قرآن پاک لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک کا اسلوب ایسا رکھا گیا ہے جو لوگوں کی سمجھ کے زیادہ قریب ہے اور آسان ہے، قرآن کریم میں جہاں اللہ کی وحدانیت اور رسالت کو قیامت کا بیان ہے اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کی قوموں کے واقعات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔حکمت کا تقاضا ہے کہ جب کوئی واقعہ بیان ہو تو وہ مختلف نصیحتوں سے آراستہ ہو، اللہ کریم حکیم ہے اور حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا، قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السّلام کا مقدس نام پندرہ(15) مقامات پر آیا ہے اور آپ کی تخلیق کے واقعہ کو بھی ایک سے زیادہ بار بیان کیا گیا ہے جس میں کئی نصیحتیں موجود ہیں جن میں سے ہم پانچ ذکر کریں گے۔

تخلیق آدم علیہ السّلام سے پہلے خالقِ کائنات کا فرشتوں سے مشورہ: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(پ1، البقرۃ:30)

اللہ کریم بے نیاز ہونے کے باوجود فرشتوں سے مشورہ فرما رہا ہے! جس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی اہم کام کیا جائے تو اپنے ما تحتوں سے مشورہ کر لینا چاہیے، تاکہ ان کے دلوں میں کوئی خلش باقی نہ رہے۔اور مشورہ کرنا تو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنت ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ- ترجَمۂ کنزُالایمان: اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔(پ4، آل عمران: 159)

لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ جب کوئی کام کریں تو مشورہ کر کے کریں سنت کی نیت ہوگی تو ثواب بھی ملے گا اِن شآءَ اللہ۔

اپنی عقل کو شریعت کا تابع بنائیں: قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰) ترجَمۂ کنزُالایمان: بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرےاور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔(پ1، البقرۃ:30)

یاد رہے! فرشتے نوری مخلوق ہیں اور معصوم ہیں ان کا یہ کلام کرنا اللہ کی بارگاہ میں اعتراض نہیں بلکہ حکمت کو معلوم کرنا تھا مگر خالقِ کائنات نے ارشاد فرمایا کہ تم وہ چیز دیکھ رہے ہو جس کی وجہ سے انسان فساد کرے گا مگر انسان کو خلیفہ بنانے میں میری بہت سی حکمتیں ہیں، انہیں میں انبیاء، صدیقین و صالحین ہوں گے جنہیں میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔

اس آیت سے اشارۃً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑانے چاہیے بلکہ عقل کو شریعت کا تابع بنانا چاہیے کیونکہ کئی بار بظاہر کسی چیز کو عقل اچھا نہیں سمجھ رہی ہوتی مگر درحقیقت اس چیز میں کہیں اچھائیاں موجود ہوتی ہیں جس تک ہماری عقل کی رسائی نہیں ہوتی جیسے قصاص کے معاملے میں اللہ کریم نے عقل والوں کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا: وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۷۹) ترجَمۂ کنزُالایمان:اور خون کا بدلہ لینے میں تمہاری زندگی ہے اے عقلمندو کہ تم کہیں بچو۔(پ2، البقرۃ:179)

انسان کی افضلیت کا مدار:وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔(پ1، البقرۃ:31)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کے فرشتوں پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا: اس سے علم کی اہمیت معلوم ہوتی ہے اور یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جو علم میں زیادہ ہے وہ افضل ہے اللہ کریم ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔(پ23، الزمر:9)

آج ہر شخص career planning کے نشہ میں مست ہے کسی کو doctor بننا ہے تو کسی کو engineer مگر ہمیں علم دین بھی حاصل کرنا چاہیے! اور ہمارے گھر میں کم از کم ایک عالم دین ضرور ہونا چاہیے بالخصوص ان والدین کو سوچنا چاہیے کہ اللہ کریم نے جنہیں 3، 4، 5 بیٹوں یا بیٹیوں سے نوازا ہے کیوں نہ ایک بچہ اس کے دین سیکھنے پر لگا دیں۔

تکبر انسان کی بربادی کا باعث ہے:وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔(پ1،البقرۃ:34)

شیطان اپنے علم کی وجہ سے ترقی کرتے کرتے فرشتوں کا استاد بن چکا تھا، مگر جب اس نے اللہ کی بارگاہ میں تکبر کیا کہ جب اللہ نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب میں نے تجھے حکم دیا؟ تو اس بدبخت نے کہا اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ میں اس سے بہتر ہوں! تو اس کو جو قرب الٰہی حاصل تھا،وہ چھن گیا اور اللہ پاک کی بارگاہ سے کافر و مردود ہو کر نکال دیا گیا، اسے اس کی عبادت نہ بچا سکی۔پتا چلا تکبر انسان کو برباد کردیتا ہے اسی لیے ہمیں تکبر نہیں کرنا چاہیے بلکہ عاجزی و انکساری کرنی چاہیے اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے تواضع(عاجزی و انکساری)کی تو اللہ اسے بلندیاں عطا فرمائے گا۔(مشکاۃ،حدیث511)

شیطان لعین سے مقابلہ کیسے کیا جائے: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَاؕ-اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ- ترجمۂ کنز الایمان:اے آدم کی اولاد خبردار تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔(پ8،الاعراف:27)

اس واقعے میں اللہ کریم نے ابن آدم کو متنبہ فرمایا کہ تم شیطان سے غافل نہ رہنا وہ تمہارا دشمن ہے اور تمہیں وہاں سے دیکھ رہا ہے جہاں سے تم اسے نہیں دیکھتے لہٰذا اپنے دشمن سے خبردار رہو۔

امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صوفیاءِ کرام کے نزدیک شیطان سے جنگ کرنے اور اسے مغلوب کرنے کے دو طریقے ہیں: (1) شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لیے اللہ پاک کی پناہ لی جائے کیونکہ شیطان ایک ایسا کتا ہے جسے اللہ نے تم پر مسلط کر دیا ہے لہٰذا اس کے مالک کی طرف متوجہ ہو۔(2)شیطان سے مقابلہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہو۔ (منہاج العابدین، العقبۃ الثالثۃ، العائق الثالث: الشیطان، ص55، 56 ملخصاً)

قرآن کریم میں سات سورتوں میں آدم علیہ السّلام کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے؛ ہم نے ان واقعات میں سے چند مقامات کو ذکر کیا ہے اور ان سے حاصل ہونے والی کچھ نصیحتوں کو بھی ذکر کر دیا ہے آدم علیہ السّلام اور شیطان لعین کا تفصیل سے واقعہ اگر پڑھنا چاہیں تو اس کے لیے مفتی اہل سنت مولانا مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب سیرت الانبیاء کا مطالعہ فرمائیں، اور اسی طرح حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب عجائب القرآن و غرائب القرآن میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔

یا اللہ! ہمیں اپنے تمام نیک و جائز کام میں باہمی مشورہ کرنے کی توفیق عطا فرما۔اور ہمیں اپنی عقل کو شریعت کے تابع بنانے کی سعادت عطا فرما۔اور علم دین حاصل کرنے کا جذبہ عطا فرما۔ہمیں تکبر جیسی بری بلا سے محفوظ فرما، عاجزی اور انکساری عطا فرما۔شیطان مردود سے ہماری حفاظت فرما ہمیں اس سے مقابلہ کرنے کی طاقت و قوت عطا فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ۔


