تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہر جمعرات کی رات دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں مرکزی اجتماع عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں منعقد ہوتا ہےجبکہ ملک بھر کے تمام اضلاع اور دنیا بھر میں قائم مدنی مراکز و مساجد میں نماز مغرب کے بعد یہ سلسلہ ہوتا ہے۔

اجتماع کا باقاعدہ آغاز بعد نمازِ مغرب تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوتا ہےجس کے بعد بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں نعتِ رسولِ مقبول پیش کی جاتی ہے۔ اجتماع کا مرکزی حصہ سنتوں بھرا بیان ہوتا ہےجو کہ اراکینِ شوریٰ و مبلغین دعوتِ اسلامی کرتے ہیں۔ بیان میں اسلام کے بنیادی عقائد، نماز و روزے کی پابندی، والدین کے حقوق، اخلاقیات، سنتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر عمل پیرا ہونے اور آخرت کی فکر جیسے موضوعات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج رات فٹبال اسٹیڈیم جھنگ روڈدار السلام ٹوبہ سے مدنی چینل پر براہِ راست (LIVE) نشر ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں رات 8:00بجے رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اس کے علاوہ مدنی مرکز فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ لالہ زار کالونی بھلوال میں رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل عطاری مدنی اور B.Mدیپوجامع مسجد عبد الجلیل سیتاکنڈ، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

بیان کے بعد شرکا کو روزمرہ زندگی کی سنتیں اور آداب (مثلاً کھانے، پینے، سونے، اور مسجد میں داخل ہونے کی سنتیں) عملی طور پر سیکھائے جاتے ہیں۔ آخر میں رقت انگیز ذکرِ الٰہی اور اجتماعی دعا ہوتی ہےجس میں ملک و قوم کی سلامتی، امتِ مسلمہ کی اتحاد، بیماروں کی شفایابی اور گناہوں کی معافی کے لیے خصوصی التجا کی جاتی ہے۔

تمام عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ آج رات دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں خود بھی شرکت فرمائیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لانے کی نیت کریں۔


بڑی گیارہویں شریف کے مبارک موقع پر عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 11 ربیع الآخر 1448ھ بمطابق 23 ستمبر 2026ء بروز بدھ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں عظیم الشان ”اجتماعِ غوثیہ“ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اجتماع کا باقاعدہ آغاز بدھ کی رات تقریباً 8:45 بجے ہوگا جس میں بالخصوص شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا خصوصی بیان اور مدنی مذاکرہ شامل ہے۔

اس پروگرام میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد شرکت کرے گی جبکہ فیضانِ مدینہ کراچی میں منعقد ہونے والے اس ”اجتماعِ غوثیہ“ کی تمام ایکٹیویٹیز مدنی چینل پر براہِ راست (Live) نشر کی جائیں گی۔

دنیا بھر کے عاشقانِ رسول مدنی چینل کے علاوہ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی اس مدنی مذاکرے اور بیان میں آن لائن شرکت کر سکیں گے۔


دعوتِ اسلامی کے تعلیمی نیٹ ورک ”ایجوکیشن کونسل“ کے زیرِ انتظام 09 ستمبر 2026ء کو ”میلاد اجتماع و ایوارڈ ڈسٹری بیوشن سیریمنی 2026ء“ کا انعقاد کیا گیا۔ جناح کنونشن سینٹر،اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تقریب کا بنیادی مقصد میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکتیں سمیٹنا اور دعوتِ اسلامی کے مختلف تعلیمی اداروں بشمول کنزالمدارس بورڈ اور دارُالمدینہ انٹرنیشنل اسلامک اسکول سسٹم کے Position Holders اور High achievers اسٹوڈنٹس کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

دعوتِ اسلامی جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں دینی و فلاحی خدمات سرانجام دے رہی ہے، وہیں Pre-primary سے لے کر Higher Education تک کا ایک مکمل تعلیمی Ecosystem قائم کر چکی ہے جو ”ایجوکیشن کونسل آف دعوتِ اسلامی“کے تحت فعال ہے۔

پروگرام میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، مدارس اہلسنت کے علمائے کرام، جامعۃالمدینہ، مدرسۃ المدینہ، دار المدینہ اسکول ، کالج اینڈ یونیورسٹی کے ٹیچرز، پروفیسرز، لیکچرار اور اسٹوڈنٹس سمیت طلبہ کے سرپرست اور کثیرتعداد میں عاشقانِ رسول شریک ہوئے۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا جس کی سعادت کنز المدارس بورڈ پاکستان سے حسنِ قرأت Competition میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم محمد زبیر ندیم (مدرسۃ المدینہ فضلِ محمدی، فیض آباد) نے حاصل کی۔ تلاوت کے بعد بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانہٴ عقیدت پیش کرنے کے لیے دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی (BS in Islamic Banking and Finance) کے اسٹوڈنٹس عبدالحسیب عطاری کو مدعو کیا گیا جنہوں نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کا مشہور کلام ”ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیں“انتہائی خوش الحانی سے پیش کیا۔

میلاد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور تفقہ فی الدین کی اہمیت: مفتی محمد قاسم عطاری کا فکر انگیز بیان

رئیس دارُالافتاء اہل سنت شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے ” میلاد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور تفقہ فی الدین کی اہمیت “ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا، مفتی صاحب نے اپنے علمی و روحانی بیان کی شروعات فرمانِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ”زینوا مجالسکم بالصلوة علی“ (اپنی مجلسوں کو مجھ پر درود پڑھ کر سجایا کرو) سے کی۔

مفتی قاسم عطاری نے میلاد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہ عظیم ہستی ہیں جن کی آمد کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد دعا فرمائی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو احمد مجتبیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی آمد کی بشارت دی، نیز قرآنِ کریم میں اللہ تعالٰی نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو نور، برہان اور رحمت للعالمین بنا کر بھیجنے کا ذکر فرمایا۔

