آج کا کام کل پر مت چھوڑیں

Thu, 10 Jun , 2021
56 days ago

ایک بزرگ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے آج کا کام کل پر مت چھوڑو کیونکہ کل ایک نیا کام ہوگا او اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جان بوجھ کر آج کے کام کو کل پر مت چھوڑنا یعنی کہ کام کو موخر کرنا بہت بڑی نحوس ہے اور یہ نااہلی اور بعض اوقات سستی کی علامات بھی سمجھی جاتی ہے، اس مختصر تحریر میں کام کو موخر کرنے کے اسباب، نقصانات اور اس کا حل بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

کام موخر کرنے کے اسباب:

۱۔ کام پسند نہ ہونا

۲۔ سستی

۳۔ اس کام کا اہل نہ ہونا

۴۔ بیماری

۵۔ کام مکمل کرنے کا حدف مقرر نہ کرنا

۶، کام کےلیے بہت زیادہ مہلت کا مل جانا

۷۔ احساس کمتری ہونا یعنی کہ میں ابھی کام کے قابل نہیں جب قابل ہوجاؤں تو کرلوں گا۔

۸۔ وقت کا احساس نہ ہونا۔

کام موخر کرنے کے نقصانات :

1۔ کام بعض اوقات ہوہی نہیں پاتا

2۔ کام معیار کے مطابق نہیں ہوتا

3۔ فرض نماز اگر موخر کرتے رہے یہاں تک کہ قضا ہوگئی تو اس کا آخرت میں یہ انجام

4۔ لوگوں کی نظر میں آدمی گر جاتا ہے

5۔ لوگ اعتماد نہیں کرتے ایسے شخص پر

6۔ انسان مستقبل میں صرف کوئی بڑی منزل حاصل نہیں کرسکتا۔

ان مسائل کا حل :

۱۔ اپنے اندر احساس ذمہ داری پیدا کریں۔

۲۔ بتکلف کام کو وقت پہ کریں۔

۳۔ عباداتِ الہیہ وقت پر ادا کریں اس سے دیکھا گیا ہے انسان وقت کا پابند بن جاتا ہے۔

۵۔ جب بھی کام کریں مکمل (Confidence)خود اعتمادی سے کریں ۔

۶۔ اپنے کام کا ہدف بنالیں کہ میں نے یہ کام اتنے وقت میں کرنا ہے اور اسے کوشش کریں وقت سے قبل ہی مکمل کر لیں اور جلد بازی سے بھی کام نہ لیں کہ یہ بھی ایک نحوست ہے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنا ہر کام وقت پر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

امین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم


کامیاب ترین لوگ آج کا کام کل پر نہیں چھوڑتے کیونکہ ان کے پاس کل کے لئے بھی کئی کام ہوتے ہیں جن کو بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لئے وہ آج کا کام آج ہی میں مکمل complete کرنے کی عادت بنا لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کئی طرح کی پریشانیوں سے نجات پا لیتے ہیں ۔

ایک ٹیچر سے بچوں نے سوال کیا سر آپ نہ تھکتے ہیں نہ بیمار ہوتے ہیں نہ چھٹی کرتے نہ سستی کا شکار ہوتے ہیں جبکہ آپ ایک اسکول ٹیچر بھی ہیں مسجد کے امام بھی ہیں مسجد میں بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم بھی دیتے ہیں گھر میں بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتے ہیں اور اپنے بوڑھے والدین کی کفالت بھی کرتے ہیں یہ سب آپ کیسے کرتے ہیں ؟

ان ٹیچر نے بہت پیارا جواب دیا جو ہمارے لئے رہنما اور لائق تقلید ہے فرمانے لگے بیٹا میں ہر کام اس کے وقت میں کرتا ہوں میرے ہر کام کا ایک وقت مقرّر fix ہے میں اس کام کو اس کے وقت سے لیٹ نہیں کرتا جس کی وجہ سے میں بہت سارا کام تھوڑے وقت میں با آسانی کر لیتا ہوں۔

پھر وہ ٹیچر اپنے طلبہ students کو سمجھاتے ہوئے کہنے لگے کہ آپ بھی اگر کامیاب بننا چاہتے ہیں پریشانیوں سے نجات پانا چاہتے ہیں اچھی صحت چاہتے ہیں مایوسیوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں اپنے وقت کو بچانا چاہتے ہیں تو ہر وقت میں ایک کام اور ہر کام کا ایک وقت مقرّر کر لیں اور آج کا کام کل پر ہرگز نہ چھوڑیں ، یہ بات اللہ والوں کی مبارک زندگی میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ نفوسِ قدسیہ آج کی طے شدہ نفلی عبادات بھی کل پر مؤخّر نہیں کرتے تھے کہ پتا نہیں کل زندگی ساتھ دے گی یا نہیں ۔

ہمارے استاذ محترم استاذ الحدیث مولانا ارشد عطاری المدنی سلّمہ الغنى بہت پیاری بات ارشاد فرمایا کرتے ہیں کہ زندگی صرف آج کا دن ہے کل کا دن جو گزار چکے اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں اور جو آنے والا کل ہے اس کا ملنا یقینی نہیں کہ ہمیں نصیب ہو گا یا نہیں لہذا جو کچھ کرنا ہے وہ آج کے دن کرنا ہے اور جو کچھ بننا ہے وہ آج کے دن بننا ہے لہذا آج کے کام کل پر ڈالنے والی خراب عادت کو نکال کر باہر کیجئے اور اپنے روز مرہ کے کاموں کا شیڈول بنا کر اس پر پابندی سے عمل پیرا ہو جائیں ان شاء اللہ کامیاب ترین افراد میں سے ایک آپ ہوں گے۔ 