قرآن پاک اللہ پاک کی انمول اور نایاب کتاب ہے جس میں ہر چیز کا علم ہے اس میں انبیاء کرام کے واقعات اور ان کی نصیحتیں ذکر کی گئیں ہیں انہی ہستیوں میں سے ایک ہستی حضرت آدم علیہ السّلام ہیں جن کے واقعات قرآن پاک میں موجود ہیں ان کے واقعات سے بہت سی نصیحتیں حاصل ہوتی ہیں ان نصیحتوں میں سے کچھ نصیحتیں ملاحظہ فرمائیں:

(1)جھوٹی قسم نہ کھانا: اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا:وَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ(۲۱)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ان سے قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔(پ8،الاعراف:21)

اس آیت کے تحت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر نعیمی میں فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے رب کے نام کی جھوٹی قسم کھانے والا ابلیس ہے جھوٹی قسمیں کھانے والا ابلیس کے طریقے پر عمل کرتا ہے۔(تفسیر نعیمی، ج8ص385)

(2)ہر شخص پر اعتبار نہ کرو:اسی آیت کے تحت ہی مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ ہر چکنی چپڑی باتیں کرنے والے پر اعتبار نہ کرو ہر شخص جو بغل میں قرآن دبائے پھرے بات بات پر آیتیں پڑھے ہر بات میں قرآن کا سہارا لے اس کے فریب میں نہ آجاؤ ایسے لوگ قرآن کو اپنے شکار کے جال کے طور پر استعمال کرتےہیں ہر چمکتی چیزسونا نہیں ابلیس مردود نے اللہ پاک کے نام سے ہی ان دونوں بزرگوں کو دھوکا دیا۔ (تفسیر نعیمی، ج8ص385)

(3)ہمیشہ دوست اور دشمن کی پہچان رکھنا:اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۲)ترجَمۂ کنزُالایمان: اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔(پ8،الاعراف:22)

اس آیت کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ انسان کو ہمیشہ اپنے دوست دشمن کی پہچان رکھنی چاہیے کہ اس میں کامیابی ہے حضرت آدم علیہ السّلام صرف ایک بار اپنے دشمن کی دشمنی نہ پہچان سکے اور مشقت میں پڑ گئے۔(تفسیر نعیمی ج8 ص392)

(4) اللہ اور اس کے رسول کی شریعت اور ان کے رستے کے‌ مطابق چلنا: الله عزوجل نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(۱۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے فرمایا اے آدم بےشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہےتو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے۔(پ16، طہ:117)

اس آیت کے تحت مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ جو کام اللہ اور اس کےرسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بتائے راستےپر چل کر اور شریعت کے سمجھائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے اس میں ہمیشہ دین و دنیا کی سعادتیں ہی ملتی ہیں اور اگر وہی کام اللہ تعالیٰ کے عہد اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وعدے اور شریعت کہ رستے سے ہٹ کر کیا جائے اور ابلیس کے وسوسےمیں آکر اس کا کہا مان کر کیا جائے تو اگرچہ جنت کےاعلیٰ و بالا مقام پر ہو اس کو اخروی دنیوی شکاوتیں اور مشقتیں ہی ملیں گی۔(تفسیر نعیمی، جلد نمبر 16ص 696)

(5)کھانے اور پینے میں احتیاط کرنا:اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا ترجمۂ کنز الایمان: تو ان دونوں نے اس میں سے کھالیا اب ان پر ان کی شرم کی چیزیں ظاہر ہوئیں۔(پ16، طہ:121)

اس آیت کے تحت مفتی صاحب نے فرمایا: انسان کی سب سے بڑی کمزوری کھانے پہنے میں ہے اورابلیس و شیاطین کا سب سے بڑا اور سب سے پہلا وسوسہ کھانے کے ذریعے ہی چلا ہر مسلمان کو کھانے پینے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے ہزارہا دینی دنیوی خرابیاں کھانے کی بے احتیاطوں کی وجہ سےہوتی ہیں۔(تفسیر نعیمی، جلد نمبر 16ص 713)

اللہ پاک ہمیں ان نصیحتوں پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔


یقیناً انبیاء کرام علیہم السّلام کے واقعات میں ہمارے لیے کئی سبق آموز باتیں اور نصیحتیں ہیں، جن سے ہمیں کافی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور ہماری اصلاح کا باعث بھی ہے اسی نیت سے آج واقعہ حضرت آدم علیہ السلام سے حاصل ہونے والی نصیحتیں بیان کی جاتی ہیں۔

حکمِ الٰہی کے مقابل قیاس کا استعمال:اللہ پاک نے جب حضرت آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو فرشتوں نے کسی پس و پیش کے بغیر حکمِ الٰہی پر فوری عمل کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا جبکہ شیطان نے حکمِ الٰہی کو اپنی عقل کے ترازو میں تولا، اسے عقل کے خلاف جانا اور اس پر عمل نہ کر کے بربادی کا شکار ہوا۔جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَؕ-قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ-خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ(۱۲) ترجَمۂ کنزُالایمان: فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اُسے مٹی سے بنایا۔ (پ8، الاعراف:12)

اس سے معلوم ہوا کہ حکمِ الٰہی کو من و عن اور چوں چرا کے بغیر تسلیم کرناضروری ہے۔حکمِ الٰہی کے مقابلے میں اپنی عقل استعمال کرنا، اپنی فہم و فراست کے پیمانے میں تول کر اس کے درست ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا اور مخالف عقل جان کر عمل سے منہ پھیر لینا کفر کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔

تکبر کی مذمت: ابلیس سے سرزد ہونے والے گناہوں میں بنیادی گناہ تکبر تھا۔اللہ پاک فرماتا ہے:وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ (پ1، البقرۃ:34 )

حدیث پاک میں ہے: تکبر حق بات کو جھٹلانے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔تکبر کبیرہ گناہ ہے اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا اور متکبروں کو قیامت کے دن لوگ اپنے پاؤں سے روندیں گے۔(مسلم، کتاب الايمان، باب تحريم الكبر وبيانہ، ص61، حدیث: 265)

انبیاء کرام کی گستاخی کا حکم:اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام کی گستاخی ایسا بڑا جرم ہے جس کی سزا میں زندگی بھر کی عبادت وریاضت برباد ہو جاتی ہے۔ابلیس جیسے انتہائی عبادت گزار تھا اس کا انجام اس کی عبرت انگیز مثال ہے،سورۃ الحجر میں ہے:قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ(۷۷) وَّاِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ(۷۸) ترجَمۂ کنزُالایمان: فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو راندہا(لعنت کیا) گیا۔ اور بےشک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک۔ (پ23، صٓ:77، 78)

تخلیقات الٰہی میں خلاف شرع تبدیلیوں کا شرعی حکم:اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں خلاف شرع تبدیلیاں حرام ہیں اور ان سے بچنا لازم ہے جیسے لڑکیوں کا ابرووں کے بالوں کو خوبصورتی کے لئے باریک کرنا، چہرے وغیرہ پر سوئیوں کےذریعے تل یا کوئی نشان ڈالنا، مرد یا عورت کا بدن پر ٹیٹو بنوانا، مختلف خوشی وغیرہ کے مواقع پر چہرے کو مختلف رنگوں سے بگاڑنا، لڑکوں کا اپنے کان چھید نا، لڑکیوں کا سر کے بال لڑکوں جیسے چھوٹے چھوٹے کاٹنا اور مرد کا داڑھی منڈانا۔

