قرآنِ حکیم اللہ رب العزت کی وہ لاریب، مقدس اور کامل و اکمل کتاب ہے کہ اس میں ہرشے کا تفصیلا ًبیان ہے ۔اللہ کریم نے سورۃ النحل آیت نمبر89 میں تبیانا لکل شئ کہ اس میں ہر چیز کے روشن بیان کا ذکر فرمایا ۔سورۂ یوسف آیت نمبر111 میں وتفصیلالکل شئ یعنی اس میں ہرشے کی تفصیل کا ذکر کیا، اور سورۂ انعام آیت نمبر38 میں ما فرطنا فی الکتاب من شئ کہ ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں اٹھا رکھی یعنی جس کا صراحۃیا کنایۃ بیان نہ فرمایا ہے، ان آیت کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کائنات میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کا استخراج یا استنباط قرآن ِکریم سے نہ کیا جاسکتا ہو۔قرآنِ حکیم میں ولارطب ولا یابس کہہ کرہرچیز کی طرف اشارہ کردیا گیاچاہے وہ نباتات ہوں یا جمادات،انسان ہو یا حیوان، جنات ہوں یا فرشتے، مشروبات یا ماکولات ، زمینی ہوں یا آسمانی تخلیقات ،اس جہاں سے تعلق ہو یا اس جہاں سے الغرض سب کا بیان ہے، انہی اشیاء میں سے دھاتیں بھی ہیں ۔کلام ِالٰہی میں ان کا ذکر بھی ملتا ہے۔ متعدد کے نام اور ان کے کام بھی بیان ہوئے ہیں ۔قرآنِ حکیم میں جن دھاتوں کا ذکر ہے اس میں سونا چاندی لوہا، ، تانبا،شامل ہیں۔سوناایک ایسی نعمت ہے جس کا ذکر قرآنِ کریم میں ہوا۔یہ ایک قیمتی دھات ہے جس کے کئی مصارف ہیں، ایک تو زیورات وغیرہ بنانا ہے، دوم : گذشتہ ادوار میں کاروبار سونے اور چاندی کے سکوں سے ہوا کرتا تھا ۔ دنیا میں اس کا حصول مومن و کافر سب کے لیے ممکن ہے لیکن آخرت میں فقط مومنین کے لیے ہوگا۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :اہلِ جنت کے لیے جنت میں یحلون فیھا من اساور من ذھب کہ انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ دنیا میں لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت داخل کر دی گئی ہے۔ فرمانِ باری ہے:زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر۔اگرچہ اسے زینت اور متاع ِ دنیا کہا گیا ہے مگردنیا میں امت کے مردوں کے لیے سونا اور ریشم کا پہننا حرام ہے، جب کہ عورتوں کے لیے حلال ہے آخرت میں ہردو کو یہ نعمتیں عطا کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ قرآنِ کریم میں ہمیں چاندی کا ذکر ملتا ہے۔اس دھات اور نعمت کا تعلق بھی دنیا اور آخرت دونوں سے ہے، چاندی سے زیورات اور متعدد اشیاء بنائی جاتی ہیں ،بادشاہ سونے اور چاندی کے ظروف بھی استعمال کرتے تھے مگر شریعتِ مطہرہ نے اس سے منع فرمایا ہے البتہ جنت میں اہلِ جنت کو چاندی کے برتنوں میں کھلایا پلایا جائے گا۔اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ(15)قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا(16)ترجمۂ کنزالایمان:اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کوزوں کا دور ہوگا جو شیشے کے مثل ہورہے ہوں گےکیسے شیشے چاندی کے ساقیوں نے انہیں پورے اندازہ پر رکھا ہوگا۔اس کے علاوہ سورۃ الدھر میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وحلوا اساور من فضة انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے۔دنیا میں ان دھاتوں کا مالک بننے والے مسلمان کے لیے اگر وہ صاحبِ نصاب ہو جائے تو زکوٰۃ ہوگی اور اگر راہِ خدا میں خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اس کا حق ادا نہیں کرے گا تو قرآنِ کریم کا اعلان ہے:وَالَّـذِيْنَ يَكْنِزُوْنَ الـذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَـهَا فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ فَبَشِّرْهُـمْ بِعَذَابٍ اَلِيْـمٍ (34)وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔اس کے علاوہ بھی کچھ مقامات پر قرآنِ کریم میں سونے اور چاندی کا ذکر ہے جیسا کہ کفار کے متعلق رب کریم کا فیصلہ ہے:اِنَّ  الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ ؕ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(91)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرگئے ان میں سے کوئی اگرچہ اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں پوری زمین کے برابرسونا بھی دے تو ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا ۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ قرآنِ کریم میں جن دھاتوں کا ذکر ہے ان میں لوہا بھی شامل ہے ۔لوہا میں انتہائی سخت قوت ہے اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان اور جنگی لباس بھی بنایا جاتا ہے اوردیگر کئی صنعتوں میں بھی کام آتا ہے ۔ قرآنِ کریم میں اس کا بیان بھی متعدد بار وارد ہوا ہے،چنانچہ سورہ ٔحدید آیت نمبر 25میں لوہے کا اور اس کی افادیت اور استعمال کا تذکرہ بھی موجود ہے،چنانچہ فرمایا:وانزلنا الحدید فیہ باس شدید و منافع للناس اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی (کا سامان )ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں ۔اس کے علاوہ سورۂ اسراء آیت نمبر 50میں جہاں کفار کے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر تعجب کا اظہار ہے وہیں ارشاد رب العالمین ہے کہ پتھر یا لوہا بن جاؤ وہ رب پھر بھی اٹھانے پر قادر ہے ۔قل کونوا حجارة أو حدیدا تم فرماؤ کہ پتھر بن جاؤیا لوہا ۔ ایک مقام پر کلام ِالٰہی میں اہلِ جہنم کی سزا کے بیان میں وارد ہوا ہے :وَلَهُمْ مَقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍاور  ان کے لیے لوہے کے گرز (ہتھوڑے) ہیں ۔ الآيۃ 21 من سورة الحج۔اسی طرح سورۂ کہف آیت نمبر 95 میں لوہے کا ذکر بھی ہے اور تانبے کا بھی ۔ جب یاجوج ماجوج سے قوم تنگ ہوئی تو بادشاہ ذوالقرنین نے قوم اور ان کے درمیان دیوار بنانے کے لیے کہا۔ ارشاد ربانی ہے:اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا ۙقَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًا(96)میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ یہاں تک کہ جب وہ دیوار دونوں پہاڑوں کے کناروں کے درمیان برابر کردی تو ذوالقرنین نے کہا: آگ دھنکاؤ۔ یہاں تک کہ جب اُس لوہے کو آگ کردیا توکہا : مجھے دو تا کہ میں اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبہ اُنڈیل دوں ۔ اسی طرح سورہ ٔسبا میں لوہے کا ذکر موجود ہے ۔کلامِ الٰہی میں وارد ہے:اللہ پاک کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا ۔وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوُوْدَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ اَوِّبِىْ مَعَهٝ وَالطَّيْـرَ ۖ وَاَلَنَّا لَـهُ الْحَدِيْدَ (10)اور بیشک ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے بڑا فضل دیا۔ اے پہاڑواورپرندو!اس کے ساتھ (اللہ کی طرف) رجوع کرو اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کردیا۔اس کے علاوہ قرآنِ کریم میں جن دھاتوں کا ذکر ہے ان میں ایک تانبا بھی ہےاس کا ذکر ہم سورہ ٔکہف کی آیت نمبر 95 میں لوہے کے ذکر کے ساتھ دیکھ چکےاس کے علاوہ سر زمینِ یمن میں سلیمان علیہ السلام کے لیے اللہ پاک نے تانبے کو 3 دن کے لیے پانی کی طرح کر دیا اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جیسے داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا ایسے ہی سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ میں تانبا نرم ہوجاتا تھا۔سورۂ سبا میں ارشاد ربانی ہے:وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ: اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہادیا۔