آج کا کام کل پر مت چھوڑیں

Thu, 10 Jun , 2021
56 days ago

وقت ایک لازوال  دولت ہے انسان کو چاہیے کہ وقت کی قدر کرے، ایک مثل مشہور ہے کہ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا ہے سدا عیش دوراں دکھانا نہیں ہے، وقت اور دولت دو ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں پس وقت انسان کومجبور اور دولت انسان کو مغرور بنادیتی ہے۔

کائنات میں ہر چیز کی پابندی ہے ، دن رات اور سورج چاند و ستارے اپنے وقت پر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں دن رات ہر چیز اللہ تعالی کے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق چلتے ہیں، محنت میں عظمت ہے اگر ایک طالبِ علم آج محنت کرے گا توہی کل اس کا اجر پائے گا اور امتحان میں کامیاب ہوگا ہر چیز محنت کرنے سے آتی ہے اللہ تعالیٰ کسی کی محنت رائیگاں نہیں جانے دیتا، ارشادِ ربانی ہے :

انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی، جو کوئی محنت کرے گا اس کا پھل ضرور ملتا ہے ، یوں تو محنت کی ضرور ت دنیائے کے ہر کام میں ہی ہوتی ہے مگراس کی ضرور ت حصولِ تعلیم کے سلسلے میں دو چند ہو جاتی ہے کہ یہی ایک چیز ایسی ہے جو دنیا میں دولت سے نہیں خریدی جاسکتی ہے بلکہ اس کے لیے جدوجہد کرناپڑتی ہے، شوق اور محنت سے کام کرنا پڑا ہے، شوق جتنا تیز ہوگا اور محنت جتنی زیادہ ہوگی اس میدان میں اتنی ہی بڑی ا ور اتنی ہی اہم کامیابی ہوگی، جو لوگ لکھنے پڑھنے میں دلچسپی لیتے ہیں اور خاطر خواہ محنت نہیں کرتے ہیں انہیں کامیابی کی قطعا امید نہیں رہتی ہے دنیا اپنی تاریخ میں کوئی ایسا معجزہ نہیں کرسکتی کہ کوئی شخص علم کے میدان میں بغیر محنت کے آگے بڑھ گیا ہو قوموں کی ترقی کا راز محنت میں ہے محنت انسان کی عزت وقار میں اضافہ کرتی ہے، محنت سے پس ماندہ سے پس ماندہ قوم ترقی کی منزل پر پہنچ جاتی ہے، محنت سے روزی کمانے والے شخض کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے امریکہ ، چین جاپان اور برطانیہ کی ترقی کا راز محنت میں پوشیدہ ہے کسی کام کا و قت مقررہ پر اور باقاعدگی سے سر انجام دینا وقت کی پابندی کہلاتا ہے۔

آج کا کام کل پر مت چھوڑیں وقت جو ہے وہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہے ایک دن میں پانچ وقت کی اذان ہوتی ہے، دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتیں ہیں جو اپنا کام آج کرتیں ہیں کل نہیں، مثلاً اگر آج آپ اپنے والدین کی عزت کریں گے تو کل آپ کی اولاد آپ کی عزت کرے گی ۔

نیکی کی دعوت دینا چاہیے نیکی کی دعوت دینا بھی ایک اہم فریضہ ہے، جب لوگوں نے سنتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیا تو وہ لوگ دنیا میں پیچھے رہ گئے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھی ایک اہم فرص ہے ہر انسان جو چاہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں کہ جس نے ہمیں پیدا کیا اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اپنی مخلوق پر ہر آن تواتر سے برس رہی ہیں ہر ذرہ کائنات اس منعم حقیقی کے مقدس بوجھ تلے دبا ہوا ہے کوئی شے ایسی نہیں ہے جسے اس ربِ کریم کی رحٌمتوں سے حصہ نہ ملا ہو، اگر آپ نے کس کا حق مارا ہے تو فورا اس سے معافی مانگیں، اللہ تعالیٰ معا فکرنے والوں کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ معاف کردینے سے بندے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے، انسان کو اپنے گناہوں سے معافی مانگنی چاہیے گناہ انسان کی نی کیوں کو کھا جاتے ہیں، اس فرمان عالی شان کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص معاف اور درگزر کرتا ہے تو ایسے شخص کا مرتبہ و مقام لوگوں کے دلوں میں بڑھ جاتا ہے ایک معنی اس کا یہ بھی ہے کہ اس سے مراد اخروی اجر اور وہاں کی عزت ہے، اگر انسان اللہ پاک سے دعا مانگے تو وہ انسان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ دعا کرنے سے شفا ملتی ہے دعا مومن کا ہتھیار ہے، منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب اسے کوئی کام کہا جائے و وہ کہتا ہے آج نہیں کل کریں گے ہمیں اللہ تعالیٰ کے نیک بندے بننا چاہیے کہ اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنا چاہیے۔

حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بتائے سنتوں پر عمل کرنا چاہیے انسان کی فطرت یہ ہے کہ کبھی انسان اچھا کام کرتا ہے دنیا انسان کے ایک دارراعمل ہے، انسان اس کے بنائے ہوئے فطرت کے تقاضوں کے مطابق ہی زندگی گزارتا ہے، جیسا انسان آج کرلے گا ویسا ہی کل پائے گا

انسان کو ہمت سے کام لینا چاہیے او رایک دوسرے کے کام آنا چاہیے وقت کو ضائع کرنا بہت بری عادت ہے وقت وہ گزراجاتا ہے لیکن بہت بعد میں افسوس کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ 