لمبی امیدوں سے نجات کا طریقہ:شیطان مردود کا بہت بڑا ہتھیار لمبی امیدیں دلانا ہے چنانچہ وہ لمبے عرصے تک زندہ رہنے کی سوچ انسان کے دل، دماغ میں بٹھا کر موت سے غافل، تو بہ سے دور اور گناہوں میں مشغول رکھتا ہے، حتی کہ اس غفلت میں اچانک موت آجاتی ہے اور گناہوں سے تو بہ اور نیکی کرنے کی طاقت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے۔اس کا حل موت،قبر اور آخرت کی یاد ہے۔


حضرت آدم علیہ السّلام کی نہ ماں ہے نہ باپ بلکہ اللہ پاک نے ان کو مٹی سے بنایا ہے۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص243)

حضرت آدم علیہ السّلام کی کنیت ابو محمد یا ابو البشر اور آپ کا لقب خلیفۃ اللہ ہے اور آپ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔آپ نے 960 برس کی عمر پائی اور بوقت وفات آپ کی اولاد کی تعداد ایک لاکھ ہو چکی تھی جنہوں نے طرح طرح کی صنعتوں اور عمارتوں سے زمین کو آباد کیا۔(تفسیر صاوی، پ1، البقرۃ: 30، ج1، ص48)

قرآن مجید نے حضرت آدم علیہ السّلام کے مختلف واقعات بیان فرمائے ہیں جو نصیحتوں کو اپنے ضمن میں لیے ہوئے ہیں آئیے ہم بھی ان واقعات سے نصیحت کے مدنی پھول چننے کی کوشش کرتے ہیں:

پہلی نصیحت:اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کو مٹی سے بنایا اور حضرت حوا رضی اللہ عنہا کو حضرت آدم کی پسلی سے پیدا فرمایا۔

اس سے معلوم ہوا کہ خداوند قدوس ایسا قادر اور قیوم اور خلاق ہے کہ انسانوں کو کسی خاص ایک ہی طریقے سے پیدا فرمانے کا پابند نہیں ہے بلکہ وہ ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ وہ جس طرح چاہے انسانوں کو پیدا فرما دے۔رب تعالیٰ نے انسانوں کو چار طریقوں سے پیدا فرمایا۔ اول یہ کہ مرد و عورت دونوں کے ملاپ سے جیسا کہ عام طور پر انسانوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ دوم یہ کہ تنہا مرد سے ایک انسان پیدا ہواور وہ حضرت حوا رضی اللہ عنہا ہیں کہ اللہ پاک نے ان کو حضرت آدم علیہ السّلام کی بائیں پسلی سے پیدا فرما دیا۔ سوم یہ کہ تنہا ایک عورت سے ایک انسان پیدا ہو اور وہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ہیں جو کہ پاک دامن کنواری بی بی مریم علیہا السلام کے شکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے ۔ چھا رم یہ کہ بغیر مرد و عورت کے بھی ایک انسان کو خداوند قدوس نے پیدا فرما دیا اور وہ انسان حضرت آدم علیہ السّلام ہیں کہ اللہ نے ان کو مٹی سے بنا دیا۔ (عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص246)

دوسری نصیحت:جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کو اپنی خلافت سے سرفراز فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ اور فرشتوں میں جو مکالمہ ہوا وہ بہت ہی تعجب خیز ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی فکر انگیز اور عبرت آموز بھی ہے جسے قرآن مجید پارہ 1 سورۂ بقرہ آیت 30 تا 34 میں یوں بیان کیا گیاہے: وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰) وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱) قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲) قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳) وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرےاور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔ بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے۔ فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔(پ1، البقرۃ: 30تا 34)

کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم تیری حمد کرتے ہوئے تیری تسبیح کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں فرمایا: بیشک میں وہ جانتاہوں جو تم نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔ (فرشتوں نے)عرض کی: (اے اللہ!)تو پاک ہے۔ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھا دیا، بے شک تو ہی علم والا، حکمت والا ہے (پھر اللہ نے)فرمایا: اے آدم!تم انہیں ان اشیاء کے نام بتادو۔تو جب آدم نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تو(اللہ نے)فرمایا:(اے فرشتو!)کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اوریاد کروجب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کیا۔اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافر ہوگیا۔

اس سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ اللہ پاک جو سب سے زیادہ علم و قدرت والا ہے اور فاعل مختار ہے جب وہ اپنے ملائکہ سے مشورہ فرماتا ہے تو بندے جن کا علم اور اقتدار و اختیار بہت ہی کم ہے تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ جس کسی کام کا ارادہ کریں تو اپنے مخلص دوستوں اور صاحبان عقل ہمدردوں سے اپنے کام کے بارے میں مشورہ کر لیا کریں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا مقدس دستور ہے۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص 250)

تیسری نصیحت:فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السّلام کے بارے میں یہ کہا کہ وہ فسادی اور خوں ریز ہیں لہٰذا ان کو خلافت الٰہیہ سے سرفراز کرنے سے بہتر یہ ہے کہ ہم فرشتوں کو خلافت کا شرف بخشا جائے کیونکہ ہم ملائکہ خدا کی تسبیح و تقدیس اور اس کی حمد و ثنا کو اپنا شعار زندگی بنائے ہوئے ہیں۔

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ بندے خداوند قدوس کے افعال اور اس کے کاموں کے مصلحتیں اور حکمتوں سے کماحقہ واقف نہیں ہیں اس لیے بندوں پر لازم ہے کہ اللہ کے کسی فعل پر تنقید و تبصرہ سے اپنی زبان کو روکے رہیں۔اور اپنی کم عقلی و کوتاہ فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ ایمان رکھیں اور زبان سے اعلان کرتے رہیں کہ اللہ نے جو کچھ کیا اور جیسا بھی کیا بہرحال وہی حق ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے کاموں کی حکمتوں اور مصلحتوں کو خوب جانتا ہے جن کا ہم بندوں کو علم نہیں۔(المرجع السابق، ص252، 253)

چوتھی نصیحت:ابلیس نے حضرت آدم علیہ السّلام کو خاک کا پتلا کہہ کر ان کی تحقیر کی اور اپنے کو آتشی مخلوق کہہ کر اپنی بڑائی اور تکبر کا اظہار کیا اور سجدۂ آدم علیہ السّلام سے انکار کیا درحقیقت شیطان کے اس انکار کا باعث اس کا تکبر تھا۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ تکبر وہ بری شے ہے کہ بڑے سے بڑے بلند مراتب و درجات والے کو ذلت کے عذاب میں گرفتار کر دیتی ہے بلکہ بعض اوقات تکبر کفر تک پہنچا دیتا ہے اور تکبر کے ساتھ ساتھ جب محبوبان بارگاہ الٰہی کی توہین اور تحقیر کا بھی جذبہ ہو تو پھر تو اس کی شناعت و خباثت اور بے پناہ منحوسیت کا کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔(المرجع السابق ص255)

پانچویں نصیحت:حضرت آدم علیہ السّلام کو اللہ پاک نے کتنے اور کس قدر علوم عطا فرمائے اور کن کن چیزوں کے علوم و معارف کو عالم الغیب والشہادۃ نے ایک لمحہ کے اندر ان کے سینہ اقدس میں بذریعہ الہام جمع فرما دیا جن کی بدولت حضرت آدم علیہ السّلام علوم و معارف کی کتنی بلند ترین منزل پر فائز ہو گئے کہ فرشتوں کی مقدس جماعت آپ کے علمی وقار و عرفانی عظمت و اقتدار کے روبرو سربسجود ہو گئی۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص 255)

اس سے معلوم ہوا کہ جب حضرت آدم علیہ السّلام کے علوم و معارف کی یہ منزل ہے تو پھر حضور سید آدم و سرور اولادِ آدم خلیفۃ اللہ الاعظم حضرت محمد رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے علوم عالیہ کی کثرت و وسعت اور ان کے رفعت و عظمت کا کیا عالم ہوگا واللہ! حضرت آدم علیہ السّلام کے علوم کو سرکار دو عالم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کے علوم سے اتنی بھی نسبت نہیں ہو سکتی جتنی کہ ایک قطرے کو سمندر سے اور ایک ذرے کو تمام روئے زمین سے نسبت ہے اللہ اکبر کہاں علومِ آدم اور کہاں علومِ سیدِ عالم!

