اسلام ایک امن پسند کامل ترین ، لاجواب خوبیوں کا حامل انسانی طبیعت و فطرت کے عین مطابق آسمانی اور سچا دین ہے۔  یہ جس طرح اپنے ماننے والو کو عبادات و عشقِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا درس دیتا ہے اسی طرح اسلامی معاشی اصولوں پر کار بند رہ کر سچائی اور امانت داری کے ساتھ تجارت کرنے اور دوسروں کے مالی حقوق کی ادائیگی کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ مگر فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے نے کی وجہ سے رشوت، چوری، دھوکا دہی، خیانت ، غصب، ناپ تول میں کمی کرنے اور بھی کئی طریقوں سے دوسروں کے مالی حقوق کو دبایا جاتا ہے حالانکہ قراٰن و احادیث میں اس کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ ۔ (پ5، النسآء:29) صراط الجنان میں ہے کہ: اس آیت میں باطل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لوٹ کرہو یا چھین کر ،چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رشوت یا جھوٹی گواہی سے یہ سب ممنوع و حرام ہے۔(احکام القرآن، باب ما یحلہ حکم الحاکم وما لا یحلہ،1/ 304) اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انسان ناحق حاصل کر لیتا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب مترجم، ص 473 ،مطبوعہ مكتبۃُ المدینہ کراچی)

اسی طرح بہت سی احادیثِ کریمہ میں ناحق مال کھانے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔ جن میں سے پانچ ملاحظہ ہوں:

( 1) حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : چار شخص ایسے ہیں جن کے لئے اللہ پاک نے لازم کردیا ہے کہ انہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے، شرابی، سودخور، ناحق یتیم کا مال کھانے والا اور والدین کا نافرمان۔( المستدرک للحاکم ،کتاب البیوع ، باب اربی الربا۔۔۔الخ ، 2/338، حدیث: 2307)

(2) حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی (یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔( المعجم الکبیر،1/233،حدیث:637)

(3) حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : یتیم کا مال ظلماً کھانے والے قیامت میں اس طرح اُٹھیں گے کہ ان کے مُنہ، کان اور ناک سے بلکہ ان کی قبروں سے دُھواں اُٹھتا ہو گا جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ یہ یتیموں کا مال ناحق کھانے والے ہیں۔( دُرِّمنثور،2/443،پ4،النسآء،تحت الآیۃ:10)

(4) حضور نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ملعون (لعنت کیا گیا) ہے وہ شخص جس نے کسی مؤمن کو نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا ۔ ترمذی كتاب البر والصله باب ماجاء في الخيانۃ والغش، ص 475 ،حدیث :1941)

(5)نبی اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : خبردار ظلم نہ کرنا، خبردار کسی شخص کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشكوة المصابیح، جلد 4 ،حدیث: 2946)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ذرا غور کیجئے کسی کے مالی حقوق دبانے کا کیا فائدہ محض دنیاوی عیش و عشرت۔ جبکہ اس کے مقابلے الله و رسول کی ناراضگی ، ایمان کی دولت چھن جانے کا خطرہ، نیکیوں کا ضائع ہو جانا، عبادات کا مقبول نہ ہونا، دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا سبب اور بغیر حساب جہنم میں داخلہ۔ لہذا یہ ایک مذموم فعل ہے اور ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازمی ہے۔ مذکورہ فعل میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں : (1) علم دین کی کمی (یعنی دوسروں کے مال کے شرعی احکام معلوم نہ ہونا ) (2) مال و دولت کی حرص (3)دنیا کی محبت (4) راتوں رات امیر بننے کی خواہش (5) مفت خوری کی عادت اور کام کاج سے دور بھاگنا (6) بری صحبت۔ اللہ پاک ہمیں دوسروں کے مالی حقوق کی ادائیگی اور دینی احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


کلیم اللہ چشتی عطاری( درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی لاہور پاکستان)

Mon, 11 Sep , 2023
173 days ago

اگر ہم عالم دنیا غور و فکر کریں تو کثیر فتنوں کو ملاحظہ کریں گے اور وہ نہایت وسیع و فراخ ہیں ان سے صرف وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ پاک توفیق دے۔  ان میں سے ایک بڑا فتنہ مال کاہے جو سب سے زیادہ آزمائش کا سبب ہے۔ مال کا ایک بڑا فتنہ یہ ہے کہ کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں جسے نہ ملے وہ محتاجی کی وجہ سے کفر تک جا سکتا ہے اور جسے مل جائے اس ہے سرکشی کا خطرہ ہوتا ہے۔ مال کی مذمت اتنی زیادہ ہے کہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بکریوں میں چھوڑے گئے دو بھوکے بھیڑیے اتنا نقصان نہیں کرتے جتنا نقصان جاہ و منصب اور مال کی محبت مسلمان آدمی کے دین میں کرتی ہے۔ (سنن الترمذی کتاب الزہد ،حدیث :2383) اس مال کی وجہ سے ہمارا معاشرہ لڑائی جھگڑوں کا شکار ہے، اسی وجہ سے کئی برائیاں سر اٹھا رہی ہے۔ مثلاً دھوکا ، جوا، غصب، ناپ تول میں کمی کرنا وغیرہ ان کے حوالے سے احادیث میں کئی وعیدات وارد ہوئی ہیں۔ آئیے ان میں سے بعض کا مطالعہ کرتے ہیں۔