آپ نے بیان کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ کے آخری نبی ہیں۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا لیکن قیامت تک اسلام، شریعت اور احکامِ الٰہی کا جاری رہنا ضروری ہے۔ اس بقا اور ترویج کے لیے اللہ پاک نے علمائے کرام اور اہلِ علم کو انبیاء کا وارث بنایا تاکہ وہ امت تک دین کا علم اور تربیت پہنچائیں۔ نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم صرف معلومات دینے والے نہیں بلکہ معلمِ اعظم اور تزکیہ فرمانے والے تھے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابہ کرام رضی اللہُ عنہ کی ایسی تربیت فرمائی کہ جن کی زندگیوں کا مقصد صرف رضائے الٰہی بن گیا۔ دین کا بنیادی علم (عقائد، نماز، روزہ، حلال و حرام) حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے، جبکہ دین کی گہری سمجھ (تفقہ فی الدین) حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے جس کے لیے ہر دور میں ایک مخصوص گروہ کا نکلنا ضروری ہے۔

علم دین کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے مفتی صاحب نے مزید کہا کہ اصحابِ صفہ، صحابہ کرام رضی اللہُ عنہ ، تابعین اور ائمہ مجتہدین (امام اعظم، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل) اور محدیثین نے علمِ دین کو دنیا بھر میں پھیلایا۔ دینی مسائل، عقائد کی حفاظت، نکاح و طلاق اور شرعی راہنمائی کے لیے مدارس اور جامعات کی وجودیت ناگزیر ہے۔

دعوت اسلامی کی تعلیمی و تربیتی خدمات پر کلام کرتے ہوئے مفتی قاسم عطاری نے کہا کہ امیرِ اہل سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی سرپرستی میں دعوتِ اسلامی قرآنی و نبوی فیضان کو آگے بڑھا رہی ہے، مدارس المدینہ میں لاکھوں بچے قرآنی آیات کی تلاوت و حفظِ قرآن کر رہے ہیں۔ جامعات المدینہ میں کتاب و حکمت، قرآن و حدیث، فقہ اور صرف و نحو کی تعلیم دی جارہی ہے۔ دیگر شعبہ جات و اجتماعات کے ذریعے امت کے تزکیہ، اصلاح اور نیکی کی دعوت کا فر یضہ سر انجام دیا جارہا ہے۔

تقریب میں انعامات کی تقسیم کاری پر مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ پوزیشن ہولڈرز اسٹوڈنٹس کو ایوارڈز اور انعامات دینا دراصل نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اس وصیت پر عمل ہے جس میں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دور دراز سے علم سیکھنے آنے والوں کی تکریم اور اکرام کا حکم فرمایا تھا۔

امانت داری اور کردار سازی: نگرانِ شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری کا سنتوں بھرا بیان

جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی تقریب میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے” امانت داری اور کردار سازی “ کے موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔

امانت داری کا شرعی و اخلاقی تصور پر گفتگو کرتے ہوئے نگران شوریٰ نےحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ایک چرواہے کا واقعہ بیان کیا جس میں چرواہے نے مالک کی عدم موجودگی میں بھی خوفِ خدا کا مظاہرہ کرتے ہوئے بکری بیچنے سے انکار کر دیا کہ ”میرا رب تو مجھے دیکھ رہا ہے“۔ ہر وہ حق جس کی حفاظت اور ادائیگی لازمی ہو، امانت کہلاتاہے۔ اس میں شرعی امانتیں (اللہ کے حقوق) اور بندوں کے حقوق (Human Rights) دونوں شامل ہیں۔ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دشمنوں کے درمیان بھی ”امین“ کے طور پر مشہور تھے، حتیٰ کہ ہجرت کی رات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کفار کی امانتیں لوٹانے کی ذمہ داری سونپی۔ حدیثِ پاک کی روشنی میں واضح کیا گیا کہ امانت میں خیانت کرنے والے کا ایمان کامل نہیں ہوتا اور جھوٹ، وعدہ خلافی و خیانت منافق کی علامتیں ہیں۔

تعلیمی نظام میں ”تربیت اور کردار سازی“ پر کلام کرتے ہوئے حاجی عمران عطاری نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نظام صرف ڈگری، نوکری اور پیسہ کمانے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جبکہ اس میں سے اخلاق، حیا، امانت داری اور خوفِ خدا کا عنصر غائب ہے۔ اگر ایک شخص ڈاکٹر، وکیل، انجینئر یا حکمران بن جائے لیکن اس کے اندر رحم دلی، عدل، دیانت داری اور خوفِ خدا نہ ہو، تو وہ معاشرے کے لیے نفع بخش کے بجائے تباہی کا باعث بنتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں نشہ، بے حیائی اور بدعنوانی کو روکنے کے لیے اساتذہ کی بنیادی اخلاقی و دینی تربیت کی ضرورت ہے۔

اقتدار، عہدہ اور عوامی خدمت پر نگران شوریٰ کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے یا حکومت میں ذمہ داری یا عہدہ ملنا ایک سخت آزمائش ہے۔ حدیث کے مطابق جو حاکم اپنی رعایا کے حقوق غصب کرتے ہوئے مرے، اس پر جنت حرام کر دی جاتی ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃُ اللہِ علیہ کا خلیفہ بننے پر اپ کے رو پڑنے کا واقعہ نقل کیا گیا کہ وہ امت کی ذمہ داری اور بروزِ قیامت اللہ کی بارگاہ میں جواب دہی کے خوف سے کانپ اٹھے تھے۔

دعوت اسلامی کے دینی و تعلیمی خدمات کا تعارف پیش کرتے ہوئے حاجی عمران عطاری نے فرمایا کہ دعوتِ اسلامی مشاورت، اصلاح اور ”مسجد بھرو تحریک“پر یقین رکھتی ہے تاکہ معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ہو اور جیلیں خود بخود خالی ہو جائیں۔ 02 ستمبر 2026ء کو دعوتِ اسلامی کے 45 سال مکمل ہونے کے موقع پر یہ سفر دنیا کے 190 سے زائد ممالک تک پھیل چکا ہے۔ 7,000 سے زائد مساجد، 24,000 سے زائد مدرسۃ المدینہ (حفظ و ناظرہ)، اور 1,500 سے زائد جامعۃ المدینہ (درسِ نظامی) قائم ہیں۔ ان شاء اللہ اگلے 7 سالوں میں دعوتِ اسلامی سالانہ 12,000 علماء فارغ التحصیل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ ”دارالمدینہ اور کنز المدارس بورڈ“ ان تمام اداروں (اسکولنگ، کالج اور یونیورسٹی) کا بنیادی مقصد دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ خوفِ خدا، عشقِ رسول، امانت داری اور حیا پر مبنی کردار سازی (Character Building) کرنا ہے۔

Documentary ویڈیو:

