9 صفر المظفر, 1442 ہجری

: : :
(PST)

جنتی کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

حدیث پاک میں ہے:

اگر جنت کی اتنی سی جگہ ہو جس میں ایک کوڑا (درہ) رکھاجاسکے تو و ہ دنیا اوراس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے۔(بخاری)

اگر جنت کی ناخن برابر کوئی چیز دنیا میں ظاہر ہوجائے تو زمین و آسمان اس سے آراستہ ہوجائیں اگر جنتی کا کنگن ظاہر ہوجائے تو آفتا ب کی روشنی مٹ جائے جیسے سورج ستاروں کی روشنی مٹا دیتا ہے جنت میں چار دریا ہیں ایک پانی کا دوسرا دودھ کا تیسرا شہد کا اورچوتھا شراب کاپھر ان سے نہریں نکل کر ایک ایک مکان میں جارہی ہیں ان نہروں کا ایک کنارہ موتی کا دوسرا کنارہ یاقوت کا اور زمین خالص مشک کی ہے۔

وہاں کی شراب دنیا کی سی نہیں جس میں بدبو کڑواہٹ ہو اور ہوش بہکادے بلکہ وہ پاک شراب ہے اور ان سب باتوں سے پاک و منزہ ہے۔

جنت میں ہر قسم کے لذیذ سے لذیز کھانے ملیں گے جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے حاضر ہوجائے گا۔(بہار شریعت)

جنت میں ہر قسم کی آرائش میسر ہوگی ،ہر شخص کے سرہانے کم از کم دس ہزار خادم کھڑے ہوں گے اور ان کے ایک ہاتھ میں سونے اور دوسرے ہاتھ میں چاندی کے پیالے ہوں گے جن میں نئے نئے رنگ کی نعمت ہوگی، ان کی جوانی فنا نہ ہوگی، جنت میں نیند نہیں ہے،ایک حدیث مبارکہ ہے: جنت میں نیند نہیں ( کیونکہ) نیند ایک قسم کی موت ہے،( معجم الاوسط)

جنتی جب جنت میں جائیں گے تو اعمال کے مطابق ان کو مرتبہ عطا فرمایا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل کی حد نہیں ہوگی ، انہیں دنیا کے ایک ہفتے کی مدت کے بعد پرودگار عالم کی زیارت عطا فرمائی جائے گی عرش الہی ظاہر ہوگا اور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں اللہ رب العزت تجلی فرمائے گا، زیارت کے بعد اپنے اپنے مکانوں میں جائیں گے، ا ن کی بیویاں استقبال کریں گی۔

جنتی باہم ملنا چاہیں گے تو ان کے تخت ایک دوسرے کے پا س چلے جائیں گے۔(الحدیث)

جنت میں ایک حوض ہے جسے حوضِ کوثر کہتے ہیں اس حوض کے گردہی نہریں بہتی ہیں، اس کے علاوہ جنت میں پانچ چشمے بھی ہیں۔

جنت کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

اے عاشقانِ رسول اللہ پاک نے مومنین اپنے فرمانبردار بندوں کے لیے آخرت میں جنت تیار کی ہے جو مؤمن زندگی بھر نیک اعمال کرتا رہے تو اس کے لیے جنت کی بشارت ہے چنانچہ پارہ ۵، سورہ النسا آیت نمبر ۱۲۴ میں ارشاد ہوتا ہے:

تَرجَمۂ کنز الایمان: ۔ جو کوئی مرد و عورت اچھے عمل کرے اور وہ مسلمان بھی ہو تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

جنت کیسی ہے؟ جنتیوں کو جنت میں کیا کیا نعمتیں ملیں گی ؟:

حدیث مبارک میں ہے جنت میں ۱۰۰ درجے ہیں ہر دو درجوں میں آسمان و زمین جتنا فاصلہ ہے اور فردوس سب سے بلند درج ہے اس سے جنت کا دریا بہہ رہے ہیں اوراس کے اوپر عرش ہے سو جب تم اللہ پاک سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔(جامع ترمذی کتاب صفۃ الجنۃ حدیث: ۲۵۳۹)

شاد ہے فردوس یعنی ایک دن

قسمت خدام ہو ہی جائے گا

قرآن کریم میں جنتی نعمتوں کی کیسی منظر کشی کی گئی ہے کہ اہل جنت باغات میں آمنے سامنے تکیہ لگائے چین سے بیٹھے ہوں گے ا نکی خدمت پر مامور غلام چھلکتے جام لبالب کوزے ناز اٹھائے ان کے دائیں بائیں حکم کے منتظر ہوں گے سامنے بہتی پاکیزہ شرابیں من پسند غذائیں اور عمدہ میوؤں سے ان کی تواضع ہوگی۔

اگر جنت کا کوئی ناخن بھر چیز دنیا میں ظاہر ہو تو تمام آسمان و زمین اس سے آراستہ و پیراستہ ہوجائے گا۔

اگر جنتی کا کوئی کنگن ظاہر ہو تو سورج کی روشنی مٹا دے ، جیسے آفتاب ستاروں کی روشنی کو مٹا دیتا ہےْ

جنت میں قسم قسم کے جواہر کے محل ہیں ایسے صاف و شفاف کہ اندر کا حصہ باہر سے باہر کا اندر سے دکھائی دے۔ (بحوالہ (اسلامی بہنوں کے اجتماع میں ہونے والا بیان ۲۰۱۸)

جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں اور مشک کے گارے سے بنی ہیں، ایک اینٹ سونے کی ایک چاندی کی زمین زعفران کی کنکریو ں کی جگہ موتی اور یاقوت (سنن الدارمی کتاب الرقائق جلد ۲، ص ۴۲۹)

ایک روایت میں ہے کہ جنت عدن کی ایک اینٹ سفید موتی کی ہے ایک یاقوت سرخ کی ایک زبر جد سبز کی مشک کا گارا ہے گھاس کی جگہ زعفران ہے، کنکریاں موتی کی اور عنبر کی مٹی ہے۔(بہار شریعت جلد ۱ ص۱۵۴)

جنت کی نہریں زمین کھو د کر نہیں بلکہ زمین کے اوپر روا ں ہیں، نہروں کا ایک کنارہ موتی کا دوسرا یاقوت کا، اور ان نہروں کی زمین خالص مشک کی ہے۔(بہار شریعت جلد ۱، ص ۱۵۵)