قرآنِ کریم میں ہر شے کا بیان موجود ہے ۔اللہ پاک نے ہرہر چیز کو قرآنِ کریم میں بیان کیا ہے جیسے نماز، روزہ، وضو، تیمم، حج وغیرہ وغیرہ  ایسے ہی قرآنِ کریم میں مختلف قسم کی دھاتوں کا ذکر ہے ۔قرآن ِمجید ،فرقانِ حمید میں چار قسم کی دھاتوں کا ذکر ہے: لوہا ، سونا ، چاندی اور تانبا ۔قرآنِ کریم میں پارہ 27 سورۂ حدید کی آیت نمبر 25 میں ارشادِ ربانی ہے :وَاَنۡزَلۡنَاالۡحَـدِيۡدَترجمہ ٔکنزالایمان : اور ہم نے لوہا اتارا ۔اس کی تفسیر میں مفسرین فرماتے ہیں : لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے ،یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازو سامان تیار کیےجاتے ہیں اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بھی بہت کام آتا ہے ۔ بحوالہ تفسیر صراط الجنان جلد 9 صفحہ 752اور سونا اور چاندی کے بارے میں پارہ 3 سورہ ٔالِ عمران کی آیت نمبر 14 میں ارشادِ ربانی ہے:زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالۡفِضَّةِ ترجمۂ کنزالایمان:لوگوں کیلیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر ۔معلوم ہوا ! اللہ پاک نے سونا اور چاندی کا بھی ذکر فرمایا ہے اور جیسے لوہا بہت کام کی چیز ہے ایسے ہی لوگ سونا چاندی سے بھی فوائد حاصل کرتے ہیں کہ عورتیں ان کا زیور پہنتی ہیں اور اس کے ذریعے زیب و زینت حاصل کرتی ہیں اور ایک دوسرے مقام پر اللہ پاک نے پارہ 15 سورۃالکہف کی آیت نمبر 29 میں تانبے کے بارے میں ارشاد فرمایا :وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًاۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَاؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕترجمۂ کنزالایمان : اور فرمادو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے بیشک ہم نے ظالموں کیلئے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگر پانی کیلئے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دیئے ( کھولتے ہوئے ) دھات ( تانبے ) کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دےگا ۔مفسرین فرماتے ہیں :آیت میں ظالم سے مراد کافر ہیں کہ اللہ پاک نے ان کے لئے یعنی کافروں کیلیے آگ تیار کر رکھی ہےاور اگر وہ پانی کیلئے فریاد کریں گے تو انہیں جو پانی دیا جائے گا وہ پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا ۔اللہ پاک ہم سب کو عذابِ جہنم سے محفوظ فرمائے ۔آمین 


قرآنِ مجید کلامِ الٰہی ہے جو لوگوں کو خیر اور شر میں فرق کرنے کی صلاحیت بخشتا ہے اور تمام بنی نوعِ انسان کے لیے ہدایت کا دائمی ذریعہ ہے۔ یہ قرآن کا اعجاز ہے کہ اس میں ہر چیز کا  واضح بیان موجود ہے جیسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء(سورۃ النحل :89)ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا جو ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ بالکل اسی طرح قرآنِ کریم میں دھاتوں کا تذکرہ بھی موجود ہے اور ایک پوری سورت ہی دھات کے نام پر نازل ہوئی جس کا نام سورۃ الحدید ہے۔ قرآنِ پاک میں کل 4 دھاتوں کے نام آئے ہیں: 1 لوہا 2 تانبا 3 سونا 4 چاندی۔سورۃ الحدید ،آیت 25 میں لوہےکا ذکر آیا ہے ۔ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے لوہا اتارا اور اس میں سخت لڑائی( کا سامان)ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے لوگوں کے لیے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کو اس کی صنعت کا علم دیا ۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا : اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں زمین پر اتاریں: 1 لوہا 2 آگ 3 پانی 4 نمک۔ لوہے کے فائدے یہ ہیں کہ اس میں سخت قوت ہے اور اسی سے جنگی سازوسامان بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ لوہا دیگر صنعتوں اور پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔(تفسیرِ صراط الجنان جلد9 ،ص 751 ،752 )سورۃ الکہف آیت 29 میں تانبے کا ذکر آیا ہے۔وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ ؕترجمۂ کنز العرفان:اگر وہ پانی کے لئے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے منہ کو بھون دے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:وہ روغن زیتون کی تلچھٹ( وہ چیز جو پانی وغیرہ میں حل نہیں ہوتی) کی طرح گاڑھا پانی ہے۔ترمذی شریف کی حدیث میں ہے : جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی اور بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ وہ پگھلایا ہوا رانگ (ایک نرم دھات) یا پیتل ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان جلد5 ،ص 561،562)سورۂ الِ عمران آیت میں سونے اور چاندی کا ذکر آیا ہے۔زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚوَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ترجمۂ کنزالعرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کر دیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کیے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں کو (ان کے لیے آراستہ کردیا گیا) یہ سب دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور صرف اللہ پاک کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے لئے ان کی من پسند چیزوں کو خوش نما بنا دیا گیا چنانچہ اور عورتوں ،مال واولاد، سونا ،چاندی، کاروبار اور عمدہ سواریوں کی محبت لوگوں کے دل میں رچی ہوئی ہے ۔ ان چیزوں کو آراستہ کرنے اور ان کی محبت کو دل میں پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں میں فرق ہو جائے ۔(تفسیرِ صراط الجنان جلد1،ص 509)اس آیت میں ہمارے لئے بہت اعلیٰ درس ہے کہ انسان کو دنیا کی زینت اور خوشنمائی میں اتنا غرق نہیں ہونا چاہیے کہ اللہ پاک کو فراموش کر بیٹھے۔ آخر میں اللہ پاک ہمیں بھی قرآن میں غور وفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں! اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار!


قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے:وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ (پارہ14 النحل89)ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔قرآنِ کریم اگرچہ ظاہر میں 30 پاروں کا مجموعہ ہے لیکن اس کا باطن کروڑوں بلکہ اربوں علوم و معارف کا ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ تمام علوم قرآن میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ درحقیقت قرآنِ کریم میں پوری کائنات اور سارے عالم کی ہر ہر چیز کا واضح، روشن اور تفصیلی بیان ہے۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن ص 419)یہاں قرآنِ کریم کی وہ آیتیں درج کی جاتی ہیں جن میں صراحتاً (یعنی واضح طور پر) کسی نہ کسی دھات کا ذکر ہے۔1لوہا:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ(پارہ 2٧ الحدید 25)ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے لوہا اتارا،اس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔مفسرین نے فرمایا : یہاں آیت میں اتارنا پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے مَعادِن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا۔ لوہے کافائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔(تفسیر صراط الجنان، الحدید،تحت الآیۃ 25)2سونا:یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ(پارہ 15 الکھف 31)ترجمۂ کنز العرفان: انہیں ان باغوں میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ جنتیوں کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ سونا ایک مفرد زرد رنگ کی دھات ہے جو پانی سے 19 گنا بھاری ہے۔ اس کے زیورات اور سکے بنتے ہیں۔ یہ ان چند دھاتوں میں سے ہے جو کسی ایک تیزاب میں نہیں گھلتے۔ دو تیزابوں کے مرکب میں گھلتے ہیں۔ اس کے نہایت باریک تار کھینچے جاسکتے ہیں اور باریک ورق بنائے جاسکتے ہیں۔خیال رہے کہ دنیا میں سونے کا استعمال مردوں کیلئے حرام ہے۔ سونے کے زیورات مرد پر حرام ہیں ورنہ سونے کی اشیاء عورتوں کے لیے بھی ممنوع ہیں۔3چاندی:وَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ (پارہ 29 الدھر 15)ترجمۂ کنز العرفان:اور ان پر چاندی کے برتنوں اورگلاسوں کے دَور ہوں گے جو شیشے کی طرح ہوں گے۔آیت مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ پاک کے نیک بندوں پر چاندی کے برتنوں اور گلاسوں میں جنتی شراب کے دَور ہوں گے اور وہ برتن چاندی کے رنگ اور اس کے حسن کے ساتھ شیشے کی طرح صاف شفاف ہوں گے۔(تفسیر صراط الجنان بحوالہ خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 1516، 4/340، مدارک، الانسان، تحت الآیۃ: 1516، ص1307، ملتقطاً)چاندی ایک سفید رنگ کی قیمتی دھات ہے جو کان سے نکلتی ہے اور بیشتر زیورات، سکے اور نازک قسم کے برتن وغیرہ بنانے کے کام میں آتی ہے۔ یہ ایک سفید عنصر دھات ہے جو پانی سے ڈیڑھ گنا بھاری ہے۔ تانبے وغیرہ کی چیزوں پر اس کاملمع کرتے ہیں۔4سیسہ:اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ (پارہ 28 الصف 4)ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔سیسہ ایک دھات کا نام ہے جو رانگ کی قسم میں سے نیلاہٹ لئے ہوئے ہوتی ہے۔ بندوق کی گولیاں اسی سے بناتے ہیں۔5تانبا:قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ (پارہ 16 الکھف 96)ترجمۂ کنز الایمان: کہا لاؤ میں اس پر گلا ہوا تانبہ اُونڈیل دوں۔تانبا ایک سرخی مائل دھات ہے جو کانوں میں پائی جاتی ہے جسے تار کی شکل میں کھینچا جاسکتا ہے، اسے خالص کے علاوہ پیتل اور کانسی وغیرہ مختلف بھرتوں میں استعمال کیا جاتا ہے، سونے میں بھی صلابت پیدا کرنے کے لیے کام میں لاتے ہیں۔نیز یہ ایک سرخی مائل عنصر دھات ہے جو کافی مرکبات میں پائی جاتی ہے۔ یہ پانی سے نوگنا بھاری ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے برتن عموماً اسی کے بنتے ہیں۔


قرآنِ پاک اللہ پاک کی آخری اور جامع کتاب ہے جو ساری مخلوق کی اصلاح و رہنمائی کے لئے آخری نبی صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل ہوئی۔یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس میں پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام حالات، پاکیزگی و طہارت، دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے، روزی کمانے اور خرچ کرنے، سیاست اور حکومت وغیرہ ہر چیز کا بیان ہے۔انہی میں سے ایک بیان دھاتوں کے بارے میں بھی ہے۔چنانچہ قرآن ِپاک میں 4 دھاتوں کا بیان ہے۔(1،2)سونا اور چاندی:قرآن ِپاک میں ایک سے زائد مقامات پر سونا چاندی کا ذکر ہے۔ چنانچہ ایک آیت میں ہے:ترجمۂ کنز العرفان: اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر رکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔(التوبۃ:34)سونا قدرتی طور پر زمین کی تہوں کی گہرائی میں پایا جاتا ہے اور وہاں پر یہ پانی ،پگھلا لاوا اور زلزلوں کی وجہ سے منتقل ہوتا ہے۔ اور چاندی اپنی خالص شکل میں آتش فشاں چٹانوں میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر چاندی کچ دھاتوں سے بطور پروڈکٹ حاصل کی جاتی ہے۔استعمال:سونا عام طور پر خوبصورتی کے لئے، کمپیوٹر اور الیکٹرونکس، موبائلوں میں اور شیشہ بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی سونا استعمال کیا جاتا ہے۔ چاندی یہ زیورات اور چاندی کے دسترخوان کے لئے استعمال ہوتا یے۔یہ بھی آئینہ بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ چیزوں کا بہترین عکس دکھاتا ہے۔اس کے علاوہ اس کے مزید بھی استعمال ہیں۔(3)تانبا:اس کا ذکر سورۂ کہف کی آیت 96 میں حضرت ذوالقرنین کے قول میں کیا گیا ہے:ترجمۂ کنز العرفان:تو کہا :مجھے دو تاکہ میں اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبا انڈیل دوں۔تانبا یہ سرخی مائل ایک نرم دھات ہے۔ جو آتش فشاں چٹانوں کے ماحول میں پایا جاتا ہے۔ استعمال:تانبا زیادہ تر بجلی کے آلات جیسے وائرنگ میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ گرمی اور بجلی دونوں کو اچھی طرح چلاتا ہے۔مزید یہ تعمیرات اور مشینوں اور دیگر استعمال کی اشیاء میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(4) لوہا۔ اس کا ذکر قرآن ِپاک میں یوں ہے:ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے لوہا اتارا،اس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔(الحدید:25)اس آیت کی تفسیر میں صراط الجنان میں لکھا ہے کہ لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے۔ یہہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازو سامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشیوں میں بہت کام آتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،نبیِ اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں:(1)لوہا۔(2)آگ۔(3)پانی۔(4)نمک۔( مسند الفردوس، باب الالف،1/175، الحدیث: 656)اللہ پاک ہمیں قرآن ِپاک کو پڑھنے اور سمجھنے کے ساتھ عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