آج کا کام کل پر مت چھوڑیں

Thu, 10 Jun , 2021
56 days ago

ابھی رہنے دو، ابھی رہنے دو کا جو ماحول ہوتا ہے، ایسے افراد ہمارے گھروں، دفتروں، سکولوں، اور دکانوں میں رہ کر خود بھی پریشان ہوتے ہیں اور معاشرے کو بھی پریشان کیا کرتے ہیں، اس طرح کی ٹال مٹول سے ہمیں بچنا چاہیے۔

بلا وجہ کاموں کو کل پر مؤخر (Pending) کرنا اس حوالے سے ہمارا دینِ اسلام ہماری کیا رہنمائی فرماتا ہے، اور اس کے کیا نقصانات ہیں درج ذیل میں ہم یہ ملاحظہ کریں گے۔

قرآنِ کریم میں ہے وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ ۔ ترجَمۂ کنزُالایمان: جھوٹی طمع نے تمہیں فریب دیا۔ (سورۂ حدید، آیت: 14)

اسکی تفسیر میں حضرتِ عکرمہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں: آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت نے تمہیں فریب میں ڈال دیا۔

کل کی حقیقت: علامہ ابنِ جوزی فرماتے ہے : کل کا تصور ایک دھوکا ہے۔

انگلش کا محاورہ: Tomorrow Never Come, Do your Work Today۔ (کل کبھی نہیں آنی لہذا اپنے کام آج ہی کر لو )

نبوت کی ایک صفت: امام غزالی نے احیاء العلوم میں نبوت کی چار صفات میں سے ایک (آج کا کام کل پر نہ چھوڑنا) بھی ذکر کیا ہے۔ (احیاء العلوم)

حضرتِ عمر بن عبد العزیز رحمۃُ اللہِ علیہ سے کسی نے کہا کہ آج کا کام رہنے دیجئے کہ کر کیجئے گا، تو فرمایا اگر آج کا کام کل پر چھوڑوں گا تو کل ایک اور کام ہو گا، پھر دو کام ایک ساتھ کرنا پڑے گے۔ (عمر بن عبد العزیز کی 425 حکایات)

دن کا اعلان :

روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اُس وقت ’’ دن‘‘ یہ اعلان کرتا ہے : اگر آج کوئی اچّھا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا ۔ (شُعَبُ الْاِیْمَان ، ج۳، ص۳۸۶ ، حدیث:۳۸۴۰)

علامہ ابنِ جوزی رحمۃُ اللہِ علیہفرماتے ہے : اس شخص کی مثال جو کہتا ہے آج کا کام کل کر لوں گا، ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایک درخت کے پاس آئے اور درخت کو مضبوط دیکھ کر نا کاٹے گا پھر جب ایک عرصے کے بعد کاٹنے کیلئے آئے گا تو درخت مضبوط اور یہ شخص کمزور ہو گا۔ لہذا ٹال مٹول اور آج کا کام کل پر چھوڑنے والا شخص بھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوتا۔ (منہاج القاصدین)

اللہ پاک ہمیں اپنے اوقات کو غنیمت سمجھتے ہوئے آج کا کام آج ہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


آج کا کام کل پر مت چھوڑیں

Thu, 10 Jun , 2021
56 days ago

حضرت عبد اللہبن عمر رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار مت کرنا اور جب صبح کرو تو شام کا انتظار مت کرنا، اپنی صحت و تندرستی کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو اور اپنی زندگی کو موت سے پہلے۔ (بخاری )

ہم اپنی روز مرّہ زندگی کے بہت سے کام کل پر ڈال دیتے ہیں اور وقتی طور پر سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ اپنے آپ ہی کو آزمائش میں ڈالنا ہے کہ اگلے دن وقت کی کمی کی وجہ سے کام پورا نہیں ہو پاتا یا سخت تھکاوٹ و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لحاظہ ہمیں اس بری عادت سے بچنا چاہیے کہ آج نہیں تو کل اس مشکل مرحلے سے ضرور گزرنا ہوگا اور چاہے کیسا ہی مشکل کام ہو اسے وقت پر کرنا چاہیے ، تاکہ زندگی کی مشکلات سے بھی لڑنا آئے ۔ آج کا کام کل پر ڈالنا وقت کے ضائع کرنے کا بھی سبب ہے کہ سستی و کاہلی کی وجہ سے مشکل کام کو کرنے سے جی چرانے اور ٹال مٹول کرتے رہنےسے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ نیکی کے کاموں میں سستی کی وجہ سے ثواب سے محرومی بھی ہے۔ اسی لیے وقت کی قدر و اہمیت کو سمجھنا ضروری ہے ۔

زندگی کی ہر سانس ”انمول ہیرا“ ہے، کاش! ایک ایک سانس کی قدر نصیب ہو جائے کہ کہیں کوئی سانس بے فائدہ نہ گزر جائے ۔ (انمول ہیرے ، ص ١٥)

وقت کی قدروقیمت کی اہمیت اسوقت حاصل ہوتی ہے جب وہ ہاتھ سے نکل جائے اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہ رہے۔ کیونکہ وقت ایک ایسا پرندہ ہے جو ایک مرتبہ اُڑھ جائے تو لوٹتا نہیں ۔

اللہ تعالٰی کی تمام نعمتوں میں سے ایک نعمت وقت ہے اورنعمت کی قدر اس کے زوال (یعنی ختم ہونے ) کے بعد ہوتی ہے لہٰذا اس وقت کو قیمتی بناتے ہوئے نیکیوں میں گزاریئے ۔ (امیر اہل سنت )