Documentary میں ایجوکیشن کونسل آف دعوت ِاسلامی کے چلنے والے تعلیمی و تحقیقی ادارے کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی، چند معلومات ملاحظہ کیجئے:

٭ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن: دارالمدینہ اور فیضان اسلامک اسکول سسٹم (310+ برانچز، 52,000+ طلبہ، میٹرک 92% اوورال رزلٹ، O/A لیولز اور آن لائن اسکولنگ)۔

٭بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن (کنز المدارس بورڈ):جامعۃالمدینہ، مدرسۃ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی جدید علوم (سوشل سائنسز، کمپیوٹر، لینگویجز) کا دینی علوم کے ساتھ امتزاج۔ 7 لاکھ سے زائد فارغ التحصیل اور ساڑھے 5 لاکھ سے زائد زیرِ تعلیم اسٹوڈنٹس۔

٭بورڈ آف ہائر ایجوکیشن: دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی (HEC سے منظور شدہ، جامعہ الازہر مصر اور جامعہ الامام الاعظم عراق سے علمی اشتراک)۔

٭تحقیقی و اشاعتی ڈپارٹمنٹس: مرکزِ خدمتِ حدیث شریف، دارالافتاء اہل سنت، اسلامک اکنامک سینٹر، شعبہ فقہ الحلال، اور اسلامک ریسرچ سینٹر (2,000+ کتب و رسائل، 40+ زبانوں میں تراجم، 18+ زبانوں میں ترجمہ قرآن)۔

Award Distribution:

تمام مراحل کے بعد کنز المدارس بورڈ کے تحت 2026ء تک مختلف سطح پر ہونے والے امتحات میں حصہ لے کر نمایاں پوزیشن لینے والے اسٹوڈنٹس، اکیڈمک ایجوکیشن بورڈ کے پوزیشن ہولڈرز، کنز المدارس بورڈ میں عمدہ کارکردگی کے حامل ممبران اور مختصر دنوں میں حفظ قرآن مکمل کرنے والے طلبہ میں Appreciation letter اور ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔

ایوارڈ تقسیم کرنے والی شخصیات:

شیخ الحدیث والتفسیرمفتی محمد قاسم عطاری ، نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری ، مفتی کفیل عطاری مدنی ، نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، اراکین شوریٰ حاجی محمد اسلم عطاری،مولانا حاجی عقیل عطاری مدنی، حاجی یعفور رضا عطاری، حاجی محمد اظہر عطاری، حاجی منصور عطاری، مولانا حاجی جنید عطاری مدنی، کنز المدارس بورڈ، دار المدینہ یونیورسٹی، جامعۃالمدینہ و مدرسۃ المدینہ کے سینئر عہدیداران اور پروفیسرزنے Position Holders طلبہ میں Awardتقسیم کئے۔

اختتامی مراحل:

تقریب کے اختتام پرتمام حاضرین نے حب الوطنی میں کھڑے ہوکر قومی ترانہ پڑھا ، بعد ازاں شرکا نے بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔آخر میں نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی عمران عطاری نے اختتامی دعا میں وطنِ عزیز کی سلامتی، استحکام اور امتِ مسلمہ بالخصوص فلسطین کے مظلوموں کے لیے غیبی مدد کی التجا کی۔

کنز المدارس بورڈ پاکستان کے تحت 2025ء تا 2026 مختلف شعبہ جات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس کے نام ملاحظہ کیجئے:

پوزیشن

نام مع ولدیت

شہر

Percentage

تخصص فی الفقہ الحنفی

Boys

1st

ملک سردار

کراچی

95.75%

1st

محمد حسین

کراچی

95.75%

2nd

محمد توقیر ناصر بن محمد علیم

لاہور

95.36%

3rd

عبد القادر عطاری بن لیاقت علی

فیصل آباد

94.33%

Girls

1st

بنت محمد تسلیم

کراچی

95.67%

2nd

بنت محمد جہانگیر

کراچی

93.42%

3rd

بنت معین کوٹھاری

کراچی

93.08%

تخصص فی الحدیث

1st

محمد کاشف

کراچی

99.08%

2nd

محمد شبیر رضا بن ضیاء

لاہور

99.00%

3rd

محمد ارشد خان بن زرین گل

کراچی

98.92%

تخصص فی الفقہ والاقتصاد الاسلامی

1st

فیض الرسول

کراچی

93.35%

2nd

محمد شہازیب بن محمدجمیل

کراچی

87.82%

3rd

تیمور احمد بن محمد اسلم صدیقی

لاہور

87.47%

تخصص فی الفقہ والحلال

1st

شیراز عالم

لاہور

88.77%

2nd

محمد انس بن سعید اختر

لاہور

82.69%

3rd

محمد آصف بن محمد مجید

لاہور

80.38%

تخصص فی الدعوۃوالارشاد

1st

بنت عابد حسین

لاہور

96.50%

2nd

بنت محمد حنیف

کراچی

90.90%

3rd

بنت عبد الجبار

کراچی

90.70%

الشھادۃ الثانویۃ العامۃ (Matric)

Boys

1st

محمد احمد

کراچی

97.25%

2nd

حمدان رفیق بن چوہدری محمد رفیق

لاہور

96.63%

2nd

محمد عثمان بن محمد رمضان

لاہور

96.63%

3rd

محمد نہال رضا بن شیر محمد قادر

کراچی

96.44%

Girls

1st

بنت محمد شفیق

حاصل پور

99.38%

2nd

بنت محمد افضل

گجرات

98.81%

3rd

بنت محمد مقصود

چشتیہ شریف

98.56%

الشھادۃ الخاصہ (F.A)

Boys

1st

محمدطیب فاروق

فیصل آباد

97.19%

2nd

مجاہد علی بن رحمت علی

گوجرانوالہ

79.13%

3rd

محمد احمد رضا عطاری خان بن محمد اظہر علی خان

بورے والا

76.75%

Girls

1st

بنت محمد رمضان

فیصل آباد

98.81%

2nd

بنت محمد اقبال

پاکپتن شریف

98.75%

3rd

بنت عبد الوحید

بھلوال

98.69%

الشھادۃ العالیہ (B.A)

Boys

1st

مستنصر اسمعیل

ملتان

97.94%

2nd

ضیاء الحسنین بن عابد علی

گوجوانوالہ

97.63%

3rd

محمد اویس رضا بن محمد نواز

ملتان

97.38%

Girls

1st

بنت عبد الرؤوف

میانوالی

98.75%

2nd

بنت نثار احمد

راولپنڈی

98.06%

3rd

بنت مدثر عقیل احمد

راولپنڈی

97.97%

الشھادۃ ُالعالمیہ (M.A)