قرآن ِمبین میں ہر شے کا بیان موجود ہے خواہ وہ وضاحت و صراحت کے ساتھ ہویا اشارہ و کنایہ کے ساتھ مگر ہر شے کی تفصیل اور ہر خشک وتر کا بیان اس میں موجود ہے چنانچہ رب العٰلمين نے قرآن ِمبین میں ارشاد فرمایا:وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(سورۃ انعام:59)ترجمۂ کنز الایمان:اور نہ کوئی تر اور نہ خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا نہ ہو یعنی قرآنِ پاک میں ہر خشک وتر کے بارے میں اللہ پاک نے بیان فرما دیا۔ دھات((Metalوہ کیمیائی عنصر(chemical element) ہوتا ہےجس میں حرارت (heat) اور بجلی (electricity) چلانے کی صلاحیت ہوتی ہے ۔قرآنِ پاک میں دھاتوں کے بارے میں بھی بیان موجود ہے۔ چنانچہ چار دھاتوں کا ذکر واضح طور پر ہے اور وہ درج ذیل ہیں۔ سونااور چاندی: ان دونوں دھاتوں کا ذکر سورۂ توبہ کی آیت نمبر 34 میں یوں ہوا وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی ۔ یہ دونوں دھاتیں تمام دھاتوں میں اپنی خصوصیات کی بنا پر بہت قیمتی ہیں اس پر دورِ حاضر میں ملک کی معیشیت کا مدار ہوتا ہے۔یہ زیادہ تر زیورات بنانے کے کام آتیں اور زینت کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ حضور صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دور میں یہ بطورنقدی(currency) درہم و دینار(چاندی اور سونے کے سکّے)بھی استعمال ہوتے تھے۔سونا چٹانوں میں ذروں یا پتھروں جیسی شکل میں، آزاد حالت (free state)میں پایا جاتا ہے ۔مگر چاندی مرکب حالت(compound state) میں پائی جاتی ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ سونا چین اور اس کے علاوہ کینیڈا، روس اور پیرو بھی اس فہرست میں شامل ہیں،جب کے چاندی ایران،جرمنی، سنگاپور،میکسیکومیں زیادہ پائی جاتی ہے۔ تانبہ : سورہ ٔکہف کی آیت نمبر96میں تانبہ کا ذکر یوں ہوا کہ قَالَ اٰتُوْنِیْ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًا ترجمۂ کنز الایمان:کہا لاؤ میں اس پر گلا ہوا تانبہ اُونڈیل دوں۔تانبہ(copper)مضبوط دھات ہے۔ جو بڑے پیمانے پر کیبلز(cables) ، ہائی ولٹیج لائنز (high voltage lines)،سکوں (coins)، چابیوں(keys)،موبائل فونز،زیورات،برتن،ورق(metallic sheet)وغیرہ کی پیداوار میں مفید ہے۔ اس کے سب سے بڑے مخرج چلی کے صحرا اٹاکاما میں واقع ہےجس میں سب سے زیادہ تانبہ کی پیداوار ہوتی ہے۔لوہا: سورۂ حدید کی آیت نمبر25 میں لوہے کا ذکر یوں ہوا:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے لوہا اُتارا۔لوہے کافائدہ یہ ہے کہ اس میںانتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کیلئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔ (تفسیرصراط الجنان،سورہ ٔحدید آیت 25 ) ضروریاتِ زندگی کے ہزاروں سامان ایسے ہیں جو بغیر لوہے کے تیار ہی نہیں ہو سکتے۔ اس لئے قرآنِ مجید میں فرمایا گیا ہے:وَمَنَافِعُ لِلنَّاس(سورۂ حدید:25)ترجمۂ کنز الایمان:اور لوگوں کے فائدے ۔ اس لوہے میں لوگوں کے لئے بے شمار فوائد و منافع ہیں۔ برازیل اور آسٹریلیا میں سب سے زیادہ اور بڑی لوہے کی کانیں ہیں۔ بہرحال یہ سبھی دھاتیں اللہ پاک کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمت ہے۔ لہٰذاہمیں ان سے حاصل بے شمارفوائد کو دیکھ کر خداوندِ قدوس کی اس نعمت کا شکر ادا کرنا چاہے۔الحمدللہ بکل نعم ۃ۔


قرآن ِکریم اللہ پاک کی وہ سب سے آ خری اور مستند کتاب ہےجسے انسانوں کی دینی،اخلاقی،سماجی اور معاشرتی ہدایت کے لئے آ خری نبی، حضرت محمد مصطفیٰ  صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل کیا گیا، قرآن ِپاک ایک بے مثل کتاب ہے، یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر ہر پہلو کی وضاحت موجود ہے ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:قرآنِ مجید ہر نافع علم پر مشتمل ہے، یعنی اس میں گزشتہ واقعات کی خبریں اور آئندہ ہونے والے واقعات کا علم موجود ہے، ہر حلال و حرام کا حکم اس میں مذکور ہے اور اس میں تمام چیزوں کا علم موجود ہے، جن کی لوگوں کو اپنے دنیوی، دینی، معاشی اور اُخروی معاملات میں ضروت ہے۔قرآنِ کریم ایک ایسی بے مثل و بے مثال کتاب ہے، جس میں کھانے پینے کی اشیا سے لے کر سونا، چاندی، دھاتوں تک کا ذکر ہے، دھاتیں بہت قیمتی ذخائر میں سے ہیں، کسی ملک کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک ان پر ہوتا ہے، جن ممالک میں معدنی ذخائر موجود ہوتے ہیں، ان کی ترقی کا گراف بھی بہت بلند ہوتا ہے، قرآن ِپاک میں بھی ان دھاتوں کا ذکر ہے:وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَ ۙ وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِـُٔوْنَ ۙوَ زُخْرُفًا ؕوَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ترجمہ:اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ضرور رحمن کے منکروں کے لئے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے، جن پر چڑھتے اور ان کے گھروں کے لئے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگانے اور طرح طرح کی آ رائش اور یہ جو کچھ ہے، جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے اور آ خرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لئے ہے۔(پارہ 25،سورۃ الزخرف، آ یت نمبر 34،35)تفسیر صراط الجنان :یہ سونا چاندی دنیاوی مال و دولت ہے، کافروں کا مال ودولت، عیش و عشرت دیکھ کر اگر سب لوگ کافر ہو جائیں گے تو ضرور ہم کافروں کو اتنا سونا چاندی دیتے کہ وہ ا نہیں پہننے کے علاوہ ان سے اپنے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے، لیکن یہ سب دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے آخرت تمہارے ربّ کے پاس ہے۔