وقت کی اصلی قدر جاننے کے لیے بزرگانِ دین کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو انکی کثرتِ عبادت وریاضت ، دینی خدمات اور قربِ خداوندی پانے میں وقت کی پابندی کرنا بھی ایک سبب تھا ۔

اعلٰی حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ وقت بالکل ضائع نہیں فرماتے تھے ، بلکہ اکثر علمی کاموں میں ہی مصروف رہتے ۔(حیاتِ اعلٰی حضرت ، ٢٠٦/١ بتغیر قلیل )

اللہپاک ہمیں بھی وقت کی قدر کرنے اور اپنے کاموں کو اپنے وقت پرکرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


آج کا کام کل پر مت چھوڑو

Thu, 10 Jun , 2021
56 days ago

اللہ پاک نے انسان کو اشرفُ المخلوقات بنایا، اسے شعور سمیت ایسی بےشمار صلاحیتوں سے نوازا جن سے دیگر مخلوقات محروم ہیں۔ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان نے بڑے بڑے کارنامے سر انجام دئیے۔ یوں تو دنیا میں ہر انسان کامیابی کا متلاشی اور کامیابی کے راز ڈھونڈنے کی جستجو میں رہتا ہے لیکن اگر دینی و دنیاوی شعبہ جات میں کامیاب ترین لوگوں کی کامیابی (Success) کے راز ڈھونڈے جائیں تو ان کی کامیابی میں پابندیِ وقت، کام کو کل پر موقوف نہ کرنا، نمایاں نظر آئیں گے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کسی بھی کام کو فوراً سرانجام دینے کے بجائے آئندہ پر موقوف کرنے کا مرض عام ہوچکا ہے۔ ہم اپنے اِردگِرد اگر نظر دوڑائیں تو بیسیوں ایسے کام سامنے آئیں گے جنہیں ہم نے ”کل کروں گا“ کہہ کر ٹال دیا تھا لیکن ہماری وہ ”کل“ دوبارہ نہ آسکی۔ اس ناپسندیدہ عادت کو ختم کرنے کیلئے 5 مفید مدنی پھول پیش کئے جاتے ہیں: (1)احساس: کوئی بھی کام جب آپ کو سونپا جائے تو اسے سنجیدگی سے قبول کیجئے اور اس کام کو اپنے وقت میں کرنے کی منصوبہ بندی (Planning) کیجئے۔ ٹال مٹول، بعد میں کر لوں گا، ابھی بہت ٹائم ہے جیسے فضول خیالات پر دھیان دینے کے سبب ہی کام ادھورے رہ جاتے ہیں (2)کاموں کی فہرست بنائیں: ہر کام کی ایک فہرست بنالی جائے کہ کون سا کام زیادہ ضروری ہے اور کون سا کام جلد سے جلد نپٹانا ہے۔ یوں فہرست بنانے سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ فلاں وقت فلاں کام کے لئے ہے (3)سُستی و کاہلی کو دُور کیجئے: ہر کام میں سب سے بڑی رکاوٹ سُستی و کاہلی ہے۔ ”ابھی بہت ٹائم ہے“ کا بہانہ بنا کر ہر کام کو بعد کے لئے موقوف کردیا جاتا ہے لیکن بعد میں دیگر مصروفیات اس کام کو سَر انجام دینے میں آڑے آجاتی ہیں۔ لہٰذا مستعد ہوکر ہر کام اپنے وقت پر کرنے کی عادت بنائیں(4)لمبی امیدیں نہ باندھئے: لمبی امیدیں باندھنا سمجھ دار لوگوں کا کام نہیں۔ کامیاب لوگ موجودہ وقت کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنا کام اپنے وقت میں سر انجام دیتے ہیں جبکہ ناکام لوگ کل کے آسرے اور ”جب ٹائم ملے گا تو کر لوں گا“ جیسے بہانے کر کے دل کو تسلی دے دیتے ہیں(5)قدر کریں: جو وقت آپ کے پاس ہے اس کو غنیمت جانتے ہوئے اس کی قدر کیجئے بعد میں کام کا موقع ملے نہ ملے زندگی رہے نہ رہے کسے معلوم ہے؟

محترم قارئین! مشہور مقولہ ہے کہ ”کل کبھی نہیں آتی“ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ حدیثِ پاک کے مطابق فرصت کو مشغولیت سے پہلے غنیمت جانتے ہوئے ہر کام اپنے وقت پر سرانجام دیں۔ اللہ کریم عمل کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

اے رضاؔ ہر کام کا اِک وقت ہے دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا


نبی رحمت ، شفیع امت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :فرصت کو غنیمت جانو۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، 19 ، 57 ، حدیث : 35460)

مزید یہ کہ اسلام کے پہلے مجدد ، امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے ایک مرتبہ عرض کی یہ کام کل تک مؤخر کردیجئے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا میں ایک دن کا کام بمشکل کرتا ہوں پھر اگرآج کا کام کل پرچھوڑ وں گا تو دون کا کام ایک دن میں کیسے کرسکوں گا۔ ( وقت ہزار نعمت ہے، صفحہ 54 )

پیارے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا جملے حکمت و دانائی سے بھرے مدنی پھول ہیں جو ہمیں اپنا کام اس کے صحیح وقت پر کرنے اور دوسرے دن پر نہ ڈالنے کا درس و پیغام دے رہے ہیں۔

مزید یہ کہ آج ہمارا معاشرہ جہاں کئی بری خصلتوں و صفات کامرکز بنا ہوا ہے، انہیں رذیل خصلتوں میں سے ایک خصلت آج کا کام کل پر چھورنا بھی ہے یہ صفت ذمیمہ نہ صرف دنیا بلکہ آخرت کو بھی تباہ و برباد کرنے والی اور انسان کو ناکامی کے عمیق کنویں میں پہنچانے والی ہیں۔

