حضور جان عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا خالق پاک ارشاد فرماتا ہے:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۔ترجمہ:آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کر دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔(پ 26، یٰسٓ: 65)اللہ ُ اکبر ! دلوں کو چیر دینے والی اور اعضاء کو خوفِ خدا پاک میں فنا کردینے والی آیت ہے، وہ کیا منظر ہوگا جب زبانیں خشک ہوں گی، پسینےبہتے ہوں گے، دل گلوں تک آ گئے ہوں گے، تپتی زمین پاؤں نہ رکھنے دے گی، برہنہ جسم ہوں گے، ہر ایک دوسرے سے بیزار اپنے نتیجے کا انتظار کرتا ہوگا، اِس کڑے وقت میں اس شخص کا تصور کریں،جس کو حساب کے لئے بلایا جا رہا ہے، کہاں ہے فلاں! آج سامنے آؤ اور ہمیں اپنے اعمال کا حساب دو، اب جھوٹ بولنا چاہے گا تو اس کے منہ پر مہر کر دی جائے گی، اس کی آنکھوں کو حکم ہوگا، بولو اس نے کیا کیا کیا؟ ارے کیا حالت ہوگی، جب آنکھ کہے گی:اے میرے ربّ!تیرے اور تیرے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے عشق میں فنا کرنے کی بجائے اس نے مجھے بے حیائی میں فنا کردیا تھا۔پاؤں کہیں گے:اے میرے ربّ! اس نے تیری نہ مانی، بلکہ تیرے دشمن شیطان کی مانی، دل کہے گا:اے میرے ربّ! تو نے فرمایا تھا :دلوں کا سکون ذکر اللہ میں ہے، مگر اس نے مجھے کبھی سکون ہی نہ دیا، یوں ہی تمام اعضاء بولتے جائیں گے، یہ شرم و ندامت میں بھرا سنتا جائے گا، سارے اہلِ محشر سنتے ہوں گے، کہیں گے: ارے کتنا نافرمان تھا، آج تو دوزخ کا ایندھن بن جائے گا،آنکھ اٹھا کر دیکھے گا، سامنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جلوہ فرما ہیں، وہ سن رہے ہیں، میں کیا کرتا تھا، اب تو اس کی گردن شرم سے جھک جائے گی، حساب اور وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے! روتا تڑپتا حضور جانِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدمینِ شریفین میں گرے گا، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم چاہیں گے تو شفاعت فرمائیں گے، ورنہ جہنم کی گہرائیوں کو دیکھے گا۔کبھی تصور کریں کہ یہ کتنا مشکل وقت ہوگا کہ آج میرا کچھ بھی نہ چھپے گا، نہ میں جھوٹ بول سکوں گا، نہ فدیہ دے کر جان چھڑا سکوں گا، وہ لوگ بھی سنیں گے جن کے سامنے نیک بنتا تھا اور تنہائیوں میں ربّ پاک کی نافرمانیاں کرتے حیانہ آتی تھی، اے ریاکار! بول کر پکارا جائے گا یا فاسق کہہ کر پکارا جائے گا یا نافرمان کہہ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔نہیں نہیں! ابھی وقت ہے، ابھی سانسیں جاری ہیں، مجھے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے حیا آتی ہے، وہ کام نہیں کروں گی، جو ربّ پاک کو ناراض کریں، جو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قلبِ منور کو رنج دیں۔میں بروزِ قیامت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قلبِ انور کو خوش کروں گی، میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دکھ نہیں دینا چاہتی۔


حساب حق ہے اور اعمال کا حساب ہونے والا ہے،  چنانچہ حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:ہر آدمی کے گلے میں ایک ہار ہے، جس میں اس کے عمل کا حساب لکھا جاتا ہے، جب وہ مر جاتا ہے تو اس ہار کو لپیٹ دیا جاتا ہے، جب بندے کو دوبارہ اٹھایا جائے گا تو اس ہاتھ کو کھول دیا جائے گا اور اسے حکم ہوگا۔(آخرت کے حالات، صفحہ291)اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ترجمۂ کنزالایمان:اپنا نامہ (اعمال) پڑھ، آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے۔(پ 15،بنی اسرائیل: 14)اللہ پاک مومن کافر اور منافق پر اعمال پیش فرمائے گا:حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں: بروزِ قیامت مؤمن کو حساب کے لئے بلایا جائے گا، پھر اللہ پاک اس پر ان اعمال کو پیش فرمائے گا، جنہیں رب کریم اور بندے کے سوا کوئی نہیں جانتا ہوگا تو وہ اقرار کرتے ہوئے کہے گا: اے ربّ !میں نے یہ بھی کیا، وہ بھی کیا اور فلاں کام بھی کیا تھا، پس اللہ پاک اس کے گناہ معاف فرما کر چھپا دےگا، پس زمین پر کوئی مخلوق ایسی نہیں ہوگی، جس نے ان گناہوں میں کچھ بھی دیکھا ہو، اب بندے کی نیکیاں ظاہر ہوں گی تو وہ چاہے گا، سب لوگ انہیں دیکھیں، پھر کافر اور منافق کو حساب کے لئے بلایا جائے گا اور ربّ کریم اس پر اس کے اعمال پیش فرمائے گا تو وہ انکار کرتے ہوئے کہے گا:اے ربّ تیری عزت کی قسم! فرشتے نے میرے نامہ اعمال میں وہ عمل لکھ دیئے، جو میں نے کئے ہی نہیں، فرشتہ اس سے کہے گا:کیا تو نے فلاں دن فلاں جگہ یہ کام نہیں کیا تھا؟ تو وہ کہے گا: اے ربّ تیری عزت کی قسم! میں نے یہ نہیں کیا تھا، پس جب وہ انکار کرے گا تو اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔(آخرت کے حالات، ص820) کیا اعضاء ہر شخص کے خلاف گواہی دیں گے ؟ معلوم ہوا! کافر اور منافق اللہ پاک کی بارگاہ میں جھوٹ بولتے ہوئے اپنے گناہوں کا انکار کریں گے، تو اللہ پاک ان کے منہ پر مہر لگا دے گا، (یعنی ان کی زبان بند ہو جائے گی، وہ بول نہ سکیں گے)اور ان کے جسم کے اعضاء(آنکھ، ناک، کان، ہاتھ، پاؤں،گوشت، ہڈیاں، کھالیں وغیرہ) ان کے خلاف گواہی دیں گے، قرآن پاک میں اس کا ذکر کچھ یوں ہوتا ہے:الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانو ایکسبون۔ترجمہ:آج ہم ان کے منہ پر مہر کر دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔( پ 23، یسٓ: 25)وما کنتم تستترون ان یشھد علیکم سمعکم ولا ابصارکم ولا جلودکم۔ ترجمہ:اور تم اس سے چھپ کر کہاں جاتے ہو، تم پر گواہی دیں تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں۔( پ 24، حٰم سجدہ:22) (آخرت کے حالات، صفحہ 327) جب کہ مؤمن کے لئے نجات اور براءَت ہے کہ وہ اپنے گناہوں کا فوراً اقرار کرلے گا اور دل ہی دل میں ڈرے گا، سوچے گا، اب میں پکڑا گیا، عذاب میں گرفتار ہوا، پھر اللہ کریم اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل کر بخش دے گا، بندہ مؤمن جب اپنا اعمال نامہ دوبارہ دیکھے گا، تو اس کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہوگا۔(مراۃ المناجیح، جلد 7، صفحہ 286)سب سے پہلے کونسا عُضو کلام کرے گا:حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بروزِ قیامت تم اس حال میں آؤ گے کہ تمہارے منہ پر مہر ہوگی اور آدمی کے اعضاء میں سب سے پہلے اس کی ران اور ہتھیلی کلام کرے گی۔(آخرت کے حالات، صفحہ 329)اللہ پاک ہماری،ہمارے والدین،معلمات اور پیرومرشد کی بے حساب بخشش اور مغفرت فرمائے۔آمین

صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لےمجھ سےحساب بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے


سورۂ نور میں ارشادِ باری ہے:یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ترجمۂ کنز الایمان:جس دن ان پر گواہی دیں گے، ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے۔(پ 18: 24)تفسیر:حضرت علامہ سیّد محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک اپنی قدرتِ کاملہ سے انہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا، پھر ان میں سے ہر ایک اس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ ان سے کیا کام لیتا رہا ہے۔درة النّاصحین میں ہے:قیامت کے دن ایک شخص بارگاہِ الہٰی میں آئے گا، اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا، وہ اس میں کثیر گناہ دیکھے گا تو وہ عرض کرے گا:یا اللہ! میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں تو اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:میرے پاس مضبوط گواہ موجود ہیں۔ تو وہ شخص اپنے دائیں بائیں دیکھے گا، لیکن کوئی گواہ نہ پائے گا تو وہ شخص کہے گا کہ وہ گواہ کہاں ہیں؟پھر اللہ پاک اس کے اعضاء کو حکم دے گا تو کان کہیں گے کہ ہاں میں نے حرام سنا، پھر آنکھیں کہیں گی: ہاں میں نے حرام دیکھا تھا، پھر زبان کہے گی: ہاں میں نے حرام بولا تھا، اسی طرح پھر پاؤں کہیں گے: ہاں ہم حرام کی طرف بڑھتے تھے، پھر شرمگاہ کہے گی: ہاں میں نے زنا کیا تھا، وہ شخص یہ سُن کر حیران رہ جائے گا۔(مدخّفًا،الخامس،والستون،ص294)آیت:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ و تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۔ ترجمہ:آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔(پ 23، یسٓ: 64)وضاحت:قیامت کے دن ان کے اعضا گواہی دیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا، سب کچھ بیان کردیں گے، قیامت کے دن اللہ پاک اعضاء کو گویائی کی طاقت عطا فرمائے گا۔سورۂ نور آیت24 میں اللہ پاک ارشادفرماتا ہے:ترجمۂ کنز الایمان:انسان کے باقی تمام اعضاء بھی گواہی دیں گے۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا، اس پر آیت ہے:وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔(پ 24، حم السجدہ :22) عبد الرزاق میں ہے: منہ بند ہونے کے بعد سب سے پہلے پاؤں اور ہاتھ بولیں گے۔آیت نمبر 20 سورہ فصلت:ترجمۂ کنز الایمان:یہاں تک کہ جب وہ جہنم کے پاس آجائیں گے ان پر ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔( مسلم، کتاب الزہد)بندہ کہے گا: میں اپنے نفس کے سوا کسی کی گواہی نہیں مانوں گا، پھر اللہ پاک فرمائے گا کہ کیا میں اور میرے فرشتے یعنی کراماً کاتبین گواہی کیلئے کافی نہیں؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگادی جائے گی، پھر اس کے اعضا کو بولنے کا حکم دیا جائے گا۔حدیث میں ہے:قیامت کے دن اعضاء اللہ پاک کے حکم سے بول کر بتلائیں گے۔ترجمۂ کنز الایمان:اور جس دن اللہ کے دشمن آگ کی طرف ہانکے جائیں گے تو ان کے اگلوں کو روکیں گے اور پچھلے آملیں گے(یہاں تک کہ پچھلے آملیں)یہاں تک کہ جب وہاں پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے سب ان پر ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔(پ 24، حم السجدہ: 21)بیشک قیامت کے دن اعضاء گواہی دیں گے، کیونکہ اللہ پاک نے ہر بے جان اور جاندار چیز میں گویائی کی طاقت بخشی ہے۔


قیامت کے دن اعضاء گواہی دیں گے۔قرآن کریم میں ارشاد باری ہے:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(پ 23، یسٓ: 65)ترجمۂ کنز العرفان:آج (قیامت کےدن) ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔تفسیر صراط الجنان میں آیت مبارکہ کے تحت مفتی محمد قاسم عطاری مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ابتداء میں کفار اپنے کفر اور رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کا انکار کریں گے اورکہیں گے :ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم! ہم ہرگز مشرک نہ تھے،تو اللہ پاک ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا تاکہ وہ بول نہ سکیں ،پھران کے دیگر اَعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا ہے سب بیان کردیں گے تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ اَعضا جو گناہوں پر ان کے مددگار تھے وہ ان کے خلاف ہی گواہ بن گئے۔(تفسیرخازن ، یس ٓ، تحت الآیۃ : 65 ، 4 / 10 ، تفسیرمدارک ، یسٓ ،تحت الآیۃ : 65 ، ص 992 ، تفسیرجلالین ، یس ٓ، تحت الآیۃ : 65 ، ص 372 ، ملتقطاً ) معلوم ہوا!بندہ اپنے جسم کے جن اَعضاء سے گناہ کرتا ہے وہی اَعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کر دیں گے اور اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجت ہو، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہُ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے،بندہ کہے گا: اے میرے رب!میں تجھ پر،تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا،میں نے نماز پڑھی،روزہ رکھا اور صدقہ دیا، وہ بندہ اپنی اِستطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا۔ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:ابھی پتا چل جائے گا ،پھر ا س سے کہا جائے گا :ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں ۔وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا :میرے خلاف کون گواہی دے گا؟پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران،اس کے گوشت اور ا س کی ہڈیوں سے کہا جائے گا : تم بولو۔ پھر اس کی ران،اس کا گوشت اور ا س کی ہڈیاں ا س کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہو گا جس پر اللہ پاک ناراض ہو گا۔( مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص 1587 ، الحدیث: 16(2968) ) یاد رہے! مونہوں پر لگائی جانے والی مہر ہمیشہ کے لئے نہ ہو گی بلکہ اعضا کی گواہی لے کر توڑ دی جائے گی، اس لئے وہ دوزخ میں پہنچ کر شور مچائیں گے۔(صراط الجنان، سورہ یس، تحت الآیۃ 65) امام محمد غزالی رحمۃُ اللہِ علیہِ فرماتے ہیں اے انسان! تجھے اپنے کریم رب پاک کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے کہ تو دروازے بند کرکے،پردے لٹکاکر اور لوگوں سے چھپ کر فسق و فجور اور گناہوں میں مبتلا ہوگیا! (تو لوگوں کے خبردار ہونے سے ڈرتا ہے حالانکہ تجھے پیدا کرنے والے سے تیرا کوئی حال چھپا ہوا نہیں ) جب تیرے اَعضا تیرے خلاف گواہی دیں گے (اور جو کچھ تو لوگوں سے چھپ کر کرتا رہا وہ سب ظاہر کر دیں گے) تو اس وقت تو کیا کرے گا۔(احیاء علوم الدین، 276/5)(صراط الجنان، الانفطار، تحت الآیۃ: 13-19)

چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے(حدائق بخشش)

اللہ کریم ہمیں خوب نیکیاں کرنے اور اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم


تفسیر ابنِ کثیر:وَیَوْمَ یُحْشَرُ اَعْدَاءُ اللہ اِلَی النَّارِ فَھُمْ یُوْزَعُوْنَ۔انسان اپنا دشمن آپ ہے، یعنی ان مشرکوں سے کہو کہ قیامت کے دن ان کا حشر جہنم کی طرف ہو گا اور داروغہ جہنم ان سب کو جمع کریں گے، جیسے فرمان ہے:وَنَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلیٰ جَہَنَّمَ وِرْدًا۔( مریم:86)یعنی گناہ گاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے، انہیں جہنم کے کنارے کھڑا کر دیا جائے گا اور ان کے اعضاء بدن اور کان اور آنکھیں اور پوست، ان کے اعمال کی گواہیاں دیں گے، تمام اگلے پچھلے عیوب کھل جائیں گے، ہر عُضوِ بدن پکار اٹھے گا کہ مجھ سے اس نے یہ یہ گناہ کیا، اس وقت یہ اپنے اعضاء کی طرف متوجّہ ہوکر انہیں ملامت کریں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی، وہ کہیں گے:اللہ پاک کے حکم کی بجا آوری کے ماتحت اس نے ہمیں بولنے کی طاقت دی اور ہم نے سچ سچ کہہ سنایا، وہی توہمیں ابتداءً پیدا کرنے والا ہے، اسی نے ہر چیز کو زبان عطا فرمائی ہے، خالق کی مخالفت اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کون کر سکتا ہے؟براز میں ہے: حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایک مرتبہ مسکرائے یا ہنس دئیے، پھر فرمایا: تم میری ہنسی کی وجہ دریافت نہیں کرتے؟ صحابہ نے کہا: فرمائیے کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا:قیامت کے دن بندہ اپنے رب سے جھگڑے گا، کہے گا:اے اللہ پاک! کیا تیرا وعدہ نہیں کہ تو ظلم نہ کرے گا؟اللہ پاک اقرار کرے گا تو بندہ کہے گا :میں تو اپنی بد اعمالیوں پر کسی کی شہادت قبول نہیں کرتا، اللہ پاک فرمائے گا :کیا میری اور میرے بزرگ فرشتوں کی شہادت نا کافی ہے؟ لیکن پھر بھی وہ بار بار اپنی ہی کہتا چلا جائے گا، پس اتمامِ حُجّت کے لئے اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کے اعضاء بدن سے کہا جائے گا: اس نے جو جو کیا تھا، اس کی گواہی تم دو، جب وہ صاف صاف اور سچی گواہی دے دیں گے تو یہ انہیں ملامت کرے گا اور کہے گا : میں تو تمہارے ہی بچاؤ کے لئے لڑ جھگڑ رہا تھا۔(مسلم، نسائی) حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں: ہم سمندر کی ہجرت سے واپس آئے تو اللہ پاک کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہم سے پوچھا:تم نے حبشہ کی سر زمین پر کوئی تعجب خیز بات دیکھی ہو تو سناؤ، اس پر ایک نوجوان نے کہا: ایک مرتبہ ہم وہاں بیٹھے ہوئے تھے، ان کے علما کی ایک بڑھیا عورت ایک پانی کا گھڑا سر پر لئے ہوئے آ رہی تھی، انہی میں سے ایک جوان نے اسے دھکا دیا، جس سے وہ گر پڑی اور گھڑا ٹوٹ گیا، وہ اُٹھی اور اس شخص کی طرف دیکھ کر کہنے لگی:مکار تجھے اس کا حال اس وقت معلوم ہوگا، جب کہ اللہ پاک اپنی کرسی سجائے گا اور سب اگلے پچھلوں کو جمع کرے گا اور ہاتھ پاؤں گواہیاں دیں گے اور ایک ایک عمل کھل جائے گا، اس وقت تیرا اور میرا فیصلہ بھی ہو جائے گا، یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرمانے لگے: اس نے سچ کہا، اس نے سچ کہا، اس قوم کو اللہ پاک کس طرح پاک کرے، جس میں زور آور سے کمزور کا بدلہ نہ لیا جائے۔ ابن عباس رضی اللہُ عنہ کا فرمان ہے : جب مشرکین دیکھیں گے کہ جنت میں سوائے نمازیوں کے اور کوئی نہیں بھیجا جاتا تو وہ کہیں گے: آؤ ہم بھی انکار کر دیں، چنانچہ اپنے شرک کا یہ انکار کردیں گے، اسی وقت ان کے منہ پر مہر لگ جائے گی اور ہاتھ پاؤں گواہی دینے لگیں گے اور اللہ پاک سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:کافروں کے سامنے جب ان کی بداعمالیاں پیش کی جائیں گی تو وہ انکار کر جائیں گے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے لگیں گے تو کہا جائے گا:یہ ہیں تمہارے پڑوسی، یہ تمہارے خلاف شہادت دے رہے ہیں، یہ کہیں گے:یہ سب جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا: اچھا خود تمہارے کنبے کے، قبیلے کے لوگ موجود ہیں، یہ کہہ دیں گے:یہ بھی جھوٹے ہیں تو کہا جائے گا:اچھا تم قسمیں کھاؤ، یہ قسم کھا لیں گے، پھر اللہ پاک انہیں گونگا کر دے گا، اور خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کی بداعمالیوں کی گواہی دیں گے، پھر انہیں جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ (تفسیر ابن جریر طبری، 25888، ضعیف)قیامت کے دن ہر انسان کے گناہوں پر آٹھ گواہ ہوں گے، ان گواہوں میں انسان کے اعضاء بھی گواہ کے طور پر شامل ہوں گے، انسان کے جسم کے باقی اعضاء ہاتھ، پاؤں یہ بھی گواہی دیں گے۔( یسٓ: 25)یہ ان کے لئے ہوگا جو اپنے جرموں کا انکار کریں گے، معلوم ہوا! ربّ کریم صرف اپنے علم پر سزا جزا نہ دے گا، بلکہ گواہی وغیرہ سے تحقیقات کرکے۔(نورالعرفان)خیال رہے ! کاتب اعمال فرشتے، خود نامہ اعمال اور زمین و آسمان کافر کے خلاف گواہی دیں گے اور زمین و آسمان کافر کے خلاف گواہی دیں گے، لیکن جب وہ انکار ہی کئے جائے تو تب خود اس کے اعضاء سے گواہی دلوائی جائے گی، معلوم ہوا! کافر کی زبان وہاں بھی جھوٹ سے باز نہ آئے گی، باقی اعضاء سچ سچ عرض کر دیں گے ، اس کی زبان بڑی مجرم ہے، لبوں پر مہرِ دائمی نہ ہوگی، اعضاء کی گواہی لے کر توڑ دی جائے گی، اس لئے وہ دوزخ میں پہنچ کر شور مچائیں گے۔


ہمارے جسم کے اعضاء مثلاً آنکھ،  کان، زبان، دل اور پاؤں وغیرہ جو آج ہر اچھے اور برے کام میں ہمارے معاون ہیں، کسی بھی نیکی کے کام پر حوصلہ افزائی یا گناہ کے اِرتکاب پر ملامت کرنے کی بجائے بالکل خاموش رہتے ہوئے ہمیں اپنے تاثرات سے مکمل طور پر محروم رکھتے ہیں، بروزِ قیامت یہی اعضاء ہمارے اعمال پر گواہ ہوں گے کہ ہم انہیں کن کاموں میں استعمال کرتے رہے ہیں، سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا ہے:اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــئُوْلا ۔ ترجمہ:بے شک کان اور آنکھیں اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(پ 15، بنی اسرائیل:36)اس آیت کے تحت تفسیرِ قرطبی میں ہے :یعنی ان میں سے ہر ایک سے اس کے استعمال کے بارے میں سوال ہوگا، چنانچہ دل سے پوچھا جائے گا : اس کے ذریعے کیا سوچا گیا اور پھر کیا اعتقاد رکھا گیا، جبکہ آنکھ اور کان سے پوچھا جائے گا:تمہارے ذریعے کیا دیکھا اور سنا گیا۔(جلد 20، صفحہ 139)جبکہ سورۂ نور میں ارشاد فرمایا گیا:یَوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔ ترجمہ کنزالایمان:جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے۔(پ 18، نور: 24)حضرت علامہ سیّد محمد آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک اپنی قدرتِ کاملہ سے انہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا، پھر ان میں سے ہر ایک اُس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ ان سے کیا کام لیتا رہا ہے۔(تفسیر روح المعانی، جلد 18، صفحہ 442)زمین:یہ زمین جس پر ہم اپنی زندگی کے شب و روز بسر کرتے ہیں اور اس سے کسی قسم کی جھجک یا شرم محسوس کئے بغیر ہر جائز و ناجائز فعل کر گزرتے ہیں، آج یہ ہماری کسی حرکت پر اپنے ردِّ عمل کا اظہار نہیں کرتی، لیکن کل قیامت کے دن یہ بھی ہمارے بارے میں گواہی دے گی، چنانچہ سورۂ زلزال میں ارشاد ہوتا ہے:یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ۔ترجمہ کنزالایمان:اس دن وہ (یعنی زمین) اپنی خبریں بتائے گی۔ (پ30، زلزال:4)اور حدیث مبارکہ میں حضرت ربیعہ جرشی رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:زمین سے محتاط رہو کہ یہ تمہاری اصل ہے اور جو کوئی اس پر اچھا یا برا عمل کرے گا، یہ اس کی خبر دے گی۔ (جلد 8، صفحہ 541)دن اور رات:آج ہم کوئی بھی کام کرتے وقت دن کے اُجالے یا رات کی تاریکی کی مطلقاً پروا نہیں کرتے، لیکن بروزِ قیامت یہ بھی ہماری نیکی یا بدی پر گواہ ہوں گے، جیسا کہ حضرت مغفل بن یسار رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:کوئی دن ایسا نہیں جو دنیا میں آئے اور یہ نداء نہ کرے ، اے ابنِ آدم!میں تیرے ہاں جدید مخلوق ہوں، آج تو مجھ میں جو عمل کرے گا، میں کل قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا، تُو مجھ میں نیکی کر، تا کہ میں تیرے لئے قیامت میں نیکی کی گواہی دوں، میرے چلے جانے کے بعد تو کبھی مجھے نہ دیکھ سکے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اور رات بھی یوں ہی اعلان کرتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء، جلد 2، صفحہ 344، رقم الحدیث 2501)


بروزِقیامت زبان بند کر دی جائے گی اور آنکھیں،  کان وغیرہا سے جتنے گناہ کئے ہوں گے، ان سب کا بتائیں گے، ہاتھ سے کئے جانے والے گناہوں کی گواہی ہاتھ دیں گے، اسی طرح پاؤں سے کئے جانے والے گناہوں کی گواہی پاؤں دیں گے، وعلی ھذاالقیاس(اور اسی پر تمام اعضاء کا قیاس کر لیں)۔اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے تو قرآن پاک میں خود ربّ کریم سورۂ یٰسین، آیت نمبر 65 میں ارشاد فرماتا ہے:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ و تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۔ترجمہ کنزالعرفان:آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔معلوم ہوا ! بندہ اپنے جسم کے جن اعضاء سے گناہ کرتا ہے، وہی اعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کردیں گے اور اس کی ایک حکمت یہ ہے کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجّت ہو، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے: بندہ کہے گا:اے میرے ربّ!میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نماز پڑھی، روزہ رکھا اور صدقہ دیا، وہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا، اللہ پاک ارشاد فرمائے گا :ابھی پتہ چل جائے گا، پھراس سے کہا جائے گا : ہم ابھی تیرے خلاف گواہ بھیجتے ہیں، وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گامیرے خلاف کون گواہی دے گا؟ پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران، اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں سے کہا جائے گا:تم بولو، پھر اس کی ران، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حُجّت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہوگا،جس پر اللہ پاک ناراض ہوگا۔(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص1587، حدیث16(2968)لہٰذا آیت و حدیث مبارکہ سے واضح ہو گیا کہ قیامت کے دن اعضاء گواہی دیں گے، اس سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہےکہ آج جو اعضاء ہمارے گناہ میں مددگار ہیں، کل وہی ہمارے خلاف حجّت بنیں گے، اللہ پاک ہمیں ہر صغیرہ و کبیرہ گناہ سے محفوظ فرمائے۔آمین ثم آمین۔یاد رہے! مونہوں پر لگائی جانے والی مہر ہمیشہ کے لئے نہ ہوگی، بلکہ اعضاء کی گواہی لے کر توڑ دی جائے گی، اس لئے وہ دوزخ میں پہنچ کر شور مچائیں گے۔


قیامت کے دن اعضاء گواہی دیں گے:کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ۔(ال عمران:185)ہرجان کو موت کا مزاچکھنا ہے،پھر تم سب ہماری طرف لوٹوگے۔قیامت کا دن ہولناکیوں کا دن ہوگا یہ ایسا دن ہوگا جب انسان کی اپنی ذات اس کے خلاف گواہ ہوگی۔کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔(ال عمران:185)ہرجان کو موت کا مزاچکھنا ہےاور تمہارے اعمال کے بدلے قیامت کے دن پورے پورے دئے جائیں گے۔قیامت اوراس کی ہولناکیوں کاذکرقرآن شریف میں سیکڑوں جگہ کیاگیا ہے۔یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ o اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌoیَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَى النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ہُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللہ شَدِیْدٌ۔(پ17 ، الحج ، 1۔2)اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو،قیامت کا بھونچال بڑی(خوفناک)چیزہے جس دن تم اسے دیکھوگے اس دن ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پیتے پیارے بچے کو بھول جائے گی اورحمل والیوں کے حمل ساقط ہوجائیں گی اورتم دیکھوگے سب لوگوں کو نشہ کی سی حالت میں اورحقیقت میں وہ نشہ میں نہ ہوں گے،بلکہ اللہ کا عذاب بڑاسخت ہے(بس اس کی دہشت سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے)۔انسان اس دنیا میں اللہ پاک کا نائب بنا کر بھیجا گیا ہے بیشک مرنے کے بعد اس سے ایک ایک چیز کا حساب لیا جائے گا جو عمل وہ کرتا ہے چاہے اچھے یا برے ان سب کا برابر انصاف سے حساب دیا جائے گا اسی لیے قیامت کا دن بہت ہی بڑا دن ہوگا۔جب ہر ایک انسان کے نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیئے جائیں گے اور پھر گواہی کے لئے انسان کو ہی کہا جائے گا لیکن جب انسان مکر جائے گا،وہ عرض کرے گا، یاالٰہی! میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں ؟اللہ پاک ارشاد فرمائے گا: میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں ۔ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا :یارب ! وہ گواہ کہاں ہیں ؟ تو اللہ کریم اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔کان کہیں گے، ہاں ! ہم نے (حرام)سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں ۔ آنکھیں کہیں گی، ہاں !ہم نے(حرام)دیکھا۔ زبان کہے گی، ہاں ! میں نے (حرام) بولاتھا۔اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے، ہاں ! ہم (حرام کی طرف)بڑھے تھے۔سورۂ نور میں اللہ پاک فرماتا ہے:یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ترجمۂ کنزالایمان : جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں ، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے ۔18۔النور : 24)حضرت علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں ، مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم اپنی قدرت ِکاملہ سے انہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا، پھر ان میں سے ہر ایک اُس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ ان سے کیا کام لیتا رہا ہے ۔ (تفسیر روح المعانی ، ج18، ص442) اسی طرح سورہ ٔعبس میں ارشاد ہے:قیامت میں انسان کے ہاتھ پاؤں اور اس کے تمام اعضاء بھی اس کے اعمال کی گواہی دیں گے۔سورہ یسین میں ارشاد ہے:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔(یٰس:65)آج کے دن ہم ان کے منھ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ پاؤں بولیں گے اور گواہی دیں گے اس کی جووہ کیاکرتے تھے۔الغرض قیامت میں جو کچھ ہوگا قرآن شریف نے بڑی تفصیل سے اس سب کو بیان فرمایاہے،یعنی پہلے زلزلوں اوردھماکوں کا ہونا،پھر سب دنیا کا فنا ہوجانا،حتی کہ پہاڑوں کا بھی ریزہ ریزہ ہوجانا، پھر سب انسانوں کا زندہ کیاجانا پھر حساب کے لیے میدان حشر میں حاضر ہونا اوروہاں ہر ایک کے سامنے اس کے اعمال نامہ کا آنااورخود انسان کے اعضاء کا اس کے خلاف گواہی دینا اور پھر ثواب یا عذاب یا معانی کا فیصلہ ہونا اور اس کے بعد لوگوں کا جنت یا دوزخ میں جانا۔آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ روز محشر ہمیں رسوا نہ ہونا پڑے ۔آمین بجاہ النبی الآمین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم


اللہ پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(65) ﴿سورۂ یٰس﴾ترجمۂ کنزالعرفان:- آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔صراط الجنان میں اس آیت مبارکہ کی تفسیر کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے:معلوم ہوا !بندہ اپنے جسم کے جن اَعضاء سے گناہ کرتا ہے وہی اَعضاء قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دیں گے اور اس کے تمام اعمال بیان کر دیں گے اور ا س کی ایک حکمت یہ ہے کہ بندے کی ذات خود اس کے خلاف حجت ہو، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہُ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے، بندہ کہے گا: اے میرے رب!میں تجھ پر،تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا،میں نے نماز پڑھی،روزہ رکھا اور صدقہ دیا، وہ بندہ اپنی اِستطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا۔ اللہ پاک ارشاد فرمائے گاابھی پتا چل جائے گا ،پھر ا س سے کہا جائے گا :ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں ۔وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا :میرے خلاف کون گواہی دے گا؟پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران،اس کے گوشت اور ا س کی ہڈیوں سے کہا جائے گا : تم بولو۔ پھر اس کی ران،اس کا گوشت اور ا س کی ہڈیاں ا س کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہو گا جس پر اللہ پاک ناراض ہو گا۔(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص1587، الحدیث: 16(2968)یہ بات تو واضح ہوگئی کہ بندے کے وہ اعضاء جن کے ذریعے بندہ اِس دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک گناہ کرتا ہے ، ظلم و ستم کرتا ہے ، وہی اعضاء قیامت کے دن رب کی بارگاہ میں اس کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ مروی ہے: قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہِ خداوندی میں لایاجائےگا اور اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائےگا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائےگا۔ پھر عرض کرےگا: یا الٰہی! میں نے تو یہ گناہ کئے ہی نہیں، اللہ کریم ارشاد فرمائےگا: میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں۔ وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مُڑکر دیکھےگا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائےگا اور کہےگا، یا رب! وہ گواہ کہاں ہیں؟ تو اللہ پاک اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دےگا۔ کان کہیں گے: ہاں ہم نے حرام سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں۔آنکھیں کہیں گی: ہاں ہم نے حرام دیکھا

زبان کہےگی:ہاں! میں نے بولا تھا۔اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے: ہاں! ہم حرام کی طرف بڑھے تھے۔شرم گاہ پکارےگی،ہاں! میں نے زنا کیا تھا۔وہ بندہ یہ سب سُن کر حیران رہ جائےگا۔ پھر جب اللہ کریم اس کے لئے جہنم میں جانے کا حکم فرمادےگا تو اس شخص کی سیدھی آنکھ کا ایک بال رب کریم سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کرےگا اور اجازت ملنے پر عرض کرےگا، یا اللہ پاک! کیا تو نے نہیں فرمایاتھا کہ میرا جو بندہ اپنی آنکھ کے کسی بال کو میرے خوف میں بہائے جانے والے آنسوؤں میں تر کرےگا، میں اس کی بخشش فرمادوں گا؟ اللہ کریم ارشاد فرمائےگا، کیوں نہیں!تو وہ بال عرض کرےگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گناہ گار بندہ تیرے خوف سے رویا تھا، جس سے میں بھیگ گیا تھا۔ یہ سن کر اللہ کریم اس بندے کو جنت میں جانے کا حکم فرمادےگا۔ ایک منادی پکار کر کہےگا، سنو! فلاں بن فلاں اپنی آنکھ کے ایک بال کی وجہ سے جہنم سے نجات پاگیا۔﴿درۃ الناصحین، المجلس الخامس والستون، ص 394﴾بہر حال جس وقت بندہ کسی بھی طرح اپنے کئے ہوئے گناہوں کو تسلیم کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کے اعضاء خود اس کے خلاف گواہی دینا شروع کریں گے جس پر وہ روئےگا پچھاڑے گا اور پھر بڑی ندامت کیساتھ کہے گا: ہائے افسوس! میں تمہیں بچانے کے خاطر تو یہ سب کررہا تھا تم خود میرے دشمن بن گئے؟،خیر!اس دنیا میں تو یہ اعضاء ہمارے ہر طرح کے عمل چاہے نیک ہوں یا بد، خاموشی کیساتھ ساتھ دے رہے ہیں، لیکن قیامت کے دن جب زبان بولنا بند کردےگی تو اعضاء بولنا شروع کردیں گے، خود اللہ پاک بندے کے اعمال کے متعلق اس کے اعضاء سے سوال کرےگا جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل میں فرماتاہے: اِنَّ السَّمْعَ والبَصرَ والفُؤاد کل اولٓئک کان عنہ مسئولا﴿پ-15، سورۂ بنی اسرائیل:36﴾ ترجمۂ کنز الایمان: بےشک کان اور آنکھ اور دل اِن سب سے سوال ہوناہے۔ چنانچہ آنکھوں اور کانوں سے پوچھاجائے گا: تمہارے ذریعے کیا دیکھا اور سُنا گیا تھا؟ دل سے پوچھاجائےگا:تجھ سے کیا سوچا گیا تھا اور پھر کیا اعتقاد رکھاگیا تھا؟ یہ اعضاء جن کے ذریعے ہم ہر طرح کے عمل کرتے ہیں اور ان سے کسی قسم کی جھجک یا شرم محسوس کئے بغیر ہر جائز وناجائز فعل کر گزرتے ہیں ۔ آج یہ ہماری کسی حرکت پر اپنے ردِ عمل کا اظہار نہیں کرتے ، لیکن کل قیامت کے دن یہی اعضاء ہمارے بارے میں گواہی دیں گے کہ ہم ان کے ذریعے کیا کچھ کرتے رہے ہیں؟ جس وقت نفسی نفسی کا عالَم ہوگا ، ہر ایک دوسرے سے بھاگےگا کہ کہیں کچھ نیکیاں پوچھ نہ لے، ماں باپ اولاد سے بھاگیں گے، اولاد ماں باپ سے بھاگےگی، شوہر بیوی سے بھاگےگا، بیوی شوہر سے بھاگےگی، بھائی اپنی بہن سے بھاگےگا ، بہن اپنے بھائی سے بھاگےگی، اس نازک موقع پر جبکہ ایک ایک نیکی کیلئے لوگ ترس رہے ہونگے، جہنم کے عذابات کو دیکھ کر دل پگھل رہا ہوگا، جسم پسینے میں ڈوب رہا ہوگا، اس وحشتناک موقع پر جب بندے کے اعضاء خود اس کے خلاف ہوجائیں تو اس کا کیا بنےگا؟یہ ہماری انگلیاں جن کے ذریعے آج نہ جانے موبائل پر کتنے فحش کلام کئے جارہے ہیں، یہ آنکھیں جن کے ذریعے آج انٹرنیٹ پر نہ جانے کتنے فحش نظارے دیکھے جارہے ہیں، یہ کان جن کے ذریعے آج نہ جانے کتنے بےہودہ فحش کلام سنا جارہاہے، یہ دل جس کے ذریعے آج نہ جانے کتنے بُرے سوچ ، خیالات لائے جارہے ہیں، یہ زبان جس کے ذریعے آج نہ جانے کتنی غیبتیں چغلیاں کی جارہی ہیں، یہی اعضاء اب تو خاموش ہیں آپ کے نفسانی خواہشات کو پورا کرنے میں مدد تو کررہے ہیں، لیکن قیامت کے دن یہ خاموش نہ رہیں گے ، بلکہ رب کی بارگاہ میں آپ کے خلاف گواہی دینگے، آپ کے ہر ہر عمل کو فاش کردیں گے، لہذا اس رب سے ڈرئیے جو تمہیں ہر وقت، ہر جگہ دیکھتا ہے، تمہارے ہر عمل سے باخبرہے، تمہارے باطن کو بھی ایسے ہی جانتا ہے جیسے تمہارے ظاہر کو جانتا ہے، لہذا ابھی توبہ کیجئے! رب کی بارگاہ میں مناجات کیجئے! ، آئندہ گناہوں سے بچنے کا پختہ عہد کیجئے، اپنی زندگی کو نیکیوں میں گزارنے ،سنتوں پر عمل کرنے کی نیت کیجئے ، عہد کیجئے کہ اپنے اِن اعضاء کے ذریعے صرف نیک و جائز کام ہی کرینگے، ہرگز ہرگز گناہ کی طرف قدم نہیں بڑھائینگے، آخرت کی تیاری کرنے، نیکیوں والی زندگی گزارنے کیلئے دعوتِ اسلامی کےدینی ماحول سے وابستہ ہوجائیے، اِن شاء اللہ دل سے دنیا کی محبت نکل کر آخرت کی فکر پیدا ہوجائےگی۔اللہ پاک ہمیں اپنا مخلص بندہ بنائے ۔ آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


قیامت کے دن اعضاء گواہی دے گے۔اللہ پاک کا ایک صفاتی نام حکیم(یعنی حکمت والا) بھی ہے اور اُس حکیم کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا،چاہے وہ حکمت ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو۔ لہٰذااللہ پاک کا ہمیں یہ زندگی عطا فرمانا اور ایک مخصوص مدت گزرنے پر ہماری موت کا واقع ہونا بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ کریم سورۂ ملک میں ارشاد فرماتا ہے:الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاترجمہ کنزالایمان: وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ (یعنی آزمائش) ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے۔29،الملک:2)اس دنیا میں کیا جانے والا ہمارا ہر عمل اللہ پاک دیکھ رہا ہے، چاہے وہ عمل نیکی کا ہو یا برائی کا، اس عمل کا تعلق ہمارے ظاہر سے ہو یا باطن سے، اس عمل کو ہم نے چھپ کر کیا ہو یا لوگوں کے درمیان، دن کے اجالے میں کیا ہو یا رات کے اندھیرے میں، وہ عمل ہمیں خود یاد ہو یا نہ ہو۔

جیسا کہ سورۂ نساء میں ارشاد ہوتا ہے:فان اللہ کان بما تعملون خبیرا(128)ترجمہ کنزالایمان: تو اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (پ:5،النساء:128)قیامت کے دن اعضائے جسمانی بھی گواہی دے گے۔قیامت کے دن اعضائے جسمانی بھی گواہی دے گے۔ زبان، دل اور پاؤں وغیرہ، جو آج ہر اچھے اور برے کام میں ہماری مدد کرتے ہیں، کسی بھی نیکی کے کام پر حوصلہ افزائی یا گناہ ہونے پر ملامت کرنے کے بجائے بالکل خاموش رہتے ہیں اور ہمیں اپنے تأثرات سے مکمل طور پر محروم رکھتے ہیں۔لیکن بروزِ قیامت یہی اعضاء ہمارے آعمال پر گواہ ہوں گے کہ ہم نے انہیں کن کن کاموں میں استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوتا ہے:اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَالْفُؤَادَکُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُلًا ﴿۳۶ ترجمہ کنزالایمان: بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے۔(پ:15،بنی اسرائیل:36)اس آیت کے تحت تفسیر قرطبی میں ہے:یعنی ان میں سے ہر ایک سے اس کے استعمال کے بارے میں سوال ہو گا، چنانچہ دل سے پوچھا جائے گا: اس کے ذریعے کیا سوچا گیا اور پھر کیا اعتقاد رکھا گیا جبکہ آنکھ اور کان سے پوچھا جائے گا تمہارے ذریعے کیا دیکھا اور کیا سنا گیا (ج:20 ص:139)سورۂ نور میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:یَّوْمَ تَشْہَدُ عَلَیۡہِمْ اَلْسِنَتُہُمْ وَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ اَرْجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعْمَلُوۡنَ ﴿۲۴ ترجمہ کنزالایمان: جس دن ان پر گواہی دیں گی ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں جو کچھ کرتے تھے۔ 18،النور:24)حضرت علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں، مذکورہ اعضاء کی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک اپنی قدرت کاملہ سے انہیں بولنے کی قوت عطا فرمائے گا، پھر ان میں سے ہر ایک اُس شخص کے بارے میں گواہی دے گا کہ وہ ان سے کیا کام لیتا رہا ہے۔(تفسیر روح المعانی، ج 18، ص442)نیز درۃالناصحین میں ہے:قیامت کے دن ایک شخص کو بارگاہِ خداوندی میں لایا جائے گا اور اسے اس کا اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا۔ وہ عرض کرے گا: یا الہی! میں نے تو یہ گناہ کیے ہی نہیں؟اللہ پاک ارشاد فرمائے گا: میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں۔ وہ بندہ اپنے دائیں، بائیں مڑ کر دیکھے گا لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا: یا رب! وہ گواہ کہاں ہیں؟ تو اللہ پاک اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا۔ کان کہیں گے: ہاں! ہم نے (حرام) سنا اور ہم اس پر گواہ ہیں۔ آنکھیں کہیں گی:ہاں! ہم نے(حرام) دیکھا۔ اسی طرح ہاتھ اور پاؤں کہیں گے: ہاں! (ہم حرام کی طرف) بڑھے تھے۔ شرم گاہ پکارے گی: ہاں! میں نے زنا کیا تھا۔ اور وہ بندہ یہ سن کر حیران رہ جائے گا۔(ملخصا،المجلس الخامس والستون، ص294)


اللہ پاک نے ہمیں اَن گنت نعمتوں سے نوازا ہے، جس کا شمار کرنا ہم جیسے انسانوں کے بس کی بات نہیں، صبح سے لے کر شام تک اور سَر سے لے کر پاؤں تک ہر ہر چیز اللہ کریم کی نعمت ہے کہ آنکھ ہی کو لے لیجئے کہ اگر پَل بھر کے لئے بند ہو جائے تو انسان کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جاتی ہے، انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہمارے اعضاء ہیں کہ ان نعمتوں کا جتنا شکر ادا کیا جائے، کم ہے۔اللہ کریم نے جیسے ان اعضاء کو پیدا فرما کر اپنی شانِ قدرت کو ظاہر کیا، وہیں یہ حکم بھی ارشاد فرمایا : ان اعضاء کو نیک کاموں میں استعمال کرو، کیونکہ انسان دنیا میں جس طرح کسی جگہ پر کوئی نیکی کرتا ہے تو وہ جگہ اس کے نیک کام پر گواہ ہو جاتی ہے، اسی طرح ان ا عضاء سے کئے گئے نیک و بد اعمال اس پر گواہ ہوں گے۔اس بات کا ثبوت خود قرآن کریم میں موجود ہے، جیسے اللہ پاک نے پارہ 23، سورہ یٰسین کی آیت نمبر 65 میں ارشاد فرمایا:ترجمہ:آج ہم ان کے ان کے منہ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے کلام کریں گے اور ان کے پاؤں ان کاموں کی گواہی دیں گے، جو وہ کرتے تھے۔اس آیت میں صرف ہاتھوں اور پیروں کے کلام کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور مراد یہ ہے کہ مجرموں کے تمام اعضاء کلام کریں گے اور ان اعضاء سے جس قدر بُرے کام کئے جاتے تھے، ان کا ذکر کریں گے، بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ جس طرح مجرموں کے اعضاء ان کی برائیوں کو بیان کریں گے، اسی طرح نیک مسلمانوں کے اعضاء ان کی نیکیوں کو بیان کریں گے، اس کی تائید اس حدیث مبارکہ سے ہوتی ہے:حضرت بسیرہ رضی اللہُ عنہ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم تسبیح اور تہلیل اور تقدیس پڑھنے کو لازم کر لو اور پَوروں(انگلیوں کے سروں)سے ان کا شمار کیا کرو، کیونکہ ان سے سوال کیا جائے گا اور ان سے کلام طلب کیا جائے گا اور تم (ان کو پڑھنے سے) غافل نہ ہو اور اللہ پاک کی رحمت کو بھول نہ جانا۔تسبیح(سبحان اللہ)تہلیل(لا الہ الا اللہ)اور تقدیس سبحان الملک القدوس یا سبوح یا قدوس رب الملائکہ وروح کو کہتے ہیں۔اس سے یہ معلوم ہوا!پَورے قیامت کے دن گواہی دیں گے، جب ان سے سوال کیا جائے گا: تم نے ان انگلیوں سے کیا کام لیا تھا اور ان سے کلام طلب کیا جائے گا، یعنی یہ انگلیاں قیامت کے دن اپنے صاحب کے موافق ہو یا مخالف گواہی دیں گی، جیسا کہ سورہ ٔنور، آیت نمبر 24 میں ربّ کریم کا ارشاد ہے:جب ان کے متعلق ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پیر گواہی دیں گے، وہ دنیا میں کیا عمل کرتے تھے۔مجرمین کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے:قیامت کے دن مجرمین کے اعضاء سے ان کے خلاف گواہی طلب کی جائے گی۔اس لئے اللہ پاک نے ان کے خلاف گواہی کے لئے ان کے اپنے اعضاء میں کلام پیدا فرمادیا، مجرموں کے اعضاء جو مجرموں کے خلاف گواہی دیں گے، اس کے متعلق حسبِ ذیل حدیث مبارکہ ہے:حضرت انس بن مالک رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہنس پڑے، آپ نے پوچھا: کیا تم کو معلوم ہے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ ہم نے عرض کیا:اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو زیادہ علم ہے ، آپ نے فرمایا:مجھے بندہ کی اپنے ربّ سے اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ بندہ کہے گا:اے میرے ربّ! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہ دی تھی، اللہ پاک فرمائے گا:کیوں نہیں، بندہ کہے گا:آج میں اپنے خلاف اپنے سوا کسی اور کو گواہی دینے کی اجازت نہ دوں گا، اللہ پاک فرمائے گا:آج تمہارے خلاف تمہاری اپنی گواہی کافی ہوگی یا کراماً کاتبین کی گواہی کافی ہوگی، آپ نے فرمایا:پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا:تم بتاؤ، پھر اس کے اعضاء اس کے اعمال کو بیان کریں گے، پھر اس کے کلام کے درمیان تخلیہ کیا جائے گا، پھر وہ اپنے اعضاء سے کہے گا:دور ہو، دفع ہو، میں تمہاری طرف سے ہی تو جھگڑ رہا تھا۔( تبیان القرآن)مونہوں پر مہر لگانے کی وجہ:قیامت کے دن مجرموں کے مونہوں پر جو مہر لگا دی جائے گی، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چونکہ مشرکین قیامت کے دن یہ کہیں گے: ترجمہ:اور ہمیں اپنے ربّ کی قسم، ہم مشرک نہ تھے۔تو چونکہ مشرکین اپنے شِرک کرنے کا انکار کریں گے اور جھوٹ بولیں گے، اس لئے اللہ پاک ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا، حتی کہ ان کے اعضاء کلام کریں گے اور وہ بتائیں گے کہ وہ شرک کرتے تھے، دنیا میں کفار کی سرکشی اور گستاخی کی وجہ سے اللہ پاک نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی تھی اور آخرت میں جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا۔اللہ کریم ہمیں اپنے اعضاء کو نیک کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ و تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۔ترجمہ:آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے۔(پ 23، یس: 64) اس آیت کا معنی یہ ہے: ابتداء میں کفار اپنے کفر اور رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے کا انکار کریں گے اور کہیں گے: ہمیں اپنے ربّ اللہ پاک کی قسم کہ ہم ہرگز مشرک نہ تھے تو اللہ پاک ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا، تاکہ وہ بول نہ سکیں، پھر ان کے دیگر اعضاء بول اٹھیں گے اور جو کچھ ان سے صادر ہوا ہے، سب بیان کر دیں گے، تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ وہ اعضاء جو گناہوں پر ان کے مددگار تھے، وہ ان کے خلاف ہی گواہ بن گئے۔(تفسیرخازن، یٰسین:تحت الآیۃ:65، 4/10، تفسیرمدارک یٰسین، تحت الآیۃ:65، ص992، تفسیرجلالین، یٰسین:تحت الآیۃ، 65 ، ص372، ملتقظاً)اس سے یہ معلوم ہوا !بندے کے اعضاء جس سے وہ رات دن گناہ کرتا ہے، اس کی رسوائی کا سبب بنیں گے، آج ہم لوگوں سے تو ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی ہمارے عیب دوسرے کو نہ بتا دے، ذرا سوچئے! نہ دنیا میں رُسوا ہونے کا اتنا ڈر اور آخرت کی رسوائی کا کوئی خوف نہیں، اس وقت تو مونہوں پر مہر کر دی جائے گی اور اعضاء خود اس شخص کے خلاف حجّت ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ایک طویل حدیث کے آخر میں ہے،بندہ کہے گا:اے میرے ربّ!میں تجھ پر،تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا،میں نے نماز پڑھی،روزہ رکھا اور صدقہ دیا، وہ بندہ اپنی اِستطاعت کے مطابق اپنی نیکیاں بیان کرے گا، اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:ابھی پتا چل جائے گا ،پھر ا س سے کہا جائے گا :ہم ابھی تیرے خلاف اپنے گواہ بھیجتے ہیں۔وہ بندہ اپنے دل میں سوچے گا:میرے خلاف کون گواہی دے گا؟پھر اس کے مُنہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران،اس کے گوشت اور ا س کی ہڈیوں سے کہا جائے گا : تم بولو، پھر اس کی ران،اس کا گوشت اور ا س کی ہڈیاں ا س کے اعمال بیان کریں گی اور یہ اس لئے کہا جائے گا کہ خود اس کی ذات اس کے خلاف حجت ہو اور یہ بندہ وہ منافق ہو گا، جس پر اللہ پاک ناراض ہو گا۔(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، صفحہ 1587، حدیث16(2968)اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں، جو بظاہر لوگوں کو نیک نظر آتے ہیں، مگر تنہائی میں گناہ کے ذریعے رب کریم کی پکڑ سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے لئے احادیث مبارکہ میں سخت وعیدات آئی ہیں۔

چُھپ کے لوگوں سے کئے جس کے گناہ وہ خبر دار ہے کیا ہونا ہے(حدائق بخشش، صفحہ 167)

اگر ہمارا یہ ذہن بن جائے کہ اللہ پاک دیکھ رہا ہے، دنیا والوں سے تو ہم اپنے گناہ آج بھلے ہی چھپا لیں، لیکن اپنے ربّ کریم سے کیسے چھپا سکیں گی؟پارہ29، سورۂ ملک، آیت نمبر 13 میں ارشاد ہوتا ہے:وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، وہ تو دلوں کی جانتا ہے۔گناہ کا احساس ہمیں اسی وقت ہوگا، جب ربّ پاک کا خوف ہم اپنے اندر پیدا کریں، خوفِ خدا جس قدر زیادہ ہو گا، اسی قدر ہمارے اعمال کی اصلاح ہو جائے گی۔ان شاء اللہ۔امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تم پر ان چار اعضاء کی حفاظت کرنا لازم و ضروری ہے، کیونکہ جسم میں یہی چار عُضو بڑے اور اصل ہیں:1۔آنکھ کی حفاظت،2۔زبان کی حفاظت، 3۔پیٹ کی حفاظت، 4۔دل کی حفاظت۔چوتھے عُضو دل کے متعلق فرماتے ہیں:اگر تیرا دل خراب ہو تو تیرے تمام اعضاء خراب ہوں گے اور اگر تو اس کی اصلاح کر لے تو باقی سب اعضاء کی اصلاح ہو جائے گی، کیونکہ دل درخت کے تنے کی مانند ہے اور باقی اعضاء شاخوں کی طرح اور شاخوں کی اصلاح یا خرابی درخت کے تنے پر موقوف ہے، اسی طرح اگر تیری آنکھ، زبان، پیٹ وغیرہ درست ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تیرا دل درست اور اصلاح یافتہ ہے اور اگر آنکھ زبان، شکم وغیرہ گناہوں کی طرف راغب ہوں تو سمجھ لے کہ تیرا دل خراب ہے۔

سدا کے لئے ہو جا راضی خدایا ہمیشہ ہو لطف و کرم یا الہی(وسائل بخشش، صفحہ 110)