چاندی:اس آیتِ مبارکہ میں چاندی کا ذکر ہے، یہ بھی ایک دھات ہے، یہ پہاڑوں، دریاؤں کے کنارے پائی جاتی ہے، یہ سونے کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے، اس سے زیورات بنائے جاتےہیں۔فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ۔ترجمۂ کنزالعرفان:تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کےپاس رہتے۔(پارہ 25،سورۃ الزخرف، آ یت نمبر 53)تفسیر صراط الجنان: فرعون نے کہا کہ اگر حضرت موسی علیہ السلام سچے ہیں تو اللہ پاک نے انہیں ایسا سردار بنایا ہے، جس کی اطاعت واجب ہے تو انہیں سونے کا کنگن کیوں نہیں پہنایا؟فرعون نے یہ بات اپنے زمانے کے دستور کے مطابق کہی کہ اس زمانے میں جس کسی کو سردار بنایا جاتا تھا تو اسے سونے کا کنگن اور سونے کا طوق پہنایا جاتا تھا۔سو نا:اس آیت ِمبارکہ میں سونے کا ذکر ہے، یہ بہت قیمتی دھات ہے، یہ پہاڑوں اور دریاؤں سے ملتا ہے اور اس کو تلاش کرکے نکالنے تک مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس سے زیورات بنائے جاتے ہیں، جس سے زینت حاصل کی جاتی ہے، ہمارے ملک پاکستان میں کافی مقامات سے سونا دریافت ہوتا رہتا ہے۔

اِنَّ شَجَرَتَ الزقُوم طعام الاثیم کا المھل یغلی فی البطون کغلی الحمیم۔ترجمۂ کنزالعرفان:بے شک زقوم کا درخت گناہگار کی خوراک ہے، گلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹوں میں جوش مارتا ہوگا، جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک جہنم کا کانٹے دار اور انتہائی کڑوا زقوم نام کا درخت بڑے گناہ گار یعنی کافر کی خوراک ہے اور جہنمی زقوم کی کیفیت یہ ہے کہ گلے ہوئے تانبے کی طرح کفار کے پیٹوں میں ایسے جوش مارتا ہوگا، جیسے کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔تانبا:تا نبابھی ایک دھات ہے، اس سے مختلف اشیاء بنائی جاتی ہیں، تانبے کے برتن بھی بنائے جاتے ہیں، خصوصاً بجلی کی تاریں بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس سے پرانے زمانے میں سکے اور برتن بنائے جاتے تھے۔اتونی زبر الحدید حتی اذا ساوی بین الصدفین قال انفخوا حتی اذا جعلہ نارا قال اتونی افرغ علیہ قطرا فما السطاعوان یظھرو ہ ومستطاعوا لہ نقبا۔ترجمۂ کنزالعرفان:میرے پاس لوہے کے ٹکڑے لاؤ، یہاں تک کہ جب وہ دیوار دونوں پہاڑوں کے درمیان برابر کردی تو ذوالقرنین نے کہا آگ بھڑکاؤ، یہاں تک کہ جب اس لوہے کو آگ کر دیا تو کہا مجھے دو، تاکہ میں اس گرم لوہے پر پگھلایا ہوا تانبہ انڈیل دوں تو یاجوج ماجوج اس پر نہ چڑھ سکے اور نہ اس میں سوراخ کر سکے۔تفسیر: حضرت ذوالقرنین نے لوگوں سے کہا کہ میرے پاس پتھر کے سائز کے لوہے کے ٹکڑے لاؤ، جب وہ لے آئے تو ان سے بنیاد کھدوائی، جب وہ پانی تک پہنچی تو اس میں پتھر پگھلائے ہوئے تانبے سے جمائے اور لوہے کے تختے اوپر نیچے چُن کر ان کے درمیان لکڑی اور کوئلہ بھروا دیا اور آگ دے دی، اس طرح یہ دیوار پہاڑ کی بلندی تک اونچی کردی گئی۔لوہے:لوہا بھی ایک دھات ہے، اس کے ذخائر ہوتے ہیں، پاکستان میں کئی مقامات سے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، چترال میں اچھی قسم کا لوہا دریافت ہوا ہے، لوہے سے مشین اور دیگر استعمال کی چیزیں بنائی جاتی ہیں، یہ بھی ملک کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پاکستان میں لوہے کے ذخائر وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔اللہ پاک نے انسانوں کی بھلائی کے لئے ایسی اشیا پیدا کی ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی راہ پر گامزن ہواجاسکتا ہے، جن ممالک میں ان دھاتوں کے ذخائر پائے جاتے ہیں، وہاں ترقی کا گراف بلند ہوتا ہے، ہمارا ملک پاکستان معدنی ذخائر سے مالا مال ہے، سونا،چاندی، خام، لوہا یہاں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔


قرآنِ کریم اللہ پاک کی جانب سے عطا کردہ کتاب ہے اور اس میں انسان کی پیدائش سے قیامت تک کے تمام احوال کا بیان ہے، مطلب یہ ہے کہ ربّ کریم نے قرآن ِکریم میں ہر ہر شے کا ذکر فرمایا ہے، جس بھی  زمانے کے لوگ کسی الجھن کا شکار ہوئے تو انہوں نے مجتہدین کے ذریعے قرآن کی طرف رجوع کیا، اللہ پاک خود ہی فرماتا ہے: اس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے۔آج ہم قرآن ِکریم کی روشنی میں ان دھاتوں کا ذکر پڑھیں گی، جنہیں ہم استعمال کرتی ہیں، دھاتوں کا ہماری زندگی سے گہرا تعلق ہے، اگر یہ دھاتیں نہ ہوں تو انسانی زندگی الجھن کا شکار ہو سکتی ہے۔ دھات کسے کہتے ہیں؟دھات سے مراد وہ معدنی جوہر جس میں پگھلنے کی صلاحیت ہو، جیسے لوہا، سونا، چاندی وغیرہ۔لوہے کا قرآن میں ذکر ہے۔لوہے کو عربی میں حدید کہتے ہیں اور قرآنِ کریم میں اس دھات( لوہے) کے نام پر مکمل ایک سورت ہے، جسے سورۃ الحدید کہتے ہیں، رب کریم سورۃ الحدید کی آیت نمبر 25 میں لوہے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ ؕاِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ترجمۂ کنز العرفان:بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اُتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت لڑائی کا سامان ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ اس شخص کو دیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بیشک اللہ قوت والا غالب ہے۔تفسیر:مفسرین نے فرمایا:یہاں آیت میں لوہا اتارنے سے مراد لوہا پیدا کرنا ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہے کو لوگوں کیلئے پیدا کیا اور اسے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم عطا فرمایا۔ لوہے کا فائدہ:لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کے ذریعے جنگ کے سازو سامان اور اسلحہ وغیرہ بنائے جاتے ہیں اور لوہا نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ پاک دیکھے کہ کون اس کا صحیح سےاستعمال کرتا ہے، یعنی جہاد وغیرہ میں لوہے کو استعمال کرکے اللہ پاک کے دین کی مدد کرتا ہے، اس کے علاوہ بھی لوہے کے بہت سے فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں کام آتا ہے۔قرآنِ کریم میں سونا چاندی کا ذکر:سونے کو عربی میں ذھب اور چاندی کو فضہ کہتے ہیں، اللہ پاک نے ان دونوں دھاتوں کا تذکرہ بھی اپنے مقدس اور پاکیزہ کلام کے پارہ 3 سورۂ الِ عمران کی آیت نمبر 14 میں کیا ہے، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚوَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ۔ترجمۂ کنزالعرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کر دیا گیا، یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو (ان کے لئے آراستہ کردیا گیا)یہ سب دنیوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے۔تفسیر:یعنی لوگوں کے لئے من پسند چیزوں یعنی عورتوں، بیٹوں، مال و دولت، سونا چاندی، بہترین مکانات وغیرہ کی محبت ان کے دلوں میں رچی ہوئی ہے اور ان چیزوں کو آراستہ کرنے اور ان کی محبت دلوں میں ڈالنے کا مقصود یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق ظاہرہوجائے، ان چیزوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ دنیاوی زندگی گزارنے کا سامان ہے، جن سے انسان کچھ عرصہ نفع اٹھا سکتا ہے، اس کے بعد یہ فنا ہوجائیں گی۔سونا چاندی کا فائدہ:ان چیزوں کا بہترین فائدہ یہ ہے کہ انہیں ان کاموں میں خرچ کیا جائے، جو قربِ الٰہی کا ذریعہ ہوں، جس سےانسان کو ثواب پہنچے۔شرعی مسئلہ:سونا اور چاندی کے زیورات عورتوں کیلئے مطلقاً جائز ہیں اور مرد کے لئے سونا پہننا ہرصورت حرام ہے اور ساڑھے چار ماشے سے کم چاندی کی ایک نگینہ والی انگوٹھی مرد پہن سکتا ہے۔ہمارے لئے اس آیت میں بہت اعلیٰ و عمدہ درس ہے، آج ہم مسلمانوں کی اکثریت بھی عمدہ مکانات،سونا چاندی وغیرہ کی محبت میں مبتلا ہے،اس آیتِ مبارکہ پر ہمیں بھی غور کرنا چاہئے۔خلاصہ کلام:انسان کو چاہئے کہ ربّ العزت کی عطا کردہ نعمتوں پر غور و فکر کرے اور ان کا جائز درست استعمال کرکے اور ان نعمتوں پر خالقِ کائنات کا شکر بجا لائے، ان چیزوں کے بنانے کے مقصد پر غور کرے کہ اللہ پاک نے ان چیزوں کو اس لئے بنایا ہے تاکہ ان کا درست استعمال کیا جائے، سونا چاندی ربّ کریم نے لوگوں کے نفع کے لئے بنائے ہیں، تاکہ اس لئے کہ لوگ اس پر شکر کریں، نہ کہ غرور و تکبر کریں اور گناہ میں پڑجائیں، اس طرح لوہے کو بنانے کا مقصد جیسا کہ ہم نے پیچھے پڑھاکہ اس کو اس لئے بنایا، تاکہ لوگ اللہ پاک کی راہ میں جہاد کریں، نہ کہ اس لئے کہ یہ مسلمان آپس میں ہی قتل و غارت گری کرکے گناہ کے گڑھے میں جا پڑیں۔اللہ پاک عقلِ سلیم عطا فرمائے اور نعمتوں کا درست استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور غلط استعمال سے بچائے۔آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


جب کبھی ہمارے سامنے سونے، چاندی وغیرہ کا ذکر آتا ہے تو ہمارا ذہن زمین میں مدفن خزانوں اور معدنیات کی طرف چلا جاتا ہے، کیا کبھی ہم نے سوچا کہ دھات ہوتی کیا ہے اور بنتی کیسے ہے؟ آئیے !اس راز سے پردہ اٹھاتی ہیں، کائنات میں ہر ایک سیکنڈ کے بعد ایک ستارہ ٹوٹ کر کائنات کے عظیم خزانے کو عظیم سے عظیم تر بناتا جا رہا ہے، سب سے پہلے یہ جان لیں کہ  دھات ہوتی کیا ہے؟دھات(metal):Metals are solid material that is typically hard.shiny and fixed in shap…called metals.دھات ایک ایسا ٹھوس مادہ ہے، جو عام طور پر غیر شفاف، چمکدار اور مخصوص شکل کا ہوتا ہے۔ ہماری اس فانی دنیا کے نظام کو چلانے میں دھاتوں کا بڑا عمل دخل ہے، اگر ہم اپنے اردگرد کی اشیا کو دیکھیں تو یہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہر شے ہی کسی نہ کسی دھات کے وسیلے سے وجود میں آئی۔ اس کی دلیل یہ آیت ِکریمہ ہے: اور کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس کے خزانے ہمارے پاس نہیں اور ہم ان کو ایک مقررہ مقدار میں آسمان سے نازل کرتے ہیں۔ (سورہ ٔحجر، آیت21)جب آسمانی خزا نے اتنے بڑے ہوں کہ ہر شے مقررہ مقدار میں آسمان سے نازل ہو تو ان میں سے انتہائی حقیر مقدار میں استعمال ہمارے لئے تو باعثِ حیرت ہوگا، لیکن اللہ پاک کے لئے بہت آسان ہے۔اللہ پاک نے ہمارے لئے زمین میں سونا(gold)، چاندی(silver)، جیپسم، گرینائٹ، لوہا، چونا وغیرہ جیسی کارآمد چیزوں کو زمین میں پوشیدہ رکھا، تاکہ انسان اسے اپنی کیفیت سے اپنی ضرورت کے لئے استعمال کرسکے، جب ہمارا اللہ و مالک و مولا ہم پر اتنا مہربان ہے تو ہم پر بھی یہ لازم ہے کہ اس کے ہر حکم(order) کے آگے سر تسلیمِ خم کردیں اور اس کی عبادت و بندگی کے کام بجا لائیں۔اسی حقیقت کو اللہ پاک سورۂ حدید میں یوں بیان فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان سے لوہا نازل کیا، اس میں سخت نقصان بھی ہے اور انسانوں کے لئے فائدہ بھی۔ (سورہ حدید،25)اب ہم اگر صرف لوہے کی بات کرلیں تو دیکھا جائے تو کتنی معمولی سی چیز سمجھتے ہیں، لیکن اگر اس کے فوائد(advantages) دیکھے جائیں تو کوئی بھی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ لوہا ہمارے لئے کارآمد نہیں(non useful)، اپنے اردگرد(around) کے ماحول کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ لوہے سے بنی اشیاء ہمارے لئے ہر کام میں کتنی مفید(useful) ہیں، اب اگر ہم اس کی تخلیق یعنی پیدا کرنے میں غور و فکر کریں تو سمجھ میں تو یہ بات آئے گی کہ کسی کاریگر وغیرہ نے فیکٹری، کارخانے وغیرہ میں اسے تشکیل دیا ہوگا، بہرحال کسی کاریگر نے تو اسے تشکیل پا ہی ہوگا تو اس بات پر بھی غور و فکر کرنا بہت ہی اہمیت(important) کا حامل ہے کہ اللہ پاک نے ہمارے لئے زمین میں پوشیدہ رکھا، یہ انسان کی کاریگری ہے، لیکن حقیقی کارساز تو اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کی بابرکت ذات ہے۔ ہمارے گھر کی ہر ایک شے کی تشکیل میں لوہے کا وجود(پایا جانا) بھی دکھے گا، جیسے میز، کرسیاں، پلنگ ہی کو دیکھ لیں، ہمارے گھروں کے دروازے تک میں ہمیں کسی نہ کسی دھات کا ملاپ ضرور ملے گا، اللہ پاک سورۂ زخرف میں ارشاد فرماتا ہے: اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تمام انسان ایک ہی طریقے ہوجائیں گے تو ہم رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں، جن سے وہ اوپرکی منزلوں میں چڑھتے ہیں اور ان کے دروازے اور ان کے تحت کہ جن پر وہ تکیہ لگا کر بیٹھتے ہیں، سب سونے چاندی کے بنا دیتے، لیکن یہ تو محض دنیاوی زندگی کا مال ہے۔( سورہ ٔزخرف، آیت نمبر ،34،33)ایک اور جگہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:اور جہاز بھی اسی کے ہیں، جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔( سورہ رحمن) سبحان اللہ!دھات ہی ہمارے لئے اللہ پاک کی طرف سے ایک عظیم تحفہ و عطیہ ہے، جس میں ہمارے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے، اللہ کریم ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بننے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین


قرآن ِکریم، فرقانِ مجید میں ہر خشک و تر کا بیان ہے، سارے اوّلین و آخرین کے علوم کا مجموعہ ہے، اس میں عقائد، اعمال، اخلاق، سیاسیات، عبادات، معاملات، معاشیات، الغرض ہر شے کا بیان ہے، قرآنِ پاک ایسا معظم کلام ہے کہ اس کے مثل کسی کا کلام نہیں،کیونکہ یہ خالق کا کلام ہے،اس قرآنِ عظیم میں اللہ جل شانہٗ نے دھاتوں کا ذکر کس طرح فرمایا، آئیے!اس سے متعلق چند آیات پیش کی جاتی ہیں:وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ ۙاِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا ۙاَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا ؕوَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ ؕبِئْسَ الشَّرَابُ ؕوَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا۔ترجمہ:اور فرما دو کہ تمہارے ربّ کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے، بے شک ہم نے ظالموں کے لئے وہ آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور پانی کے لئے فریاد رسی ہوگی، اس پانی سے چراغوں کھولتے ہوئے دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون دے گا، کیا ہی برا پینا ہے اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ۔(پ15، سورہ کہف، آیت 29)تفسیر:اللہ پاک کی پناہ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:وہ غلیظ پانی ہے، روغن زیتون کی تلچھٹ کی طرح۔ترمذی کی حدیث میں ہے:جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی، بعض مفسرین کا قول ہے:یہاں دھات سے مراد پگھلایا ہوا رانگ اور پیتل ہے۔(بحوالہ کنزالایمان) تفسیر بغوی میں ہے: پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہے۔حضرت ابن ِمسعود رضی اللہ عنہما نے اس طرح تفسیر کی کہ یہاں دھات سے مراد سونے چاندی کو پگھلانا ہے، آپ نے سونا چاندی منگوا کر پگھلایا اور فرمایا: یہ ہل کی طرح ہے۔آیت:اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا ؕوَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ۔ترجمہ:بے شک اللہ داخل کرے گا انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے بہشتوں میں، جن کے نیچے نہریں بہیں، اس میں پہنائے جائیں گے سونے کے کنگن اور موتی اور وہاں ان کی پوشاک ریشم ہے۔(سورہ حج،پارہ 17، آیت 23)ایسے سونے کے کنگن ہونگے، جس کی چمک مشرق سے مغرب تک روشن کر ڈالےگی۔آیت:زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚوَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ۔لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کر دیا گیا، یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو(ان کے لئے آراستہ کردیا گیا) یہ سب دنیوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکانہ ہے۔ (پ3،آل عمران:14)آیت: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ ؕاِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ترجمہ:بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اُتاری کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے فائدے اور اس لئے کہ اللہ دیکھے اس کو جو بے دیکھے، اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، بے شک اللہ قوت والا غالب ہے۔(پارہ 27، سورہ حدید، آیت 25)بعض مفسرین نے فرمایا: یہاں آیت میں”اتارنا“پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا اور یہ بھی مروی ہے کہ اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں،لوہا،آگ،پانی،نمک۔(بحوالہ کنزاالایمان،ص973)آیت:

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا ؕیٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَ الطَّیْرَ ۚوَ اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ ۙ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے داؤد کو اپنا بڑا فضل دیا اے پہاڑو! اس کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرو اور اےپرندو اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کیا۔(پ22،سورہ سبا، آیت 10)تفسیر:اس آیت میں حضرت داؤد علیہ السلام کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جب آپ نے دعا فرمائی کہ اللہ پاک میرے لئے کوئی ذریعہ معاش بنا تو اللہ پاک نے لوہے کو ان کے لئے نرم کر دیا اور آپ کو صنعت ذرہ سازی کا علم دیا، سب سے پہلے زرہ بنانے والے آپ ہی ہیں، آپ روزانہ ایک زرہ بناتے تھے۔(بحوالہ کنزالایمان)آیت:وَ لِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ ۚوَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ؕوَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ ؕ وَ مَنْ یَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ۔ترجمہ:اورسلیمان کے بس میں ہوا کر دی، اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ اور شام کی منزل ایک مہینے کی راہ اور ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور جنوں میں سے وہ جو اس کے آگے کام کرتے اس کےربّ کے حکم سے اور جوان میں ہمارے حکم سے پھرے اور ہم اسے بھڑکتی آگ کا عذاب چکھائیں گے۔ (پ22،سبا:12)اللہ پاک نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے تانبے کو پگھلا دیا، جیسا کہ حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم کیا تھا۔آیت: اور ہر معمار اور غوطہ خور جن اور دوسرے بیڑیوں میں جکڑے ہوئے (جنوں کو سلیمان کے تابع کر دیا)۔آیت:اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا۔تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں۔ ( پارہ 26، محمد، آیت 24) لوہا انتہائی اہم معدن ہے،جو لوہا فولاد،مشینری اور مختلف قسم کے اوزار بنانے کے کام آتی ہے، تانبا برقی آلات سازی میں استعمال ہوتا ہے، برقی آلات سازی میں استعمال ہوتا ہے،برقی تار بھی تانبے سے بنائے جاتے ہیں۔