فرش تا عرش سب آئینہ، ضمائر حاضر بس قسم کھائیے امید تیری دانائی کی


اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں انبیاء کرام اور ان کی قوموں کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، جس سے ہمیں بہت سی نصیحتیں اور عبرتیں حاصل ہوتی ہیں اسی طرح الله پاک نے ابوالبشر حضرت آدم علیہ السّلام کا بھی قرآن مجید میں ذکر فرمایا اور حضرت آدم علیہ السّلام کے واقعات قرآن مجید میں ذکر فرمائے ان واقعات سے بھی ہمیں بہت سی نصیحتیں حاصل ہوتی ہیں۔انہی نصیحتوں میں سے چند نصیحتیں آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

شیطان کی دشمنی کی وجہ:فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(۱۱۷) اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْ عَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ(۱۱۸) وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى(۱۱۹)ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے فرمایا اے آدم بےشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہےتو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے۔بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو نہ ننگا ہو۔اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ۔(پ16،طہ:117تا 119)

جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السّلام پر اللہ تعالیٰ کا انعام و واکرام دیکھا تو وہ ان سے حسد کرنے لگا یہ حسداس کی دشمنی کا ایک سبب تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ جیسے کسی سے حسد ہو تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور اس کی ہلاکت چاہتا ہے اور اس کا حال خراب کرنا چاہتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السّلام کے عمل سے مسلمانوں کے لیے تربیت:رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (۲۳) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ برا کیاتو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے ۔(پ 8، الاعراف: 23)

حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے اپنی لغزش کے بعد جس طرح دعا فرمائی اس میں مسلمانوں کے لئے یہ تربیت ہے کہ ان سے جب کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہ پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے ا س کا اعتراف کریں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت کا انتہائی لَجاجَت کے ساتھ سوال کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ان کا گناہ بخش دے اور ان پر اپنا رحم فرمائے۔ (پ8، الاعراف: 23)

شیطان کے وار سے بچنے کا نسخہ: یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَاؕ-اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ- ترجمۂ کنز الایمان:اے آدم کی اولاد خبردار تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دیئے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظر پڑیں بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے۔(پ8،الاعراف:27)

شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی پناہ لی جائے، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ شیطان ایک ایسا کتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر مُسلَّط فرمادیا ہے، اگر تم ا س سے مقابلہ و جنگ کرنے اور اسے (خود سے) دور کرنے میں مشغول ہوگئے تو تم تنگ آ جاؤ گے اور تمہارا قیمتی وقت ضائع ہو جائے گا اور بالآخر وہ تم پر غالب آ جائے گا اور تمہیں زخمی و ناکارہ بنا دے گا ا س لئے اس کے مالک ہی کی طرف متوجہ ہونا پڑے گا اور اسی کی پناہ لینی ہو گی تاکہ وہ شیطان کو تم سے دور کر دے اور یہ تمہارے لئے شیطان کے ساتھ جنگ اور مقابلہ کرنے سے بہتر ہے۔

بیوی اور شوہر بھی ایک دوسرے کا ستر نہ دیکھیں:فَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍۚ-فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ علیہمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِؕ-وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۲)

ترجَمۂ کنزُالایمان:تو اُتار لایا انہیں فریب سےپھر جب اُنہوں نے وہ پیڑ چکھا ان پر ان کی شرم کی چیزیں کھل گئیں اور اپنے بدن پر جنت کے پتے چپٹانے لگے اور اُنہیں ان کے رب نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس پیڑ سے منع نہ کیا اور نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔(پ8، الاعراف:22)

بہتر یہ ہے کہ خاوند اور بیوی بھی ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہ رہیں ایک دوسرے کے ستر کو نہ دیکھیں۔ یہ نصیحت (وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ) الخ سے حاصل ہوئی دیکھو اس وقت کوئی ان دونوں کو ننگا نہیں دیکھ رہا تھا مگر انہوں نے ستر چھپانے کی کوشش کی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی شیطان کے مکرو فریب اور حسد کرنے سے بچنے اور اس سے حاصل ہونے والی نصیحتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


الله تعالیٰ نے مختلف امتوں کی طرف اپنے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور ان کے واقعات کو قرآن مجید میں ذکر بھی فرمایا انہیں انبیاء علیہم السلام میں سے اللہ تعالیٰ کے ایک وہ نبی بھی ہیں جن سے باقاعدہ طور پر آدمیوں کا آغاز ہوا میری مراد حضرت آدم علیہ السّلام اور آپ کے واقعے کو بھی قرآن پاک میں ذکر فرمایا آپ علیہ السّلام کے واقعے سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے آیئے قرآن پاک میں موجود واقعہ آدم علیہ السّلام سے کچھ نصیحتیں حاصل کرتے ہیں۔

اہم کام پر مشورہ کرنا:اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(پ1، البقرۃ:30)

تفسیر:فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السّلام کی خلافت کی خبر اس لیے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت معلوم کریں اور اُن پر خلیفہ کی عظمت وشان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے پہلے ہی خلیفہ کا لقب عطا کر دیا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے اپنے ماتحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ اُس کام سے متعلق اُن کے ذہن میں کوئی بات ہو تو اس کا حل ہو سکے یا کوئی ایسی مفید رائے مل جائے جس سے وہ کام مزید بہتر انداز سے ہو جائے۔

شیطان نے کس بنیاد پر آدم علیہ السّلام سے بغض رکھا:فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى(۱۱۷) اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْ عَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ(۱۱۸) وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى(۱۱۹)ترجمۂ کنز الایمان:تو ہم نے فرمایا اے آدم بےشک یہ تیرا اور تیری بی بی کا دشمن ہےتو ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکال دے پھر تو مشقت میں پڑے۔بیشک تیرے لیے جنت میں یہ ہے کہ نہ تو بھوکا ہو نہ ننگا ہو۔اور یہ کہ تجھے نہ اس میں پیاس لگے نہ دھوپ۔ (پ16،طہ: 117تا 119)

آیت نمبر 117 میں شیطان کا حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کو سجدہ نہ کرنا آپ عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کے ساتھ اس کی دشمنی کی دلیل قرار دیا گیا ہے،یہاں اس دشمنی کی وجہ وضاحت سے بیان کی جاتی ہے۔جب ابلیس نے حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام پر اللہ تعالیٰ کا انعام واکرام دیکھا تو وہ ان سے حسد کرنے لگا اور یہ حسد ا س کی دشمنی کا ایک سبب تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ جسے کسی سے حسد ہو تو وہ اس کا دشمن بن جاتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت چاہتا اور اس کا حال خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