Boys

1st

محمد سفیان رضا

کراچی

96.63%

2nd

توصیف حسین شاہ بن مبشر حسین شاہ

فیصل آباد

96.06%

3rd

تنویر احمد بن بشیر احمد

فیصل آباد

95.81%

Girls

1st

بنت نذیر احمد

میانوالی

96.94%

2nd

بنت غلام علی

سرگودھا

96.25%

3rd

، بنت تھڑد پوزیشن، بنت محمد شمیم

وہاڑی

95.63%

دار المدینہ انٹر نیشنل اسلامک اسکول اینڈ فیضان اسلامک اسکول /میٹرک

پنجاب

1st

بنت محمد افتخارخان

فیصل آباد

99.00%

2nd

بنت راشدحسین

سیالکوٹ

96.75%

3rd

بنت شاہداقبال

ملتان

96.67%

3rd

شیخ عبد الحسیب بن عامر الیاس

لاہور

96.67%

4th

بنت محمد فیصل

لاہور

96.58%

سندھ

1st

بنت احمد علی شیخ

لاڑکانہ

91.08%

2nd

بنت سلیم احمد شیخ

لاڑکانہ

91.05%

3rd

محمد فراز قادری بن محمد اعجاز انوار قادری

--

91.04%

4th

بنت محمد شہزاد

--

91.03%

5th

خلیل احمد بن نیاز حسین مستوئی

لاڑکانہ

91.08%

5th

بنت علی حیدر میمن

لاڑکانہ

91.02%

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیرہ غازی خان

1st

محمد صفدر

راجن پور

94.66%

حفظ القرآن

1st

محمد راشد

سکھر

3 ماہ 20 دن

2nd

محمد عمر رضا عطاری بن فاروق اعظم

لاہور

3ماہ 21دن

3rd

سید مبشر علی بن سید کاشف علی

حیدرآباد

4ماہ 5دن

دورۃ ُالتجوید وقراءت القرآن

Boys

1st

محمد سہیل

--

96.64%

2nd

رحمان علی بن فقیر محمد

کراچی

94.91%

3rd

محمد اویس بن محمد جمیل

کراچی

94.94%

Girls

1st

بنت محمد سلطان

ڈیرہ اسمعیل خان

87.90%

2nd

بنت شیخ طارق مسعود

سرگودھا

86.50%

3rd

بنت سرفراز حسین

سرگودھا

84.70%

Different Achievement Awards/2026

Boys

1st

عبد الاحمد

اسلام آباد

Toper of Hadees Memorization

1st

محمد عبد اللہ

فیصل آباد

Toper of Understanding the Seerah of the Holy Prophet

1st

محمد عدنان

گوجرانوالہ

Toper of Essay writer

1st

احمد رضا

--

Toper of English Language Proficiency

1st

محمد بلال رضا عطاری بن عدنان یوسف

شیخوپورہ

Toper of Quran Memorization

1st

زبیر ندیم بن محمد ندیم

فیصل آباد

Toper of Quran Recitation

1st

مقصود حسین بن محمد حنیف

پاکپتن

Toper of fiqh & Usool e Fiqh

1st

عبد المتین بن محمد آصف

کراچی

Toper of Arabic Language Proficiency

Girls

1st

بنت قمر رمضان

لاہور

Toper of Hadees Memorization

1st

بنت محمد شعیب

گجرات

Toper of Understanding the Seerah of the Holy Prophet

1st

بنت ضیاء اللہ

ڈسکہ

Toper of Essay writer

1st

بنت محمد اجمل قادری

لاہور

Toper of English Language Proficiency

1st

بنت حافظ محمد اسمٰعیل

اوکاڑہ

Toper of Quran Memorization

1st

بنت محمد رمضان

سیالکوٹ

Toper of Quran Recitation

1st

بنت محمد اقبال

کوئٹہ

Toper of fiqh & Usool e Fiqh

1st

بنت افضل

لاہور

Toper of Arabic Language Proficiency

کلیۃ الشریعہ

Boys

1st

محمد حنیف خان

لاہور

91,31%

2nd

عبد الحفیظ بن محمد طفیل

ملتان

90.26%

3rd

علی شیر بن محمد یعقوب

ملتان

، 89.98%

Girls

1st

بنت اظہر حسین

لاہور

87.90%

2nd

بنت عبد الرزاق

لاہور

86.50%

3rd

بنت حبیب احمد صدیقی

فیصل آباد

84.70%

Special Award of Excellent performance Kanzul Madaris Board

مولانا گل رضا عطاری مدنی

Special Award for the Chairman of the Kanz-ul-Madaris Education Board

مولانا شکیل مدنی عطاری

Special Award for Deputy Controller of Examinations

ام مومن

Special Award for Outstanding Performance – Faisalabad Board


تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام ہر جمعرات کی طرح آج رات مؤرخہ 17 ستمبر 2026ء کو بھی دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا باقاعدہ انعقاد کیا جا رہا ہے۔ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں قائم مدنی مراکِز و مساجد میں ہزاروں مقامات پر ان اجتماعات کا اہتمام کیا جائے گا جن میں لاکھوں عاشقانِ رسول شرکت کر یں گے۔

اجتماعات کا باقاعدہ آغاز نمازِ مغرب کے بعد تلاوتِ کلامِ پاک اور سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں نعت خوانی سے ہوگا۔تلاوت و نعت کے بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور دیگر مبلغین دعوت اسلامی مخصوص دینی، اصلاحی اور اخلاقی موضوعات پر سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔ بیانات کے بعد عالمِ اسلام کی سلامتی، امّتِ مسلمہ کی بخشش اور بالخصوص مظلوم مسلمانوں کے لیے رقت انگیز دعائیں کی جائیں گی، جس کے بعد باجماعت نمازِ عشاء ادا کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق آج رات کرکٹ سٹیڈیم نزد گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر1 چنیوٹ روڈ پنڈی بھٹیاں سے مدنی چینل پر براہِ راست (LIVE) نشر ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں رات 8:30بجے نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