جنت میں ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے جو چاہیں گے فورا ًان کے سامنے موجود ہوگا اگر کسی پرندے کو دیکھ کر اس کا گوشت کھانے کو جی ہو تو اسی وقت بھنا ہوا ان کے پاس آجائے گا، اگر پانی کی خواہش ہوگی تو کوزے خود ہاتھ میں آجائیں گے، ان میں ٹھیک اندازے کے موافق پانی، دودھ، شراب، شہد ہوگا ان کی خواہش سے نہ تو ایک قطرہ کم ہوگا نہ زیادہ بعد پینے کے وہ کوزے خود بخود جہاں سے آئے تھے چلے جائیں گے۔جنت میں نیند نہیں کیونکہ نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں، جنت کی نعمتیں اتنی ہیں کہ قلم لکھنے سے قاصر ہے

جنت کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

اہل ایمان کے ثواب اور انعامات کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک مکان بنایا ہے جس میں تمام قسم کی جسمانی و روحانی لذتوں کے وہ سامان مہیا فرمائے ہیں جو شاہانِ ہفت اقلیم، ساری کائنات کے فرمانرواؤں اورحکمرانوں کے خیال میں نہیں آسکتے، اسی کا نام جنت و بہشت ہے۔

٭جنت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایماندار بندوں کے لئے انواع و اقسام کی ایسی نعمتیں جمع فرمائی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا ، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا تو ان کا وصف پوری طرح بیان میں نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ عطا فرمائے تو وہیں ان کی قدر معلوم ہوگی۔ جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جائے سمجھانے کے لیے ہے ورنہ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے کو جنت کی کسی چیز کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں۔

٭جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کی وسعت اتنی ہے کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہو تو سب کے لیے وسیع ہو، اور جگہ باقی رہے۔

٭جنت میں قسم قسم کے جواہر کے محل ہیں، ایسے صاف و شفاف کہ اندر کا حصہ باہر سے دکھائی دے، جنت کی دیواریں سونے چاندی کی اینٹوں اور مشک کے گارے سے بنی ہوئی ہیں، زمین زعفران کی اور کنکریوں کی جگہ موتی اور یاقوت ہیں۔

٭جنت میں چار دریاہیں: ایک پانی کا، دوسرا دودھ کا، تیسرا شہد کا اور چوتھا پاکیزہ شراب کا، پھران میں سے نہریں نکل کر ہر ایک جنتی کے مکان میں جاری ہیں۔

٭جنت میں جنتیوں کو ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے اور جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے ہوجائے گا۔

٭جنت میں نجاست، گندگی، پاخانہ، پیشاب، تھوک وغیرہ حتّٰی کہ کان کا میل، بدن کا میل اصلاً نہ ہوں گے۔ ایک خوشبودار فرحت بخش پسینہ نکلے گا اور ایک خوشبو دار فرحت بخش ڈکار آئے گی اور سب کھانا ہضم ہوجائے گا۔ ہر وقت زبان سے تسبیح و تکبیر بالقصد اور بلا قصد مثل سانس کے جاری ہوگی۔ باہم ملنا چاہیں گے تو ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلا جائے گا۔

٭جنت میں کم ازکم ہر شخص کے سرہانے میں دس ہزار خادم کھڑے ہوں گے، جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے اور نہ ان کی جوانی فنا ہوگی اور اگر مسلمان اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل اور وضع اور پوری عمر یعنی تیس سال کی خواہش کرتے ہی ایک ساعت میں ہوجائے گی۔ جنت میں نیند نہیں کہ نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں۔

٭جنتی جب جنت میں جائیں گے ہر ایک اپنے اعمال کی مقدار سے مرتبہ پائے گا اور اس کے فضل کی حد نہیں، پھر انہیں دنیا کے ایک ہفتہ کی مقدار کے بعد اجازت دی جائے گی کہ اپنے پروردگار عزوجل کی زیارت کریں۔ عرشِ الٰہی ظاہر ہوگااور رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا اور خدا تعالیٰ کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو ہر ایک اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہے کہ ایک کا دیکھنا دوسرے کے لیے مانع نہیں۔ ان میں اللہ عزوجل کے نزدیک سب میں معزز وہ ہے جو اللہ عالیٰ کے وجہِ کریم کے دیدار سے ہر صبح و شام مشرف ہوگا۔

٭اللہ عزوجل کلام بھی کرتا ہے مگر اس کاکلام آواز سے پاک ہے، جس طرح اس کا کلام کرنا زبان سے نہیں، یوں ہی اس کا دیکھنا، سننا، آنکھ اور کان سے نہیں، مثل دیگرصفات کے کلام بھی قدیم ہے تمام آسمانی کتابیں صحیفے اور قران کریم سب اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

جنت کسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

درود شریف کی فضیلت:

شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادر ی رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے کالے بچھو کے صفحہ ۱ پر نقل کرتے ہیں۔

سرکار مدینہ راحت قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ عیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اے لوگو بے شک بروز قیامت اس کی دہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخض وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت درود شریف پڑھے ہوں گے۔

اہلِ ایمان کے ثواب اور انعامات کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مکان بنایا ہے جس میں تمام قسم کی جسمانی روحانی لزتوں کے وہ سامان مہیا فرمائے ہیں جو شایان ہفت اقلیم، ساری کائنات کے فرمانراؤں اور حکمرانوں کے خیال میں نہیں آسکتے اسی کا نام جنت و بہشت ہے۔

جنت میں نجاست ، گندگی ، پاخانہ پیشاب، تھوک وغیرہ حتی کہ کان کا میل ، بدن کا میل اصلا نہ ہوں گے، ایک خوشبودار فرحت بخش پسینہ نکلے گا اور ایک خوشبودار اور فرحت بخش ڈکار آئے گی اور سب کھانا ہضم ہوجائے گا، ہر وقت زبان سے تسبیح و تکبیر بالقصد اور بلا قصدمثل سانس کے جاری ہوگی باہم ملنا چاہیں گے ایک کا تخت دوسرے کے پاس چلا جائے گا۔

جنت میں کم از کم ہر شخض کے سرہانے میں ہزار خادم کھڑے ہو نگے، جنتیوں کے نہ لباس پرانے پڑیں گے اور نہ ان کی جوانی فنا ہوگی اور اگر مسلمان اولاد کی خواہش کرے گا تو اس کا حمل وضع اورعمریعنی تیس سال کی خواہش کرتے ہی ایک ساعت میں ہوجائے گی، جنت میں نیند نہیں کہ نیند ایک قسم کی موت ہے اور جنت میں موت نہیں۔