دھوکا: آج ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کے لیے دھوکا عام ہے اور دھوکے کے حوالے سے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ملعون ہے وہ شخص جس نے کسی مؤمن کو نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا۔ ( ترمذی)

جوا: ناجائز طریقے سے کسی کا مال حاصل کرنے کے لیے آج کل جوا بھی عام ہے جوئے کے حوالے سے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے نَرْدْ شِیْر (جوئے کا ایک کھیل) کھیلا تو گویا اس نے اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا۔ (مسلم، کتاب الشعر، باب تحریم اللعب بالنردشیر، ص1240، حدیث: 2260)

غصب : کسی کا مال جبراً چھیننا بھی حرام ہے۔ اور وعیدات بھی وارد ہوئی ہیں۔ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی (یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔( المعجم الکبیر،1/233،حدیث:637)

خیانت: مالی حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خیانت نہ کی جائے۔ خیانت کے حوالے سے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ خائن خیانت کرنے کی حالت میں مؤمن ہو، لہذا ان سے بچو! ان سے بچو ! ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 1 ،حدیث : 53)

چوری: مالی حقوق دبانے میں ایک بڑا گناہ چوری بھی ہے اور چوری کے حوالے سے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ چور چوری کرنے کی حالت میں مؤمن ہو۔(ایضاً)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں مال کمانے کی اتنی دھن ہے کہ ہم اتنا بھی فکر نہیں کرتے کہ اس مال میں میرا حق ہے یا میرے بھائی کا۔ اکثر اوقات اپنے بھائیوں کے اموال کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کا سوچتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے اس نبی علیہ الصلوۃ و السّلام کا کلمہ پڑھا ہے جن پر اپنے تو اپنے غیر بھی اعتماد کرتے، جانی دشمن بھی اپنی امانتیں رکھواتے تھے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ دوسروں کے اموال پر نظر کی بجائے قراٰن و حدیث کے اصول کے مطابق اموال حاصل کرے۔


ابو الخبر عبد الواجد عطاری (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ اپر مال روڈ لاہور پاکستان)

Mon, 11 Sep , 2023
173 days ago

جہاں اللہ پاک نے انسان کو اتنی نعمتیں دی ہے اسی نعمتوں میں سے ایک نعمت مال ہے اور (یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے بغیر انسان کا زندگی گزارنا بہت دشوار ہے)۔ یہ بندے کے ہاں اللہ پاک کی امانت ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے کہ بندے کو اس بات کا اختیار ہو کہ وہ جس طرح چاہے اس مال کو کمائے اور جہاں چاہے صرف کردے بلکہ جس طرح قراٰن و احادیثِ مبارک میں بیان کیا گیا ہے کہ( اگر تم نے اس طرح مال کمایا تو یہ تمہارے لیے حلال ہوگا اور اگر اس طرح مال کمایا تو یہ تمہارے لیے حرام ہوگا اور جب مال کما لیا تو اس کو کس طرح خرچ کرنا ہے۔ کہاں خرچ کرنا ہے اور کہاں نہیں کرنا ؟) اس طرح کمانا ہوگا اور اسی طرح خرچ کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس کے بارے میں بروزِ قیامت  سوال کیا جائے گا کہ تم نے مال کہاں کمایا اور کہا خرچ کیا، کیا تم نے یہ مال حلال ذرائع سے کمایا تھا یا پھر حرام ذرائع سے۔ جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ ۔ (پ5، النسآء:29) اس لیے مال حلال طریقے سے ہی کمانا چاہیے نہ کہ حرام طریقے سے ، اور اگر کوئی ایسا شخص ہے جس نے ناجائز طریقے سے مال کمایا اور اس میں خو د بھی کھایا اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلایا ہو جو حرام غذا سے پلا بڑھا ہو تو اس کے جسم پر جنت حرام فرما دی جاتی ہے۔

جیسا کہ حدیثِ پاک میں آیا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے اُس جسم پر جنت حرام فرما دی ہے جو حرام غذا سے پلا بڑھا ہو۔ (کنز العمال، کتاب البیوع، قسم الاقوال، 2 / 8، الجزء الرابع، حدیث: 9257)

حرام کا لقمہ : تاجدارِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا: ’’اے سعد ! اپنی غذا پاک کر لو! مُستَجابُ الدَّعْوات ہو جاؤ گے، اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی جان ہے! بندہ حرام کا لقمہ اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کے 40دن کے عمل قبول نہیں ہوتے اور جس بندے کا گوشت حرام سے پلا بڑھا ہواس کے لئے آگ زیادہ بہترہے۔ (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، 5 / 34، حدیث: 6495)