واصف میرج ہال، ہزارہ روڈ نزد مدنی مسجد حسن ابدال میں رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ رائیونڈ میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، جامع مسجد محمدی حنفیہ، سوڈیوال لاہور میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ علی ٹاؤن نیو سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا میں رکن شوریٰ مولانا حاجی محمد عقیل عطاری، بوڈیشر ضیاء العلوم جامع مسجد، ہاٹ ہزاری، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ Malcolm Street Derby DE23 8LTمیں رکن شوریٰ عبد الوہاب عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

تمام عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ آج رات دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں خود بھی شرکت فرمائیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لانے کی نیت کریں۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 04 ستمبر 2026ء بروز جمعہ، ایوانِ اقبال کمپلیکس، لاہور میں  ” گرینڈ میلاد المصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سیمینار “ کے سلسلے میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مرکزی عنوان ” سیرت النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی روشنی میں ہماری معاشرتی و اخلاقی ذمہ داریاں (Our Social & Moral Responsibilities in Light of Seerah) “ تھا جس سے نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمدعمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خصوصی بیان کیا۔ پروگرام میں یونیورسٹی فیکلٹی ممبران، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، اراکین شوریٰ حاجی محمد اسلم عطاری، حاجی یعفور رضا عطاری، حاجی محمد اظہر عطاری بھی موجود تھے۔

نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے حیا کی دینی و اخلاقی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ گرامی ہے کہ ”حیا اور ایمان دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں، جب ایک اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھ جاتا ہے“۔مزید فرمایا گیا کہ ”ہر دین کا ایک اخلاق ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے“۔ گھروں میں جنم لینے والے متعدد مسائل، شکوک و شبہات اور بے سکونی کی بنیادی وجہ بے حیائی کا فروغ ہے۔ اگر اللہ کی توفیق سے گھروں میں حیا کا ماحول قائم ہو جائے تو اکثر خاندانی مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

گھریلو ماحول اور مساوات پرنگران شوریٰ کا کہنا تھا کہ گھر کے اندر کوئی بھی شخص پروفیسر، لیکچرار، جنرل، میجر، یا افسر نہیں ہوتا، بلکہ سب عام انسان اور ایک ہی خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔ کامیا بی کا راز اس بات میں ہے کہ ہم اپنے منصب اور عہدے کا غرور باہر چھوڑ کر گھر میں ایک عام و مثبت فرد کی حیثیت سے رہیں اور ماحول کو خوشگوار بنائیں۔

ٹیچرز اور معلمات پر عائد ذمہ داریاں پرکلام کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے فرمایا کہ اساتذہ، لیکچرار اور اسکول، کالج یا یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے معلمین کے ہاتھوں میں پوری قوم کا مستقبل ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود کو معلم بنا کر بھیجے جانے کا ارشاد فرمایا ہے، اس لیے ہر استاد پر اجتماعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئی نسل کی اخلاقی اور دینی تربیت پر توجہ دے۔

امر بالمعروف و نہی عن المنکر پردعوتِ اسلامی کی خدمات کوبیان کرتےہوئے حاجی عمران عطاری نے کہا کہ نسل نو کو تباہی سے بچانے کے لیے نیکی کی دعوت اور برائی سے منع کرنے کے عمل کو عام کرنا لازمی ہے۔ اسی مقصد کے تحت دعوتِ اسلامی بیوروکریسی، اساتذہ، سیاسی شخصیات، اور عام عوام کو ایسے سیمینارز میں دعوت دیتی ہے تاکہ ہر فرد معاشرے میں حیا اور مثبت اخلاقی قدروں کو بحال کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔

یہ تقریب اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ معاشرتی اصلاح، خاص طور پر حیا اور اخلاقی قدروں کی پاسداری کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی، بالخصوص اساتذہ اور پروفیشنلز کو مل کر اپنا اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔

پروگرام کے اختتام پر صلوۃ و سلام پڑھا گیا اوربارگاہِ رب العزت میں دعا کی گئی۔ 


دعوت اسلامی کے زیر اہتمام 03ستمبر2026ء کو کیڈٹ کالج اوکاڑہ میں سالانہ محفلِ میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران، عالمی مذہبی اسکالر مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی تھے۔ اس محفل میں کالج کے پرنسپل، اساتذہ کرام اور کیڈٹ کالج کے اسٹوڈنٹس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کو Guard of Honour بھی پیش کیا گیا۔

نگرانِ شوریٰ نے اپنے بیان کا آغاز درودِ پاک کی فضیلت سے کیا۔ انہوں نے حدیثِ مبارک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کی دُشوار گزار گھاٹیوں سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے دنیا میں نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر کثرت سے درود و سلام بھیجا ہو گا۔ کثرتِ درود سے انسان کو ذہنی اور روحانی سکون میسر آتا ہے، کردار میں نکھار آتا ہے اور قوتِ ایمان مضبوط ہوتی ہے جو بالخصوص عسکری و تربیتی اداروں کے کیڈٹس کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مختلف درودِ پاک کا ذکر کرتے ہوئے "درودِ ابراہیمی" کو سب سے افضل قرار دیا اور کیڈٹس کو روزانہ ایک مقررہ وقت نکال کر 1000 سے 1500 بار درود پاک پڑھنے کا معمول بنانے کی ترغیب دی۔

بیان کے دوسرے حصے میں نگرانِ شوریٰ نے 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو پیش آنے والے تاریخی غزوۂ بدر کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ صرف 313 مسلمانوں نے ظاہری سامانِ حرب (گھوڑے، تلواریں، نیزے) کم ہونے کے باوجود، جدید ترین جنگی ساز و سامان سے لیس کفار کے لشکرِ جرار کا مقابلہ صرف اور صرف اللہ پاک پر کامل توکل اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بابرکت موجودگی کے اعتماد پر کیا۔انہوں نے Hijri Calendar کے آغاز کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی ابتدا امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ہجرتِ مدینہ کے سال سے فرمائی تھی۔