جنت میں چار دریا ہیں ایک پانی کا دوسرا شہد کا تیسرا دودھ کا ، اور چوتھا پاکیز ہ شراب کا پھر ان میں سے نہریں نکل کر ہر ایک جنتی کے مکان میں جارہی ہیں، جنت میں جنتیوں کو ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے اور جو چاہیں گے فورا ًان کے سامنے آجائے گا۔

جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کی وسعت اتنی ہے کہ اگر تمام عالم ایک درجہ میں جمع ہو تو سب کے لیے وسیع ہو،اور جگہ باقی رہے، جنت میں قسم قسم کے جواہر کے محل ہیں، ایسے صاف و شفاف کہ اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا اندر سے دکھائی دے، جنت کی دیواریں سونے چاندی کی اینٹوں اور مشک کے گارے سے بنی ہیں، زمین زعفران کی اور کنکریوں کی جگہ موتی اور یاقوت ہیں۔

جنت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایمان دار بندوں کے لیےانواع واقسام کی ایسی نعمتیں جمع فرمائی ہیں جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا تو ان کا وصف پوری طرح بیان میں نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ عطا فرمائے تو وہیں ان کی قدر معلوم ہوگی۔

جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جائے سمجھانے کے لیے ہے،ورنہ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے کو جنت کی کسی چیز کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں، عرش الہی ظاہر ہوگااور رب عزوجل جنت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلی فرمائے گا اور خدا تعالیٰ کا دیدار ایسا صاف ہوگا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کو ہر ایک اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہے۔

جنت  کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا۔(البقرہ ،25)

حدیث :

حضرت ابو سعید الخدری سے مروی ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بلاشبہ جنتی اپنے اوپر بلند و بالا خانوں میں رہنے والوں کو ایسے دیکھیں گے جیسے تم دور مشرق یا مغرب کے افق میں بہت نیچے کسی چمکدار ستارے کو دیکھتے ہو یہ ان کے درمیان بلند یوں کی وجہ سے ہوگا۔ (مکاشفۃ القلوب ص ۵۱۱)

جنت میں موتیوں کے محلات ہوں گے یہ محل میں سرخ یاقوت کے ستر گھر ہوں گے یہ ہر گھر میں سبز زمزد کے ستر مکا ن ہوں گے ہر مکان میں ایک تخت ہوگا، تخت پر قسم قسم کے ستر بچھونے ہوں گے ہر دستر خوان پر ستر قسم کی کھانے ہوں گے ہر مکان میں ستر خادم ہوں گے اور مؤمن صبح ان تمام دستر خوانوں پر بیٹھ کر کھائیں گے۔(مکاشفۃ القلوب صفحہ ۵۱۲)

جنتی جنت میں ہمیشہ تندرست رہیں گے کبھی بیمار نہیں ہوں گے ، ہمیشہ زندہ رہیں گے کبھی موت نہیں ائے گی ہمیشہ جوان رہیں گے کبھی بڑھاپا نہیں آئے گا اور انعام و اکرام میں رہیں گے،(مکاشفة القلوب ۵۰۹)

اللہ تبارک و تعالیٰ کے دیدار سے پہلے لوگ علمائے کرام سے کہیں گے کہ اللہ نے ہمیں سب کچھ دےدیا ہے اور اب ہم کیا مانگیں؟ تو علما ئے کرام فرمائیں گےیہ مانگووہ مانگو، یعنی یہ کہ اللہ کا دیدار مانگو پھر اللہ جنتیوں کو اپنا دیدار کرائے گا سبحان اللہ وہاں سب سے بڑی نعمت اللہ پاک کا دیدار ہوگا ، واہ کیا بات ہے جنت کی کہ اللہ پاک ہمیں جنت نصیب فرمائے آئیے جنت کے بارے میں اور معلومات حاصل کرتے ہیں کہ نیز جنت کے اندر مزے مزے کے پھل ضرورت اور پسند یدہ لذیز کھانے ملیں گے سب سے پہلے جنتیوں کو جو کھانا ملے گا وہ مچھلی کی کلیجی کا کنارہ ہوگا ۔جنت میں جنتی لوگ جو جنت میں جائیں گے وہ لوگ ہمیشہ خوش رہیں گے ان کو کبھی موت نہیں آئے گی نیز کہ وہ جنت سے کبھی نہیں نکلیں گے جنت ہی میں رہیں گے، جنت میں کم از کم ہر شخص کے سرہانے دس ہزار خادم کھڑے ہوں گے جنتیوں کے نہ لباس پرانے ہوں گے اور نہ ان کی جوانی فنا ہوگی جنت میں نیند نہیں آئے گی سبحان اللہ اللہ سے دعا ہے ہم سب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے آمین(قانون شریعت حصہ ۶۳ ، سنی بہشتی زیور ص ۶۲)

جنت کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

اللہ پاک نے تخلیق آدم فرماکرانہیں اوران کی ذرّیت کو دنیامیں جووقت گزارنے کے لیے دیااسےدنیاوی زندگی کہتےہیں۔جس آدمی نے اپنی زندگی اللہ پاک کی رضاکے مطابق گزاری ہوگی اوربروزمحشراس سے خالق کائنات خوش ہوگاتواسےانعام کے طورپرایسی عظیم الشان جگہ عطافرمائےگاجس کی زندگی اورنعمتیں اپنی مثال آپ ہیں۔ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ،جنت میں ایسی چیزیں ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھاہےاورنہ کسی کان نے سناہےاورنہ ہی کسی بشرکے دل پراس کاگمان گزراہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ؛کتاب الجنۃ؛ماذکرفی الجنۃ ومافیھا ممااعدلاھلھا؛ج7؛ص30؛الحدیث33973)

جنت کی خوشبو:جنت کی خوشبوکے بارے میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:"ان ریح الجنۃ لیوجد من مسیرۃ مائۃ عام"بیشک جنت کی خوشبو سوسال کی مسافت سے پائی جائےگی جبکہ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں "من مسیرۃ خمس مائۃ عام"ہے(یعنی جنت کی خوشبو) پانچ سوسال کی مسافت سے پائی جائے گی۔(صفۃ الجنۃ:ج2؛ص41؛دارالمامون للتراث،دمشق)

یہ سب فرمانے کے باوجود ہماری تَشْوِیْق(شوق دلانے) کے لیے ان نعمتوں کے بارے میں مزید بھی بہت کچھ بتایا گیاہےتاکہ بندہ مؤمن انہیں پانے کے لیے بھرپورسعی اورکوشش کرے۔

جنت کا طلبگار: جنت کی طلب پرابھارنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:"مارایت مثل الجنۃ نام طالبھا"میں نے جنت جیسی کوئی چیزنہیں دیکھی کہ جس کاطالب سورہاہو۔(صفۃ الجنۃ:ج1؛ص55؛دارالمامون للتراث،دمشق)