آدم علیہ السّلام کو شیطان کا سجدہ نہ کرنے کی وجہ:وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ (پ1،البقرۃ:34)

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ غرور و تکبرایسا خطرناک عمل ہے کہ یہ بعض اوقات بندے کوکفر تک پہنچا دیتا ہے،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ و ہ تکبر کرنے سے بچے۔

کس چیز نے ابلیس ملعون کو کافر بنایا؟وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ (پ1،البقرۃ:34)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ تکبر اور حسد نے ہی ابلیس کو ایمان سے نکال کر کفر میں داخل کر دیا۔

نیک لوگوں کے وسیلہ سے دعا کرنا:فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ علیہؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی بے شک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (پ1، البقرۃ: 37)

صراط الجنان میں اس کے تحت ہے:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جب حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام سے اجتہادی خطا ہوئی تو(عرصۂ دراز تک حیران و پریشان رہنے کے بعد) انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے میرے رب!مجھے محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے میں معاف فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تم نے محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو کیسے پہچانا حالانکہ ابھی تو میں نے اسے پیدا بھی نہیں کیا؟حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے عرض کی: اے اللہ پاک! جب تو نے مجھے پیدا کر کے میرے اندر روح ڈالی اور میں نے اپنے سر کو اٹھایا تو میں نے عرش کے پایوں پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ لکھا دیکھا،تو میں نے جان لیا کہ تو نے اپنے نام کے ساتھ اس کا نام ملایا ہے جو تجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! تو نے سچ کہا، بیشک وہ تمام مخلوق میں میری بارگاہ میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔تم اس کے وسیلے سے مجھ سے دعا کرو میں تمہیں معاف کردوں گا اور اگر محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا۔(مستدرک،ومن کتاب آیات رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم التی فی دلائل النبوۃ، استغفارآدم علیہ السّلام بحق محمدصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، 3/517، حدیث:4286، معجم الاوسط، من اسمہ محمد،5/36، حدیث:6502، دلائل النبوۃ للبیہقی، جماع ابواب غزوۃ تبوک، باب ماجاء فی تحدیث رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم۔۔۔الخ، 6/489)

اس آیت اور حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ بارگاہِ الٰہی کے مقبول بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز ہے۔


قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا عظیم اور بے مثل کلام ہے جو تمام انسانوں کے لیے رشد و ہدایت کا سر چشمہ ہے اور ہر چیز کا واضح اور روشن بیان ہے قرآن پاک میں جس طرح حرام و حلال کے احکام گزشتہ امتوں کے واقعات اور جنت و دوزخ کے احوال کو بیان کیا گیا ہے اسی طرح متعدد انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں ہمارے لئے نصیحتوں اور عبر توں کا بے بہا خزانہ ہے انہی انبیاء علیہم السلام میں سےایک حضرت آدم علیہ السّلام بھی ہیں۔قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السّلام کے متعدد واقعات کو بیان کیا گیا ہے انہی واقعات میں سے 5 نصیحتیں پڑھیے اور علم و عمل میں اضافہ کیجئے۔

مشورہ کرنا: الله پاک بے نیاز ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے نہ کوئی اس کے ارادے میں دخل انداز ہو سکتا ہے نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے کسی کام میں چوں و چرا کر سکے مگر اس کے باوجود اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق (پیدائش) و خلافت کے بارے میں ملائکہ کی جماعت سے مشورہ فرمایا جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(پ1، البقرۃ:30) پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک بے نیاز اور مختار کل ہے جب وہ اپنے ملائکہ سے مشورہ فرماتا ہے تو اس سے سبق ملتا ہے کہ ہم بھی جب کسی کام کا ارادہ کریں تو اپنے مخلص دوستوں اور صاحبان عقل و علم سے مشورہ لے لیا کریں۔

عالم کی فضیلت: اللہ پاک نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو آپ علیہ السّلام کے علمی فضل وکمال بلند درجات کے اعلان اور ملائکہ سے اس کا اعتراف کرانے کے لئے تمام فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو تمام ملائکہ نے روبر سجده کیا جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: فَسَجَدَ الْمَلٰٓىٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ(۳۰) ترجَمۂ کنزُالایمان:تو جتنے فرشتے تھے سب کے سب سجدے میں گرے۔(پ14، الحجر:30)

پیارے اسلامی بھائیو! اس سےمعلوم ہوا کہ عالم عابد(عبادت گزار) سے افضل ہے کیونکہ ملائکہ عابد اور حضرت آدم عالم تھے۔اور ملائکہ نے آپ علیہ السّلام کو سجدہ کیا اور سجدہ انتہائی عاجزی اور اپنے سے بڑے درجے والے کو کیا جاتا ہے تو ہمیں بھی چا ہئے کہ عبادت کے ساتھ علم دین بھی حاصل کرتے رہا کریں۔

تکبر کی مذمت:اللہ پاک نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما لیا تو تمام ملائکہ اور ابلیس لعین سے آپ علیہ السّلام کو سجدہ کرنے کا حکم فرمایا تو تمام ملائکہ نے سجدہ کیا اور ابلیس لعین نے آپ علیہ السّلام کو خاک کا پتلا کہہ کر آپ کی تحقیر کی اور اپنی بڑائی اور تکبر کااظہار کرتے ہوئے سجدۂ آدم سے انکار کیا اور کافروں میں سے ہو گیا جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے: فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان: تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔(پ1،البقرۃ:34)

اس سے معلوم ہوا کہ تحقیر انبیاء علیہم السّلام اور تکبروہ مذموم فعل ہیں جو بڑے سے بڑے بلند مراتب و درجات والے کو ذلت کے عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں بلکہ بعض اوقات یہ کفر تک پہنچا دیتے ہیں، اللہ پاک ہمیں تکبر سے بچنے تعظیم انبیاء علیہم السلام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنا:ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے یہ فرشتہ نہیں بلکہ جن تھا جو آگ سے بنا تھا اور فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اللہ پاک کی بارگاہ میں بہت مقرب اور بڑے بلند درجات و مراتب سے سرفراز تھا اور بہت زیادہ عبادت گزار تھا۔مگر جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے اپنی عبادت اور علم پر گھمنڈ کیااور سجدے سے انکار کر کے ہمیشہ کے لئے ملعون ہو گیا جیسے کہ قرآن پاک میں اس کا یہ قول بیان کیا گیا ہے: قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُۚ- ترجَمۂ کنزُالایمان: بولا میں اس سے بہتر ہوں۔(پ8، الاعراف: 12)

پیارے اسلامی بھائیو! اس سے ایک بہت بڑا درس یہ ملا کہ ہمیں ہر گز ہرگز اپنی عبادتوں اور نیکیوں پر گھمنڈ اور غرور نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے ہمیشہ خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے رہنا چا ہے۔

مقبولانِ بارگاہ الٰہی کے وسیلے سے دعا کرنا:حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر اتارے گئے تو آپ نے ندامت کے با عث تین سو برس تک آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اور روتے رہے پھر جب آپ پر عتاب الٰہی ہوا تو آپ نے حضور اکرم نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے وسیلے سے دعا کی جیسا کہ اللہ پاک قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ علیہؕ- ترجمۂ کنز الایمان:پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی۔ (پ1، البقرۃ:37) ابن منذر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں وہ کلمات یہ ہیں، ترجمہ: اے اللہ تیرے بندہ خاص محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے جاہ و مرتبہ کے طفیل میں اور ان کی بزرگی کے صدقے میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہےمیں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ بخش دے۔یہ دعا کرتے ہی اللہ پاک نے آپ کی توبہ قبول فرمائی اور آپ کی مغفرت فرمادی اس سے معلوم ہوا کہ مقبولان بارگاہ الٰہی کے وسیلے سے دعا کرنا جائز اور حضرت آدم علیہ السّلام کی سنت ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ جب بھی کسی اہم کام کی دعا کریں تو مقبولان بارگاه کے وسیلے سے کریں۔