نگرانِ شوریٰ نے صف بندی اور نظم و ضبط (Discipline) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے میدانِ بدر کا ایک انتہائی رقت انگیز واقعہ بیان کیا کہ میدانِ جنگ میں حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مبارک چھڑی (Stick) سے صحابہ کرام کی صفیں سیدھی فرما رہے تھے۔ حضرت سواد انصاری رضی اللہ عنہ کا پیٹ صف سے تھوڑا سا باہر تھا، تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چھڑی سے اشارہ کر کے سیدھا ہونے کا فرمایا۔ اس پر صحابی نے قصاص (بدلے) کا تقاضا کیا۔ رحمت اللعالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فوراً اپنا مبارک پیٹ ظاہر فرما کر بدلہ لینے کی اجازت دی۔ حضرت سواد انصاری رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر بدلہ لینے کے بجائے آقا کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جسمِ اقدس کو چومنا شروع کر دیا۔ جب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا، تو صحابی نے عرض کیا کہ ”آقا! جنگ میں جا رہا ہوں، معلوم نہیں زندہ لوٹوں یا نہیں، میری تمنا تھی کہ آخری بار آپ کے جسمِ اقدس کو چھو کر آخرت کا ذخیرہ بنا لوں“۔ نگرانِ شوریٰ نے ڈاکٹر اقبال کے اس شعر کا مفہوم بھی پیش کیا

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن

نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

تقریب کے اختتام پر کیڈٹس اور اساتذہ نے نگرانِ شوریٰ کے اس جامع اور روح پرور بیان کو سراہا اور اسے سیرتِ طیبہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور عسکری نظم و ضبط کو یکجا کرنے والا ایک یادگار اور فکر انگیز پیغام قرار دیا۔ تقریب کے آخر میں ملک و ملت کی سلامتی اور کیڈٹس کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام 02 ستمبر 2026ء بروز بدھ، نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے اسمبلی ہال میں  ”میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم“ کے سلسلے میں سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کا مرکزی عنوان ”اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ہمارا کردار (Our Character in Light of Uswa-e-Hasanah)“ تھا جس سے نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی مولانا حاجی محمدعمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خصوصی بیان کیا۔ تقریب میں سینئر پروفیسرز، کنسلٹنٹ ڈاکٹرز، ہسپتال کےاونرز اور ایم بی بی ایس کے اسٹوڈنٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نگرانِ شوریٰ نے اپنے بیان کے دوران بتایا کہ 2 0ستمبر کو ”یومِ دعوتِ اسلامی“ کی مناسبت بھی حاصل ہے، کیونکہ 1981ء میں امیرِ اہل سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس دینی و اصلاحی تحریک کا آغاز کیا تھا اور آج اسے 45 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اِن 45 برسوں میں یہ دینی تحریک دنیا کے تقریباً 190 ممالک میں پھیل چکی ہے، جہاں فیضانِ مدینہ، جامعۃ المدینہ، مدرسۃ المدینہ، دار المدینہ اور خواتین کے لیے فیضانِ صحابیات جیسے عالمی شعبہ جات قائم ہیں۔

ڈاکٹرز کی تربیت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر بات کرتے ہوئے مولانا عمران عطاری نے کہا کہ ڈاکٹرز مریضوں کو محض ”کلائنٹ“ یا ”کسٹمر“ سمجھ کر صرف بینک بیلنس بنانے کی فکر نہ کریں، بلکہ طب کا شعبہ انسانوں کی حقیقی خدمت اور اللہ کی رضا کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے انسان اور ڈاکٹرز کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تر جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے باوجود ایک وقت ایسا آتا ہے جب ڈاکٹر بھی یہی کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ”اب صرف دعا کریں“۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، اصل قدر و اختیار صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے۔

بیان میں دورِ حاضر کے سوشل میڈیا چیلنجز اور اخلاقی تنزلی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ نگرانِ شوریٰ نے بتایا کہ دعوتِ اسلامی اپنے ”مدنی چینل“ اور سوشل میڈیا کے ذریعے (جس پر 7 کروڑ سے زائد فالوورز ہیں) مثبت اسلامی تعلیمات عام کر رہی ہے۔ فحش اور منفی کارٹونز کے سدِباب کے لیے بچوں کے لیے اسلامی اور اخلاقی Cartoons تیار کیے گئے ہیں۔ مدنی کلینکس کے ذریعے کم سے کم خرچ پر علاج معالجے کے ساتھ ساتھ زلزلہ، سیلاب اور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ دعوتِ اسلامی کے دینی و اخلاقی ماحول کی برکت سے 2026ء تک 30 سے 35 ہزار سے زائد غیر مسلم اسلام قبول کر چکے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر نگرانِ شوریٰ نے تمام حاضرین کو اسوۂ حسنہ پر عمل کرنے، مساجد کو آباد کرنے اور اپنے پیشہ ورانہ شعبوں میں ایمانداری و شفقت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔آخر میں صلوۃ و سلام اور دعا پڑھی گئی۔ 


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یکم ستمبر 2026ء کو فور سیزنز ہال، نثار صدیقی روڈ IBAسکھر میں ”عظیم الشان مولدُ النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سیمینار“ کا انعقاد کیا گیا جس میں نگرانِ مرکزی مجلسِ شوریٰ مولانا حاجی عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خصوصی شرکت کی اور بیان فرمایا۔

اس تقریب میں IBAسکھر کے پرو وائس چانسلر، فیکلٹی ممبران، اساتذہ کرام اور یونیورسٹی کے طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور نگرانِ شوریٰ کے خیالات و نصائح سے مستفید ہوئے۔ اس موقع پر نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔

نگران شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نوجوانوں، بالخصوص یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ مبارکہ کو زندگی کے تمام شعبوں میں مشعلِ راہ بنایا جائے، عصرِ حاضر میں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار، کردار سازی اور خوفِ خدا کے فروغ کی ضرورت کو اُجاگر ہماری ذمہ داری ہے، اس کے علاوہ طلبہ کو نصیحت کی گئی کہ وہ اپنی سائنسی و دنیاوی تعلیم کو معاشرے اور دین کی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔

سیمینار کے اختتام پر امتِ مسلمہ کی سلامتی، ملک و ملت کی ترقی، اور ساری زندگی صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کے لیے دعا کی گئی۔ IBA کے انتظامیہ اور طلبہ نے تقریب کے انعقاد کو بے حد سراہا اور اسے ایک یادگار و برکت والی نشست قرار دیا۔


ڈائریکٹوریٹ جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ، ٹنڈو جام کے مین آڈیٹوریم میں 31 اگست 2026ء بروز پیر”سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سیمینار“ کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کی میزبانی ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ ڈاکٹر مظہر الدین کاریو نے کی۔ اس تقریب میں زرعی سائنٹسٹ، P.H.D اسکالرز، محققین، ڈائریکٹوریٹ کے افسران، اسٹوڈنٹس اور پردے رہ کر طالبات اور خواتین اسٹاف نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور اراکین شوریٰ حاجی فاروق جیلانی عطاری اور حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔

سیمینار کے مہمانِ خصوصی دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی تھے۔ انہوں نے ”تعلیماتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آج کا مسلمان (The Teachings of the Holy Prophet and Today’s Muslim ) “ کے عنوان پر حکمت و نصیحت سے بھرپور سنتوں بھرا بیان فرمایا۔

مولانا عمران عطاری نے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا کہ انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ (20 سے 40 سال) تعلیم حاصل کرنے، روزگار تلاش کرنے اور گھر سمیٹنے میں گزار دیتا ہے۔ 50 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے انسان بچوں کی تعلیم اور پرورش کی فکر میں گھلتا رہتا ہے اور خود اپنے لیے کچھ نہیں کر پاتا۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیاوی غم، بیماریاں اور پریشانیاں اس فانی دنیا کا حصہ ہیں جبکہ حقیقی اور دائمی سکون صرف اور صرف جنت میں ہے۔

انہوں نے شرکا کو متوجہ کیا کہ دنیا میں مسلسل محنت اور دُکھ اٹھانے کے بعد اگر قبر و آخرت میں بھی سختی کا سامنا کرنا پڑے تو یہ انسان کی شدید نادانی ہے۔ عقلمند شخص وہ ہے جو دنیاوی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، باقاعدگی سے نماز کی پابندی، سچائی، دیانتداری اور عدل و انصاف کی زندگی اپنا کر اپنی آخرت بہتر بنائے۔

دورانِ بیان نگرانِ شوریٰ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے عشقِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دلنشین مثالیں پیش کیں: ٭مولا علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ: جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے کتنی محبت ہے، تو آپ نے فرمایا: ”خدا کی قسم! حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیں اپنے مال، اولاد، والدین اور سخت پیاس کے وقت ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب ہیں“۔ ٭حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما: پاؤں سن ہونے پر اپنے سب سے محبوب ہستی یعنی نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نامِ مبارک ”یا محمد!“ پکار کر شفایاب ہوئے۔ ٭حضرت انس رضی اللہ عنہ: حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سالن میں سے کدو شریف (لوکی) تلاش کر کے تناول فرماتے دیکھا تو اسی دن سے خود بھی کدو شریف سے محبت کرنے لگے۔

بیان کے اختتام پر انہوں نے تمام اسٹوڈنٹس، سائنسٹسٹ اور پردے میں موجود طالبات کو نصیحت کی کہ وہ اپنی زندگیوں کو مغرب یا فلمی دنیا کے بجائے سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سانچے میں ڈھالیں۔ آنکھیں بند ہوں تو مدینے والے تاجدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ادائیں اور سنن یاد آئیں، کیونکہ سچی کامیابی اطاعتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہی مضمر ہے۔

یہ روحانی و اصلاحی تقریب ملک و قوم کی سلامتی، زرعی ترقی اور امتِ مسلمہ کے لئے دعا پر اختتام پذیر ہوئی اور بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں درود سلام پڑھا گیا۔ 


دعوتِ اسلامی کے شعبہ تعلیم کے زیرِ اہتمام 30 اگست 2026ء کو J.N.J بینکوئٹ بحریہ کالج میر پور خاص روڈ میں اساتذہ، اسکول اونرز، پروفیسرز اور تعلیم سے وابستہ شخصیات کے لئے ایک گرینڈ اجتماع (Teachers' Grand Congregation) کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی، مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خصوصی بیان فرمایا۔ نگران شوریٰ نے ”فرامینِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی روشنی میں ہماری ذمہ داریاں (Our Responsibilities in Light of the Teachings of the Holy Prophet) “کے موضوع پر حکمت و بصیرت سے لبریز بیان فرمایا۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔

نگرانِ شوریٰ نے اپنے خطاب میں جدید تعلیمی نظام کے المیے، اساتذہ اور والدین کی ذمہ داریوں، اصلاح و تربیت کے نبوی اسالیب اور تعلیمی اداروں میں پھیلتی ہوئی منشیات کی نحوست اور اس کی روک تھام پر تفصیلی گفتگو کی۔

دورانِ بیان مولانا محمد عمران عطاری نے فرمایا کہ اصلاح عموماً طبعی طور پر انسان کو ناگوار گزرتی ہے کیونکہ یہ انجکشن کی چبھن کی طرح ہوتی ہے، لیکن جس طرح انجکشن میں شفا چھپی ہوتی ہے، اسی طرح اصلاح میں انسان کی بہتری اور شفا پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے نصیحت کی کہ کسی کی اصلاح یا تربیت کرنے کے بعد اس سے یہ نہ پوچھا جائے کہ ”بُرا تو نہیں لگا؟“ کیونکہ اصلاح بنیادی طور پر چبھتی ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد سیرتِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق افراد کی کردار سازی اور تزکیہ کرنا ہے۔

نگران شوریٰ نے بیان کرتے ہوئے بتایاکہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حیاتِ مبارکہ کا ایک بہت بڑا حصہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تربیت پر محیط تھا۔ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب صحابہ کرام کی موجودگی کا ایک بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ امت عملی طور پر دین کے احکام و مناسک کو سیکھ لے۔ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صرف علم عطا نہیں فرمایا بلکہ ”وَيُزَكِّيهِمْ“ کے تحت نفوس کا تزکیہ بھی فرمایا۔

نگرانِ شوریٰ نے عصرِ حاضر کا سب سے بڑا بحران یہ قرار دیا کہ موجودہ تعلیمی اداروں (خصوصاً عصری و سیکولر اداروں) میں ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کی شکل میں تعلیم تو دی جا رہی ہے، لیکن اخلاقی تربیت، خوفِ خدا، امانت، دیانت، اور خیر خواہی مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ دینی مدارس میں استاد کا ادب اور احترام آج بھی زندہ ہے کیونکہ وہاں علم کے ساتھ ادب و تربیت کا عنصر غالب ہوتا ہے۔

حاجی عمران عطاری نے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں بڑھتی ہوئی منشیات کی نحوست پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس سنگین مسئلے پر پنجاب سمیت مختلف مقامات پر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں، جامعہ کی انتظامیہ اور ایوانِ صدر کی سطح تک جا کر پرسنلی بات کر چکے ہیں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو نشے کی باڑ سے بچایا جا سکے۔ نشہ آور اشیاء نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہیں اور اس کی وجہ سے استاد کے احترام کا تقدس بھی متاثر ہو رہا ہے۔

