مدنی چینل
پر لائیو (Live) نشر کیا جائے گا۔
اس موقع پر بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلَ سنت
حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ بالخصوص بیان فرمائیں گے اور عاشقانِ رسول کو مدنی
پھولوں سے نوازیں گے۔
اس اجتماع میں دعوتِ اسلامی کے اہم ذمہ داران و
علمائے کرام بھی سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے اور لوگوں کی دینی و اخلاقی رہنمائی
و تربیت کریں گے، جن میں درج ذیل نام شامل ہیں:
٭شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم عطاری مدظلہ
العالی (رئیس
دارالافتاء اہلسنت) ٭ نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ
مولانا حاجی محمد عمران عطاری٭ رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبدالحبیب عطاری ٭ رکنِ شوریٰ و نگرانِ
پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری ۔
Dawateislami