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


انبيائے کرام عليہم السلام کے واقعات میں ہمارے لئے بہت سے درس و نصیحتیں ہیں لہٰذا ان واقعات کو درس حاصل کرنے کی نیت سے پڑھیں۔یہاں حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے حاصل ہونے والی چند نصیحتیں بیان کی جاتی ہیں:

(1)حکمِ الٰہی کے مقابل قیاس کا استعمال: فرشتوں نے کسی پس و پیش کے بغیر حکمِ الٰہی پر فوری عمل کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السّلام کو سجده کیا جبکہ شیطان نے حکمِ الٰہی کو اپنی عقل کے ترازو میں تولا، اسے عقل کے خلاف جانا اور اس پر عمل نہ کر کے بربادی کا شکار ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ حکمِ الٰہی کو من و عن اور چوں چرا کے بغیر تسلیم کرنا ضروری ہے۔حکمِ الٰہی کے مقابلے میں عقل استعمال کرنا، اپنی فہم و فراست کے پیمانے میں تول کر اس کے درست ہونے يا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا اور مخالف عقل جان کر عمل سے منہ پھیر لینا کفر کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔

(2)تکبر کی مذمت:ابلیس سے سرزد ہونے والے گناہوں میں بنیادی گناه تکبر تھا۔حديث پاک میں ہے: تکبر حق بات کو جھٹلانے اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔تکبر کبیرہ گناہ ہے اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اور متکبروں کو قیامت کے دن لوگ اپنے پاؤں سے روندیں گے۔

(3)لمبی امیدوں سے نجات کا طریقہ: شیطان مردود کا بہت بڑا ہتھیار لمبی امیدیں دلانا ہے چنانچہ وہ لمبے عرصے تک زندہ رہنے کی سوچ انسان کے دل، دماغ میں بٹھا کر موت سے غافل، تو بہ سے دور اور گناہوں میں مشغول رکھتا ہے، حتی کہ اسی غفلت میں اچانک موت آجاتی ہے اور گناہوں سے تو بہ اور نیکی کرنے کی طاقت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے۔اس کا حل موت،قبر اور آخرت کی یاد ہے۔

(4)تخلیقات الٰہی میں خلاف شرع تبدیلیوں کا شرعی حکم: اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں خلاف شرع تبدیلیاں حرام ہیں اور ان سے بچنا لازم ہے جیسے لڑکیوں کا ابرووں کے بالوں کو خوبصورتی کے لئے باریک کرنا، چہرے وغیرہ پر سوئیوں کے ذریعے تل یا کوئی نشان ڈالنا، مرد یا عورت کا بدن پر ٹیٹو بنوانا، مختلف خوشی و غیرہ کے مواقع پر چہرے کو مختلف رنگوں سے بگاڑنا، لڑکوں کا اپنے کان چھیدنا، لڑکیوں کا سر کے بال لڑکوں جیسے چھوٹے چھوٹے کاٹنا اور مرد کا داڑھی منڈانا۔

(5)انبیاء کی گستاخی کا حکم:اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام کی گستاخی ایسا بڑا جرم ہے جس کی سزا میں زندگی بھر کی عبادت و ریاضت برباد ہو جاتی ہے۔ابلیس جیسے انتہائی عبادت گزار کا انجام اس کی عبرت انگیز مثال ہے۔


الحمد للہ تعالیٰ اللہ پاک نے ہم سب کو اشرف المخلوقات بنایا اور ہم سب پر اپنی بے شمار نعمتوں کا نزول بھی فرمایا، سب سے بڑی نعمت اسلام سے نوازا جس میں اللہ کو ایک ماننے اور تمام رسولوں کو اس کے بندے اور رسول ماننے کا حکم آیا ہے، اور اس عقیدہ کو سمجھانے کے لیے الله پاک نے انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام اور رسولوں کو بھیجا اور پھر ان رسولوں کی زندگی پر عمل کرنے کی بھی تلقین کی گئی یقیناً ہر رسول کی زندگی مثالی ہےاور ہر رسول کی زندگی سے بہت ساری نصیحتیں و اسباق مل سکتے ہیں اور سب سے پہلے نبی اور رسول جن کو اللہ پاک نے بغیر ماں اور بغیر باپ کے پیدا فرمایا ان کی زندگی میں بھی ہمارے لیے بہت ساری نصیحتیں اور اسباق ہیں۔الله پاک قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹) ترجمہ کنز الایمان:عیسیٰ کی کہاوت اللہ کی نزدیک آدم کی طرح ہے اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔(پ3،آل عمران:59)

سبحان الله! ربِّ کریم فرماتا ہے ہو جا تو ہو جاتا ہے، پھر بھی ہم اپنی پریشانیوں میں اپنے آپ کو بے بس ظاہر کر کے دوسروں سے اس کے حل کی فریاد کر رہے ہوتے ہیں کبھی اللہ کی طرف گڑ گڑا کر اس مشکل پریشانی کا حل مانگو وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور ہمیں انبیائے کرام کی زندگیوں سے بھی درس و نصیحت لینی چاہیے۔

ابلیس کیا تھا اور کیا ہو گیا: حضرت آدم (علیہ السّلام)کی زندگی میں ایک واقعہ شیطان کا بھی آتا ہے سب سے پہلے یہ معلوم کرتے ہیں کہ شیطان کیا تھا کیا ہو گیا۔ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا۔لیکن یہ فرشتوں سے ملا جلا رہتا تھا اور دربار خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات ومراتب سے سرفراز تھا۔(تفسیر صاوی، ج1، ص51، البقرة، تحت الآیۃ: 34)

لیکن جب اللہ پاک نے حضرت آدم (علیہ السّلام) کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے انکار کر دیا۔اور حضرت آدم علیہ السّلام کی تحقیر اور اپنی بڑائی کا اظہار کرکے تکبر کیا اسی جرم کی سزا میں اللہ پاک نے اسے دونوں جہاں میں ملعون قرار دے دیا۔

نصیحتیں: اس سے یہ نصیحتیں ملتی ہیں: (1)ہرگز ہرگز اپنی عبادتوں اور نیکیوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے (2)گناہ گار کو اپنی مغفرت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انجام کیا ہوگا اور خاتمہ کیسا ہوگا عام بندوں کو اس کی کوئی خبر نہیں ہے اور نجات اور فلاح کا دارومدار حقیقت در حقیقت خاتمہ بالخیر پر ہی ہے۔(عجائب القرآن و غرائب القرآن)

حدیث پاک میں ہے کہ ایک بندہ اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور ایک بندہ اہل جنت کے عمل کرتا رہتا۔ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے (اِنَّمَا الْاَعْمَاْلُ بِالْخَوَاتِيْمِ)(مشكوة المصابيح، كتاب الايمان، فصل الاول)