بیان میں انہوں نے کہا کہ کریکٹر بلڈنگ (Character Building) کی پہلی نرسری والدین کا گھر ہے۔ بچے دن کا زیادہ تر وقت گھر میں گزارتے ہیں، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے نیک اور متقی اساتذہ کا انتخاب کریں۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ صرف سلیبس اور نصاب پورا کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے عمل، کردار اور نماز کی پابندی کے ذریعے طلبہ کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔

اجتماع کے اختتام پر شرکا نے نگرانِ شوریٰ کے خیالات کو سراہا اور اپنے اداروں میں تعلیمی ماحول کے ساتھ ساتھ اخلاقی و دینی تربیت کو یکجا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ آخر میں صلوۃ و سلام پڑھا گیا اور بارگاہِ ربُّ العزت میں دعا کی گئی۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام 30 اگست 2026ء کو بھٹائی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج، میرپور خاص میں محفلِ میلادُ النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مرکزی مہمان نگرانِ شوریٰ دعوتِ اسلامی، مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی تھے جنہوں نے ”سنت کی روشنی میں زندگی گزارنا(Living Life in the Light of Sunnah) “ کے عنوان پر شعبہ طب سے وابستہ افراد، ڈاکٹرز، اور میڈیکل اسٹوڈنٹس کے درمیان حکمت و دانائی سے بھرپور بیان فرمایا۔ اس موقع پر نگران پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری اور رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری بھی موجود تھے۔

مولانا محمد عمران عطاری نے اپنے بیان میں جہاں سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طبی و سائنسی حکمتوں کو اُجاگر کیا، وہیں میڈیکل کی دنیا میں بڑھتے ہوئے کمرشلائزیشن، اخلاقی ذمہ داریوں اور مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کی ضرورت پر اہم گفتگوکی۔

نگرانِ شوریٰ نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے آدھی دھوپ اور آدھے سائے میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ یہ عمل جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے ایئر کنڈیشننگ (AC) کے استعمال کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اچانک شدید ٹھنڈے ماحول سے گرمی میں جانا یا تیز دھوپ میں نکلنا بلڈ سرکولیشن اور جسم کے درجہ حرارت کو متاثر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں تدریجی طریقہ (Step-by-step transition) اپنایا جاتا ہے تاکہ جسمانی نظام معتدل رہے۔

حاجی عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے طبی شعبے کو ایک مقدس و عظیم پیشہ قرار دیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جب اس میں محض پیسہ کمانے کا عنصر شامل ہو جاتا ہے تو اس کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ بیان میں بعض معالجین کی جانب سے مریضوں کو بلاضرورت بار بار بلانے (Re-visits) اور بعض ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈز کو مارکیٹنگ کا ذریعہ بنا کر مریضوں کو بلاوجہ ایڈمٹ رکھنے کے رجحان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی جبکہ علاج میں کاروباری ذہنیت کے بجائے نبوی شفقت اور ہمدردی کو فروغ دینے کا ذہن دیا گیا۔

میڈیکل اسٹوڈنٹس کو مخاطب کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے کہا کہ آنے والے وقت میں وہ مختلف اعلیٰ عہدوں اور ایسوسی ایشنز کا حصہ بنیں گے۔ اسٹوڈنٹس کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ طبی شعبے میں موجود برائیوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور سنتِ نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مطابق امت کی خیر خواہی کو اپنا شعار بنائیں۔

نگرانِ شوریٰ نے جعلی ڈگریوں اور رشوت کے بل بوتے پر کلینک چلانے والوں کو انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے جعلی افراد اور عطائیوں کی نااہلی کی وجہ سے اصل، محنتی اور کوالیفائیڈ ڈاکٹرز اور ادارے بدنام ہوتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بھی پیش کیا جہاں ایک غلط انجکشن کی وجہ سے مریض کا بازو شدید متاثر ہوا اور اس بات پر زور دیا کہ ایک شخص کی غفلت پورے ادارے کا نام خراب کر دیتی ہے۔

مولانا عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے بھٹائی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج کےاسٹوڈنٹس کو نصیحت کی کہ وہ کل عملی زندگی میں جہاں بھی جائیں، ان کا کردار اور پیشہ ورانہ رویہ (Professionalism) ان کے ادارے کی شناخت بنے گا۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ بہترین اخلاق اور قابلیت کے ساتھ اپنے ادارے کا نام روشن کریں۔

محفل میلاد میں بھٹائی ڈینٹل اینڈ میڈیکل کالج، میرپور خاص کے اسٹوڈنٹس، ڈاکٹرز اورکالج کے دیگراسٹاف شریک تھے جنہوں نے نگرانِ شوریٰ کے خیالات کی تحسین کی اور ان اخلاقی و دینی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا عزم ظاہر کیا۔آخر میں میڈیکل کالج کی جانب سے نگران شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کو شیلڈز پیش کی گئی جبکہ صلوۃ و سلام اور دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔


تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام ہر جمعرات کی شام دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات کا باقاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے۔ معمول کے مطابق آج رات بھی عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت ملک پاکستان کے مختلف شہروں اور دنیا کے تقریباً 100 سے زائد ممالک میں قائم مدنی مراکِز و مساجد میں ہزاروں مقامات پر یہ اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں جن میں لاکھوں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شرکت کریں گے۔

اجتماع کا آغاز نمازِ مغرب کے بعد تلاوتِ قرآنِ پاک اور بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیہ نعت سے ہوتا ہے۔ تلاوت و نعت کے بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین و مبلغینِ دعوتِ اسلامی مخصوص دینی و اخلاقی موضوعات پر سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق آج رات گراؤنڈ گورنمنٹ ہائی اسکول نزد DHQجہلم پنجاب سے مدنی چینل پر براہِ راست (LIVE) نشر ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں رات 9:15 بجے دعوت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اجتماع کے لئے گورنمنٹ ہائی اسکول کے وسیع و عریض گراؤنڈ کا انتخاب کیا گیا ہے جو کہ DHQ ہسپتال کے بالکل قریب واقع ہے۔ انتظامی کمیٹی کے مطابق شرکا کے بیٹھنے اور گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے خصوصی انتظامات کئے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تمام عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ آج رات دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں خود بھی شرکت فرمائیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لانے کی نیت کریں۔