آئیے اب ٹال مٹول کی کچھ مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں، مثلا قضا نمازوں کی ادائیگی میں سستی کرنا، زکاة فرض ہونے کے باوجود رمضان کا انتظار کرنا ، داڑھی آنے کے باوجود بڑے ہو کررکھنے کا بہانہ کرنا، قرض کی ادائیگی میں بلاوجہ تاخیر کرنا، فرض علوم سیکھنے میں سستی کا مظاہرہ کرنا، گھریلو اشیا کی مرمت میں گھر والوں کو کل کرانے کی جھوٹی تسلی دینا، مطالعہ کرنے سے دل چرانا، کہ ابھی جی نہیں چاہ رہا کل سے کریں گے وغیرہ وغیرہ، الغرض ایسے شخص کے تمام متعلقین اس سے نالاں نظر آتے ہیں اور نیز یہ کہ کل کی عادت لوگوں کی نظر سے اس کا وقار گرادیتی ہے، لہذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر حرکت پیدا کریں ، اور اپنا کام کل پر چھوڑنے کے بجائے آج ہی کر ڈالے، کل کس نے دیکھی ہے۔ 


آج کا کام کل پر چھوڑنا، جسے انگلش میں procrastination بھی کہا جاتا ہے۔ انسان کا ایک عجیب و غریب فعل ہے کہ جو اسے اس وقت کرنا اچھا لگتا ہے لیکن بعد میں جب برے اثرات آتے ہیں تو وہی اپنا کام برا لگتا ہے۔ لیکن آگے جاکر بھی یہ عادت نہیں چھوٹتی۔ تو کسی بھی بری عادت کو چھڑانے کے لیے اس کے نقصانات، اسے چھوڑنے کے فوائد اور چھوڑنے کا طریقہ جاننا ضروری ہے۔ اس لیے آیئے تاخیر کرنے(procrastination) کے نقصانات جانتے ہیں۔

1۔ وقت کی بربادی: جب آپ ابھی کا کام بعد پر چھوڑیں گے یا آج کا کام کل پر چھوڑیں گے تو ابھی جو وقت ملا ہوا ہے اسے ضرور کسی فضول اور بے فائدہ کام پر صرف کریں گے، تو یہ وقت جو قیمتی تھا ضائع ہوگیا۔

2۔ اگلے دن ٹینشن: حضرت عمر رضی اللہُ عنہ سے کسی نے عرض کی: یہ کام چھوڑ دیں کل کر لیں گے، تو آپ نے فرمایا: کل اور کام ہوں گے، تو کل کل کے کام کریں یا آج کے؟ تو آپ نے جب اپنا آج کا کام آگے کردیا اور آگے آپ کو کچھ اور کام کرنا تھا اب وہ کام اور یہ کام دونوں متاثر(disturb) ہوں گے، اور آپ بھی پریشان(disturbed) ہو جائیں گے۔

3. ترقی کے موقع ضائع کر دیں گے: کبھی کبھار ایسے مواقع آتے (opportunities آتی) ہیں کہ آپ کی زندگی بدلنے والی ہوتی ہے مگر آپ سستی اور تاخیر(procrastination) کرکے وہ موقع ضائع کردیتے ہیں۔

4. اہداف(goals) ادھورے رہ جاتے ہیں: آپ اگر دعوتِ اسلامی کے تحت دینی کام کرتے ہیں تو نگران ہدف(target) دیتے ہیں، یا کسی کمپنی میں کام کرتے ہیں تو سیٹھ(boss) کی طرف سے ہدف ملتے ہیں یا آپ نے اپنا کوئی ہدف ذہن میں رکھا ہوتا ہے مگر تاخیر کے سبب وہ ادھورے رہ جاتے ہیں اور خود برا بھی محسوس کرتے ہیں اور دوسروں کی سننی بھی پڑھتی ہے۔

5. زندگی تبدیل ہوجاتی ہے: کبھی کبھار اس کا اثر صرف سننے تک نہیں بلکہ وہ نوکری چھوٹ جاتی ہے، یا تنظیمی ذمہ داری واپس لے لی جاتی ہے، یا اپنا بہت بڑا نقصان ہوجاتا ہے جس سے اب واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

6. خود اعتمادی میں کمی: اپنے ہی ہاتھوں جب اتنے بڑے نقصانات ملتے ہیں تو اب خود پر سے اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے اور اب زندگی تنزلی میں ہی جانے لگتی ہے۔ تو اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ

1۔ اپنے ماحول کو تبدیل کریں: آج کل چونکہ اکثر گھر پر کام اور پڑھائی ہورہی ہے تو جہاں سوتے ہیں وہیں پر اپنا کام اور پڑھائی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے کیونکہ جہاں آپ سوتے ہیں نفسیاتی طور پر ذہن میں یہ اثر آجاتا ہے کہ یہ سونے کی جگہ ہے نتیجۃً سستی بھی آجاتی ہے، لہذا اپنا ماحول "کام" والا بنائیں۔

اپنے کام کو تقسیم کردیں: یہ بھی ہوتا ہے کہ کام بہت زیادہ لگ رہا ہوتا ہے تو دل بھی نہیں کرتا کہ کام کروں، تو یوں تاخیر(procrastination) کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تو اپنے کام کوحصوں میں تقسیم کردیں۔ جیسے بیان تیار کرنا ہے تو مطالعہ، نوٹس، بیان کی ترتیب، الفاظ کا چناؤ، چیکنگ۔

وقت میں تقسیم: آپ نے اپنے کام کے حصے کردیئے اب اسے وقتوں پر تقسیم کردیں کہ اس میں فلاں کام میں اس وقت سے اس وقت کروں گا۔ جیسے ایک دن میں بیان تیار کرنا ہے تو: صبح 9 سے 12 بجے تک مطالعہ، پھر بریک، 2 سے 4 بجے تک نوٹس لکھے، اور بیان کو ترتیب دیں ، اس کے بعد 30 منٹ بیان کے انداز میں الفاظ کو تبدیل کیا، اب آپ کے پاس آدھا دن ہے چیک کرنے کے لیے۔ خود کریں یا کسی عالم صاحب سے چیک کروائیں۔ اگر یہ نہ کرتے تو پورا دن یہ سوچنے میں لگ جاتا کہ بیان کیا کروں۔

آڑیں(distractions): بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں کام کرنے سے روکتی ہیں تو انہیں دور کریں جیسے موبائل۔ اگر اسے بند کردیں یا کسی کو دے دیں کہ یہ کام کرلوں تب تک نہیں دینا۔ اسی طرح شور ہوتا ہے تو جگہ بدل لی۔ کبھی لوگ کام کرنے نہیں دیتے تو ان سے معذرت کرلیں۔ اس طرح اپنے کاموں میں آنے والی رکاوٹیں دور کردیں۔

اپنے اوپر نگران مقرر کریں: موبائل جس طرح آپ نے کسی اور کے حوالے کیا، اسے اپنے آپ کو بھی حوالے کردیں، یعنی کسی کو نگران بنادیں کہ وہ آپ کو نظروں میں رکھے اور وہ آپ کو آپ کے کام کے لیے جوابدہ رکھے گا۔

تاخیر(procrastination) سے بچنے کے فوائد: چونکہ آپ اپنے کام وقت پر کرنے لگے ہیں تو اب آپ خود کو آزاد محسوس کریں گے، تر و تازہ رہیں گے، اپنے اوپر اعتماد بڑھے گا پھر بڑے بڑے کام کرنے لگیں گے، اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔


آج کا کام کل پر مت چھوڑیں

Thu, 10 Jun , 2021
56 days ago

ایک اور دھوکہ ہے جو انسان کو وقت ضائع کرنے پر ندامت اور افسوس سے بچاتا رہتا ہے اور وہ کل ہے، کہا گیا کہ انسان کی زبان میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو کل کے لفظ کی طرح اتنے گناہوں ، اتنی غفلتوں ، اتنی بے پرواہیوں اور اتنی برباد ہونے والی زندگیوں کیلئے جواب دہ ہو، کیوں کہ اس کی آنے والی کل آتی نہیں۔ بلکہ وہ قیامت یا گزری ہوئی کل یعنی زیر وزبر بن جاتی ہے اور پچھلی کل کو کبھی واپس نہیں کرسکتے ، ان دونوں قسم کی کل کو ہم آج میں تبدیل نہیں کرسکتے۔

ذرا سوچیں تو سہی کہ ہم کب سے روز وعدہ کرتے ہیں کہ کل سے یہ کام کریں گے اور کل ، کل کرتے ، ہر کل آج ہوتی چلی جارہی ہے۔ جب ہم نے آج ہی نہیں کیا، تو کل کیسے کرپائیں گیں ؟ ہمیں شاید معلوم نہیں کہ جو کل آچکی ہے وہ گزشتہ دن کے حکم میں ہے۔ جو کام ہم آج نہیں کرسکے تو کل اس کا کرنا ہمارے لیے اور بھی مشکل ہے۔

لہذا اگر ہم آج عاجز ہیں تو کل بھی عاجز ہوں گے ، اس لئے کہا گیا ہے کہ وقت جب ایک دفعہ مرگیا تو اس کو پڑا رہنے دیں ، اب اس کے ساتھ اور کچھ نہیں ہوسکتا سوائے اس کے کہ اس کی قبر پر آنسو بہائے جائیں۔ لہذا! انسان کو آج کی طرف لوٹ آنا چاہیے مگر لوگ اس کی طرف لوٹتے نہیں ہیں۔ اور داناؤں کے رجسٹر میں کل کا لفظ کھوج سے بھی نہیں ملتا۔

وقت در حقیقت عمر ِ رواں ہے ، وقت کو سستی اور غفلت میں ضائع کرنا اپنی عمر کو ضائع کرنا ہے۔ باشعور اور باحکمت لوگ اپنے وقت کی حفاظت کرتے ہیں۔ اور بیکار گفتگو اور لایعنی کاموں میں وقت کو ضائع نہیں کرتے ، بلکہ اپنی زندگی کے قیمتی اوقات کو غنیمت جانتے ہوئے اچھے اور نیک کام کرتے رہتے ہیں۔ ایسے کام جن سے اللہ پاک کی رضا اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا قرب حاصل ہو نیز جن سے عوام الناس کو فائدہ پہنچے۔

اور کامیابی اسی کا مقدر بنی ہے جس نے اپنے وقت کی قدر کی ہے ، وقت کو غنیمت جان کر ایک ایک منٹ کو اچھے کاموں میں صرف کیا۔ اپنے وقت کو فضولیات میں نہیں گزارا۔

جس نے وقت کو ضائع کیا ، وقت نے اس شخص کو ضائع کر دیا۔ کیونکہ عربی کا مقولہ ہے کہ الوقت کالسیف ان لم تقطعه قطعك یعنی وقت تلوار کی مثل ہے اگر آپ نے وقت کو صحیح طرح استعمال نہ کیا تو وقت آپ کو برباد کردے گا۔ جو دن زندگی کا آپ کو نصیب ہوا اسی کو غنیمت جان کر کچھ کرو۔ کل کا انتظار مت کرو۔ کیونکہ کل کس نے دیکھی ہے؟ یہ بھی کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ کل لوگ مجھے "جناب" کہ کرکے پکارے گیں یا "مرحوم" کہ کرکے پکاریں گے ، تو پھر کل کا انتظار کیوں ۔ جب آپ کو کل کا ہی معلوم نہیں۔ ایک اٹل حقیقت ہے کوئی بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا کہ ایک دن مرنا ہے ، ضرور مرنا ہے۔