حضرت آدم علیہ السّلام کی توبہ: حضرت آدم علیہ السّلام نے جنت سے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک ندامت کی وجہ سے سر اٹھا کر آسمان کی طرف نہیں دیکھا اور روتے رہے۔روایت ہے اگر تمام انسانوں کے آنسو جمع کیے جائیں تو اتنے نہیں ہوں گے جتنے آنسو حضرت داؤد علیہ السّلام کے خوف الٰہی کے سبب زمین پر گرے اور اگر تمام انسانوں اور حضرت داؤد علیہ السّلام کے آنسوں کو جمع کیا جائے تو حضرت آدم علیہ السّلام کے آنسوں ان سب لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔(تفسیر صاوی، ج1، البقرۃ، تحت الآیۃ: 37)

لیکن حاکم و طبرانی وابونعیم و بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السّلام پر عتاب الٰہی ہوا تو آپ توبہ کی فکر میں حیران تھے۔ناگہاں اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سراٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہوا ہے۔لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ اسی وقت میں سمجھ گیا کہ بارگاہ الٰہی میں وہ مرتبہ کسی کو میسر نہیں جو محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو حاصل ہے کہ اللہ پاک نے ان کے نام کے ساتھ اپنا نام اقدس ملا کر عرش پر تحریر فرمایا ہے لہٰذا آپ نے دعا میں رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا کے ساتھ یہ عرض کیا: اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدِ اَنْ تَغْفِرْلِیْ۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن)

نصیحتیں:

اس سے ہمیں کئی نصیحتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:(3)اس سے معلوم ہوا کہ مقبولان بارگاہ الٰہی کے وسیلہ سے بحق فلاں و بجاہ فلاں کہہ کر دعا مانگنی جائز ہے اور حضرت آدم (علیہ السّلام) کی سنت ہے۔ (عجائب القرآن وغرائب القرآن) (4)اس سے ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شان معلوم ہوئی تو کیوں نا اپنے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مدح کریں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب کو انبیاء اکرام علیہم الصلوٰة والسلام کی سیرتوں کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے لئے سب سے بہترین کتاب سیرت الانبیاء (مفتی قاسم صاحب) کی تصنیف کردہ کتاب کا مطالعہ کافی مفید رہے گا۔


اللہ پاک نے لوگوں کی ہدایت کے لیے کئی انبیائے کرام بھیجےجن میں سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السّلام کو بھیجا اور ان کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ذکر کیا ان کا جو واقعہ قرآن مجید میں آیا ہے اُس سے پانچ قرآنی نصیحتیں درج ذیل ہیں:

(1)غرور نہ کرنا: وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔ (پ1،البقرۃ:34)

شیطان کو حضرت آدم علیہ السّلام کو سجدہ کرنے سے غرور نے روکا لہٰذا ہمیں غرور و تکبر بالکل نہیں کرنا چاہیے۔

(2) توبہ کرنا: فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ علیہؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷) ترجمۂ کنز الایمان:پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی بے شک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔ (پ1، البقرۃ: 37)

حضرت آدم علیہ السّلام سے اجتہادی خطا ہوئی اور انہیں دنیا میں بھیج دیا گیا حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے اپنی دعا میں یہ کلمات عرض کئے:رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (۲۳) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ برا کیاتو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے ۔(پ 8، الاعراف: 23)پھر اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السّلام کی توبہ قبول کی ہم سے بھی اگر غلطی سے کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کر لینی چاہیے، بیشک اللہ پاک بڑا مہربان ہے۔

(3) فضیلت علم: وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔(پ1، البقرۃ:31)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کے فرشتوں پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! تمہاراا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت سیکھی ہو،یہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہارا اس حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہو جس پر عمل کیا گیا ہو یا نہ کیا گیاہو،تو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔لہٰذا ہمیں بھی علم حاصل کرنے میں مصروف ہو جانا چاہیے۔

(4)اللہ پاک کے حکم پر فوری طور پر عمل کرنا: وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ﳓ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ(۱۱) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور بے شک ہم نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہارے نقشے بنائے پھر ہم نے ملائکہ سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کروتو وہ سب سجدے میں گرے مگر ابلیس یہ سجدہ والوں میں نہ ہوا۔(پ8، الاعراف:11)

ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم پر فوری طور پر عمل کرنا چاہیے جیسے شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل نہیں کیا اور مردود ہوگیا لہٰذا ہمیں حکمِ الٰہی پر فوری طور پر عمل کرنا چاہیے۔

(5)انبیاء کرام کا حکم ماننا: اللہ تعالیٰ کے انبیاء علیہم السلام کی گستاخی ایسا بڑا جرم ہے جس کی سزا میں زندگی بھر کی عبادت و ریاضت برباد ہو جاتی ہے۔ابلیس جیسے انتہائی عبادت گزار کا انجام اس کی عبرت انگیز مثال ہے۔


حضرت آدم علیہ السّلام سب سے پہلے انسان اور تمام انسانوں کے باپ ہیں اس لئے آپ کا لقب ابو البشر ہے، اللہ تعالیٰ نے خاص اپنی دست قدرت سے آپ کا جسم مبارک بنایا اور اپنی طرف سے ایک خاص روح پھونک کر پسندیدہ صورت پر پیدا کیا اور انہیں تمام اشیاء کے ناموں ان کی صفات اور ان کی حکمتوں کا علم عطا فرمایا، فرشتوں نے آپ کی علمی فضیلت کا اقرار کر کے آپ کو سجدہ کیا جبکہ ابلیس سجدے سے انکار کر کے مردود ہوا، حضرت آدم علیہ السّلام کثیر فضائل سے مشرف ہیں اور قرآن وحدیث میں آپ کا کثرت سے تذکرہ موجود ہے جبکہ آپ کا اجمالی تذکرہ قرآن پاک میں کئی مقامات پر موجود ہے جبکہ تفصیلی ذکر درج ذیل سات سورتوں میں کیا گیا ہے:(1) سورۂ بقرہ آیت نمبر 30 تا 39۔ (2)سورۂ اعراف آیت نمبر 11 تا 25۔ (3) سورۂ حجر آیت نمبر 26 تا 44۔ (4)سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر 61 تا 65۔ (5)سورۂ کہف آیت نمبر 50 (6)سورۂ طہ آیت نمبر 115 تا 127۔(7)سورۂ صٓ آیت نمبر 71 تا 85۔

خلیفہ کے بارے میں فرشتوں سے مشورہ:حضرت آدم علیہ السّلام کی تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مشورے کے انداز میں فرشتوں سے کلام فرمایا چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(پ1، البقرۃ:30)

فرشتوں کی بارگاہ الٰہی میں عرض:زمین میں خلیفہ بنانے کی خبر سن کر فرشتوں نے عرض کی: اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰) ترجَمۂ کنزُالایمان: کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرےاور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں۔

اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰) ترجَمۂ کنزُالایمان: مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔(پ1، البقرۃ:30)

کیوں کہ خلیفہ بنانے میں اللہ پاک کی حکمتیں تم پر ظاہر نہیں ان میں انبیاء ورسل علیہم السّلام بھیجے جائیں گے، ان میں شہدا وصدیقین بھی ہوں گے، صالحین وعابدین بھی، علماء عاملین بھی اور اولیاء کاملین بھی۔اس واقعہ حضرت آدم علیہ السّلام سے قرآنی نصیحتوں کے جو مدنی پھول ملے ہیں ان میں سے چند ذکر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلی نصیحت: ماتحت افراد سے مشورے کی ترغیب: تخلیق آدم علیہ السّلام سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام فرمایا، اس میں ہمارے لئے یہ نصیحت ہے کہ اگر ہم بھی کوئی اہم کام شروع کریں تو سب سے پہلے اپنے ماتحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ یا تو مزید کوئی ا چھی رائے مل جائے گی جس سے کام اور ذیادہ بہتر طریقے سے ہو جائے گا یا اس کام سے متعلق ماتحت افراد کے ذہنوں میں موجود خلش کا ازالہ ہو جائے گا۔