جنت کامعنی: علامہ راغب رحمۃ اللہ علیہ جنت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" أصل الجِنِّ: ستر الشيء عن الحاسة،والجَنَّةُ: كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض"جن، کا اصل میں معنی ہے : کسی چیز کو حواس سے چھپا لینا ۔اورجنت اس باغ کو کہتے ہیں جس میں بہت زیادہ گھنے درخت ہوں اور درختوں کے گھنے پن اور زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین چھپ گئی ہو۔( المفردات فی غریب القرآن؛ج1؛ص204؛ دار القلم، الدار الشامية - دمشق بيروت)

جنت میں کیا ہے؟ جنت میں ہر قسم کی راحت و شادمانی و فرحت کا سامان موجو د ہے۔ سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے لمبے چوڑے اور اُونچے اُونچے محل بنے ہوئے ہیں اور جگہ جگہ ریشمی کپڑوں کے خوبصورت و نفیس خیمے لگے ہوئے ہیں۔ ہر طرف طرح طرح کے لذیذ اور دل پسند میوؤں کے گھنے، شاداب اور سایہ دار درختوں کے باغات ہیں۔ اور ان باغوں میں شیریں پانی، نفیس دودھ، عمدہ شہد اور شرابِ طہور کی نہریں جاری ہیں۔ قسم قسم کے بہترین کھانے اور طرح طرح کے پھل فروٹ صاف ستھرے اور چمکدار برتنوں میں تیار رکھے ہیں ۔ اعلیٰ درجے کے ریشمی لباس اور ستاروں سے بڑھ کر چمکتے اور جگمگاتے ہوئے سونے چاندی اور موتی و جواہرات کے زیورات ، اونچے اونچے جڑاؤ تخت ، اُن پر غالیچے اورچاندنیاں بچھی ہوئی اور مسندیں لگی ہوئی ہیں۔ عیش ونشاط کے لئے دنیاکی عورتیں اورجنت کی حوریں ہیں جوبے انتہاحسین وخوبصورت ہیں۔ خدمت کے لئے خوبصورت لڑکے چاروں طر ف دست بستہ ہر وقت حاضر ہیں۔

الغرض جنت میں ہر قسم کی بے شمار راحتیں اور نعمتیں تیار ہیں۔ اور جنت کی ہر نعمت اتنی بے نظیر اور اس قدر بے مثال ہے کہ نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا ،نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا۔ جنّتی لوگ بِلا روک ٹوک اُن تمام نعمتوں اور لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور ان تمام نعمتوں سے بڑھ کر جنت میں سب سے بڑی یہ نعمت ملے گی کہ جنت میں جنتیوں کوخداوندقدوس عزوجل کادیدارنصیب ہوگا۔جنت میں نہ نیندآئے گی نہ کوئی مرض ہوگانہ بڑھاپاآئے گانہ موت ہوگی۔جنتی ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور ہمیشہ تندرست اور جوان ہی رہیں گے۔

اہلِ جنت خوب کھائیں پئیں گے مگرنہ ان کوپیشاب پاخانہ کی حاجت ہوگی نہ وہ تھوکیں گے نہ ان کی ناک بہے گی۔ بس ایک ڈکار آئے گی اور مُشک سے زیادہ خوشبو دار پسینہ بہے گا اور کھانا پینا ہضم ہوجائے گا۔ جنتی ہر قسم کی فکروں سے آزاد اور رنج و غم کی زحمتوں سے محفوظ رہیں گے۔ ہمیشہ ہر دم اور ہر قدم پر شادمانی اور مسرت کی فضاؤں میں شادو آباد رہیں گے اور قسم قسم کی نعمتوں اور طرح طرح کی لذتوں سے لطف اندوزو محظوظ ہوتے رہیں گے۔

رضابھی منتظرہے خلدمیں نیکوں کی دعوت کا

خدادن خیرسے لائےسخی کے گھرضیافت کا

جنت کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ تبارک و تعالیٰ پارہ11 سورہ توبہ آیت نمبر111 میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنزالایمان:بے شک اللہ نے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خرید لیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کیلئے جنت ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ کنزالایمان:جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا۔

(پ4، آل عمرٰن:185)

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:”وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَ“ ترجمہ کنزالایمان: اور تمہارے لیے ہے اس میں جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لیے اس میں جو مانگو۔

(پ24، حٰمٓ السجدہ:31)

آیہ کریمہ کے اس جزء ”وَلَكُمْ فِیْهَا مَاتَدَّعُوْن“ کے تحت تفسیر ابن کثیر، ج7، ص162 پر ہے:ای مھما طلبتم وجدتم وحضر بين ایدکم کما اخترتم یعنی جب تم طلب کرو گے تم پاؤ گے اور جیسے ہی تم خواہش کرو گے تمہارے سامنے ہوگا۔

اے عاشقانِ رسول! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ جنت کو اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے مالوں اور جانوں کے بدلے خرید لیا ہے، جنت میں داخل ہونا کامیابی ہے، جنت میں ہر وہ چیز جس کی صرف ہم خواہش کریں گے وہ ہمارے سامنے ہوگی، اب سوال یہ ہے کہ وہ جنت جس کی اتنی فضیلتیں ہیں وہ کسی ہے؟ یعنی وہ کس چیز کی بنی ہوئی ہے؟ اس کی دیواریں کیسی ہیں؟ کتنی بڑی ہے اور کن کے لیے ہے؟

ان سب سوالوں کا جواب ایک حدیثِ قدسی میں اس طرح دیا گیا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیز ( یعنی جنت) تیار کی ہے جس کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسا ن کے دل پر اس کا خطرہ گزرا۔

(صحیح مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا، حدیث2824، ص1516، دار ابن حزم بیروت)

صدر الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جنت ایک مکان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بنایا ہے، اس میں وہ نعمتیں مہیا کی گئی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا ، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا۔ اور جوکوئی اس کی تعریف میں مثال میں دی جائے سمجھانے کے لیے ہے ۔

(بہار شریعت، جلد اول، حصہ اول، ص152، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

آئیے پیارے اسلامی بھائیو! قرآن و حدیث میں جو جنت کو سمجھانے کے لیے احوال بیان کیے گئے ہیں ان میں سے چند ملاحظہ کرتے ہیں۔

جنت کی وسعت:

اللہ تعالیٰ جنت کی وسعت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ:(وہ جنت ایسی ہے) جس کی چوڑان میں سب آسمان زمین آجائیں۔

(پ4، آ ل عمرٰن،185)

ایک حدیث پاک میں ہے: جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔

(سنن الترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنۃ، حدیث:2539، ج4، ص238مطبوعہ دارالفکر بیروت 1414ھ)

جنت کے احوال:

ترجمہ کنزالایمان:احوال اس جنت کا جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے ہے اس میں ایسی پانی کی نہریں ہیں جو کبھی نہ بگڑے اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے اور ایسی شہد کی نہریں ہیں جو صاف کیا گیا اور ان کے لیے اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور اپنے رب کی مغفرت۔

(پ26، محمد15)

جنت کے محل:

جنت میں ایسے محلات ہیں کہ جن کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آتا ہے۔

(الترغیب والترہیب، کتاب صفۃ الجنۃ و النار، فصل فی درجات الجنۃ وغرفھا، حدیث نمبر27، ج4، ص281، مفھوماً، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1418ھ)

ایک اور حدیث پاک میں ہے:جنت میں مؤمن کے لئے ایک کھوکھلے موتی کا خیمہ ہوگا جس کی بلندی ساٹھ میل ہے۔

(صحیح مسلم، کتاب صفۃ الجنۃ ونعیمھا واھلھا، باب فی صفۃ خیام الجنۃ، حدیث 2838، ص1522)

جنت کی دیواریں، اینٹیں، مٹی اور گارا:

ایک حدیث پاک میں ہے:جنت کی دیواریں سونے اور چاندى کى اینٹوں کی ہیں اور ان کا گارا ”مشک“ ہے۔

(مجمع الزوائد، کتاب اہل الجنۃ، باب فی بناء الجنۃ وصفتھا، حدیث 18642، ج10، ص732، مطبوعہ دارالفکر بیروت1420ھ)

ایک اور حدیث پاک میں ہے:جنت کی ایک اینٹ سونے کی، ایک چاندی کی ہے، اس کا گارا تیز مشک کا ہے اور اس کے کنکر یاقوت اور موتی ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے۔

(سنن الدارمی،کتاب الرقائق، باب فی بناء الجنۃ، حدیث2821، ج2، ص429، مطبوعہ دارالکتب العربی بیروت1419ھ)

میرے پیارے اسلامی بھائیو! جنت کیسی ہے؟ اس کے چند احوال آپ نے ملاحظہ فرمائے۔ اس کی مزید تفصیل جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب بہار شریعت، جلد اول، حصہ اول کے صفحہ 152تا162تک کا مطالعہ فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں جنت میں لے جانے والے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری بلا حساب مغفرت فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

جنت میں لے جانے والے اعمال کی معلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ”جنت میں لے جانے والے اعمال“ کا مطالعہ فرمائیں۔

جنت کیسی ہے ؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

انسان کو اللہ جل جلالہ نے اپنی عبادت کے لیے دنیا میں بھیجا کہ میرا بندہ دنیا میں کیسے عمل کرتا ہے اور کیا میرا بندہ میری عبادت و ریاضت کے ذریعے جنت کا حقدار بنتا ہے اور جب میرا بندہ میری عبادت و ریاضت کے ذریعے میری بنائی ہوئی جنت کو پا لے گا تو میرے بندہ مومن کو جنت میں کیسی نعمتیں ملیں گی تو اللہ جل جلالہ انہیں قرآن مجید میں ارشاد فرمایا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْۚ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۹)

تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب ان کے ایمان کے سبب انھیں راہ دے گا ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی نعمت کے باغوں میں جنت کا سبب ۔

ابو عبد اللہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام سے سوال کیا اور عرض کی کہ آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں فرض نمازیں ادا کروں رمضان کے روزے رکھوں حلال کو حلال جانوں اور حرام کو حرام سمجھوں اس پر کسی چیز کی زیادتی نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہوجاؤں گا آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا (ہاں) اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے ( اربعین نووی حدیث نمبر 22 )

جنت کی نعمتیں کیا ہیں؟

1 ۔جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سو برس تک تیز گھوڑے پر سوار چلتا رہے اور ختم نہ ہوں(صحیح مسلم ح 2827 اور 2828 ص ن 1517)

2 ۔جنت کی دیواریں سونے اور چاندی کی اینٹوں اور مشق کے گارے سے بنی ہیں ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی زمین زعفران کی کنکریوں کی جگہ موتی اور یاقوت( سنن دارمی ح2821 ص 429 )

3۔جنت میں چار دریا ہیں ایک پانی کا دوسرا دودھ کا تیسرا شہر کا اور چوتھا شراب کا ان سے نہریں نکل کر ہر ایک کے مکان میں جاری ہیں (احمد بن حنبل 20072 ج 7 ص 242 )

4۔ کم سے کم ہر شخص کے سرہانے دس ہزار خادم کھڑے ہونگے خادموں میں سے ایک ایک کے ہاتھ میں چاندی کا پیالہ دوسرے ہاتھ میں سونے کا اور ہر پیالے میں نئےنئے رنگ کی نعمتیں ہوں گی(الترغیب والترھیب ج 4 ص 291)

5 ۔پہلا گروہ جو جنت میں جائے گا ان کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودھویں رات کے چاند اور دوسرا گروہ جیسے کوئی نہایت روشن ستارہ جنتی سب ایک دل کے ہونگے ان کے آپس میں کوئی اختلافات و بغض نہ ہوگا ان میں ہر ایک کو حورعین میں کم سے کم دو بیبیاں کہ ستر ستر جوڑے پہنے ہوں گی پھر بھی ان لباسوں اور گوشت کے باہر سے ان کی پنڈلیوں کا مغز دکھائی دے گا جیسے سفید شیشے میں شراب سرخ دکھائی دیتی ہے (صحیح بخاری ح 3254 جلد 2 ص 393)

6۔ادنٰی جنّتی کے لئے 80 ہزار خادم اور 27 بیبیاں ہوں گی اور ان کو ایسے تاج ملیں گے کہ اس میں کا ادنیٰ موتی مشرق و مغرب کے درمیان روشن کردے (سنن ترمذی ح 2553 جلد 4 ص 254 )

7۔ایک روایت میں ہے کہ ان کے پاس نہایت اعلی درجے کی سواریاں اور گھوڑے لائے جائیں گے اور ان پر سوار ہو کر جہاں چاہیں گے جائیں گے (سنن ترمذی ح 2553 ج 4 ص 244)

8۔اس میں قم قم کے جواھر کے محل ہوں گے ایسے صاف وشفاف کے اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا اندر سے دکھائی دے گا (الترغیب والترھیب ح 27 جلد 4 صفحہ 281)

9۔جنتیوں کو جنت میں ہر قسم کے لذیذ سے لذیذ کھانے ملیں گے جو چاہیں گے فوراً ان کے سامنے موجود ہوگا(تفسیر ابن کثیر ج 8 ص 162 )

جیسے کہ قرآن شریف میں ارشاد فرمایا وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا(۲۱)

ترجمہ کنزالایمان : اورانہیں ان کے رب نے ستھری شراب پلائی

10۔وہاں کی شراب دنیا کی سی نہیں جس میں بدبو اور کرواہٹ اور نشہ ہوتا ہے اور پینے والے بے عقل ہو جاتے ہیں آپے سے باہر ہوکر بے ہودہ بکتے ہیں وہ پاک شراب ان سب باتوں سے پاک و منزہ ہے جیسے کہ قرآن پاک میں ہے پارہ 26 ,محمد, 25 وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ

ترجمہ کنزالایمان : اور ایسی شراب کی نہریں ہیں جس کے پینے میں لذت ہے

جنّت کا حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ماتحت ہونا:

اللہ جل جلالہ نے ارشاد فرمایا : اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَؕ(۱)

تَرجَمۂ کنز الایمان: اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرمائیں (پ,30سورہ کوثر, 1 )

(ترجمہ کنزالایمان : اے محبوب بے شک ہم نے تمہیں بے شمار خوبیاں عطا فرماٸیں

اس آیت میں اللہ جل جلالہ نے اپنے محبوب کی خوبیوں میں سے ایک خوبی جنت کی ہے جو حضور صلی علیہ السلام کے ماتحت ہے اور حضور علیہ السلام کا دس عشرہ مبشرہ صحابیوں کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت عطا فرمانا یہ ماتحت کی بہت بڑی دلیل ہے اور کسی کو دی وہ چیز جاتی ہے جو بندہ کی خود ملکیت میں ہو اس لئے تو حضور علیہ السَّلام عشرہ مبشرہ صحابیوں کو جنت عطا فرمانا۔

اسی لئے تو اعلی حضرت علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں

بچا جو تلووں کا ان کا دھوون بنا وہ جنت کا رنگ و روغن

جنھوں نے دولھا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

جنت کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

جنت کا نام آتے ہی اہل ایمان کے دل خوشی و  مسر ت سے جھومنے لگتے ہیں اور کیوں نہ جھومیں کہ رحمان عزوجل نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کی ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی نہ کسی کان نے سنی اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا البتہ قرآن و حدیث جنت کے اوصاف سے مالامال ہیں آئیے! جنت کے کچھ اور صاف سنتے ہیں۔

جنت کی وسعت:

رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنت میں سو منزلیں ہیں اور ان میں سے ہر دو منزلوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان کے درمیان ہے۔ ایک روایت میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سو منزلیں ہیں اگر اس کے ایک درجے میں تمام جہانوں کے لوگ بھی جمع ہوجائیں تو وہ سب کو کافی ہوجائے گا ( ترمذی جلد 4 صفحہ 9، 238)

جنت کا ایک محل:

مالک جنت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "جنت میں موتیوں کا ایک محل ہے جس میں سرخ یاقوت سے بنے ہوئے ستر مکان ہے ہر مکان میں سبز زمرد کے ستر کمرے ہیں ہر کمرے میں ستر تخت ہیں ہر تخت پر ہر رنگ کے ستر بچھونے ہیں ہر بچھونے پر ایک عورت ہے ہر کمرے میں ستر دسترخواں ہیں ہر دسترخوان پر انواع و اقسام کے ستر کھانے ہیں ہر کمرے میں ستر خادم اور مؤمن کو اتنی قوت عطا کی جائے گی کہ وہ ایک دن میں ان سب سے جماع کرسکے. (حوالہ ترغیب و ترہیب جلد 4 صفحہ 285) اللہ اکبر جب جنت کے ایک محل کا عالم ہے تو اس کے مزید محلات کی کیا شان ہوگی. (الترغیب والترھیب جلد 4 صفحہ 285)

جنتی درخت:

دو حدیثوں کو خلاصتا پیش کرتا ہوں کہ جنت میں ایک ایسا درخت بھی ہے اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تو بھی اس کی مسافت ختم نہ ہو (بخاری جلد 2 صفحہ 392) جنتی اپنے بلند و بالا محلات سے نکل کر اس طرح کے درخت کے سائے کے بارے میں گفتگو کریں گے کوئی دنیا کے کسی کھیل کو یاد کرکے اس کی خواہش کرلے گا تو اللہ عزوجل جنت سے ایک ہوا بھیجے گا جو اس درخت کو دنیا کے ہر کھیل کے لئے متحرک کردےگا ۔(حوالہ الترغیب والترھیب جلد 4 صفحہ 288)

جنتی پھل :

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنتی پھل کی لمبائی بارہ ہاتھ ہے اور اس میں گھٹلی نہیں ہوگی (حوالہ ایضا جلد 4 صفحہ 293) اور مزید اہل جنت جنت کے پھل کھڑے ہوئے, بیٹھے ہوئے, لیٹ کر کھا سکیں گے (ایضا جلد 4 صفحہ 11) جنتی پھل مٹکے اور ڈول جتنے ہوں گے جو دور سے سفید اور شہد سے میٹھے اور مکھن سے نرم ہوں گے. (ایضا جلد 4 صفحہ 290)

کچھ خاص وصف :

جنتی جنت میں ہمیشہ اور جوان رہیں گے نہ اس میں انہیں کوئی تکلیف ہوگی نہ کوئی غم ،جنتی جس کھانے کی تمنا کریں گے وہ ان کے سامنے آجائے گا اور جنتی کے گھر میں چار نہریں دودھ، پانی، شہد اور کھانا ڈکار سے ہضم ہوجائےگا بول و براز ( پیشاب و پاخانہ) کی حاجت نہ ہوگی جنت کا موسم معتدل رہےگا نہ زیادہ سردی، نہ گرمی۔ جنتی کے کپڑے اس طرح کے ہوں گے کہ اگر اس دنیا میں پہنا جائے تو جو دیکھ لیں بے ہوش ہو جائے ادنیٰ جنّتی کے لئے اسی ہزار خادم بہترین بیبیاں ہوں گی اور جنت کا سب سے اعلی ترین وصف یہ ہے کہ ہر جنتی کو جنت میں اپنے رحمان کا دیدار نصیب ہوگا ان شاء اللہ (بہار شریعت،جلد 1 صفحہ 152 خلاصتا)

اللہ تعالی ہمیں فضل و کرم سے بے حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے آمین بجاہ النبی الامین


جنت کىسى ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

جنت:

اللہ تعالىٰ نے مسلمانوں کے اچھے اعمال پر ثواب اور انعامات کیلئے اىک اىسا گھر بناىا ہے جس مىں تمام قسم کى روحانى اور جسمانى لذتوں کا سامان مہىا ہىں ىہ نعمتىں کسى کے خىال مىں نہىں آسکتىں اسے جنت کہتے ہىں۔

قرآن کرىم کى روشنى مىں:

ترجمہ کنزالعرفان:اور ان لوگوں کو خوشخبرى دو جو اىمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کىے کہ ان کے لىے اىسے باغات ہىں جن کے نىچے نہرىں بہہ رہى ہىں۔ جب انہیں ان باغوں سے کوئى پھل کھانے کو دىا جائے گا تو کہىں گے ىہ تو وہى رزق ہے جو ہمىں پہلے دىا گىا تھا حالانکہ انہىں ملتا جلتا پھل (پہلے) دىا گىا تھا، اور ان (جنتىوں) کے لىے ان باغوں مىں پاکىزہ بىوىاں ہوں گی اور وہ ان باغوں مىں ہمىشہ رہىں گے۔

(سورۃ البقرۃ، آیت نمبر25)

حدىث قدسى:

حضرت ابوہرىرہ رضى اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرماىا کہ اللہ عزوجل نے فرماىا کہ مىں نے اپنے نىک بندوں کے لىے (اىسى اىسى چىزىں) تىار کررکھى ہىں کہ جنہىں نہ کسى آنکھ نے دىکھا نہ کسى کان نے سنا اور نہ کسى انسان کے دل پر اس کا خىا ل گزرا۔

جنت کىسى ہے؟

٭جنت مىں سو درجے ہىں ہر درجہ اتنا وسىع کہ اگر تمام عالم اىک درجے مىں جمع ہوں سب کے لىے وسىع ہے۔

٭جنت مىں مختلف قسم کے جواہر کے محلات ہىں اور اىسے صاف شفاف ہىں کہ اندر کا حصہ باہر سے اور باہر کا حصہ اندر سے نظر آئے۔

٭جنت کى دىوارىں سونے اور چاندى کى اىنٹوں اور مشک کے گارے سے بنى ہوئى ہىں اور زمىن زعفران کى اور کنکرىوں کى جگہ موتى اور ىاقوت ہىں۔

٭جنت مىں چار درىا ہىں، اىک پانى کا، دوسرا شہد کا ، تىسرا دودھ کا اور چوتھا پاکىزہ شراب کا۔

٭جنت مىں نىند نہىں ہے کىونکہ نىند اىک قسم کى موت ہے اور جنت مىں موت نہىں۔

٭جنت مىں ہر شخص کے پاس کم از کم دس ہزار خادم کھڑے ہوں گے۔

٭جنت مىں نہ تو جنتىوں کے لباس پرانے ہوں گے اور نہ ان کى جوانى فنا ہوگى۔

٭جنت مىں جنتىوں کو سب سے اعلىٰ نعمت جو انہىں مىسر ہوگى وہ اللہ تعالىٰ کا دىدار ہے۔

اگر ہم دل کو خوفِ خدا کا گہوارہ بنائىں اور جنت کى دائمى نعمتوں کے بارے مىں سوچ بچار کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ کى رحمت سے امىد رکھىں تو وہ ان شآء اللہ ہمىں بھى اس جنت کا مکىن بنائے گا جس کا اس نے اپنے نىک بندوں سے وعدہ فرماىا ہے۔


جنت کیسی ہے؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

جنتی نہریں:

جنت میں دو حصہ شہد، پانی اور شراب کی نہریں ہوں گی اور جنت الفردوس سے جنت کی چارنہریں جاری ہوتی ہیں۔ ۱،سیھان، جیھان، فرات، ۴۔ نیل

نہرِ حیات: جنت میں ایک نہر، نہر حیات ہے اس نہر کا پانی جہنم سے نکلنے والوں پر ڈالاجائے گا تو وہ دوبارہ بیج کی طرح اگ جائیں گے۔

جنت کے چشمے : جنت کے مختلف چشمے ہیں،(۱) سلسبیل ، جنت الفردوس والوں کو تسنیم کا خالص اور نچلے درجے والوں کو عمدہ شراب میں پلایا جائے گا۔

شہد سے زیادہ میٹھی اور مکھن اور جنت الفردوس کی عجوہ کھجورزہر پر شفایاب (فیضانِ رمضان )

درخت: جنت کے درخت سبز سیاہی مائل ہوں گے تمام درختوں کے تنے سونے کے ہوں گے، بعض کھجوروں کے تنے سبز زمرد اور اس کی ٹہنیاں سبز سونے کی ہوں گی اس کی شاخوں سے اہل جنت کے لباس تیار کیے جائیں گے۔

جس نے ایک نفل روزہ رکھا اس کے لیے جنت میں ایک درخت لگادیا جائے گا کہ جس کا پھل انار سے چھوٹا سیب سے بڑا ہوگا۔ شہد سے زیادہ میٹھا اور خوش ذائقہ ہوگا اللہ عزوجل بروز قیامت روزہ دار کو اس جنت کا پھل کھلائے گا۔

جنتی محلات:

جنت کے محلات 60 میل چوڑے اور خوبصورت موتی کو اندر سے تراش کر نہیں ہوں گے ان محلات میں تمام برتن وغیرہ سونے، چاندی، ہیرے جواہرات کے ہوں گے امحلات میں سے ایک اینٹ سبز موتی کی ایک اینٹ سرخ یاقوت کی اور ایک اینٹ سبز زمرد کی ہوگی۔ اور اس کے سنگریزے لُولُو کے ہوں گے ان محلات میں ہر وقت اوتھ چلتی رہے گی جس سے ہر وقت محلات معطر رہیں گے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، جنت میں ایسی نعمتیں ہوں گی جس کو نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھا ہوگا اور نہ ہی دل میں کبھی تصور کیا ہوگا۔

ہو پیر صفا نظر کرم سوئے گنا ہ گار

جنت میں پڑوسی ہمیں آقا کا بنادے

جنت الفردوس کو اللہ تعالیٰ نے خود تعمیر فرمایا ہے اور اللہ عزوجل ہمیں جنت کا حقدار بنائے اور ہمیں جنت البقیع میں مدفن اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پڑوس نصیب فرمائے۔امین