حضرت سیّدنا امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ شعب الایمان میں نقل فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:"روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے،  تو اس وقت دن یہ اعلان کرتا ہے، اگر آج کچھ نیا کام کرنا ہے تو کر لو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا۔"(شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 386، حدیث 3845، دار الکتب العلمیہ بیروت)

سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

اے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: زندگی کا جو دن نصیب ہو گیا، اسی کو غنیمت جان کر جتنا ہو سکے اس میں اچھے کام کرلئے جائیں تو بہتر ہے، کہ کل نجانے لوگ ہمیں "جناب" کہہ کر پکارتے ہیں یا "مرحوم" کہہ کر، کہا جاتا ہے"جو زمانے پر اعتماد کرتا ہے، زمانہ اس سے خیانت کرتا ہے۔"تصوف کے امام حضرت سیّدنا امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:"کیا تم غور نہیں کرتے کہ تم کب سے اپنے نفس سے وعدہ کر رہے ہو کہ کل عمل کروں گا اور وہ کل آج میں بدل گیا، کیا تم نہیں جانتے کہ جو کل آیا اور چلا گیا، وہ گزشتہ کل میں تبدیل ہوگیا، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم آج عمل کرنے سے عاجز ہو، تو کل زیادہ عاجز ہوں گے۔(جوانی کیسے گزاریں، صفحہ 32)

امام بہاؤ الدّین محمد بن احمد مصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب دین و دنیا کی انوکھی باتیں ص83میں نقل فرماتے ہیں:"تجھے تیری صحت و تندرستی اور کل کی اُمید دھوکے میں نہ ڈالے، کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے اور تندرستی ہمیشہ نہیں رہتی۔" ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:"زمانے تین ہیں، ایک وہ جو گزر گیا، پھر لوٹ کر تیری طرف نہیں آئے گا، دوسرا وہ جس میں تو ہے، جو تجھ پر ہمیشہ نہیں رہے گا اور تیسرا آنے والا، جس کا حال تو نہیں جانتا کہ اس میں تیرے ساتھ کون ہوگا۔(دین و دنیا کی انوکھی باتیں، جلد 1، صفحہ 84)

ایک مرتبہ حضرت سیّدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے کسی نے عرض کی، یا امیر المؤمنین! یہ کام کل پر مؤخر کر دیجئے، اِرشاد فرمایا:"میں روزانہ کا کام ایک دن میں بمشکل مکمل کرپاتا ہوں، تو پھر دو دن کا کام ایک دن میں کیونکر کر سکوں گا؟

آج کا کام کل پرنہ چھوڑیں

کل بھی رہے گا یوں ہی ادھورا

(انمول ہیرے، صفحہ16)

اے عاشقانِ صحابہ!آج کا کام آج ہی کرنے کی عادت بنائیں اور کل پر مؤخر نہ کیجئے کہ نہ جانے ہم کل نصیب ہوگی یا نہیں؟ اگر نصیب ہو بھی جائے تو جب ہم آج کا کام ایک دن میں نہیں کر پاتے، تو دو دن کا کام ایک دن میں کس طرح کر سکیں گے؟

اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے

اندھیرا پاکھ آتا ہے کہ دو دن کی جوانی ہے

اللہ پاک ہمیں وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


ہمیں آج کا کام کل پر نہیں چھوڑنا چاہئے،  بلکہ ہمیں آج کا کام آج ہی کرنا چاہئے، ہمیں کیا معلوم کہ کل ہمارے ساتھ کیا ہوگا، ہم زندہ ہوں گے یا نہیں اور اگر آج کا کام کل پر چھوڑیں گے، تو کل کے بھی تو کام ہوں گے، اس طرح کل کے جو ہمارے کام ہوں گے، وہ بھی نہ ہو سکیں گے، اس طرح کرنے سے ہمارا کل کا جدول بھی خراب ہو گا، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اپنا آج کا کام کل پر نہ چھوڑتے، ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ علیہ کام میں مصروف تھے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ تھوڑی دیر کے لئے سیر و تفریح کے لئے چلے جائیں، تو آپ نے فرمایا کہ میرا آج کا کام تم لوگ کرو گے؟ انہوں نے کہا" کہ آپ اپنا آج کا کام کل کر لیجئے گا"، تو آپ نے فرمایا : کہ میں ایک دن کا کام بمشکل کرتا ہوں، تو دو دن کا کام اکٹھا کیسے کروں گا۔

ہمیں آج کا کام آج ہی کرنا چاہئے، ایسے کل کریں گے، کل کریں گے، ایسا کرنے سے بعد میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسے پھر بہت سارے کام اکٹھے ہمارے سر پر آ جاتے ہیں اور پھر ہم کر نہیں سکتے۔مثال کے طور پر اگر طالب علم اپنا روز کا سبق یاد نہ کرے، بلکہ یہ کہتا رہے کہ کل کر لوں گا، تو اس طرح کرنے سے امتحان سر پر آ جائیں گے اور اسے سارا اکٹھا یاد کرنا ہوگا اور سارا سب سبق اکٹھا یاد کر نہیں پاتا، تو اس طرح پھر امتحان میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ایسے لوگ جو کہتے ہیں کہ کل کر لیں گے، کل کرلیں گے، تو کل تو کبھی آئے گا ہی نہیں اور وہ خود کو بھی پریشان کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی پریشان کیا ہوتا ہے، ہمیں اس طرح کرنے سے بچنا چاہئے۔

حضرت امام ابنِ جوزی رحمۃ اللہ علیہ منہاج القاصدین میں فرماتے ہیں کہ "جو شخص یہ کہتا ہے کہ ابھی رہنے دو کل کرلیں گے، تو وہ ایک ایسا آدمی ہے جو درخت کو کاٹنے کے لئے جاتا ہے، اور درخت کو کاٹنا چاہتا ہے، لیکن وہ دیکھتا ہے کہ درخت بڑا مضبوط ہے، اس سے کٹتا نہیں ہے، تو وہ یہ سوچ کر چلا جاتا ہے کہ اگلے سال اسے آکر کاٹ لوں گا، آپ فرماتے ہیں کہ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اگلے سال جب آؤں گا، تو درخت مزید مضبوط ہو جائے گا، اور میری عمر بڑھ جائے گی اور میرے اندر مزید کمزوری آ جائے گی، تو پھر اسے کاٹنا دشوار اور مشقت والا عمل ہوجائے گا۔

اس طرح بعض لوگ اپنے فرائض و واجبات کو بھی یہی سوچ کر ترک کردیتے ہیں کہ کل کرلیں گے، نماز نہیں پڑھتے اور یہ کہہ کر کہ ابھی تو نوجوان ہیں، بعد میں پڑھ لیں گے، ابھی تو پوری عمر باقی ہے، بعد میں پڑھ لیں گے۔

ایسے لوگوں کو چاہئے کہ توبہ کریں اور آج سے ہی شروع کریں، کیا معلوم کہ کس وقت موت کا پیغام آجائے کیونکہ موت نہ تو جوانی کا لحاظ کرتی ہے، نہ بڑھاپے کا اور پھر جوانی میں جتنی طاقت ہوتی ہے، بڑھاپے میں اتنی نہیں، بلکہ بڑھاپے میں اعضاء بھی کمزور ہوجاتے ہیں، تو بڑھاپے میں تو ہم ادا نمازیں ہی بمشکل پڑھ سکیں گے، تو وہ جوانی والی قضاء نمازیں کیسے لوٹائیں گے، بلکہ ہمیں ایک جدول بنا لینا چاہئے اور اس کو کہیں سامنے لگا دیں، جس پر ہر وقت ہماری نظر پڑتی رہے اور پھر ہر کام اسی جدول کے مطابق کریں، تو ہمیں پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے گا۔اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


جوشخص کہتا ہے"ابھی رہنے دو،  ابھی رہنے دو، بعد میں کرلیں گے"ایسے افراد ہمارے گھروں، اسکولوں، دکانوں، شہر وغیرہ میں رہ کر ہمارے معاشرے کو خراب کر رہے ہیں اور خود کو بھی مشکل میں ڈالتے ہیں، امام ابنِ جوزی نے بڑی پیاری بات لکھی ہے:"جو شخص کہتا ہے، ابھی رہنے دو، کل کرلیں گے، وہ ایسا آدمی ہے جو کسی درخت کو کاٹنے جاتا ہے اور درخت مضبوط ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ "چلو اسے اگلے سال کاٹ لوں گا"، وہ یہ نہیں سوچتا کہ اگلے سال درخت زیادہ مضبوط ہو جائے گا اور میری عمر بڑھ جائے گی اور کمزوری مجھ میں آ جائے گی اور پھر وہ کاٹنا نہایت دشوار اور مشقت والا ہو جائے گا، اس طرح یہ جو ٹال مٹول اور سُستی کا جو معاملہ ہے، یہ اس طرح ہے کہ آنے والے وقتوں میں ہمارا کام مشکل سے مشکل ترین ہوتا چلا جاتا ہے۔ حضرت عبدالعزیز کے بارے میں آتا ہے کہ آپ کو کسی نے کہا کہ آج کا کام کل پر رکھ دیں، کل کر لیجئے گا تو آپ نے فرمایا:کہ نہیں میرے سے تو ایک دن کا کام بہت مشکل سے ہوتا ہے، کل جب دو دن کا کام جمع ہو جائے گا تو میں وہ کیسے کروں گا۔"

امیراہلسنت کا معمول ہے کہ اگر آپ نے مغرب اور عشاء کے درمیان کھانا نہیں کھایا، تو مثال کے طور پر اگر آپ کہیں، ابھی رہنے دو بعد میں کھالیں گے، تو جو جدول ہمارے سامنے ہے تو بعد میں کھائیں گے کب! بعد میں کھانے کا ٹائم نہیں ہے، یہی ایک کھانا کھانے کا وقت ہے، ایک وقت میں اگر یہ کام نہیں کیا تو دوسرے وقت میں وہ کام کرنے کی گنجائش نہیں کہ وہ وقت تو کسی اور کام کے لئے ہم نے مخصوص کر دیا ہے، اب یہ کہ یہ جو مزاج ہے، اس میں تبدیلی ضروری ہے، کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد جب وہ کام کیا جاتا ہے، تو نقصان ہوتا ہے، اگر واقعی آپ نے اپنے اندر وقت کی پابندی اور ہر کام کو اس کے وقت پر کرنے کا مزاج پیدا کرنا ہے، تو نماز کی عادت بنانی ہوگی، یعنی اُسے قضا کرنے کے بجائے اس کے وقت پر پورا کرنا چاہئے، کیونکہ یہ معمول انسان کو وقت کا پابند بناتا ہے۔