دوسری نصیحت:نامعلوم بات پر لا علمی کا اظہار کر دیا جائے: اشیاء کے نام معلوم نہ ہونے پر فرشتوں نے اپنی لاعلمی کا اعتراف کر لیا اس میں ہر صاحب علم اور ہر مسلمان کے لیے نصیحت ہے کہ جو بات معلوم نہ ہو اس کے بارے میں لاعلمی کا صاف اظہار کر دیا جائے لوگوں کی ملامت سے ڈر کر یا عزت و شان کم ہونے کے خوف سے کبھی بھی کوئی بات گھڑ کر بیان نہ کی جائے۔

تیسری نصیحت:حکمِ الٰہی کے مقابلے میں قیاس کا استعمال: فرشتوں نے کسی پس وپیش کے بغیر حکمِ الٰہی پر عمل کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السّلام کو سجدہ کیا جبکہ شیطان نے حکمِ الٰہی کو اپنی عقل کے ترازو میں تولا، اسے عقل کے خلاف جانا اور اس پر عمل نہ کر کے بربادی کا شکار ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکمِ الٰہی کو من وعن اور چوں چرا کے بغیر تسلیم کرنا ضروری ہے، حکمِ الٰہی کے مقابلے میں اپنی عقل کا استعمال کرنا، اپنی فہم وفراست کے پیمانے میں تول کر اس کے درست ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا اور مخالف عقل جان کر عمل سے منہ پھیر لینا کفر کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔

چوتھی نصیحت: لغزش کے بعد توبہ کرنا حضرت آدم علیہ السّلام نے اپنی لغزش کے بعد جس طرح دعا فرمائی اس میں مسلمانوں کے لیے نصیحت ہے کہ جب ان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو وہ اللہ پاک کی بارگاہ میں اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کریں اور مغفرت ورحمت کا عاجزی سے گڑ گڑا کر سوال کریں۔ نیز حضرت آدم علیہ السّلام کی توبہ کے کلمات سے یہ ثابت ہوا کہ بارگاہِ الٰہی میں مقبول بندوں کے وسیلے سے دعا مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السّلام سے ثابت ہے۔

پانچویں نصیحت:عاجزی و انکساری اختیار کرنا: حضرت آدم علیہ السّلام کے واقعے میں ابلیس کا ذکر ہوا جس نے آپ علیہ السّلام کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور رب العزت کی بارگاہ سے مردود ٹھہرا، اس کے حالات و واقعات میں ہمارے لیے یہ نصیحت ہے کہ عبادت وریاضت کی بدولت خود کو اعلیٰ مقام پر فائز سمجھنے کی بجائے بارگاہِ الٰہی میں عاجزی وانکساری کرتے رہیں اور اس کی خفیہ تدبیر سے ہر دم خوف زدہ رہیں نیز ابلیس کے تعلق سے دی گئی ہدایات الٰہی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسے اپنا دشمن سمجھیں، اس کے وسوسوں سے بچیں اور اس مردود سے اللہ پاک کی پناہ مانگتے رہیں۔اے اللہ! اپنے پیارے بندے حضرت آدم علیہ السّلام پر بےشمار درود وسلام اور رحمت وبرکت نازل فرما اور ہمیں ان کی مبارک سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔آمین ثم آمین


اللہ پاک نے قرآن مجید میں فرمایا:هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ(۱۳۸) ترجَمۂ کنزُالایمان:یہ لوگوں کو بتانا اور راہ دکھانا اور پرہیزگاروں کو نصیحت ہے۔(پ4، آل عمرٰن: 138)

قرآنِ پاک کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت اور نصیحت کیلئے نازل فرمایا، آئیے! ان نصیحتوں کے بارے میں کچھ باتیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کا ذکر اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔

(1) اہم کاموں میں مشاورت:وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ- ترجَمۂ کنزُالایمان:اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔(پ1، البقرۃ:30)

اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کو کسی سے مشورہ کی حاجت ہو،البتہ یہاں خلیفہ بنانے کی خبر فرشتوں کوظاہری طور پر مشورے کے انداز میں دی گئی۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے اپنے ما تحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ ا س کام سے متعلق ان کے ذہن میں کوئی خلش ہو تو اس کا ازالہ ہو جائے یا کوئی ایسی مفید رائے مل جائے جس سے وہ کام مزید بہتر انداز سے ہو جائے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بھی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کرنے کا حکم دیا،جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ ترجَمۂ کنزُالایمان: اور کاموں میں ان سے مشورہ لو۔(آل عمران: 159) (تفسیر صراط الجنان، البقرۃ:30)

(2) علم دین کا حصول:وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱) ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔(پ1، البقرۃ:31)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام پر تمام اشیاء پیش فرمائیں اور بطورِ الہام آپ کو ان تمام چیزوں کے نام، کام، صفات، خصوصیات، اصولی علوم اور صنعتیں سکھا دیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام کے فرشتوں پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا: اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔حضرت ابو ذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! تمہارا ا س حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت سیکھی ہو،یہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہارا اس حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہو جس پر عمل کیا گیا ہو یا نہ کیا گیاہو،تو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔ (تفسیر صراط الجنان، البقرۃ: 31)

(3) تکبر کی مذمت:وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا۔(پ1،البقرۃ:34)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ تکبرایسا خطرناک عمل ہے کہ یہ بعض اوقات بندے کوکفر تک پہنچا دیتا ہے،اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ و ہ تکبر کرنے سے بچے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تکبر حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے ۔(تفسیر صراط الجنان، البقرۃ: 34)

(4) گناہوں کے بعد توبہ کرنا:

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵) فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶) فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ علیہؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷) ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے۔تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا اور ہم نے فرمایا نیچے اترو آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے۔ پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی بے شک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔(پ1، البقرہ: 35تا37)

حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام نے اپنی دعا میں یہ کلمات عرض کئے:رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (۲۳) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ برا کیاتو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے ۔(پ 8، الاعراف: 23)

(5) شیطان کے فریب سے بچنا:وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠(۱۱۵) ترجَمۂ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے آدم کو اس سے پہلے ایک تاکیدی حکم دیا تھا تو وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا قصد نہ پایا۔(پ16، طہ:115)

اس سے پہلے سورۂ بقرہ، سورۂ اَعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ کہف میں مختلف حکمتوں کی وجہ سے حضرت آدم عَلَیہِ الصّلوٰۃُ والسّلام اور ابلیس کا واقعہ بیان ہو ا اور اب یہاں سے چھٹی بار ان کا واقعہ بیان کیا جا رہاہے اور اسے ذکر کرنے میں یہ حکمت بھی ہو سکتی ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے شیطان انسانوں کا بڑ اپرانا دشمن ہے ا س لئے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ شیطان کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہے اور اس کے وسوسوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کرے۔(تفسیر صراط الجنان، طہ: 115)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں قرآن پاک کی ان نصیحتوں پر عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت کو بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