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ناجائز طریقے سے مال کمانا یا کسی کا ناحق مال دبا لینا عام ہوتا جا رہا ہے۔ بندہ یہ سمجھتا ہی نہیں ہے کہ وہ حرام مال کما رہا ہے اور یہ بات یاد رہے کہ کسی کا بھی حق دبا کر اس کا مال کھا جانا حرام ہے کسی دوسرے کا حق دبانے کی کئی صورتیں ہیں اور ان پر بہت سخت وعید بھی آئی ہیں۔ان صورتوں میں سے چند صورتیں پیش خدمت ہے:

(1)امانت میں خیانت: یعنی جب کسی کے پاس امانت رکھوائی جائے اور جب واپس مانگی جائے تو وہ دینے سے انکار کردے۔ یا اس میں کمی کردے۔ حدیث پاک میں امانت میں خیانت کرنے والے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضا سے روایت ہے کہ الله رسول الله صلے سے ہم سے ارشاد فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو، روزے رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔ (صحيح مسلم، كتاب الايمان، باب بيان خصال المنافق، حديث: 59، ص50)

(2) مال غصب کرنا: یعنی جب کسی سے کوئی چیز مانگ کر لی پھر اس کو واپس نہ کرے یا پھر کسی کی جگہ پر قبضہ کر لے، ایسے شخص کے بارے میں حدیثِ پاک میں بہت مذمت بیان ہوئی ہے جیسا کہ حضرت سعید ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کہ جو بالشت بھر زمین ظلمًا لے لے تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (مسلم، بخاری)

(3) یتیم کا ناحق مال کھانا : یتیم کا مال ناحق کھانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی باقاعدہ کسی بری نیت سے کھائے تو ہی حرام ہے بلکہ کئی صورتیں ایسی ہیں کہ آدمی اس یتیم کا مال کھانے میں ملوث ہوتا ہے لیکن اسے معلوم نہیں ہوتا۔ انہی صورتوں میں سے ایک صورت پیشِ خدمت ہے۔

جیسے جب میت کے ورثاء میں کوئی یتیم ہے تو اس کے مال سے یا اس کے مال سمیت مشترک مال سے فاتحہ تیجہ وغیرہ کا کھانا حرام ہے کہ اس میں یتیم کا حق شامل ہے اور حدیث پاک میں بھی ایسے شخص ( جو یتیم کا مال ناحق طریقے سے کھاتا ہے) کے بارے میں بھی بہت شدید وعیدیں آئی ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے، نبی ِکریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: چار شخص ایسے ہیں جنہیں جنت میں داخل نہ کرنا اور اس کی نعمتیں نہ چکھانا اللہ پاک پر حق ہے: (1)شراب کا عادی۔ (2)سود کھانے والا۔ (3)ناحق یتیم کا مال کھانے والا۔ (4)والدین کا نافرمان۔( مستدرک حاکم، کتاب البیوع ، انّ اربی الربا عرض الرجل المسلم ، 2/338، حدیث:2307)

(4) مال چوری کرنا: چوری کر کے بھی بندہ دوسرے کا ناحق طریقے سے مال دباتا ہے۔ اس کی بھی حدیث پاک میں مذمت بیان کی گئی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ِکریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: زانی زنا نہیں کرتا اس حال میں کہ وہ مؤمن ہو، اور چور چوری نہیں کرتا اس حال میں کہ وہ مؤمن ہو۔( نزهۃ القاری،حدیث : 2840)

(5) قسم کے ذریعے کسی کا ناحق مال کھانا: اس کی بہت صورتیں بن سکتی ہے مثلاً، بائع (بیچنے والا) مشتری سے کہے: قسم سے تمہاری اتنی ہی رقم بنتی ہے کیونکہ یہ چیز مجھے اتنے کی ملی ہے حالانکہ اس کی قیمت کم بنتی ہے، یا پھر کسی نے اس کے پاس چیز رکھیں تو جب یہ اس سے مانگے تو یہ کہے کہ قسم سے مجھے تم نے اتنی ہی رقم دی تھی۔ ایسوں کے بارے میں حدیثِ پاک میں مذمت بیان کی گئی۔ جیسا کہ حضرت ابو امامہ باھلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس شخص نے مسلمان کا حق اپنی(جھوٹی) قسم کے ذریعے کھا لیا تو اللہ پاک اس پر جہنم واجب کر دیتا ہے اور جنت حرام کر دیتا ہے ایک شخص نے آپ سے پوچھا: یا رسولَ اللہ! اگرچہ وہ کوئی معمولی چیز ہو! فرمایا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: اگرچہ وہ پیلو کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب وعید من اقتطع حق مسلم بیمین، حدیث:137)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ خالق کائنات اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور رزقِ حلال کمانے ،کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ خاتم النبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