یہ قرآنِ پاک کا اعجاز ہے کہ اس میں ہر شے کا واضح بیان موجود ہے، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے: وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ۔ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(پارہ 14، سورہ نحل:89)اور ارشاد فرمایا:وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ۔ترجمہ: اور یہ ہر چیز کا مفصل بیان ہے۔(پارہ 12، سورہ یوسف، آیت 111)اور ان واضح بیانات میں ایک بیان یا تذکرہ دھاتوں کا بھی ہے، جن میں سونا، چاندی اور لوہا بھی شامل ہے۔٭سونا اور چاندی:اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا ۚ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِـٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىٕكِ ؕنِعْمَ الثَّوَابُ ؕوَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔ترجمۂ کنز العرفان:بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے، ہم ان کا اجرضائع نہیں کرتے، جن کے کام اچھے ہوں ان کے لئے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں، وہ اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سبز کپڑے کریب(ریشم کے باریک) اور قنادیز (موٹے)کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے ،کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کیا ہی اچھی آرام کی جگہ۔یاد رہے! ریشمی لباس اور سونے چاندی کے کنگن جنتی لباس ہیں، جبکہ دنیا میں عورتوں کے لئے حلال اور مردوں کے لئے حرام ہیں۔لوہا کا ذکر:قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ ؕ۔ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم نے لوہا اتارا اس میں سخت لڑائی کا سامان ہے اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں، تاکہ اللہ اس شخص کو دیکھے جو بغیر دیکھے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے، بے شک اللہ قوت والا، غالب ہے۔لوہا: مفسرین نے فرمایا:یہاں آیت میں اتارنا پیدا کرنے کے معنی میں ہے اور مراد یہ ہے کہ ہم نے لوہا پیدا کیا اور لوگوں کے لئے معادن سے نکالا اور انہیں اس کی صنعت کا علم دیا۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے چار بابرکت چیزیں آسمان سے زمین کی طرف اتاریں، لوہا، آگ ،پانی، نمک۔(مسند الفردوس، باب الالف،1/175، حدیث656)لوہے کے فوائد:اور لوہے کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں انتہائی سخت قوت ہے، یہی وجہ ہے کہ اس سے اسلحہ اور جنگی سازوسامان بنائے جاتے ہیں اور اس میں لوگوں کے لئے اور بھی فائدے ہیں کہ لوہا صنعتوں اور دیگر پیشوں میں بہت کام آتا ہے۔لوہا نازل کرنے کا مقصد:آیت کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ لوہا نازل کرنے کا مقصود یہ ہے کہ اللہ پاک اس شخص کو دیکھے جو جہاد میں لوہے کو استعمال کرکے اللہ پاک کے دین کی مدد کرتا ہے،حالانکہ اس نے اللہ پاک کو دیکھا نہیں ہوا، بے شک اللہ پاک قوت اور طاقت والا ہے، اس کو کسی کی مدد درکار نہیں اور دین کی مدد کرنے کا اس نے جو حکم دیا ہے، یہ انہیں لوگوں کے فائدے کے لئے ہے۔(الخازن، الحدید تحت الآیۃ:4/25)اللہ کریم ہمیں قرآن پاک کی آیات میں غور و فکر کرنے اور سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم


قرآنِ مجید ایک آفاقی کتاب ہے،جو نبی اکرم صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم پر نازل کی گئی، یہ کتاب اولین و آخرین کے تمام علوم کی جامع ہے، اس میں جہاں اخلاقی تربیت کی گئی تو وہیں معاشرتی تربیت بھی کی گئی، جہاں ہمیں احکامات ملے،تو وہیں وعدے بھی ملے، جنت اور دوزخ اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہوا، وہیں دنیاوی نعمتوں کا بھی ذکر ہوا، دنیاوی نعمتوں کے بارے میں قرآن ِکریم میں ربّ کریم اپنے علم و قدرت کی وسعت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:یعلم ما یلج فی الارض وما یخرج منھا وما ینزل من السماء وما یعرج فیھا۔ترجمۂ کنزالعرفان:وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ زمین سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو اس میں چڑھتا ہے۔علما فرماتے ہیں:زمین سے نکلنے والی اشیامیں خزانے، سبزہ، درخت، معدنیات اور دھاتیں مراد ہیں، آئیے! یہ جانتی ہیں کہ قرآن ِکریم میں کتنی معدنیات کا ذکر موجود ہے؟چار دھاتوں کا ذکر قرآنِ مجید میں ہے، سونا، چاندی، لوہا، تانبا۔آئیے ! ان دھاتوں کا ذکر کن آیات میں ہوا اور ان کے فوائد و ثمرات کیا ہیں؟ جانتی ہیں:1،2۔سونا چاندی:پارہ 4، سورہ ٔالِ عمران، آیت نمبر 14میں فرماتا ہے:وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ۔ترجمۂ کنزالعرفان:سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں۔سونا ایک عنصر ودھات کا نام ہے، جو اپنی خصوصیات کی وجہ سے انتہائی مہنگا ہے، چاندی بھی ایک دھاتی عنصر ہے اور چاندی سونے سے یا کسی اور دھات سے مل کر مرکّب ہو کر پائی جاتی ہے، سونا چاندی دونوں قیمتی دھاتیں ہیں اور قیمتی ہونے کی وجہ صدیوں سے اس کا استعمال بطور روپے اور پیسے کے بدل کے طور استعمال ہوتا رہا ہے، اس طرح عورتیں بطورِ زیورات بھی استعمال کرتی ہیں۔لوہا:لوہے کے بارے میں قرآنِ کریم میں ہے:وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ۔ ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت آنچ اور لوگوں کے فائدے ہیں۔(پارہ 27، سورہ حدید، آیت 25) لوہا ایک کیمیائی عنصر ہے، یہ زمین پر سب سے زیادہ پایا جانے والا عنصر ہے، یہ ایک سستی ترین دھات ہے۔ لوہے کے فوائد:تفسیر جلالین میں بَاْسٌ شَدِیْدٌ(سخت آنچ) سے مراد میں علامہ جلال الدین محمد بن ابی بکر سیوطی رحمۃُ اللہِ علیہ نے فرمایا:تاکہ اس سے لڑا جائے، تو لوہے سے ہتھیار قدیم زمانے سے ہی بنائے جاتے رہے ہیں، تلوار، خنجر، تیر اور اب موجودہ دور کے ہتھیار بھی اسی سے بنتے ہیں ،اسی طرح لوہے سے دورِ حاضر میں لاتعداد مشینیں تیار کی گئیں، جیسے سلائی مشین وگرینڈر مشین وغیرہ۔تانبا:تانبے کے بارے میں قرآن ِکریم میں مذکور ہے۔پارہ 22، سورۂ سبا، آیت نمبر 13 میں ہے:وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَیْنَ الْقِطْرِ ؕ۔ترجمۂ کنزالعرفان:اور ہم نے ان کے لئے سامنے کا چشمہ بہایا۔علامہ صاوی تفسیرِصاوی میں فرماتے ہیں:یہ چشمہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی قوم کے لئے تین دن تک بہایا گیا اور ایک قول کے مطابق ہر ماہ تین دن سے جاری ہوتا تھا۔تانبا ایک نارنجی رنگ کی دھات ہے، تانبا ایک نرم دھات ہے، جس سے بآسانی تار اور ورق بنائے جا سکتے ہیں، اس دھات سے بجلی اور حرارت بڑی آسانی سے گزر سکتی ہے، اس لئے اسے بجلی کی تار اور دیگ بنانے میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ قرآنِ کریم ایک بحیرۂ ناپید ہے اور اس میں نادر موتی اور جواہرہیں، رب کریم ہمیں چننے کا ظرف عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم