خوف خدا میں رونے والوں پر قرآنی آیت:حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: جب یہ آیت نازل ہوئی:اَفَمِنْ هٰذَا حدیث: تَعْجَبُوْنَۙ۔ وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ۔ترجمۂ کنزالایمان:توکیااس بات(یعنی قرآن سے) تعجب کرتے ہو اور ہنستےہو اور روتے نہیں ہو۔(پ 27،النجم:59،40)خوف خدا کو اختیار کرنے کے متعلق آیتِ قرآنی:فَلَا تَخْشَوْ ھُمْ وَاخْشَوْن۔ترجمۂ کنزالایمان:تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو ۔(پ6، المائدہ:3)خوف خدا کا مطلب:وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔(پ4، ال عمران:175)وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور خاص میرا ہی ڈر رکھو۔(پ1، البقرہ:40)خوفِ خدا کا مطلب:خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔خوفِ خدا میں رونے کی فضیلت پر احادیث:رحمتِ عالمیان صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے،وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہو گا،حتی کہ دودھ(جاندار کے) تھن میں واپس آجائے۔(شعب الایمان، ، ج 1،ص 49)حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔(کنزالعمال، جلد 3م صفحہ 63)اُم المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں:میں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !کیا آپ کی اُمت میں سے کوئی بلا حساب بھی جنت میں جائے گا؟ تو فرمایا: ہاں!وہ جو اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے۔(احیاء العلوم،کتاب الخوف والرجاء،جلد 4،ص200)بزرگانِ دین کے اقوال:حضرت کعب الاحبار رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:خوفِ خدا سے آنسو بہانا مجھے اس سے بھی زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے وزن کے برابر سونا صدقہ کروں، اس لئے کہ جو اللہ پاک کے ڈر سے روئے اور اس کے آنسو کا ایک قطرہ بھی زمین پر گر جائے تو آگ اس کو نہ چھوئے گی۔(کتاب ریاض الصالحین) حضرت محمد بن منکدر رحمۃُ اللہِ علیہ جب روتے تو آنسو کو اپنی داڑھی اور چہرے سے صاف کرتے اور کہتے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ وجود کے جس حصّے پر آنسو لگ جائیں گے، اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔(احیاء العلوم)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے ایک آنسو کا بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔(شعب الایمان، جلد 1، صفحہ 502)خوفِ خدا میں رونے والی حکایت:حضرت ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ایک رات میں اپنی عبادت گاہ میں کھڑا اپنے وظائف مکمل کر رہا تھا کہ مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہوا، چنانچہ میں بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی، میں نے خواب میں ایک نہایت خوبصورت حور کو دیکھا، جس کے رخساروں سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں، میں اس حسن و جمال کو دیکھ کر دنگ رہ گیا، اتنے میں اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ہلکی سی ٹھوکر لگائی اور کہنے لگی:بڑے افسوس کی بات ہے، میں جنت میں تیرے لئے بنی سنوری بیٹھی ہوں اور تم سو رہے ہو ؟یہ سن کر میں نے اسی وقت نذر مان لی کہ اب کبھی بھی نہیں سوؤں گا۔میری یہ حالت دیکھ کر حُورمسکرا دی، جس سے میرا سارا کمرہ نور سے جگمگا اٹھا اور میں بڑی حیرانی سے اس پھیلے ہوئے نور کو دیکھنے لگا۔اس نے میری حیرت کو بھانپ لیا اور کہنے لگی:جانتے ہو کہ میرا چہرہ اتنا روشن کیوں ہے؟ میں نے کہا: نہیں، وہ کہنے لگی کہ تمہیں یاد ہوگا، ایک مرتبہ سخت سردیوں کی رات تھی، تم نے اٹھ کر وضو کیا، اس کے بعد نماز ادا کرنا شروع کی تھی اور پھر اللہ پاک کے خوف کی وجہ سے تمہاری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے، اسی وقت ربّ کریم کی طرف سے مجھے حکم دیا گیا کہ فردوس بریں سے سینہ زمین پر اُتر کر تمہارے آنسو کو اپنے دامن میں سمیٹ لوں، پھر میں نے تیرے آنسوؤں کا ایک قطرہ اپنے چہرے پر مَل لیا تھا،میرے چہرے کی یہ چمک تمہارے انہی آنسوؤں کی وجہ سے ہے ۔ (حکایات الصالحین، صفحہ 39)


خوف کے لغوی معنی خطرہ ، ڈر ،ہیبت ، فکر ، خدشہ ،اصطلاح میں  خوف اسے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے آپ کو امرِ مکروہ سے بچائے اور بجا آوریِ احکامِ حق میں عبودیت کے ساتھ سرگرم رہے۔خوف کی دو اقسام ہیں:(1)لوگوں کا خوف(2)اللہ پاک کا خوف۔اللہ پاک کے خوف کی تعریف یہ ہے کہ انسان تمام منہیات سے بچ کر خالص اللہ والے کاموں میں لگ جائے۔اللہ پاک کے خوف سے رونے کے بے شمار فضائل ہیں۔جب ان پر (خدائے) رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے گر پڑتے ہیں۔سورۃ السجدہ۔خوفِ خدا اورعشقِ مصطَفٰے میں رونا ایک عظیم الشّان نیکیہے۔انبیائے کرام علیہم السلام بھی اللہ پاک کے خوف میں راتوں کو قیام کرتے اور آنسو بہاتے جیسا کہ ایک روایت کے مطابق حضرت یحیی علیہ السلام جب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اِس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی ساتھ رونے لگتے حتی کہ آپ کے والِدِ مُحترم حضرت زکر یا علیہ السلام بھی دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہوجاتے ۔ مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب حضرت یحیی علیہ السلام کے رُخسارِ مبارَک ( یعنی با بَرَکت گالوں ) پر زَخم ہوگئے تھے۔خوفِ خدا کے فضائل میں کئی احادیث مبارکہ ہیں ۔جیسا کہ فرمانِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے :جس مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچہ مکھی کے سرکے برابر ہوں ،پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تو اللہ پاک اُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔( 2 ) فرمانِ مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:وہ شخص جہنم میں داخِل نہیں ہوگا جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے رونے والا انسان دوزخ میں داخل نہیں ہو گا یہاں کہ دودھ،تھن میں واپس نہ چلا جائے اور اللہ پاک کی راہ میں پہنچنے والی گرد و غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما روایت کرتے ہیں،میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:دو آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی:(ایک) وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی اور (دوسری) وہ آنکھ جس نے اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دے کر رات گزاری۔ اللہ پاک ہمیں بھی اپنے خوف اور عشقِ رسول میں رونا نصیب فرمائے ۔

جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تِرے ڈر سے اللہ ! مگر دل سے قَساوَت نہیں جاتی


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:جو شخص رو سکتا ہے وہ روئے اور اگر رونا نہ آتا ہو تو رونے جیسی صورت بنا لے۔ حضرت امام ابوالفرج ابنِ جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:خوفِ الٰہی ہی ایسی آگ ہے، جو شہوات کو جلا دیتی ہے، اس کی فضیلت اتنی ہی زیادہ ہوگی، جتنا زیادہ یہ شہوات کو جلائے اور جس قدر یہ اللہ پاک کی نافرمانی سے روکے، اطاعت کی ترغیب دے اور کیوں نہ ہو کہ اس کے ذریعےپاکیزگی، ورع ،تقویٰ اور مجاہدہ، نیز اللہ پاک کا قرب عطا کرنے والے اعمال حاصل ہوتے ہیں۔آخرت میں امن:دنیا میں اپنے خالق و مالک کا خوف رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامِ امین۔ ترجمہ ٔکنزالایمان:بے شک ڈر والے امان کی جگہ میں ہیں۔(پ 25، الدخان:51)اعمال کی قبولیت:خوفِ الٰہی اعمال کی قبولیت کا ایک سبب ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ۔ترجمۂ کنزالایمان:اللہ اسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے۔(پ 6، مائدہ:27)حضرت زکریا علیہ السلام کے بیٹے حضرت یحییٰ علیہ السلام ایک مرتبہ کہیں کھو گئے تھے، تین دن کے بعد ان کی تلاش میں نکلے تو دیکھا یحییٰ علیہ السلام نے ایک قبر کھود رکھی اور اس میں کھڑے ہو کر رو رہے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا:اے میرے بیٹے!میں تمہیں تین دن سے ڈھونڈ رہا ہوں اور تم یہاں قبر پر کھڑے آنسو بہا رہے ہو! تو انہوں نے عرض کی:ابَّا جان!کیا آپ نے مجھے نہیں بتایا کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک خوش وادی ہے، جس سے رونے والے کے آنسو بھی بُجھا سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:ضرور میرے بیٹے اور وہ بھی ان کے ساتھ مل کر رونے لگے۔اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین


تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ                  میں تھرتھر رہوں کانپتی یا الٰہی

خوف خدا سے رونا اللہ والوں کی ادا ہے، یہ بھی ایک عظیم عطائے الٰہیہ ہے، اس کے متعلق بہت سی روایات بھی نظر میں آتی ہیں،خوفِ خدا کے چند فضائل:ہر گز جہنم میں داخل نہیں ہوگا:رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے، وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہو گا، حتٰی کہ دودھ تھن میں واپس آجائے۔(شعب الایمان، )بخشش کا پروانہ: حضرت انس رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو اللہ پاک کے خوف سے روئے، وہ اس کی بخشش فرما دے گا۔(کنزالعمال، جلد 3، صفحہ 63)بلا حساب جنت میں:اُم المؤمنین حضرت سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کیا آپ کی اُمت میں سے کوئی بلا حساب بھی جنت میں جائے گا؟ تو فرمایا: ہاں!وہ جو اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے۔(احیاء العلوم، جلد 4)پسندیدہ قطرہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی قطرہ پسند نہیں، جو اس کے خوف سے بہے یا خون کا وہ قطرہ جو اس کی راہ میں بہایا جائے۔(احیاء العلوم، جلد 4)آگ نہ چھوئے گی:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے مروی ہے، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:دو آنکھوں کو آگ نہ چھوئے گی، ایک وہ جو رات کے اندھیرے میں ربّ کریم کے خوف سے روئے اور دوسری وہ جو راہِ خدا پاک میں پہرہ دینے کے لئے جاگے۔(شعب الایمان، )خوف خدا سے رونے والا:فرمانِ مصطفی:وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔(شعب الایمان، )آنسونہ پونچھو:امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضی رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو رونا آئے تو وہ آنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے، بلکہ رخساروں پر بہہ جانے دے کہ وہ اسی حالت میں ربِّ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔(شعب الایمان، )آگ نہ چھوئے گی:حضرت کعب الاخبار رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : خوف خدا سے آنسو بہانا مجھے اس سے بھی زیادہ محبوب ہے کہ میں اپنے وزن کے برابر سونا صدقہ کروں، اس لئے کہ جو اللہ پاک کے ڈر سے روئے، اس کے آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی زمین پر گر جائے تو آگ اس کو نہ چھوئے گی۔


خوف خدا میں آنسو بہانا ایک عظیم الشان نیکی اور لازوال نعمت ہے، خوفِ الٰہی کی خوبی انسان کو اللہ پاک کے بہت قریب کر دیتی ہیں، خوفِ خدا میں رونے کے بہت سے فضائل و برکات ہیں کہ خوفِ خدا میں رونے والی آنکھ برائی نہیں بلکہ خوبی اور بھلائی دیکھتی ہے، جب انسان اپنے اندر خشیتِ الٰہی پیدا کر لیتا ہے تو وہ ہر قسم کی برائی سے محفوظ ہوکر اللہ پاک کی بارگاہ میں بہت مقبول ہو جاتا ہے ، جب دلوں کی زمین سے خوفِ خدا پیدا ہو، آنسو بہہ کر خشیت کے باغیچے کو سیراب کریں تو ندامت کی کلی کھل اُٹھتی ہے اور انسان کو توبہ کا پھل نصیب ہو جاتا ہے۔ربّ کریم کی خشیت اس کا بہت بڑا انعام ہے، وہ جس کے لئے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے اپنی خشیت کے سبب رونا عطا فرماتا ہے، خوفِ خدا میں رونا انسان کو تقوی کی دولت سے سرفراز فرماتا ہے، یہ تو ایسی لازوال نعمت ہے کہ جب یہ کسی انسان کو مل جائے تو یہ خاکی ہوتے ہوئے بھی خاکی نہیں رہتا، بلکہ وہ ملکوتی صفات کا لباس زیب تن کر لیتا ہے، اس پر ہمیشہ ایک کیفیت طاری رہتی ہے، وہ ہَمہ وقت اپنے ربّ کی یاد میں مصروف رہتا ہے، دنیا کی رنگینیاں اس پر اثر نہیں کرتیں، خشیتِ الٰہی کی چادر اس کو دنیا کی فخاشیوں سے محفوظ فرما لیتی ہے، وہ کامل انسان بن کر کشت حیات میں آخرت کی فصل اگانے میں شب و روز مصروف رہتا ہے۔خوف خدا کا معنی:خوفِ خدا کا مطلب قلب کی وہ کیفیت کہ اللہ پاک کی گرفت، ناراضی، بے نیازی، اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبرا جائے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔ قرآن کریم سے خوف خدا میں رونے کے فضائل:ارشاد باری ہے:اِذَاتُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْ سُجَّداًوَّبُکِیَّا۔ترجمۂ کنزالایمان:جب ان کے سامنے رحمن کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو یہ سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے گر پڑتے ہیں۔(پ 16، مریم:58) یعنی ان سے ہر ایک اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو رنجیدگی سے خالی پاتے ہیں تو یہ لوگ روتے اور گریہ و زاری کرتے ہیں اور آیت سے معلوم بھی ہوا! اللہ پاک کے خوف کی وجہ سے گریہ وزاری کرنا اللہ پاک کو بہت پسند اور اس کے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سنت ہے۔ خوف خدا میں رونے کے متعلق احادیث مبارکہ :حدیث: مبارکہ:حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا:جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے،جسے وہی طے کرسکتا ہے،جو بہت رونے والا ہو۔(ریاض الصالحین:48، شعب الایمان، 1/393، حدیث:809) حدیث: مبارکہ:حضرت نضر بن سعد رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: جب کسی آنکھ سے خشیتِ الٰہی کے سبب آنسو بہتے ہیں تو اللہ پاک اس کے چہرے کو جہنم پر حرام فرما دیتا ہے، اگر کسی کے رُخسار پر بہہ جائے تو قیامت کے دن وہ ذلیل نہ ہو گا، اگر کوئی غمگین اللہ پاک کے خوف سے بندوں میں روئے تو اللہ پاک اس کے رونے کے سبب ان لوگوں پر بھی رحم فرمائے گا، آنسو کے علاوہ ہر چیز کا وزن کیا جائے گا اور آنسو کا ایک قطرہ سمندر کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔(المرجع السابق، حدیث: 14، جلد 3، صفحہ 182)اللہُ اکبر! کیا شان ہے اللہ پاک کے خوف میں رونے کی! اس کے سبب کتنی نعمتوں سے نوازا جاتا ہے، وہ نعمتیں جس کا انسان احاطہ نہیں کر سکتا، یہاں تک کہ خوفِ الٰہی میں رونا انسان کو جنت میں پہنچا دے گا، تم گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے۔ حکایت:جنت میں ہنساؤں گا:خوف خدا صفحہ 62 پر ہے:حضرت انس رضی اللہُ عنہُ سے روایت ہے،ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃ (پ28، تحریم)پھر ارشاد فرمایا:جہنم کی آگ ہزار برس تک دہکائی گئی تو سُرخ ہو گئی، پھر ہزار برس تک دھکائی گئی تو سفید ہو گئی، پھر ہزار برس تک دھکائی گئی تو سیا ہ ہو گئی، اب نری سیاہ ہے، یہ سن کر ایک حبشی رونے لگا، آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: یہ کون رو رہا ہے؟عرض کی گئی:حبشہ کا رہنے والا ہے۔ تو آپ نے اس کے رونے کو پسند فرمایا۔ اتنے میں جبرئیل آمین وحی لے کر آئے کہ ربّ کریم فرماتا ہے:مجھے اپنے عزت و جلال کی قسم! میرا جوبندہ دنیا میں میرے خوف سے روئے گا، میں اسے جنت میں ضرور ہنساؤں گا۔(شعب الایمان،حدیث:799)اللہ پاک کے خوف میں رونے والے کو جنت اور جنت کی نعمتیں بھی ملیں گی۔ حکایت:آنسو کا ایک قطرہ:حضرت احمد بن الجواری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے خواب میں ایک حور کو دیکھا، جس کے چہرے پر نور کی چمک تھی، میں نے پوچھا:تمھارے چہرے کی یہ چمک کیسی ہے؟ وہ بولی: تمہیں یاد ہے وہ رات، جس میں تم بہت روئے تھے، میں نے کہا:ہاں، اس نے کہا: تمہارے آنسو مجھے لا کر دیئے گئے تو میں نے ان کو اپنے چہرے پر مَل لیا، میرے چہرے کی یہ دمک آپ کے ان آنسو کی وجہ سے ہے۔(رسالہ قشیریہ، صفحہ 422، نیکی کی دعوت)

در نایاب ہیں بلاشبہ وہ ہیرے انمول اشک آقا کی جو یادوں میں بہا کرتے ہیں(وسائل بخشش، صفحہ 143)

ہم بھی خوف خدا میں آنسو بہائیں۔ اس کے لئے ہمیں غور و فکر کرنا ہوگا کہ اب تک ہم نے اپنی زندگی کس طرح گزاری، نزع میں ہمارے ساتھ کیا ہوگا، قبر و حشر اور میزان میں ہمارا کیا بنے گا، جنت میں داخلہ نصیب ہوگا یا معاذاللہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا اور غوروفکر کرنے سے ربّ کریم نے چاہا تو ہمیں بھی اپنے دل میں رقت محسوس ہوگی، آنکھ سے خوف خدا کے سبب ایک قطرہ بھی آنسو کا بہہ گیا تو آخرت سنور جائے گی۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خوفِ خدا میں رونے والی آنکھیں عطا فرمائے، کثرت سے آنسو بہائیں اور یہ آنسو ہمیں تسکین دیں اور ہمارے لئے ذریعہ نجات بن جائیں، اس سے پہلے کہ آنسو خون بن جائیں اور داڑیں انگاروں میں بدل جائیں۔

جی چاہتا ہے پھوٹ کے روؤں تیرے ڈر سے اللہ مگر دل سے قساوت نہیں جاتی


خوف خدا پاک ہماری اخروی نجات کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ عبادات کی بجاآوری اور برائیوں سے باز رہنے کا عظیم ذریعہ خوف خدا ہے، خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ  اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(احیاء العلوم،ج4) خوف خدا میں رونا ایک عظیم الشان نیکی ہے، جو اللہ پاک اپنے خاص اور مقرب بندوں کو عطا فرماتا ہے، یہی وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ پاک نے اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا، چنانچہ ارشادِ باری ہے:ترجمہ ٔکنزالایمان:جب ان پر رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتیں، گرپڑتے، سجدہ کرتے اور روتے۔خشیتِ الٰہی سے رونے والوں کے فضائل کے کیا کہنے کہ جس طرح قرآن پاک میں ان کا ذکر کیا گیا ہے، اسی طرح احادیث مبارکہ میں بھی بے شمار فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہُ عنہ نے عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! نجات کیا ہے؟ فرمایا:اپنی زبان کو روک رکھو، تمھارا گھر تمہیں کفایت کرے اور گناہوں پر رونا اختیار کرو۔(سنن ترمذی، جلد 4، صفحہ 182، حدیث: 2414)حضرت محمد بن منکدر رضی اللہُ عنہ جب روتے تو آنسوؤں کو اپنے چہرے اور داڑھی سے صاف کرتے اور فرماتے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آگ اس جگہ کو نہ چھوئے گی، جہاں خوف خدا سے نکلنے والے آنسو لگے ہوں۔(احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ 201)ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر:حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہُ عنہ نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔(شعب الایمان، 1/502، حدیث: 842)خوفِ خدا سے رونا سنت ہے:حضرت ابوہریرہ رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے: جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:ترجمۂ کنزالایمان:تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں۔تو اصحابِ صُفّہ رضی اللہُ عنہم اس قدر روئے کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے، انہیں روتا دیکھ کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی رونے لگے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا:وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔(شعب الایمان،ج 1، حدیث: 798)اللہ پاک اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آنسو کے صدقے ہمیں خوفِ خدا جیسی عظیم نعمت عطا فرمائے۔آمین

مجھ کو عطا اپنا عشق اور خوفِ خدا کیجئے


خوف خدا کے معنی: خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ  اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے، اس کے قہر و غضب سے خوفزدہ ہو جائے، جب کبھی بھی گناہ کا ارادہ ہو تو اسے اُس کے ربّ کریم کا خوف گناہوں سے باز رکھے، اسی طرح جیسے بندہ خوفِ خدا رکھنے سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے، اسی طرح خوف خدا کے سبب اس کے گناہوں کو مٹا دیا جاتا ہے، خوف خدا میں رونے اور گریہ و زاری کرنے کے بہت فضائل ہیں، انسان کو چاہئے کہ وہ حقیقت میں اپنے اندر خوف خدا پیدا کرے۔خوف خدا کی ترغیب و فضائل قرآن کی روشنی میں:سورۂ رحمٰن میں خوفِ خدا رکھنے والوں کے لئے دو جنتوں کی بشارتیں ہیں، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ ۔ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔اسی طرح سورۂ الِ عمران، آیت 175 میں ارشاد ہوتا ہے:وَخَافُوْنِ اِنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْن۔ترجمۂ کنزالایمان:اور مجھ سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔سورۂ بقرہ، آیت نمبر 40 :وَاِ یَّایَ فَارْھَبُوْن۔ترجمۂ کنزالایمان:اور خاص میرا ہی ڈ ررکھو۔اس طرح بے شمار آیات کریمہ میں خوف خدا کی فضیلت اور ترغیب بیان کی گئی ہے۔خوف خدا کی ترغیب و فضائل احادیث کی روشنی میں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:حکمت کی اصل اللہ پاک کا خوف ہے۔(شعب الایمان، ج1،ص480) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک فرمائے گا: اسے آگ سے نکالو، جس نے مجھے کبھی یاد کیا ہو یا کسی مقام پر میرا خوف کیا ہو۔(شعب الایمان، ج1،ص480)خوف خدا میں رونے کے فضائل:سرور عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: جس مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں، اگرچہ مکھی کے پَر کے برابر ہوں، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کا ظاہری حصّے تک پہنچیں تو اللہ پاک اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔(شعب الایمان، ج1،ص490) حضرت عطاء رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: میں اور میرے ساتھ حضرت ابن عمر اور حضرت عبید بن عمر ایک مرتبہ اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بارے میں کوئی بات بتائیے! تو آپ رو پڑیں اور فرمایا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے:مجھے رخصت دو کہ میں ربّ کریم کی عبادت کر لوں۔ تو میں نے عرض کی:مجھے آپ کا ربّ کریم کے قریب ہونا اپنی خواہش سے زیادہ عزیز ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہوگئے اور رونے لگے، پھر وضو کر کے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو دوبارہ رونا شروع ہو گئے، یہاں تک کہ آپ کی چشمانِ مبارک سے نکلنے والے آنسو زمین تک جا پہنچے۔اتنے میں حضرت بلال رضی اللہُ عنہ حاضر ہوئے اور آپ کو روتے دیکھ کر عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کیوں رو رہے ہیں؟حالانکہ آپ کے سبب تو اگلوں پچھلوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں تو ارشاد فرمایا: میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور مجھے رونے سے کون روک سکتا ہے،جبکہ اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی: اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ۔الَّذِینَ یَذْكُرُوْنَ اللہ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ۚرَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚسُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔(پ4، ال عمران:190 ،191)پھر فرمایا:اے بلال جہنم کی آگ کو آنکھ کے آنسو ہی بجھا سکتے ہیں، لوگوں کے لئے ہلاکت ہے، جو یہ آیت پڑھیں اور غور نہ کریں۔(درۃ الناصحین، صفحہ 394)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما سے مروی ہے، سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: دو آنکھوں کو آگ نہ چھوئے گی، ایک وہ جو رات کے اندھیرے میں ربّ کریم کے خوف سے روئے اور دوسری وہ جو راہِ خدا پاک میں پہرہ دینے کے لئے جاگے۔(شعب الایمان،ص478)رسول اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اللہ پاک کواس قطرے سے بڑھ کر کوئی قطرہ پسند نہیں، جوآنکھ سے اس کے خوف سے بہے یا خون کا وہ قطرہ، جو اس کی راہ میں بہایا جاتا ہے۔(احیاء العلوم، جلد 4، صفحہ30)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے ایک آنسو کا بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔(شعب الایمان، ج1،ص503)ان آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ سے خوف خدا میں رونے کی فضیلت معلوم ہوتی ہے، اللہ پاک ہمیں بھی حقیقی خوفِ خدا نصیب کرے اور اپنے خوف میں رونے والی آنکھیں اور تڑپنے والا دل عطا کرے۔آمین


رونے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں ،  کبھی کسی دوست کی جدائی پر رونا آجاتا ہے تو کبھی کسی رشتے دار کی رخصتی پر آنسو بھر آتے ہیں، اسی طرح کسی کو رَنج و اَلَم رُلادیتے ہیں تو کسی کو مصیبتیں ، دُکھ درد رُلادیتے ہیں، الغرض رونے کی مختلف اسباب ہوتے ہیں،لیکن سب سے افضل اور محبوب ترین آنسو وہ ہیں جو خوفِ خدا میں نکلتے ہیں، جیسا کہ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے وہ ہرگز جہنم میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ دودھ (جانور کے) تَھن میں واپس آجائے۔﴿شعب الایمان، تعالٰی، ج1، ص 490 ، حدیث: 8000﴾ خوفِ خدا میں رونا بندے کیلئے بہت بڑی سعادت مندی ہے۔یہ رونا بندے کو اللہ پاک کی ناراضی سے بچاکر اس کی رِضا تک پہنچادیتا ہے۔جہنّم کے عذاب سے چُھڑاکر جنّتُ الفردوس کے باغات میں لےجاتاہے۔ربُّ العالَمین کے غَضَب کو رَحْمت میں بدل دیتا ہے۔گناہوں کے پہاڑ کو نیکیوں کے سمندر میں تبدیل کرتا ہے۔ الغرض! خوفِ خدا میں نکلنے والے آنسوؤں کا ایک ایک قطرہ جہنّم کے ناقابلِ برداشت عذاب سے ڈھال بن سکتا ہے، جیسا کہ منقول ہے:قیامت کے دن جہنم سے پہاڑ کے برابر آگ نکلے گی اور امتِ مصطفٰی کی طرف بڑھے گی، تو سرکار دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اسے روکنے کی کوشش فرماتے ہوئے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بلائیں گے:اے جبرئیل! اس آگ کو روک لو! یہ میری امت کو جلانے پر تُلی ہوئی ہے حضرت جبرئیل علیہ السلام ایک پیالے میں تھوڑا سا پانی لائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں پیش کرکے عرض کرینگے اِس پانی کو اُس آگ پر ڈال دیجئے لہٰذا سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس پانی کو آگ پر انڈیل دینگے، جس سے وہ آگ فورا بُجھ جائےگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت جبرئیل علیہ السلام سے دریافت کریں گے: اے جبرئیل! یہ کیسا پانی تھا جس سے آگ فورا بُجھ گئی؟ تو وہ عرض کریں گے: یہ آپ کے اُن اُمتیوں کے آنسوؤں کا پانی ہے جو خوفِ خدا کے سبب تنہائیوں میں رویا کرتے تھے، مجھے رب کریم نے اُس پانی کو جمع کرکے محفوظ رکھنے کا حکم فرمایا تھا تاکہ آج کے دن آپ کی امت کی طرف بڑھنے والی اِس آگ کو بُجھایا جاسکے۔﴿دُرّۃ الناصحین، المجلس الخامس والستون، ص395﴾خوفِ خدا میں رونے والی آنکھیں بڑے خوش نصیبوں کو ملتی ہیں، خود نبی پاک ، صاحبِ لولاک، سَیّاحِ افلاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم رب کریم سے اپنے لئے رونے والی آنکھیں مانگا کرتے۔ حدیث: پاک میں ہے: مدینے کے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس طرح دعا مانگتے تھے: اے اللہ پاک! مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرما جو کثرت سے آنسو بہاتی ہوں اور آنسو گرنے سے تسکین دیں، اس سے پہلے کہ آنسو خون بن جائیں اور داڑھیں انگاروں میں بدل جائیں۔﴿احیاء العلوم،ج4 ص:300﴾ خوفِ خدا میں رونا سنّت ہے:اللہ پاک کے خوف میں رونا اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پیاری عظیمُ الشّان سنّت ہے جیسا کہ مَروی ہے:ایک بار حضور نبیِّ رحمت، شفیعِ اُمّت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اَقدس (مبارک آنکھوں) سے نکلنے والے آنسوؤں سے مِٹّی نَم ہوگئی، پھر فرمایا: اے بھائیوں! اِس قبر کے لیے تیاری کرو!﴿ابن ماجہ، کتاب الزھد،باب الحزن والبکاء، 4 / 466، حدیث: 4195۔﴾پیاری اسلامی بہنو! نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تو وہ مقدس ہستی ہیں جو رب کریم کی بارگاہ میں تمام مخلوق بلکہ تمام انبیاء و ملائکہ سے بڑھ کر مرتبہ رکھتے ہیں۔ جو بِلَا شک اللہ پاک کے غضب ، اس کے عذاب اور اس کی ناراضی سےمحفوظ بلکہ اس کے حبیب و محبوب، نبی و رسول ہیں ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان و عظمت تو یہ ہے کہ اپنے رب کریم کی بارگاہ میں جس کسی کی سفارش کر دیں اللہ پاک انہیں بھی دنیا و آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما لیتا ہے۔ اس کے باوجود بھی آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس آنکھیں خوفِ خدا میں روتی اور آنسو بہاتی تھیں۔ہائے افسوس! ایک طرف وہ ہستیاں جو اللہ پاک کے پیارے ہونے کے باؤجود اس کے خوف سے روتے، گریہ وزاری کرتے، اور ایک جانب ہم گنہگار کہ اتنے گناہ کرنے کے باوجود آخرت سے غافل ، دنیا کی محبت میں مَگن ہوکر خوفِ خدا میں رونا تو بعید، گناہوں کے احساس سے بھی محروم ہوگئی ہیں ، حالانکہ خوفِ خدا میں آنسو بہانا ہمارے بزرگانِ دین ، سَلف و صالحین بلکہ انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا طریقہ ہے۔ افسوس، ہماری بدبختی کہ ہم دینِ متین سے دور ، فانی دنیا سے قریب ہوگئی ہیں، آخرت سے غافل ، جہنم کے عذاب سے غافل ، طلبِ شہرت میں مشغول ہوگئے ہیں، گویا کبھی مرنا ہی نہیں ہے، اللہ پاک ہمیں دنیا کی حقیقت سے آشنا فرمائے، آخرت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔ خوفِ خدا میں رونے کے بےشمار فضائل میں سے چند فضائل:1نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:دو آنکھوں کو آگ نہ چھوئےگی، ایک وہ جو رات کے اندھیرے میں خدا کے خوف سے روئے اور دوسری وہ جو راہِ خدا میں پہرہ دینے کیلئے جاگے۔﴿شعب الایمان، ، ج 1، ص478، حدیث:796﴾2:حضرت عبداللہ بن عمر رضیَ اللہُ عنہما نے ارشاد فرمایا :اللہ پاک کے خوف سے ایک آنسو کا بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ ﴿شعب الایمان، ج1، ص 503، حدیث: 843﴾3: دقائق الاخبار میں ہے : قیامت کے دن ایک شخص کو لایاجائےگا، جب اس کے اعمال تولے جائیں گے تو بُرائیوں کا پَلڑا بھاری ہوجائےگا چنانچہ اسے جہنم میں ڈالنے کا حکم ملےگا، اس وقت اس کی پلکوں کا ایک بال اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کرےگا: اے ربِّ کریم! تیرے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا تھا جو اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے اللہ پاک اس پر جہنم کی آگ حرام کر دیتا ہے اور میں تیرے خوف سے رویا تھا۔ اللہ پاک کا دریائے رحمت جوش میں آئےگا اور اُس شخص کو اشکبار بال کے بدلے جہنم سے بچالیا جائےگا، اُس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام پکاریں گے: فُلاں بِن فُلاں ایک بال کے بدلے نَجات پاگیا۔﴿مکاشفۃ القلوب (مترجم)، ص37، ماشِر: مکتبۃ المدینہ دہلی﴾4: حضرت ابو سُلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبائیں گی، اُس چہرے پر قیامت کے دن غُبار اور ذلت نہیں چڑھےگی، اگر اس کے آنسو جاری ہوجائیں تو اللہ پاک اُن آنسوؤں کے پہلے قطرے کے ساتھ آگ کے کئی سمندر بجھادیتا ہے، اور جس اُمت میں سے کوئی (خوفِ خدا) سے روتا ہے اُس امت کو عذاب نہیں ہوتا۔﴿ احیاء العلوم، ج4، ص301﴾5:حدیث: پاک میں ہے:کوئی ایسا بندۂ مومن نہیں جس کی آنکھوں سے خوفِ خدا سے مکھی کے پَر کے برابر آنسو بَہے اور اس کی گرمی اس کے چہرے پر پہنچے اور اُسے کبھی جہنم کی آگ چھوئے۔﴿ مکاشفۃ القلوب مترجم، ص39، ناشر: مکتبۃ المدینہ دہلی ( ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب الخوف والبکاء ج4، ص 467، حدیث:4197﴾اے اللہ پاک ! ہمیں تیرے خوف میں رونے والی آنکھیں ، تیرے ذکر سے تَر رہنے والی زبان ، تیری یاد میں گُم رہنے والا دل عطا فرما!

تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ میں تھر تھر رہوں کانپتی یا الٰہی

میرے اشک بہتے رہیں کاش ہر دَم تیرے خوف سے یا خدا یا الٰہی

مسلماں ہے عطاؔر تیری عطا سے ہو ایمان پر خاتمہ یا الٰہی

صلّوا علی الحبیب! صلی اللہُ علی محمدصلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


خوف خدا میں رونے کے فضائل:خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلا پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بےنیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے۔(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف و الرجا، باب بیان حقیقة الخوف، 190/4، ماخوذا،،، خوف خدا، ص 14)(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات، ص 200) خوف خدا میں رونا ایک نہایت عظیم صفت ہے اور اس کے بےشمار فضائل منقول ہیں۔اللہ پاک کے آخری نبی، محمد عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس بندۂ مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچا تو اللہ پاک اس بندے پر دوزخ کو حرام فرمادیتا ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحزن و البکاء، 467/4، حدیث: 4197) جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روئے وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے۔(سنن الترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی فضل الغبار فی سبیل اللہ، 236/3، حدیث: 1639) اللہ پاک کے نزدیک اس کے خوف سے بہنے والے آنسو کے قطرے اور اس کی راہ میں بہنے والے خون کے قطرے سے زیادہ کوئی قطرہ محبوب نہیں۔(الزہد لابن المبارک، باب ما جاء فی الشح، ص235، حدیث: 672) جس دن عرش الہٰی کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا اس دن اللہ پاک سات قسم کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو تنہائی میں اللہ پاک کو یاد کرے اور (خوف خدا سے) اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں۔(بخاری شریف، کتاب الاذان، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلوة، 236/1، حدیث: 660)اسلام کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: جس سے ہوسکے وہ روئے اور جسے رونا نہ آئے تو وہ رونے جیسی صورت ہی بنالے۔(احیاء العلوم، ج 4، ص 544)حضرت سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس شخص کی آنکھ خوف خدا میں آنسو بہاتی ہے روز قیامت نہ اس شخص کا چہرہ سیاہ ہوگا نہ اسے ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا، جب اس کی آنکھ سے آنسو بہتے ہیں تو اللہ پاک ان کے پہلے قطرے سے دوزخ کے شعلوں کو بجھادیتا ہے اور اگر کسی امت میں ایک بھی شخص خوف خدا سے روتا ہے تو اس کی برکت سے اس امت پر عذاب نہیں کیا جاتا۔(احیاء العلوم، ج 4، ص 544)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں: اللہ پاک کے خوف سے میرا ایک آنسو بہانا میرے نزدیک پہاڑ برابر سونا صدقہ کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔(احیاء العلوم، ج 4، ص 544)البتہ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ خوف خدا میں رونا اگرچہ بڑی عظیم سعادت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچنا اور فرائض و واجبات کو ادا کرنا بھی نہایت اہم ہے۔ درحقیقت خوف خدا والا بندہ وہی ہے جو اللہ کریم کی نافرمانیوں سے بچے۔اللہ پاک ہمیں اپنا اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا مطیع و فرمانبردار بنائے اور ہمیں اپنے خوف میں رونے کی سعادت نصیب فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

یا رب! میں ترے خوف سے روتی رہوں ہر دم دیوانی شہنشاہ مدینہ کی بنادے(وسائل بخشش، ص 119)


الحمدللہ !اللہ پاک نے ہمیں ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، یوں تو ربّ کریم کی نعمتیں بے شمار ہیں، حتی کہ ان سانسوں کا جاری رہنا بھی ایک بڑی نعمت ہے۔اس کی عطا کردہ تمام تر نعمتوں میں بڑی خصوصیت کی حامل ہیں ہماری آنکھیں، جن کے ذریعے ہم دنیا کی رونقیں اور ربّ کریم کی عظیم الشّان قدرتوں کا نظارہ کرتے ہیں، لیکن کیا ہی عظیم نعمت ہیں وہ آنکھیں، جنہیں خوفِ خدا اور عشقِ مصطفٰی میں رونا نصیب ہو جائے اور کیا ہی خوش بخت ہیں وہ لوگ، جنہیں ایسی آنکھیں میسر ہو جائیں، یہ ربّ کریم ہی کی توفیق ہے، جسے چاہے اپنا غم عطا کر کے اپنی قربت اور ولایت عطا کر دے، جسے چاہے تقویٰ و پرہیزگاری کا حُلّہ عطا کر کے دنیا و آخرت کی منزلیں اس پر آسان کر دے۔یہی وہ خائفین ہیں جن کی آنکھوں کو خوفِ خدا کے اشک نصیب ہوئے، جن کے پہلو بسترِ آرام سے جدا رہتے ہیں، جب دنیا اپنے بستروں میں ہوتی ہے، یہ اپنے ربّ کریم کے سجدوں میں اس کی رضا کے انوار سے منور ہو رہے ہوتے ہیں، جب لوگوں کے دل دنیا کی رنگینیوں میں مست ہوتے ہیں، ان کے دل آخرت کے اور اپنے ربّ کریم کے خوف سے لرز رہے ہوتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دن ربّ کریم کے قُرب کی روشنی میں اور رات اس کی یادوں کی گریہ وزاری میں گزر جاتی ہے۔ تمام تعریفیں اُسی ذات کے لئے، جس نے انسان کو ہنسایا، رُلایا اور زندگی اور موت اور علم و جہالت کا فرق سکھایا، یہ وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کریم سے عہد کیا تو اس کو وفا کرنے والا پایا اور یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں، جن کے بارے میں ربّ کریم نے ارشاد فرمایا:اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا0۔ترجمۂ کنزالایمان:جب ان پر رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتیں، گرپڑتے سجدہ کرتے اور روتے۔(پ 16، مریم:58)اُن میں سے ہر ایک اپنا چہرہ خاک پر رکھ دیتا ہے اور جب وہ اپنے آپ کو رنجیدگی سے خالی پاتے ہیں تو روتے ہیں اور گریہ و زاری کرتے ہیں اور جب اپنے گناہوں کے متعلق سوچتے ہیں تو خوب گریہ و زاری کرتے ہیں اور رب کریم کی بارگاہ میں ٹھوڑی کے بل گر پڑتے، خوب گڑگڑاتے، اشکوں کے سیلاب ان کی آنکھوں سے اُمڈ پڑتے۔منقول ہے: حضرت داؤد علیہ السلام نےبارگاہِ الٰہی میں عرض کی:اے اللہ پاک!جو تیرے خوف سے روئے، یہاں تک کہ آنسو اس کے چہرے پر بہہ جائیں، تو تُو اسے کیا اجر عطا فرمائے گا؟ارشاد ہوا:میں اس کے چہرے کو جہنم کی لپیٹ سے محفوظ رکھوں گا اور اسے گھبراہٹ والے دن (یعنی قیامت) سے امن عطا فرماؤں گا۔سبحان اللہ ۔امیر اہلسنت دامَتْ بَرَکاتُہمُ العالِیَہ کی مایہ ناز تصنیف نیکی کی دعوت سے رونے کے چند فضائل پیشِ خدمت ہیں:خوف ِخدا اور عشقِ مصطفی میں رونا ایک عظیم الشان نیکی ہے، اے کاش!ہمیں بھی سنجیدگی اپنانے اور خوفِ خدا میں رونا نصیب ہوجائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

رونے والی آنکھیں مانگو، رونا سب کا کام نہیں ذکرِ محبت عام ہے لیکن، سوزِ محبت عام نہیں

1۔فرمانِ مصطفی ہے:جس مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں، اگرچہ مکھی کے پَر ے برابر ہوں، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کا ظاہری حصّے تک پہنچیں تو اللہ اسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔2۔فرمانِ مصطفی ہے:وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا، جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔3۔امیر المؤمنین حضرت علی المرتضی رضی اللہُ عنہُ فرماتے ہیں:جب تم میں سے کسی کو خوفِ خدا سے رونا آئے تو وہ آنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے، بلکہ رخساروں پر بہہ جانے دے تو وہ اسی حالت میں ربِّ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔4۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہُ عنہما نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔5۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ و زاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔6۔حضرت یحییٰ علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا سے اس قدر ہوتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی ساتھ رونے لگتے، حتٰی کہ آپ کے والد محترم حضرت زکریا علیہ السلام بھی دیکھ کر رونے لگتے، یہاں تک کہ بے ہوش ہوجاتے، مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے رُخسار مبارک پر زخم ہو گئے تھے۔ 7۔حضرت یحییٰ علیہ السلام اپنے والد گرامی حضرت زکریا علیہ السلام کے حوالے سے فرمایا:جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے، جسے وہی طے کرسکتا ہے، جو بہت رونے والا ہو۔

جی چاہتا ہے پھوٹ کے رو ؤں تیرے ڈر سے اللہ مگر دل سے قساوت نہیں جاتی(فیضان ریاض الصالحین، جلد 4،8)

جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے اتارا گیا تو آپ ابوالبشر ہونے کے باوجود چالیس سال تک روتے رہے، ٭ حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے غم میں اس قدر روئے کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں سفید ہوگئی۔ ٭نبی آخرالزماں، پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو کوئی شے دو قطروں سے زیادہ پسند نہیں، ایک خوف الٰہی پاک سے بہنے والے آنسو کا قطرہ، دوسرا اللہ پاک کی راہ میں بہنے والے خون کا قطرہ۔(جامع ترمذی،)٭حضرت یزید رقاشی رحمۃُ اللہِ علیہ اپنی موت کے وقت رونے لگے، ان سے عرض کی گئی:آپ کیوں روتے ہیں؟ تو ارشاد فرمایا:میں اس وجہ سے روتا ہوں کہ اب مجھے راتوں کے قیام، دن کے روزوں اور ذکر کی مجالس میں حاضری کا موقع نہ ملے گا۔٭حضرت عبدالوھاب رضی اللہُ عنہ سے مروی ہے : آپ فرماتے ہیں:ایک اعرابی نے خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ سے سوال کیا، پھر اس نے چند عربی اشعار پڑھے، جن کا ترجمہ یہ ہے:میری بچیوں اور ماں کو کپڑے پہنائیے تو ہم ساری زندگی آپ کے لئے جنت کی دعا کریں گے، اللہ پاک کی قسم! آپ یہ نیکی ضرور کریں گے۔خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہُ عنہ نے ارشاد فرمایا:اگر میں ایسا نہ کر سکوں تو؟اعرا بی بولا اے ابو حفص!اگر ایسا نہ ہوا تو میں چلا جاؤں گا، حضرت عمر رضی اللہُ عنہ نے کہا:اگر تو چلا گیا تو پھر کیا ہوگا؟ وہ کہنے لگا: تو پھر اللہ پاک کی قسم!آپ سے میرے حال کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا اور اس دن عطیات، احسان اور نیکیاں ہوں گی تو کھڑے شخص سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا،پھر اسے یا تو جہنم کی طرف بھیجا جائے گا یا جنت کی خوشخبری سنائی جائے گی۔اس اعرابی کی یہ باتیں سن کر حضرت عمر رضی اللہُ عنہ کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہو گیا، یہاں تک کہ آپ کی داڑھی مبارک ترہو گئی، پھر آپ نے اپنے غلام کو فرمایا:اے غلام !اس شخص کو میری قمیض عطا کر دو اور یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے اچھے اشعار کہے، بلکہ اس دن یعنی روزِ قیامت کے لئے، اس کے بعد ارشاد فرمایا:اللہ پاک کی قسم! اس وقت اس قمیض کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم (عیون الحکایات، ص 340، 341) اللہ پاک کے خوف میں، اس کی خشیت میں رونا، سب کو نصیب نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو وہ اعلی نعمت ہے، جو ربّ کریم کے متقی اور پرہیز گار بندوں ہی کو نصیب ہوتی ہے۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ کریم ہم تمام کو بھی انبیائے کرام، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صحابہ کرام، بزرگانِ دین اور اَسلاف کے خوفِ خدا کا صدقہ عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی میرا حشر میں ہوگا کیا یا الٰہی

تو اپنی ولایت کی خیرات دے دے میرے غوث کا واسطہ یا الٰہی


رونا لفظ کو عربی میں البکاءکہتے ہیں، رونا کئی طرح کا ہوتا ہے، جیسا کہ غم سے رونا بہت خوشی میں رونا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی یاد میں رونا، مدینے کی یاد میں رونا، بادل روتا ہے تو چمن ہنستا ہے، اللہ پاک کے ڈر سے رونا، اللہ پاک کی یاد میں رونا وغیرہ، یہاں خوفِ خدا (اللہ پاک کے ڈر) سے رونا مراد ہے، خوف خدا میں بہنے والا آنسو کسی نعمت سے کم نہیں، یہ بہت بڑی سعادت مندی کی بات ہے، یہ خوف خدا میں بہنے والا آنسو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتا۔ خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کی بے نیازی، اس کی ناراضی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہوجائے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں، خوف سے ہی انسان کی اصلاح ہوتی ہے، اس خوف کی وجہ سے ہی انسان اپنے ربّ کے قریب ہوتا ہے، اللہ پاک کو ندامت سے بہنے والے آنسو بہت پسند ہیں، بندے کی شرمندگی اور خوف سے بہنے والا آنسو اللہ پاک کو بے حد محبوب ہے، میرے ربّ کریم نے خوفِ خدا کی صفت کو اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا:ارشادِ باری:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہرگز نہ مرنا مگر مسلمان۔ (پ4، ال عمران:102)ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:ارشادِ باری:اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔ (پ3، ال عمران :28)ارشاد باری:اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔ (پ22، الاحزاب:70)پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی زبانِ حق ترجمان سے نکلنے والے ان مقدس کلمات کو بھی ملاحظہ فرمائیے: حدیث: مبارکہ: سرور عالم، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا :جس مؤمن کی آنکھوں سے اللہ پاک کا خوف سے آنسو نکلتا ہے، اگرچہ مکھی کے پر کے برابر ہو، پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے تک پہنچیں تو اللہ پاک اسے جہنم پر حرام کردیا ہے۔(شعب الایمان، ج1، ص490، حدیث: 802)حدیث: مبارکہ:خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :جب مؤمن کا دل اللہ پاک کے خوف سے لرزتا ہے، تو اس کی خطائیں اس طرح جھڑتی ہیں، جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑتے ہیں۔ (شعب الایمان، ج1، ص491، حدیث: 803)حدیث: مبارکہ:سید المرسلین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے :جو اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے، وہ ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوگا، یہاں تک کہ دودھ(جانور کے) تھن میں واپس آجائے۔ (شعب الایمان، ج1، ص490، حدیث: 800)قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے ساتھ ساتھ اکابرینِ اسلام کے اقوال میں بھی خوفِ خدا کی نصیحتیں وارد ہیں:1۔حضرت ابو سلیمان رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:خوف خدا دنیا اور آخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے۔2۔حضرت سلیمان دارانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:جس دل سے خوف دور ہوجاتا ہے وہ ویران ہوجاتا ہے۔پیاری اسلامی بہنو!ایک ایسے عظیم شخصیت کی حکایت ملاحظہ فرمائیں، جو یارِ غار اور یارِمزار بھی، جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی، مگر ان کا خوفِ خدا اور تقویٰ مرحبا! ہمارے اور آپ کے پیارے صدیق اکبر رضی اللہُ عنہ جو خوف خدا سے اس قدر گھبراتے تھے، فرماتے ہیں: کاش !میں درخت ہوتا، جسے کھالیا جاتا کاٹ دیا جاتا۔اتنی عاجزی، اتنا زہد و تقویٰ، اللہُ اکبر! وہ تو زبان کی احتیاط کیلئے منہ میں چھوٹے چھوٹے پتھر رکھ لیا کرتے تھے، تاکہ زیادہ نہ بولنا پڑے اور آج دیکھیں ہمارا حال کیا ہے، ہمیں تو گناہ کرکے شرمندگی تو دور کی بات ہے، رونا تک نہیں آتا اور اس گناہ کے ہم چرچے کررہی ہوتی ہیں، جیسے ہمیں مرنا ہی نہیں، ربّ کریم کے حضور کھڑا ہی نہیں ہونا۔اے پیاری بہنو! اتنی بے باکی، اتنی بے خوفی اچھی نہیں، خدارا! اب بھی وقت ہے، سدھر جائیں، انسان تو جس سے محبت کرتا ہے، اس کی ناراضی سے ڈرتا ہے، مگر ہماری اپنے اللہ پاک سے کیسی محبت ہے، ہم تو ہر لمحہ اس کی ناراضی والے کام کرتی ہیں، ہم یہ کیوں نہیں سوچتیں کہ ہم اللہ پاک سے محبت کرنے کے باوجود اس کو ناراض کرنے کے درپے ہیں، یاد رکھیں! اللہ پاک کے عذاب اور اس کی وعید سے بچنے کیلئے گناہ چھوڑنا بہت اچھی بات ہے، مگر اللہ پاک کی محبت میں گناہ چھوڑنا اس کا اپنا ہی مزہ ہے۔ایسا رونا، ایسا خوف، مانگا کرو، کیونکہ اللہ پاک کی محبت جسے نصیب ہوجاتی ہے، اس کو دنیا کی محبت سے پھر کوئی سروکار نہیں ہوتا، اللہ پاک سے ہی دعا مانگا کرو کہ

میں بس تیرے خوف سے روتی رہوں ہر دم تو بس دیوانی مجھے اپنے محبوب کی بنادے

وہ ربّ کریم ہمیں اپنی یاد میں تڑپنا، پھڑکنا اور آنسو بہانا نصیب فرمائے۔آمین۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں

ہمیشہ آنکھوں کے پانی سے ایمان کے کھیت کو سینچو، تاکہ اس پانی کی وجہ سے یہ باغ ہرابھرا رہے، اے اللہ پاک! ہم سب کو اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھیں اور لرزنے والا بدن عطا فرما۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


اللہ کریم ہے اور وہ اپنے کرم سے اپنے بندوں کو بخشتا ہے،  اس کے خوف سے رونے والوں کے لیے خوشخبری ہے کہ جو اس کے خوف سے روتا ہے،  اس پر اللہ پاک کا خاص کرم ہوتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص اللہ پاک کے خوف سے روتا ہے،  وہ ہرگز جہنم میں نہیں ہو گا،  حتی کہ دودھ جانور کے تھن میں واپس آ جائے۔پسندیدہ قطرہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو اس قطرے سے بڑھ کر کوئی پسندیدہ نہیں،  جو آنکھ سے اس کے خوف کی وجہ سے بہے یا خون کا وہ قطرہ جو اس کی راہ میں بہایا جائے۔پیارے آقا کی پیاری دعا:پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اس طرح دعا مانگتے:اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِیْ عَيْنَيْنِ هَطَّالَتَيْنِ تَشْفِيَانِ الْقَلْبَ بِذُرُوْفِ الدَّمْعِ  مَعَ خَشْيَتِكَ  قَبْلَ اَنْ  تَصِيْرَالدُّمُوْعُ  دَمًا وَالْاَضْرَاسُ جَمْرًا۔اے اللہ پاک مجھے ایسی دو آنکھیں عطا فرما،  جو کثرت سے آنسو بہاتی ہوں اور آنسو گرنے سے تسکین دیں،  اس سے پہلے کے آنسو خون بن جائیں اور داڑھیں انگاروں میں بدل جائیں۔خوف خدا سے رونے کی فضیلت:اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا آپ کی اُمّت میں سے کوئی بلا حساب بھی جنت میں جائے گا؟ تو فرمایا:ہاں،  وہ شخص اپنے گناہوں کو یاد کر کے روئے۔سبحان اللہ۔ خوف خدا کی فضیلت:جو بندہ اللہ پاک کے خوف سے روئے اور آنسو نہ صاف کرے،  بلکہ اس کو اپنے رخسار پر بہہ جانے دے تو وہ اسی حالت میں ربّ کریم کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔حضرت  محمد بن منکدر رضی اللہُ عنہُ جب روتے تو آنسوؤں کو اپنے چہرے اور داڑھی سے صاف کرتے اور فرماتے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آگ اس جگہ کو نہ چھوئے گی،  جہاں آنسو گرے ہوں۔اس اُمّت کو عذاب نہیں ہوتا:حضرت  ابو سلیمان دارانی رضی اللہُ عنہُ فرماتے ہیں:جو آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبائیں گی،اس چہرے پر قیامت کے دن غبار اور ذلت نہیں چڑھے گی،  اگر اس کے آنسو جاری ہو جائیں تو اللہ پاک ان آنسوؤں کے پہلے قطرے کے ساتھ آگ کے کئی سمندر بجھا دیتا ہے اور جس امت میں سے کوئی شخص(خوف خدا)سے روتا ہے،  اس امت کو عذاب نہیں ہوتا۔سبحان اللہ آنکھ کا ایک بال بخشش کا سبب:اللہ پاک کی بارگاہ میں ایک شخص کو لایا جائے گا تو اس کا نامہ اعمال اس کو دیا جائے گا تو وہ اس میں کثیر گناہ پائے گا،  پھر وہ عرض کرے گا:یا الٰہی میں نے تو یہ گناہ کیا ہی نہیں؟اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:میرے پاس اس کے مضبوط گواہ ہیں،  پھر وہ بندہ اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھے گا،  لیکن کسی گواہ کو موجود نہ پائے گا اور کہے گا:یا ربّ کریم! وہ گواہ کہاں ہیں؟تو  اللہ پاک اس کے اعضاء کو گواہی دینے کا حکم دے گا تو اس کے اعضاء گواہی دیں گے،  وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جائے گا،  پھر جب اللہ پاک اس کے لئے جہنم میں جانے کا حکم فرما دے گا تو اس شخص کی سیدھی  آنکھ کا ایک بال ربِّ کریم سے کچھ عرض کرنے کی اجازت طلب کرے گا اور اجازت ملنے پر عرض کرے گا:اللہ پاک کیا تو نے نہیں فرمایا تھا کہ میرا جو بندہ اپنی آنکھ کے کسی بال کو میرے خوف میں بہائے جانے والے آنسوؤں میں تر کرے گا،  میں اس کی بخشش فرما دوں گا؟  اللہ پاک ارشاد فرمائے گا:کیوں نہیں،  تو وہ بال عرض کرےگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا یہ گناہگار بندہ تیرے خوف سے رویا تھا،  جس سے میں بھیگ گیا تھا۔یہ سن کر اللہ پاک اس بندے کو جنت میں جانے کا حکم فرما دے گا،  ایک منادی پکار کر کہے گا: سنو !فلاں بن فلاں اپنی آنکھ کے ایک بال کی وجہ سے جہنم سے نجات پا گیا۔سبحان اللہ! کتنی پیاری پیاری فضیلتیں ہیں،  اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں بھی اپنے پیارے پیارے ربّ کریم کے خوف سے رونا چاہئے۔خوف خدا کی فضیلتوں کا مطالعہ کتاب خوف خدا سے کیا گیا ہے،  مزید فضیلتوں کی برکت لوٹنے کے لئے کتاب بنام  خوف خدا کا مطالعہ کیجئے،  ان شاءاللہ مفید رہے گا۔