آیت مبارکہ کا ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ ۔ (پ5، النسآء:29)   غصب کے ذریعے مال حاصل کرنا بھی ناحق مال کھانے میں داخل ہیں اور حرام ہے۔

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: میں نے جہنّم میں ایک شخص کو دیکھا جو اپنی ٹیڑھی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کی چیزیں چُراتا ، جب لوگ اُسے چوری کرتا دیکھ لیتے تو کہتا : میں چور نہیں ہوں ، یہ سامان میری لاٹھی میں اٹک گیا تھا۔ وہ آگ میں اپنی ٹیڑھی لاٹھی پر ٹیک لگائے یہ کہہ رہا تھا : میں ٹیڑھی لاٹھی والا چور ہوں۔

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی (یعنی برص کا مریض) ہو کر ملے گا۔

فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں وہ قحط اور شدید تنگی اور بادشاہ کے ظلم میں گرفتار ہوتے ہیں۔

حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ان ارشادات پر غور کریں اور اپنے افعال سے توبہ کریں۔

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو خیانت کرنے والے کی پر وہ پوشی کرے وہ بھی اس ہی کی طرح ہے۔( ابو داؤد، کتاب الجہاد)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ بھی ناحق لے لیا قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔(صحیح بخاری)

حضرت عبد الله حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لے لی قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اتنا حصہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری اور مسلم)

امام احمد نے یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ الله صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے ناحق زمین لی قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لائے۔


فی زمانہ اسلامی تعلیمات پر بحیثیتِ مجموعی عمل کمزور ہونے کی وجہ سے اخلاقی و معاشرتی برائیاں اتنی عام ہوگئی ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کو بُرا سمجھنے کو بھی تیار نہیں، انہی میں سے ایک مالی حقوق کو دبانا بھی ہے ۔یہ ایسا بدترین گناہ ہے کہ قراٰنِ کریم میں ارشاد باری ہے : ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹)﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو اور اپنی جانیں قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر مہربان ہے۔ (پ5، النسآء:29) اس آیت میں باطل طریقے سے مراد وہ طریقہ ہے جس سے مال حاصل کرنا شریعت نے حرام قرار دیا ہے جیسے سود، چوری اور جوئے کے ذریعے مال حاصل کرنا، جھوٹی قسم، جھوٹی وکالت، خیانت اور غصب کے ذریعے مال حاصل کرنا اور گانے بجانے کی اجرت یہ سب باطل طریقے میں داخل اور حرام ہے۔ یونہی اپنا مال باطل طریقے سے کھانا یعنی گناہ و نافرمانی میں خرچ کرنا بھی اس میں داخل ہے۔(خازن،1/370، النساء، تحت الآیۃ: 29)

اسی طرح رشوت کا لین دین کرنا، ڈنڈی مار کر سودا بیچنا، ملاوٹ والا مال فروخت کرنا، قرض دبا لینا، ڈاکہ زنی، بھتہ خوری اور پرچیاں بھیج کر ہراساں کر کے مال وصول کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ ان میں سے چند کے متعلق وعیدیں درج ذیل ہیں:۔

(1) مزدور کی مزدوری دبانا: مزدوروں کی مزدوری نہ دینے والوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے حدیثِ قدسی میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : میں قیامت کے دن تین افراد کا مقابل ہوں گا(یعنی سخت سزا دوں گا) : (1) ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ دے پھر عہد شکنی کرے (2)وہ شخص جو کسی آزاد انسان کو بیچ دے اور پھر اس کی قیمت کھالے (3)وہ شخص جس نے کوئی مزدور اُجرت پر لیا اور پھر اس سے کام تو پورا لیا لیکن اس کی اُجرت اسے نہ دی۔ (بخاری، 2/52، حدیث:2227، مراۃ المناجیح،4/334)

(2) مالِ وراثت سے حق نہ دینا: کسی وارث کی میراث نہ دینے سے متعلق حدیث پاک میں ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اپنے وارث کو میراث دینے سے بھاگے ، اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا،ص194،مطبوعہ کراچی)

(3) قرض وقت پر واپس نہ کرنا: فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : مالدار کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (بخاری ، 2 / 109 ، حدیث : 2400)اس فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی شرح میں شارحِ بخاری مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : مالدار کو یہ جائز نہیں کہ میعاد پوری ہونے پر قرض کی ادائیگی میں حیلہ بہانہ کرے۔ ہاں اگر کوئی تنگ دست ہے تو وہ مجبور اور معذور ہے۔ (نزھۃ القاری ، 3 / 578)

(4) خیانت : ہمارے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز، رو زہ کا پابند ہی کیوں نہ ہو: (1)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (2)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (3)جب امانت اس کے سپر د کی جائے تو خیانت کرے ۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص176)