اہل جنت کو جنت کی نعمتیں اور درجات دیکھنے کے بعد کسی چیز پر اتنی حیرت نہ ہوگی جتنی اس چیز پر ہوگی جتنے لمحے دنیا میں اس نے اللہ عزوجل کی یاد کے بغیر گزارے ہوں گے۔

جنت کیسی ہے ؟

Tue, 2 Jun , 2020
117 days ago

دنیا دارلعمل ہے اور آخرت دارالجزاء ہے۔ انسان دنیا میں جیسے عمل کرے گا ویسا قیا مت والے دن بدلہ(Revenge )پائے گا ۔ کفار اور گناہگاروں کا ٹھکانہ جھنم ہو گا جبکہ اللہ تعالی نے اپنے نیک اور عبادت گذاربندوں کو جنت عطا فرمائے گا ۔ اور وہ جنت کیسی ہے ؟انسان دنیا کے تمام خوبصورت مقامات دیکھ لے مگر جنت کا کما حقہ تصور (Concept) نہیں کر سکتا ۔

(حدیث قدسی)

میں نےاپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جن کو کسی انکھ نے نہیں دیکھا اور نا کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر آس کا گمان بھی گزرا ۔ (1)

لیکن جو جنت کا تذکرہ قرآن و حدیث میں آیا ہے آئیں اس سے اپنے قلوب و اذھان کو تازگی دیتے ہیں ۔

(جنت کی وسعت )

اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے

وَ  جَنَّةٍ  عَرْضُهَا  السَّمٰوٰتُ  وَ  الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳) (2)

ترجمہ کنزالایمان : اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسماں و زمین آجائیں یہ پرہیزگاروں کے لیے تیار کر رکھی ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا جنت آسمان میں ہے یا زمین میں ؟فرمایا :کونسی زمین اور کونسا آسمان ایسا ہے جس میں جنت سما سکے ۔ عرض کیا گیا :پھر کہاں ہے ؟فرمایا :آسمانوں کے اوپر ، عرش کے نیچے - (3)

(جنتی گھر )

خالق کائنات ارشاد فرماتا ہے ۔

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌۙ-

ترجمہ کنزالایمان : لیکن جو اپنے رب سے ڈرے ان کے لیے بالا خانے (محلات) ہیں ان پر بالا خانے بنے ۔

کریم آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :جنت کے محلات کا ظاہری(Apparent) حصہ سرخ سونے کا ہے ۔ اور اندرونی (internal)حصہ سبززبرجد(Topaz) کا ہے ان کے گنبد یاقوت کے ہیں اور کنگرے موتی کے ہیں ۔ (5)

(جنتی حور )

رب کائنات ارشاد فرماتا ہے :

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ(۷۰) (6)

ترجمہ کنزالایمان: ان میں عورتیں ہیں عادت کی نیک صورت کی اچھی-

نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم نى ارشاد فرماىا :آگر جنتی عورتوں میں زمین کی طرف کسی ایک کی جھلک پڑھ جائے تو آسمان و زمین کے درمیان کی تمام فضا روشن ہو جائے اور خوشبو سے بھر جائے (7)

(جنتی آب و ہوا )

جنت میں نہ زیادہ سردی ہو گی اور نہ ہی شدت کی گرمی بلکہ معتدل (Moderate )موسم ہو گا

رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے :

لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ(۱۳) (8)

ترجمہ کنزالایمان : نہ اس میں دھوپ دیکھیں گے اور نہ ٹھٹھر (سردی )

(جنتی کھانے اور میوے )

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ(۲۲)( 9)

ترجمہ کنزالایمان : اور ہم نے انکی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چائیں

پیارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جنت والوں میں سے ایک شخص لقمہ لے کر اپنے منہ میں ڈالے گا پھر اپنے دل میں کسی اور کھانے کا خیال رکھے گا تو وہ لقمہ اسی کھانے میں تبدیل ہو جائے گا( 10)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نے جنت کو دیکھا اور اسکے ایک خوشے کو پکڑا اگر مں اسکو توڑ لیتا تو جب تک دنیا قائم رہتی تم اسے کھا تے رہتے ۔ (11)

(جنتی لباس اور زیب و زینت )

رب کائنات ارشاد فرماتا ہے :

یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًاؕ-وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ(۲۳)( 12)

ترجمہ کنزالایمان : پہنائے جائیں گے اس میں (جنت) سونے کے کنگن اور موتی اور انکی پوشاک (لباس ) ریشم ہے ۔

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ جنت کے لباسوں میں سے آگر کوئی لباس آج دنیا میں پہن لے تو جو بھی اسکو دیکھ لے (حسن کی رعنائیوں کی وجہ سے ) اس پر موت واقع ہو جائے اور اسکی آنکھیں اس کے نظارے کی تاب نہ لا سکیں( 13)

(جنتی برتن )

رب ذوالجلال ارشاد فرماتا ہے :

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍۚ- (14)

ترجمہ کنزالایمان : ان پر دور ہو گا سونے کے پیالوں اور جاموں کا

حضرت ابن عمر رضی

اللہ عنہ فرماتےہیں:

جنتیوں کے سامنے سونے کے ستر قسم کے بڑے پیالے پیش کیے جائیں گے ہر پیالے میں ایسے رنگ اور ہر قسم کا طعام ہو گا جو دوسرے میں نہ ہو گا (15)

(جنتی فرنیچر اور سامان آرائش )

خالق کائنات ارشاد فرماتا ہے:

مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ(۷۶) ( 16)

ترجمہ کنزالایمان :( جنتی ) تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں اور منقش خوبصورت چاندنیوں (قالینوں ) پر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ اللہ کا دوست جنت میں تخت پر تشریف فرما ہو گا جس کی بلندی پانچ سو سال کی ہو گی (17)

حوالہ جات

( 1) بخاری ، کتاب بدءالخلق،2/391 حدیث 3244

(2)پ 4 ،ال عمران 133

(3)تفسیر مظہری ،تحت الایہ 133 ،1/405

(4)پ 23 ،الزمر ،20

(5)وصف الفردوس ص 50 ح 302

(6)پ 27 ،الرحمن 70

(7)بخاری،کتاب الرقاق،4/264 ح 6568

(8)پ 29،الدھر 13

(9) پ27 ،الطور 22

(10 )وصف الفردوس ص 20 ح 80

(1)بخاری ب اب صلاة الکسوف 2/540

(12)پ 17 ، الحج 23

( 13)الترغیب والترہیب 4/530

(14)پ 25،الزخرف 71

(15) البدورالسافر ، ح 2107

(16)پ 27 الرحمن 76

(17)بستان الواعظین ص 193