(5) ڈنڈی مار کر سودا بیچنا : حُضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غلّے کی ڈھیری کے پاس سے گزرے، آپ نے اُس میں ہاتھ ڈالا تو اُنگلیوں میں تَری محسوس ہوئی، ارشاد فرمایا: اے غلّے والے! یہ کیا ہے؟ اُس نے عرْض کی: یارسولَ اللہ!(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) اس پر بارش کا پانی پڑ گیا تھا۔ ارشاد فرمایا :تو نے بھیگے ہوئے کو اوپر کیوں نہیں کر دیا کہ لوگ دیکھتے، جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ ( مسلم، ص64، حدیث:284)

(6) رشوت کا لین دین کرنا : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے اُس جسم پر جنت حرام فرما دی ہے جو حرام غذا سے پلا بڑھا ہو۔ (کنز العمال، کتاب البیوع، قسم الاقوال، 2 / 8، الجزء الرابع، حدیث: 9257)

اللہ پاک ہمیں اسلام کی تعلیمات کو سمجھنے اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


مالی حقوق  کو دبانے کی بہت سی صورتیں ہو سکتی ہیں جیسے زمین پر قبضہ کرنا ،قرض دبانا، امانت میں خیانت کرنا ،ظلمًا مال لینا، چوری کرنا ڈاکہ ڈالنا وغیرہ وغیرہ ۔ مالی حقوق دبانے کی بہت مذمت احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ آئیے چند احادیث پڑھتے ہیں :۔

(1)زمین پر قبضہ کرنا : عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهٗ يُطَوَّقُهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ» مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ: روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کہ جو بالشت بھر زمین ظلمًا لے لے تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (مسلم، بخاری)

شرح حدیث :اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین کے سات طبقے اوپر نیچے ہیں صرف سات ملک نہیں پہلے تو اس غاصب کو زمین کے سات طبق کا طوق پہنایا جائے گا، پھر اسے زمین میں دھنسایا جائے گا لہذا جن احادیث میں ہے کہ اسے زمین میں دھنسایا جائے گا وہ احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں، یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں، اللہ پاک اس غاصب کی گردن اتنی لمبی کردے گا کہ اتنی بڑی ہنسلی اس میں آجائے گی۔ معلوم ہوا کہ زمین کا غصب دوسرے غصب سے سخت تر ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:4 حدیث:2938)

(2)ظلماً مال لینا : وَعَنْ أَبِي حُرَّةَالرَّقَاشِي عَنْ عَمِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «أَلا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ.وَالدَّارَقُطْنِيّ فِي الْمُجْتٰبى روایت ہے حضرت ابو حرہ رقاشی سے وہ اپنے چچا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسو لُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے: خبردار ظلم نہ کرنا خبردار کسی شخص کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے۔ (بیہقی شعب الایمان، دارقطنی فی مجتبیٰ)شرح حدیث: یہ حدیث بہت سے احکام کا ماخذ ہے۔ مالی جرمانے کسی کی چوری، کسی کا مال لوٹ لینا، کسی کا مال جبرًا نیلام کر دینا یہ سب حرام ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:4 حدیث:2946)

(3) پرایا مال لینے پر وعید : طبرانی نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ فرمایا نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے : جو شخص پرایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔ ( المعجم الکبیر ،1/233 ،حدیث: 637)

امانت میں خیانت : حدیث صحیح میں ہے کہ منافق کی علامت میں یہ ہے کہ جب اُس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔( صحیح البخاری،1/24 ،کتاب الإیمان،باب علامۃ المنافق،حدیث: 33)

جھوٹی گواہی دے کر مالِ مسلم ہلاک کرنا : طبرانی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے راوی کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے ایسی گواہی دی جس سے کسی مرد مسلم کا مال ہلاک ہو جائے یا کسی کا خون بہایا جائے اُس نے جہنم واجب کر لیا۔(المعجم الکبیر،11/172 ،حدیث: 11541) اللہ پاک ہمیں انسانوں کے مالی حقوق دبانے سے محفوظ فرمائے ۔ اٰمین


مال و دولت کی ہوس بہت بڑا فتنہ ہے جیساکہ نبئ مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ ترجمہ: ہر امت کا کوئی فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ (سنن ترمذی، حدیث:2336)

یعنی گزشتہ امتوں کو کسی نہ کسی چیز سے آزمایا جاتا رہا اور میری امت کو مال و دولت سے آزمایا جائے گا۔ آیا کہ وہ مال و دولت کی فراوانی کے باوجود دین کے معاملات میں کمی کوتاہی تو نہیں کرتے یا ثابت قدم رہتے ہیں۔انسان میں جب مال و دولت کی ہوس پیدا ہو جاتی ہے تو وہ انسان(انسان) نہیں رہتا بلکہ حیوان بن جاتا ہے وہ مال کی محبت میں دین سے دور ہوکر دوسروں کے مال پر ظلماً قبضہ کرتا ہے کبھی تو معاذ اللہ قتل و غارتگری تک پہنچ جاتا ہے احادیث میں ظلماً دوسروں کا مال دبانے کے متعلق بہت مذمت بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ

مسلمان پر مسلمان کا مال حرام ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ؛ مَالُهُ وَعِرْضُهُ وَدَمُهُ ترجمہ: مسلمان کی سب چیزیں (دوسرے) مسلمان پر حرام ہیں، اس کا مال، اس کی آبرو اور اس کا خُون ۔(ابوداؤد،کتاب الادب،باب فی الغیبۃ ،حدیث:4882)

اللہ پاک غضب ناک ہوگا:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُترجمہ: جس شخص نے کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم کھا کر ہضم کرلیا تو وہ اللہ پاک سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہوگا۔ (صحیح البخاری، کتاب التوحید، حدیث:7545)

اگرچہ وہ پیلو کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو: ابو امامہ باھلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ : " وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ " ترجمہ: جس شخص نے مسلمان کا حق اپنی(جھوٹی) قسم کے ذریعے کھا لیا تو اللہ پاک اس پر جہنم واجب کر دیتا ہے اور جنت حرام کر دیتا ہے ایک شخص نے آپ سے پوچھا: یا رسولَ اللہ! اگرچہ وہ کوئی معمولی چیز ہو! فرمایا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم: اگرچہ وہ پیلو کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان،باب وعید من اقتطع حق مسلم بیمین، حدیث:137)

ظلماً زمین پر قبضہ کرنا:حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبئ مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ترجمہ: جس نے ظلماً کسی کی زمین کا کچھ حصہ دبا لیا اُسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔(صحیح بخاری،کتاب المظالم،باب اثم من ظلم شیئا من الارض، حدیث: 2452)

امانت میں خیانت کرنا بھی مسلمان کے مال پر قبضہ کرنا ہے: نبئ مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خیانت کرنے والے کے متعلق ارشاد فرمایا: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانۃ لہٗ ترجمہ: جو امانت دار نہیں اُس کا دین(کامل) نہیں۔ (مشکوۃالمصابیح،جلد1، حدیث:35)

محترم قارئین! احادیث میں ظلماً مال دبانے کی مذمت جس شدت کے ساتھ بیان کی گئی آپ نے ملاحظہ فرمائی۔ کیا ان سب احادیث کے باوجود بھی ہم ایک دوسرے کا مال ہڑپ کریں گے کیا اب بھی ہم ایک دوسرے کے حقوق تلف کریں گے۔

خدارا! جن کے (مالی)حقوق تلف کیے ہیں ان سے معافی بھی مانگیے اور دنیا میں رہتے ہوئے ان کے حقوق بھی ادا کر دیجیے ورنہ اس کا حساب دینا بہت سخت ہوگا میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نقل کرتے ہیں: جو دُنیا میں کسی کے تقریباً تین(3)پیسےدَین(یعنی قرض) دَبالے گا، بروزِقیامت اس کے بدلے سات سو(700) باجماعت نمازیں دینی پڑجائیں گی۔ (فتاوٰی رضویہ، 25/69)

اللہ اکبر کبیراً! اللہ کریم اپنے کرم سے ہمیں مال و دولت کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔اٰمین


ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین اسلام ہمیں اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ ہمدردی کرنے اور اس کی عزت و مال کی حفاظت کرنے کا ذہن دیتا ہے۔اس بات کا اندازہ صرف سلام کرنے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک سلام میں ہم اپنے مسلمان بھائی کو کتنی دعاؤں سے نوازتے ہیں تو ہم اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ برائی کرنے اور اس کی عزت و مال لوٹنے کا کیسے سوچ سکتے ہیں۔ لیکن آج کل بھائی بھائی کا دشمن بنا ہوا ہے اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانیں میں بالکل پیچھے نہیں ہٹتے بلکہ موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں ۔

جہاں تک بات مالی حقوق کی ہے تو مالی حقوق کئی طریقوں سے دبائے جاتے ہیں کچھ کی نشاندہی کرتا ہوں۔

(1) زمین غصب کرنا: آج کل یہ بری خصلت ہمارے معاشرے میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے یہاں تک کہ بھائی اپنے بھائی کی زمین پر قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے۔ حضرت سالم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کہ جو زمین کا کچھ حصہ ناحق لے لے اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ (صحیح البخاری،جلد 1،حدیث: 2454) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض احا دیث میں یہ بھی آیا ہے کی اس کے گلے میں طوق ڈالی جائے گی حتی کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غاصب کو ایک ہی وقت میں یہ دونوں عذاب دیے جائیں۔ (مراۃ المناجیح،4/ 352)

(2)امانت میں خیانت: امانت میں خیانت کے ذریعے دوسرے کا مال دبا لینا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ (الحدیقہ الندیۃ، 1/ 652)حدیث مبارکہ میں خیانت کو منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تین باتیں ایسی ہیں کہ جس میں پائی جائیں وہ منافق ہوگا اگرچہ نماز، روزہ کا پابند ہی کیوں نہ ہو:(1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔(2) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔(3) جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح مسلم،حدیث: 107)

(3)چوری اور ڈاکہ: چوری اور ڈاکہ کے ذریعے بھی لوگوں کے مال کو لوٹا جاتا ہے۔ یہ دونوں کام بھی حرام ہیں قراٰن و احادیث میں ان کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لوٹ مار کرنے اور ناک کان کاٹنے سے منع فرمایا۔ (بخاری،حدیث:2474) مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ نہ تو کسی کا مال لوٹنا جائز ہے اور نہ کسی انسان کا ناک کاٹنا جائز نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کٹی ہوئی پتنگ یا اس کی ڈور لوٹنا حرام ہے۔ (مراۃ المناجیح، 4/ 343)

(4) کسی کا مال دوسرے کے لیے حلال نہیں: اگر کسی نے کسی کا مال بغیر اجازت لے لیا یا چوری کر لیا تو اس کے لیے وہ مال استعمال میں لانا جائز نہیں۔ جب تک وہ مال اس کے پاس رہے گا وہ گناہ گار ہوتا رہے گا۔آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: خبردار ظلم نہ کرنا اور کسی شخص کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے۔(مسند امام احمد،حدیث:20971)

کسی مسلمان کا مال دبانا گویا اس کو تکلیف دینا ہے اور ہمارے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی۔(المعجم الاوسط،حدیث:3607)

ذرا سوچئے کہ کونسا مسلمان اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اللہ اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایذا دے اور جہنم کے عذاب کا مستحق قرار پائے۔ اللہ پاک ہمیں مسلمانوں کو ایذا دینے سے محفوظ فرمائے اور اپنے مسلمان بھائی کی ہمیشہ مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین


ہمارا جو موضوع ہے مالی حقوق دبانے کی مذمت پر احادیث کی روشنی میں ۔ اسی ضمن میں پہلے ایک آیت اور چند احادیث مبارکہ پیش کی جائیں گی اس سے پہلے  ایک آیت مبارکہ پڑھئے : ﴿ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ ۔ (پ5، النسآء:29) اس آیت میں باطِل طور پر کسی کا مال کھانا حرام فرمایا گیا خواہ لُوٹ کر ہو یا چھین کر، چوری سے یا جوئے سے یا حرام تماشوں یا حرام کاموں یا حرام چیزوں کے بدلے یا رِشْوت یا جھوٹی گواہی سے ، یہ سب ممنوع وحَرام ہے ۔

حدیث (1) صحیح بخاری و صحیح مسلم میں سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لے لی قیامت کے دن ساتوں زمینوں سے اتنا حصہ طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔( صحیح بخاری کتاب بدء الخلق، حدیث : 3198)

حدیث (2) صحیح بخاری شریف میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ بھی ناحق لے لیا قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔(صحیح بخاری کتاب بدء الخلق ،حدیث : 3196)

حدیث (4،3) امام احمد نے یعلٰی بن مرّہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے ناحق زمین لی قیامت کے دن اسے یہ تکلیف دی جائے گی کہ اس کی مٹی اٹھا کر میدان حشر میں لائے۔ (بہارِ شریعت ، غصب کا بیان، 3/ 207)

دوسری روایت امام احمد نے انہیں سے یوں ہے کہ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جس نے ایک بالشت زمین ظلم کے طور پر لی،اللہ پاک اسے یہ تکلیف دے گا کہ اس حصہ زمین کو کھودتا ہوا سات زمین تک پہنچے پھر یہ سب اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا اور یہ طوق اس وقت تک اس کے گلے میں رہے گا کہ تمام لوگوں کے مابین فیصلہ ہو جائے۔(مسند احمد بن حنبل ،حدیث : 17569)

حدیث (5) بیہقی نے شعب الایمان اور دارقطنی نے مجتبیٰ میں ابوحرہ رقاشی سے روایت کی کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : خبردار تم لوگ ظلم نہ کرنا سن لو کسی کا مال بغیر اس کی خوشی کے حلال نہیں۔ (بہار شریعت، 3/ 208)

حدیث (6) امام احمد ترمذی ابو داؤد ابن ماجہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سعد ابن ربیع کی بیوی سعد سے اپنی دو بیٹیوں کو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں لائی اور عرض کی یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں ۔ ان کا باپ کے ساتھ احد میں شہید ہو گیا اور ان کے چچا نے کل مال لے لیا ہے ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور جب تک ان کے پاس مال نہ ہو ان کی شادی نہیں کی جاسکتی تو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اس بارے میں اللہ پاک فیصلہ فرما دے گا تو آیت میراث نازل ہوگئی اور رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان لڑکیوں کے چچا کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو ثلث دو تہائی دے دو اور لڑکیوں کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور باقی جو بچے وہ تمہارا ہے۔(جامع الترمذی کتاب الفرائض ،حدیث : 2099)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو اس قسم کی بری عادت سے محفوظ فرمائے ۔ اٰمین


آج کل ہر کوئی دنیاوی طور پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہ رہا ہے۔ اس زمانے میں اکثر لوگوں نے آگے بڑھنے کے لئے پہلے نمبر پر جس چیز کو معیار بنایا ہے وہ ہے مال۔ اس دنیاوی مال و متاع کی بڑھتی ہوئی ہَوَس نے بہت سے لوگوں میں اچھے بُرے کی تمیز کو ختم کردیا ہے۔ اِلّا ماشاءاللہ، جہاں نظر دوڑائیں ہر آدمی اپنا پیٹ بھرنے میں لگا ہوا ہے، چاہے اس کے لئے کسی دوسرے انسان کا پیٹ ہی کیوں نہ کاٹنا پڑے یا کسی کی بچی کھچی ایک پائی ہی کیوں نہ ہو اسے ہڑپ کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔کبھی اپنے ہی بھائی، بہن کا میراث میں حصہ روک لیا جاتا ہے تو کبھی دوستیاں اس وجہ سے ختم ہو رہی ہیں کہ فلاں نے میرا قرض ابھی تک نہیں دیا۔ تو کہیں غریب کی محنت کی کمائی سے خریدی ہوئی زمین کو کوئی غصب کر لیتا ہے۔ تو کہیں راتوں رات امیر بننے کے شوق میں چوروں اور لٹیروں میں اضافہ ہورہا ہے۔ العیاذ باللہ (اللہ کی پناہ)

آئیے ہم جانتے ہیں کہ مالی حقوق میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں تاکہ ہم کسی کا مالی حق دبانے سے بچیں اور اگر خدا نخواستہ کسی کامالی حق دبالیا ہے تو فورا ً توبہ وتلافی سے معاملہ کو حل کریں۔

چوری کرنا، ڈاکہ مارنا،غصب کرنا،حقدار سے میراث روک لینا،کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ کرلینا،قرض واپسی نہ کرنا، امانت میں خیانت کرنا، کام پورا لینے کے باوجود مزدور کو طے شدہ اجرت سے کم دینا،گاہک کے چیز نہ خریدنے پر ایڈوانس دبالینا، گری ہوئی چیز کو بلااجازت شرعی خود رکھ لینا اورحقدار تک نہ پہنچانا، تاخیر کی وجہ سے پورے دن کی سیلری کاٹ لینا،ناپ تول میں کمی کرنا، ملاوٹ والا مال بیچنا اور مہر ادا نہ کرنا وغیرہ سب مالی حقوق دبا لینے کی صورتیں ہیں۔

اسلام مالی حقوق دبانے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔اور کئی احادیث ِمبارکہ مالی حقوق دبالینے کی مذمت میں وارد ہوئی ہیں۔ آئیے اس ضمن میں 5 فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آپ بھی پڑھئے:

(1) میراث میں حصہ نہ دینا: جو اپنے وارث کو اس کی میراث سے محروم کرے تو اللہ پاک اس کو قیامت کے دن جنت کی میراث سے محروم کردے گا۔(ابن ماجہ، 3/304، حدیث:2703)

(2) زمین پرناجائز قبضہ کرنا:جو بالشت بھر زمین ظلمًا لے لے تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ (بخاری،2/377،حدیث: 3198)

(3)قرض ادا نہ کرنا: اُس کی قَسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی شخص الله کی راہ میں مارا جائے پھر زندہ ہو، پھر الله کی راہ میں مارا جائے پھر زندہ ہو،پھر الله کی راہ میں مارا جائے پھر زندہ ہو حالانکہ اس پر قرض ہو تو جنت میں نہیں جاسکتا حتی کہ اس کا قرض ادا کردیا جائے۔(مسند احمد،37/163، حدیث: 22493)

(4)بغیر اجازت کسی کا مال لینا حلال نہیں: کسی مسلمان کا مال دوسرے کو حلال نہیں مگر اس کی خوش دلی سے۔

(سنن الكبرىٰ للبیہقی،6/166،حدیث: 11545)

(5)چوری کی سزا: اگر چور چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو اگر پھر چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو ۔ (دار قطنی، 3/214، حدیث: 3359)

محترم قارئین!دیکھا آپ نے نا حق مال لینے والوں کے لئے کیسی کیسی وعیدات ہیں۔ اللہ ہم سب کو دنیوی مال کی حرص سے بچا کر نیکیوں کا حریص بنائے۔اٰمین

مالی حقوق دبانے والے کی توبہ: یاد رہے کے کسی کا مال ناحق دبالینا حقوق العباد کا معاملہ ہے۔یہ صرف توبہ سے معاف نہیں ہوگا۔ بلکہ جس کا حق دبایا ہے اسے وہ مال واپس لوٹانا بھی ضروری ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں:حقوق العباد معاف ہونے کی دوصورتیں ہیں :(1) جوقابلِ اداہے اداکرنا ورنہ ان سے معافی چاہنا (2)دوسرا طریقہ یہ ہے کہ صاحبِ حق بلامعاوضہ معاف کردے۔ (دیکھئے:فتاوی رضویہ،24/373، 374)

اللہ ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد بھی ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم