مقالے کی PDF کے لئے ڈاؤن لوڈ پر کلک کریں Download PDF

امام المحدثین کی سندسنن نسائی

حافظ الحدیث امام احمد بن شعیب نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے السنن الکبریٰ کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی جس میں کم وبیش بارہ ہزاراحادیث جمع فرمائیں۔پھراس میں سے چھ ہزارکے قریب صحیح احادیث منتخب کرکے اس کااختصارتیارکیاجس کانام السنن الصغریٰ رکھا، اسے سنن مجتبیٰ اورسنن نسائی بھی کہاجاتاہے،سنن نسائی کا اسلوب اکثرکتب صحاح کا جامع ہے ،احادیث مبارکہ فقہی ابواب کے تحت لائی گئی ہیں اوران سے مسائل کا استخراج کیاگیاہے اس سے کئی احادیث مکرربھی ہوگئی ہیں، حدیث پاک کے تمام طرق کو اختلاف الفاظ کے ساتھ ایک جگہ جمع کردیا ہے، بسااوقات امام نسائی نے علل حدیث کوبھی بیان کیاہے، سنن نسائی حسن ترتیب کے اعتبارسے بہترین اورعمدہ نمونہ ہے۔([1])

ہمارے بلادمیں ہونے والے دورہ ٔ حدیث میں سنن نسائی کو بھی شامل کیا گیاہے، امام المحدثین حضرت علامہ مفتی سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ(ولادت،1273ھ مطابق 1856ھ، وفات 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20اکتوبر 1935ء)نے 1295ھ مطابق 1878ء میں افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے دورۂ حدیث کرکے اسانیداحادیث بشمول سنن نسائی کی اجازت حاصل کی۔)[2](انھوں نے علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی سے اورانھوں نےسراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے، اسی طرح امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ صاحب نے ذوالحجہ 1337ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان سے جملہ اجازات و اسانید حاصل کیں،)[3](اوراعلیٰ حضرت نے اپنے مرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی سے اور انھوں نے سراج الہندعلامہ شاہ عبدالعزیز سے اورسراج الہندتحریرفرماتے ہیں :

(میرے والدگرامی علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اجازت وسند سنن نسائی حضرت شیخ ابو طاہر سے اور) حضرت شیخ ابو طاہر نے(اسے) شیخ ابراہیم کردی سے اور انہوں نے شیخ احمد قشاشی سےاور انہوں نے شیخ احمد بن عبد القدوس شنادی سے اور انہوں نے شیخ شمس الدین محمد بن احمد بن محمد رملی سے اور انہوں نے شیخ زین الدین زکریا سے اور انہوں نے شیخ عز الدین عبد الرحیم بن محمد بن الفرات سے اور انہوں نے عمر بن الحسن المراغی([4]) سے اور انہوں نے فخر الدین بن البخاری سے اور انہوں نے ابی المکارم احمد بن محمد البان سے (جو عمل بالسنتہ کی طرف منسوب ہے) اور انہوں نے ابو علی حسن بن احمد حداد سے اور انہوں نے قاضی ابو نصر احمد بن الحسین الکسار سے اور انہوں نے حافظ ابو بکر المعروف بابن السنی احمد بن محمد بن اسحق الدینوری سے (جو معتمد محد ثین میں سے ہیں اور کتاب مجالسۃ الدينوری ([5])آپ ہی کی تصنیفات سے ہے) اور انہوں نے کتاب حافظ ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب بن علی نسائی سے ،جو منسوب ہے ”بلد ۂ نسا“ ([6])کی طرف اور وہ خراسان میں ابیو رد([7])کے قریب مشہور شہر ہے ۔)[8](

سند سنن نسائی کےرواۃ و شیوخ کا مختصرتعارف

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی سند سنن نسائی بطریق ِعلامہ احمدعلی سہارنپوری اوربطریق امام احمدرضا 23واسطوں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے ،ذیل میں ان تمام محدثین کا مختصرتعارف بیان کیا جاتاہے:

۞امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام اور اکابرین اہل سنّت سے تھے۔آپ 1273ھ مطابق 1856ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان، ہِند )میں پیدا ہوئے اور لاہورمیں 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20اکتوبر1935ء کو (بروزپیر)نمازعصرکے سجدے میں وصال فرمایا،جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ لاہورسے متصل جگہ میں تدفین کی گئی ۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور([9]) اور فتاویٰ دِیداریہ([10]) آپ کی یادگار ہیں۔( [11])

(1)افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1225ھ مطابق 1810ءکو ہوئی اور 6 جمادَی الاُولیٰ 1297ھ مطابق 16اپریل 1880ء کوتقریباً بہتَّر (72) سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ اپنے آبائی قبرستان متصل عید گاہ سہارنپور میں سپردِ خاک کئے گئے۔آپ حافظِ قرآن، عالمِ اجل، استاذُالاساتذہ، مُحدّثِ کبیر اور کثیرالفیض شخصیت کےمالک تھے، اشاعتِ احادیث میں آپ کی کوشش آبِ زر سے لکھنے کےقابل ہے، آپ نےصحاح ستہ اوردیگرکتب احادیث کی تدریس، اشاعت، حواشی اور درستیٔ متن میں جو کوششیں کی وہ مثالی ہیں ۔([12] )

(2)علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ذوالحجہ 1197ھ مطابق 1782ھ دہلی میں ہوئی ،یہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کےنواسے، شاگرد اور جانشین تھے ،پہلے دہلی پھرمکہ شریف میں تدریس کرتے رہے وفات رجب 1262ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اورجنت المعلیٰ میں دفن کئے گئے ۔([13] )

(3)اعلیٰ حضرت، مجددِدین وملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1272ھ مطابق6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25صفر 1340ھ مطابق28اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص وعام ہے۔آپ حافظِ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر، فقیہ اسلام، مُحدّثِ وقت،مصلحِ امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزار کتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم، استاذ الفقہاومحدثین، شیخ الاسلام و المسلمین، مجتہدفی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن([14])،فتاویٰ رضویہ([15]) ، جدّ الممتارعلی ردالمحتاراور حدائقِ بخشش آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ ( [16]) ([17])

(4) خاتِمُ الاکابِر ،قدوۃ العارفین حضرت علامہ شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،صاحبِ وَرَع وتقوی اورسلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کی ولادت 1209ھ کو خانقاہ برکاتیہ مار ہرہ شریف (ضلع ایٹہ،یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 18ذوالحجہ1296ھ کو وصال فرمایا، تدفین دلان شرقی گنبددرگاہ حضرت شاہ برکت اللہ([18]) رحمۃ اللہ علیہ میں بالین مزارحضرت سیدشاہ حمزہ([19]) ہوئی ۔ آپ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی ([20])رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔ صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے سلسلہ علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں،فقہ میں آپ نے دوکتب مختصرتاریخ اور خطبہ جمعہ تحریرفرمائیں ۔([21])

(5)سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ، علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے۔ تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ( [22])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔آپ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی میں ہے۔([23] )

(6) حضرت مولانا شاہ ولی اللہ احمدبن عبدالرحیم محدث دہلوی فاروقی حنفی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش دہلی میں 3شوال 1110ھ مطابق 1699ء کو ہوئی ،اوریہیں 1176ھ مطابق 1762ء کو وصال فرمایا ،آپ حافظ قرآن،علوم عقلیہ ونقلیہ کے ماہر، عرب کے کبارشیوخ سے مستفیض تھے ،1143ھ کو حجازمقدس حاضرہوئے اوروہاں آٹھ عرب مشائخ سے استفادہ کیا،آپ نے زندگی بھر حدیث پاک کا درس دیا،قوم وملت کی رہنمائی کی۔کئی کتب مثلا فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن فارسی،الفوز الکبیرفی اصول التفسیر، مؤطا امام ملک کی دوشروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ،ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی،الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشايخ الحرمين اور الارشاد الی مہمات الاسنادعربی)[24] ( تصنیف کیں،آپ کا شمار ہندکی مؤثرشخصیات میں ہوتا ہے ۔([25] )

(7)حضرت شیخ جمال الدین ابوطاہرمحمدبن ابراہیم کورانی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مدینہ شریف میں 1081ھ مطابق 1670ء کو ہوئی اوریہیں 1145ھ مطابق 1733ء کو وصال فرمایا اورجنت البقیع میں دفن کئے گئے،آپ جیدعالم دین ،محدث ومسند،مفتی ٔ شافعیہ مدینہ منورہ،علامہ شیخ ابراہیم کردی آپ کے والدصاحب اورشیخ احمدقشاشی نانامحترم تھے ۔والدصاحب کے علاوہ ،مفتی شافعیہ مدینہ منورہ شیخ سیدمحمدبن عبدالرسول برزنجی([26])،شیخ حسن بن علی عُجَیْمی([27] ) اور شیخ عبداللہ بن سالم([28] )سے اجازات حاصل کیں ،کئ کتب بھی لکھیں ،جواب تک مطبوع نہیں ہوسکیں ،مکتبہ حرم مکی میں آپ کی ثبت کا مخطوط پانچ اوراق میں محفوظ ہے ۔([29] )

(8)حضرت امام شیخ برہان الدین، ابوالعرفان ابراہیم بن حسن کورانی کردی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کردستان(عراق) میں 1025ھ کو ہوئی،آپ شافعی عالم دین،محدث و مسند اور سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ 80سے زائدکتب لکھیں جن میں اسانید و مرویات پر مشتمل کتاب الامم لایقاظ الھمم([30] )مطبوع ہے۔آپ عراق سے ہجرت کرکے مدینہ شریف مقیم ہوگئے تھے،یہیں ایک قول کے مطابق18ربیع الآخر 1101ھ مطابق29 جنوری 1690ء میں وصال فرمایا۔([31] )

(9) قطب زماں ،حضرت سیدصفی الدین احمدقشاشی بن محمدبن عبدالنبی یونس قدسی مدنی حسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت12ربیع الاول 991ھ مطابق1583ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی، آپ حافظ قرآن، شافعی عالم دین ،عرب وعجم کے تقریبا سوعلماومشائخ سے مستفیض، سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ، 70کے قریب کتب کے مصنف،نظریہ وحدۃ الوجودکے قائل وداعی تھے،کثیرشاگردوں میں نمایاں شیخ برہان الدین ابراہیم کردی کورانی شافعی مدنی ،صاحب درمختارعلامہ علاؤالدین حصکفی) [32] (اورحضرت حسن عجیمی رحمۃ اللہ علیہم تھے۔ آپ نے 19ذوالحجہ 1071ھ مطابق 1661ء کو مدینہ شریف میں وصال فرمایااورجنت البقیع میں مدفون ہوئے ،تصانیف میں روضہ اقدس کی زیارت کے لیے سفرِ مدینہ کے اثبات پر کتاب ’’الدرۃ الثمینۃ فیمالزائرالنبی الی المدینۃ‘‘([33])آپ کی پہچان ہے ۔([34] )

(10)حضرت ابوالمواہب احمدبن علی شناوی مصری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 975ھ کو موضع شنو(صوبہ غربیہ )مصرمیں پیداہوئےاورمدینہ شریف میں 6یا 8ذوالحجہ 1028 ھ کو وصال فرمایا ،جنت البقیع میں حضرت ابراہیم بن رسول اللہ (رضی اللہ عنہ وصلی اللہ علیہ والہ وسلم )کے قبہ مبارک کے عقب میں تدفین ہوئی،آپ جیدعالم دین ،محدث وقت ،ثقہ راوی،کئی کتب کےمصنف اورسلسلہ قادریہ اکبریہ کےشیخ طریقت تھے ۔([35] )

(11)شافعی صغیر حضرت سیّدنا امام شمسُ الدّین محمد بن احمد رمْلی مصری رحمۃ اللہ علیہ شیخ الاسلام، عالمِ کبیر، فقیہِ شافعی، مُجدّدِ وقت اور استاذُالعُلَماء ہیں، تصانیف میں نہایۃ المحتاج شرح المنہاج ([36])مشہور ہے۔ 919ھ میں رملہ صوبہ منوفیہ مِصْر میں پیدا ہوئے اور 13جُمادَی الاُولیٰ 1004ھ میں وفات پائی، تدفین قاہرہ میں ہوئی۔([37] )

(12)شیخ الاسلام حضرت قاضی زین الدین ابویحییٰ زکریاانصاری الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 824ھ مطابق1421ء کو سُنیکہ(موجودہ نام حلمیہ)صوبہ شرقیہ مصرمیں ہوئی اور ایک قول کے مطابق 4ذوالحجہ926ھ مطابق 15نومبر1520ء کوقاہرہ مصرمیں وفات پائی،تدفین قبرستان قرافہ صغریٰ میں مزارامام شافعی کےقرب میں ہوئی،آپ حافظ و قاری قرآن،فقیہ شافعی،محدث کبیر،حافظ الحدیث، مصنف کتب،شارح احادیث، مؤرخ و محقق،صوفی کامل،عبادات وذکروفکرمیں رہنے والے اور دولتِ مملوکیہ([38] )کے قاضی القضاۃ(چیف جسٹس)تھے، جلالت علم اورخدمات کثیرہ کی وجہ سےعلمانے آپ کو نویں صدی ہجری کا مجدد قراردیا ہے،ساری زندگی تدریس وتصنیف میں مصروف رہے، علامہ شمس الدین رملی ،علامہ عبدالوہاب شعرانی([39] ) اورعلامہ ابن حجرہیتمی( [40])آپ کے ہی شاگردہیں، آپکی 28کتب میں فتح الرحمن([41])،تحفۃالباری([42])،منہج الطلاب ( [43])اوراسنی المطالب ([44] )زیادہ مشہور ہیں۔([45] )

(13)عزالملت والدین حضرت شیخ ابن الفرات ابومحمد عبدالرحیم بن محمد حنفی مصری کی ولادت 759ھ کو قاہرہ مصرکے ایک علمی گھرانے میں ہوئی،حفظ قرآن وقرأت کے بعد علوم معقول ومنقول کے تحصیل میں مصروف ہوگئے ،علمائے احناف،شوافع اورحنابلہ سے استفادہ کیا ،جب حج پر گئے تو علمائے حجازکی انہارعلم سےبھی سیراب ہوئے ،اجازاتِ عامہ وخاصہ حاصل کیں،آپ احنافِ مصرکے جیدعالم دین،محدث وقاضی اورمصنف کتب تھے،آپ نے اپنی ساری زندگی درس وتدریس،تصنیف وتالیف میں گزاری،نخبة الفوائد المستنتجة([46])آپ کی یادگارتصنیف ہے،آپ نے 16ذوالحجہ  851ھ کوقاہرہ میں وصال فرمایا،باب النصرمیں نمازجنازہ ہوئی اورخانقاہ سعیدالسعداء قاہرہ کے احاطے میں دفن کئے گئے۔([47])

(14) زین الملت والدین حضرت ابوحفص عمربن حسن بن مزیدبن امیلہ مراغی مزی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ ولادت 8رجب 679یا 680ھ کومِزَّہ دمشق میں ہوئی اور 98سال کی عمرمیں 8ربیع الاخر 778ھ کومراغی دمشق شام میں وصال فرمایا،آپ محدث وقاری، مسندالشام اوراکابرین اہل سنت سے تھے، آپ نے اپنے وقت کے جید علما، قراء اورمحدثین سے خوب استفادہ کیا اوراشاعت علوم وفنون میں مصروف ہوئے حتی کہ علما وفقہا اور محدثین کے مرجع قرارپائے،آپ سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد کثیرہے ، مشيخۃ الامام ابی حفص عمر المراغی([48]) آپ کی اسناد کا مجموعہ ہے۔([49])

(15)محدث الاسلام، ابن بخاری حضرت امام فخرالدین ابوالحسن علی ابن احمد مقدسی صالحی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 595ھ کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی ، اورآپ نے ربیع الآخر690ھ میں وصال فرمایا،آپ عالم وفقیہ، فاضل وادیب،صاحب وقاروہیبت، تقوی وورع کے پیکر اورعلم ووعقل میں کامل تھے ،محدثین میں بھی آپ بہت مکرم ومحترم تھے، آپ کو مسند العالم کہاجاتاہے ،عرصہ دارازتک خدمت قرآن وسنت میں مصروف رہے، شام،مصراورعراق کے محدثین نے آپ سے استفادہ کیا۔([50])

(16)حضرت شیخ قاضی ابنِ لَبَّان ابوالمکارم احمد بن ابوعیسیٰ محمد تیمی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت صفر507ھ کواصفہان ) ([51] کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور27ذوالحجہ 597ھ کو وصال فرمایا،آپ عالم دین،محدث وقت،مسند اصفہان،صدوق،حسن الحدیث اوراپنے شہر کے قاضی تھے ۔)[52](

(17) حضرت امام ابوعلی حسن بن احمدحداد اصفہانی رحمۃُ اللہِ علیہ 419ھ میں پیدا ہوئے اور96سال کی عمرمیں 26ذوالحجہ 515ھ میں وصال فرمایا،آپ عالم دین، قاری قرآن،ثقہ وصدوق راوی حدیث ،مسندالعصر اورکثیر التلامذہ تھے ۔آپ نے طلب علم میں بہت سے سفرفرمائے،پھرایک وقت آیا کہ خراسان،عراق اورماوراءالنہرکے طلبہ گروہ درگروہ آپ کی خدمت میں حاضرہوکراجازت حدیث کا شرف پاتے ۔آپ کی شہرت چاردانگ عالم میں تھی۔)[53](

(18)حضرت شیخ قاضی ابونصراحمد بن حسین دینوری کَسَّار رحمۃُ اللہِ علیہ قاضی جلیل، عالم باعمل،صدوق راوی حدیث تھے ۔آپ نے امام ابوبکرابن سنی رحمۃُ اللہِ علیہ سے 363ھ میں سنن نسائی کی سماعت کی،آپ سے کئی محدثین نے حدیث پاک کی اجازت لی ،زندگی کے آخری ایام میں مسنداصفہان حضرت ابوعلی حداد رحمۃُ اللہِ علیہ نے آپ سےاجازت لی۔)[54](

(19) حافظ الحدیث حضرت شیخ ابن سنی ابوبکراحمد بن محمددینوری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کےجدمحترم ابوابرہیم اسباط حضرت جعفربن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے غلام تھے ،آپ کی پیدائش 280ھ میں ہوئی اور84 سال کی عمرمیں 364ھ کو وصال فرمایا ،آپ نے عراق، شام اورجزیرہ کے علماسے علم دین حاصل کیا،آپ محدث جلیل،ثقہ راوی حدیث،صاحب تصنیف اورتلمیذ امام نسائی تھے،آپ نے اپنی مرویات کو اپنی کتاب عمل اليوم واللیلۃ([55]) میں جمع فرمایا ہے،آپ کی کتاب الطب النبوی)[56]( بھی شائع شدہ ہے۔)[57](

(20) صاحب سُننِ نَسَائی، حافظُ الحدیث حضرت امام ابو عبدالرحمٰن احمد بن شعیب بن علی نَسَائی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت215ھ کو شہر نسا (نزد عشق آباد، ترکمانستان) میں ہوئی اور 13صفر 303 ھ کو رملہ (فلسطین) میں جامِ شہادت نوش کیا۔اپنے علاقے کے علماسے علم دین حاصل کرکے علوم فنون میں مہارت حاصل کی،اس کے بعدعراق میں شیخ الاسلام علامہ قتیبہ بن سعیدثقفی کی صحبت میں دوسال رہے ،ان کے علاوہ عراق ، شام ومصرکے دیگرمحدثین سے استفادہ کیا ،آپ ساری زندگی عراق،شام اورفلسطین میں احادیث مبارکہ کی ترویج و اشاعت میں مصروف رہے، آپ کی کتاب سُنن النسائی کو عالمگیرشہرت حاصل ہوئی اوریہ صحاح ستہ میں شامل ہے۔)[58](

۞ سنن نسائی میں ہرحدیث پاک سند کے ساتھ ہے اس کی پہلی سند کے راویوں کامختصرتعارف ملاحظہ کیجئے:

(21)شیخ الاسلام حضرت ابورجاء قتیبہ یحییٰ بن سعید ثقفی بغلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 149ھ میں ہوئی،آپ بنی ثقیف کے غلام تھے مگرعلم دین کے حصول اورخدمت حدیث نے آپ کوزمانے کا امام بنادیا،آپ نے کثیرمحدثین سے احادیث مبارکہ سماعت کی جن میں امام مالک([59])،امام لیث([60]) اور حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃُ اللہِ علیہم جیسے اکابر محدثین بھی شامل ہیں،آپ صدوق وثقہ راوی حدیث اورکثیرالحدیث تھے۔ آپ نے حجازمقدس، کوفہ اور بغداد(عراق) وغیرہ میں مسندحدیث بچھائی اورامام بخاری ومسلم جیسے بڑے بڑے محدثین کو علم حدیث سے سیراب فرمایا، اللہ پاک نے حسن باطنی کے ساتھ آپ کو حسن ظاہری سے بھی نوازاتھا،آپ کا وصال 28شعبان240ھ میں ہوا۔)[61](

(22)تبع تابعی بزرگ، امام العلم،شیخ الحجاز،محدثِ حرم، حضرت ابومحمدسفیان بن عیینہ کی ولادت 107ھ کو کوفہ (عراق) میں ہوئی۔ مکہ مکرمہ میں یکم رجب 198ھ کو وصال فرمایا۔ آپ شاگردِامامِ اعظم ابوحنیفہ، حافظ و مفسر قرآن، امام و محدثِ حرم، مفتی و شیخ الاسلام، جامع زہد و تقویٰ، استاذ امام شافعی اور وسیع و پختہ علم کے مالک تھے۔ آپ نے حدیثِ نبوی کی ترتیب و تدوین میں بھرپور حصہ لیا۔)[62](

(23)حضرت امام ابنِ شہاب ابوبکرمحمد بن مسلم زہری قرشی رحمۃُ اللہِ علیہ کی ولادت 51ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور 17رمضان 123ھ یا 124ھ میں وصال فرمایا تدفین شغب (ضباء ،صوبہ مدینہ منورہ،عرب شریف) میں ہوئی،آپ علم القرآن و سنت اورعلم انساب وغیرہ میں ماہر تھے ،آپ جلیل القدرتابعی بزرگ ،محدث ومفتی ،حسن ظاہری وباطنی سے مالامال ،محدث جلیل اوراپنے زمانے کی مؤثرشخصیت تھے ،آپ سے 2200احادیث مروی ہیں۔)[63](

(24)فقیہ مدینہ حضرت ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالرحمن زہری قرشی رحمۃ اللہ علیہ عشرہ مبشرہ جلیل القدرصحابی رسول حضرت عبدالرحمن بن عوف ([64])رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے، حسن ظاہری وباطنی سے مالامال ،مشہورفقیہ مدینہ،مجتہد،تابعی بزرگ، عالی مرتبت اورامام الوقت تھے۔عظیم المرتبت صحابہ کرام کی صحبت اورسماعت حدیث نے آپ کو امام حدیث بنادیا،فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن عباس([65]) کی طویل صحبت کی وجہ سے آپ عظیم فقیہ بن گئےاورفقہائے سبعہ میں شمارہونے لگے،آپ بڑے ائمہ تابعین میں کثیرالعلم، جیدعالم دین،ثقہ راوی حدیث اورکثیرالحدیث تھے،آپ کچھ عرصہ مدینہ شریف کے قاضی بھی رہے۔آپ کی ولادت تقریباً 20ھ میں اور وصال 104ھ کو 73سال کی عمرمیں مدینہ منورہ میں ہوا۔([66])

(25) حضرت ابوہریرہ عبدالرحمن بن صخردوسی رضی اللہ عنہ یمن سے غزوہ خیبر (7ھ) کے ایام میں کم وبیش 30سال کی عمرمیں مدینہ شریف آئے اوراسلام قبول کیا ،متعدد غزاوت میں شرکت کی،آپ اصحاب صفہ میں شامل ہوئے ،علم سیکھنے کا اتنا جذبہ وشوق تھاکہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سوالات کرنے سے نہ شرماتے ،صحابہ کرام کو بھی علم حاصل کرنے کی ترغیب دلاتے، بحرین کے گورنراوردورِ امیرمعاویہ میں قائم مقام گورنربھی رہے، 78سال کی عمرمیں 57ھ کووصال فرمایا اورجنت البقیع میں دفن کئے گئے۔ آپ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں حدیث کے سب سے بڑے حافظ تھے۔امام ذہبی فرماتے ہیں: آپ قرآن،سنت اور فقہ تینوں میں پیشوا تھے۔ آپ کو علم کی اشاعت سے محبت تھی، آپ کی مرویات کی مجموعی تعداد 5374 ہے، ان میں326متفق علیہ ہیں اور 79میں بخاری اور 93 میں مسلم منفرد ہیں۔ آپ نے ایک مجموعہ احادیث بھی مرتب کرایا۔ آپ  خوف خدا کے پیکر،اچھے اخلاق کے مالک،سچے عاشق رسول، سادگی وجودوسخاکے پیکر، متبع سنت، شب بیدار اور روزانہ 12ہزارمرتبہ  تسبیح پڑھتے تھے،ذوق وشوق سے عبادت میں مصروف رہنے والے تھے۔ فرمان مصطفی (صلی اللہ علیہ والہ وسلم ):ابوہریرہ علم کا ظرف ہے ۔ )[67](

۞ ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت 12ربیع الاول مطابق 20اپریل 571ء کو وادی بطحا مکہ شریف کے معززترین قبیلے قریش میں ہوئی اور 12ربیع الاول 11ھ مطابق 12 جون 632ء کو مدینہ منورہ میں وصال ظاہری فرمایا۔آپ وجہِ تخلیق کائنات،محبوب خدا،امام المرسلین، خاتم النبیین اورکائنات کی مؤثرترین شخصیت کے مالک تھے،آپ نے 40 سال کی عمرمیں اعلان نبوت فرمایا ،13سال مکہ شریف اور10سال مدینہ شریف میں دین اسلام کی دعوت دی ،اللہ پاک نے آپ پر عظیم کتاب قرآن کریم نازل فرمایا۔اللہ پاک کے آپ پر بے شمار دُرُوداورسلام ہوں ۔([68])

حواشی



[1] ...فیوض الزاھی فی شرح سنن النسائی ،1/51،80،75

[2] ... مہرِمنیرسوانحِ حیات ، ص، 84 ،تذکرۂ محدثِ سُورتی ،ص، 26

[3] ... مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن،ص،80

[4] ...حضرت شیخ ابوحفص عمربن حسن بن مزیدبن اُمیلہ مراغی رحمۃ اللہ علیہ کا نام عجالۃ النافعہ صفحہ 22میں عمربن ابی الحسن المراغی جبکہ مقدمہ تفسیرمیزان الادیان صفحہ 76میں عمربن ابی الحسن المراعی لکھا ہے ،دونوں درست نہیں ہیں ،آپ کا درست نام و نسب یہ ہے : عمر بن حسن بن مزيد بن أميلة بن جمعة المراغي المزي مسند الشام زين الدين أبو حفص ہے،اس لیے سند میں اس کی درستی کردی ہے ۔

[5] ...علامہ ابن سنی حافظ ابوبکراحمد بن محمد بن اسحاق دینوری کے اذکارمیں آپکی تصانیف میں اختصارسنن نسائی المجتبیٰ، الصراط المستقیم ،فضائل الاعمال ،عمل الیوم واللیلہ،الطب النبوی اورالقناعہ کے نام ہیں ،مجالسۃ الدینوری نام سےکوئی کتاب کا تذکرہ نہیں ملا البتہ ایک اورشخصیت علامہ ابوبکراحمد بن مروان بن محمد الدینوری قاضی المالکی (وفات، صفر 298ھ) کی کتاب المجالسۃ الدینوری وجواہرالعلم ہے جسے دارابن حزم بیروت نے دس جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[6] ...نِساخراسان کاایک شہرہے، یہ سرخس سے دودن، مروسے پانچ دن،ابیوردسے ایک دن اورنیشاپورسے چھ یاسات دین کے فاصلے پرہے۔(معجم البلدان،4/385)اب یہ ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آبادسے جانب جنوب مغرب 18کلومیٹرکے فاصلے پرایران کی سرحد کے قریب واقع ہے اورایک گاؤں کی مانندہے۔

[7] ...ابیوردخراسان کا ایک شہرتھا ،جسے 31ھ میں صحابی جلیل حضرت عبداللہ بن عامربن کریزقرشی نے فتح کیاتھا ،اب یہاں کوئی آبادی نہیں ہے البتہ اس کے قریب ایران کے صوبے خراسان کا شہردرغز(Dargaz)واقع ہے۔

[8] ... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 76

[9] ... امام المحدثین نے دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہورکو 1924ء میں مسجدوزیرخاں اندرون دہلی گیٹ میں شروع فرمایا، پھر یہ جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ منتقل کردیا گیا ،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے آپ کے صاحبزادے مفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابوالبرکات سیداحمدرضوی صاحب نے اس کی وسیع وعریض عمارت بیرون بھاٹی گیٹ گنج بخش روڈ پر بنائی ،جو اب بھی قائم ہے ۔

[10] ...فتاویٰ دیداریہ کے مرتب مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اس میں 344فتاویٰ ہیں، 87فتاویٰ کے علاوہ تمام فتاویٰ مفتی سیددیدارعلی شاہ صاحب کے تحریرکردہ ہیں،اسے مکتبۃ العصرکریالہ جی ٹی روڈ گجرات پاکستان نے 2005ء کو بہت خوبصورت کاغذپر شائع کیا ہے ،اس کے کل صفحات 864ہیں ۔

[11] ... فتاویٰ دیداریہ، ص2،ہفتہ واراخبارالفقیہ ، 21تا28،اکتوبر1935ء، ص23

[12]... حدائقِ حنفیہ،ص،510۔صحیح البخاری مع الحواشی النافعۃ،مقدمہ،1/37

[13]... حیات شاہ اسحاق محدث دہلوی،18،33،77

[14] ... کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا قرآن کریم کا بہترین ،تفسیری اردوترجمہ ہے ،جسے پاک وہند اوربنگلادیش میں مقبولیت حاصل ہے اس پر صدرالافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان فی تفسیرالقران اورحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی نے نورالعرفان علی کنزالایمان کے نام سے تفسیری حواشی ہیں ۔

[15]... اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے کثیرعلوم میں دسترس تھی ،اس پر آپ کی تقریبا ایک ہزارکتب ورسائل شاہدہیں ،مگرآپ کا میلان فتاویٰ نویسی کی جانب سے تھا آپ کے جو فتاویٰ محفوظ کئے جاسکے انہیں العطایہ النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ کے نام سے جمع کیا گیا ،پہلی جلدتو آپ کی حیات میں ہی شائع ہوگئی تھی ،یک بعددیگرےاس کی بارہ جلدیں شائع ہوئیں،1988ء میں مفتی اعظم پاکستان ،استاذالعلمامفتی عبدالقیوم ہزاروی (بانی رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)نے اسکی تخریج وترجمہ کا کام شروع کیا ،جس کی تکمیل 2005ء کو 33جلدوں کی صورت میں ہوئی ،جس کے صفحات 21 ہزار،9سو70ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ ،30/5،10)

[16]... جدالممتارعلی ردالمحتار،اعلیٰ حضرت کا فقیہ حنفی کی مستندکتاب ردالمحتارالمعروف فتاویٰ شامی پر عربی میں حاشیہ ہے جس پر دعوت اسلامی کے تحقیقی وعلمی شعبے المدینۃ العلمیہ نے کام کیا اور2006ء کو اسے 7 جلدوں میں مکتبۃ المدینہ کراچی سے شائع کروایا ہے ،2022ء میں اس کی اشاعت دارالکتب العلمیہ بیروت سے ہوئی۔

[17] ... حدائق بخشش اعلیٰ حضرت کا نعتیہ دیوان ہے جسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے ،المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)نےپہلی مرتبہ اسے 2012ء میں 446صفحات پرشائع کیا ہے ،اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

[18] ... سلطانُ العاشقین، حضرت سیّد شاہ بَرَکَتُ اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1070ھ کو بلگرام (اودھ، یوپی) ہند میں ہوئی۔ 10 محرَّمُ الحرام 1142ھ کو مارہرہ مطہرہ (ضلع ایٹہ، یوپی) ہند میں وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، شیخ المشائخ، مصنفِ کتب، صاحبِ دیوان شاعر، عوام و خواص کے مرجع اور بانیِ خانقاہ برکاتیہ ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص12تا17)

[19] ... زبدۃ الواصلین، حضرت سیّد شاہ حمزہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1131ھ مارہرہ شریف (یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 14 محرَّمُ الحرام 1198ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار ”درگاہ شاہ بَرَکَتُ اللہ“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص20تا23)

[20] ... شمس مارَہرہ، غوثِ زماں، حضرت سیّد شاہ ابوالفضل آلِ احمد اچھے میاں مارَہروی قادری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت 1160ھ کو مارَہرہ مطہرہ (ضلع ایٹایوپی) ہند میں ہوئی، وصال 17 ربیع ُالاوّل 1235ھ کو یہیں فرمایا۔ آپ جَیِّد عالمِ دین، واعِظ، مصنّف اور شیخِ طریقت تھے، آدابُ السالکین اور آئینِ احمدی جیسی کتب آپ کی یادگار ہیں۔ آپ سلسلہ قادریہ رضویہ کے 36ویں شیخِ طریقت ہیں۔ (احوال و آثارِ شاہ آل ِاحمد اچھے میاں مارہروی، ص26)

[21]... تاریخ خاندان برکات، ص37تا46،مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات ،221

[22] ...آپ کی یہ پانچوں تصانیف فارسی میں ہیں تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی ،اس کا موضوع ردرفض ہے، تفسیرعزیزی کا نام تفسیرفتح العزیزہے ،جو چارجلدوں پر مشتمل ہے ،بستا ن المحدثین میں محدثین کے مختصرحالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عاجلہ نافعہ فن حدیث پرہے جس میں آپ نے اپنی اسنادواجازت کو بھی ذکرفرمایا ہے ،اسکے 26صفحات ہیں ۔

[23]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[24]...پہلی چارکتب کا موضوع نام سے واضح ہے ،آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اورمصلحتوں کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاہے،اس میں شخصی اوراجتماعی مسائل کوزیرِبحث لایاگیا ہے، بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ،کتاب ازالۃ الخفاء ردرفض پرہے ،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائد ومعمولاتِ اہل سنت پر کاربند تھے،آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسنادواجازات اورآپ کے مشائخ کے تذکرے پرمشتمل ہیں ۔

[25]... الفوزالکبیر،7،8،شاہ ولی اللہ محدث کے عرب مشائخ ،23

[26] ...مُجدّدِوقت حضرت سیّد محمدبن عبدالرسول بَرْزَنْجی مَدَنی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شہرزُور (صوبہ سلیمانیہ، عراق) 1040 ھ میں ہوئی اور یکم محرم 1103 ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قراٰن، جامعِ معقول ومنقول، علامۂ حجاز، مفتیِ شافعیہ، 90کتب کے مصنّف، ولیِ کامل اور مدینہ شریف کے خاندانِ بَرْزَنجی کے جدِّ امجدہیں۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص13، تاریخ الدولۃ المکیۃ، ص59)

[27] ... عالمِ کبیر، مسند العصرحضرت سیّدُنا شیخ ابو الاسرار حسن بن علی عُجَیْمی حنفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10ربیع الاول 1049ھ مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ 3شوَّالُ المکرَّم 1113ھ کو وصال طائف (عرب شریف) میں فرمایا، تدفین احاطۂ مزار حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میں ہوئی۔ آپ عالم اسلام کے سوسے زائدعلماوصوفیا کے شاگرد، حافظ قران، محدثِ شہیر،فقیہ حنفی،صوفیِ کامل،مسندِ حجاز،استاذالاساتذہ، اور 60 سے زائد کتب کے مصنف تھے،آپ نے طویل عرصہ مسجدحرم،مسجدنبوی اورمسجدعبداللہ بن عباس (طائف)میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں۔(مختصرنشرالنور ،167 تا173 ،مکہ مکرمہ کے عجیمی علماء،ص6تا54)

[28] ... خاتم المحدثین حضرت امام عبداللہ بن سالم بصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1049ھ کو مکہ میں ہوئی اوریہیں 4 رجب 1134ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے،بصرہ میں نشوونما پائی،پھرمکہ شریف میں آکر مقیم ہوگئے،آپ مسجدحرام شریف میں طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے،زندگی بھریہ معمول رہا،کثیر علمانے آپ سے استفادہ کیا،آپ جیدعالم دین،محدث وحافظ الحدیث اورمسند الحجازتھے، کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری یادگار ہے۔(مختصر نشر النور، ص290تا292، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،18تا20)

[29]... اعلام الزرکلی،304/5، سلک الدرر،24/4،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ ،25

[30] ... کتاب الامم لایقاظ الھمم کو مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن نے 1328ھ میں دیگر4،اسنادومرویات کے رسائل کے ساتھ شائع کیاہے ، الامم لایقاظ الھمم کے کل صفحات 134ہیں ۔

[31]... سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 1/9، اعلام للزکلی، 1/35، البدرالطالع بمحاسن من بعد قرن السابع، 1/11

[32]... صاحبِ درِمختار، عمدۃ المتاخرین حضرتِ سیّدناعلّامہ مفتی محمدعلاؤ الدین حصکفی دمشقی حنفی کی ولادت 1025ھ دمشق شام میں ہوئی اور وصال 10 شوال 1088ھ کو فرمایا، مزار بابِ الصغیر (دمشق)شام میں ہے۔آپ جامع ِمعقولات و منقولات اورعظیم فقیہ تھے۔ اپنی کتاب ’’درمختار شرح تنویر الابصار‘‘کی وجہ سے مشہور ہیں۔ (جد الممتار، 1/245، 242، 79)

[33] ... الدرۃ الثمینۃ فیمالزائرالنبی الی المدینۃ،فضائل مدینہ پر مشتمل کتاب ہے جسے دارالکتب العلمیہ بیروت نے شائع کیا ہے۔

[34]... الامم لایقا ظ الھمم ،125تا127،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،8تا10،42

[35]... الامم لایقا ظ الھمم ،127،128،معجم المؤلفین ،1/205،رقم1519

[36] ... نہایۃ المحتاج شرح المنہاج فقہ شافعی کی امہات الکتب میں سے ہے ،یہ امام یحیی نووی کی کتاب منهاج الطالبين وعمدة المفتين کی شرح ہے، دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے چھ جلدوں میں میں شائع کیا ہے ۔

[37]... معجم المؤلفین،3/61

[38] ...دولت مملوکیہ کو سلطنت مملوک بھی کہاجاتاہے ،اسے ایوبی سلطنت کے زوال کے بعدمصراورشام میں1250ء میں عزالدین ترکمانی نے قائم کیا ،بحری مملوک ملک صالح ایوبی کے ترک غلام تھے ،اس نے انہیں دریائے نیل کے کنارے آبادکیا،بعدمیں یہ حکمران بنے اور1389ء تک حکمرانی کی،اس کے بعدبرجی مملوک (قفقازکے سرکیشی غلاموں)کی حکومت شروع ہوئی جوالاشرف طومان بیگ دوم کے دورِحکومت 1517ء تک قائم رہی اس کے بعدمصرسلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا ۔ یوں دولت مملوکیہ کا دورحکومت 267سال پر محیط ہے ۔

[39] ... امام ابوالمَوَاہِب عبدالوہاب شعرانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ صوفی، عالمِ کبیراورصاحبِ تصانیف ہیں،تنبیہُ الْمُغْتَرِّیْن، اَنوارُالقُدسیہ اور طبقات شعرانی مشہورتصانیف ہیں۔ پیدائش 898ھ اور وصال جمادی الاولیٰ973ھ میں ہوا، مزارمبارک باب شعری، مدینۃُ البُعُوث،قاہرہ مصرمیں ہے۔(معجم المؤلفین،/2339)

[40] ... شیخ الاسلام ،شہاب الملت والدین،مفتی حجازحضرت امام ابو االعباس،ابن حجر احمد بن محمد سعدی ہیتمی شافعی الازہری کی پیدائش رجب 909 ھ کو محلہ ابی الہيتم (صوبہ غربیہ ،مصر)میں ہوئی اورمکہ مکرمہ میں رجب974ھ کو وصال فرمایا،آپ علم تفسیر،حدیث ،فقہ،تاریخ اورکلام وغیرہ میں ماہرتھے ،آپ نے جیدعلمائے عصرسے استفادہ کیا اورمحدث وفقیہ شافعی ہونے کا شرف حاصل کیا ،آپ تقریبا 33سال تدریس ،افتااورتصنیف وتالیف میں مصروف رہے، کثیرعلما نےآپ سے اجازات حاصل کیں ۔آپ کی تصانیف میں الصواعق المحرقہ، الفتاوى الحدیثیہ ، تحفۃ الاخبار فی مولد المختار،اتحاف اہل الاسلام بخصوصيات الصيام، تحفۃالمحتاج بشرح المنہاج اور مبلغ الارب فی فخر العرب ہیں ۔(الاعلام، الزركلی، ج1 ص234، الكواكب السائرة ، 3 /101)

[41] ... فتح الرحمن بكشف ما يلتبس من القرآن  بہترین تفسیرقرآن ہے،دارالقرآن الکریم بیروت نے اسے ایک جلدمیں شائع کیاہے جس کے638 صفحات ہیں ۔

[42] ... تحفۃ الباری یا منحۃ الباری بشرح صحيح البخاری کو  مکتبۃ الرشد نے 10جلدوں میں شائع کیا ہے ،یہ10 شروحات ِبخاری کاخلاصہ ہے۔

[43] ... منہج الطلاب فی فقہ الامام الشافعی  امام نووی کی کتاب منہاج الطالبین کا خلاصہ ہے ،اس کی اشاعت مختلف مطابع سے ہوئی ہے مثلا دارالبشائرنے اسے 456صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[44] ... اسنى المطالب شرح روض الطالب  کا موضوع بھی فقہ ہے ،شوافع کے ہاں اس کی اس قدراہمیت ہے کہ کہاجاتاہے کہ جس نے اسنی المطالب نہیں پڑھی تو وہ شافعی ہی نہیں ، دارالکتب العلمیہ نے اسے 9جلدوں شائع کیا ہے ،کئی دیگرمطابع سے بھی اس کی اشاعت ہوئی ہے ۔

[45]...کواکب السائرہ، 1/198 تا 208، النورالسافر، ص172تا177، شذرات الذھب، 8/174تا176

[46]... علامہ عبد الوهاب بن احمد بن وهبان دمشقی(متوفی،768ھ) نے فقہ حنفی میں منظوم کتاب’’ عقد القلائد فی حل قيد الشرائد‘‘تحریرفرمائی علامہ ابن الفرات نے اس کا خلاصہ نخبة الفوائد المستنتجةتحریرفرمایا۔

[47]... الضوء اللامع، ج4ص 186 ، اعلام زرکلی، ج3، ص348

[48] ... شیخ عمربن حسن مراغی نے اپنی اسنادومرویات کا مجموعہ تیارفرمایا جو مشیخۃ الامام ابی حفص عمرالمرغی کے نام سے معروف ہے ،شرکۃدارالبشائرالاسلامیہ بیروت نے اسے 64صفحات پر2003ء میں شائع کیا ہے ۔

[49]... معجم الشیوخ سبکی،1/312 ، الدرر الكامنہ، 3/ 159،شذرات الذہب،8/444

[50] ... شذرات الذهب 5/ 414، تاریخ الاسلام الذہبی، 15/565

[51] ... اصفہان شہر ایران کے صوبے اصفہان کا دارالحکومت ہے۔

[52] ... سیراعلام النبلاء ،21/362، شذرات الذھب، 4 / 329

[53] ... سیراعلام النبلاء،19/303

[54] ... سیراعلام النبلاء ،17/514

[55] ... علامہ ابن سنی رحمۃ اللہ علیہ کتاب عمل الیوم واللیلہ کوشرکۃ دارالارقم بن ابی الارقم بیروت نے 1418ھ کو 512صفحات پر شائع کیا ہے،کئی دیگرمطابع سے بھی اس کی اشاعت ہوئی ۔

[56] ...علامہ ابن سنی رحمۃ اللہ علیہ کتاب الطب النبوی کو دارالرسالہ بیروت نے 272صفحات پر شائع کیاہے ۔

[57] ... سیراعلام النبلاء ،16/256،اعلام زرکلی،1/209

[58] ... تاریخ ابن عساکر، 71/170، 176، بستان المحدثین، ص298

[59] ... عالم مدینہ،کروڑوں مالکیوں کے امام حضرتِ سیِّدنا امام مالِک بن انس اصبحی حمیری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 93ھ میں مدینۂ منورہ میں ہوئی اور 14ربیعُ الاوّل 179ھ کو وصال فرمایا۔ قبر شریف جنۃ البقیع میں ہے۔ آپ، صحابی رسول حضرت ابوعامراصبحی رضی اللہ عنہ کےپڑ پوتے، تابعی بزرگ،کثیرالعبادات،محدث وفقیہ،ادب وحیا کے پیکر، عمدہ فہم ووسیع علم والے متبع سنت،مؤثرترین شخصیت کے مالک،درازعمر اورعالی سند والے تھے،آپ کی کتاب مؤطا امام مالک احادیثِ مبارکہ کے مقبول و معروف مجموعوں میں قدیم ترین ہے۔زندگی بھرمدینہ شریف میں رہ کر حدیث وفقہ کی تدریس میں مصروف رہے۔( سیر اعلام النبلاء، 7/382، 435، تذکرۃ الحفاظ، 1/154، 157)

[60] ... شیخ الاسلام حضرت سیّدنا امام لیث بن سعد مصری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 94ھ قرقشندہ(القلَج صوبہ قلیوبیہ) مصر میں ہوئی۔ آپ محدثِ زمانہ اور مفتی اہلِ مصر تھے۔ 15شعبان 175ھ کو مصر میں وصال فرمایا، مزار مبارک قَرافہ صُغریٰ (شارع امام لیث، قاہرہ) مصر میں ہے۔ (حدائق الحنفیہ، ص140، تاریخ ابن عساکر، 50/349،347)

[61] ... سیراعلام النبلاء ،11/14،اعلام زرکلی،5/189

[62] ... وفیات الاعیان، 2/328، سیر اعلام النبلاء، 7/653

[63] ... سیراعلام النبلاء،5/326

[64] ... حضرت عبدالرحمن بن عوف قرشی زہری رضی اللہ عنہ کی ولادت عام الفیل کے دس سال بعدمکہ مکرمہ میں ہوئی اور 31یا 32ھ میں وصال فرمایا ،تدفین جنۃ البقیع میں ہوئی ،آپ جلیل لقدرصحابی ،حسن ظاہری وباطنی سے متصف ،خوش بخت ونیک خصلت ،دعائے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی برکت سے مال داراورعشرہ مبشرہ صحابہ سےتھے ،آپ کی شان میں دوفرامین مصطفی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم ):عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں اورجنت میں ان کے رفیق حضرت عیسی علیہ السلام ہوں گے، عبدالرحمن بن عوف مسلمان شرفا کے سردارہیں ۔( اصابہ ،8/203،الریاض النضرہ،2/306، 1/35 )

[65] ... ترجمان القرآن، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ولادت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ہاں ہجرت سے تین سال قبل مکہ میں ہوئی اورآپ نے 67ھ کو طائف میں وصال فرمایا ،مزارمبارک مسجدعبداللہ بن عباس طائف کے قریب ایک احاطے میں ہے ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے علم وحکمت،فقہ دین اور تاویل کتاب مبین کی دعافرمائی،آپ علم تفسیر، حدیث، فقہ،شعر،علم وارثت وغیرہ میں کامل دسترس رکھتے تھے،آپ کے القابات بحرالعلوم، امام المفسرین، ربانیِ امت،اجمل الناس،افصح الناس اوراعلم الناس ہیں۔ (تنویرالمقیاس،ص7تا32)

[66]... سیراعلام النبلا جلد 4ص 287 

[67] ... تہذیب الکمال،34/366،سیراعلام النبلاء،2/578 -596

[68]... مدارج النبوت ،2/14،آخری نبی کی پیاری سیرت ، 143تا145


مقالے کی PDF کے لئے ڈاؤن لوڈ پر کلک کریں Download PDF

امام المحدثین کی سندجامع ترمذی

کتاب الجامع المعروف سنن تِرمِذی صحاح ستہ میں شامل ہے ترتیب کے مطابق یہ صحیح بخاری ،صحیح مسلم ،سنن ابو داؤد اور سنن نسائی کے بعد شمار ہوتی ہے مگر اپنی جامعیت ،حسن ترتیب اور دیگر فوائد کی وجہ سے صحیحین (صحیح بخاری اورمسلم)کے بعد ذکر کی جاتی ہے ،اس میں حدیث کے تمام موضوعات کے تحت احادیث کو لایا گیا ہے، اسی لیے جامع ترمذی کہا جاتا ہے نیز اس کی ترتیب ابواب فقہ کے مطابق بھی ہے اس لیے اسے سنن ترمذی بھی کہا جاتا ہے، یہی وہ خصوصیت ہے جو اسے دیگر کتب احادیث سے ممتاز کرتی ہے البتہ امام ترمذی نے خود اسے ’’المسند الصحیح‘‘تحریر فرمایا ہے ، یوں تو صحیح وہ کتاب ہوتی ہے جس کی تمام احادیث سند صحیح کے ساتھ ہوں ،جامع ترمذی کو صحیح کہنا اکثر کے اعتبار سے ہے ،اس کی دیگر خصوصیات میں یہ بھی ہے کہ ہر حدیث پاک کے بعد اس کا صحیح یا ضعیف ہونا بیان کیا جاتا ہے اور ضعف کی علت بھی ذکر کی ہے ،ہر حدیث پاک کسی نہ کسی فقیہ کی معمول بہ ہے ،ضمنا امام ترمذی مشہور فقہا کی آراء کو بھی ذکر کرتے ہیں ،جامع ترمذی کی ترتیب آسان اور طریقہ واضح ہے ۔ ایک قول کے مطابق اس میں کل احادیث ایک ہزار تین سو پچاسی (1385) ہیں ، اگر متابعات و شواہد کو بھی شامل کرلیا جائے تو کل تعداد تین ہزار نو سو چھپن (3956)بن جاتی ہے ۔ ([1])

ہمارے بلاد میں ہونے والے دورہ ٔ حدیث میں جامع ترمذی کو بھی شامل کیا گیا ، عموما اسے وہ اساتذہ پڑھاتے ہیں جو علم فقہ سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں ۔امام المحدثین حضرت علامہ مفتی سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ (ولادت، 1273ھ مطابق 1856ھ ،وفات 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20 ، اکتوبر 1935ء ) نے 1295ھ مطابق 1878ء میں افضل المحدثین علامہ احمد علی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے دورۂ حدیث کر کے اسانید احادیث مشمول سنن ترمذی کی اجازت حاصل کی۔ ([2]) انھوں نے علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی سے اور انھوں نے سراج الہند علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے ،اسی طرح امام المحدثین مفتی سید محمد دیدار علی شاہ صاحب نے ذوالحجہ 1337ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے جملہ اجازات و اسانید حاصل کیں ، ([3]) اور اعلیٰ حضرت نے اپنے مرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی سے اور انھوں نے سراج الہند علامہ شاہ عبد العزیز سے اور سراج الہند تحریر فرماتے ہیں :

(میرے والد گرامی علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ) حضرت شیخ ابو طاہرسے، (انھوں )نے اسے(یعنی اجازت و سند جامع ترمذی کو) حضرت شیخ ابو طاہر سے انہوں نے حضرت شیخ ابراہیم کردی سے اور انہوں نے شیخ سلطان مزاحی سے اور انہوں نے شیخ شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی سے اور انہوں نے شیخ نجم الدین محمد غیطی سے اور انہوں نے شیخ زین الدین زکریا بن محمد الانصاری سے اور انہوں نے شیخ عز الدین عبد الرحیم بن علی بن الفرات القاہری حنفی([4]) سے اور انہوں نے عمر بن ابو الحسن مراغی([5])سے (مراغہ بفتح میم ، ملک ایران میں ایک مشہور شہر کا نام ہے) اور انہوں نے شیخ فخر الدین ابن البخاری سے اور انہوں نے شیخ عمر بن طبرزد بغدادی([6])سے اور انہوں نے شیخ ابو الفتح عبد الملک بن عبداللہ بن ابی سہل الکروخی سے (کروخ ، فتح کاف اور ضمہ رائے مہملہ محففہ کے ساتھ نواحِ ہرات میں ایک گاؤں کا نام ہے اور یہی شیخ ابوالفتح صاحب نسخہ ترمذی ہیں) اور انہوں نے قاضی ابو عامر محمود بن القاسم بن محمد ازدی سے اور انہوں نے شیخ ابو محمد عبد الجبار بن محمد بن عبد اللہ بن ابی الجراح الجراحی مروزی سے (اور وہ مرو شاہجہان کی طرف منسوب ہے جو خراسان میں ایک مشہور گاؤں ہے) اور انہوں نے ابوالعباس محمد بن محبوب المحبوبی المروزی([7]) سے اور انہوں نے صاحب کتاب ابو عیسی ٰمحمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے ۔ ([8])

سندِ جامع ترمذی کے رواۃ و شیوخ کا مختصر تعارف

امام المحدثین مفتی سید محمد دیدار علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی سند ِجامع ترمذی بطریق علامہ احمد علی سہارنپوری اور بطریق امام احمد رضا 25 واسطوں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے ،ذیل میں ان تمام محدثین کا مختصر تعارف بیان کیا جاتاہے:

امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام اور اکابرین اہل سنّت سے تھے۔آپ 1273ھ مطابق 1856ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان، ہِند )میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 22 رجب المرجب 1354 ھ مطابق 20 ،اکتوبر 1935 ء کو (بروزپیر) نماز عصر کے سجدے میں وصال فرمایا ،جامع مسجد حنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ لاہور سے متصل جگہ میں تدفین کی گئی ۔ دارُ العُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور([9]) اور فتاویٰ دِیداریہ ([10]) آپ کی یاد گار ہیں۔( [11])

(1)افضل المحدثین علامہ احمد علی سہارنپوری کی ولادت 1225 ھ مطابق 1810ء کو ہوئی اور 6 جمادَی الاُولیٰ 1297ھ مطابق 16 اپریل 1880 ء کو تقریباً بہتر (72) سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ اپنے آبائی قبرستان متصل عید گاہ سہارنپور میں سپردِ خاک کیے گئے۔آپ حافظِ قرآن، عالمِ اجل، استاذُ الاساتذہ، مُحدّثِ کبیر اور کثیر الفیض شخصیت کے مالک تھے، اشاعتِ احادیث میں آپ کی کوشش آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے، آپ نے صحاح ستہ اور دیگر کتب احادیث کی تدریس، اشاعت، حواشی اور درستیٔ متن میں جو کوششیں کیں وہ مثالی ہیں ۔ ([12])

(2)علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی کی پیدائش ذوالحجہ 1197ھ مطابق 1782 ء دہلی میں ہوئی،یہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے نواسے ،شاگرد اور جانشین تھے ،پہلے دہلی پھر مکہ شریف میں تدریس کرتے رہے ،وفات رجب 1262 ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اور جنت المعلیٰ میں دفن کئے گئے ۔ ([13])

(3)اعلیٰ حضرت، مجددِ دین و ملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10 شوال 1272 ھ مطابق 6 جون 1856 ء کو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ مطابق 28 ،اکتوبر 1921 ء کو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص و عام ہے۔آپ حافظِ قرآن، پچاس سے زیادہ جدید و قدیم علوم کے ماہر، فقیہ اسلام، مُحدّثِ وقت،مصلحِ امت، نعت گو شاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزار کتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب و عجم ، استاذ الفقہا و المحدثین، شیخ الاسلام و المسلمین، مجتہد فی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن([14]) ، فتاویٰ رضویہ([15]) ، جدّ الممتار علی رد المحتار([16]) اور حدائقِ بخشش([17]) آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ ([18])

(4) خاتِمُ الاکابِر ،قدوۃ العارفین حضرت علامہ شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،صاحبِ وَرَع و تقوی اور سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کی ولادت 1209 ھ کو خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف (ضلع ایٹہ،یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 18ذو الحجہ 1296 ھ کو وصال فرمایا،تدفین دلان شرقی گنبد درگاہ حضرت شاہ برکت اللہ([19])رحمۃ اللہ علیہ میں بالین مزار حضرت سید شاہ حمزہ([20]) ہوئی ۔ آپ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی ([21])رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔ صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں،فقہ میں آپ نے دو کتب مختصر تاریخ اور خطبہ ٔ جمعہ تحریر فرمائیں۔([22])

(5) سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین ، تحفۂ اِثنا عشریہ اور عجالہ نافعہ([23])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159ھ میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239 ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ ولی اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی ہند میں ہے۔ ([24])

(6) محدث ہند حضرت شاہ ولی اللہ احمد محدث دہلوی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 4شوال 1110ھ کو ہوئی اور یہیں 29 محرم 1176 ھ مطابق 1762 ء کو وصال فرمایا، تدفین مہندیاں، میر درد روڈ، نئی دہلی ہند میں ہوئی،جو درگاہ شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہور ہے، آپ نے اپنے والد گرامی حضرت شاہ عبد الرحیم دہلوی([25]) رحمۃ اللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی،حفظ قرآن کی بھی سعادت پائی، اپنے والد سے بیعت ہوئے اور خلافت بھی ملی، والد کی رحلت کے بعد ان کی جگہ درس و تدریس اور وعظ و ارشاد میں مشغول ہوگئے۔ 1143ھ میں حج بیت اللہ سے سرفراز ہوئے اور وہاں کے مشائخ سے اسناد حدیث و اجازات حاصل کیں۔ 1145 ھ کو دہلی واپس آئے،آپ بہترین مصنف تھے، مشہور کتب میں فتح الرحمن فی تر جمۃ القرآن فارسی ،الفوز الکبیر فی اصول التفسیر،مؤطا امام مالک کی دو شروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ فارسی، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی ،الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشائخ الحرمين اور الارشاد الی مہمات الاسناد عربی )[26] ( مشہور کتب ہیں۔ ([27])

(7) حضرت شیخ جمال الدین ابو طاہر محمد بن ابراہیم کورانی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مدینہ شریف میں 1081ھ مطابق 1670 ء کو ہوئی اور یہیں 1145 ھ مطابق 1733ء کو وصال فرمایا اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے ،آپ جید عالم دین ،محدث و مسند،مفتی ٔ شافعیہ مدینہ منورہ،علامہ شیخ ابراہیم کردی آپ کے والد صاحب اور شیخ احمد قشاشی([28])نانا محترم تھے۔ والد صاحب کے علاوہ ،مفتی شافعیہ مدینہ منورہ شیخ سید محمد بن عبد الرسول برزنجی([29])، شیخ عبد اللہ بن سالم([30])اور شیخ حسن بن علی عُجَیْمی سے اجازات حاصل کیں، کئی کتب بھی لکھیں ،جو اب تک مطبوع نہیں ہوسکیں ،مکتبہ حرم مکی میں آپ کی ثبت کا مخطوط پانچ اوراق میں محفوظ ہے ۔ ([31])

(8)حضرت امام شیخ برہان الدین، ابو العرفان ابراہیم بن حسن کورانی کردی کی ولادت کردستان(عراق) میں 1025 ھ کو ہوئی،آپ شافعی عالم دین،محدث و مسند ، سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ 80 سے زائد کتب لکھیں جن میں اسانید و مرویات پر مشتمل کتاب ”الامم لایقاظ الھمم “ مطبوع ہے۔آپ عراق سے ہجرت کر کے مدینہ شریف مقیم ہوگئے تھے،یہیں ایک قول کے مطابق 18 ربیع الآخر 1101 ھ مطابق 29 جنوری 1690 ء میں وصال فرمایا۔ ([32])

(9)حضرت شیخ ابو العزائم سلطان بن احمد سلامہ مزّاحی مصری ازہری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 985 ھ مصر میں ہوئی اور یہیں 17 جمادی الآخر1075 ھ میں وصال فرمایا، تدفین مجاورین قبرستان قاہرہ میں ہوئی،آپ نے علمائے عصر سے حفظ قرآن و قرات ،حدیث و فقہ و تصوف اور دیگر علوم حاصل کرکے 1008 ھ میں فارغ التحصیل ہوئے اور جامعۃ الازہر میں تدرس کرنے لگے، آپ امام الائمہ، بحر العلوم، استاذ الفقہاء و القراء،محدث وقت،علامہ زمانہ،نابغہ عصر،زہد و تقویٰ کے پیکر،مرجع خاص و عام، عابد و زاہد اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ ([33])

(10)شیخ الاسلام،ناصر الملت و الدین حضرت امام شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 939 ھ اور وفات 1032 ھ میں ہوئی، آپ نے مدرسہ باسطیہ ، مصر میں داخلہ لے کر علم دین حاصل کیا،جید علمائے مصر سے استفادہ کرکے محدث و فقیہ بننے کی سعادت پائی،حدیث و فقہ میں آپ کی کئی تصانیف ہیں،ان میں سے” فتح الغفور بشرح منظومۃ القبور([34])مشہور ہے۔ ([35])

(11)شیخ الاسلام حضرت امام نجم الدین ابو المواہب محمد بن احمد غیطی سکندری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 910 ھ اور وفات 981 ھ میں ہوئی، آپ کا تعلق مصر کے صوبہ سکندریہ کے مرکزی شہر سکندریہ سے ہے،آپ نے دیگر مشائخ بالخصوص شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری رحمۃ اللہ علیہ سے علم حدیث،فقہ اور تصوف وغیرہ حاصل کر کے اسناد اور تدریس و افتاء کی اجازات لیں،آپ امام الوقت، مسند العصر، محدث زمانہ، مرشد گرامی، محبوب ِ خاص و عام،بغیر لومۃ لائم برائی سے منع کرنے والے اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ ”بهجة السامعين و الناظرين بمولد سيد الاولين و الآخرين اور” قصۃ المعراج الصغری وغیرہ آپ کی تصنیف کردہ کتب ہیں۔ ([36])

(12) شیخ الاسلام حضرت امام زین الدین ابو یحییٰ زکریا بن محمد انصاری الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 826 ھ کو سُنیکہ(صوبہ شرقیہ)مصر میں ہوئی،جامعۃ الازہر سے علوم اسلامیہ حاصل کئے،قاہرہ میں مقیم ہوگئے ،آپ فقیہ شافعی،محدث وقت،حافظ الحدیث، صوفی با صفا،قاضی القضا ۃ،بہترین قاری،مصنف کتب کثیرہ ، لغوی و متکلم،مؤرخ و مدرس، مفتی اسلام اور نویں صدی ہجری کے مجدد ہیں،آپ نے 4 ذو الحجہ 925 ھ کو قاہرہ مصر میں وفات پائی۔ قاہرہ میں امام شافعی کے مزار کے قریب قرافہ صغریٰ میں تدفین ہوئی،آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ الدقائق المحكمة فی شرح المقدمة([37])،”تحفۃ الباری علی صحيح البخاری([38]) اور ” اَسنى المطالب([39] ) آپکی مشہور کتب ہیں۔ ([40])

(13)عز الملت و الدین حضرت شیخ ابن الفرات ابو محمد عبد الرحیم بن محمد حنفی مصری کی ولادت 759 ھ کو قاہرہ مصر کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی،حفظ قرآن و قراءت کے بعد علوم معقول و منقول کے تحصیل میں مصروف ہوگئے ،علمائے احناف ، شوافع اور حنابلہ سے استفادہ کیا ،جب حج پر گئے تو علمائے حجاز کی انہار علم سے بھی سیراب ہوئے ،اجازات عامہ و خاصہ حاصل کیں ،آپ احناف مصر کے جید عالم دین ، محدث و قاضی اور مصنف کتب تھے ،آپ نے اپنی ساری زندگی درس و تدریس ، تصنیف و تالیف میں گزاری ” نخبة الفوائد المستنتجة ([41])آپ کی یادگار تصنیف ہے ، آپ نے 16 ذو الحجہ  851 ھ کو قاہرہ میں وصال فرمایا ،باب النصر میں نماز جنازہ ہوئی اور خانقاہ سعید السعداء کے احاطے میں دفن کیے گئے۔ ([42])

(14) مراغی کبیر حضرت ابو حفص عمر بن حسن مراغی مزی دمشقی رحمۃ اللہ علیہ ولادت 8 رجب 679 یا 680 ھ کو مِزَّہ ، دمشق میں ہوئی اور 98 سال کی عمر میں 8 ربیع الآخر 778 ھ کو مراغی دمشق ، شام میں وصال فرمایا ،آپ محدث و قاری، مسند الشام اور اکابرین اہل سنت سے تھے، آپ نے اپنے وقت کے جید علماء ،قراء اور محدثین سے خوب استفادہ کیا اور اشاعت علوم و فنون میں مصروف ہوئے حتی کہ علما و فقہا اور محدثین کے مرجع قرار پائے ،آپ سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے ، مشيخۃ الامام ابی حفص عمر المراغی ([43]) آپ کی اسناد کا مجموعہ ہے ۔ ([44])

(15)محدث الاسلام، ابن بخاری حضرت امام فخر الدین ابو الحسن علی ابن احمد مقدسی صالحی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 595 ھ کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی ، اور آپ نے ربیع الآخر 690 ھ میں وصال فرمایا ،عالم و فقیہ ،فاضل و ادیب ،صاحب وقار و ہیبت ،تقوی و ورع کے پیکر اور علم و وعقل میں کامل تھے ،محدثین میں آپ بہت مکرم و محترم تھے ،آپ کو ”مسند العالم “ کہا جاتا ہے ،عرصہ دراز تک خدمت قرآن و سنت میں مصروف رہے، شام،مصر اور عراق کے محدثین نے آپ سے استفادہ کیا ۔ ([45])

(16) مُسند الوقت حضرت شیخ ابن طبَرْزَد ابو حفص عمر بن محمد دار قزی بغدادی ذو الحجہ 516 ھ میں پیدا ہوئے اور 87 سال کی عمر میں 9 رجب 607 ھ میں وصال فرمایا ،آپ نے اپنے بڑے بھائی اور دیگر اساتذہ سے علم دین حاصل کیا اور زندگی بھر حدیث پاک کی ترویج و اشاعت میں مصروف رہے،عراق و شام کے محدث و شیخ الحدیث قرار پائے ،آپ کی تالیف کردہ کتب میں مسند الامام عمر بن عبد العزيز “ یادگار ہے۔ آپ خوش اخلاق و ظریف الطبع تھے،آپ سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد کثیر ہے ۔ ([46])

(17)حضرت شیخ ابو الفتح عبد الملک بن عبد اللہ کروخی ہروی کی ولادت کروخ، ہرات (افغانستان) میں ربیع الاول 462 ھ میں ہوئی ،مکہ شریف میں بعد حج 25 ذوالحجہ 548 ھ میں وصال فرمایا ،ہرات ،بغداد اور مکہ شریف میں زندگی گزاری ،آپ شیخ العلما،امام الوقت اور حدیث کے ثقہ راوی تھے ، آپ ترمذی شریف کے نسخے لکھا کرتے تھے اور اسے بیچ کر گزر بسر کرتے تھے ۔آپ اخلاق حسنہ سے متصف ، فقر و ورع کے پیکر،روایت حدیث کے اعتبار سے ثقہ،صدوق،صالح اور مُتَدَیَّن (دیانت دار ) تھے ۔ ([47])

(18)شیخ الاسلام حضرت امام قاضی ابو عامر محمود بن قاسم ازدی ہروی مہلبی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ایک علمی گھرانے میں 400 ھ کو ہرات (افغانستان )میں ہوئی، اگرچہ اس زمانے میں ہرات علوم وفنون کے کا مرکز تھا لیکن آپ نے اسی پر اکتفانہ کیا بلکہ اجازات واسنادکے حصول کے لیے دیگرممالک کے کثیرسفر کئے ،آپ اپنے ملک میں علمائے شوافع میں سب سے بڑے عالم،قاضی و فقیہ، امام الوقت، محدث و مُسنِد اور زہد و تقوی و ورع کے پیکر تھے ،علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ موافق و مخالف سب تعظیم کرتے تھے،یہی وہ اوصاف تھے جنہوں نے انہیں خاص و عام کا مرجع بنادیا تھا ، آپ کا وصال 87 سال کی عمر میں 8 جمادی الاخریٰ 487 ھ میں ہوا۔ ([48])

(19)علامہ ابو محمد عبد الجبار بن محمد مرزبانی جراحی مروزی کی ولادت مرو میں 331 ھ کو ہوئی ،81سال کی عمر میں 412 ھ کو وصال فرمایا ،ہرات میں سکونت اختیار کی، وہیں امام ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب مروزی سے جامع ترمذی کا درس لیا اور اجازت حاصل کی،خلق کثیر نے آپ سے علمی فیضان حاصل کیا ،آپ امام الوقت ،ثقہ ، امین اور صالح روای حدیث تھے ۔ ([49])

(20) حضرت شیخ ابو العباس محمد بن احمد بن محبوب محبوبی مروزی رحمۃ اللہ علیہ 249 ھ کو مرو(صوبہ ماری ،ترکمانستان) میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم و تربیت مقامی علما سے حاصل کی ، علوم و فنون میں مہارت حاصل کرنے کے بعد 265 ھ میں آپ ترمذ ( صوبہ سرخان دریا، ازبکستان) تشریف لے گئے وہاں حضرت امام ترمذی کی صحبت میں رہ کر جامع ترمذی کی سماعت کر کے اجازت حاصل کی ،آپ عالم فاضل ، محدث ، مسند اور شیخ البلد تھے ۔آپ کا وصال رمضان 346 ھ میں ہوا۔ ([50])

(21) امامُ الائمّہ حضرتِ امام ابوعیسٰی محمد بن عیسٰی سلمی بوغی تِرمِذی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 209 ھ میں موضوع بوغ (ضلع تِرْمِذ، ساحلِ نہرِ جیجون،صوبہ سرخان دریا) اُزْبَکِسْتان میں ہوئی ،آپ نے امام احمد بن حنبل، امام بخاری اور امام ابو داؤد سمیت 30 سے زیادہ علما و محدثین سے حدیث کا درس لیا اور پھر احادیث جمع کرنے کے لئے خراسان ، عراق اور حجاز کا سفر کیا ،آپ کا وصال 13 رجب 279 ھ کو ترمذ میں ہوا۔ آپ شیخ المحدثین، غیر معمولی حافظہ کے مالک ،محسنِ اُمّت،تقویٰ و ورع کے پیکر، علم و عمل کے جامع اور احادیث کی مشہور ’’ جامع تِرمِذی“ کے مصنف ہیں،آپ کی دیگر تصانیف میں شمائل ترمذی([51]) کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی ۔ ([52])

۞جامع ترمذی میں ہر حدیث پاک سند کے ساتھ ہے،ایک حدیث پاک ایسی بھی ہے جس میں امام ترمذی اورنبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے درمیان صرف تین راوی ہیں، اسے سندِ ثلاثی کہتے ہیں ۔ ([53])

اس سند کے روایوں کا مختصر تعارف ملاحظہ کیجئے

(22)حضرت ابو محمد یا ابو اسحاق اسماعیل بن موسی کوفی فزاری کوفہ کے رہنے والے تھے۔ شیوخ عراق سے علم حدیث حاصل کرنے کے بعد دمشق، شام تشریف لے گئے،واپس آکر کوفہ مسند تدریس پر بیٹھے، حضرت امام ترمذی، حضرت امام ابو داؤد([54])،حضرت امام ابن ماجہ قزوینی([55]) جیسے جلیل القدر محدثین نے آپ سے سماعت حدیث کا شرف پایا،آپ صدوق روای حدیث ہیں ،آپ کا وصال 4 شعبان 245 ھ کوہوا۔([56])

(23)حضرت عمر بن شاکر بصری رضی اللہُ عنہ صحابی رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام حضرت ابو بکر محمد بن سیرین بصری ([57]) کے تربیت یافتہ و شاگرد ، صدوق راوی حدیث ،بصرہ کے رہنے والے تھے ،کئی تبع تابعین نے آپ سے احادیث سماعت کیں ،ان کی تاریخ ولادت اور وفات کی معلومات نہ مل سکی۔ ([58])

(24) خادم نبی حضرت سیدنا ابو حمزہ انس بن مالک انصاری خزرجی نجاری رضی اللہ عنہ آٹھ سال کی عمر میں رسول خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر معمور ہوئے اور آپ نے دس سال یہ سعادت حاصل کی، غزوہ بدر سمیت تمام غزاوت میں شریک ہوئے ، بارگاہِ رسالت سے یہ دعا ملی :” اَللّٰھُمَّ اَکْثِرْ مَالَہٗ وَوَلَدَہٗ وَاَطِلْ عُمُرَہٗ وَاغْفِرْ ذَنْبَهُ “ یعنی اے اللہ!اس کے مال اور اولاد میں کثرت عطا فرما، اسے درازیِ عمر عطا فرما اور اس کی مغفرت فرما،یہی وجہ ہے کہ آپ مالدار اور کثیر الاولاد تھے ، آپ کچھ عرصہ مدینہ منورہ میں گزار کر دورِ خلافت فاروقی میں بصرہ تشریف لے گئے ،بے شمار افراد نے آپ کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل کیا۔ آپ سے روایت کردہ 2286 (دو ہزار دو سو چھیاسی )،احادیث ِمبارکہ کتبِ احادیث و سِیَر میں ہیں ،ان میں سے 168 متفقہ طور پر صحیح بخاری و مسلم شریف میں ہیں ۔ آپ بہت زیادہ عبادت کرتے اور تلاوت قرآن فرمایا کرتے تھے ۔ ، جمہور کے نزدیک 93 ہجری میں آپ نے اس جہانِ فانی سے کوچ فرمایا،بوقتِ انتقال آپ کی عمر مبارک 100 سال سے زیادہ تھی۔آپ بصرہ میں وفات پانے والے آخری صحابی ہیں۔ ([59])

۞ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول مطابق 20 اپریل 571 ء کو وادی بطحا مکہ شریف کے معزز ترین قبیلے قریش میں ہوئی اور 12 ربیع الاول 11 ھ مطابق 12 جون 632 ء کو مدینہ منورہ میں وصال ظاہری فرمایا۔آپ وجہ ٔ تخلیق کائنات ،محبوب خدا، امام المرسلین ، خاتم النبیین اور کائنات کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے ،آپ نے 40 سال کی عمر میں اعلان نبوت فرمایا ، 13سال مکہ شریف اور 10 سال مدینہ شریف میں دین اسلام کی دعوت دی ، اللہ پاک نے آپ پر عظیم کتاب ” قرآن کریم “ نازل فرمایا ۔اللہ پاک کے آپ پر بے شمار دُرُود اور سلام ہوں ۔ ([60])

حواشی



[1]... سنن ترمذی مترجم،1/38،شرح جامع ترمذی ،1/139

[2]... مہرِمنیرسوانحِ حیات ، ص، 84 ،تذکرۂ محدثِ سُورتی ،ص، 26

[3]... مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن،ص،80

[4] ... ان نام ونسب عبدالرحیم بن محمد بن عبدالرحیم بن علی بن حسن بن محمد بن عبدالعزیزبن محمد العرّابومحمدبن مؤرخ ناصرالدین بن العِرّ ابوالفضل بن الفرات مصری قاہری حنفی ہے مگریہ ابن الفرات کے نام سے مشہورہیں ،مقدمہ میزان الادیان میں انصرات لکھا ہے جو درست نہیں ،اس لیے اسے دُرست کردیا ہے ۔

[5] ... ان کانام ونسب ابو حفص عمر بن الحسن بن مزيد بن امیلۃ المراغی الحلبی المزی الدمشقی ہے مقدمہ میزان الادیان میں عمربن ابی الحسن مراغی لکھاہے ،لفظ ابی زائدآگیا ہے اس لیے اسے حذف کردیا ہے۔

[6] ...ان کا نام نسب عمر بن محمد بن معمَّربن يحيى ابن احمد بن حسان، ابو حفص، ابن طَبَرْزَدْ، الدارقَزیّ، البغدادی ہے ،مقدمہ میزان الادین میں ابن طبرزد کے بجائےابن طبرزولکھاہے جو درست نہیں اس لیے اسے درست کردیا ہے ۔

[7] ...ان کانام ونسب ابو العباس ، محمد بن احمد بن محبوب بن فضيل المحبوبی المروزی ہے مگرتفسیرمیزان الادیان میں محمد بن محبوب لکھا ہے یعنی ان کے والدکا نام حذف ہوگیا ہے ،اس لیے اس کا اضافہ کردیاہے۔

[8]... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 75،76

[9] ... امام المحدثین نے دارُ العُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور کو 1924ء میں مسجد وزیر خاں اندرون دہلی گیٹ میں شروع فرمایا ،پھر یہ جامع مسجد حنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ منتقل کردیا گیا ،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے آپ کے صاحبزادے مفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابوالبرکات سید احمد رضوی صاحب نے اس کی وسیع و عریض عمارت بیرون بھاٹی گیٹ گنج بخش روڈ پر بنائی ،جو اب بھی قائم ہے ۔

[10] ...فتاویٰ دیداریہ کے مرتب مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ، اس میں 344فتاویٰ ہیں ،87فتاویٰ کے علاوہ تمام فتاویٰ مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب کے تحریر کردہ ہیں،اسے مکتبۃ العصر کریالہ جی ٹی روڈ گجرات پاکستان نے 2005 ء کو بہت خوبصورت کاغذ پر شائع کیا ہے ،اس کے کل صفحات 864ہیں ۔

[11] ... فتاویٰ دیداریہ، ص2،ہفتہ وار اخبار الفقیہ ، 21تا28،اکتوبر1935ء، ص23

[12]... حدائقِ حنفیہ،ص،510۔صحیح البخاری مع الحواشی النافعۃ،مقدمہ،1/37

[13]... حیات شاہ اسحاق محدث دہلوی،18،33،77

[14]... کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا قرآن کریم کا بہترین، تفسیری اردو ترجمہ ہے ،جسے مقبولیت عامہ حاصل ہے اس پر صدر الافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان فی تفسیر القران اور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی نے نور العرفان علی کنزالایمان کے نام سے تفسیری حواشی لکھے ہیں ۔

[15]... اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے کثیر علوم میں دسترس تھی ،اس پر آپ کی تقریبا ایک ہزار کتب و رسائل شاہد ہیں ،مگر آپ کا میلان فتاویٰ نویسی کی جانب زیادہ تھا آپ کے جو فتاویٰ محفوظ کئے جاسکے انہیں العطایہ النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ کے نام سے جمع کیا گیا ،پہلی جلد تو آپ کے حیات میں ہی شائع ہوگئی تھی ،یکے بعد دیگرے اس کی بارہ جلدیں شائع ہوئیں ، 1988 ء میں مفتی اعظم پاکستان ،استاذ العلما مفتی عبد القیوم ہزاروی (بانی رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)نے اسکی تخریج و ترجمہ کا کام شروع کیا ،جس کی تکمیل 2005 ء کو 33جلدوں کی صورت میں ہوئی ،جس کے صفحات 21 ہزار،9سو70ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ ،30/5،10)

[16]... جد الممتار علی رد المحتار،اعلیٰ حضرت کا فقہِ حنفی کی مستند کتاب رد المحتار المعروف فتاویٰ شامی پر عربی حاشیہ ہے جس پر دعوت اسلامی کے تحقیقی و علمی شعبے المدینۃ العلمیہ نے کام کیا اور 2006 ء کو اسے 7 جلدوں میں مکتبۃ المدینہ کراچی سے شائع کروایا ہے ،2022ء میں اس کی اشاعت دار الکتب العلمیہ بیروت سے بھی ہوئی ہے۔

[17]... حدائق بخشش اعلیٰ حضرت کا نعتیہ دیوان ہے جسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے ،المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)نے اسے 2012ء میں 446 صفحات پر شائع کیا ہے ،اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

[18]...حیاتِ اعلیٰ حضرت،ص، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص،282، 301۔

[19] ... سلطانُ العاشقین، حضرت سیّد شاہ بَرَکَتُ اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1070 ھ کو بلگرام (اودھ، یوپی) ہند میں ہوئی۔ 10 محرَّمُ الحرام 1142 ھ کو مارہرہ مطہرہ (ضلع ایٹہ، یوپی) ہند میں وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، شیخ المشائخ، مصنفِ کتب، صاحبِ دیوان شاعر، عوام و خواص کے مرجع اور بانیِ خانقاہ برکاتیہ ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص12تا17)

[20] ... زبدۃ الواصلین، حضرت سیّد شاہ حمزہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1131ھ مارہرہ شریف (یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 14 محرَّمُ الحرام 1198ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار ”درگاہ شاہ بَرَکَتُ اللہ“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص20تا23)

[21] ...شمس مارَہرہ، غوثِ زماں، حضرت سیّد شاہ ابو الفضل آلِ احمد اچھے میاں مارَہروی قادری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت 1160ھ کو مارَہرہ مطہرہ (ضلع ایٹایوپی) ہند میں ہوئی، وصال 17 ربیع ُالاوّل 1235ھ کو یہیں فرمایا۔ آپ جَیِّد عالمِ دین، واعِظ، مصنّف اور شیخِ طریقت تھے، آدابُ السالکین اور آئینِ احمدی جیسی کتب آپ کی یادگار ہیں۔ آپ سلسلہ قادریہ رضویہ کے 36ویں شیخِ طریقت ہیں۔ (احوال و آثارِ شاہ آل ِاحمد اچھے میاں مارہروی، ص26)

[22]... تاریخ خاندان برکات، ص37تا46،مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات ،221

[23]...آپ کی یہ چاروں تصانیف تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین ، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعجالہ نافعہ فارسی میں ہیں ، تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی ،اس کا موضوع رد رفض ہے ، تفسیر عزیزی کا نام تفسیر فتح العزیز ہے ،جو چار جلدوں پر مشتمل ہے ،بستان المحدثین میں محدثین کے مختصر حالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عجالہ نافعہ فن حدیث پر ہے جس میں آپ نے اپنی اسناد و اجازات کو بھی ذکر فرمایا ہے، اسکے 26صفحات ہیں ۔

[24]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[25]...حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم دہلوی کی ولادت 1054 ھ میں پھلت (ضلع مظفر نگر ، یوپی ، ہند ) میں ہوئی اور وصال 12صفر1131ھ کو دہلی میں فرمایا ،آپ جید عالم دین ، ظاہری و باطنی علوم سے آگاہ، صوفی بزرگ اور محدث وقت تھے ،علم فقہ میں بھی عبور رکھتے تھے ، فتاوی عالمگیری کی تدوین میں بھی شامل رہے ،کئی سلاسل کے بزرگوں سے روحانی فیضان حاصل کیا ، سلسلہ قادریہ ، سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ ابو العلائیہ، سلسلہ چشتیہ اور سلسلہ قادریہ قابل ذکر ہیں۔ ( انفانس العارفین،21،22،198)

[26]...ان چار کتب فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن، الفوز الکبیر فی اصول التفسیر، مؤطا امام مالک کی دو شروحات المصفیٰ ،المسوّی، کا موضوع نام سے واضح ہے، آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اور مصلحتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ،اس میں شخصی اور اجتماعی مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے ،کتاب ازالۃ الخفاء رد رفض پر ہے ،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائد و معمولاتِ اہل سنت پر کار بند تھے،آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسناد و اجازات اور آپ کے مشائخ کے تذکرے پر مشتمل ہیں ۔

[27]... الفوز الکبیر،7،8،شاہ ولی اللہ محدث کے عرب مشائخ ،23

[28] ... قطب زماں ،حضرت سید صفی الدین احمد قشاشی بن محمد بن عبد النبی یونس قدسی مدنی حسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت12ربیع الاول 991ھ مطابق1583ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی ،آپ حافظ قرآن، شافعی عالم دین ،عرب و عجم کے تقریبا سو علما و مشائخ سے مستفیض،سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ، 70 کے قریب کتب کے مصنف،نظریہ وحدۃ الوجود کے قائل و داعی تھے ۔آپ نے 19 ذو الحجہ 1071ھ مطابق 1661ء کو مدینہ شریف میں وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے ،تصانیف میں روضہ اقدس کی زیارت کے لیے سفرِ مدینہ کے اثبات پر کتاب ’’ الدرۃ الثمینۃ فیما لزائر النبی الی المدینۃ‘‘آپ کی پہچان ہے۔( الامم لایقاظ الھمم ،125تا127،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،8تا10،42)

[29]...مُجدّدِ وقت حضرت سیّد محمد بن عبد الرسول بَرْزَنْجی مَدَنی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شہرزُور (صوبہ سلیمانیہ، عراق) 1040 ھ میں ہوئی اور یکم محرم1103 ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قراٰن، جامعِ معقول و منقول، علامۂ حجاز، مفتیِ شافعیہ، 90 کتب کے مصنّف، ولیِ کامل اور مدینہ شریف کے خاندانِ بَرْزَنجی کے جدِّ امجد ہیں۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص13، تاریخ الدولۃ المکیۃ، ص59)

[30]... خاتم المحدثین حضرت امام عبد اللہ بن سالم بصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1049 ھ کو مکہ میں ہوئی اور یہیں 4 رجب 1134ھ کو وصال فرمایا، جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے، بصرہ میں نشو و نما پائی، پھر مکہ شریف میں آکر مقیم ہوگئے،آپ مسجد حرام شریف میں طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے ، زندگی بھر یہ معمول رہا،کثیر علما نے آپ سے استفادہ کیا،آپ جید عالم دین،محدث و حافظ الحدیث اور مسند الحجاز تھے، کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ”ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری یادگار ہے۔ (مختصر نشر النور، ص290تا292، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ ، 18 تا 20 )

[31]... اعلام للزرکلی،304/5، سلک الدرر،24/4

[32]... سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 1/9، اعلام للزرکلی، 1/35، البدر الطالع بمحاسن من بعد قرن السابع، 1/11

[33]... امتاَعُ الفُضَلاء بتَراجِم القرّاء،2/135تا139، خلاصۃ الاثر فی اعيان القرن الحادی العشر، 2/210

[34] امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے عالم برزخ کے بارے میں رسالہ منظومۃ القبور لکھا ، علامہ احمد بن خلیل سبکی رحمہ اللہ علیہ نے اس کی شرح فتح الغفور کے نام سے تحریر فرمائی ، دار النوادر بیروت اور دار المنہاج جدہ عرب نے اسے شائع کیا ہے ۔

[35]... خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر، 1/185

[36]... شذرات الذھب، 8/474، الاعلام للزرکلی، 6/6، معجم المؤلفین، 3/83

[37] ... الدقائق المحكمة قراءت کی مشہور کتاب مقدمہ جزریہ کی بہترین شرح ہے، اسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے ،مثلا مکتبۃ ضیاء الشام دمشق نے اسے 248 صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[38] ...تحفۃ الباری کا دوسرا نام منحۃ الباری ہے ،یہ بخاری شریف کی بہترین شرح ہے ، دار الکتب العلمیہ بیروت نے اسے 7 جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[39] ... اسنی المطالب فقہ شافعی کی کتاب ہے ،اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس نے اسے پڑھا نہیں وہ شافعی ہی نہیں ،دار الکتب العلمیہ بیروت نے اسے 9 جلدوں میں شائع کیا ہے۔

[40] ...شذرات الذھب، 8/174تا 176، النور السافر،ص172تا177، الاعلام للزرکلی، 3/ 46

[41] ...علامہ عبد الوهاب بن احمد بن وهبان دمشقی(متوفی،768ھ) نے فقہ حنفی میں منظوم کتاب ’’ عقد القلائد فی حل قيد الشرائد‘‘ تحریر فرمائی علامہ ابن الفرات نے اس کا خلاصہ نخبة الفوائد المستنتجة تحریر فرمایا۔

[42] ... الضوء اللامع، ج4ص 186، اعلام للزرکلی، ج3، ص348

[43] ...شیخ عمر بن حسن مراغی نے اپنی اسناد و روایات کا مجموعہ تیار فرمایا جو مشیخۃ الامام ابی حفص عمر المرغی کے نام سے معروف ہے ،شرکۃ دار البشائر الاسلامیہ بیروت نے اسے 64 صفحات پر 2003 ء میں شائع کیا ہے ۔

[44] ... معجم الشیوخ سبکی،1/312 ، الدرر الكامنہ، 3/ 159،شذرات الذہب،8/444

[45] ... شذرات الذهب 5/ 414، تاریخ الاسلام الذہبی، 15/565

[46] ... اعلام للزرکلی،5/61، سير اعلام النبلاء 21/507

[47] ... سیر اعلام النبلاء،20/273

[48] ...طبقات شافعیہ سبکی،5/327،سیر اعلام النبلاء،19/32، التقييد لمعرفة رواة السنن و المسانيد،ص442

[49] ...سیر اعلام النبلاء،17/258، اللباب فی تہذیب الانساب 1 / 268 ،العبر فی خبر من غبر، 3 / 108

[50] ... سیر اعلام النبلاء،15/537 ،العبر فی خبر من غبر، 2 / 74، الوافی بالوفيات، 2 / 31

[51] ...شمائل ترمذی کا نام ’’الشمائل المحمدیہ ‘‘ہے ۔اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عادات و خصائل کا خوبصورت بیان ہے اسے پڑھ کر آپ کی سیرتِ طیبہ کا ہر ہر گوشہ نظروں میں آجاتا ہے ، امام ترمذی نے 56 ابواب میں 97 صحابہ و صحابیات سے روایت شدہ 415 احادیث جمع فرمائی ہیں ۔ ان میں سے تین چوتھائی احادیث وہ ہیں جو امام ترمذی نے اپنی جامع ترمذی میں بھی ذکر کی ہیں ، ایک چوتھائی دیگر احادیث ہیں ۔اس کے کئی تراجم اور شروحات لکھی گئی ہیں ۔

[52] ... جامع الاصول ،1/129،محدثین عظام حیات و خدمات، ص 357 تا 363

[53] ...جامع ترمذی ،4/115،حدیث:2267،تہذیب التہذیب ، 6/65 ،66، فیوض النبی شرح جامع ترمذی ،1/56

[54] ... حافظ الحدیث حضرت سیّدنا امام ابو داؤد سلیمان بن اَشْعَث ازدی سجستانی بصری، محدّث، فقیہ، صوفی ،متقی و زاہِد اور استاذُ المحدّثین تھے۔ 202 ہجری کو سجستان (صوبہ سیستان) ایران میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم کے بعد علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے ، اس کے لیے خراسان ، عراق ، شام ،مصر اور حجاز مقدس کے سفر فرمائے اور 300سے زائد محدثین سے اکتساب فیض کیا، بصرہ کے امیر نے آپ کے لیے بصرہ میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا ، 16شوال 275ہجری کو بصرہ (عراق) میں وِصال فرمایا، آپ کو امیرُ المؤمنین فی الحدیث حضرتِ سیّدنا سفیان ثَوْری رحمۃُ اللہ علیہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ صِحاح ستّہ میں شامل سُننِ ابی داؤد آپ کی 22کتب میں سے ایک ہے جو آپ کی عالمگیر شہرت کا سبب ہے۔ (سیر اعلام النبلاء، 13/203)

[55] ...محدث کبیر حضرت سیدنا امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابنِ ماجہ قَزْوِینی کی پیدائش ایران کے مشہور شہر قَزْوِیْن میں 209ھ میں ہوئی اور یہیں 22 رَمَضان 273ھ میں وفات پائی۔آپ مشہور مُحَدِّث، مُفَسِّر اور مُؤَرِّخ تھے ،صحاح ستہ میں شامل کتاب ”سنن ابن ماجہ“ آپ ہی کی تالیف کردہ ہے۔ (البدایہ و النہایہ، 7/429، بستان المحدثین، ص300،298)

[56] ... سیر اعلام النبلاء،11/176،رقم، بغیۃالطلب فى تاريخ حلب،4/1831

[57] ... امام الْمُعبّرین حضرتِ سیّدُنا محمد بن سیرین بصری کی ولادت 33ھ میں ہوئی اور وصال 10 شوال 110ھ میں بصرہ میں ہوا۔آپ تابعی،ثقہ راویِ حدیث، عظیم فقیہ،امام العلماء،تقویٰ و ورع کے پیکر اور تعبیر الرویاء (خوابوں کی تعبیر) کے ماہر تھے۔(الطبقات الکبریٰ، 7/143تا 154، تاریخِ بغداد، 2/422،415(

[58] ... تاريخ الاسلام ،11/275، تہذيب الكمال، 21/384

[59] ...ابن عساکر،9/353،332،سیراعلام النبلاء،3/395، طبقات ابن سعد،7/14

[60] ...مدارج النبوت ،2/14،آخری نبی کی پیاری سیرت ، 143تا145


مقالے کی PDF کے لئے ڈاؤن لوڈ پر کلک کریں Download PDF

امام المحدثین کی سندسنن ابوداؤد

حافظ الحدیث حضرت سیّدنا امام ابو داؤد سلیمان بن اَشْعَث ازدی سجستانی بصری (ولادت 202ھ، وفات16شوال 275ھ)رحمۃ اللہ علیہ نے 241ھ سے قبل کتاب السنن (المعروف سنن ابو داؤد) کے نام سے احادیثِ احکام کا پہلامجموعہ تیار کیا،جو فقہامیں بالخصوص اورعوام میں بالعموم مقبول ہے،آپ نے پانچ لاکھ احادیث کے اپنے ذخیرہ سے پانچ ہزار دوسو چوہتر (5274) احادیث کا انتخاب کرکے اسے تیارکیاہے۔ ([1])مراسیل کے علاوہ اس کے سترہ (17) اجزاء ہیں،امام ابوسلیمان خطابی([2]) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ احکام دین پر مشتمل ایسی کتاب پہلے تصنیف نہیں کی گئی، لوگوں میں اسے قبولیت عامہ سے نوازاگیا ہے، اہل عراق و مصر، بلادمغرب اوردنیابھرکے لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ ([3])سنن ابوداؤد صحاح ستہ میں سے ایک اور دورۂ حدیث شریف کا اہم جزہے۔

امام المحدثین حضرت علامہ مفتی سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ(ولادت1273ھ مطابق 1856ھ،وفات 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20اکتوبر 1935ء) نے 1295ھ مطابق 1878ء میں افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے دورۂ حدیث کرکے اسانیداحادیث بشمول سنن ابوداؤدکی اجازت حاصل کی۔([4]) انھوں نے علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی سے اورانھوں نےسراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے،اسی طرح امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ صاحب نے ذوالحجہ 1337ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے جملہ اجازات و اسانید حاصل کیں([5])اوراعلیٰ حضرت نے اپنے مرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی سے اور انھوں نے سراج الہندعلامہ شاہ عبدالعزیز سے اورسراج الہند تحریر فرماتے ہیں :

(میرے والدگرامی علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ) حضرت شیخ ابو طاہر (سے،انھوں ) نے اسے (یعنی اجازت ِسندسنن ابوداؤد کو) شیخ حسن عجیمی)[6]( سے حاصل کیا اور انہوں نے شیخ عیسیٰ مغربی سےاور انہوں نے شیخ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی سے اور انہوں نے بدرالدین حسن کرخی سے ، جو اپنے وقت کے مستند تھے اور انہوں نے حافظ ابوالفضل جلال الدین سیوطی سے اور انہوں نے شیخ محمد بن مقبل حلبی سے اور انہوں نے شیخ صلاح بن ابی عمر المقدسی سے اور انہوں نے ابوالحسن فخرالدین علی بن محمد بن احمد ابن البخاری سے اور انہوں نے مسند الوقت ابو حفص عمر بن محمد بن طبرز د بغدادی سے اور انہوں نے دو شیخوں بزرگوار ابراہیم بن محمد بن منصور الکرخی اور ابوالفتح مفلح([7])بن احمد بن محمد الدومی سے (جو منسوب تھے طرف دومۃ الجندل سے اور وہ شام و عراق کے درمیان ایک موضع بطور حد فاصل کے واقع ہے) اور ان ہر دو شیوخ نے حافظ ابو بکر احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی مؤلف تاریخ بغداد([8])سے، جن کی علم حدیث میں بے شمار تصانیف ہیں، انہوں نے ابو عمر قاسم بن جعفر بن عبد الواحد ہاشمی سے اور انہوں نے ابو علی محمد بن احمد لولوی سے اور انہوں نے صاحبِ کتاب علامہ ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی سے(اجازت ِسندسنن ابوداؤدحاصل کی ([9])

سند ِسنن ابوداؤد کےرواۃ و شیوخ کا مختصرتعارف

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی سند ِسنن ابوداؤد بطریق ِعلامہ احمدعلی سہارنپوری اوربطریق امام احمدرضا 25واسطوں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتی ہے، ذیل میں ان تمام محدثین کا مختصرتعارف بیان کیا جاتاہے،بعض سطحوں میں ایک سے زیادہ بھی شیوخ ہیں ان کا بھی تعارف بھی بیان کردیا گیا ہےمگرانہیں نمبرشمارنہیں دیاگیا بلکہ اسٹارلگادیا گیا ہے :

۞امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام اور اکابرین اہل سنّت سے تھے۔آپ 1273ھ مطابق 1856ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان، ہِند )میں پیدا ہوئے اور لاہورمیں 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20،اکتوبر1935ء کو (بروزپیر)نمازعصرکے سجدے میں وصال فرمایا، جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ لاہورسے متصل جگہ میں تدفین کی گئی۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور([10]) اور فتاویٰ دِیداریہ([11]) آپ کی یادگار ہیں۔( [12])

(1)افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری کی ولادت1225ھ مطابق 1810کو ہوئی اور 6 جمادَی الاُولیٰ 1297ھ مطابق 16اپریل 1880ء کوتقریباً بہتر(72) سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ اپنے آبائی قبرستان متصل عید گاہ سہارنپور میں سپردِ خاک کئے گئے۔آپ حافظِ قرآن، عالمِ اجل، استاذُالاساتذہ، مُحدّثِ کبیر اور کثیرالفیض شخصیت کےمالک تھے، اشاعتِ احادیث میں آپ کی کوشش آبِ زرسےلکھنےکےقابل ہے، آپ نےصحاح ستہ اوردیگرکتب احادیث کی تدریس، اشاعت، حواشی اوردرستیٔ متن میں جو کوششیں کیں وہ مثالی ہیں ۔([13])

(2)علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی کی پیدائش ذوالحجہ 1197ھ مطابق 1782ھ کو دہلی میں ہوئی ،یہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کےنواسے ،شاگرد اورجانشین تھے، پہلے دہلی پھرمکہ شریف میں تدریس کرتے رہے، وفات رجب 1262ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اورجنت المعلیٰ میں دفن کئے گئے ۔ ([14])

(3)اعلیٰ حضرت، مجددِدین وملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1272ھ مطابق6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340ھ مطابق28،اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص و عام ہے۔آپ حافظِ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر، فقیہ اسلام، مُحدّثِ وقت،مصلحِ امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزار کتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم،استاذالفقہاوالمحدثین، شیخ الاسلام والمسلمین، مجتہدفی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن([15])،فتاویٰ رضویہ([16])، جدّ الممتارعلی ردالمحتار( [17]) اور حدائقِ بخشش([18]) آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔([19])

(4)خاتِمُ الاکابِر ،قدوۃ العافین حضرت علامہ شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،صاحبِ وَرَع وتقوی اورسلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ کے شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کی ولادت 1209ھ کو خانقاہ برکاتیہ مار ہرہ شریف (ضلع ایٹہ،یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 18ذوالحجہ1296ھ کو وصال فرمایا،تدفین دلان شرقی گنبددرگاہ حضرت شاہ برکت اللہ([20])رحمۃ اللہ علیہ میں بالین مزارحضرت سیدشاہ حمزہ([21]) میں ہوئی ۔ آپ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی ([22])رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔ صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں،فقہ میں آپ نے دوکتب مختصرتاریخ اور خطبہ جمعہ تحریرفرمائیں ۔([23])

(5) سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ( [24])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی ہند میں ہے۔([25])

(6)محدث ہندحضرت شاہ ولی اللہ احمدمحدث دہلوی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 4شوال 1110ھ کو ہوئی اوریہیں29محرم 1176ھ مطابق 1762ء وصال فرمایا،تدفین مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی ہندمیں ہوئی،جو درگاہ شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہور ہے، آپ نے اپنے والدگرامی حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی([26]) رحمۃ اللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی، حفظ قرآن کی بھی سعادت پائی، اپنے والد سے بیعت ہوئے اور خلافت بھی ملی،والد کی رحلت کے بعد ان کی جگہ درس وتدریس اور وعظ و ارشاد میں مشغول ہو گئے۔ 1143ھ میں حج بیت اللہ سے سرفراز ہوئے اور وہاں کے مشائخ سے اسناد حدیث و اجازات حاصل کیں۔ 1145ھ کو دہلی واپس آئے،آپ بہترین مصنف تھے، مشہورکتب میں فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن فارسی، الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،مؤطاامام ملک کی دو شروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ فارسی، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی، الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشايخ الحرمين اورالارشادالی مہمات الاسناد عربی)[27] (مشہورکتب ہیں۔([28])

(7) حضرت شیخ جمال الدین ابوطاہرمحمدبن ابراہیم کورانی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مدینہ شریف میں 1081ھ مطابق 1670ء کو ہوئی اوریہیں 1145ھ مطابق 1733ء کو وصال فرمایا اورجنت البقیع میں دفن کئے گئے،آپ جیدعالم دین،محدث ومسند،مفتی ٔ شافعیہ مدینہ منورہ،علامہ شیخ ابراہیم کردی آپ کے والدصاحب اورشیخ احمدقشاشی([29])نانامحترم تھے۔ والدصاحب کے علاوہ،مفتی شافعیہ مدینہ منورہ شیخ سیدمحمدبن عبدالرسول برزنجی([30])، شیخ عبداللہ بن سالم([31] )اور شیخ حسن بن علی عُجَیْمی سے اجازات حاصل کیں کئی کتب بھی لکھیں،جو،اَب تک مطبوع نہیں ہوسکیں، مکتبہ حرم مکی میں آپ کی ثبت کا مخطوط پانچ اوراق میں محفوظ ہے ۔([32])

(8)عالمِ کبیر، مسند العصرحضرت سیّدُنا شیخ ابو الاسرار حسن بن علی عُجَیْمی حنفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10ربیع الاول 1049ھ مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ 3شوَّالُ المکرَّم 1113ھ کو وصال طائف (عرب شریف) میں فرمایا، تدفین احاطۂ مزار حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میں ہوئی۔ آپ عالم اسلام کے سوسے زائدعلماوصوفیا کے شاگرد، حافظ قراٰن، محدثِ شہیر،فقیہ حنفی،صوفیِ کامل،مسندِ حجاز،استاذالاساتذہ، اور 60 سے زائد کتب کے مصنف تھے،آپ نے طویل عرصہ مسجدحرم،مسجدنبوی اورمسجدعبداللہ بن عباس (طائف) میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں۔([33])

(9) مسندالعصرحضرت شیخ ابومہدی عیسی بن محمد جعفری ہاشمی ثعلبی مالکی کی ولادت 1020ھ کو زواوۃ (الجزائر، افریقہ)میں ہوئی اور وصال مکہ شریف میں24 رجب 1080ھ میں ہوا،آپ محدث،مسند،مرشد،فقیہ مالکی،مدرس حرم مکی،امام الحرمین،عالم مغریبین ومشرقین،زہدوتقویٰ کے مالک اورصاحب تصنیف تھے،كنز الروایۃ المجموع فی درر المجاز و يواقیت المسموع([34]) آپ کی یادگارتصنیف ہے۔ ([35])

(10)قاضی علّامہ شہابُ الدّین احمد بن محمد خَفَاجی مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 977ھ سَرْیَاقَوْس (نزد قاہرہ) مصرمیں ہوئی۔12 رَمَضان المبارک1069 ھ کو مصر میں وصال فرمایا۔آپ حنفی عالمِ دین،صاحبِ دیوان شاعر،بہترین ادیب،قاضی القُضاۃ اور درجن سے زائدکتب کے مصنّف ہیں۔آپ کی کتاب نسیمُ الرّیاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض([36]) کو شہرت حاصل ہوئی۔ ([37])

(11)شیخ بدرالدین حسن کرخی حنفی رحمۃ اللہ علیہ نے امام جلالُ الدین ابوالفضل عبدالرحمن سیوطی شافعی سے علم حاصل کیا ،زندگی بھرحدیث پاک کی درس وتدریس میں مصروف رہے حتی کہ مصرکے مسندالمعمر،محدث وقت اورعلامہ دہرقرارپائے ، غالباًآپ کی پیدائش نویں ہجری کے آخرمیں اور وفات دسویں صدی کے آخرمیں ہوئی ، مزید معلومات نہ مل سکیں ۔

(12) مُصَنِّف ِ کُتُبِ کثیرہ، امام جلالُ الدین ابوالفضل عبدالرحمن سیوطی شافعی رَحْمَۃاللہ عَلَیْہ عالم اکبر،مُحدّثِ کبیر، مجددالعصر،عاشقِ رسول اورصوفی باصفا تھے۔ 600سے زائد کتب تصنیف فرمائیں ۔ جن میں تفسیر دُرِّمنثور([38])، اَلْبُدورُ السّافرة اور شرح الصدور([39]) وغیرہ مشہور ہیں۔ مصر کے شہر قاہرہ کے محلہ سیّوط میں 849ھ میں پیدا ہوئے اور یہیں 19جمادی الاولیٰ911ھ میں وصال فرمایا، آپ کا مزار مَرجعِ خلائق ہے۔([40])

(13)شمس الملّت والدین حضرت شیخ ابوعبداللہ محمدبن الحاج مقبل حلبی کی ولادت حلب دمشق میں 779ھ میں ہوئی،آپ نے یہیں پرورش پائی،یہاں کے علماسے خوب استفادہ کیا،خصوصا علامہ صلاح الدین محمد مقدسی صالحیرحمۃ اللہ علیہ سے درس حدیث لیا ،ان کی علم دین سے لگن اورمحنت نے انہیں طلبہ علم دین کا مرجع بنادیا ہے،طویل عرصہ تک آپ تدریس حدیث میں مصروف رہے، رجب 870ھ کو حلب شام میں آپ نے وصال فرمایا ۔ ([41])

(14) حضرت شیخ ابوعبداللہ صلاح الدین محمد بن احمد بن ابراہیم مقدسی صالحی کی ولادت 684ھ اوروفات24شوال 780ھ میں ہوئی، اکابرین اہل سنت سے علوم اسلامیہ میں مہارت حاصل کی اوراسنادوجازات حاصل کیں،حصول علم کے بعد آپ اپنے دادا حضرت ابوعمرکے مدرسے کی مسندپر بیٹھے اورایک زمانہ درس وتدریس میں مشغول ہوگئے یہاں تک مسندالعصرکے لقب سے ملقب ہوئے،آپ وہ ہستی ہیں جنہوں نے امام ابن بخاری فخرالدین علی بن احمد مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے احادیث کی اجازت خاصہ حاصل کی، یوں آپ کی یہ سندسماع متصل بشرط صحیح نوواسطوں سے نبی کریم سے مل جاتی ہے،کئی خوش نصیبوں بالخصوص اہل مصرنے آپ کی خدمت میں حاضرہوکریہ سند حاصل کی ۔([42])

(15) محدث اسلام، ابن بخاری حضرت امام فخرالدین ابوالحسن علی بن احمدمقدسی صالحی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 595ھ کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی، اورآپ نے ربیع الآخر690ھ میں وصال فرمایا، عالم وفقیہ، فاضل وادیب ،صاحب وقاروہیبت،تقوی وورع کے پیکر اورعلم وعقل میں کامل تھے،محدثین میں آپ بہت مکرم ومحترم تھے،آپ کو مسند العالم کہاجاتاہے،عرصہ دارازتک خدمت قرآن وسنت میں مصروف رہے، شام، مصر اور عراق کے محدثین نے آپ سے استفادہ کیا۔ )[43](

(16) مُسنِدُ الوقت حضرت شیخ ابن طبَرْزَدابوحفص عمربن محمد دارقزی بغدادی ذوالحجہ 516ھ میں پیداہوئے اور87سال کی عمرمیں 9رجب 607ھ میں وصال فرمایا ،آپ نے اپنے بڑے بھائی اوردیگراساتذہ سے علم دین حاصل کیا اورزندگی بھرحدیث پاک کی ترویج واشاعت میں مصروف رہے،عراق وشام کے محدث وشیخ الحدیث قرارپائے،آپ خوش اخلاق وظریف الطبع تھے،آپ سے استفادہ کرنے والوں کی تعدادکثیرہے ۔([44])

(17) حضرت شیخ ابوبدرابرہیم بن محمد کرخی مسندالحدیث،عالم وفقیہ ،نیک اورثقہ راوی حدیث تھے ،آپ نےدیگراساتذہ کے علاوہ مشہورفقیہ ابواسحاق شیرازی([45])سے فقہ کی تعلیم حاصل کی اورحضرت امام ابوبکرخطیب بغدادی سے حدیث کی سماعت کی، آپ کی ولادت تقریبا 450ھ اوروفات 29ربیع الاول 539ھ کو بغدادمیں ہوئی ۔([46])

(18) حضرت شیخ جلیل ابوالفتح مفلِح بن احمد دُومی بغدادی کی ولادت 457ھ کو اور وصال12محرم 537ھ میں ہوا،آپ کاتعلق دومۃ الجندل (منطقۃ الجوف،عرب) سے تھا، آپ محدث کبیر،صدوق اورحسن الحدیث تھے،کرخ کے فقہاسے آپ کی مشاورت ہوتی تھی ۔ آپ سے استفادہ کرنے والوں کی تعدادکثیرہے۔([47])

(19) خطیبِ بغدادی حضرت شیخ ابوبکر احمد بن علی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 392ھ موضع غزیہ حجاز کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی اور 7ذوالحجہ463ھ کو وصال فرمایا، تدفین بغداد کے قبرستان بابِ حرب(مقبرہ قریش) میں حضرت بشر حافی( [48])رحمۃ اللہ علیہ کے پہلو میں ہوئی۔ آپ محدثِ وقت، مؤرخِ اسلام، مفتیِ زمانہ، مدرس جامعُ المنصور، اچّھے قاری، فصیح الالفاظ اور ماہرِ ادب تھے، بعض اوقات شعر بھی کہا کرتے تھے۔ آپ کی تصانیف میں تاریخِ بغداد آپ کی شہرت کا سبب ہے۔([49])

(20) حضرت شیخ ابو عمر قاسم بن جعفرہاشمی عباسی بصری کی ولادت رجب 322ھ اور وصال 19ذیقعدہ 414ھ میں ہوا،آپ امام، فقیہ، امین وثقہ راوی حدیث،مسندالعراق اور بصرہ کے قاضی تھے۔([50])

(21) حضرت امام ابوعلی محمدبن احمدلؤلؤی بصری نے ابتدائی تعلیم مختلف علماء سے حاصل کرنے کے بعد امام ابوداؤدسلیمان بن اشعث سجستانی کی صحبت اختیار کی اوربیس سال آپ کی خدمت میں رہے حتّٰی کہ آپ کو وَرَّاق ابوداؤد کہاجانے لگا،ہندوحجاز،مشرق و مغرب بلکہ اکثرممالک میں آپ کی راویت کردہ سنن ابواؤد معروف ہے۔آپ سے محدثین کی ایک جماعت نے سندحدیث حاصل کی۔آپ کا وصال 333ھ میں ہوا ۔([51])

(22) حافظ الحدیث حضرت سیّدنا امام ابو داؤد سلیمان بن اَشْعَث ازدی سجستانی بصری، محدّث، فقیہ،صوفی،متقی و زاہِد اور استاذُ المحدّثین تھے۔ 202 ہجری کو سجستان (صوبہ سیستان) ایران میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم کے بعد علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے، اس کے لیے خراسان،عراق،شام،مصراورحجازمقدس کے سفرفرمائے اور 300سے زائدمحدثین سے اکتساب فیض کیا، بصرہ کے امیر نے آپ کے لیےبصرہ میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیا،جس میں دیگرطلبہ کے ہمراہ اس کےبچے بھی پڑھتے تھے، 16شوال 275ہجری کو بصرہ (عراق) میں وِصال فرمایا، آپ کو امیرُ المؤمنین فی الحدیث حضرتِ سیّدنا سفیان ثَوْری([52])رحمۃُ اللہ علیہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ صِحاح ستّہ میں شامل سُننِ ابی داؤد آپ کی 22کتب میں سے ایک ہے جوآپ کی عالمگیر شہرت کا سبب ہے۔ ([53])

۞ سنن ابوداؤد شریف میں ہرحدیث پاک سند کے ساتھ ہے، پہلی سند کے روایوں کا مختصر تعارف ملاحظہ کیجئے:

(23)شیخ الاسلام حضرت ابوعبدالرحمن عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب حارثی مدنی بصری کی ولادت 130ھ میں اوروصال6 محرم 221ھ کو مکہ شریف کے اطراف میں ہوا،آپ ایک عرصے تک مدینہ شریف میں امام مالک کی صحبت میں رہے،آپ شیخ الاسلام،حافظ الحدیث، عالم وفاضل، عابدوزاہد،مستجاب الدعوات اورراویت حدیث کے اعتبارسے حجت و ثقہ تھے، امام محمد بن اسماعیل بخاری([54])،امام مسلم بن حجاج نیشاپوری([55]) اورامام ابوداؤدسلیمان بن اشعث سجستانی وغیرہ اکابرین آپ کے شاگردتھے ۔ آپ طویل عرصہ بصرہ پھرمکہ شریف میں ترویج حدیث میں مصروف رہے ۔([56])

(24)محدث کبیرحضرت ابومحمدعبدالعزیزبن محمد دراوردی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان کا تعلق خراسان کے علاقے دراوردسے ہے پھریہ خاندان مدینہ شریف حاضرہو اوروہیں سکونت اختیارکرلی ، حضرت عبدالعزیزکی پیدائش مدینہ منورہ میں ہوئی، انھوں نے مدینہ شریف میں علم دین حاصل کیا اوراحادیث مبارکہ سماعت کیں ، انہیں حضرت امام جعفر صادق([57]) کی صحبت بھی نصیب ہوئی،آپ سے خلق کثیرنے احادیث مبارکہ سماعت کیں جن میں حضرت سفیان ثوریجیسے اکابرین اسلام بھی ہیں،آپ کا وصال 187ھ کو مدینہ منورہ میں ہوا۔آپ محدث وقت،فقیہ زمانہ،ثقہ وحجت روای حدیث اور کثیرالحدیث تھے۔([58])

(25)حضرت امام ابوالحسن محمد بن عمرو بن علقمہ لیثی رحمۃ اللہ علیہ مشہورروای حدیث ہیں،آپ مدینہ شریف کے رہنے والے تھے بصرہ میں بھی مقیم رہے،آپ محدث مدینہ و عراق اورکثیرالحدیث تھے،آپ روایت کے اعتبارسے صدوق حسن الحدیث کے درجے پر فائزتھے،آپ نے مدینہ شریف میں 144یا 145ھ میں وصال فرمایا،حضرت سفیان بن عیینہ([59]) جیسے محدثین آپ کے شاگردتھے ۔([60])

(26)فقیہ مدینہ حضرت ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالرحمن زہری قرشی رحمۃ اللہ علیہ عشرہ مبشرہ جلیل القدرصحابی رسول حضرت عبدالرحمن بن عوف([61]) رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے، حسن ظاہری وباطنی سے مالامال،مشہورفقیہ مدینہ،مجتہد،تابعی بزرگ،عالی مرتبت اورامام الوقت تھے۔عظیم المرتبت صحابہ کرام کی صحبت اورسماعت حدیث نے آپ کو امام حدیث بنادیا،فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن عباس([62]) کی طویل صحبت کی وجہ سے آپ عظیم فقیہ بن گئےاورفقہائے سبعہ میں شمارہونے لگے،آپ بڑے ائمہ تابعین میں کثیرالعلم،جیدعالم دین،ثقہ راوی حدیث اورکثیرالحدیث تھے،آپ کچھ عرصہ مدینہ شریف کے قاضی بھی رہے۔آپ کی ولادت تقریبا 20ھ اور73سال کی عمرمیں وصال 104ھ کو مدینہ منورہ میں ہوا۔([63])

(27)حضرت مغیرہ بن شعبہ ثقفی رضی اللہ عنہ کی ولات طائف کے قبیلہ ثقیف میں ہوئی، آپ بڑے سر،طویل قد،بھورے بال اور مضبوط جسم کے مالک تھے،آپ کا شمار عرب کے ذہین ترین افرادمیں ہوتاہے، 5ھ غزوہ خندق میں مدینہ شریف میں حاضر ہوکر مسلمان ہوئے،یہیں سکونت اخیتارکی اور علم حدیث کے حصول میں مصروف رہے، دربار نبوی سے آپ کو ابوعیسی اوربعدمیں دربارفاروقی سے ابوعبداللہ کنیت عطاہوئی،آپ بیعت رضوان میں شامل تھے، بعدفتح مکہ طائف کے بت لات کوگرانے کی مہم میں شریک ہوئے، نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تدفین میں شریک تھے،خلافت صدیقی وفاروقی کی کئی مہمات میں اہم خدمات سرانجام دیں،کئی مرتبہ اسلامی لشکرکی جانب سے سفیربن کر ایرانیوں کے درباروں میں جاکربے باکی سے گفتگوکی، یہ یک بعددیگرے بحرین،بصرہ اور کوفہ کے گورنربنائے گئے،بنیادی طورپر آپ مجاہدوسپاہی، سپہ سالارومدبراوربہترین منتظم تھے مگرآپ کا علمی مقام بھی بہت بلندہے ،آپ سے 133احادیث مبارکہ مروی ہیں، آپ کا وصال سترسال کی عمرمیں شعبان 50ھ میں ہوا ۔([64])

۞ ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت 12ربیع الاول مطابق 20اپریل 571ء کو وادی بطحا مکہ شریف کے معززترین قبیلے قریش میں ہوئی اور 12ربیع الاول 11ھ مطابق 12 جون 632ء کو مدینہ منورہ میں وصال ظاہری فرمایا۔آپ وجہ ٔ تخلیق کائنات،محبوب خدا،امام المرسلین، خاتم النبیین اورکائنات کی مؤثرترین شخصیت کے مالک تھے،آپ نے 40 سال کی عمرمیں اعلان نبوت فرمایا ،13سال مکہ شریف اور10سال مدینہ شریف میں دین اسلام کی دعوت دی،اللہ پاک نے آپ پر عظیم کتاب قرآن کریم نازل فرمایا ۔اللہ پاک کے آپ پر بے شمار دُرُوداورسلام ہوں ۔([65])

حواشی



[1]... سنن ابوداؤد،1/22

[2] ... حضرت ابوسلیمان حَمدبن محمد بستی خطابی شافعی کی پیدائش 319ھ بست(صوبہ ہلمند،افغانستان)میں ہوئی اوریہیں 16ربیع الاخر388ھ کو وصال فرمایا،آپ محدث العصر، فقیہ شافعی، عالم کبیر،عابدوزاہداورمصنف کتب تھے،حصول علم دین کے لیےحجازمقدس،بغداد،بصرہ،خراسان،نیشاپور اوربلاد ما وراء النهرکے اسفارکئے ،ایک درجن سے زائدکتب میں شرح صحیح بخاری اعلام السنن ،شرح سنن ابوداؤد معالم السنن اورغریب الحدیث مشہورہیں ۔(معالم السنن،1/13تا21،الامام الخطابی ومنھجہ فی العقیدہ،25تا28)

[3]... سنن ابوداؤد،1/23

[4]... مہرِمنیرسوانحِ حیات ، ص، 84 ،تذکرۂ محدثِ سُورتی ،ص، 26

[5] ... مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن،ص،80

[6] ... مقدمہ میزان الادیان میں یہاں عجمی لکھا تھا جو کہ کتابت کی غلطی ہے ،درست عجیمی ہے اس لیے درست کردیا ہے ۔

[7] ... شیخ ابوالفتح کا اسم گرامی مفلح ہے مگرمیزان الادیان میں ملفح لکھاہے جوکاتب کی غلطی ہے اس لیے اسے دُرست کردیا ہے ۔

[8] ...تاریخ بغدادکا دوسرانام مدینۃ السلام ہے،اس کا موضوع تذکرہ اعلام اورجرح وتعدیل ہے اس میں علامہ خطیب بغدادی نے 7831علما،مفکرین،شخصیات اورحکومتی عہدہ داران کا تذکرہ فرمایا ہے ۔یہ کتب علمامیں معروف ہے ۔

[9]... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 75

[10] ... امام المحدثین نے دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہورکو 1924ء میں مسجدوزیرخا ں اندرون دہلی گیٹ میں شروع فرمایا ،پھر یہ جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ منتقل کردیا گیا ،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے آپ کے صاحبزادےمفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابوالبرکات سیداحمدرضوی صاحب نے اس کی وسیع وعریض عمارت بیرون بھاٹی گیٹ گنج بخش روڈ پر بنائی ،جو، اب بھی قائم ہے ۔

[11] ...فتاویٰ دیداریہ کے مرتب مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ، اس میں 344فتاویٰ ہیں، 87فتاویٰ کے علاوہ تمام فتاویٰ مفتی سیددیدارعلی شاہ صاحب کے تحریرکردہ ہیں،اسے مکتبۃ العصرکریالہ جی ٹی روڈ گجرات پاکستان نے 2005ء کو بہت خوبصورت کاغذپر شائع کیا ہے،اس کے کل صفحات 864ہیں ۔

[12] ... فتاویٰ دیداریہ، ص2،ہفتہ واراخبارالفقیہ ، 21تا28،اکتوبر1935ء، ص23

[13]... حدائقِ حنفیہ،ص،510۔صحیح البخاری مع الحواشی النافعۃ،مقدمہ،1/37

[14]... حیات شاہ اسحاق محدث دہلوی،18،33،77

[15] ... کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا قرآن کریم کا بہترین،تفسیری اردوترجمہ ہے، جسے مقبولیت عامہ حاصل ہے اس پر صدرالافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان فی تفسیرالقراٰن اورحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی نے نورالعرفان علی کنزالایمان کے نام سے تفسیری حواشی لکھا ہیں ۔

[16]... اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی کثیرعلوم میں دسترس تھی ،اس پر آپ کی تقریبا ایک ہزارکتب ورسائل شاہدہیں ،مگرآپ کا میلان فتاویٰ نویسی کی جانب زیادہ تھا آپ کے جو فتاویٰ محفوظ کئے جاسکے انہیں العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ کے نام سے جمع کیا گیا ،پہلی جلدتو آپ کی حیات میں ہی شائع ہوگئی تھی،یک بعددیگرےاس کی بارہ جلدیں شائع ہوئیں،1988ء میں مفتی اعظم پاکستان،استاذالعلمامفتی عبدالقیوم ہزاروی (بانی رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)نے اس کی تخریج وترجمہ کا کام شروع کیا ،جس کی تکمیل 2005ء کو 33جلدوں کی صورت میں ہوئی ،جس کے صفحات 21 ہزار،9سو70ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ ،30/5،10)

[17]... جدالممتارعلی ردالمحتار،اعلیٰ حضرت کا فقہِ حنفی کی مستندکتاب ردالمحتارالمعروف فتاویٰ شامی پر عربی حاشیہ ہے جس پر دعوت اسلامی کے تحقیقی وعلمی شعبے المدینۃ العلمیہ نے کام کیا اور2006ء کو اسے 7 جلدوں میں مکتبۃ المدینہ کراچی سے شائع کروایا ہے ،2022ء میں اس کی اشاعت دارالکتب العلمیہ بیروت سےبھی ہوئی ہے۔

[18] ... حدائق بخشش اعلیٰ حضرت کا نعتیہ دیوان ہے جسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے،المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)نے اسے 2012ء میں 446صفحات پرشائع کیا ہے ،اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

[19]...حیاتِ اعلیٰ حضرت،ص، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ،ص،282، 301

[20] ... سلطانُ العاشقین، حضرت سیّد شاہ بَرَکَتُ اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1070ھ کو بلگرام (اودھ، یوپی) ہند میں ہوئی۔ 10 محرَّمُ الحرام 1142ھ کو مارہرہ مطہرہ (ضلع ایٹہ، یوپی) ہند میں وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، شیخ المشائخ، مصنفِ کتب، صاحبِ دیوان شاعر، عوام و خواص کے مرجع اور بانیِ خانقاہ برکاتیہ ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص12تا17)

[21] ... زبدۃ الواصلین، حضرت سیّد شاہ حمزہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1131ھ مارہرہ شریف (یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 14 محرَّمُ الحرام 1198ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار ”درگاہ شاہ بَرَکَتُ اللہ“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص20تا23)

[22] ... شمس مارَہرہ، غوثِ زماں، حضرت سیّد شاہ ابوالفضل آلِ احمد اچھے میاں مارَہروی قادری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت 1160ھ کو مارَہرہ مطہرہ (ضلع ایٹایوپی) ہند میں ہوئی، وصال 17 ربیع ُالاوّل 1235ھ کو یہیں فرمایا۔ آپ جَیِّد عالمِ دین، واعِظ، مصنّف اور شیخِ طریقت تھے، آدابُ السالکین اور آئینِ احمدی جیسی کتب آپ کی یادگار ہیں۔ آپ سلسلہ قادریہ رضویہ کے 36ویں شیخِ طریقت ہیں۔ (احوال و آثارِ شاہ آل ِاحمد اچھے میاں مارہروی، ص26)

[23]... تاریخ خاندان برکات، ص37تا46،مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات ،221

[24] ...آپ کی یہ چاروں تصانیف تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ فارسی میں ہیں، تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی، اس کا موضوع ردرفض ہے،تفسیرعزیزی کا نام تفسیرفتح العزیزہے،جو چارجلدوں پر مشتمل ہے،بستا ن المحدثین میں محدثین کے مختصرحالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عاجلہ نافعہ فن حدیث پرہے جس میں آپ نے اپنی اسنادواجازات کو بھی ذکرفرمایا ہے،اس کے 26صفحات ہیں۔

[25]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[26] ... حضرت مولاناشاہ عبدالرحیم دہلوی کی ولادت 1054ھ میں پھلت (ضلع مظفرنگر،یوپی،ہند)میں ہوئی اوروصال 12صفر1131ھ کودہلی میں فرمایا ،آپ جیدعالم دین ، ظاہر ی و باطنی علوم سے آگاہ، صوفی بزرگ اورمحدث وقت تھے،علم فقہ میں بھی عبوررکھتے تھے، فتاوی عالمگیری کی تدوین میں بھی شامل رہے،کئی سلاسل کے بزرگوں سے روحانی فیضان حاصل کیا،سلسلہ قادریہ،سلسلہ نقشبندیہ،سلسلہ ابوالعلائیہ، سلسلہ چشتیہ اورسلسلہ قادریہ قابل ذکر ہیں۔( انفانس العارفین ،21،22،198)

[27]...ان چارکتب فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن،الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،مؤطاامام ملک کی دوشروحات المصفیٰ،المسوّی، کا موضوع نام سے واضح ہے،آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اورمصلحتوں کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاہے ،اس میں شخصی اوراجتماعی مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا گیاہے،کتاب ازالۃ الخفاء ردرفض پرہے،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائدومعمولاتِ اہل سنت پر کاربند تھے،آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسنادواجازات اورآپ کے مشائخ کے تذکرے پرمشتمل ہیں ۔

[28]... الفوزالکبیر،7،8،شاہ ولی اللہ محدث کے عرب مشائخ ،23

[29] ... قطب زماں ،حضرت سیدصفی الدین احمدقشاشی بن محمدبن عبدالنبی یونس قدسی مدنی حسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت12ربیع الاول 991ھ مطابق1583ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی،آپ حافظ قرآن، شافعی عالم دین،عرب وعجم کے تقریباً سوعلماومشائخ سے مستفیض،سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت، 70کے قریب کتب کے مصنف،نظریہ وحدۃ الوجودکے قائل وداعی تھے۔آپ نے 19ذوالحجہ 1071ھ مطابق 1661ء کو مدینہ شریف میں وصال فرمایااورجنت البقیع میں مدفون ہوئے،تصانیف میں روضۂ اقدس کی زیارت کے لیے سفرِ مدینہ کے اثبات پرکتاب ’’الدرۃ الثمینۃ فیمالزائرالنبی الی المدینۃ‘‘آپ کی پہچان ہے۔( الامم لایقا ظ الھمم ،125تا127،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،8تا10،42)

[30] ...مُجدّدِوقت حضرت سیّد محمدبن عبدالرسول بَرْزَنْجی مَدَنی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شہرزُور (صوبہ سلیمانیہ، عراق) 1040 ھ میں ہوئی اور یکم محرم 1103 ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قراٰن، جامعِ معقول ومنقول، علامۂ حجاز، مفتیِ شافعیہ، 90کتب کے مصنّف، ولیِ کامل اور مدینہ شریف کے خاندانِ بَرْزَنجی کے جدِّ امجدہیں۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص13، تاریخ الدولۃ المکیۃ، ص59)

[31] ... خاتم المحدثین حضرت امام عبداللہ بن سالم بصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1049ھ کو مکہ میں ہوئی اوریہیں 4 رجب 1134ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے،بصرہ میں نشوونما پائی،پھرمکہ شریف میں آکر مقیم ہوگئے،آپ مسجدحرام شریف میں طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے،زندگی بھریہ معمول رہا،کثیر علمانے آپ سے استفادہ کیا،آپ جیدعالم دین،محدث وحافظ الحدیث اورمسند الحجازتھے، کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری یادگار ہے۔(مختصر نشر النور، ص290تا292، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،18تا20)

[32]... اعلام الزرکلی،304/5، سلک الدرر،24/4

[33]... (مختصرنشرالنور ،167 تا173 ،مکہ مکرمہ کے عجیمی علماء،ص6تا54)

[34] ... علامہ شيخ عيسى بن محمد الثعالبی الجزائری کی تصنیف كنز الرواة المجموع من درر المجاز و يواقيت المسموع زیورطباعت سے آراستہ ہوچکی ہے ،اس کا موضوع حدیث اوردیگرعلوم کی اسانیدہے ۔

[35]... الاعلام للزرکلی،5/108،مختصرنشرالنور،383تا385، خلاصۃ الاثر فی اعيان القرن الحادی عشر،3/337

[36] ... قاضی علّامہ شہابُ الدّین احمد خَفَاجی مصری حنفی کی کتاب نسیم الریاض علامہ قاضی عیاض بن موسی مغربی کی مشہورزمانہ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفی کی مفصل شرح ہے،دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے چھ جلدوں میں شائع کیا ہے ،اس کے علاوہ بھی کئی مطابع سے اس کی اشاعت ہوئی ہے ،اردومیں اس کاترجمہ بھی ہوچکا ہے ۔

[37]... خلاصۃ الاثر، 1/331،343، معجم المؤلفین، 1/286، حدائق الحنفیہ، ص436، فہرس الفہارس، 1/377

[38] ...علامہ جلال الدین عبدالرحمن سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن کریم کی تفسیربنام الدر المنثور فی التفسير بالمأثورتحریرفرمائی جس میں آیات کی تفسیراحادیث مبارکہ اورآثارصحابہ سے بیان کی،اس میں دس ہزارسے زائداحادیث کو جمع فرمایا ،دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے سات جلدوں میں شائع کیا ہے ،اس کا اردوترجمہ بھی ہوچکا ہے ۔

[39] ... شرح الصدوراورا لْبُدورُ السّافرة اوردونوں آخرت کے بارے میں ہیں شرح الصدورمیں موت اورقبرکے بارے میں قراٰنی آیات،احادیث مبارکہ اورحالات وواقعات بیان کئے گئے ہیں اورالبدورالسافرہ میں آخرت کے بارے میں تفصیل سے کلا م ہے ،دونوں کے اردوتراجم ہوچکے ہیں مکتبۃ المدینہ کراچی نے شرح الصدورمترجم 587صفحات پراور البدورالسافرہ کااردوترجمہ بنام احوال آخرت شائع کیا ہے ۔

[40]... النور السافر،1/90 تا 93

[41]... الضوء اللامع لاهل القرن التاسع،10/53

[42]... الدررالکامنہ،3/304،رقم:817

[43] ... شذرات الذهب 7/ 723، تاریخ الاسلام الذہبی، 51/422۔

[44] ... اعلام زرکلی،5/61، سير اعلام النبلاء، 21/507۔

[45] ... شیخ الاسلام حضرت ابواسحاق ابراہیم فیروزآبادی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 393 ھ کو فیروزآباد(صوبہ فارس) ایران میں ہوئی اور21جمادی الاخریٰ 476 ھ کو بغداد میں وصال فرمایا، تدفین باب ابرز بغدادعراق میں ہوئی۔آپ فقہ شافعی کے مجتہد،امیرُالمؤمنین فی الفقہ، مصنف کتب کثیرہ، اخلاقِ حسنہ سے متصف، فصاحت وبلاغت کے جامع اورمدرس مدرسہ نظامیہ بغداد تھے۔ النكت فی المسائل المختلف آپ کی علمی یادگارہے۔(سیر اعلام النبلاء، 14/7تا12)

[46]... سیراعلام النبلاء،20/79، العبر فی خبر من غبر، 2/455۔

[47]... سير اعلام النبلاء ، 20 /165، شذرات الذهب، 6 / 190۔

[48] ... ولیِ شہیر حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافِی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ولادت 150ھ میں ”مرو“ خُراسان (ایران) میں ہوئی۔ 13ربیعُ الاوّل 227ھ کو بغداد میں وِصال فرمایا، مَزار شریف مَقْبَرَۂ قُریش (کاظمیہ شمالی بغداد) عِراق میں ہے۔ آپ عابد و زاہد، مُحِبِِّ عُلما و اولیا، بُلند دَرَجات کے مالِک اور اَکابِر اولیا سے ہیں۔ (تاریخ الاسلام للذہبی، 5/540،544، الوافی بالوفیات، 10/92،91، المعارف، ص 228)

[49]... ( تاریخ بغداد،1/4تا21)

[50]... ( تاريخ بغداد، 12 / 446 ، سیر اعلام النبلاء،17/226)

[51]... سیراعلام النبلاء،15/307

[52] ... امیرُالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیّدُنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت98ھ میں کوفہ (عراق) میں ہوئی اورشعبانُ المعظم161ھ میں وصال فرمایا۔مزاربنی کُلیب قبرستان بصرہ میں ہے۔آپ عظیم فقیہ، محدث، زاہد، ولیِ کامل اوراستاذِ محدثین و فقہا تھے۔(سیراعلام النبلاء، 7/229،279، طبقات ابن سعد، 6/350)

[53]... سیر اعلام النبلاء، 13/203

[54] ... امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرتِ سیّدنا محمد بن اسماعیل بخاری علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 194ھ کو بخارا میں ہوئی اور وصال یکم شوال 256ھ میں فرمایا، مزار خرتنگ (نزدسمرقند) ازبکستان میں ہے۔آپ امام المحدثین والمسلمین، زہد و تقویٰ کے جامع اور قراٰنِ کریم کے بعدصحیح ترین کتاب ’’بخاری شریف‘‘کے مؤلف ہیں۔ (المنتظم، 12/133، سیراعلام النبلاء، 10/319،277)

[55] ... امامُ المسلمین حضرتِ امام مُسلم بن حَجّاج رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 206ھ میں نیشا پور (خُراسَان) میں ہوئی۔ 24رجب 261ھ کووِصال فرمایا، مزارمبارک نیشا پور میں ہے۔ غیر معمولی ذہانت کے مالک، حافظُ الحدیث، اِمامُ المُحَدِّثین اور عظیم شخصیت کے مالک تھے، اپنی تصنیف”صحیح مسلم“ کی وجہ سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ (جامع الاصول، 1/124، محدثین عظام حیات وخدمات، ص 323 تا 332)

[57] ... امامُ الوقت حضرت امام جعفر صادِق رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 80ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور یہیں 15رجب 148ھ کو وِصال فرمایا، جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے،آپ خاندانِ اہلِ بیت کے چشم و چراغ، جلیلُ القدر تابعی، محدِّث و فقیہ، علّامۂ دَہر، استاذِامام اعظم اور سلسلۂ قادِریہ کےچھٹے شیخِ طریقت ہیں۔( سیراعلام النبلاء، 6/438، 447، شواہد النبوۃ، ص245)

[58]... سیراعلام النبلا جلد 8ص 366 ، طبقات ابن سعد: 5 / 424

[59] ...حجۃ الاسلام،امام الحرم حضرت امام ابومحمد سفیان بن عیینہ کوفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 107ھ کوکوفہ میں ہوئی اوریکم رجب 198ھ مطابق 814ء میں مکہ معظمہ میں وفات پائی اور کوہ حجون کے پاس مدفون ہوئے،آپ نے کثیرتابعین کی صحبت پائی،آپ تبع تابعی، عالم الحجاز،ثقہ روای حدیث،وسیع العلم،صاحب تقوی وورع اورعمربھردرس وتدریس میں مصروف رہنے والی شخصیت تھے ،ترتیب وتدوین حدیث میں آپ سرفہرست ہیں۔ ( سير اعلام النبلا ، 8 / 454، تاریخ بغداد،9/183، تذکرۃ الحفاظ، للذھبی،1/193)

[60]... سیراعلام النبلا،6/136

[61] ... حضرت عبدالرحمن بن عوف قرشی زہری رضی اللہ عنہ کی ولادت عام الفیل کے دس سال بعدمکہ مکرمہ میں ہوئی اور 31یا 32ھ میں وصال فرمایا ،تدفین جنۃ البقیع میں ہوئی ،آپ جلیل لقدرصحابی ،حسن ظاہری وباطنی سے متصف ،خوش بخت ونیک خصلت ،دعائے مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی برکت سے مال داراورعشرہ مبشرہ صحابہ سےتھے ،آپ کی شان میں دوفرامین مصطفی(صلی اللہ علیہ والہ وسلم ):عبدالرحمن بن عوف جنتی ہیں اورجنت میں ان کے رفیق حضرت عیسی علیہ السلام ہوں گے، عبدالرحمن بن عوف مسلمان شرفا کے سردارہیں ۔( اصابہ ،8/203،الریاض النضرہ،2/306، 1/35 )

[62] ... ترجمان القرآن، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ولادت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ہاں ہجرت سے تین سال قبل مکہ میں ہوئی اورآپ نے 67ھ کو طائف میں وصال فرمایا ،مزارمبارک مسجدعبداللہ بن عباس طائف کے قریب ایک احاطے میں ہے ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے علم وحکمت،فقہ دین اور تاویل کتاب مبین کی دعافرمائی،آپ علم تفسیر، حدیث ،فقہ،شعر،علم وارثت وغیرہ میں کامل دسترس رکھتے تھے،آپ کے القابات بحرالعلوم، امام المفسرین، ربانیِ امت، اجمل الناس،افصح الناس اوراعلم الناس ہیں۔ (تنویرالمقیاس،ص7تا32)

[63]... سیراعلام النبلا جلد 4ص 287 

[64]...اسد الغابہ:4/406، تہذیب الکمال:385، استیعاب:1/258، ابن سعد:2/77،78،سیراعلام النبلا، 3/22

[65]... ( مدارج النبوت ،2/14،آخری نبی کی پیاری سیرت ، 143تا145)


مقالے کی PDF کے لئے ڈاؤن لوڈ پر کلک کریں Download PDF

امام المحدثین کی سندِصحیح مسلم

کتب احادیث میں صحیح بخاری کے بعد صحیح مسلم کا درجہ ہے، اس کا شمارکتب الجوامع میں ہوتاہے، اس میں تمام ابواب، عقائد،تفسیر،احکام،تاریخ،مناقب اوررقاق وغیرہ موجود ہیں ،امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اپنی حفظ کردہ تین لاکھ احادیث سے منتخب فرمایا، یہ مجموعہ احادیث تقریباً پندرہ سال میں مکمل ہوا، آپ نے اس میں صرف صحیح ومر فوع راویات تحریرفرمائیں،صحیح مسلم کی احادیث نہ صرف صحیح ہیں بلکہ ان کے صحیح ہونے پر محدثین کا اجماع ہے، یہ اوراس جیسی دیگرخصوصیات کی وجہ سے صحیح مسلم کو چاردانگ عالم میں شہرت اورقبولیت عامہ حاصل ہوئی،مسلم شریف دورۂ حدیث کا جُزْوِلایُنْفَک ہے، اسے پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہےاور اِن شآءَ اللہ تا قیامت جاری رہے گا،امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ(ولادت،1273ھ مطابق 1856ء ،وفات، 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20،اکتوبر1935ء)نے 1295ھ مطابق 1878ء میں افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے دورۂ حدیث میں مسلم شریف وغیرہ کی اجازت حاصل کی۔([1])انھوں نے علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی سے اورانھوں نےسراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے،اسی طرح امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ صاحب نے ذوالحجہ 1337ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمدرضا سے بشمول مسلم شریف جملہ اجازات و اسانیدحاصل کیں ([2]) اوراعلیٰ حضرت نے اپنے مرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی سے اور انھوں نے سراج الہندعلامہ شاہ عبدالعزیز سے اورسراج الہندتحریرفرماتے ہیں :

(میرے والدگرامی علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ) حضرت شیخ ابو طاہرسے (انھوں ) نے اسے(یعنی اجازت وسندصحیح مسلم کو) اپنے والدِ بزرگوار شیخ ابراہیم کردی سے حاصل کیا اور انہوں نے شیخ سلطان مزاحی سے اور انہوں نے شیخ شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی سے اور انہوں نے نجم الدین غیطی سے اور انہوں نے شیخ زین الدین زکریا سے اور انہوں نے شیخ ابن حجر عسقلانی سے اور انہوں نے شیخ صلاح بن ابی عمر المقدسی([3]) سے اور انہوں نے شیخ فخر الدین ابوالحسن علی بن احمد بن عبد الواحد المقدسی معروف بابن البخاری سے اور انہوں نے شیخ ابوالحسن موید بن محمد طوسی سے اور انہوں نے فقیہ الحرم ابوعبداللہ محمد بن فضل بن احمد الفراوی([4]) سے اور انہوں نے امام ابوالحسین عبد الغافر بن محمد الفارسی سے اور انہوں نے ابو احمد بن عیسیٰ الجلودی نیشاپوری سے اور انہوں نے ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن سفیان الفقیہ جلودی سے (جلودی منسوب ہے طرف جمع جلد کی، اس لیے کہ وہ نیشاپور میں کوچۂ چرم فروشوں میں رہتے تھے) اور انہوں نے مولف کتاب ابوالحسین مسلم بن الحجاج القشیری نیشاپوری سے۔([5])

سندِ صحیح مسلم کےرواۃ و شیوخ کا مختصرتعارف

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی سند صحیح مسلم بطریق ِعلامہ احمدعلی سہارنپوری اوربطریق امام احمدرضا 25واسطوں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے،ذیل میں ان تمام محدثین کا مختصرتعارف بیان کیا جاتاہے :

۞امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام اور اکابرین اہل سنّت سے تھے۔آپ 1273ھ مطابق 1856ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان، ہِند )میں پیدا ہوئے اور لاہورمیں 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20اکتوبر1935ء کو (بروزپیر)نمازعصرکے سجدے میں وصال فرمایا، جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ لاہورسے متصل جگہ میں تدفین کی گئی ۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور([6]) اور فتاویٰ دِیداریہ([7]) آپ کی یادگار ہیں۔( [8])

(1)افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1225ھ مطابق 1810کو ہوئی اور 6 جمادَی الاُولیٰ 1297ھ مطابق 16اپریل 1880ء کوتقریباً بہتر(72) سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ اپنے آبائی قبرستان متصل عید گاہ سہارنپور میں سپردِ خاک کئےگئے۔آپ حافظِ قرآن، عالمِ اجل، استاذُالاساتذہ، مُحدّثِ کبیر اور کثیرالفیض شخصیت کےمالک تھے، اشاعتِ احادیث میں آپ کی کوشش آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے، آپ نےصحاح ستہ اوردیگرکتب احادیث کی تدریس، اشاعت، حواشی اور درستیٔ متن میں جو کوششیں کی وہ مثالی ہیں۔([9])

(2)علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ذوالحجہ 1197ھ مطابق 1782ھ دہلی میں ہوئی ،یہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کےنواسے ، شاگرد اور جانشین تھے، پہلے دہلی پھرمکہ شریف میں تدریس کرتے رہے، وفات رجب 1262ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اورجنت المعلیٰ میں دفن کئے گئے۔ ([10])

(3) اعلیٰ حضرت، مجددِدین وملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1272ھ مطابق6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340ھ مطابق28اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص وعام ہے۔آپ حافظِ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر، فقیہ اسلام، مُحدّثِ وقت،مصلحِ امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزار کتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم،استاذالفقہاوالمحدثین، شیخ الاسلام والمسلمین، مجتہدفی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن([11])،فتاویٰ رضویہ([12])، جدّ الممتارعلی ردالمحتار( [13]) اور حدائقِ بخشش([14]) آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ ([15])

(4) خاتِمُ الاکابِر ،قدوۃ العارفین حضرت علامہ شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،صاحبِ وَرَع وتقوی اورسلسلہ قادریہ رضویہ کے سینتیسویں (37) شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کی ولادت 1209ھ کو خانقاہ برکاتیہ مار ہرہ شریف (ضلع ایٹہ،یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 18ذوالحجہ1296ھ کو وصال فرمایا،تدفین دلان شرقی گنبددرگاہ حضرت شاہ برکت اللہ([16])رحمۃ اللہ علیہ میں بالین مزارحضرت سیدشاہ حمزہ([17]) میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی ([18])رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔ صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں،فقہ میں آپ نے دوکتب مختصرتاریخ اور خطبہ جمعہ تحریرفرمائیں ۔([19])

(5) سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ( [20])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی ہند میں ہے۔([21])

(6) محدث ہندحضرت شاہ ولی اللہ احمدمحدث دہلوی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 4 شوال 1110ھ کو ہوئی اوریہیں29محرم 1176ھ مطابق 1762ء وصال فرمایا،تدفین مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی ہندمیں ہوئی،جو درگاہ شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہورہے، آپ نے اپنے والدگرامی حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی)[22]( رحمۃ اللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی، حفظ قرآن کی بھی سعادت پائی، اپنے والد سے بیعت ہوئے اور خلافت بھی ملی، والد کی رحلت کے بعد ان کی جگہ درس وتدریس اور وعظ و ارشاد میں مشغول ہو گئے۔ 1143ھ میں حج بیت اللہ سے سرفراز ہوئے اور وہاں کے مشائخ سے اسناد حدیث واجازات حاصل کیں۔ 1145ھ کو دہلی واپس آئے،آپ بہترین مصنف تھے، مشہورِکتب میں فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن فارسی، الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،مؤطاامام ملک کی دو شروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ فارسی، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی، الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشايخ الحرمين اورالارشادالی مہمات الاسناد عربی)[23] ( مشہورکتب ہیں۔([24])

(7) حضرت شیخ جمال الدین ابوطاہرمحمدبن ابراہیم کورانی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مدینہ شریف میں 1081ھ مطابق 1670ء کو ہوئی اوریہیں 1145ھ مطابق 1733ء کو وصال فرمایا اورجنت البقیع میں دفن کئے گئے،آپ جیدعالم دین ،محدث ومسند،مفتی ٔ شافعیہ مدینہ منورہ،علامہ شیخ ابراہیم کردی آپ کے والدصاحب اورشیخ احمدقشاشی([25])نانامحترم تھے۔ والدصاحب کے علاوہ،مفتی شافعیہ مدینہ منورہ شیخ سیدمحمدبن عبدالرسول برزنجی([26])، شیخ حسن بن علی عُجَیْمی([27] ) اور شیخ عبداللہ بن سالم([28] )سے اجازات حاصل کیں، کئی کتب بھی لکھیں ،جواب تک مطبوع نہیں ہوسکیں ،مکتبہ حرم مکی میں آپ کی ثبت کا مخطوط پانچ اوراق میں محفوظ ہے ۔([29])

(8) حضرت امام شیخ برہان الدین، ابوالعرفان ابراہیم بن حسن کورانی کردی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کردستان(عراق) میں 1025ھ کو ہوئی،آپ شافعی عالم دین،محدث ومسند، سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ 80سے زائدکتب لکھیں جن میں اسانیدومرویات پر مشتمل کتاب الامم لایقاظ الھمم([30]) مطبوع ہے۔آپ عراق سے ہجرت کرکے مدینہ شریف مقیم ہوگئے تھے،یہیں ایک قول کے مطابق18ربیع الآخر 1101ھ مطابق 29جنوری 1690 ء میں وصال فرمایا۔([31])

(9)حضرت شیخ ابوالعزائم سلطان بن احمدسلامہ مزّاحی مصری ازہری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 985ھ کو مصرمیں ہوئی اوریہیں 17جمادی الآخرہ1075ھ میں وصال فرمایا، تدفین مجاورین قبرستان قاہرہ میں ہوئی،آپ نے علمائے عصرسے حفظ قرآن وقرأت، حدیث وفقہ و تصوف اوردیگرعلوم حاصل کرکے 1008ھ میں فارغ التحصیل ہوئے اور جامعۃ الازہر قاہرہ میں تدریس کرنے لگے، آپ امام الائمہ، بحرالعلوم، استاذالفقہاءوالقراء، محدث وقت، علامہ زمانہ،نابغہ عصر،زہدوتقویٰ کے پیکرمرجع خاص وعام عابدوزاہداورکئی کتب کے مصنف تھے۔([32])

(10) شیخ الاسلام،ناصرالملت والدین حضرت امام شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 939ھ اور وفات 1032ھ میں ہوئی، آپ نے مدرسہ باسطیہ مصر میں داخلہ لےکر علم دین حاصل کیا،جیدعلمائےمصرسے استفادہ کرکے محدث وفقیہ بننے کی سعادت پائی،حدیث وفقہ میں آپ کی کئی تصانیف ہیں،ان میں سے فتح الغفور بشرح منظومۃ القبور)[33]( مشہور ہے۔([34])

(11) شیخ الاسلام حضرت امام نجم الدین ابوالمواہب محمدبن احمدغیطی سکندری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 910ھ اوروفات 981ھ میں ہوئی، آپ کا تعلق مصرکےصوبہ سکندریہ کے مرکزی شہر سکندریہ سے ہے،آپ نے دیگر مشائخ بالخصوص شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری رحمۃ اللہ علیہ سے علم حدیث،فقہ اورتصوف وغیرہ حاصل کرکے اسناداورتدریس وافتاء کی اجازات لیں،آپ امام الوقت، مسندالعصر، محدث زمانہ، مرشد گرامی، محبوب ِ خاص وعام،بغیرلومۃ لائم برائی سے منع کرنے والے اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ بهجة السامعين والناظرين بمولد سيد الاولين والآخرين اورقصۃ المعراج الصغری( [35])وغیرہ آپ کی تصنیف کردہ کتب ہیں۔([36])

(12) شیخ الاسلام حضرت امام زین الدین ابویحییٰ زکریابن محمد انصاری الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 826ھ کو سُنیکہ(صوبہ شرقیہ)مصرمیں ہوئی،جامعۃ الازہرسے علوم اسلامیہ حاصل کئے،قاہرہ میں مقیم ہوگئے ،آپ فقیہ شافعی،محدث وقت،حافظ الحدیث، صوفی باصفا،قاضی القضاہ،بہترین قاری،مصنف کتب کثیرہ،لغوی ومتکلم،مؤرخ و مدرس، مفتی اسلام اورنویں صدی ہجری کےمجدد ہیں،آپ نے 4ذوالحجہ925ھ کو قاہرہ مصرمیں وفات پائی۔ قاہرہ میں امام شافعی کے مزارکے قریب قرافہ صغریٰ میں تدفین ہوئی،آپ کا مزارمرجع خلائق ہے۔ الدقائق المحكمة فی شرح المقدمة([37])،تحفۃالباری علی صحيح البخاری([38]) اور اَسنى المطالب([39] ) آپکی مشہورکتب ہیں۔([40])

(13) شیخُ الاسلام، عمدۃُ المحدثین، شہابُ الدّین، حافظ احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 773ھ کو قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 28ذوالحجہ852ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین قَرافہ صُغریٰ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، محدثِ جلیل، استاذُ المحدثین، شاعرِ عربی اور 150سے زائد کُتُب کے مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف فتحُ الباری شرح صحیح البخاری ( [41])کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔([42])

(14)حضرت شیخ ابوعبداللہ صلاح الدین محمد بن ابوعمر احمد بن ابراہیم مقدسی صالحی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 684ھ اوروفات24شوال 780ھ میں ہوئی ، اکابرین اہل سنت سے علوم اسلامیہ میں مہارت حاصل کی اوراسنادوجازات حاصل کیں،حصول علم کے بعد آپ اپنے داداحضرت ابوعمرکے مدرسے کی مسندپر بیٹھےاورایک زمانہ درس وتدریس میں مشغول رہےیہاں تک مسندالعصرکے لقب سے ملقب ہوئے،آپ وہ ہستی ہیں جنہوں نے امام ابن بخاری فخرالدین علی بن احمد مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے احادیث کی اجازت خاصہ حاصل کی، یوں آپ کی یہ سندسماع متصل بشرط صحیح نوواسطوں سے نبی کریم سے مل جاتی ہے،کئی خوش نصیبوں بالخصوص اہل مصرنے آپ کی خدمت میں حاضرہوکریہ سند حاصل کی۔([43])

(15)محدث الاسلام، ابن البخاری حضرت امام فخرالدین ابوالحسن علی بن احمدمقدسی صالحی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 595ھ کو ایک علمی گھرانے میں ہوئی، اور آپ نے ربیع الاآخر690ھ میں وصال فرمایا، عالم وفقیہ، فاضل وادیب ،صاحب وقارو ہیبت، تقوی وورع کے پیکر اورعلم ووعقل میں کامل تھے،محدثین میں آپ بہت مکرم و محترم تھے،آپ کو مسند العالم کہاجاتاہے،عرصہ دارازتک خدمت قرآن وسنت میں مصروف رہے، شام،مصراورعراق کے محدثین نے آپ سے استفادہ کیا۔([44])

(16) حضرت شیخ رضی الدین ابوالحسن مؤیدبن محمد طوسی نیشاپوری خراسانی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 524ھ اوروصال شبِ جمعرات 20شوال 617ھ کو نیشاپور(ایران) میں ہوا،آپ امام القرأت والحدیث،مسنِدُ الخراسان اورثقہ راوی حدیث تھے ،آپ نے جیدعلما ومحدثین سے علوم اسلامیہ کوحاصل کیا ،آپ نے طویل عرصے تک تدریس کے فرائض سرانجام دئیے چاردانگ عالم کے علما نے آپ سے استفادہ کیا،آپ کی كتاب الاربعين عن المشايخ الاربعين والاربعين صحابيا وصحابیۃ)[45](مطبوع ہے ۔([46])

(17)کمال الملّت والدین حضرت شیخ ابوعبداللہ محمد بن فضل فراوی نیشاپوری صاعدی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت441ھ اوروفات 21 شوال 530ھ میں ہوئی، آپ کی تدفین حضرت امام ابن خزیمہ)[47]( رحمۃُ اللہِ علیہ کے پہلومیں ہوئی،آپ نے جید علما و محدثین بالخصوص امام الحرمین علامہ ابوالمعالی جوینی)[48]( رحمۃُ اللہِ علیہ اوراولیائے کرام بالخصوص امام ابوالقاسم قشیری)[49](رحمۃُ اللہِ علیہ سے استفادہ کیا ، آپ امام، مناظر، واعظ، مفتی، مسند خراسان اورفقیہ حرم تھے،آپ حسن اخلاق کے مالک تھے، اکثرمسکراتے رہتے تھے، غرباپر بہت مہربان تھے، جودوسخاوت کے پیکرتھے۔آپ نے عرصہ دارزتک مدرسہ ناصحیہ میں تدریس اورنیشاپورکی مسجدکبیر مُطرّزمیں امامت کے فرائض سرانجام دئیے، آپ سے استفادہ کرنے والوں کی تعدادبھی کثیرہے ۔([50])

(18)حضرت ابوالحسین عبدالغافربن محمد فارسی نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 353ھ میں ہوئی ،365ھ میں زاہد زمانہ حضرت محمد بن عیسی جلودی سے مسلم شریف کا درس لیا،وصال 5شوال 448ھ کو نیشاپورمیں ہوا،آپ امام،ثقہ اور نیک شخصیت کے مالک تھے ۔ کثیرعلماومحدثین نے آپ سے احادیث کو روایت کیا ہے ۔([51])

(19)حضرت ابواحمد محمد بن عیسی جلودی نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ ایران کے شہر نیشاپور کے رہنے والے تھے ،آپ کی پیدائش تقریبا 288ھ میں ہوئی ، آپ نے حضرت امام ابن خزیمہ وغیرہ مشائخ سے علم حدیث حاصل کیا، آپ جیدعالم دین،ثقہ راوی حدیث ، زاہدزمانہ اوراکابرصوفیائے وقت سے تھے ،اپنے ہاتھ سے رزق حلال کمایاکرتے تھے،آپ نے اسی سال کی عمرمیں 24ذوالحجہ368ھ کو وصال فرمایا ،تدفین حیرہ(نجف اشرف ،عراق ) کے قبرستان میں کی گئی، آپ کے شاگردوں میں صاحب مستدرک امام حاکم([52]) کو شہرت حاصل ہوئی ۔([53])

(20)حضرت ابواسحاق ابراہیم بن محمد بن سفیان نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ امام الوقت، فقیہ زمانہ،ثقہ راوی حدیث،مستجاب الدعوات اورمحدث العصرتھے،آپ نے نیشاپور، عراق اورحجازمقدس میں علم دین حاصل کیا ، امام مسلم کے علاوہ جن علما سے استفادہ کیا ان میں امام الحدیث حضرت ایوب بن حسن حنفی)[54]( بھی ہیں ۔آپ کا وصال رجب 308ھ میں ہوا۔([55])

(21)امامُ المسلمین حضرتِ امام مُسلم بن حَجّاج رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 206ھ میں نیشا پور (خُراسَان) میں ہوئی۔ 24رجب 261ھ کووِصال فرمایا، مزارمبارک نیشا پور میں ہے۔ غیر معمولی ذہانت کے مالک، حافظُ الحدیث، اِمامُ المُحَدِّثین اور عظیم شخصیت کے مالک تھے، اپنی تصنیف”صحیح مسلم“ کی وجہ سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔([56]) رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔

۞صحیح مسلم میں ہرحدیث پاک سند کے ساتھ ہے پہلی حدیث پاک کو دواسناد سے بیان کیا گیا ہے۔([57]) اس کی پہلی سند کے روایان کامختصرتعارف ملاحظہ کیجئے:

(22)سیدالحفاظ،حضرت امام ابنِ ابی شیبہ ابوبکرعبداللہ بن محمد عبسی کوفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 159ھ میں ہوئی،علمی گھرانے میں پروش پائی، بچپن سے ہی علم حدیث کی جانب متوجہ ہوئے ،جیدمحدثین سے احادیث کی سماعت کی ،امام بخاری ومسلم جیسے اکابرین نے آپ سے احادیث مبارکہ سماعت کرنے کی سعادت پائی،آپ ثقہ و صدوق، محدث و مفسر،حدیث کے بڑے حافظ،صاحب مسند، وقت کے امام،بے مثل اورصاحب تصنیف تھے، آپ کی کتاب مصنف ابن ابی شیبہ(([58]کو چاردانگ عالم میں شہرت حاصل ہوئی۔ آپ نے 8محرم 235ھ کو کوفہ میں وصال فرمایا۔([59])

(2) محدث عراق حضرت وکیع بن جراح رواسی کوفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 129ھ کو کوفہ میں ہوئی، اکابرین اسلام سے علم حاصل کیااورمحدث ومفسربن کرابھرے ،حضرت امام اعظم ابوحنیفہ([60]) ،حضرت سفیان ثوری([61])،حضرت سفیان بن عیینہ( [62])اورامام شعبہ بن حجاج جیسے اساتذہ کی صحبت پائی ، زندگی بھرقرآن وسنت کےدرس وتدریس میں مصروف رہے،آپ کثیرالعلم،محدث کبیر، مفسرِعظیم، فقہ وسنن کےمصنف ،تقویٰ و ورع کے پیکراورعبادت وریاضت میں یکتاتھے۔آپ نے حج سے واپسی پر 10محرم 197ھ کو وصال فرمایا۔آپ کا شمارتبع تابعین میں ہوتاہے۔حضرت عبد اللہ بن مبارک ([63])اورامام احمد بن حنبل([64]) جیسے ائمہ آپ کے شاگردہیں ۔([65])

(24) حضرت ابوبسطام شعبہ بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 80ھ کو واسط (عراق)کے ایک گاؤں میں ہوئی ،واسط میں پرورش پائی پہلے شعروشاعری اورپھر علم حدیث کی طرف متوجہ ہوئے ،400تابعین سے احادیث مبارکہ کی سماعت کی اس کے لیےبلادکثیرہ کا سفرفرمایا ،پھر بصرہ میں رہائش پذیرہوئے اوردنیاوی مشاغل چھوڑکر ترویج حدیث کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ،درس وتدریس کےعلاوہ عبادت سے بہت لگاؤتھا ،نوافل میں طویل رکوع وسجودکرنا آپ کا معمول تھا ،کثرت سے نفلی روزے بھی رکھتے ،کثیرمحدثین نے آپ سے استفادہ کیا ،160ھ کو بصرہ میں وصال فرمایا،آپ امیرالمؤمنین فی الحدیث، امام المتقین،محدث ومفسر ، امام الجرح والتعديل، ایثاروسخاوت کے پیکر اورمرجع خاص و عام تھے، حکمران بھی آپ کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے اورآپ کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتے۔([66])

(25)امام العلماء حضرت حکم بن عتیبہ عجلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 47ھ میں ہوئی اورآپ نے 115ھ کو کوفہ میں وصال فرمایا،آپ کی کنیت ابومحمد،ابوعمرو یا ابوعبداللہ تھی، آپ نے بعض صحابہ کرام مثلا حضرت زیدبن ارقم وغیرہ کی زیارت کرکے تابعی ہونے کاشرف پایاہے،آپ امام کبیر، عالم وفقیہ، صاحب عبادت وتقوی،متبع سنت، ثقہ روای حدیث اورکثیرالحدیث محدث تھے۔آپ نے کثیرتابعین سے علم حاصل کیا،آپ کا حلقۂ علم کافی وسیع ہے،بڑے بڑے تبع تابعی بزرگوں نے آپ سےاحادیث مبارکہ روایت کی ہیں۔([67])

(26)فقیہ شہیر حضرت ابوعیسیٰ عبدالرحمن بن ابی لیلی یساراوسی انصاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 17ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی،آپ کے والدابی لیلی یساربن بلال انصاری([68]) صحابی رسول ہیں ،آپ کو 120صحابہ کی صحبت نصیب ہوئی،آپ کا شمارکبارتابعین میں ہوتاہے قرآن وحدیث سمیت تمام علوم میں دسترس رکھتےتھے۔آپ عظیم فقیہ،محدث اورقاری تھے،قرآن کریم کی تلاوت وتدریس کی جانب خوب توجہ تھی،حضرت علی مرتضی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی معیت میں کئی جنگوں میں حصہ لیا،کوفہ میں رہائش اختیارکرلی اور وہاں کے قاضی بھی رہے، 83ھ کو واقعہ دیرجماجم([69]) میں شہادت پائی ۔طبعاًسادہ طبیعت مگرباوقارشخصیت کے مالک تھے ۔([70])

(27) صحابی رسول حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی پیدائش بیرون مدینہ غطفان قبیلے میں ہوئی، والدکا انتقال ہوگیا، والدہ انہیں لے کر مدینہ منورہ آگئیں اور انصارمیں شادی کرلی، یہی وجہ ہے کہ آپ کا شمارانصارمیں ہوتاہے، مکہ مکرمہ کے مسلمانوں کی ہجرت مدینہ کے بعد انھوں نے اسلام قبول کیا اورغزوۂ بدرکے بعد تمام غزوات میں شریک ہوئے، جب عراق فتح ہوا تو آپ بصرہ رہائش پذیرہوگئے، ایک سال یہاں کے گورنربھی رہے،آپ بہت ذہین تھے،جوحدیث سن لیتے یادکرلیتے تھے،آپ نےاحادیث کا ایک مجموعہ بھی تیارکروایا کبارتابعین مثلا امام حسن بصری([71]) اورامام ابن سیرین([72]) وغیرہ نے آپ سے احادیث سماعت کیں،آپ سنت کےپابند،ثقہ راوی حدیث،راست گواورحسن اخلاق کے پیکر تھے۔آپ کا وصال بصرہ میں 58ھ کو ہوا۔([73])

۞ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول مطابق 20اپریل 571ء کو وادی بطحا مکہ شریف کے معززترین قبیلے قریش میں ہوئی اور12ربیع الاول 11ھ مطابق 12 جون 632ء کو مدینہ منورہ میں وصال ظاہری فرمایا۔ آپ وجہ ٔ تخلیق کائنات،محبوب خدا،امام المرسلین،خاتم النبیین اورکائنات کی مؤثرترین شخصیت کے مالک تھے،آپ نے 40 سال کی عمر میں اعلان نبوت فرمایا،13سال مکہ شریف اور10سال مدینہ شریف میں دین اسلام کی دعوت دی،اللہ پاک نے آپ پر عظیم کتاب قرآن کریم نازل فرمائی۔اللہ پاک کے آپ پر بے شمار دُرُوداورسلام ہوں۔([74])

حواشی



[1]... مہرِمنیرسوانحِ حیات ، ص، 84 ،تذکرۂ محدثِ سُورتی ،ص، 26

[2]... مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن،ص،80

[3] ... ان کا مکمل نام شیخ صلاح الدین ابوعبداللہ محمد بن ابوعمراحمدبن ابراہیم مقدسی صالحی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ ہے ۔(الدررالکامنہ،3/304،رقم817)

[4] ...مقدمہ میزان الادیان میں علامہ محمد بن فضل رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت فرادی لکھی ہے جوکہ کتابت کی غلطی ہے ،درست فراوی ہے ،کیونکہ آپ کے والدمحترم علامہ فضل بن احمد فراوہ کے رہنے والے تھے فراوی دہستان اورخوارزم کے درمیان ایک شہرہے جسے رباط فراوہ بھی کہاجاتاتھا، اسے عباسی خلیفہ مامون کے زمانے میں عبداللہ بن طاہرنے بنایاتھا،اب یہ ترکمانستان کے صوبے بلخان کا ایک شہرہے، اسے پَراو بھی کہاجاتاہے ۔

[5]... تفسیر میزان الادیان ،1/ 74،75

[6] ... امام المحدثین نے دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہورکو 1924ء میں مسجدوزیرخاں اندرون دہلی گیٹ میں شروع فرمایا ،پھر یہ جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ منتقل کردیا گیا ،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے آپ کے صاحبزادےمفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابوالبرکات سیداحمدرضوی صاحب اس کی وسیع وعریض عمارت بیرون بھاٹی گیٹ گنج بخش روڈ پر بنائی ،جو اب بھی قائم ہے ۔

[7] ...فتاویٰ دیداریہ کے مرتب مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ، اس میں 344فتاویٰ ہیں ،87فتاویٰ کے علاوہ تمام فتاویٰ مفتی سیددیدارعلی شاہ صاحب کے تحریرکردہ ہیں،اسے مکتبۃ العصرکریالہ جی ٹی روڈ گجرات پاکستان نے 2005ء کو بہت خوبصورت کاغذپر شائع کیا ہے ،اس کے کل صفحات 864ہیں ۔

[8] ... فتاویٰ دیداریہ، ص2،ہفتہ واراخبارالفقیہ ، 21تا28،اکتوبر1935ء، ص23

[9]... حدائقِ حنفیہ،ص،510۔صحیح البخاری مع الحواشی النافعۃ،مقدمہ،1/37

[10]... حیات شاہ اسحاق محدث دہلوی،18،33،77

[11] ... کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا قرآن کریم کا بہترین تفسیری اردوترجمہ ہے جسے پاک وہند اوربنگلادیش میں مقبولیت حاصل ہے اس پر صدرالافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان فی تفسیرالقراٰن اورحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی نے نورالعرفان علی کنزالایمان کے نام سے تفسیری حواشی ہیں ۔

[12]... اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے کثیرعلوم میں دسترس تھی ،اس پر آپ کی تقریبا ایک ہزارکتب ورسائل شاہدہیں ،مگرآپ کا میلان فتاویٰ نویسی کی جانب سے تھا آپ کے جو فتاویٰ محفوظ کئے جاسکے انہیں العطایہ النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ کے نام سے جمع کیا گیا ،پہلی جلدتو آپ کی حیات میں ہی شائع ہوگئی تھی، یک بعددیگرےاس کی بارہ جلدیں شائع ہوئیں،1988ء میں مفتی اعظم پاکستان، استاذالعلماء مفتی عبدالقیوم ہزاروی (بانی رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)نے اس کی تخریج و ترجمہ کا کام شروع کیا،جس کی تکمیل 2005ء کو 33جلدوں کی صورت میں ہوئی،جس کے صفحات 21 ہزار،9سو70ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ ،30/5،10)

[13]... جدالممتارعلی ردالمحتار،اعلیٰ حضرت کا فقیہ حنفی کی مستندکتاب ردالمحتارالمعروف فتاویٰ شامی پر عربی میں حاشیہ ہے جس پر دعوت اسلامی کے تحقیقی وعلمی شعبے المدینۃ العلمیہ نے کام کیا اور2006ء کو اسے 7 جلدوں میں مکتبۃ المدینہ کراچی سے شائع کروایا ہے، 2022ء میں اس کی اشاعت دارالکتب العلمیہ بیروت سے ہوئی۔

[14] ... حدائق بخشش اعلیٰ حضرت کا نعتیہ دیوان ہے جسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے، المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)نے اسے 2012ء میں 446صفحات پرشائع کیا ہے،اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

[15]...حیاتِ اعلیٰ حضرت،ص، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ،ص،282، 301

[16] ... سلطانُ العاشقین، حضرت سیّد شاہ بَرَکَتُ اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت1070ھ کو بلگرام (اودھ، یوپی) ہند میں ہوئی۔ 10 محرَّمُ الحرام 1142ھ کو مارہرہ مطہرہ (ضلع ایٹہ، یوپی) ہند میں وصال فرمایا۔ آپ عالمِ باعمل، شیخ المشائخ، مصنفِ کتب، صاحبِ دیوان شاعر، عوام و خواص کے مرجع اور بانیِ خانقاہ برکاتیہ ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص12تا17)

[17] ... زبدۃ الواصلین، حضرت سیّد شاہ حمزہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 1131ھ مارہرہ شریف (یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 14 محرَّمُ الحرام 1198ھ کو وصال فرمایا، آپ کا مزار ”درگاہ شاہ بَرَکَتُ اللہ“ کے دالان میں شرقی گنبد میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، عظیم شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف اور مارہرہ شریف کی وسیع لائبریری کے بانی ہیں۔(تاریخ خاندان برکات، ص20تا23)

[18] ... شمس مارَہرہ، غوثِ زماں، حضرت سیّد شاہ ابوالفضل آلِ احمد اچھے میاں مارَہروی قادری علیہ رحمۃ اللہ الوَالی کی ولادت 1160ھ کو مارَہرہ مطہرہ (ضلع ایٹایوپی) ہند میں ہوئی، وصال 17 ربیع ُالاوّل 1235ھ کو یہیں فرمایا۔ آپ جَیِّد عالمِ دین، واعِظ، مصنّف اور شیخِ طریقت تھے، آدابُ السالکین اور آئینِ احمدی جیسی کتب آپ کی یادگار ہیں۔ آپ سلسلہ قادریہ رضویہ کے 36ویں شیخِ طریقت ہیں۔ (احوال و آثارِ شاہ آل ِاحمد اچھے میاں مارہروی، ص26)

[19]... تاریخ خاندان برکات، ص37تا46،مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات ،221

[20] ...آپ کی یہ چاروں تصانیف تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین ، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ فارسی میں ہیں، تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی ،اس کا موضوع ردرفض ہے،تفسیرعزیزی کا نام تفسیرفتح العزیزہے ،جو چارجلدوں پر مشتمل ہے ،بستا ن المحدثین میں محدثین کے مختصرحالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عاجلہ نافعہ فن حدیث پرہے جس میں آپ نے اپنی اسنادواجازات کو بھی ذکرفرمایا ہے ،اس کے 26صفحات ہیں ۔

[21]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[22] ... حضرت مولاناشاہ عبدالرحیم دہلوی کی ولادت 1054ھ میں پھلت (ضلع مظفرنگر،یوپی،ہند)میں ہوئی اوروصال 12صفر1131ھ کودہلی میں فرمایا ،آپ جیدعالم دین ، ظاہر ی و باطنی علوم سے آگاہ، صوفی بزرگ اورمحدث وقت تھے ،علم فقہ میں بھی عبوررکھتے تھے ، فتاوی عالمگیری کی تدوین میں بھی شامل رہے ،کئی سلاسل کے بزرگوں سے روحانی فیضان حاصل کیا ، ،سلسلہ قادریہ ،سلسلہ نقشبندیہ،سلسلہ ابوالعلائیہ، سلسلہ چشتیہ اورسلسلہ قادریہ قابل ذکر ہیں۔( انفانس العارفین ،21،22،198)

[23]...ان چارکتب فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن ،الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،مؤطاامام ملک کی دوشروحات المصفیٰ ،المسوّی ، کا موضوع نام سے واضح ہے ،آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اورمصلحتوں کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاہے ،اس میں شخصی اوراجتماعی مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا گیاہے ،کتاب ازالۃ الخفاء ردرفض پرہے ،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائدومعمولاتِ اہل سنت پر کاربند تھے،آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسنادواجازات اورآپ کے مشائخ کے تذکرے پرمشتمل ہیں ۔

[24]... الفوزالکبیر،7،8،شاہ ولی اللہ محدث کے عرب مشائخ ،23

[25] ... قطب زماں ،حضرت سیدصفی الدین احمدقشاشی بن محمدبن عبدالنبی یونس قدسی مدنی حسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت12ربیع الاول 991ھ مطابق1583ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی ،آپ حافظ قرآن، شافعی عالم دین ،عرب وعجم کے تقریبا سوعلماومشائخ سے مستفیض،سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ، 70کے قریب کتب کے مصنف،نظریہ وحدۃ الوجودکے قائل وداعی تھے ۔آپ نے 19ذوالحجہ 1071ھ مطابق 1661ء کو مدینہ شریف میں وصال فرمایااورجنت البقیع میں مدفون ہوئے،تصانیف میں روضہ اقدس کی زیارت کے لیے سفرِ مدینہ کے اثبات پرکتاب ’’الدرۃ الثمینۃ فیمالزائرالنبی الی المدینۃ‘‘آپ کی پہچان ہے۔( الامم لایقا ظ الھمم ،125تا127،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،8تا10،42)

[26] ...مُجدّدِوقت حضرت سیّد محمدبن عبدالرسول بَرْزَنْجی مَدَنی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شہرزُور (صوبہ سلیمانیہ، عراق) 1040 ھ میں ہوئی اور یکم محرم 1103 ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قراٰن، جامعِ معقول ومنقول، علامۂ حجاز، مفتیِ شافعیہ، 90کتب کے مصنّف، ولیِ کامل اور مدینہ شریف کے خاندانِ بَرْزَنجی کے جدِّ امجدہیں۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص13، تاریخ الدولۃ المکیۃ، ص59)

[27] ... عالمِ کبیر، مسند العصرحضرت سیّدُنا شیخ ابو الاسرار حسن بن علی عُجَیْمی حنفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10ربیع الاول 1049ھ مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ 3شوَّالُ المکرَّم 1113ھ کو وصال طائف (عرب شریف) میں فرمایا، تدفین احاطۂ مزار حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میں ہوئی۔ آپ عالم اسلام کے سوسے زائدعلماوصوفیا کے شاگرد، حافظ قراٰن، محدثِ شہیر،فقیہ حنفی،صوفیِ کامل،مسندِ حجاز،استاذالاساتذہ، اور 60 سے زائد کتب کے مصنف تھے،آپ نے طویل عرصہ مسجدحرم،مسجدنبوی اورمسجدعبداللہ بن عباس (طائف)میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں۔(مختصرنشرالنور ،167 تا173 ،مکہ مکرمہ کے عجیمی علماء،ص6تا54)

[28] ... خاتم المحدثین حضرت امام عبداللہ بن سالم بصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1049ھ کو مکہ میں ہوئی اوریہیں 4 رجب 1134ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے،بصرہ میں نشوونما پائی،پھرمکہ شریف میں آکر مقیم ہوگئے،آپ مسجدحرام شریف میں طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے،زندگی بھریہ معمول رہا،کثیر علمانے آپ سے استفادہ کیا،آپ جیدعالم دین،محدث وحافظ الحدیث اورمسند الحجازتھے، کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری یادگار ہے۔(مختصر نشر النور، ص290تا292، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،18تا20)

[29]... اعلام الزرکلی،304/5، سلک الدرر،24/4

[30] ...کتاب الامم لایقاظ الھمم کو مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن ہند نے 1328ھ میں دیگر4،اسنادومرویات کے رسائل کے ساتھ شائع کیاہے ، الامم لایقاظ الھمم کے کل صفحات 134ہیں ۔

[31]... سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 1/9، اعلام للزکلی، 1/35، البدرالطالع بمحاسن من بعد قرن السابع، 1/11

[32]... امتاَعُ الفُضَلاء بتَراجِم القرّاء،2/135تا139، خلاصۃ الاثر فی اعيان القرن الحادی العشر، 2/210

[33] ... امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے عالم برزخ کے بارے میں رسالہ منظومۃ القبورلکھا ،علامہ احمدبن خلیل سبکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی شرح فتح الغفورکے نام سے تحریرفرمائی، دارالنوادربیروت اوردارالمنہاج جدہ عرب نے اسے شائع کیا ہے ۔

[34]... خلاصۃ الاثرفی اعیان القرن الحادی عشر، 1/185

[35] ...دونوں کا موضوع نام سے واضح ہے ۔

[36]... شذرات الذھب، 8/474، الاعلام للزرکلی، 6/6، معجم المؤلفین، 3/83

[37] ... الدقائق المحكمة قرأت کی مشہورکتاب مقدمہ جزریہ کی بہترین شرح ہے، اس کی اشاعت مختلف مطابع سے ہوئی ہے ،مثلا مکتبۃ ضیاء الشام دمشق نے اسے 248صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[38] ... تحفۃ الباری کا دوسرانام منحۃ الباری ہے ،یہ بخاری شریف کی بہترین شرح ہے ،دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے 7جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[39] ... اسنی المطالب فقہ شافعی کی کتاب ہے ،اس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ جس نے اسے پڑھا نہیں وہ شافعی ہی نہیں ،دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے 9جلدوں میں شائع کیا ہے۔

[40]... شذرات الذھب، 8/174تا 176، النورالسافر،ص172تا177، الاعلام للزرکلی، 3/46

[41] ... فتح الباری شرح صحیح البخاری، علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کی بہترین کتاب ہے، اسے قبولیت عامہ حاصل ہے، اس سے بے شمارلوگوں نے استفادہ کیا ہے،علمانے اس کے بارے میں لکھا کہ یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی مثل کوئی کتاب نہیں لکھی گئی،مختلف مطباع نے اسے شائع کیا ہے،دارطیبہ ریاض کی اشاعت میں اس کی 15جلدیں ہیں ۔

[42]... بستان المحدثین، ص302، الروایات التفسیریہ فی فتح الباری، 1/39، 65

[43]... الدررالکامنہ،3/304،رقم817

[44]... شذرات الذهب 7/ 723، تاریخ الاسلام الذہبی، 51/422

[45] ... علامہ مؤید طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی كتاب الاربعين عن المشايخ الاربعين والاربعين صحابيا وصحابیۃ کو دارالبشائربیروت نے 199صفحات پر شائع کیاہے ۔

[46]... سیراعلام النبلاء ،22/104، وفيات الاعيان، 5 / 345

[47] ... امام الائمہ حضرت امام محمد بن اسحاق بن خزیمہ نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 223ھ کو نیشاپور (ضلع خراسان رضوی) ایران میں ہوئی اور وصال 2 ذوالقعدہ 311ھ کو فرمایا، تدفین نیشاپورمیں ہی ہوئی۔آپ حافظِ قراٰن، محدّثِ جلیل، فقیہِ شافعی، مجتہد علی الاطلاق اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے، ”صحیح ابنِ خزیمہ“ آپ کا ہی مجموعۂ حدیث ہے۔ (النجوم الزاہرہ فی ملوک مصر والقاہرہ، 3/209، محدثین عظام حیات وخدمات،ص391، 398)

[48] ... امامُ الحَرَمَیْن ابوالمَعالِی عبدُالملک جُوَیْنی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ایک علمی گھرانے میں 419ھ کو جُوَیْن سَبزوَارنَزد نیشاپور (ایران) میں ہوئی اور بُشتَ نِقان نزد نیشاپورمیں 25ربیعُ الآخر 478ھ کو وِصال فرمایا،آپ کی تُرْبَت اسی شہرکے قدیمی حصّے کے قبرستان ”تلاجرد“ میں ہے۔ آپ علمِ فِقْہ، اُصول اور عقائد پر کامل دَسْترَس رکھنے والے عظیم فقیہ، عَبْقَرِی شخصیت کے مالک، ایک درجن سے زیادہ کُتُب کے مُصنّف، بانیِ مدرسہ نظامیہ نیشاپور، استاذِ امام غزالی اور اکابر عُلمائے شَوافِع سے ہیں۔ کتاب ”نِهَايَةُ الْمَطْلَبْ فِيْ دِرَايَةِ الْمَذْهَب“ آپ کی یادگار ہے۔ (وفیات الاعیان، 2/80، 81)

[49] ... استاذ الصوفیاء حضرت امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ہَوَازِن قشیری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 376ھ میں ہوئی اوروفات17ربیع الآخر 465ھ کوفرمائی، آپ کا مزار مبارک نیشاپور (ضلع خراسان) ایران میں اپنے پیرومرشد شیخ ابو علی دَقَّاق کے پہلو میں ہے۔ آپ عالم، فقیہ، ادیب، شاعر، صوفی ،واعظِ شیریں بیاں اورمفسرِقراٰن تھے،آپ کی تصنیف رسالہ قشیریہ کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔(اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ،16/2 ، ص 168، 169)

[50]... تاریخ الاسلام ،11/512،سیر اعلام النبلاء،19/615

[51]... سیراعلام النبلاء ،18/19

[52] ... صاحبِ مستدرک امام ابوعبداللہ محمد حاکم نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت321ھ کو نیشاپور میں ہوئی۔3صفر 405ھ میں وصال فرمایا۔آپ قاضی نیشاپور، حافظُ الحدیث، فقیہ شافعی، صاحب تصنیف و تالیف اور استاذُالمحدثین تھے۔ کتب میں اَلْمُسْتَدْرَک عَلی الصَّحِیَحین مشہورہے۔(مستدرک للحاکم، 1/7، 56، وفیات الاعیان،2/364)

[53]... سیراعلام النبلاء ،16/301

[54] ... فقیہ زمانہ حضرت امام ابوالحسین ایوب بن حسن نیشاپوری حنفی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام محمدبن حسن شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردتھے، اپنی فقاہت اور زہدوتقویٰ کی وجہ سے مشہورتھے،آپ کا وصال ذیقعدہ 251ھ کو ہوا۔(الطبقات السنیہ فی تراجم الحنفیہ،رقم556 ،ص، 188 ،كتاب تاريخ الاسلام لذہبی ،6 / 55،رقم:122)

[55]... سیراعلام النبلا،14/312

[56]... جامع الاصول، 1/124، محدثین عظام حیات وخدمات، ص 323 تا 332

[57]... صحیح مسلم ،ص16دار الکتاب العربی بیروت

[58] ... امام ابنِ ابی شیبہ عبسی رحمۃ اللہ علیہ کامجموعہ احادیث مصنف ابن شیبہ کا مکمل نام المصنف فی الاحادیث والآثار ہے ،اسے فقہی ابواب کے مطابق مرتب کیاگیا ہے ،اس کا شماراحادیث کی ماخذکتب میں کیا جاتاہے،مرفوع احادیث کے علاوہ اس میں صحابہ کرام،تابعین اورتبع تابعین کے اقوال،فتاویٰ اورواقعات بھی ہیں،دارالفکربیروت نے اسے نوجلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[59]... سیراعلام النبلاء،11/122،تاریخ بغداد،10/66

[60] ... حضرت سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 70ھ یا 80ھ کو کوفہ(عراق) میں ہوئی اور وصال بغداد میں 2شعبان 150ھ کو ہوا۔ مزار مبارک بغداد (عراق) میں مرجعِ خلائق ہے۔ آپ تابعی بزرگ، مجتہد، محدث، عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت، فقہِ حنفی کے بانی اور کروڑوں حنفیوں کے امام ہیں۔(نزہۃ القاری، مقدمہ، 1/164،110، خیرات الحسان، ص31، 92)

[61] ... امیرُالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیّدُنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت98ھ میں کوفہ (عراق) میں ہوئی اورشعبانُ المعظم161ھ میں وصال فرمایا۔مزاربنی کُلیب قبرستان بصرہ میں ہے۔آپ عظیم فقیہ، محدث، زاہد، ولیِ کامل اوراستاذِ محدثین و فقہا تھے۔(سیراعلام النبلاء، 7/229،279، طبقات ابن سعد، 6/350)

[62] ... حجۃ الاسلام،امام الحرم حضرت امام ابومحمد سفیان بن عیینہ کوفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 107ھ کوکوفہ میں ہوئی اوریکم رجب 198ھ مطابق 814ء میں مکہ معظمہ میں وفات پائی اور کوہ حجون کے پاس مدفون ہوئے،آپ نے کثیرتابعین کی صحبت پائی،آپ تبع تابعی، عالم الحجاز،ثقہ روای حدیث ،وسیع العلم،صاحب تقوی وورع اورعمربھردرس وتدریس میں مصروف رہنے والی شخصیت تھے ،ترتیب وتدوین حدیث میں آپ سرفہرست ہیں۔ ( سير اعلام النبلا ، 8 / 454، تاریخ بغداد،9/183، تذکرۃ الحفاظ، للذھبی،1/193)

[63] ... امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیّدنا عبداللہ بن مبارک مَروَزِی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 118ھ کو مَرْو (تُرکمانستان) میں ہوئی اور وِصال 13رمضان 181ھ کو فرمایا۔ مزارمبارک ہِیت (صوبہ انبار) مغربی عراق میں ہے، آپ تبعِ تابعی، شاگردِ امام اعظم، عالمِ کبیر، مُحَدِّثِ جلیل اور اکابر اولیائے کرام سے ہیں۔ ” کتابُ الزُّہْدِ وَ الرَّقائِق“ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔(طبقاتِ امام شعرانی، جز1، ص 84تا86، محدثینِ عظام وحیات و خدمات، ص146تا153)

[64] ... فقہِ حنبلیہ کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدنا امام احمد بن حنبل علیہ رحمۃ اللہ الاکبر کی ولادت 164ھ میں بغداد میں ہوئی اور 12 ربیعُ الاوّل 241ھ کو وصال فرمایا۔ آپ کو بغداد شریف کے غربی جانب بابِ حرب میں دفن کیا گیا پھر دریائے دجلہ میں طُغیانی کی وجہ سے سجد عارف آغا، حیدر خانہ (شارع الرشید بغداد) میں منتقل کردیا گیا۔ آپ مُجتہد، حافظ الحدیث، عالمِ اجلّ، اُمّتِ محمدی کی مؤثر شخصیت اور ائمۂ اربعہ میں سے ایک ہیں۔ چالیس ہزار (40000) احادیث پر مشتمل کتاب ”مسند امام احمد بن حنبل“ آپ کی یادگار ہے۔( البدایہ والنہایہ، 7/339)

[65]... سیر اعلام النبلاء،9/140،طبقات ابن سعد،6/365،وتذکرۃ الحفاظ،1/223

[66]... تاريخ بغداد 10 / 353، سير اعلام النبلاء 7 / 202، تہذيب الأسماء واللغات، 1/ 245

[67]... سير اعلام النبلاء،5/208،طبقات ابن سعد،6/323

[68] ... حضرت ابولیلی یساربن بلال اوسی انصاری رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدرکے علاوہ سب غزوات میں شرکت فرمائی،بعدمیں کوفہ منتقل ہوگئے اوردارجھینہ میں سکونت اختیارکی ،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تمام جنگوں میں حصہ لیا،آپ کی شہادت جنگ صفین(صفر37ھ) میں میں ہوئی ۔بعض کے نزدیک آپ کا نام داؤد بن یسارتھا۔(الاصابہ،7/292،رقم:10478)

[69] ... واقعہ ٔ دیرجماجم شعبان 82ھ یا 83ھ میں پیش آیا، اہل کوفہ وبصرہ سپہ سالارعبدالرحمن بن محمد بن اشعث اوراہل شام حجاج بن یوسف کی سربراہی میں مقابل آئے،عبدالرحمن کے لشکرمیں کئی علماء مثلا حضرت سعید بن جبیر،حضرت عامرشعبی،حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی اورحضرت کمیل بن زیادرحمۃ اللہ علیہم شامل تھے ،یہ لڑائی کئی ماہ جاری رہی، عبدالرحمن کے لشکرکی شکست پر اس جنگ کا اختتام ہوا۔

[70]... تاریخ الاسلام ،2/966،تہذیب التہذیب،5 /166، ابن سعد،6/166، تذکرۃ الحفاظ،1/128، تاریخ بغداد،6/166

[71] ... امامُ الاولیاءحضرت حسن بَصْری رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 21ھ کو مدینہ شریف میں ہوئی اور وِصال یکم رجب 110ھ کو فرمایا،مزارِ مبارَک مدینۃ الزبیر (ضلع بصرہ) عراق میں ہے۔آپ اُمُّ المؤمنین اُمِّ سَلَمہ رضی اللہ عنہا کی آغوش میں پرورش پانے والے، حافظِ قراٰن، سیّدالتابعین، عالمِ جلیل، فقیہ و محدِّث،فصیحِ زمانہ، رقیقُ القلب (نرم دل)، ولیِ کامل، خلیفۂ حضرتِ علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سلسلۂ چشتیہ کے تیسرے شیخِ طریقت ہیں۔(سیراعلام النبلاء، 5/456تا 473، تذکرۃ الاولیا، 1/34تا 48، اجمال ترجمہ اکمال، ص19)

[72] ... امام الْمُعبّرین حضرتِ سیّدُنا محمد بن سیرین بصری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 33ھ میں ہوئی اور وصال 10 شوال 110ھ میں بصرہ میں ہوا۔آپ تابعی،ثقہ راویِ حدیث، عظیم فقیہ،امام العلماء،تقویٰ وورع کے پیکر اور تعبیر الرویاء (خوابوں کی تعبیر) کے ماہر تھے۔(الطبقات الکبریٰ، 7/143تا 154، تاریخِ بغداد، 2/422،415(

[73]... اسدالغابہ،2/527، تہذیب،3/521، استیعاب:2/213

[74]... مدارج النبوت،2/14،آخری نبی کی پیاری سیرت، 143تا145


اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّـلٰوةُ وَالسَّـلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَـلِیْن ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

دُرود شریف کی فضیلت

حضرت علامہ مَجدُالدّین فیروز آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ سے منقول ہے :جب کسی مجلس میں (یعنی لوگوں میں)بیٹھواورکہو: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَصَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد تو اللہ پاک تم پر ایک فِرِشتہ مقرّر فرمادے گا جو تم کو غیبت سے بازرکھے گا۔اور جب مجلس سے اُٹھو تو کہو: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَصَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد تو فِرِشتہ لوگوں کو تمہاری غیبت کرنے سے بازرکھے گا ۔ ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب _ _صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

امام المحدثین کی سندِصحیح بخاری

کتب احادیث میں صحیح بخاری کوبہت اہم مرتبہ حاصل ہے ،شیخ الاسلام،حضرت امام یحییٰ بن شرف نَوَوِی شافعی ([2] )رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اتفق العلماء رحمهم الله على أن أصح الكتب بعد القرآن العزيز الصحيحان: البخاري ومسلم یعنی علمائے کرام رحمۃ اللہ علیہم کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم کے بعد صحیح بخاری اورصحیح مسلم صحیح ترین کتابیں ہیں۔([3]) اسے حضرت امام محمدبن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے چھ لاکھ احادیث سے منتخب کرکے تحریرفرمایا، چاردانگ عالم میں اس کی شہرت ہے، صدیوں سے علما اسے پڑھنے پڑھانے میں مصروف ہیں، امامُ الْمُحدِّثین، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام،محدث العصر حضرت علامہ مفتی سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ(ولادت:1273ھ/1856ء،وفات: 1354ھ/1935ء) نےبھی معقول ومنقول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1295ھ مطابق 1878ء میں افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ سے دورۂ حدیث کرکے بخاری شریف وغیرہ کی اجازات حاصل کیں۔([4] ) 1298ھ مطابق 1881 ءکو آپ نے استاذالعلما والمشائخ علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ سے بخاری شریف اوردیگرکتب کی اجازات لیں۔([5] ) یوں امام المحدثین کی سند صحیح بخاری علامہ احمدعلی سہارنپوری کے ذریعے 25واسطوں اورعلامہ فضلِ رحمن گنج مرادآبادی کے ذریعے 24واسطوں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے۔

صحیح بخاری کی سند

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ محدث الوری نے صحیح بخاری کی اجازت لی علامہ احمدعلی سہارنپوری سے،انھوں نے علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی سے اورانھوں نےسراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے،اسی طرح امام المحدثین نے شیخ المشائخ علامہ فضل حق گنج مرادآبادی سےاجازت لی اورانھوں نےسراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے([6] ) اورانھوں نے علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی سے اورانھوں نےسراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے، اسی طرح امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ صاحب نے ذوالحجہ 1337ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے جملہ اجازات واسانیدحاصل کیں، ( مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن،ص،80)اوراعلیٰ حضرت نے اپنے مرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی سے اورانھوں نے سراج الہندعلامہ شاہ عبدالعزیز سے اورسراج الہندتحریرفرماتے ہیں:

اس فقیر نے علم حدیث اورباقی علوم اپنے والدماجد(حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)سے لیے ہیں، اوائل بخاری سے کسی قدربطریق درایت ان سے سنا ہے، والدماجدبزرگوارنے مدینہ منورہ اورمکہ معظمہ میں اجلہ مشائخ حرمین شریفین سے اس علم کی بالاستیعاب تکمیل کی اورآپ نے زیادہ استفادہ حضرت شیخ ابوطاہرمدنی قدس سرہ سے کیا ،حضرت شیخ ابو طاہر نے اپنے والد شیخ ابراہیم کردی سے پڑھی اور انہوں نے شیخ احمدقشاشی سے اور انہوں نے شیخ ابو المواہب احمد بن عبد القدوس الشناوی سے اور انہوں نے شیخ شمس الدین محمد بن احمد بن محمد رملی سے اور انہوں نے شیخ الاسلام ابو یحیىٰ احمد زکریا بن محمد الانصاری سے اور انہوں نے شیخ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر کنانی عسقلانی سے (جو صاحب ہیں فتح الباری شرح صحیح بخاری([7] )کے) اور انہوں نے شیخ زین الدین ابراہیم بن احمد تنوخی سے اور انہوں نے ابو العباس احمد بن ابی طالب الحجار (یعنی حجر فروش) سے۔ اور انہوں نے شیخ سراج الدین حسین بن مبارک جیلی زبیدی سے۔ (زبید یمن میں دریائے شورکےکنارہ پر ایک مشہور شہر ہے)([8]) اور انہوں نے ابو الوقت عبد الاول بن عیسیٰ بن شعیب السجزی([9] )ہروی سے اور انہوں نے ابوالحسن عبد الرحمن بن مظفر بن محمد بن داؤ دالداؤدی سے اور انہوں نے ابو محمد عبد اللہ بن احمد سرخسی سے اور انہوں نے ابو عبدالله محمد بن یوسف بن مطر بن صالح بن بشر الفربری سے (فِرَبْر([10]) بکسر فاءو فتح راوسکون بائے موحد ہ ،حوالی بخارا میں ایک گاؤں ہے) اور یہ محمد بن یوسف ارشد تلامذہ بخاری سے ہیں اور انہی کی طرف سے نسخہ بخاری نے شہرت پائی ہے اور انہوں نے صاحب کتاب ابو عبد اللہ محمد بن عبدللہ اسمٰعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن بروز بہ البخاری الجعفی مولیٰ الجعفیین بالولاء سے (اور بروز ساتھ فتح بائے موحدہ اور سکون راو و کسروال مہملتین اور سکون زائے معجمہ و فتح بائے موحد ہ بعد ہاھاء، قدیم پہلوی زبان میں کارندہ اور مزارع کو کہتے ہیں ۔ جعفی بضم جیم و سکون عین مہملہ وفا) اور یہ سند بھی اول سے آخر تک مسلسل بسماع ہے۔([11] )

سند صحیح بخاری کے شیوخ کا مختصرتعارف

(1)افضل المحدثین علامہ احمدعلی سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1225ھ مطابق 1810ء کو ہوئی اور 6 جمادَی الاُولیٰ 1297ھ مطابق 16اپریل 1880ء کوتقریباً بہتر(72) سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ اپنے آبائی قبرستان متصل عید گاہ سہارنپور میں سپردِ خاک کیے گئے۔آپ حافظِ قرآن، عالمِ اجل، استاذُالاساتذہ، مُحدّثِ کبیر اور کثیرالفیض شخصیت کےمالک تھے، اشاعتِ احادیث میں آپ کی کوشش آبِ زر سے لکھنے کےقابل ہے، آپ نےصحاح ستہ اوردیگرکتب احادیث کی تدریس، اشاعت، حواشی اوردرستیٔ متن میں جو کوششیں کی وہ مثالی ہیں ۔([12] )

(2) عارفِ کامل حضرت مولانا فضلِ رحمٰن صدیقی گنج مرادآبادی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1208 ھ مطابق1794ء کو سندیلہ (ضلع ہردوئی، یوپی ہند) میں ہوئی اور وصال 22ربیعُ الاوّل 1313ھ مطابق 12ستمبر 1895ءکو فرمایا۔ مزار مبارک گنج مراد آباد (ضلع انّاؤ،یوپی ہند) میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، استاذ و شیخ العلماء والمشائخ اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔ آپ کی اسانیدکا عربی مجموعہ اتحاف الاخوان باسانیدمولانا فضل الرحمن ہے،)[13] ( جَدِّاعلیٰ حضرت مولانا رضا علی خان) [14](علیہ رحمۃ الرَّحمٰن آپ کے ہی مرید و خلیفہ تھے۔([15] )

(3)علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ذوالحجہ 1197ھ مطابق 1782ھ دہلی میں ہوئی، یہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کےنواسے، شاگرد اور جانشین تھے، پہلے دہلی پھرمکہ شریف میں تدریس کرتے رہے، وفات رجب 1262ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اورجنت المعلیٰ میں دفن کئے گئے۔([16] )

(4)اعلیٰ حضرت، مجددِدین وملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1272ھ مطابق6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ مطابق28،اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص و عام ہے۔آپ حافظِ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر، فقیہ اسلام، مُحدّثِ وقت،مصلحِ امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزار کتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم،استاذالفقہاومحدثین، شیخ الاسلام و المسلمین، مجتہد فی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن([17])،فتاویٰ رضویہ([18])، جدّ الممتارعلی ردالمحتار( [19]) اور حدائقِ بخشش([20]) آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔

(5)خاتِمُ الاکابِر، قدوۃ العارفین حضرت علامہ شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،صاحبِ وَرَع وتقوی اورسلسلہ قادریہ رضویہ کے سینتیسویں (37) شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کی ولادت 1209ھ کو خانقاہ برکاتیہ مار ہرہ شریف (ضلع ایٹہ،یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 18ذوالحجہ1296ھ کو وصال فرمایا،تدفین دلان شرقی گنبددرگاہ حضرت شاہ برکت اللہ رحمۃ اللہ علیہ میں بالین مزارحضرت سیدشاہ حمزہ میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔ صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں،فقہ میں آپ نے دوکتب ’’مختصرتاریخ‘‘ اور’’خطبہ جمعہ‘‘ تحریرفرمائیں۔ ( تاریخ خاندان برکات، ص37تا46،مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات ،221)

(6)سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ( [21])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔آپ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی میں ہے۔([22] )

(7) حضرت مولانا شاہ ولی اللہ احمدبن عبدالرحیم محدث دہلوی فاروقی حنفی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش دہلی میں 3شوال 1110ھ مطابق 1699ء کو ہوئی،اوریہیں 1176ھ مطابق 1762ء کو وصال فرمایا ،آپ حافظ قرآن،علوم عقلیہ ونقلیہ کے ماہر، عرب کے کبارشیوخ سے مستفیض تھے ،1143ھ کو حجازمقدس حاضرہوئے اوروہاں آٹھ عرب مشائخ سے استفادہ کیا، آپ نے زندگی بھر حدیث پاک کا درس دیا ،قوم وملت کی رہنمائی کی، کئی کتب مثلا فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن فارسی،الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،مؤطاامام مالک کی دوشروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ،ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی، الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشايخ الحرمين اورالارشادالی مہمات الاسنادعربی)[23] ( تصنیف کیں،آپ کا شمار ہندکی مؤثرشخصیات میں ہوتاہے ۔([24] )

(8)حضرت شیخ جمال الدین ابوطاہرمحمدبن ابراہیم کورانی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مدینہ شریف میں 1081ھ مطابق 1670ء کو ہوئی اوریہیں 1145ھ مطابق 1733ء کو وصال فرمایا اورجنت البقیع میں دفن کئے گئے ،آپ جیدعالم دین ،محدث ومسند،مفتی ٔ شافعیہ مدینہ منورہ،علامہ شیخ ابراہیم کردی آپ کے والدصاحب اورشیخ احمدقشاشی نانامحترم تھے۔ والدصاحب کے علاوہ، مفتی شافعیہ مدینہ منورہ شیخ سیدمحمدبن عبدالرسول برزنجی([25])،شیخ حسن بن علی عُجَیْمی([26] ) اور شیخ عبداللہ بن سالم([27] )سے اجازات حاصل کیں ،کئ کتب بھی لکھیں ،جواب تک مطبوع نہیں ہوسکیں ،مکتبہ حرم مکی میں آپ کی ثبت کا مخطوط پانچ اوراق میں محفوظ ہے ۔([28] )

(9)حضرت امام شیخ برہان الدین، ابوالعرفان ابراہیم بن حسن کورانی کردی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کردستان(عراق) میں 1025ھ کو ہوئی،آپ شافعی عالم دین،محدث ومسنداورسلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ 80سے زائدکتب لکھیں جن میں اسانید و مرویات پر مشتمل کتاب الامم لایقاظ الھمم([29] )مطبوع ہے۔آپ عراق سے ہجرت کرکے مدینہ شریف مقیم ہوگئے تھے،یہیں ایک قول کے مطابق18ربیع الآخر 1101ھ مطابق29جنوری 1690ء میں وصال فرمایا۔([30] )

(10) قطب زماں ،حضرت سیدصفی الدین احمدقشاشی بن محمدبن عبدالنبی یونس قدسی مدنی حسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت12ربیع الاول 991ھ مطابق1583ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی، آپ حافظ قرآن، شافعی عالم دین ،عرب وعجم کے تقریباً سوعلماومشائخ سے مستفیض،سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ، 70کے قریب کتب کے مصنف،نظریہ وحدۃ الوجود کے قائل و داعی تھے،کثیرشاگردوں میں نمایاں شیخ برہان الدین ابراہیم کردی کورانی شافعی مدنی، صاحب درمختارعلامہ علاؤالدین حصکفی) [31] (اورحضرت حسن عجیمی رحمہ اللہ علیہم تھے۔ آپ نے 19ذوالحجہ 1071ھ مطابق 1661ء کو مدینہ شریف میں وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے،تصانیف میں روضہ اقدس کی زیارت کے لیے سفرِ مدینہ کے اثبات پرکتاب ’’الدرۃ الثمینۃ فیمالزائرالنبی الی المدینۃ‘‘([32])آپ کی پہچان ہے۔([33] )

(11)حضرت ابوالمواہب احمدبن علی شناوی مصری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 975ھ کو موضع شنو(صوبہ غربیہ )مصرمیں پیداہوئےاورمدینہ شریف میں 6یا 8ذوالحجہ 1028 ھ کو وصال فرمایا ،جنت البقیع میں حضرت ابراہیم بن رسول اللہ (رضی اللہ عنہ وصلی اللہ علیہ والہ وسلم) کے قبہ مبارک کے عقب میں تدفین ہوئی،آپ جیدعالم دین ،محدث وقت، ثقہ راوی،کئی کتب کےمصنف اورسلسلہ قادریہ اکبریہ کےشیخ طریقت تھے۔([34] )

(12)شافعی صغیر حضرت سیّدنا امام شمسُ الدّین محمد بن احمد رمْلی مصری رحمۃ اللہ علیہ شیخُ الاسلام، عالمِ کبیر، فقیہِ شافعی، مُجدّدِ وقت اور استاذُالعُلَماء ہیں، تصانیف میں نہایۃ المحتاج شرح المنہاج ([35])مشہور ہے۔ 919 ھ میں رملہ صوبہ منوفیہ مِصْر میں پیدا ہوئے اور 13جُمادَی الاُولیٰ 1004ھ میں وفات پائی، تدفین قاہرہ میں ہوئی۔([36] )

(13)شیخ الاسلام حضرت قاضی زین الدین ابویحییٰ زکریاانصاری الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 824ھ مطابق1421ء کو سُنیکہ(موجودہ نام حلمیہ)صوبہ شرقیہ مصرمیں ہوئی اور ایک قول کے مطابق 4ذوالحجہ926ھ مطابق 15نومبر1520ء کوقاہرہ مصرمیں وفات پائی، تدفین قبرستان قرافہ صغریٰ میں مزارامام شافعی کےقرب میں ہوئی،آپ حافظ وقاری ٔ قرآن، فقیہ شافعی،محدث کبیر،حافظ الحدیث، مصنف کتب،شارح احادیث، مؤرخ و محقق، صوفی کامل،عبادات وذکروفکرمیں رہنے والے اور دولتِ مملوکیہ([37] )کے قاضی القضاہ (چیف جسٹس)تھے، جلالت علم اورخدمات کثیرہ کی وجہ سےعلمانے آپ کو نویں صدی ہجری کا مجدد قراردیا ہے،ساری زندگی تدریس وتصنیف میں مصروف رہے، علامہ شمس الدین رملی، علامہ عبدالوہاب شعرانی([38] )اورعلامہ ابن حجرہیتمی( [39])آپ کے ہی شاگرد ہیں، آپ 28کتب میں فتح الرحمن([40])، تحفۃالباری([41])، منہج الطلاب ( [42])اوراسنی المطالب ([43] )آپ کی مشہورکتب ہیں۔([44] )

(14)شیخُ الاسلام، عمدۃُ المحدثین، شہابُ الدّین، حافظ احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 773ھ کو قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 28ذوالحجہ852ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین قَرافہ صُغریٰ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، محدثِ جلیل، استاذُ المحدثین، عربی شاعرِ اور 150سے زائد کُتُب کے مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف ”فتحُ الباری شرح صحیح البخاری“( [45])کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔([46] )

(15)حضرت شیخ ابواسحاق ابراہیم بن احمد تنوخی بعلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 709ھ میں ہوئی،آپ دمشق کے رہنے والے تھے مگرقاہرہ مقیم ہوگئے،قاہرہ حجاز کے علماسے استفادہ کیا،قرأت وفقہ اورتدریس میں آپ کا مقام بہت بلندہے، آپ نےجمادی الاولیٰ 800ھ میں وصال فرمایا،کثیرعلمانے آپ سے استفادہ کیا۔([47] )

(16)حضرت شیخ شہاب الدین ابوالعباس احمدبن ابوطالب صالحی الحجار رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریبا 624ھ کو دمشق میں ہوئی اور 25صفر730ھ میں وفات پائی۔آپ نے کثیرمشائخ سے استفادہ کیا، 630ھ میں شیخ حسین بن مبارک زبیدی سے صحیح البخاری سن کر اجازت لی،آپ امام الوقت اورحافظ الحدیث تھے۔([48] )

(17)حضرت شیخ امام سراج الدین ابوعبداللہ حسین بن مبارک ربعی زبیدی بغدادی حنبلی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 545ھ یا 546ھ کو بغداد میں ہوئی، آپ تیس سال تک طلب حدیث میں بغداد،دمشق اورحلب کے مشائخ کی خدمات میں حاضر رہے، تحصیل علم کے بعد آپ حنابلہ کے مدرسۃ الوزیر بغداد([49])کے مدرس مقرر ہوئے، آپ مسلمانوں کے عظیم امام، صاحب تصنیف، عظیم حنبلی مفتی اسلام، محدث شام، منکسرالمزاج،حلیم و فیاض تھے۔ آپ کی وفات 23صفر 631ھ کو ہوئی،لغت وقرأت میں کتاب منظومات اورفقہ میں کتاب البلغۃ ([50])تحریرفرمائی۔([51] )

(18)شیخ الاسلام، مسند الآفاق، حضرت شیخ امام ابو الوقت عبد الأول بن عیسی سجزی ہروی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 458ھ کو ہرات میں ہوئی،آپ نے طلب حدیث کے لیے خراسان، اصبہان، کرمان، ہمدان،بصرہ اوربغدادکا سفرکیا، آپ امام وقت،محدث کبیر،صوفی کامل، حسن اخلاق کے پیکر،متقی ومتواضع،راتوں کو عبادت وگریہ وزاری کرنے والے اورعلم و عمل کے جامع تھے،آپ کے شاگردوں کی تعدادکثیرہے۔آپ کاوصال 6ذیقعد553ھ کو بغدادمیں ہوا،نمازجنازہ غوث الاعظم شیخ عبد القادر جیلانی([52])رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی۔([53] )

(19)حضرت امام جمال الاسلام ابوالحسن عبدالرحمن بن محمد بن مظفرداؤدی بوسنجی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت بوسنج نزدہرات(موجودہ افغانستان)میں ربیع الآخر374ھ کو ہوئی اور یہیں شوال 467ھ کو وصال فرمایا،آپ نے علماومشائخ خراسان سے استفادہ کیا اورپھر بغدادجاکر علمائے بغدادکی نہرعلم سے سیراب ہوئے۔اس کےبعدوطن لوٹے،تدریس وتعلیم اوروعظ ونصیحت میں مصروف ہوگئے،حدیث،فقہ،ادب اورعلم تفسیرآپ کا خاص میدان تھا، آپ علم وتقویٰ میں اپنے وقت کے علماسے فائق تھے، آپ کی زبان پر ہروقت ذکرالہی جاری رہتاتھا۔([54] )

(20) حضرت امام ابومحمدعبداللہ بن احمد بن حمویہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 293ھ کو سرخس میں ہوئی اور27یا 28ذوالحجہ 381ھ میں وفات پائی،آپ محدث وقت،ثقہ روای حدیث اورخطیب سرخس تھے،آپ نے سرخس سے فوشنج وہرات کا سفرکیا اور علامہ امام محمدبن یوسف فربری سے بخاری شریف کی سماعت کی،زندگی سرخس، نیشاپور اور بغدادمیں گزاری۔([55] )

(21)حضرت شیخ ابوعبداللہ محمدبن یوسف فربری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 231 ھ کو فربر (صوبہ لب آب،ترکمانستان)میں ہوئی اور ایک قول کے مطابق 20شوال320 ھ میں وصال فرمایا،آپ نے دیگرعلما کے علاوہ امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت امام محمد بن اسماعیل بخاری کی صحبت پائی اور امام بخاری سے کئی مرتبہ بخاری شریف سماعت کی،آپ امام بخاری کے ارشد شاگرد، پرہیزگار، ثقہ روای حدیث،محدث کبیر اور استاذشیوخ الحدیث تھے۔([56] )

(22) امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرتِ سیّدنا محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 194ھ کو بخارا میں ہوئی اور وصال یکم شوال 256ھ میں فرمایا، مزار خرتنگ (نزدسمرقند) ازبکستان میں ہے۔آپ امام المحدثین والمسلمین، زہد و تقویٰ کے جامع اور قراٰنِ کریم کے بعدصحیح ترین کتاب ’’بخاری شریف‘‘کے مؤلف ہیں۔([57] )

۞ صحیح بخاری میں ہرحدیث پاک سند کے ساتھ ہے، پہلی سند کے روایوں کا مختصر تعارف ملاحظہ کیجئے:

(23) شیخ الحرم حضرت امام ابوبکرعبداللہ بن زبیرحمیدی اسدی،قریشی محدث مکی رحمۃ اللہ علیہ تابعی بزرگ، حافظ وکثیر الحدیث،فقیہ وقت، پابندومتبع سنت تھے،آپ کی ولادت تقریباً 150ھ کو مکہ مکرمہ میں ہوئی،آپ حضرت امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کے جلیل قدرشاگردتھے،بیس سال ان کی خدمت میں رہے، امام بخاری نے جامع صحیح میں 75حدیثیں ان کے واسطہ سے روایت کی ہیں۔ ربیع الاول 219ھ میں اپنے وطن مکہ ہی میں رحلت فرمائی۔مسندحمیدی)[58]( آپ کی کتاب ہے جس میں میں 13 سوسے زائدا حادیث ہیں۔)[59](

(24)حجۃ الاسلام،امام الحرم حضرت امام ابومحمد سفیان بن عیینہ کوفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 107ھ کوکوفہ میں ہوئی اوریکم رجب 198ھ مطابق 814ء میں مکہ معظمہ میں وفات پائی اور کوہ حجون کے پاس مدفون ہوئے،آپ نے امام جعفرصادق)[60]( ،امام مالک)[61](،امام سفیان ثوری اورامام شہاب الدین زہری)[62]( وغیرہ تابعین کی صحبت پائی، آپ تبع تابعی،عالم الحجاز،ثقہ روای حدیث، وسیع العلم،صاحب تقوی وورع اور عمربھر درس وتدریس میں مصروف رہنے والی شخصیت تھے، ترتیب وتدوین حدیث میں آپ سرفہرست ہیں ۔([63])

(25)امير المؤمنین فی الحديث حضرت ابوسعید یحیی بن سعیدقطان تمیمی بصری کی پیدائش 120ھ اوروفات صفر 198ھ میں ہوئی ، آپ نے امام اعظم ابوحنیفہ ([64])جیسے کئی اکابرین سے علم حاصل کیا،آپ دوسری صدی ہجری میں اپنے علم ،فضل،تقوی وورع کی وجہ سے ممتاز تھے ،آپ تبع تابعی، ثقہ راوی،حافظ الحدیث اورقدوۃ العلماء تھے ۔ آپ رزق حلال کے لیے روئی کا کام کرتے تھے اسی وجہ امام قطان کے لقب سے مشہورہیں ۔ کلامِ الٰہی کی تلاوت سے خاص شغف تھا، 20 سال ایسے گزارے کہ دن رات میں ایک بار قرآن ختم کرلیتے تھے،پانچوں نمازیں باجماعت ادافرماتے اورنوافل کی بھی پابندی فرمایا کرتے تھے۔([65])

(26)حضرت ابوعبدللہ محمد بن ابراہیم قرشی تیمی مدنی کی پیدائش مدینہ شریف میں تقریبا42ھ کو ہوئی،انھوں نےام المؤمنین حضرت عائشہ([66]) ،حضرت انس بن مالک([67])، حضرت ابوسعیدخدری([68]) ،دیگرصحابہ اوراکابرتابعین سے احادیث روایت کیں۔آپ حدیث پاک کے ثقہ روای اورکثیرالحدیث اورحافظ الحدیث تھے،بہت سے تابعین وتبع تابعین نے آپ سے استفادہ کیا،آپ نے 74سال کی عمرمیں 120ھ کو مدینہ منورہ میں وصال فرمایا۔([69])

(27)حضرت علقمہ بن وقاص لیثی عتواری کنانی مدنی رحمۃ اللہ علیہ تابعی بزرگ ہیں، یہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات ظاہری میں پیداہوئے،آپ نے امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق اعظم، ام المؤمنین حضرت عائشہ اورحضرت ابن عباس([70]) جیسے جلیل القدر صحابہ کرام سے علم حاصل کیا،کثیرمحدثین نے آپ سے استفادہ کیا،آپ جلیل القدر تابعی، عالم مدینہ اورمرجع خاص و عام تھے،آپ کا وصال مدینہ شریف میں عبدالملک بن مروان([71]) کے دورحکومت میں ہوا،کتب ستہ میں آپ کی روایت کردہ کئی احادیث ہیں۔([72])

(28) امیرالمؤمنین حضرت ابوحفص عمرفاروقِ اعظم عَدَوِی قرشی رضی اللہ عنہ کی ولادت واقعۂ فیل کے 13سال بعد مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ دورِ جاہلیت میں علمِ انساب، گھڑسواری، پہلوانی اور لکھنے پڑھنے میں ماہر اور قریش کے سردار و سفیر تھے، اعلانِ نبوت کے چھٹے سال مسلمان ہوئے۔ آپ جلیلُ القدر صحابی، دینِ اسلام کی مؤثرشخصیت، قاضیِ مدینہ، قوی وامین،مبلغِ عظیم، خلیفۂ ثانی، پیکرِ زہد و تقویٰ، عدل وانصاف میں ضربُ المثل اور عظیم منتظم و مدبّر تھے۔ آپ کے ساڑھے10 سالہ دورِ خلافت میں اسلامی حدود تقریباً سوا 22 لاکھ مربع میل تک پھیل گئیں۔ آپ مدینہ شریف میں ذوالحجہ کے آخرمیں زخمی ہوکر شہید ہوئے اور یکم محرم 24ھ آپ کو جنتُ البقیع میں دفن کیاگیا۔([73])

۞ ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت 12ربیع الاول مطابق 20،اپریل 571ء کو وادی بطحا مکہ شریف کے معززترین قبیلے قریش میں ہوئی اور 12ربیع الاول 11ھ مطابق 12 جون 632ء کو مدینہ منورہ میں وصال ظاہری فرمایا۔آپ وجہ ٔ تخلیق کائنات،محبوب خدا،امام المرسلین ،خاتم النبیین اورکائنات کی مؤثرترین شخصیت کے مالک تھے،آپ نے 40 سال کی عمرمیں اعلان نبوت فرمایا،13سال مکہ شریف اور 10سال مدینہ شریف میں دین اسلام کی دعوت دی،اللہ پاک نے آپ پر عظیم کتاب قرآن کریم نازل فرمایا ۔اللہ پاک کے آپ پر بے شمار دُرُوداورسلام ہوں ۔([74])

حواشی



[1]... القول البدیع ،ص278

[2]... شیخُ الاسلام امام محیُ الدّین ابوزکریا یحییٰ بن شرف نَوَوِی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت631ھ میں نویٰ (مضافاتِ شہرِ حوران) شام میں ہوئی اور یہیں 24 رجب 676ھ کو وصال فرمایا۔ آپ محدثِ کبیر،فقیہ و مُحَرِّرِ فقہِ شافعی، ماہرِ علمِ لغت، زہد و تقویٰ کے جامع، تقریباً40کتب کے مصنّف اور مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔پاک و ہندمیں آپ کی کتب ”ریاض الصالحین“ اور”شرح صحیح مسلم“ مشہور ہیں۔(دلیل الفالحین، 1/11تا 21)

[3] ... شرح النووي على مسلم،1/14۔

[4]... مہرِمنیرسوانحِ حیات ، ص، 84 ،تذکرۂ محدثِ سُورتی ،ص، 26

[5]... مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن،85

[6]... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 77

[7] ... فتح الباری شرح صحیح بخاری علامہ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی پہچان ہے ،آپ نے اسے 817ھ میں لکھنا شروع فرمایا اوررجب842ھ میں مکمل فرمایا،یہ مقبول عام شرح ہے، یہ 15جلدوں پرمشتمل ہے ، اسےکئی مطابع نے شائع کیاہے ۔

[8] ...زبیدیمن کا ایک شہر ہے جوکہ صوبہ حُدَیده میں واقع ہے، زبیدکا نام وادی زبیدکے نام پررکھا گیا ہے، یہ وادی زبیدکے درمیان واقع ہے،اسکی ایک جانب مشرق پہاڑ اور ایک جانب مغرب بحراحمر (دریائے شور)ہے، دونوں کا فاصلہ حسن اتفاق سے 25،25کلومیڑہے ۔

[9] ... تفسیر میزان الادیان،جلد1صفحہ 74میں السجری لکھا ہواہے ،جو کاتب کی غلطی ہے ،اسےفارسی رسالہ عاجلہ نافعہ صفحہ 20کے مطابق کردیا ہے ۔

[10] ...فِرَبْر،ایک شہرہے جو ترکمانستان کے صوبہ لب آب میں واقع ہے،یہ دریائے جیحون(Amu Darya)کے قریب واقع ہے۔

[12]... حدائقِ حنفیہ،ص،510۔صحیح البخاری مع الحواشی النافعۃ،مقدمہ،1/37

[13] ... اتحاف الاخوان باسانیدمولانا فضل الرحمن کے مؤلف حضرت شیخ احمدابوالخیرجمال العطارمکی احمدی (ولادت ،1277ھ مطابق1861ء،وفات تقریبا1335ھ مطابق 1916ء)رحمۃ اللہ علیہ ہیں، انھوں نے اسے 28شعبان 1306ھ میں تالیف فرمایا ،اس کے 24صفحات ہیں ،پروگریسوبکس لاہورنے اسے ملفوظات شاہ فضل ِ رحمن گنج مرادآبادی کےآخرمیں 2020ء کو شائع کیا ہے ۔

[14] ... جدِّ اعلیٰ حضرت،مفتی رضا علی خان نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ عالم، شاعر،مفتی اورشیخ طریقت تھے۔1224ھ میں پیدا ہوئے اور 2جمادی الاولیٰ1286ھ میں وصال فرمایا، مزار قبرستان بہاری پورنزدپولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس اتقیا،ص17، مطبوعہ دہلی)

[15]... تذکرۂ مُحدّثِ سورتی، ص53-57،تجلیات ِ تاج الشریعہ، ص86

[16]... حیات شاہ اسحاق محدث دہلوی،18،33،77

[17] ... کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا قرآن کریم کا بہترین،تفسیری اردو ترجمہ ہے ،جسے پاک وہند اوربنگلادیش میں مقبولیت حاصل ہے اس پر صدرالافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان فی تفسیرالقراٰن اورحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی نے نورالعرفان علی کنزالایمان کے نام سے تفسیری حواشی لکھے ہیں ۔

[18]... اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی کثیرعلوم میں دسترس تھی ،اس پر آپ کی تقریبا ایک ہزارکتب ورسائل شاہدہیں،مگرآپ کا میلان فتاویٰ نویسی کی جانب تھا آپ کے جو فتاویٰ محفوظ کئے جاسکے انہیں العطایہ النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ کے نام سے جمع کیا گیا،پہلی جلدتو آپ کی حیات میں ہی شائع ہوگئی تھی،یک بعددیگرےاس کی بارہ جلدیں شائع ہوئیں،1988ء میں مفتی اعظم پاکستان،استاذالعلمامفتی عبدالقیوم ہزاروی (بانی رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)نے اس کی تخریج وترجمہ کا کام شروع کیا ،جس کی تکمیل 2005ء کو 33جلدوں کی صورت میں ہوئی ،جس کے صفحات 21 ہزار،9سو70ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ ،30/5،10)

[19]... جدالممتارعلی ردالمحتار،اعلیٰ حضرت کی فقہ حنفی کی مستندکتاب ردالمحتارالمعروف فتاویٰ شامی پر عربی میں حاشیہ ہے جس پر دعوت اسلامی کے تحقیقی وعلمی شعبے المدینۃ العلمیہ نے کام کیا اور2006ء کو اسے 7 جلدوں میں مکتبۃ المدینہ کراچی سے شائع کروایا ہے ،۲۰۲۲ء میں اس کی اشاعت دارالکتب العلمیہ بیروت سے ہوئی۔

[20] ... حدائق بخشش اعلیٰ حضرت کا نعتیہ دیوان ہے جسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے ،المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی) نےپہلی مرتبہ اسے ۲۰۱۲ء میں 446صفحات پرشائع کیا ہے ،اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

[21] ...آپ کی یہ پانچوں تصنیف فارسی میں ہیں تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی ،اس کا موضوع ردرفض ہے،تفسیرعزیزی کا نام تفسیرفتح العزیزہے ،جو چارجلدوں پر مشتمل ہے، بستا ن المحدثین میں محدثین کے مختصرحالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عاجلہ نافعہ فنِّ حدیث پرہے جس میں آپ نے اپنی اسنادواجازت کو بھی ذکرفرمایا ہے،اس کے 26صفحات ہیں ۔

[22]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[23]...پہلی چارکتب کا موضوع نام سے واضح ہے ،آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اورمصلحتوں کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاہے ،اس میں شخصی اوراجتماعی مسائل کوزیرِبحث لایاگیا ہے، بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ،کتاب ازالۃ الخفاء ردرفض پرہے ،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائد ومعمولاتِ اہل سنت پر کاربند تھے،آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسنادواجازات اورآپ کے مشائخ کے تذکرے پرمشتمل ہیں ۔

[24]... الفوزالکبیر،7،8،شاہ ولی اللہ محدث کے عرب مشائخ ،23

[25] ...مُجدّدِوقت حضرت سیّد محمدبن عبدالرسول بَرْزَنْجی مَدَنی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شہرزُور (صوبہ سلیمانیہ، عراق) 1040 ھ میں ہوئی اور یکم محرم 1103 ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قراٰن، جامعِ معقول ومنقول، علامۂ حجاز، مفتیِ شافعیہ، 90کتب کے مصنّف، ولیِ کامل اور مدینہ شریف کے خاندانِ بَرْزَنجی کے جدِّ امجدہیں۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص13، تاریخ الدولۃ المکیۃ، ص59)

[26] ... عالمِ کبیر، مسند العصرحضرت سیّدُنا شیخ ابو الاسرار حسن بن علی عُجَیْمی حنفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10ربیع الاول 1049ھ کو مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ 3شوَّالُ المکرَّم 1113ھ کو وصال طائف (عرب شریف) میں فرمایا، تدفین احاطۂ مزار حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میں ہوئی۔ آپ عالم اسلام کے سوسے زائدعلماوصوفیا کے شاگرد، حافظ قراٰن، محدثِ شہیر،فقیہہ حنفی،صوفیِ کامل،مسندِ حجاز،استاذالاساتذہ اور 60 سے زائد کتب کے مصنف تھے،آپ نے طویل عرصہ مسجدحرام،مسجدنبوی اورمسجدعبداللہ بن عباس (طائف)میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں۔ (مختصرنشرالنور ،167 تا173 ،مکہ مکرمہ کے عجیمی علماء،ص6تا54)

[27] ... خاتم المحدثین حضرت امام عبداللہ بن سالم بصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1049ھ کو مکہ میں ہوئی اوریہیں 4 رجب 1134ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے،بصرہ میں نشوونما پائی،پھرمکہ شریف میں آکر مقیم ہوگئے،آپ مسجدحرام شریف میں طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے،زندگی بھریہ معمول رہا،کثیر علمانے آپ سے استفادہ کیا،آپ جیدعالم دین،محدث وحافظ الحدیث اورمسند الحجازتھے، کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری یادگار ہے۔(مختصر نشر النور، ص290تا292، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،18 تا20)

[28]... اعلام الزرکلی،304/5، سلک الدرر،24/4،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ ،25

[29] ... کتاب الامم لایقاظ الھمم کو مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباددکن نے 1328ھ میں دیگر4،اسنادومرویات کے رسائل کے ساتھ شائع کیاہے ، الامم لایقاظ الھمم کے کل صفحات 134ہیں ۔

[30]... سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 1/9، اعلام للزرکلی، 1/35، البدرالطالع بمحاسن من بعد قرن السابع، 1/11

[31]... صاحبِ درِمختار، عمدۃ المتاخرین حضرتِ سیّدناعلّامہ مفتی محمدعلاؤ الدین حصکفی دمشقی حنفی کی ولادت 1025ھ دمشق شام میں ہوئی اور وصال 10 شوال 1088ھ کو فرمایا، مزار بابِ الصغیر (دمشق)شام میں ہے۔آپ جامع ِمعقولات و منقولات اورعظیم فقیہ تھے۔ اپنی کتاب ’’درمختار شرح تنویر الابصار‘‘کی وجہ سے مشہور ہیں۔ (جد الممتار، 1/245، 242، 79)

[32] ... الدرۃ الثمینۃ فیمالزائرالنبی الی المدینۃ،فضائل مدینہ پر مشتمل کتاب ہے جسے دارالکتب العلمیہ بیروت نے شائع کیاہے ۔

[33]... الامم لایقا ظ الھمم ،125تا127،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،8تا10،42

[34]... الامم لایقا ظ الھمم ،127،128،معجم المؤلفین ،1/205،رقم1519

[35] ... نہایۃ المحتاج شرح المنہاج فقہ شافعی کی امہات الکتب میں سے ہے ،یہ امام یحیی نووی کی کتاب منهاج الطالبين وعمدة المفتين کی شرح ہے، دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے چھ جلدوں میں میں شائع کیا ہے ۔

[36]... معجم المؤلفین،3/61

[37] ...دولت مملوکیہ کو سلطنت مملوک بھی کہاجاتاہے ،اسے ایوبی سلطنت کے زوال کے بعدمصراورشام میں1250ء میں عزالدین ترکمانی نے قائم کیا ،بحری مملوک ملک صالح ایوبی کے ترک غلام تھے ،اس نے انہیں دریائے نیل کے کنارے آبادکیا،بعدمیں یہ حاکم بنے اور1389ء تک حکمرانی کی، اس کے بعدبرجی مملوک (قفقازکے سرکیشی غلاموں)کی حکومت شروع ہوئی جوالاشرف طومان بیگ دوم کے دورِحکومت 1517ء تک قائم رہی اس کے بعدمصرسلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا ۔ یوں دولت مملوکیہ کا دورحکومت 267سال پر محیط ہے ۔

[38] ... امام ابوالمَوَاہِب عبدالوہاب شعرانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ صوفی، عالمِ کبیراورصاحبِ تصانیف ہیں ،تنبیہُ الْمُغْتَرِّیْن، اَنوارُالقُدسیہ اور طبقات شعرانی مشہورتصانیف ہیں۔ پیدائش 898ھ اور وصال جمادی الاولیٰ973ھ میں ہوا، مزارمبارک باب شعری، مدینۃُ البُعُوث،قاہرہ مصرمیں ہے۔(معجم المؤلفین،/2339)

[39] ... شیخ الاسلام ،شہاب الملت والدین،مفتی حجازحضرت امام ابو االعباس،ابن حجر احمد بن محمد سعدی ہیتمی شافعی الازہری کی پیدائش رجب 909 ھ کو محلہ ابی الہيتم (صوبہ غربیہ ،مصر)میں ہوئی اورمکہ مکرمہ میں رجب974ھ کو وصال فرمایا ،آپ علم تفسیر،حدیث، فقہ، تاریخ اورکلام وغیرہ میں ماہرتھے ،آپ نے جیدعلمائے عصرسے استفادہ کیا اورمحدث وفقیہ شافعی ہونے کا شرف حاصل کیا، آپ نے تقریبا 33سال تدریس ،افتااورتصنیف وتالیف میں مصروف رہے ،کثیرعلماء نےآپ سے اجازات حاصل کیں ۔آپ کی تصانیف میں الصواعق المحرقہ، الفتاوى الحدیثیہ ، تحفۃ الاخبار فی مولد المختار،اتحاف اہل الاسلام بخصوصيات الصيام، تحفۃالمحتاج بشرح المنہاج اور مبلغ الارب فی فخر العرب ہیں ۔( الاعلام، الزركلی، ج1 ص234، الكواكب السائرة ، 3 /101)

[40] ... فتح الرحمن بكشف ما يلتبس من القرآن  بہترین تفسیرقرآن ہے،دارالقرآن الکریم بیروت نے اسے ایک جلدمیں شائع کیاہے جس کے638 صفحات ہیں ۔

[41] ... تحفۃ الباری یا منحۃ الباری بشرح صحيح البخاری کو  مکتبۃ الرشد نے 10جلدوں میں شائع کیا ہے ، یہ10 شروحات ِبخاری کاخلاصہ ہے۔

[42] ... منہج الطلاب فی فقہ الامام الشافعی  امام نووی کی کتاب منہاج الطالبین کا خلاصہ ہے ،اس کی اشاعت مختلف مطباع سے ہوئی ہے مثلا دارالبشائرنے اسے 456صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[43] ... اسنى المطالب شرح روض الطالب  کا موضوع بھی فقہ ہے، شوافع کے ہاں اس کی اس قدراہمیت ہے کہ کہاجاتاہے کہ جس نے اسنی المطالب نہیں پڑھی تو وہ شافعی ہی نہیں ، دارالکتب العلمیہ نے اسے 9جلدوں میں شائع کیا ہے ،کئی دیگرمطابع سے بھی اس کی اشاعت ہوئی ہے ۔

[44]...کواکب السائرہ، 1/198 تا 208، النورالسافر، ص 172تا177، شذرات الذھب، 8/174تا176

[45] ... فتح الباری شرح صحیح البخاری، علامہ ابن حجرکی بہترین کتاب ہے، اسے قبولیت عامہ حاصل ہے، اس سے بے شمارلوگوں نے استفادہ کیا ہے، علمانے اس کے بارے میں لکھا کہ یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی مثل کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ،مختلف مطباع نے اسے شائع کیا ہے،دارطیبہ ریاض کی اشاعت میں اس کی 15جلدیں ہیں ۔

[46]... بستان المحدثین، ص302، الروایات التفسیریہ فی فتح الباری، 1/39، 65

[47]... الدرر الکامنۃ، 1/11، 12

[48]... الدرر الکامنۃ، 1/142، البدایۃ والنہایۃ، 10/403

[49] ... عباسی سلطنت کے وزیرابو المظفرعون الدین یحیی بن ہبیرہ شیبانی(وفات: 560ھ)ایک اہل علم اورصاحب تصنیف شخصیت تھے، انھوں نے556ھ مطابق 1161ء میں بغدادکے محلے باب البصرہ میں مدرسۃ الوزیر قائم کیا ،اس میں فقہ حنبلی کے مطابق درس وتدریس کا انتظام تھا،اب یہ مدرسہ یہاں نہیں ہے ۔

[50] ...علامہ حسین بن مبارک زیبدی رحمۃ اللہ علیہ کی دونوں تصنیفات کتاب منظومات اورفقہ میں کتاب البلغۃ کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں ۔

[51]... اعلام للزرکلی، 2/253، سیراعلام النبلاء،16/288، 289، شذرات الذھب،5/250

[52]... بانیِ سلسلۂ قادریہ، سردارِ اولیا، غوثُ الاعظم حضرتِ سیّد محیُ الدّین ابو محمد عبدالقادر جیلانی حَسَنی حُسینی حنبلی علیہ رحمۃ اللہ الوَلی کی ولادت 470 ھ کو جیلان (ایران) میں ہوئی اور 11ربیعُ الآخِر 561ھ کو بغداد شریف (عراق) میں وصال فرمایا، آپ جیّد عالمِ دین، بہترین مدرّس، پُر اثر واعظ، مصنّفِ کتب، فقہا و محدّثین کے استاذ، شیخُ المشائخ اور مؤثّر ترین شخصیت کے مالک ہیں۔آپ کا مزارِ مبارک دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے منبعِ انوار و تجلّیات ہے۔(بہجۃ الاسرار، ص171، طبقاتِ امام شعرانی، جزء:1، ص178، مرآۃالاسرار،563،571)

[53]... سیراعلام النبلاء،15/96تا100، المنتظم فی تاریخ الملوک والامم،18/127

[54]...سیراعلام النبلاء،13/561، طبقات الشافعیۃ الکبریٰ، 3/228، طبقات الفقہاء الشافعیۃ، 1/536تا540

[55]... سیراعلام النبلاء،12/513، 514، الانساب للسمعانی،4/230

[56]...سیراعلام النبلاء،11/494، 496، معجم البلدان، 3/422

[57]... المنتظم، 12/133، سیراعلام النبلاء، 10/319،277 رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔

[58] ...مسنداس مجموعہ حدیث کو کہتے ہیں جس میں ہر صحابی کی مرویات کو جداجداجمع کیاجاتاہے ،مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے امام ابوبکرعبداللہ بن زبیرحمیدی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ مجموعہ تیارکیا جومسند حمیدی کے نام سے معروف ہے ،اس میں 1293حدیثیں ہیں،صحابہ وتابعین کے کچھ آثاربھی ہیں، یہ مسندگیارہ اجزاء پر مشتمل ہے ۔

[59]... تہذیب التہذیب:4/299،طبقات شافعیہ سبکی،2/140،محدثین عظام حیات وخدمات،ص254،مسند حمیدی مترجم ،ص780

[60] ... امامُ الوقت حضرت امام جعفر صادِق رحمۃ اللہ علیہ کی وِلادت 80ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اور یہیں 15رجب 148ھ کو وِصال فرمایا، جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے،آپ خاندانِ اہلِ بیت کے چشم و چراغ، جلیلُ القدر تابعی، محدِّث و فقیہ، علّامۂ دَہر، استاذِامام اعظم اور سلسلۂ قادِریہ کےچھٹے شیخِ طریقت ہیں۔( سیراعلام النبلاء، 6/438، 447، شواہد النبوۃ، ص245)

[61] ... عالم مدینہ،کروڑوں مالکیوں کے امام حضرتِ سیِّدنا امام مالِک بن انس اصبحی حمیری مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 93ھ میں مدینۂ منورہ میں ہوئی اور 14ربیعُ الاوّل 179ھ کو وصال فرمایا۔ قبر شریف جَنَّۃُ البَقِیْع میں ہے۔ آپ،حضرت ابوعامراصبحی رضی اللہ عنہ صحابی رسول کے پوتے، تابعی بزرگ، کثیر العبادات، محدث وفقیہ،ادب وحیا کے پیکر، عمدہ فہم ووسیع علم والے متبع سنت،مؤثرترین شخصیت کے مالک،درازعمر اورعالی سند والے تھے،آپ کی کتاب ”مؤطا امام مالک“ احادیثِ مبارکہ کے مقبول و معروف مجموعوں میں قدیم ترین ہے۔زندگی بھرمدینہ شریف میں رہ کر حدیث وفقہ کی تدریس میں مصروف رہے۔(سیر اعلام النبلاء، 7/382، 435، تذکرۃ الحفاظ، 1/154، 157)

[62]... اعلم الحفاظ حضرت امام ابوبکرمحمدبن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب زہری قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 50ھ میں مدینہ شریف میں ہوئی،آپ قوی الحافظہ اورحریص علم تھے، علمائے مدینہ(صحابہ وتابعین)سے بھرپوراستفادہ کیا،تمام اسلامی علوم وفنون بالخصوص علم قرآن،علم حدیث،علم سنن،علم فقہ،علم مغازی وغیرہ میں مہارت تامہ رکھتے تھے،آپ سے 2ہزار2سوحدیثیں مروی ہیں،دن رات درس وتدریس اورکتب بینی میں مصروف رہتے،دمشق کے قاضی بھی مقررہوئے، 17رمضان 124ھ کو بمقام شغب میں وصال فرمایا یہ مقام حجازکے آخراورفلسطین کے شروع میں واقع ہے۔(سیر اعلام النبلاء، 6/133تا152، تذکرۃ الحفاظ، 1/83تا85، البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر، 6/489تا493، تہذیب التہذیب لابن حجر، 7/420تا423)

[63] ... سير اعلام النبلا ، 8 / 454، تاریخ بغداد،9/183، تذکرۃ الحفاظ، للذھبی،1/193

[64] ... حضرت سیّدنا امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 70ھ یا 80ھ کو کوفہ(عراق) میں ہوئی اور وصال بغداد میں 2شعبان 150ھ کو ہوا۔ مزار مبارک بغداد (عراق) میں مرجعِ خلائق ہے۔ آپ تابعی بزرگ، مجتہد، محدث، عالَمِ اسلام کی مؤثر شخصیت، فقہِ حنفی کے بانی اور کروڑوں حنفیوں کے امام ہیں۔(نزہۃ القاری، مقدمہ، 1/164،110، خیرات الحسان، ص31، 92)

[65] ... سیرالاعلام النبلاجلد9 ص175،محدثین عظام حیات وخدمات،ص221

[66] ... اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ بنتِ حضرت سیّدُنا ابوبکرصدّیق رضی اللہ عنہما کی ولادت مکّہ شریف میں اعلانِ نَبُوّت کے چوتھےسال ہوئی اور وصال 17رمضان 57ھ کوہوا۔آپ کا مزارجنّتُ البقیع میں ہے۔ آپ عالمہ،محدّثہ،مفتیہ، اشعارِ عرب و علمِ انساب میں ماہر تھیں۔ صحابہ وتابعین کی جماعتِ کثیرہ نے آپ سے 2ہزار 210 احادیث روایت کی ہیں۔( زرقانی علی المواہب، 4/381،392، مدارج النبوۃ،2/468،473)

[67] ... خادمُ النبی حضرت سیدنا ابوحمزہ انس بن مالک انصاری خزرجی نجاری رضی اللہ عنہ آٹھ سال کی عمر میں خدمت ِرسول پرمعمورہوئے اورآپ نے دس سال یہ سعادت حاصل کی، غزورہ بدرسمیت تمام غزاوت میں شریک ہوئے ،بارگارسالت سے یہ دعاملی :اَللّٰھُمَّ اَکْثِرْ مَالَہٗ وَوَلَدَہٗ وَاَطِلْ عُمُرَہٗ وَاغْفِرْ ذَنْبَهُ یعنی اے اللہ!اس کے مال اور اولاد میں کثرت عطا فرما، اسے درازیِ عمر عطا فرما اور اس کی مغفرت فرما،یہی وجہ ہے کہ آپ مالداراورکثیرالاولادتھے ، آپ کچھ عرصہ مدینہ منورہ میں گزار کر دورِ خلافت فاروقی میں بصرہ تشریف لے گئے اور لوگوں کو علم ِدین اور علم ِحدیث سیکھانے لگے،بے شمار افراد نے آپ کے شاگرد ہونے کا شرف حاصل کیا۔ آپ سے روایت کردہ 2286،احادیث ِمبارکہ کتبِ احادیث و سِیَر میں ہیں ،ان میں سے 168 متفقہ طور پر صحیح بخاری و مسلم شریف میں ہیں۔ آپ بہت زیادہ عبادت کرتے اورتلاوت قرآن فرمایا کرتے تھے ۔ ، جمہور کےنزدیک 93 ہجری میں آپ نے اس جہانِ فانی سے کوچ فرمایا،بوقتِ انتقال آپ کی عمر مبارک 100 سال سے زیادہ تھی۔آپ بصرہ میں وفات پانے والے آخری صحابی ہیں۔ (تاریخ ابن عساکر،9/378،363، طبقات ابن سعد،7/14،جامع الاصول،12/200،رقم:34، تہذیب الاسماء واللغات للنووی،1/137 )

[68] ... حضرت سیدنا ابو سعید سعدبن مالک خدری انصاری بڑے عالم،فقیہ ، احادیث کے ماہراورحق گوصحابی ہیں،آپ ہجرت سے ایک سال قبل مدینہ شریف میں پیداہوئے،کم سنی کی وجہ سے غزوہ بدراورغزوہ احدمیں شریک نہ ہوسکے ،اس کے بعد غزوات میں شرکت رہی،آپ زمانہ خلافت فاروقی وعثمانی میں فتویٰ دیا کرتے تھے ،آپ کا وصال 74ھ کو مدینہ شریف میں ہوااورجنت البقیع میں تدفین ہوئی،آپ سے مروی احادیث کی تعداد 1170 ہے۔(تاریخ الاسلام للذھبی،2/895)

[69] ...سیراعلام النبلاء5/295،تاریخ الاسلام،3/306

[70] ... ترجمان القرآن، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ولادت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ہاں ہجرت سے تین سال قبل مکہ میں ہوئی اورآپ نے 67ھ کو طائف میں وصال فرمایا،مزارمبارک مسجدعبداللہ بن عباس طائف کے قریب ایک احاطے میں ہے، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے علم وحکمت،فقہ دین اور تاویل کتاب مبین کی دعافرمائی،آپ علم تفسیر، حدیث، فقہ،شعر،علم وارثت وغیرہ میں کامل دسترس رکھتے تھے، آپ کے القابات بحرالعلوم، امام المفسرین، ربانیِ امت، اجمل الناس، افصح الناس اوراعلم الناس ہیں۔ (تنویرالمقیاس،ص7تا32)

[71] ... عبدالملک بن مروان کا دورِحکومت 65ھ تا86ھ ہے ۔

[72] ...سير اعلام النبلا،4/62

[73] ... تاریخ الخلفاء، ص86تا117، العبر فی خبر من غبر، 1/20

[74]... مدارج النبوت ،2/14،آخری نبی کی پیاری سیرت ، 143تا145


اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّـلٰوةُ وَالسَّـلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَـلِیْن ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

دُرود شریف کی فضیلت

حضرت علامہ مَجدُالدّین فیروز آبادی رحمۃُ اللہِ علیہ سے منقول ہے :جب کسی مجلس میں (یعنی لوگوں میں)بیٹھواورکہو: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَصَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد تو اللہ پاک تم پر ایک فِرِشتہ مقرّر فرمادے گا جو تم کو غیبت سے بازرکھے گا۔اور جب مجلس سے اُٹھو تو کہو: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَصَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد تو فِرِشتہ لوگوں کو تمہاری غیبت کرنے سے بازرکھے گا ۔ ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب _ _صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

امام المحدثین کی سند مؤطاامام مالک

امام المحدثین مفتی سید محمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ جیدعالم دین،محدث وقت مُسنِد اور استاذالعلما تھے،آپ نے اکابرعلمائے اہل سنت سے خوب استفادہ کیا،عالی اسنادحاصل کیں اوراشاعت علوم وفنون میں مصروف ہوگئے،پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ کا شماربھی اکابرعلمائے اہل سنت میں ہونے لگا، راقم آپ کی اسانیداحادیث میں سب سے پہلے تعارف مؤطاامام مالک پھر امام المحدثین کی سند مؤطاامام مالک اوراس کے شیوخ کا تذکرہ کرے گا ۔

مؤطاامام مالک کاتعارف

مختلف ادوار میں احادیث کی مختلف کتابیں مرتب ومدون کی گئیں لیکن امام مذہب مالکیہ، عالم مدینہ حضرتِ سیِّدنا امام مالِک بن انس رحمۃ اللہ علیہ(ولادت: 93ھ،وفات: 179ھ )کا مجموعۂ احادیث بنام ’’مؤطا امام مالک ‘‘ کو سلسلہ تدوین ِحدیث میں اوّلین کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے جمہور علما نے مؤطاامام مالک کو طبقات کتب حدیث میں طبقہ اولیٰ میں شمار کیاہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ ما نعرف کتابا فی الاسلام بعد کتاب اللہ عزوجل اصح من موطأ مالک۔ یعنی میں اسلام میں کتاب اللہ کے بعد موطأامام مالک سے زیادہ کوئی صحیح کتاب کونہیں جانتا۔([2]) علما فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول صحیح بخاری اورصحیح مسلم کے وجودسے پہلے کا ہے،کیونکہ اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ صحیح بخاری اورصحیح مسلم کتاب اللہ قرآن مجیدکے بعد صحیح ترین کتب ہیں،لیکن امام شافعی کےقول سے مؤطاامام امالک کی ثقاہت واہمیت کا اندازالگایا جاسکتاہے۔

امام المحدثین کی سند مؤطاامام مالک

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ محدث الوری رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا امام مالک شیخ المشائخ علامہ فضل حق گنج مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھ کراجازت حاصل کی اورانھوں نےسراج الہند علامہ شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے([3]) اسی طرح امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ صاحب نے ذوالحجہ 1337ھ کو اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے جملہ اجازات واسانیدحاصل کیں،( مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن، ص،80) اور اعلیٰ حضرت نے اپنے مرشد حضرت شاہ آل رسول مارہروی سے اورانھوں نے سراج الہندعلامہ شاہ عبدالعزیز سے اورسراج الہندتحریرفرماتے ہیں:

کتاب مؤطاکو والد ماجد (شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)نے شیخ محمد وفد اللہ مکی پر بالتمام پیش کیا اور انہوں نے اپنے باپ شیخ محمد بن محمد بن سلیمان([4] )پر اور سند شیخ ابن سلیمان کی کتاب صلۃ الخلف([5] ) میں مذکور ہے۔ نیز شیخ محمد وفد اللہ نے اس کتاب کو شیخ حسن عجیمی سے حاصل کیا اور شیخ عبداللہ بن سالم بصری سے بھی اور ان دونوں بزرگوں نے شیخ مغربی سے اور انہوں نے شیخ سلطان محمد بن احمد مزّاحی([6] )سے (اور مزّاحہ تشدید زا سے دیہات متعلقہ مصر کے ایک گاؤں کا نام ہے) اور شیخ سلطان نے شیخ احمد بن خلیل سبکی سے (سبکہ مصر میں ایک گاؤں ہے) اور انہوں نے شیخ محمد نجم الدین بن احمد غیطی سے (غیطہ بھی مصر میں ایک گاؤں ہے) اور انہوں نے شیخ شرف الدین عبد الحق بن محمد السنباطی سے اور انہوں نے شیخ ابو محمد حسن بن محمد بن ایوب الحسنی اعلم علم الانساب سے اور انہوں نے اپنے چچا شیخ حسن بن محمدبن حسن نسابہ ( [7])سے اور انہوں نے ابو عبداللہ محمد بن جابر الوادی آشی([8] )سے (وادی آش دیار مغرب میں ایک شہر کا نام ہے([9]) انہوں نے شیخ ابو محمد عبداللہ بن محمد بن ہارون قرطبی سے (قرطبہ قاف مضموم اور طائے مہملہ اور بائے موحدہ سے اندلس میں ایک شہر ہے) اور انہوں نے قاضی ابو القاسم شیخ احمد بن یزید قرطبی سے اور انہوں نے شیخ محمد بن عبدالحق بن احمد بن عبدالرحمن ([10]) الخزرجى([11]) القرطبی سے اور انہوں نے شیخ محمد بن فرج([12]) مولی ابن الطلاع([13]) سے اور انہوں نے قاضی ابوالولید یونس بن عبد اللہ بن مغیث الصغار سے اور انہوں نے ابو عیسیٰ ىحىیٰ بن عبداللہ بن یحییٰ بن یحییٰ سے اور انہوں نے اپنے باپ کے چچا عبید اللہ بن یحییٰ سے اور انہوں نے اپنے باپ یحییٰ بن یحییٰ مصمودی اندلسی سے، جو حضرت امام مالک کے جلیل القدر شاگردوں سے تھے اور دیار مغرب میں ان کے مذہب کے رواج پانے کا باعث وہی ہیں اور یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک سے اس کتاب کو حاصل کیا اور یہ نسخہ مؤطا کا انہی سے مروی ہے۔ (مصمودہ دیار مغرب میں قوم بربرکے ایک قبیلہ کا نام ہے) اور اس کتاب کی سند ہذا کے علاوہ اور بہتیری سند یں ہیں جو کتاب الارشاد الی مہمات الاسناد ([14])میں مذکور ہیں لیکن یہ سند سماع اور قرأت میں مسلسل ہے، بخلاف دو سری سندات کے کہ ان میں اکثر مقامات پر محض اجازت پر اکتفا کیا گیا ہے۔([15]) الحاصل امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ محدث الوری رحمۃ اللہ علیہ کی سند امام مالک 26واسطوں سے نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے ۔

سندِمؤطاامام مالک کےراویان و شیوخ کا مختصرتعارف

(1) امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام تھے۔ آپ اکابرین اہل سنّت سے تھے۔ 1273ھ مطابق 1856ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان، ہِند )میں پیدا ہوئے اور لاہور 22رجب المرجب 1354ھ مطابق 20اکتوبر1935ء کو (بروزپیر)نمازعصرکے سجدے میں وصال فرمایا، جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ لاہورسے متصل جگہ میں تدفین کی گئی ۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور([16]) اور فتاویٰ دِیداریہ([17]) آپ کی یادگار ہیں۔( [18])

(2) عارفِ کامل حضرت مولانا فضلِ رحمٰن صدیقی گنج مرادآبادی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1208 ھ مطابق1794ء کو سندیلہ (ضلع ہردوئی، یوپی ہند) میں ہوئی اور وصال 22ربیعُ الاوّل 1313 ھ مطابق 12ستمبر 1895ءکو فرمایا۔ مزار مبارک گنج مراد آباد (ضلع انّاؤ،یوپی ہند) میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، استاذ و شیخ العلما والمشائخ اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔آپ کی اسانیدکا عربی مجموعہ اتحاف الاخوان باسانیدمولانا فضل الرحمن ہے ،)[19] (جَدِّ اعلیٰ حضرت مولانا رضا علی خان([20]) علیہ رحمۃ الرَّحمٰن آپ کے ہی مرید و خلیفہ تھے۔([21])

(3)اعلیٰ حضرت، مجددِدین وملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1272ھ مطابق6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ مطابق28اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص و عام ہے۔آپ حافظِ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر، فقیہ اسلام، مُحدّثِ وقت، مصلحِ امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزار کتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم، استاذالفقہاومحدثین، شیخ الاسلام والمسلمین، مجتہدفی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن([22])،فتاویٰ رضویہ([23]) ، جدّ الممتارعلی ردالمحتار( [24]) اور حدائقِ بخشش([25]) آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔([26])

(4) خاتِمُ الاکابِر، قدوۃ العارفین حضرت علامہ شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل، صاحبِ وَرَع وتقوی اورسلسلہ قادریہ رضویہ کے سینتیسویں (37) شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کی ولادت 1209ھ کو خانقاہ برکاتیہ مار ہرہ شریف (ضلع ایٹہ،یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 18ذوالحجہ1296ھ کو وصال فرمایا،تدفین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف، اترپردیش ہند میں ہے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت سید شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد پر سراج الہند حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃاﷲ علیہ کے درسِ حدیث میں شریک ہوئے۔ صحاحِ ستہ کا دورہ کرنے کے بعد حضرت محدث دہلوی قدس سرہ سے علویہ منامیہ کی اجازت اور احادیث و مصافحات کی اجازتیں پائیں،فقہ میں آپ نے دوکتب مختصرتاریخ اورخطبہ جمعہ تحریرفرمائیں ۔([27])

(3)سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلما و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین ، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ( [28])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی میں ہے۔([29])

(4)محدث ہندحضرت شاہ ولی اللہ احمدمحدث دہلوی فاروقی رحمۃاللہ علیہ کی پیدائش 4شوال 1110ھ کو ہوئی اوریہیں29محرم 1176ھ مطابق 1762ء وصال فرمایا،تدفین مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی میں ہوئی،جو درگاہ شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہورہے،آپ نے اپنے والدگرامی حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی،حفظ قرآن کی بھی سعادت پائی، اپنے والد سے بیعت ہوئے اور خلافت بھی ملی،والد کی رحلت کے بعد ان کی جگہ درس وتدریس اور وعظ و ارشاد میں مشغول ہوگئے۔ 1143ھ میں حج بیت اللہ سے سرفراز ہوئے اور وہاں کے مشائخ سے اسناد حدیث حاصل کیں۔ 1145ھ کو دہلی واپس آئے،آپ بہترین مصنف تھے، مشہورکتب میں فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن فارسی، الفوز الکبیرفی اصول التفسیر، مؤطاامام ملک کی دوشروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ،ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی،الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشايخ الحرمين اورالارشادالی مہمات الاسنادعربی)[30] (مشہورکتب ہیں۔([31])

(5)شیخ محمد وفد اللہ مکی مالکی رحمۃ اللہ علیہ محدث وقت حضرت شیخ محمد بن محمد بن سلیمان رودانی مالکی کے فرزندتھے،والدصاحب کے علاوہ شیخ حسن بن علی عجیمی اورشیخ عبداللہ بن سالم بصری سے استفادہ کیا،والدصاحب کی وفات کے بعدمکہ شریف میں ان کے وارث قرارپائے، شیخ عبدالقادرجیلانی سحاقی([32])1150ھ میں حج کرنے مکہ شریف آئے تو ان سے ملاقات کی۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے 1144ھ میں مکہ شریف گئے تو مؤطاامام مالک اول تا آخرپڑھی،اورحضرت شیخ محمد رودا نی کے طریق پر مرویات اور سلاسل صوفیہ میں اجازت حاصل کی۔([33])

۞ عالمِ کبیر، مسند العصرحضرت سیّدُنا شیخ ابو الاسرار حسن بن علی عُجَیْمی حنفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت10ربیع الاول 1049ھ مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ 3شوَّالُ المکرَّم 1113ھ کو وصال طائف (عرب شریف) میں فرمایا، تدفین احاطۂ مزار حضرت سیّدُنا عبداللہ بن عباس)[34] (رضی اللہ عنہما میں ہوئی۔ آپ عالم اسلام کے سوسے زائدعلماوصوفیا کے شاگرد، حافظ قراٰن، محدثِ شہیر،فقیہ حنفی،صوفیِ کامل،مسندِ حجاز،استاذالاساتذہ، اور 60 سے زائد کتب کے مصنف تھے،آپ نے طویل عرصہ مسجدحرم،مسجدنبوی اورمسجدعبداللہ بن عباس (طائف) میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں۔([35])

۞خاتم المحدثین حضرت امام عبداللہ بن سالم بصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1049ھ کو مکہ میں ہوئی اوریہیں 4 رجب 1134ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے،بصرہ میں نشوونما پائی، پھرمکہ شریف میں آکر مقیم ہوگئے،آپ مسجدحرام شریف میں طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے،زندگی بھریہ معمول رہا،کثیر علمانے آپ سے استفادہ کیا،آپ جیدعالم دین،محدث وحافظ الحدیث اورمسند الحجازتھے، کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری)[36] ( یادگار ہے۔([37])

(6) حضرت شیخ شمسُ الدّین ابوعبداللہ محمد بن محمد بن سلیمان رودانی مالکی رحمۃ اللہ علیہ مراکش کےعلاقے تارُودَنْت (صوبہ سوس ماسہ)میں 1037ھ کو پیداہوئے،ابتدائی تعلیم وہاں حاصل کرکے آپ الجزائر، مصر، شام، استنبول اور حجازمقدس آئے اوراولاً مدینہ شریف پھر مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے، یہیں شادی کی، آپ کا شمار مکہ شریف کی مؤثرومقبول شخصیات میں ہوتاتھا،آپ حدیث، فقہ، حساب،فلکیات اورعربی ادب میں ماہرتھے۔آپ نے دینی خدمات میں امامت،فتاوی نویسی اورتدریس کو منتخب فرمایا،تحریروتصنیف میں بھی مصروف رہے،آپ کی سات تصانیف میں سے جمع الفوائد من جامع الاصول ومجمع الزوائد)[38] (آپ کی پہچان ہے،اس عظیم محدث کا وصال 10ذیقعدہ 1094 ھ کو دمشق میں ہوااورجبل قاسیون میں تدفین کی گئی۔([39])

(7)حضرت شیخ ابوالعزائم سلطان بن احمدسلامہ مزّاحی مصری ازہری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 985ھ کو مصرمیں ہوئی اوریہیں 17جمادی الآخر1075ھ میں وصال فرمایا، تدفین مجاورین قبرستان قاہرہ میں ہوئی،آپ نے علمائے عصرسے حفظ قرآن وقرأت، حدیث وفقہ و تصوف اور دیگر علوم حاصل کرکے 1008ھ میں فارغ التحصیل ہوئے اور جامعۃ الازہر میں تدریس کرنے لگے، آپ امام الائمہ، بحرالعلوم، استاذالفقہاء والقراء، محدث وقت، علامہ زمانہ،نابغہ عصر،زہدوتقویٰ کے پیکر،مرجع خاص وعام، عابدوزاہد اور کئی کتب کے مصنف تھے۔([40])

(8)شیخ الاسلام،ناصرالملت والدین حضرت امام شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 939ھ اور وفات 1032ھ میں ہوئی، آپ نے مدرسہ باسطیہ مصر میں داخلہ لےکر علم دین حاصل کیا،جیدعلمائےمصرسے استفادہ کرکے محدث وفقیہ بننے کی سعادت پائی،حدیث وفقہ میں آپ کی کئی تصانیف ہیں،ان میں سے فتح الغفور بشرح منظومۃ القبور)[41]( مشہور ہے۔([42])

(9)شیخ الاسلام حضرت امام نجم الدین ابوالمواہب محمدبن احمدغیطی سکندری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 910ھ اوروفات 981ھ میں ہوئی، آپ کا تعلق مصرکےصوبہ سکندریہ کے مرکزی شہر سکندریہ سے ہے،آپ نے دیگر مشائخ بالخصوص شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری رحمۃ اللہ علیہ سے علم حدیث،فقہ اورتصوف وغیرہ حاصل کرکے اسناداورتدریس وافتاء کی اجازات لیں،آپ امام الوقت، مسندالعصر، محدث زمانہ، مرشد گرامی، محبوب ِ خاص وعام،بغیرلومۃ لائم برائی سے منع کرنے والے اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ بهجة السامعين والناظرين بمولد سيد الاولين والآخرين اورقصۃ المعراج الصغری( [43])وغیرہ آپ کی تصنیف کردہ کتب ہیں۔([44])

(10)شرف الملت والدین حضرت شیخ عبدالحق بن محمدبن عبدالحق سنباطی قاہری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت جمادی الاولیٰ یا جمادی الاخریٰ 842ھ کو ایک علمی گھرانے میں بمقام سنباط (صوبہ مغربی،مصر)میں ہوئی،آپ سنباط میں حفظ قرآن کرنے کےبعد قاہرہ میں آگئے یہیں بقیہ اسلامی تعلیم حاصل کی،بعدتعلیم آپ درس و تدریس،تصنیف وتالیف اورافتامیں مصروف ہوگئے،نہ صرف مصربلکہ حجازمقدس کے علمانے بھی آپ سے استفادہ کیا۔آپ کا وصال یکم رمضان 931ھ کوشبِ جمعہ مکہ مکرمہ میں ہوا۔بعدجمعہ حرم میں نمازجنازہ پڑھائی گئی،جم غفیرنے نمازجنازہ میں شرکت کی،آپ کوجنت المعلیٰ میں دفن کیاگیا،آپ کی تصانیف میں شرح ابن عبد الحق السنباطی على حرز الامانی([45] )بھی شامل ہیں۔([46])

(11)حسام الملت والدین حضرت امام ابومحمد حسن بن محمد بن ایوب نسابہ حسنی حسینی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت قاہرہ مصرمیں 767ھ کے آخرمیں ہوئی،حفظ قرآن کے بعدعلمائے مصر، علمائے حرمین اورعلمائے شام وبیت المقدس سے علوم اسلامیہ حاصل کئے،فراغت کے بعد اسکندریہ شہر میں تدریس وتصنیف میں مصروف ہوگئے،خلق کثیرنے آپ سے استفادہ کیا، نفائس الدُّرَر فِی فَضَائِل خير الْبشر اور نزہۃ القصاد فِی شرح منظومۃ الاقتصاد([47]) آپ کی تصانیف ہیں۔آپ فقیہ وفاضل، صابروشاکر، متواضع وسلیم الفطرت اور مرجع خاص وعام تھے۔ ابتدائے صفرالمظفر 866ھ کو وصال فرمایا،تدفین باب النصر (قاہرہ مصر) سے باہر ہوئی۔([48])

(12)بدرالملت والدین حضرت شیخ حسن بن محمدبن حسن نسابہ حسینی شافعی رحمۃ اللہ علیہ شیخ حسن بن محمدبن ایوب رحمۃ اللہ علیہ کے عم محترم، مصرکے جیدعالم دین، محدث، صوفی، خاندان سادات نسابہ کے ولی،خانقاہ رکنیہ بیبرس کے سجادہ نشین اورصاحب تصنیف بزرگ تھے،آپ کی کتاب آداب الحمام یادگارہے۔آپ کی ولادت 739ھ اوروفات 16شوال809 ھ کوہوئی۔([49])

(13)شمس الملت والدین حضرت شیخ ابوعبداللہ محمدبن جابرقیسی وادی آشی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 673ھ اوروفات 749ھ کو تونس میں ہوئی،آپ کے آباء و اَجْدَادْکا تعلق اندلس کے علاقے وادی آش سے تھا،آپ نے والدصاحب سے علم دین حاصل کرنے کے بعد سفرشروع فرمایا: بغداد،موصل،دمشق اوراسكندریہ مصرکے علماءسے استفادہ کیا۔ ان کے شیوخ کی مرویات پر مشتمل کتاب برنامج ابن جابر الوادی آشی([50]) مطبوع ہے۔آپ جید عالم دین،محدث وقت،حسن اخلاق اور پروقار شخصیت کے مالک، علمائے عرب ومغرب کے استاذ،صاحب دیوان شاعراورمرجع وقت تھے۔([51])

(14)حضرت امام ابومحمدعبداللہ بن محمد طائی اندلسی قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت رمضان 603 ھ کو ہوئی اوروصال 11ذیقعدہ 702ھ کو ہوا، آپ محدث ومسند، عالم وادیب، صدوق وحسن الحديث اورعلم وعمل کے جامع اورفقیہ مالکی تھے۔([52])

(15)ابن بقی حضرت امام ابوقاسم احمد بن یزیدبقوی قرطبی رحمۃ اللہ علیہ یورپ میں خلافت اموی کے اہم عالم دین،رأس العلماء،فقیہ مالکی،محدث زمانہ،صاحب دیوان اسلامی شاعر، بہترین ادیب،قاضی وقت،حسن اخلاق کے پیکر،عادل وثقہ روایِ حدیث اورکتاب الآيات المتشابہات)[53]( کے مصنف تھے،آپ کی پیدائش ذیقعدة 537 ھ کو ہوئی اور وصال 15 رمضان 625 ھ کوبروزجمعہ قرطبہ اندلس میں ہوا۔([54])

(16)حضرت امام ابوعبداللہ محمد بن عبدالحق بن احمد بن عبدالرحمن خزرجی قرطبی مالکی کا تعلق قرطبہ سے ہے آپ محدث کبیر، صدوق وحسن الحدیث راوی، فقیہ مالکی اور زاہدین زمانہ سے تھے۔آپ کا وصال تقریباً560ھ کو ہوا۔([55])

(17)حضرت امام ابوعبداللہ محمد بن فرج مولی ابن طلاعی قرطبی مالکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 404ھ اوروفات رجب 497ھ میں ہوئی، آپ حافظ الحدیث،شیخ الفقہاء، مفتی اندلس،استاذالعلما و الفقہاء،مصنف کتب،صاحب فصاحت وبلاغت اورجذبۂ اعلاء کلمۃ الحق سے مالامال تھے۔آپ نے کتاب اقضیۃ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم( [56])لکھنے کی سعادت حاصل کی۔([57])

(19)ابن مغیث حضرت امام قاضی ابوولیدیونس بن عبداللہ الصغّار قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 338ھ کو ہوئی اوررجب 429ھ کو وصال فرمایا،آپ فقیہ مالکی،محدث ومسند، قاضی القضا،شیخ اندلس اورمصنف کتب ہیں۔ آپ مدینۃ الزہرا([58])کے کافی عرصہ خطیب رہے پھر قاضی، وزیر اور قرطبہ کے خطیب مقررہوئے،آپ بہترین واعظ،اچھے مدرس، زہد وتقوی کے جامع،خشوع وخضوع کے پیکر، ثقہ وحجت کے درجے کے راوی حدیث اور یادگاراسلاف تھے،خلق کثیرنے آپ سے علمی وروحانی استفادہ کیا۔آپ کی تحریرکردہ آٹھ کتب میں سے ایک الموعب فی شرح الموطا ہے جو مؤطاامام مالک کی شرح ہے مگریہ مکمل نہیں ہے۔([59])

(20)حضرت امام ابوعیسی یحیی بن عبداللہ لیثی قرطبی مالکی رحمۃ اللہ علیہ ذیقعدہ 287ھ میں پیداہوہے اور8رجب 367ھ کو وصال فرمایا،آپ محدث ومسندالاندلس،جلیل القدرامام اوراندلس کے شیخ المالکیہ تھے،آپ اندلس کے کئی شہروں کے قاضی رہے،چاردانگ عالم سے کثیرطلبۂ علم دین مؤطا پڑھنے کے لیے آپ کے پاس آیا کرتے تھے۔([60])

(21)حضرت امام ابومروان عبیداللہ بن یحییٰ لیثی مالکی اندلسی رحمۃا للہ علیہ کی پیدائش اندلس کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی، والدگرامی سے علوم اسلامی حاصل کئے، والدصاحب کی وفات کے بعد حرمین طیبین اورمصرکا سفرکیا اوروہاں کے علماسے استفادہ کیا، واپس آکر مسند تدریس پرفائز ہوئے،کثیر علما نے استفادہ کیا،آپ جیدعالم اندلسی، فقیہ مالکی، مسند قرطبہ، ذہین وفطین، جود و سخاوت کے مالک،کثیرالصدقات واحسانات، صاحب ثروت و وقار اورمرجع خاص وعام تھے، رمضان 298ھ کووصال فرمایا۔([61])

(22)حضرت امام ابومحمد یحیی بن یحیی بن کثیرلیثی مصمودی قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 152ھ کو قرطبہ میں ہوئی،مقامی علماسے علم دین حاصل کرنے کے بعد مدینہ شریف آئے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردگی اختیار کی، امام مالک ان کے طلب علم میں انہماک و توجہ اور عقل وشعورسے بے حد متأثرتھے،حصول علم کے بعد وطن واپس آئے تو خاص وعام کے مرجع بن گئے،درس و تدریس، افتا و قضا میں مصروف ہوئے،خلیفہ وقت آپ کی عظمت وفقاہت کا قائل تھااورآپ کے مشورے سےامورِ حکومت چلاتا تھا، آپ کی ذات سے یورپ میں فقہ مالکی کی خوب اشاعت ہوئی،آپ تبع تابعی،فقیہ مالکی،مسندعصر،عبادت گزار وپرہیزگار، عکس امام مالک اور بارعب و باوقار تھے۔آپ کا وصال 22 رجب234ھ کو قرطبہ میں ہی ہوا۔([62])

(23)عالم مدینہ،کروڑوں مالکیوں کے امام حضرتِ سیِّدنا امام مالِک بن انس اصبحی حمیری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 93ھ میں مدینۂ منورہ میں ہوئی اور 14ربیعُ الاوّل 179ھ کو وصال فرمایا۔ قبر شریف جَنَّۃُ البَقِیْع میں ہے۔ آپ، صحابی رسول حضرت ابوعامراصبحی([63] ) رضی اللہ عنہ کےپڑ پوتے، تابعی بزرگ،کثیرالعبادات،محدث وفقیہ،ادب و حیا کے پیکر، عمدہ فہم ووسیع علم والے متبع سنت،مؤثر ترین شخصیت کے مالک، درازعمر اورعالی سند والے تھے،آپ کی کتاب ”مؤطا امام مالک“ احادیثِ مبارکہ کے مقبول و معروف مجموعوں میں قدیم ترین ہے۔زندگی بھرمدینہ شریف میں رہ کر حدیث وفقہ کی تدریس میں مصروف رہے۔([64])

۞مؤطاامام مالک میں ہرحدیث پاک سند کے ساتھ ہے پہلی سند کے روایان کامختصرتعارف ملاحظہ کیجئے:

(24)اعلم الحفاظ حضرت امام ابوبکرمحمدبن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب زہری قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 50ھ میں مدینہ شریف میں ہوئی،آپ قوی الحافظہ اورحریص علم تھے، علمائے مدینہ(صحابہ وتابعین)سے بھرپوراستفادہ کیا،تمام اسلامی علوم وفنون بالخصوص علم قرآن،علم حدیث،علم سنن،علم فقہ،علم مغازی وغیرہ علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے،آپ سے 2ہزار2سوحدیثیں مروی ہیں،دن رات درس وتدریس اورکتب بینی میں مصروف رہتے،دمشق کے قاضی بھی مقررہوئے، 17رمضان 124ھ کو بمقام شغب میں وصال فرمایا، یہ مقام حجازکے آخراورفلسطین کے شروع میں ہے۔([65])

(25)فقیہ مدینہ حضرت ابوعبداللہ عروہ بن ز بیراسدی قریشی رحمۃ اللہ علیہ حواری رسول حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ کے بیٹے،ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے،جلیل القدرتابعی،کثیر الاحادیث،ثقہ راوی حدیث،متقی وورع، صابر وشاکر، جوّاد و سخی، دولت دنیا سے بے نیاز، عابد و زاہد، کثرت سے روزے رکھنے والے اور مدینہ منورہ کے سات فقہاء([66] )سے ہیں،آپ درس وتدریس میں مصروف رہتے، عبادت وتلاوت کی کثرت کرتے اور مسلمانوں کے مرجع تھے،حدیث کے ساتھ مغازی کو بھی بیان کیا کرتے تھے،مزاج میں بڑی نفاست وصفائی تھی،آپ کی ولادت 23ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی اوروصال 94ھ  کو نواحِ مدینہ میں ہوا۔([67])

(26)صحابی ابن صحابی حضرت بشیربن ابومسعود خزرجی انصاری حارثی رضی اللہ عنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات ظاہری میں پیداہوئے،زیارت نبوی کی سعادت پائی، جنگ صفین میں یہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لشکرمیں شامل تھے۔([68])

(27)صحابی رسول حضرت ابومسعود عقبہ بن عمروبن ثعلبہ بدری خزرجی انصاری رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ ثانی([69]) میں ایمان لائے،اس وقت آپ کی عمرشرکا میں سب سے کم تھی، تمام غزوات میں شریک ہوئے،آپ کا شمارعلماصحابہ میں ہوتاہے، مدینہ شریف سے کوفہ منتقل ہوگئے اور وہیں سکونت اختیارکرلی،آپ کسی ملامت کی پرواہ کئے بغیرنیکی کا حکم فرماتے، آپ کا وصال 40ھ یا دورِ حکومت ِ امیرمعاویہ)[70](میں ہوا،مقام وفات مدینہ شریف یا کوفہ تھا،آپ کے بیٹے حضرت بشیرسمیت کثیرتابعین نے آپ سے احادیث روایت کی ہیں۔آپ عالم،مجاہد،محدث اورپرجوش مبلغ اسلام تھے۔([71])

(28) ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت 12ربیع الاول مطابق 20اپریل 571ء کو وادی بطحا مکہ شریف کے معززترین قبیلے قریش میں ہوئی اور12ربیع الاول 11ھ مطابق 12 جون 632ء کو مدینہ منورہ میں وصال ظاہری فرمایا۔ آپ وجہ ٔ تخلیق کائنات،محبوب خدا،امام المرسلین،خاتم النبیین اورکائنات کی مؤثرترین شخصیت کے مالک تھے،آپ نے 40 سال کی عمر میں اعلان نبوت فرمایا،13سال مکہ شریف اور10سال مدینہ شریف میں دین اسلام کی دعوت دی،اللہ پاک نے آپ پر عظیم کتاب قرآن کریم نازل فرمائی۔اللہ پاک کے آپ پر بے شمارمرتبہ دُرُوداورسلام ہوں۔([72])

حواشی



[1]... القول البدیع ،ص278

[2]... مناقب الشافعی للبیہقی، 1/507، المجروحين،1/42

[3]... تفسیرمیزان الادیان،1/ 77

[4] ...ان کا نام عجالہ نافلہ فارسی صفحہ ،19 پر دوجگہ آیا ہے ایک مقام پر محمدبن محمد بن سلمان اوردوسرے مقام پر محمدبن محمد بن محمد سلمان لکھا ،دیگرکئی کتب میں محمد بن سلمان پر تحریرہے ،آپ کی اپنی کتاب صلۃ الخلف کے صفحہ 21پرآپ خود تحریرفرماتے ہیں :یقول العبدالفقیرمحمد بن محمد بن سلیمان ۔اس لیے سند میں اس کے مطابق کردیا ہے ۔

[5] ...اس کتاب کا مکمل نام ’’صلۃ الخلف بموصول السلف ہے ،اس کے کل صفحات 588ہیں ،اسے دارالغرب الاسلامی بیروت نے 1408ھ مطابق 1988ء میں شائع کیا ہے ،اس میں حضرت شیخ محمدبن محمد بن سلیمان رودانی مالکی نے اپنی اسنادواجازت اورمشائخ کا تفصیلی ذکرفرمایا ہے ۔

[6] ... ان کا نام عجالہ نافلہ فارسی صفحہ ،19 پرسلطان محمد بن احمد مزاحی لکھا ہے مگرعربی کتب میں سلطان بن احمد تحریرہے ۔

[7] ... عجالہ نافلہ کے صفحہ 20 اور تفسیرمیزان الادیان(1/ 73)میں ان کا نام حسن بن ایوب النسابہ ہی لکھا ہے مگرعربی مصادرمیں آپ کا نام نسب کے ساتھ یہ تحریرہے : حسن بن محمدبن حسن بن ادْرِيس بن حسن بن عَلی بن عِيسَى بن عَلی بن عِيسَى بن عبد الله بن محمد بن الْقسم بن يحیی بن يحيى الْبَدْر بن نَاصِر الدّين بن حصن الدّين بن نَفِيس الدّين الحسنی سبط الشريف النسابۃ حسن بن عَلی بن سُلَيْمَان الْحُسَيْنی۔( درر العقود الفريدة فی تراجم الاعيان المفيدة، 2/6)اس لیے سند میں نام درست کردیا ہے ۔

[8] ... عجالہ نافلہ کے صفحہ 20 اورتفسیرمیزان الادیان(1/ 73)میں امام محمد بن جابرکی نسبت الوادیاشی لکھی ہے جبکہ عربی کتب میں الوادی آشی مرقوم ہے اوریہی درست ہے ،اس لیے سند میں اسے درست کردیاہے ۔

[9] ... وادی آش(Guadix) اندلس (اسپین )کے شہرغرناطہ(Granada) کے مشرق میں 53کلومیٹرکے فاصلے پرواقع ایک قدیمی شہرہے ۔

[10]... عجالہ نافلہ کے صفحہ 20 اورتفسیرمیزان الادیان(1/ 73)میں آپ کا نام ’’ محمد بن عبدالرحمن بن عبد الحق‘‘لکھا ہے جبکہ درست ’’ محمد بن عبدالحق بن احمد بن عبدالرحمن‘‘ہے اس لیے سند میں اسے درست کردیا ہے ،آپ کا نسب یہ ہے : ابو عبد الله محمد بن عبد الحق بن احمد بن عبد الرحمن بن محمد بن عبد الحق، الخزرجی القرطبی۔ (سیر اعلام النبلاء، 15/170)

[11] ... تفسیرمیزان الادیان(1/ 73)ان کی نسبت ’’الحزرمی ‘‘لکھا ہواہے جوکہ کاتب کی غلطی ہے،درست نسبت ’’الخزرجی ‘‘ہے ،اس سند میں درست کردیاہے مزیددیکھئے: عجالہ نافلہ ،ص 20۔

[12] ... تفسیرمیزان الادیان(1/ 73)میں ان کے والدصاحب کا نام ’’فرح‘‘لکھا ہے جو کہ کاتب کی غلطی ہے درست ’’فرج‘‘ہے اس لیے سند میں درست کردیا ہے ۔مزیددیکھئے : عجالہ نافلہ ،ص 20

[13] ... تفسیرمیزان الادیان(1/ 73)میں یہاں ’’ ابن الطابع‘‘جبکہ عجالہ نافلہ ،ص 20میں ’’ ابن الطلاع‘‘لکھاہے ،اس لیے سند میں ابن الطلاع کردیا ہے ۔آپ کو ابن الطلاع کہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ کے والدصاحب ابوبکر محمد بن یحیی بکری الطلاع کے غلام تھے ،بعض نے آپ کو ابن الطلاء بھی لکھاہے ۔( سیر اعلام النبلاء، 14/238، الاعلام للزرکلی، 6/328)

[14] ... الارشاد الى مہمات علم الاسناد،حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی عربی تالیف ہے اس کے کل 63صفحات ہیں ، اسے دار الآفاق قاہرہ مصرنے 1430 ھ مطابق 2009ء میں شائع کیا ہے ۔ 

[15]... تفسیرمیزان الادیان،1/ 73،74،عجالہ نافلہ ،19،20۔

[16] ... امام المحدثین نے دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہورکو 1924ء میں مسجدوزیرخان اندرون دہلی گیٹ میں شروع فرمایا ،پھر یہ جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ منتقل کردیا گیا ،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے آپ کے صاحبزادےمفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابوالبرکات سیداحمدرضوی صاحب اس کی وسیع وعریض عمارت اندورن بھاٹی گیٹ گنج بخش روڈ پر بنائی ،جو، اَبْ بھی قائم ہے ۔

[17] ...فتاویٰ دیداریہ کے مرتب مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اس میں 344فتاویٰ ہیں، 87فتاویٰ کے علاوہ تمام فتاویٰ مفتی سیددیدارعلی شاہ صاحب کے تحریرکردہ ہیں، مکتبۃ العصرکریالہ جی ٹی روڈ گجرات پاکستان نے 2005ء کو بہت خوبصورت کاغذپر شائع کئے ہیں ، جن کے کل صفحات 864ہیں ۔

[18] ... فتاویٰ دیداریہ، ص2،ہفتہ واراخبارالفقیہ ، 21تا28،اکتوبر1935ء، ص23

[19] ... اتحاف الاخوان باسانیدمولانا فضل الرحمن کے مؤلف حضرت شیخ احمدابوالخیرجمال العطارمکی احمدی (ولادت ،1277ھ مطابق1861ء،وفات تقریبا1335ھ مطابق 1916ء)رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،انھوں نے اسے 28شعبان 1306ھ میں تالیف فرمایا، اس کے 24صفحات ہیں، پروگریسوبکس لاہورنے اسے ملفوظات شاہ فضل ِ رحمن گنج مرادآبادی کےآخرمیں 2020ء کو شائع کیا ہے ۔

[20] ... جدِّ اعلیٰ حضرت،مفتی رضا علی خان نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ عالم، شاعر،مفتی اورشیخ طریقت تھے۔1224ھ میں پیدا ہوئے اور 2جمادی الاولیٰ1286ھ میں وصال فرمایا، مزار قبرستان بہاری پورنزدپولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس اتقیا،ص17، مطبوعہ دہلی)

[21]... تذکرۂ مُحدّثِ سورتی، ص53-57،تجلیات ِ تاج الشریعہ، ص86

[22] ... کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا قرآن کریم کا بہترین،تفسیری اردوترجمہ ہے ،جسے پاک وہند اوربنگلادیش میں مقبولیت حاصل ہے اس پر صدرالافاضل علامہ سیدمحمد نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان فی تفسیرالقراٰن اورحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی نے نورالعرفان علی کنزالایمان کے نام سے تفسیری حواشی ہیں ۔

[23]... اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے کثیرعلوم میں دسترس تھی ،اس پر آپ کی تقریباً ایک ہزارکتب ورسائل شاہدہیں ،مگرآپ کا میلان فتاویٰ نویسی کی جانب سے تھا آپ کے جو فتاویٰ محفوظ کئے جاسکے انہیں العطایہ النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ کے نام سے جمع کیا گیا ،پہلی جلدتو آپ کی حیات میں ہی شائع ہوگئی تھی، یک بعددیگرےاس کی بارہ جلدیں شائع ہوئیں،1988ء میں مفتی اعظم پاکستان، استاذالعلمامفتی عبدالقیوم ہزاروی (بانی رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)نے اسکی تخریج وترجمہ کا کام شروع کیا،جس کی تکمیل 2005ء کو 33جلدوں کی صورت میں ہوئی،جس کے صفحات 21 ہزار،9سو70ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ ،30/5،10)

[24]... جدالممتارعلی ردالمحتار،اعلیٰ حضرت کا فقیہ حنفی کی مستندکتاب ردالمحتارالمعروف فتاویٰ شامی پر عربی میں حاشیہ ہے جس پر دعوت اسلامی کے تحقیقی وعلمی شعبے المدینۃ العلمیہ نے کام کیا اور2006ء کو اسے 7 جلدوں میں مکتبۃ المدینہ کراچی سے شائع کروایا ہے ،۲۰۲۲ء میں اس کی اشاعت دارالکتب العلمیہ بیروت سے ہوئی۔

[25] ... حدائق بخشش اعلیٰ حضرت کا نعتیہ دیوان ہے جسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے، المدینۃ العلمیہ (دعوت اسلامی)نےپہلی مرتبہ اسے ۲۰۱۲ء میں 446صفحات پرشائع کیا ہے ،اب تک اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔

[26] ...حیاتِ اعلیٰ حضرت،ص، 1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ،تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص،282، 301

[27]... تاریخ خاندان برکات، ص37تا46،مشائخ مارہرہ کی علمی خدمات ،221

[28] ...آپ کی یہ پانچوں تصانیف فارسی میں ہیں ، تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی ،اس کا موضوع ردرفض ہے،تفسیرعزیزی کا نام تفسیرفتح العزیزہے، جو چارجلدوں پر مشتمل ہے، بستا ن المحدثین میں محدثین کے مختصرحالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عاجلہ نافعہ فن حدیث پرہے جس میں آپ نے اپنی اسنادواجازت کو بھی ذکرفرمایا ہے ،اس کے 26صفحات ہیں ۔

[29]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[30]...پہلی چارکتب کا موضوع نام سے واضح ہے،آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اورمصلحتوں کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاہے، اس میں شخصی اوراجتماعی مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا گیاہے ،کتاب ازالۃ الخفاء ردرفض پرہے،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائدومعمولاتِ اہل سنت پر کاربند تھے،آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسنادواجازات اورآپ کے مشائخ کے تذکرے پرمشتمل ہیں ۔

[31]... الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،ص7تا11،تواریخ آئینہ تصوف،217،تذکرہ علمائے ہند،458

[32] ... شیخ عبدالقادرجیلانی السحاقی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق مراکش سےہے،انھوں نے اپنا سفرنامہ رحلۃ الاسحاقی یا الرحلۃ الاحجازیہ کے نام سے لکھا ،مزیدمعلومات حاصل نہ ہوسکیں ۔)صلۃ الخلف،ص ،15،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،ص ، (37

[33]... فہرس الفہارس،1/428،429، ظفرالمحصلین،ص44،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،37،38

[34]... ترجمان القرآن، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ولادت نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچاجان حضرت عباس بن عبدالمطلب کے ہاں ہجرت سے تین سال قبل مکہ میں ہوئی اورآپ نے 67ھ کو طائف میں وصال فرمایا ،مزارمبارک مسجدعبداللہ بن عباس طائف کے قریب ایک احاطے میں ہے ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے لیے علم وحکمت،فقہ دین اور تاویل کتاب مبین کی دعافرمائی،آپ علم تفسیر، حدیث ،فقہ،شعر،علم وارثت وغیرہ میں کامل دسترس رکھتے تھے ،آپ کے القابات بحرالعلوم، امام المفسرین، ربانیِ امت ،اجمل الناس ،افصح الناس اوراعلم الناس ہیں ۔ (تنویرالمقیاس،ص7تا32)

[35]... مختصرنشرالنور،167تا173،مکہ مکرمہ کے عجیمی علما،ص6تا54

[36] ... ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری، 18 جلدوں پر مشتمل صحیح بخاری کی اہم شرح ہے جو بطورحوالہ استعمال ہوتی ہے، اسے دارالنوادردمشق نے شائع کیاہے۔

[37]... مختصر نشر النور، ص290تا292، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،18تا20

[38] ... جمع الفوائد من جامع الاصول ومجمع الزوائد،احادیث مبارکہ کا بہترین مجموعہ ہے جس میں 15کتب احادیث ،بخاری ،مسلم ،ترمذی ،نسانی ،ابوداؤد،ابن ماجہ ،مؤطاامام مالک،معجم طبرانی کبیر، اوسط، صغیر،مسندابی یعلی،مسندبزار،مسنداحمد،سنن دارمی اورزوائدزرین کی مرویات کو جمع کردیا گیا ہے ۔

[39]... صلۃ الخلف بموصول السلف،7تا12، خلاصۃ الاثر 4/204، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ، ص37، فہرس الفہارس،1/425

[40]... امتاَعُ الفُضَلاء بتَراجِم القرّاء،2/135تا139، خلاصۃ الاثر فی اعيان القرن الحادی العشر، 2/210

[41] ... امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے عالم برزخ کے بارے میں رسالہ منظومۃ القبورلکھا ،علامہ احمدبن خلیل سبکی رحمہ اللہ علیہ نے اس کی شرح فتح الغفورکے نام سے تحریرفرمائی، دارالنوادربیروت اوردارالمنہاج جدہ عرب نے اسے شائع کیا ہے ۔

[42]...خلاصۃ الأثرفی اعیان القرن الحادی عشر، 1/185

[43] ...دونوں کا موضوع نام سے واضح ہے ۔

[44]... شذرات الذہب، 8/474، الاعلام للزرکلی، 6/6، معجم المؤلفین، 3/83

[45] ...قرآت سبعہ کے موضوع پر سیّد القُرّاء حضرت امام قاسم بن فِیرُّہ شاطبی شافعی رحمۃاللہ علیہ(538ھ تا 590ھ)نے کتاب حرزالامانی تحریرفرمائی جسے متن الشاطبیہ کے نا م سے شہرت دوام حاصل ہے اس پر شیخ عبدالحق سنباطی نے حاشیہ لکھا ہے ۔

[46]... الکواکب السائرۃ باعیان المئۃ العاشرۃ، 1/222، الضوء اللامع لاھل القرن التاسع، 4/37تا39

[47]... نفائس الدُّرَر فِی فَضَائِل خير الْبشر کاموضوع تونام سے ظاہرہے اورالقصاد فِی شرح منظومۃ الاقتصاد، اسلامی عقائد پر مشتمل مفتی احمد بن عماداقفہسی شافعی (750ھ تا808ھ) رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الاقتصاد فی كفایۃ الاعتقاد کی شرح ہے،اقتصادبھی امام غزالی(450 ھ تا505ھ) کی کتب الاقتصاد فی الاعتقادکی شرح ہے ۔

[48]... ہدیۃ العارفین،1/286، الضوء اللامع لاہل القرن التاسع،3/121

[49]... درر العقود الفريدة فی تراجم الاعيان المفيدة، 2/6،الضوء اللامع لاہل القرن التاسع، 3/ 123

[50]... کتاب ’’برنامج ابن جابر الوادی آشی‘‘مصطلحات ومعانی کے موضوع پرہے، اس کی ایک جلداور407صفحات ہیں ۔

[51]... معرفۃ القراء الکبار، 3/1496، غایۃ النہایۃ، 2/106، الوافی بالوفیات، 2/209

[52]... الوافی بالوفيات،17/316، الدررالکامنہ،2/303،بغیۃ الوعاۃ،2/20

[53] ... کتاب الآيات المتشابہات کے بارے معلومات حاصل نہ ہوسکیں ۔

[54]...سیر اعلام النبلاء، 16/234تا236، الاعلام للزرکلی، 1/271، بغیۃ الوعاۃ، 1/399

[55]... سیر اعلام النبلاء، 15/170

[56] ...یہ کتاب اصول فقہ کے موضوع پر ہے،اسی میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہونے والے مقدمات اوراس پر جو فیصلے ہوئے ہیں ،انہیں بیان کیا گیا ہے ،اس موضوع پریہ کتاب ماخذکی حیثیت رکھتی ہے ، اسے کئی مطابع نے شائع کیا ہے ۔

[58] ... اموی خلیفہ عبد الرحمٰن سوم الناصر (912ءتا961ء)نے کم وبیش324ھ مطابق 936ء میں قرطبہ سے 13کلومیٹرجانب مغرب جبال العروس کے شمالاجنوبا ایک شہرآبادکیا جس میں کئی باغات، مسجدیں، انتظامیہ، سرکاری دفاتر، ٹکسال، کارخانے، چھاؤنیاں، گھر اور غسل خانے تھے۔400ھ مطابق1010ء میں یہ ایک خانہ جنگی میں تباہ ہوگیا تھا۔1910ء کے بعد سے شروع کی گئی کھدائی میں اس کے آثارظاہرہوئے ،جسے دیکھنے سیاح دنیا بھرسے آتے ہیں ،یہاں ایک عجائب گھر بھی بنایا گیا ہے ۔

[59]... سیر اعلام النبلاء، 13/369، الدیباج المذھب، 2/374، شذرات الذھب، 3/403، ھدیۃ العارفین، 2/572، الاعلام للزرکلی، 8/262

[60]... سیر اعلام النبلاء، 12/362، تاریخ علماء الاندلس، 2/189، الاحاطۃ فی اخبار غرناطۃ، 4/319، العبر فی خبر من غبر، 2/128

[61]... سیر اعلام النبلاء، 11/72، الوافی بالوفیات، 19/277

[62]...سیر اعلام النبلاء، 9/200، الدیباج المذھب، 2/352، وفیات الاعیان لابن خلکان، 5/117تا119

[63] ...ایک قول کے مطابق حضرت ابوعامرنافع بن عمرواصبحی حمیری رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں ،غزوہ بدرکے علاوہ آپ نے تمام غزوات میں شرکت کی،ان کے بیٹے حضرت ابوانس مالک بن نافع رحمۃ اللہ علیہ کبارتابعین سے ہیں انھوں نے حضرت عمر،حضرت طلحہ، حضرت عائشہ ،حضرت ابوہرير ہ اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم سے احادیث کی سماعت کی ،یہ ان چارافرادمیں سے تھے جنہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کفن ودفن میں شرکت کی ،دوسری روایت کے مطابق حضرت ابوعامرنبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال ظاہری میں موجودتھے مگران کو زیارت مصطفی کی سعادت حاصل نہیں ہوئی البتہ انھوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے احادیث کی سماعت کی ،اس لیے یہ تابعی ہیں ۔ (تزیین الممالک بمناقب الامام مالک،19)

[64]... سیر اعلام النبلاء، 7/382، 435، تذکرۃ الحفاظ، 1/154، 157

[65]... سیر اعلام النبلاء، 6/133تا152، تذکرۃ الحفاظ، 1/83تا85، البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر، 6/489تا493، تہذیب التہذیب لابن حجر، 7/420تا423

[66] ... فقہائے سبعہ سے مراد مدینہ منورہ کے سات ہم عصرتابعین ہیں جن کے ذریعے فتوے اورفقہ کا علم پھیلا، یہ تمام تابعین سے افضل ہیں، نام اسمائے گرامی یہ ہیں :حضرت عروہ بن زبیر،حضرت سعیدبن مسیّب(وصال،94ھ)، حضرت ابوبکربن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام (وصال،94ھ) حضرت خارجہ بن زیدبن ثابت (وصال،98ھ)حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود(وصال98ھ) حضرت قاسم بن محمدبن ابوبکرصدیق (وصال،108ھ) اورحضرت سلیمان بن یسار(وصال،109ھ)۔فقہائے سبعہ کے اسمائے گرامی کسی پرچے میں لکھ کرگیہوں میں رکھ دئیے جائیں تو گھن(اناج کا کیڑا)نہیں لگے گا،اگردردسروالے کے سرپرلٹکائیں یا باندھیں یا یہی سات نام پڑھ کرسردم کریں ،تودردِ سرجاتارہے گا۔(حیات الحیوان،2/53،فیضان سنت ،1/402)

[67]... سیر اعلام النبلاء، 5/356تا368، تہذیب التہذیب لابن حجر، 5/545تا549، طبقات ابن سعد، 5/136تا139، تذکرۃ الحفاظ، 1/50

[68]...اسدالغابہ،1/292،293

[69] ...بیعت عقبہ ثانیہ اعلانِ نبوت کے بارہویں سال ہوئی ،اس میں مدینہ منورہ کے ۱۳افرادنے اسلام قبول کیا اورنبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دست ِ اقدس پر بیعت کی ۔(سیرت سیدالانبیاء ،132)

[70] ...صحابی رسول حضرت امیرمعاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہماکی ولادت اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے ہوئی اورآپ کا وصال 22رجب 60ھ میں ہوا۔(سیراعلام النبلاء،4/285،314)آپ کاتب وحی، مجاہدفی سبیل اللہ ،مکے معززفردوسردار،حلیم وبردبار،ذہین وفطین اورمعاملہ فہمی میں کمال رکھتے تھے، آپ کا زریں دورِ حکومت 41ھ تا 60ھ تک محیط ہے ،اس میں بےشمارفتوحات ہوئیں اور اسلامی سرحدیں دوردورتک پھیل گئی ،اس دورکا امن وامان بھی بہترین تھا۔مزیدمعلومات کے لیے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’فیضان امیرمعاویہ ‘‘کا مطالعہ کیجئے ۔

[71]... الاصابہ،4/432،سیراعلام النبلا،4/117تا119۔

[72]... مدارج النبوت،2/14،آخری نبی کی پیاری سیرت، 143تا145


مقالے کا عنوان :امام المحدثین کی اسانید مع تعارف شیوخ ِاسانید قسط 02 :

مقالے کی PDF کے لئے ڈاؤن لوڈ پر کلک کریں Download PDF

امام المحدثین کی اسانیدا حادیث

امام المحدثین، جَید عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام،محدث العصر حضرت علامہ مفتی سید محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ(ولادت: 1273 ھ مطابق 1856 ء ، وفات : 1354 ھ مطابق 1935 ء ) برِعظیم کے مستند عالم دین ،مفتی اسلام ،مسند العصر،شیخ طریقت اور صاحب تصنیف بزرگ تھے آپ نے دورہ حدیث شریف افضل المحدثین علامہ احمد علی سہارنپوری سے کیا،جبکہ استاذ العلما و المشائخ علامہ فضل رحمن گنج مرادآبادی، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اور تاج العلماء ، اولاد رسول ، علامہ محمد میاں مارہروی رحمۃ اللہ علیہم سے احادیث مبارکہ اور دیگر علوم کی اسناد و اجازات حاصل کیں،اس کی تفصیل ذکر کرتے ہوئے آپ تحریر فرماتے ہیں :

”اورسند کتب فقہ اورحدیث سے مسائلِ فقہ مطابق کرنے کے جو تمام کتب احادیث قراءۃ و سماعۃ حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب ([1]) مد اللہ ظلہ العالی

مسند آراء گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی اور مولانا وصی احمد صاحب مرحوم مغفور سورتی ثم پیلی بھیتی([2]) اور تقریبا ًبیس پچّیس طلبہ کے ساتھ حرفاً حرفاً مولانا احمد علی صاحب سہارنپوری مرحوم مغفور پر 1292ھ (مطابق 1878ء)میں پیش کر کے خاکسار (امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ )نے حاصل کی تھی،وہ یہ ہے : مولانا احمد علی سہارنپوری نے مولانا قاری عبدالرحمن صاحب پانی پتی([3]) کے ساتھ تمام کتب صحاح ستہ و غیرہا معہ طریق استنباط مسائل ضروریہ اور طریق موافق کرنے روایات فقہی کے قرآن اوراحادیث کے ساتھ پیش کی مولانا شاہ محمد اسحاق علیہ الرحمہ پر ، اور مولانا شاہ محمد اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرح تمام احادیث کی مولانا شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ پر اور مولانا شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ ٔ ’’عجالہ نافعہ“ ([4])میں اپنی سندیں اس طرح تحریر فرماتے ہیں ۔

”اس فقیر (شاہ عبدالعزیز دہلوی)نے علم حدیث اور باقی جملہ علوم اپنے والد ماجد سے لیے ہیں اور بعض کتابیں حدیث کی مثلاً مصابیح و مشکوة و مسوی شرح موطا (جو کہ انہی کی تصنیفات میں سے ہے ( و حصن حصین اور شمائل ترمذی تحقیق و تفتیش کے ساتھ قراءة و سماعا ان سے حاصل کیں اور اوائل بخاری سے بھی کسی قدر بطریق درایت ان سے سنا ہے اور صحیح مسلم اور دیگر کتب صحاح ستہ کو غیر منتظم طریق پر بدیں نوع ان سے سنا ہے کہ دوسرے طلبا آپ کی خدمت میں پڑھتے تھے تو یہ فقیر بھی حاضر رہتا اور ان کی تحقیقات و تنقیحات کو سنتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ خدا کے فضل و کرم سے ادراکِ دقائقِ اسانید و معانی ِاحادیث میں کافی سمجھ اور ملکہ حاصل ہو گیا۔ بعد ازاں آپ کے قابل اعتماد احباب شاہ محمد عاشق پھلتی و خواجہ محمد امین ولی اللہی سے بطور رسم اجازت بھی حاصل کی اور شاہ محمد عاشق پھلتی سماع و قراۃ میں شیخ ابو طاہر قدس سرہ اور دیگر مشائخ محترم سے شریک اور حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے رفیق تھے اور حضرت شاہ صاحب (شاہ ولی اللہ )بعض حدیث کی کتابیں مثل مشکوۃ و صحیح بخاری پر پہلے اپنے ملک میں اپنے 1والد بزرگوار (شاہ عبد الرحیم )کے حضور میں عبور کر کے بطریق درایت ان سے یہ علم حاصل کر چکے تھے اور آپ(شاہ عبد الرحیم ) کی سند محمد زاہد مرحوم کے واسطے سے ملا جمال الدین دوانی تک پہنچتی ہے اور آپ کی حدیث کی سند انموذج العلوم([5]) کی ابتدا میں مفصل مذکور ہے اور فقیر(شاہ عبد العزیز ) کے والد بزرگوار (شاہ ولی اللہ)نے حاجی محمد افضل صاحب سیالکوٹی سے بھی اجازت حاصل کی تھی، جو کہ ان ممالک میں صاحب سندتھے ، ان کی سند بھی آپ کے رسائل میں مذکور ہے۔

بالآخر والد ماجد بزرگوار نے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں اجلہ مشائخ حرمین شریفین سے اس علم کی بالاستیعاب تکمیل کی اور آپ نے زیادہ تر 3استفادہ حضرت شیخ ابو طاہر مدنی قدس سرہٗ سے کیا جو اس علم میں اپنے زمانے کے یگانہ و فرید العصر تھے (رحمۃ اللہ علیہ و علی اسلافہ و مشائخہ )اور یہ عجب حسن اتفاقات سے ہے کہ شیخ ابو طاہر قدس سرہٗ صوفیاء کرام و عرفاء عظام کے واسطے سے شیخ زین الدین زکریا انصاری تک مسلسل سند رکھتے ہیں کہ انہوں (شیخ ابو طاہر )نے سند حاصل کی تھی اپنے باپ شیخ ابراہیم کُردی سے اور انہوں نے شیخ احمد قشاشی سے اور انہوں نے شیخ احمد شناوی([6]) سے اور انہوں نے اپنے والد شیخ عبد القدوس شناوی([7])سے ۔نیزشیخ ابو طاہر نے شیخ محمد بن ابی الحسن بکری اور شیخ محمد بن احمد رملی اور شیخ عبد الرحمن بن عبد القادر بن فہد سے بھی استفادہ حاصل کیا ،اور یہ سب لوگ جلیل القدر مشائخ اور عارفین باللہ سے کسب علم کیا ہے ۔ اور شیخ عبد القدوس نے شیخ ابن حجر مکی اور شیخ عبد الوہاب شعراوی سےسند حاصل کی۔ اور ان دونوں بزرگوں نے شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری سے استفادہ کیا اور شیخ محمد بن بکری نے اپنے والد عارف باللہ ابو الحسن بکری سے اور انہوں (ابو الحسن بکری )نے شیخ زین الدین زکریا سے اور ایسے ہی شیخ محمد رملی نے اپنے باپ سے اور انہوں نے زین الدین زکریا سے تحصیل علم کیا ہے ، لیکن شیخ عبدالرحمن بن عبد القادر بن فہد نے اپنے چچا جار الله بن فہد سے اور انہوں (جار اللہ )نے شیخ جلال الدین سیوطی سے استفادہ کیا ہے ، اور شیخ ابو طاہر قدس سرہٗ نے شیخ حسن عُجَیمی سے بھی استفادہ کیا ہے اور شیخ حسن عُجَیمی ، شیخ عیسی مغربی کے شاگرد تھے اور وہ شیخ محمد بن العلاء بابلی کے ، اور وہ شیخ سالم سنہوری کے ، اور سالم نے شیخ نجم الدین غیطی سے علم حاصل کیا اور نجم الدین غیطی نے شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری سے استفادہ کیا ، اور شیخ عیسیٰ مغربی کئی واسطوں سے شیخ جلال الدین سیوطی کے شاگرد ہیں ۔ اور شیخ ابو طاہر نے شیخ احمد نخلی سے بھی علم حاصل کیا جو اپنے زمانے میں مکہ مکرمہ کے سب سے بڑے عالم تھے اور شیخ احمد نخلی نے سلطان مزاحی سے ، اور انہوں نے شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی سے ، اور انہوں نے شیخ محمد مقدسی سے ، اور انہوں نے شیخ زین الدین زکریا سے تحصیل علم کیا ۔

اور حضرت شیخ ابو طاہر نے شیخ عبداللہ بن سالم بصری سے بھی علم حاصل کیا تھا اور وہ شیخ احمد نخلی کے ہمعصر تھے اور شیخ احمد نخلی کے اساتذہ سے بھی تلمذ رکھتے تھے۔

اور شیخ ابوطاہر نے شیخ محمد بن محمد بن سلیمان مغربی سے بھی تحصیل علم کیا ۔

الغرض ان عزیزوں میں سے ہر ایک نے دو یا تین واسطوں سے بہت سے طرق پر اسناد حاصل کیا اوران کا شجرہ شیخ زین الدین زکریا ، شیخ جلال الدین سیوطی ، شمس الدین سخاوی ، عبدالحق سنباطی اور سید کمال الدین محمد بن حمزہ حسینی تک پہنچتا ہے اور ہر ایک ان میں سے صاحب سند اور اپنے وقت کا حافظ تھا اور ان کی تصنیفات ملکوں میں جاری و ساری اور ان کی اسانید اکناف و آفاق عالم میں مشہور و معروف ہیں۔ ([8])

مذکورہ سندِحدیث کےشیوخ کا مختصرتعارف

۞ امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ، جَیِّد عالِم، اُستاذُ العُلَما، مفتیِ اسلام اور اکابرین اہل سنّت سے تھے۔آپ 1273ھ مطابق 1856ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان، ہِند )میں پیدا ہوئے اور لاہور میں 22 رجب المرجب 1354 ھ مطابق 20 ،اکتوبر 1935 ء کو (بروز پیر)نماز عصر کے سجدے میں وصال فرمایا ،جامع مسجد حنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ لاہور سے متصل جگہ میں تدفین کی گئی۔ دارُ العُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور([9]) اور فتاویٰ دِیداریہ([10]) آپ کی یادگار ہیں۔ ([11])

۞ افضل المحدثین علامہ احمد علی سہارنپوری کی ولادت 1225 ھ مطابق 1810ءکو ہوئی اور 6 جمادَی الاُولیٰ 1297ھ مطابق 16 اپریل 1880 ء کو تقریباً بہتر (72) سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ اپنے آبائی قبرستان متصل عید گاہ سہارنپور میں سپردِ خاک کیے گئے۔آپ حافظِ قرآن، عالمِ اجل، استاذُ الاساتذہ، مُحدّثِ کبیر اور کثیر الفیض شخصیت کے مالک تھے، اشاعتِ احادیث میں آپ کی کوشش آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے، آپ نے صحاح ستہ اور دیگر کتب احادیث کی تدریس، اشاعت ، حواشی اور درستیٔ متن میں جو کوششیں کیں وہ مثالی ہیں ۔ ([12])

۞ علامہ شاہ محمد اسحاق دہلوی مہاجر مکی کی پیدائش ذوالحجہ 1197ھ مطابق 1782ء دہلی میں ہوئی ،یہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کےنواسے ، شاگرد اور جانشین تھے ، پہلے دہلی پھر مکہ شریف میں تدریس کرتے رہے ،وفات رجب 1262ھ کو مکہ شریف میں ہوئی اور جنت المعلیٰ میں دفن کئے گئے ۔ ([13])

۞ سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیٔ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین ، تحفۂ اِثنا عشریہ اور عاجلہ نافعہ([14])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159 ہجری کو دہلی میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میر درد روڈ، نئی دہلی میں ہے۔ ([15])

۞ مولانا شاہ محمد عاشق پُھلتی کی ولادت 10 رمضان 1110 ھ کو ہوئی ، اور 30 محرم 1176 ھ کو دہلی میں وفات پائی ،تدفین والد ماجد کے پہلو میں درگاہ شریف پھلت ( ضلع مظفرنگر،یوپی،ہند) میں کی گئی ،آپ حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کے ماموں زاد بھائی ،برادرِ نسبتی،سمدھی،بچپن کے دوست،شاگرد اور خلیفہ تھے ،آپ نے علم دین اپنے خاندان کے علما سے حاصل کیا ، 1143ھ کو حج کے لیے حجاز مقدس کا سفر کیا سات ماہ یہاں رہے اور علمائے عرب سے استفادۂ علمی کے بعد مختلف اسناد سے نوازے گئے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی حالات زندگی بنام القول الجلی فی ذکر آثار الولی )[16]( تحریر فرمائی جو آپ کی پہچان ہے ۔ ([17])

۞ خواجہ محمد امین ولی اللہی کشمیری کی پیدائش کشمیر میں ہوئی ،تجارت کی غرض سے لاہور پھر شاہجہاں آباد (یوپی،ہند) آگئے ،خواجہ محمد ناصر نقشبندی (خلیفہ خواجہ محمد زبیر سرہندی)کی صحبت سے دین کی طرف راغب ہوگئے ،حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے علوم اسلامیہ حاصل کئے، آپ درجہ ولایت پر فائز اور اپنے مرشد کے معتمد تھے،مرشد کی وفات کے بعد بھی دہلی میں ہی رہے ،وفات 1187 ھ میں ہوئی۔([18])

۞ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم محدث دہلوی فاروقی حنفی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش دہلی میں 3 شوال 1110 ھ مطابق 1699 ء کو ہوئی اور یہیں 1176 ھ مطابق 1762 ء کو وصال فرمایا ،آپ حافظ قرآن،علوم عقلیہ و نقلیہ کے ماہر،عرب کے کبار شیوخ سے مستفیض تھے ،1143 ھ کو حجاز مقدس حاضر ہوئے اور وہاں آٹھ عرب مشائخ سے استفادہ کیا ،آپ نے زندگی بھر حدیث پاک کا درس دیا ، قوم و ملت کی رہنمائی کی ،آپ کی تصنیف کردہ کتب میں فتح الرحمن فی ترجمۃ القرآن فارسی ،الفوز الکبیر فی اصول التفسیر،مؤطا امام مالک کی دو شروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ فارسی، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی ،الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشائخ الحرمين اور الارشاد الی مہمات الاسناد عربی ([19]) مشہور ہیں ، آپ کا شمار ہند کی مؤثر شخصیات میں ہوتا ہے ۔ ([20])

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی پہلی سند

۞ حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم دہلوی کی ولادت 1054 ھ میں پھلت (ضلع مظفرنگر،یوپی،ہند)میں ہوئی اور وصال 12 صفر 1131 ھ کو دہلی میں فرمایا ،آپ جید عالم دین ، ظاہری و باطنی علوم سے آگاہ، صوفی بزرگ اور محدث وقت تھے ،علم فقہ میں بھی عبور رکھتے تھے ، فتاوی عالمگیری کی تدوین میں بھی شامل رہے ،کئی سلاسل کے بزرگوں سے روحانی فیضان حاصل کیا ، ،سلسلہ قادریہ ،سلسلہ نقشبندیہ،سلسلہ ابو العلائیہ ، سلسلہ چشتیہ اور سلسلہ قادریہ قابل ذکر ہیں ۔ ([21])

۞ حضرت علامہ میر محمد زاہد ہروی ہند کے ایک اہل ثروت علمی گھرانے میں پیدا ہوئے، والد علامہ قاضی محمد ہروی سلطنت مغلیہ کے لشکر شاہی کے قاضی ، جید عالم دین اور صاحب تصنیف تھے ،ابتدائی علوم اسلامیہ ان سے حاصل کئے پھر علمائے کابل،توران اور لاہور سے استفادہ کر کے منقول و معقول میں ماہر ہو کر بارہویں صدی کے علما و فقہا میں شمار ہونے لگے ،آپ بھی سلطنت مغلیہ کے کئی عہدوں مثلا وقائع نگاری،محتسب لشکر شاہی اور صدارتِ کابل پر فائز رہے ،پھر سلطنت کے عہدوں سے مستعفی ہو کر درس و تدریس اور تصنیف کے طرف متوجہ ہوگئے ،بشمول مولانا شاہ عبد الرحیم دہلوی کثیر علما نے آپ سے استفادہ کیا ،آپ کی کتب میں حاشیہ شرح مواقف امور عامہ ،حاشیہ شرح تہذیب علامہ دوانی،حاشیہ رسالہ تصور و تصدیق از علامہ قطب الدین رازی([22]) یادگار ہیں ،آپ کا وصال1101 ھ مطابق 1690ء کو کابل میں ہوا۔ ([23])

۞حضرت علامہ محمد فاضل بدخشی لاہوری حنفی مشہور محدث و فقیہ علامہ عین القضا ہمدانی کے خاندان سے ہیں،آپ روستان نزد بدخشان(افغانستان) کے رہنے والے تھے ، آپ نے اپنے علاقے،کابل ،توران اور لاہور کے علما سے علم حاصل کیا،تحصیل علم کے بعد ہند آکر مغلیہ بادشاہ جہانگیر سے ملاقات کی،بادشاہ آپ سے متاثر ہوا اور پنجاب کی صدارت پر فائز کیا،لشکر کا امیر عدل بھی مقرر کیا، تقریبا 1044ھ میں آپ نے اس عہدے سے مستعفی ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ، آپ علامہ دہر اور فاضل لاہور تھے کثیر علما نے استفادہ کیا ۔آپ کا وصال 1050 ھ کو لاہور میں وفات پائی اور یہیں تدفین ہوئی۔ ([24])

۞استاذ الکل حضرت مولانا ابو الفضل یوسف بن محمد کوسج قراباغی محمد شاہی رحمۃ اللہ علیہ جید عالم دین ،متکلم و محقق،صاحبِ تصانیف،استاذ العلماء اور اسلامی شاعر تھے، آپ نے کئی کتب ([25]) تصنیف کیں ۔آپ کا وصال1035 ھ میں ہوا۔ ([26])

۞شمس الملت و الدین حضرت علامہ مرزا جان حبیب اللہ بن عبد اللہ باغنوی شیرازی حنفی کا تعلق شیراز(صوبہ فارس ،ایران)کے محلے باغنو سے ہے ،جید عالم دین ،متکلم و اصولی اور فن منطق میں ماہر تھے ،آپ نے کئی کتب اور حواشی لکھے ،آپ کا وصال 994 ھ میں ہوا۔گیارہ سے زائد کتب و حواشی میں حاشیہ شرح مختصر الاصول اور حاشیہ شرح مختصر ابن حاجب ([27]) بھی ہیں ۔ ([28])

۞ملا جمال الدین محمود شیرازی حنفی کا شمار مشہور فضلاء میں ہوتا ہے، 908ھ میں جب شیراز پر صفوی حکومت قائم ہوئی تو آپ حرمین شریفین چلے گئے ،حج کرنے کے بعد گجرات ، ہند آگئے ،وہاں کچھ عرصہ گزار نے کے بعد آگرہ میں آخر مقیم ہوگئے، یہیں حضرت شاہ رفیع الدین محدث اکبر آبادی([29]) کی صحبت اختیار کی ،وصال 999ھ میں ہوا،آپ صاحب تصنیف ([30]) بھی ہیں ۔ ([31])

۞محقق دوانی حضرت علامہ جلال الدین محمد بن اسعد الدین صدیقی شافعی کی پیدائش 830 ھ کو موضع دوان نزد کازرون (صوبہ فارس،ایران)میں ہوئی ، یہیں 9ربیع الاول 908ھ یا 918 ھ کو وصال ہوا۔والد گرامی اور دیگر علما سے علوم اسلامیہ حاصل کئے ،کئی شہروں کا سفر کیا ،کازرون کے قاضی بنائے گئے ،زندگی بھر درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہے ، آپ نے فقہ،اصول،كلام ،فلسفہ اور تفسير میں 84 کتب و حواشی تحریر فرمائے ،مشہور کتب میں انموذج العلوم، تفسير سورة الكافرون ، شواکل الحور،شرح كتاب ہياكل النور سهروردی([32])اور لوامع‌ الاشراق فی مکارم الاخلاق المعروف اخلاق جلالی([33]) ہیں ،آپ فقیہ شافعی ، حازق حكيم  ، متكلّم و منطقی ، مفسر و محقق اور اديب و شاعر تھے۔([34])

۞ علامہ سعدالدین اسعدصدیقی تفتازانی کا تعلق موضع دوان نزد کازرون (صوبہ فارس،ایران) ہے ،آپ محدث اور جامع المرشدی کازرون کے استاذ تھے، آپ نے علم تفسیر اور حدیث علامہ شرف الدین عبدالرحیم صدیقی اور علامہ شمس الدین ابو الخیر محمد بن محمد جزری)[35]( سے حاصل کیا،آپ ایک عرصے تک علامہ سید شریف جرجانی)[36] (کی صحبت میں رہے ،مشہور زمانہ محقق علامہ جلال الدین محمد دوانی آپ کے ہی صاحبزادے اور شاگرد ہیں ۔([37])

۞ شرف الملت و الدین حضرت شیخ ابو فضائل عبد الرحیم صدیقی جرہی شیرازی شافعی کے آبا و اجداد کا تعلق جرہ نزد کازرون (صوبہ فارس،ایران)سے ہے۔ آپ کی ولادت 3صفر 744 ھ کو شیراز (ایران)میں اور وصال 17صفر828ھ کو لار(Lar ،صوبہ فارس ،ایران )میں ہوا ، حفظ قرآن کے بعد آپ نے عرب و عجم کے کثیر علما سے استفادہ کیا ،آپ محدث ،متکلم ،صاحب تصوف اور کثیر الفیض بزرگ تھے ، شیراز ،عراق ،مصر،شام اور فلسطین کے علما آپ سے مستفیض ہوئے ،آپ عبادت و تلاوت میں کثرت کرنے ،نفلی روزے رکھنے اور پنج وقتہ با جماعت نماز کی ادائیگی کا اہتمام کرنے میں حریص تھے ۔([38])

۞علامہ عصر ،امام الملت و الدین ، ابو مکارم علی بن علی بن مبارك شاه صديقی ساوجی شافعی کی پیدائش 766ھ کو ہوئی اور رجب 841ھ کو 75سال کی عمر میں وصال فرمایا، آپ کا تعلق ساوہ (Saveh ،صوبہ ٔمرکزی ،ایران)ہے ،آپ جامع معقول و منقول، مفتی ٔعلاقہ، صاحب تقویٰ و کرامت اور ذکر و فکر میں مشغول رہنے والے تھے۔ ([39])

۞شیخُ الاسلام، عمدۃُ المحدثین، شہابُ الدّین، حافظ احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 773ھ کو قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 28ذوالحجہ852ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین قَرافہ صُغریٰ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، محدثِ جلیل، استاذُ المحدثین، شاعرِ عربی اور 150 سے زائد کُتُب کے مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف ”فتح الباری شرح صحیح البخاری“ ([40])کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔ ([41])

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی دوسری سند

۞حضرت مولانا شیخ حاجی محمد افضل محدث سیالکوٹی کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی،ہند کے علما بالخصوص نبیرہ مجدد الف ثانی شیخ حجۃ اللہ سرہندی ،شیخ عبد الاحد وحدت سرہندی اور مکہ شریف میں حضرت شیخ سالم بن عبداللہ بصری([42]) سے سند حدیث حاصل کی ،دہلی میں مسند حدیث بچھائی ،حضرت شاہ ولی اللہ اور مرزا مظہر جانجان ([43]) رحمۃ اللہ علیہما مشہور شاگرد ہیں،آخر الذکر کے شاگرد و خلیفہ مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچی([44]) نے آپ کی بیاض کا خلاصہ (عربی وفارسی )تحریر کیا ہے۔ 1146ھ کو دہلی میں وصال فرمایا، حضرت خواجہ باقی بااللہ ([45])کے مزار سے متصل تدفین کی گئی۔([46])

۞شاہ گل حضرت شیخ عبد الاحد وحدت سرہندی کی ولادت تقریبا 1050ھ کو سر ہند میں ہوئی اور آپ نے 75سال کی عمر میں 27ذوالحجہ 1126ھ کو وصال فرمایا ، اپنے والد گرامی سمیت کئی علما سے استفادہ کیا ،والد گرامی اور چچا جان حضرت خواجہ معصوم عروۃ الوثقی ([47])سے خلافت حاصل ہوئی ،آپ عالم دین ،شیخ طریقت اور صاحبِ دیوان شاعرتھے ،فارسی میں وحدت اور ریختہ(اردو)میں گل تخلص تھا،آپ نے تقریبا 50کتب تحریر فرمائیں۔ دیوان شعر فارسی ، الجنات الثمانیہ ([48]) وغیرہ آپ کی تصانیف ہیں ۔ ([49])

۞ خازن الرحمت حضرت مولانا شیخ محمد سعید سرہندی کی ولادت ماہِ شعبان 1005ھ میں سرہند شریف اور وفات 27جمادی الاخریٰ 1070ھ یا 1071ھ کو ہوئی ،تدفین والد گرامی حضرت شیخ مجدد الف ثانی کے پہلو میں کی گئی،آپ والد گرامی سے ظاہری و باطنی علوم حاصل کر کے جید عالم دین بنے ،علما کا آپ کی جانب رجوع تھا ، بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر آپ کا عقیدت مند تھا،آپ سے کئی کرامات کا صدور ہوا ، آپ نے کئی کتب بھی تحریر فرمائیں ،آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ عبد الاحد وحدت سرہندی نے آپ کے احوال پر کتاب ”لطائف المدینہ“ ([50]) تحریر فرمائی ۔ ([51])

۞تاجدارِ سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ حضرت مجددِ الفِ ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی حنفی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی ولادت 971ھ کو سرہند شریف (ضلع فتح گڑھ، صوبہ مشرقی پنجاب) ہند میں ہوئی اور 28 صَفَرُالْمُظَفَّر 1034ھ کو یہیں وصال فرمایا، روضۂ مبارک مرجعِ انوار ہے۔ آپ عالمِ باعمل، مصنفِ کُتُب اور عالمگیر شہرت کے حامل شیخِ طریقت ہیں۔ ”مکتوباتِ امام ربانی“ ([52])آپ کی کُتُب سے ہے۔ ([53])

۞عالم کبیر،مفسر قرآن ،مسند العصر حضرت مولانا یعقوب بن حسن صرفی کشمیری کی ولادت 908ھ کو کشمیر میں ہوئی ،آپ بچپن سے ہی ذہین،تیز فہم اور علامات بزرگی رکھنے والے تھے ،حفظِ قرآن کے بعد مقامی علمائے اہل سنت سے علوم معقول و منقول حاصل کئے ،پھر سمرقند جا کر حضرت شیخ حسین خوارزمی سے سلسلہ کبرویہ میں بیعت و خلافت حاصل کی ،پھر حجاز مقدس میں جاکر حضرت امام ابن حجر ہیتمی اور دیگر مشائخ سے اسناد لینے کا شرف پایا،واپس آکر ہند میں درس و تدریس اور تصنیف میں مصروف ہوگئے ،تفسیر،حدیث اور فقہ میں کمال درجے کا رسوخ حاصل تھا،کئی تصانیف یادگار ہیں۔ 12ذیقعدہ 1003ھ کو وصال فرمایا۔ہمایوں بادشاہ آپ پر بہت مہربان تھا ،طبعا نہایت فیاض اور سخی تھے ۔صوفیانہ شاعری بھی کرتے تھے۔([54])

۞شیخ الاسلام ،شہاب الملت و الدین،مفتی حجاز حضرت امام ابو العباس،ابن حجر احمد بن محمد سعدی ہیتمی شافعی الازہری کی پیدائش رجب 909 ھ کو محلہ ابی الہيتم (صوبہ غربیہ ،مصر)میں ہوئی اور مکہ مکرمہ میں رجب 974 ھ کو وصال فرمایا ،آپ علم تفسیر، حدیث ،فقہ،تاریخ اور کلام وغیرہ میں ماہر تھے ،آپ نے جید علمائے عصر سے استفادہ کیا اور محدث و فقیہ شافعی ہونے کا شرف حاصل کیا ،آپ نے تقریبا 33 سال تدریس ،افتا اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہے ،کثیر علما نے آپ سے اجازات حاصل کیں۔آپ کی تصانیف میں” الصواعق المحرقہ“،”الفتاوى الحدیثیہ، ”تحفۃ الاخبار فی مولد المختار“ اور” تحفۃالمحتاج بشرح المنہاج([55]) ہیں۔([56])

۞شیخ الاسلام حضرت امام زین الدین ابو یحییٰ زکریا بن محمد انصاری الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 826ھ کو سُنیکہ(صوبہ شرقیہ)مصر میں ہوئی،جامعۃ الازہر سے علوم اسلامیہ حاصل کئے،قاہرہ میں مقیم ہوگئے ،آپ فقیہ شافعی،محدث وقت،حافظ الحدیث، صوفی باصفا،قاضی القضا ۃ،بہترین قاری،مصنف کتب کثیرہ،لغوی و متکلم ، مؤرخ و مدرس، مفتی اسلام اور نویں صدی ہجری کےمجدد ہیں،آپ نے 4 ذوالحجہ 925ھ کو قاہرہ مصر میں وفات پائی۔ قاہرہ میں امام شافعی کے مزار کے قریب قرافہ صغریٰ میں تدفین ہوئی،آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔” الدقائق المحكمة فی شرح المقدمة([57])، ” تحفۃ الباری علی صحيح البخاری([58]) اور ” اَسنى المطالب([59]) آپکی مشہور کتب ہیں۔ ([60])

۞شیخ الاسلام، عمدۃُ المحدثین، شہابُ الدّین، حافظ احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی شافعی رحمۃ اللہ علیہ الکافی کا ذکر گزرچکا ہے ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تیسری سند

۞حضرت شیخ جمال الدین ابو طاہر محمد بن ابراہیم کورانی مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مدینہ شریف میں 1081ھ مطابق 1670ء کو ہوئی اور یہیں 1145ھ مطابق 1733ء کو وصال فرمایا اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے ،آپ جید عالم دین ،محدث و مسند،مفتی ٔ شافعیہ مدینہ منورہ،علامہ شیخ ابراہیم کردی آپ کے والد صاحب اور شیخ احمد قشاشی نانا محترم تھے ۔ والد صاحب کے علاوہ ،مفتیٔ شافعیہ مدینہ منورہ شیخ سید محمد بن عبد الرسول برزنجی([61])اور شیخ حسن بن علی عُجیمی ([62]) سے اجازات حاصل کیں ، کئ کتب بھی لکھیں ،جواب تک مطبوع نہیں ہوسکیں ،مکتبہ حرم مکی میں آپ کی ثبت کا مخطوط پانچ اوراق میں محفوظ ہے ۔ ([63])

۞حضرت امام شیخ برہان الدین، ابو العرفان ابراہیم بن حسن کورانی کردی کی ولادت کردستان(عراق) میں 1025ھ کو ہوئی،آپ شافعی عالم دین،محدث و مسند ، سلسلہ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ہیں۔ 80سے زائد کتب لکھیں جن میں اسانید و مرویات پر مشتمل ” کتاب الامم لایقاظ الھمم ([64]) مطبوع ہے۔آپ عراق سے ہجرت کر کے مدینہ شریف مقیم ہوگئے تھے،یہیں ایک قول کے مطابق18ربیع الآخر 1101ھ مطابق 29 جنوری 1690 ء میں وصال فرمایا۔ ([65])

۞ خاتم المحدثین حضرت امام عبد اللہ بن سالم بصری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1049ھ کو مکہ میں ہوئی اور یہیں 4 رجب 1134ھ کو وصال فرمایا، جنتُ المعلی میں دفن کئے گئے،بصرہ میں نشوونما پائی،پھر مکہ شریف میں آ کر مقیم ہوگئے ، آپ مسجد حرام شریف میں طلبہ کو پڑھایا کرتے تھے،زندگی بھر یہ معمول رہا،کثیر علما نے آپ سے استفادہ کیا،آپ جید عالم دین،محدث و حافظ الحدیث اور مسند الحجاز تھے، کئی کتب تصنیف فرمائیں جن میں سے ”ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری)[66] ( یادگار ہے۔ ([67])

۞حضرت شیخ شمسُ الدّین ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن سلیمان رودانی مالکی رحمۃ اللہ علیہ مراکش کے علاقے تارُودَنْت (صوبہ سوس ماسہ)میں 1037ھ کو پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم وہاں حاصل کر کے آپ الجزائر، مصر، شام، استنبول اور حجاز مقدس آئے اور اولاً مدینہ شریف پھر مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے، یہیں شادی کی، آپ کا شمار مکہ شریف کی مؤثر و مقبول شخصیات میں ہوتا تھا،آپ حدیث، فقہ، حساب،فلکیات اور عربی ادب میں ماہر تھے۔آپ نے دینی خدمات میں امامت،فتاوی نویسی اور تدریس کو منتخب فرمایا،تحریر و تصنیف میں بھی مصروف رہے،آپ کی سات تصانیف میں سے ” جمع الفوائد من جامع الاصول “ و ” مجمع الزوائد)[68] (آپ کی پہچان ہے،اس عظیم محدث کا وصال 10ذیقعدہ 1094 ھ کو دمشق میں ہوا اور جبل قاسیون میں تدفین کی گئی۔ ([69])

۞قطب زماں ،حضرت سید صفی الدین احمد قشاشی بن محمد بن عبد النبی یونس قدسی مدنی حسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 12ربیع الاول 991 ھ مطابق 1583 ء کو مدینہ منورہ میں ہوئی ،آپ حافظ قرآن، شافعی عالم دین ،عرب و عجم کے تقریبا سو علما و مشائخ سے مستفیض،سلسلۂ نقشبندیہ کے شیخ طریقت ، 70کے قریب کتب کے مصنف،نظریہ وحدۃ الوجود کے قائل و داعی تھے،کثیر شاگردوں میں نمایاں شیخ برہان الدین ابراہیم کردی کورانی شافعی مدنی ،صاحب در مختار علامہ علاؤالدین حصکفی ) [70] ( اور حضرت حسن عجیمی رحمۃ اللہ علیہم تھے ۔آپ نے 19ذوالحجہ 1071ھ مطابق 1661ء کو مدینہ شریف میں وصال فرمایا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے ،تصانیف میں روضہ اقدس کی زیارت کے لیے سفرِ مدینہ کے اثبات پر کتاب ’’ الدرۃ الثمینۃ فیماالزائر النبی الی المدینۃ ‘‘ ([71])آپ کی پہچان ہے ۔ ([72])

۞حضرت ابو المواہب احمد بن علی بن عبدالقدوس شناوی مصری خامی مدنی عباسی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش975ھ کو ہوئی، شناوی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے آبا و اجداد کا تعلق موضع شنو(صوبہ غربیہ ) مصر سے ہے ،آپ کا وصال مدینہ شریف میں 6یا 8ذوالحجہ 1028 ھ کو ہوا اور جنت البقیع میں حضرت ابراہیم بن رسول اللہ (رضی اللہ عنہ و صلی اللہ علیہ والہ وسلم )کے قبہ مبارک کے عقب میں تدفین ہوئی،آپ جید عالم دین ،محدث وقت ،ثقہ راوی،ادیب و شاعر،کئی کتب کے مصنف اور سلسلہ قادریہ شطاریہ کے شیخ طریقت و صاحب کرامات تھے ۔آپ کی کتب میں ” تجلیۃ البصائر حاشیۃ على كتاب الجواهر) [73](بھی ہے۔ ([74])

۞محدث وقت ،علامہ زماں حضرت نور الدين علی بن عبد القدوس قرشی عباسی شناوی ایک صوفی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ،دیگر علمائے عصر کے ساتھ اپنے شیخ ابن حجر عسقلانی اور امام الصوفیہ حضرت شیخ عبد الوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہما سے علوم و فنون حاصل کئے اور اسناد و اجازات سے نوازے گئے،مشہور محدث شیخ احمد شناوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے قابل فخر فرزند ہیں۔ ([75])

۞امام الوقت،قطب ربانی حضرت شیخ ابو المواہب عبد الوہاب شعرانی شعراوی شافعی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ کبیر،محدث وقت ،مفتی ٔ اسلام ،صوفی بزرگ ،زہد و تقویٰ کے جامع اور صاحب تصانیف ہیں ، 300 کتب میں سے ” تنبیہ المغترین “،”اَنوارُالقُدسیہ “اور ”طبقات شعرانی([76]) بھی ہیں۔حضرت امام زکریا انصاری،شیخ شہاب الدین رملی ،امام جلال الدین سیوطی اور امام شہاب الدین قسطلانی آپ کے اساتذہ ہیں ،آپ کی پیدائش 27 رمضان 898ھ کو قلقشندة(طوخ،صوبہ قلیوبیہ،مصر )میں ہوئی اور وصال جمادی الاولی ٰ 973ھ میں ہوا، مزار مبارک باب شعری، مدینۃ البعوث،قاہرہ مصر میں ہے۔ ([77])

۞تاج العارفين ابو الحسن محمد بن محمد بكری صدیقی مصری شافعی کی ولادت 899 ھ قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 952 ھ کو وصال فرمایا ،آپ جامعۃ الازہر کے فارغ التحصیل،عالم با عمل، مفسر قرآن،محدث وقت،فقیہ شافعی ،ادیب و شاعر،شیخ طریقت،استاذ الاعظم اور مصنف کتب کثیرہ ہیں،آپ کی چالیس کتب میں تفسیر البکری ([78]) آپ کی پہچان ہے۔ ([79])

۞عارف باللہ حضرت شیخ جلال الدین ابو البقاء محمد بن عبد الرحمن بکری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 2 صفر 807 ھ میں دَھْرُوط میں ہوئی اور یہیں 15ربیع الآخر 891ھ میں وصال فرمایا ،آپ نے دیگر مشائخ کے ساتھ علامہ ابن حجر عسقلانی سے بھی استفادہ کیا ،آپ علم فقہ میں ماہر،اصول و ادب میں حاوی اور علم حدیث سے مالا مال تھے،فقہ شافعی کی حفاظت،علم حدیث کی ترویج اور معاشرے کی اصلاح کی بھرپور کوششوں نے آپ کو زمانے میں یکتا بنادیا۔ آپ نے کئی شافعی کتب کی شروحات لکھیں۔ ([80])

۞ شافعی صغیر حضرت سیّدنا امام شمسُ الدّین محمد بن احمد رمْلی مصری رحمۃ اللہ علیہ شیخ الاسلام، عالمِ کبیر، فقیہِ شافعی، دسویں سن ہجری کے مجدد،محدث وقت ،ماہر تفسیر و نحو اور استاذُ العُلَما ہیں، تصانیف میں نہایۃ المحتاج شرح المنہاج ([81])مشہور ہے۔ 919ھ میں قاہرہ مصر میں پیدا ہوئے اور 13 جُمادَی الاُولیٰ 1004 ھ میں وفات پائی، تدفین قاہرہ میں ہوئی ۔([82])

۞ شیخ الاسلام حضرت امام شہاب الدین احمد بن حمزہ رملی شافعی کی ولادت منوفیہ مصر میں ہوئی اور جمادی الاُخری 957 ھ مطابق 1550 ء کو قاہرہ میں وصال فرمایا، تدفین جامع میدان بیرون باب قنطرہ (مصر)میں ہوئی ، آپ عالم باعمل ،صوفی با صفا، فقیہ شافعی ،محدث وقت اور ایک درجن سے زائد کتب کے مصنف ہیں ،جن میں ”فتح الجواد بشرح منظومۃ ابن العماد “، غایۃ المأمول فی شرح ورقات الاصول اور فتح الرحمن بشرح زبدابن رسلان([83]) مطبوع ہیں ،ان کے فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ رملی([84])کے نام سے مشہور ہے۔ ([85])

۞ حضرت ابو زید عبدالرحمٰن بن عبد القادر بن عبد العزیز ہاشمی شافعی مکی ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ،اپنے چچا علامہ ابن فہد جاراللہ مکی اور علامہ ابن حجر مکی وغیرہ جید علما سے استفادہ کیا ،آپ مکی عالم دین ،مسند وقت اور فقیہ شافعی تھے ،آپ سے کئی علما نے استفادہ کیا۔ ([86])

۞ محب الملت و الدین حضرت ابن فہد ابو الفضل جار اللہ محمد بن عبد العزیز ہاشمی مکی ،امام العلما،مستندمؤرخ ،استاذ المحدثین ،مسند عصر اور کئی درجن کتب کے مصنف ہیں ، آپ نے عرب،شام ،بیت المقدس ،یمن اور مصر کا سفر کیا وہاں کے علما سے استفادہ کیا،امام قاضی زکریا انصاری اور امام جلال الدین سیوطی سے اجازت حدیث حاصل کی،آپ کی ولادت 20 رجب 891 ھ مکہ شریف میں ہوئی اور یہیں 15جمادی الاخریٰ 954 ھ کو وصال فرمایا ،زندگی بھر علوم عقلیہ و نقلیہ کی تدریس میں مصروف رہے، 56 کتب و رسائل تحریر فرمائیں ،تاریخ مکہ پر آپ کی کتب ” بلوغ القریٰ باخبار ام القریٰ “ ، ”حسن القریٰ فی اودیۃ ام القریٰ “ اور” نخبۃ بهجۃ الزمان بعمارة مكۃ الملوك بنی عثمان “ جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فضائل پر ” کتاب تحفۃ اللطائف([87]) بھی ہے۔ ([88])

۞ شیخ الاسلام حضرت قاضی زین الدین ابو یحیٰ زکریا انصاری الازہری اور شیخ الاسلام، عمدۃُ المحدثین، شہابُ الدّین، حافظ احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کا ذکر گزر چکا ہے ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی چوتھی سند

٭علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور آپ کے استاذ حضرت شیخ جمال الدین ابو طاہر محمد بن ابراہیم کورانی مدنی کا تذکرہ گزرچکا ہے ۔

۞ عالمِ کبیر، مسند العصر حضرت سیّدُنا شیخ ابو الاسرار حسن بن علی عُجَیْمی حنفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10ربیع الاول 1049 ھ مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ 3شوَّالُ المکرَّم 1113 ھ کو وصال طائف (عرب شریف) میں فرمایا، تدفین احاطۂ مزار حضرت سیّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میں ہوئی۔ آپ عالم اسلام کے سو سے زائد علما و صوفیا کے شاگرد، حافظ قران ، محدثِ شہیر،فقیہ حنفی،صوفیِ کامل،مسندِ حجاز،استاذ الاساتذہ، اور 60 سے زائد کتب کے مصنف تھے،آپ نے طویل عرصہ مسجد حرم ،مسجدنبوی اور مسجد عبد اللہ بن عباس (طائف)میں تدریس کی خدمات سرانجام دیں ([89])

۞مسند العصر حضرت شیخ ابو مہدی عیسی بن محمد جعفری ہاشمی ثعلبی مالکی کی ولادت 1020 ھ کو زواوۃ (الجزائر، افریقہ)میں ہوئی اور وصال مکہ شریف میں24 رجب 1080 ھ میں ہوا،آپ محدث،مسند،مرشد،فقیہ مالکی،مدرسِ حرم مکی ،امام الحرمین ،عالم مغریبین و مشرقین،زہد و تقویٰ کے مالک اور صاحب تصنیف تھے، ”كنز الروایۃ المجموع فی درر المجاز ويواقیت المسموع([90]) آپ کی یادگار تصنیف ہے۔ ([91])

۞استاذ الحرمین و المصر حضرت شیخ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن علاء الدین بابلی کی ولادت موضوع بابل صوبہ منوفیہ مصر میں 1000 ھ اور وفات 15 جمادی الاولیٰ 1077 ھ کو قاہرہ میں ہوئی ،آپ نے حدیث،فقہ شافعی اور دیگر علوم کے لیے کئی سفر کئے۔ علمائے عرب بالخصوص علمائے مکہ سے بھر پور استفادہ کیا ، کہا جاتا ہے کہ آپ نے شب قدر میں دعا کی کہ میں فن حدیث میں امام ابنِ حجر عسقلانی کی طرح ہوجاؤں،آپ کی دعا قبول ہوئی اور آپ کو یہ مقام حاصل ہوگیا ، آپ حافظ الحدیث ، مسند العصر،فقیہ شافعی، مدرس و مرشد،عبادت گزار،حسن اخلاق کے پیکر اور سوز و گداز کے ساتھ کثرت سے تلاوت قرآن کرنے والے تھے ۔آپ کی اسانید و کتب کو علامہ شیخ عیسی ٰمغربی نے ” ثبت شمس الدين البابلی([92]) کے نام سے جمع فرمایا ہے ۔ ([93])

۞حضرت شیخ ابو النجا سالم بن محمد عز الدین سنہوری مصری مالکی ،محدث کبیر،خاتمۃ الحفاظ، مفتی مالکیہ ،جامع علوم و فنون تھے ،فقہ مالکی میں آپ کی کتاب ” تيسير الملك الجليل([94]) ہے ۔آپ کی پیدائش تقریبا 950 ھ کو سنهور المدینہ ( صوبہ کفر الشیخ مصر)میں ہوئی،علم دین قاہرہ میں حاصل کر کے وہیں خدمات پیش کیں ، آپ کا وصال 3 جَمادی الاُخریٰ 1015ھ کو ہوا اور مجاورین قبرستان میں دفن کئے گئے۔ ([95])

۞شیخ الاسلام حضرت امام نجم الدین ابو المواہب محمد بن احمد غیطی سکندری رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 910 ھ اور وفات 981 ھ میں ہوئی، آپ کا تعلق مصر کے صوبہ سکندریہ کے مرکزی شہر سکندریہ سے ہے،آپ نے دیگر مشائخ بالخصوص شیخ الاسلام زین الدین زکریا انصاری رحمۃ اللہ علیہ سے علم حدیث،فقہ اور تصوف وغیرہ حاصل کر کے اسناد اور تدریس و افتاء کی اجازات لیں،آپ امام الوقت، مسندالعصر، محدث زمانہ، مرشد گرامی، محبوب ِخاص و عام،بغیر لومۃ اللائم برائی سے منع کرنے والے اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ ” بهجة السامعين والناظرين بمولد سيد الاولين و الآخرين “اور” قصۃ المعراج الصغری([96])وغیرہ آپ کی تصنیف کردہ کتب ہیں۔([97])

۞شیخ الاسلام حضرت قاضی زین الدین ابو یحیٰ زکریا انصاری الازہری اور شیخُ الاسلام، عمدۃُ المحدثین، شہابُ الدّین، حافظ احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ کا ذکر گزرچکا ہے ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی پانچویں سند

علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور آپ کے استاذ حضرت شیخ جمال الدین ابو طاہر محمد بن ابراہیم کورانی مدنی کا تذکرہ گزرچکا ہے ۔

۞حضرت شیخ احمد بن محمد نخلی نقشبندی مکی شافعی ،امام الوقت ،علامہ دہر ، محدث کبیر،فقیہ شافعی،صوفی باصفا اور صاحب تصنیف تھے ۔آپ کی پیدائش 1044 ھ کو مکہ مکرمہ میں ہوئی اور یہیں 1130 ھ کو وصال فرمایا ،تدفین جنت المعلیٰ میں ہوئی ۔آپ نے علمائے عصر سے علوم اسلامیہ حاصل کر کے مسجد حرام میں درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ، آپ حضرت خواجہ سید شمس الدین امیر کُلال سوخاری بخاری([98]) کے مرید و خلیفہ ہیں ۔آپ نے اپنی اسناد و مرویات کو کتاب ”ثبت النخلی([99]) میں تحریر فرمایا ہے جو طبع شدہ ہے۔ ([100])

۞حضرت شیخ ابو العزائم سلطان بن احمد سلامہ مزّاحی مصری ازہری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 985 ھ مصر میں ہوئی اور یہیں 17 جمادی الآخر1075 ھ میں وصال فرمایا، تدفین مجاورین قبرستان قاہرہ میں ہوئی،آپ نے علمائے عصر سے حفظ قرآن و قراٰت،حدیث و فقہ و تصوف اور دیگر علوم حاصل کر کے 1008 ھ میں فارغ التحصیل ہوئے اور جامعۃ الازہر میں تدرس کرنے لگے، آپ امام الائمہ، بحر العلوم، استاذ الفقہاء و القراء،محدث وقت،علامہ زمانہ ، نابغہ عصر،زہد و تقویٰ کے پیکر،مرجع خاص و عام، عابد و زاہد اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ ([101])

۞شیخ الاسلام،ناصر الملت و الدین حضرت امام شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 939 ھ اور وفات 1032 ھ میں ہوئی، آپ نے مدرسہ باسطیہ مصر میں داخلہ لے کر علم دین حاصل کیا،جید علمائے مصر سے استفادہ کر کے محدث و فقیہ بننے کی سعادت پائی،حدیث و فقہ میں آپ کی کئی تصانیف ہیں،ان میں سے ” فتح الغفور بشرح منظومۃ القبور )[102]( مشہور ہے۔ ([103])

۞ حضرت شیخ شمس الدین محمد صفوی مقدسی شافعی،شیخ الاسلام زکریا انصاری کے شاگرد ہیں ،جب یہ جامع الحاکم (شمالی قاہرہ،مصر)میں تشریف لائے تو امام شہاب الدین احمد بن خلیل سبکی شافعی نے ان سے استفادہ کیا اور اسناد حاصل کیں ۔ ([104])



[1]...قبلۂ عالم، تاجدارِ گولڑہ، حضرت علامہ پیر سیّد مہر علی شاہ گیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1275 ھ مطابق 1859ء میں گولڑہ شریف (اسلام آباد، پنجاب) پاکستان میں ہوئی اور 29 صفر 1356 ھ مطا بق 11 مئی 1937 ء کو وصال فرمایا، آپ کا مزار گولڑہ شریف میں زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ آپ جید عالمِ دین، مرجعِ علما، شیخِ طریقت، کئی کتب کے مصنف، مجاہدِ اسلام، صاحبِ دیوان شاعر اور عظیم و مؤثر شخصیت کے مالک تھے۔فرقۂ مرزائیہ کی بیخ کنی میں آپ کا کردار مثالی ہے۔ ( مہرِ منیر، ص61، 335، فیضانِ پیر مہر علی شاہ، ص4، 32)

[2]...استاذُ العلما و المحدثین، مولانا وصی احمد محدث سورتی رحمۃ اللہ علیہ مُحدِّثِ کبیر، عالمِ باعمل، مفتی اسلام، بانیِ مدرسۃُ الحدیث پیلی بھیت اور علامہ فضل حق گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے ، آپ کا شمار اکابر علما اہل سنت میں ہوتا ہے،تصانیف میں جامع الشواہد، حاشیہ شرح معانی الآثار اور حاشیہ منیۃُ المصلی (التَعْلِیْقُ المُجَلّی) مشہور ہیں۔ ولادت 1286 ھ مطابق 1869 ء میں راندھیر سُورت ہند میں ہوئی اور 8 جمادی الاولیٰ 1334 ھ مطابق 12 ، اپریل 1916 ء میں پیلی بھیت (یوپی،ہند) میں وصال فرمایا۔ مزار مبارک یہیں بیلوں والی مسجد سے متصل قبرستان میں ہے۔محدثِ سورتی سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کے گہرے دوست بلکہ جانثار تھے۔ ( تذکرۂ محدث سورتی، ص،180،177،111،65،44)

[3]...علامہ قاری عبد الرحمن انصاری محدث پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1227ھ مطابق 1812ء اور وفات 5 ربیع الآخر1314ھ مطابق 13 ستمبر 1896 ء کو پانی پت (ریاست ہریانہ ، ہند)میں ہوئی ،آپ عالم دین،تلمیذ و مرید و خلیفہ شاہ اسحاق دہلوی، استاذ القراء و العلماء اور مصنفِ کتب تھے ۔(اساتذۂ امیرِملّت،ص،61تا68)

[4] ... رسالہ عاجلہ نافعہ سراج الہند علامہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی فن حدیث پر فارسی تصنیف ہے جس میں آپ نے اپنی اسناد و اجازات کو بھی ذکر فرمایا ہے ،اسکے 26 صفحات ہیں ، نیٹ پر فارسی نسخہ اور اس کا اردو ترجمہ موجود ہے ۔

[5] ...انموذج العلوم ملا جلال الدین دوانی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے جس میں انھوں نے کئی علوم مثلا اصول حدیث و فقہ،اصول الدین ،طب،تفسیر،ہندسہ،ہئیت ،منطق اورالارثماطیقی پر لکھا ہے ، اسے مجمع البحوث الاسلامیہ مشہد ایران نے دیگر دو رسائل(تفسیر سورہ کافرون،شواکل الحور مع رسالہ ھیاکل النور) کے ساتھ شائع کیا ہے ، اس کے 160صفحات ہیں ،انموذج العلوم 265 تا 324 صفحات پر ہے۔

[6] ...تفسیر میزان الادیان صفحہ 72 پر شیخ احمد شنادی لکھا ہے جو کہ کاتب کی غلطی معلوم ہوتا ہے ، درست نام شیخ احمد شناوی ہے ۔اس لیے اسے درست کردیا ہے ۔

[7]...شیخ احمد شناوی کے والد شیخ عبد القدوس شناوی نہیں بلکہ ان کے والد شیخ علی بن احمد بن عبد القدوس شناوی ہیں یعنی شیخ عبد القدوس شناوی آپ کے والد کے دادا ہیں ۔مزید تفصیل آگے موجود ہے۔

[8]...تفسیر میزان الادیان ،1/ 71تا73، رسالہ عجالہ نافعہ (فارسی) ، فصل دوم ،17 ۔

[9]...امام المحدثین نے دارُ العُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور کو 1924ء میں مسجد وزیر خاں اندرون دہلی گیٹ میں شروع فرمایا ،پھر یہ جامع مسجد حنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ منتقل کردیا گیا ،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے آپ کے صاحبزادے مفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابوالبرکات سید احمد رضوی صاحب نے اس کی وسیع و عریض عمارت بیرون بھاٹی گیٹ گنج بخش روڈ پر بنائی ،جو اب بھی قائم ہے ۔

[10] ...فتاویٰ دیداریہ کے مرتب مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ہیں ، اس میں 344فتاویٰ ہیں ، 87فتاویٰ کے علاوہ تمام فتاویٰ مفتی سید دیدار علی شاہ صاحب کے تحریر کردہ ہیں، مکتبۃ العصر کریالہ جی ٹی روڈ گجرات پاکستان نے 2005 ء کو اسے بہت خوبصورت کاغذ پر شائع کیا ہے ، جن کے کل صفحات 864 ہیں ۔

[11]... فتاویٰ دیداریہ، ص2،ہفتہ وار اخبار الفقیہ ، 21تا28،اکتوبر1935ء، ص23

[12]...حدائقِ حنفیہ،ص،510۔صحیح البخاری مع الحواشی النافعۃ،مقدمہ،1/37

[13]...حیات شاہ اسحاق محدث دہلوی،18،33،77

[14]...آپ کی یہ پانچوں تصانیف فارسی میں ہیں ، تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی ،اس کا موضوع رد رفض ہے ،تفسیر عزیزی کا نام تفسیر فتح العزیز ہے ،جو چار جلدوں پر مشتمل ہے ،بستان المحدثین میں محدثین کے مختصر حالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عجالہ نافعہ فن حدیث پر ہے جس میں آپ نے اپنی اسناد و اجازت کو بھی ذکر فرمایا ہے ،اسکے 26صفحات ہیں ۔

[15]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[16]... ” القول الجلی فی ذکر آثار الولی “ حضرت علامہ شاہ عاشق پھلتی کی فارسی تصنیف ہے جس میں انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات زندگی ،ملفوظات ،مکشوفات اور کرامات کو جمع فرمایا ہے ،مولانا حافظ تقی انور علوی نے اسے اردو قالب میں منتقل کیا ہے،اس ترجمے کے کل صفحات 656 ہیں،اِسے مسلم کتابوی لاہور نے جون 1999ء میں شائع کیا ہے ۔

[17]...القول الجلی فی ذکر آثار الولی،80،64،653

[18]...القول الجلی فی ذکر آثار الولی،598تا608،شاہ ولی اللہ اور ان کے احباب،ص18

[19]...ان چارکتب فتح الرحمن فی ترجمۃ القرآن ،الفوز الکبیر فی اصول التفسیر،مؤطا امام مالک کی دو شروحات المصفیٰ ،المسوّی ، کا موضوع نام سے واضح ہے ،آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اور مصلحتوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ،اس میں شخصی اور اجتماعی مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے ،کتاب ازالۃ الخفاء ردِ رفض پر ہے ،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائد و معمولاتِ اہل سنت پر کار بند تھے ، آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسناد و اجازات اور آپ کے مشائخ کے تذکرے پر مشتمل ہیں ۔

[20]...الفوز الکبیر،7،8،شاہ ولی اللہ محدث کے عرب مشائخ ،23

[21]...انفانس العارفین ،21،22،198

[22]... علامہ میر محمد زاہد ہروی کی یہ تینوں کتب شرح مواقف امورعامہ ،حاشیہ شرح تہذیب علامہ دوانی،حاشیہ رسالہ تصور و تصدیق از علامہ قطب الدین رازی ” حواشی ثلاثہ “کہلاتی ہیں ، عرصہ دراز سے ہند کے عربی مدارس میں یہ کتب نصاب کا حصہ ہیں ۔

[23]...حدائق حنفیہ ،448،تذکرہ علمائے ہند ،366،367

[24]...نزہۃ الخواطر،5/384،فقہائے ہند،جلدچہارم،467

[25] ...علامہ یوسف کوسج قرباغی رحمۃ اللہ علیہ نے جو کتب تصنیف کیں وہ یہ ہیں : تتمۃ الحواشی فی ازالۃ الغواشی ، حاشیۃ قراباغی علی اثبات واجب، حاشیۃ القرباغی على شرح عقائد ملا جلال، ہشت بہشت ‏فی معرفۃ النفس، شرح رسالۃ اثبات الواجب اور شرح الرسالۃ الحنفیۃ لمحمد الحنفی ۔

[26] ...معجم المؤلفین،4/181،رقم : ،18526،ہدایۃ العارفین ،6/566

[27] ... حاشیہ شرح مختصر الاصول اور حاشیہ شرح مختصرابن حاجب دونوں عربی میں ہیں ،ان کے مخطوطہ ایران کے کتب خانہ مجلس شوریٰ اسلامی میں محفوظ ہیں اول الذکر کا نمبر IR11353 اور ثانی الذکر کا نمبر IR28216ہے ۔

[28]...ھدیۃ العارفین مع کشف الظنون،5/262،اعلام الزرکلی،2/167۔ان کے بارے میں لکھا ہے کہ دہلی میں بھی رہے ۔

[29] ... حضرت شاہ رفیع الدین محدث اکبرآبادی کا تعلق شیرازسے تھا علم دین دیگرعلماکے علاوہ علامہ محقق جلدل الدین دوانی سے حاصل کیا ،پھر حج کے لیے حجازمقدس گئے اوروہاں علامہ شمس الدین محمد سخاوی کی صحبت پائی ،پھرہندآئے اورآگرہ(اکبرآباد،یوپی ،ہند)میں سکونت اختیارکی ،آپ کا وصال 954ھ کو آگرہ میں ہوا،آپ ہندکے بڑے علماسے تھے ۔(نزہۃ الخواطر ، 4/ 104 )

[30] ...ملاجمال الدین محمودشیرازی کی تصنیف کردہ کتب میں حاشیہ اثبات الواجب جدید، حاشیۃ القدیمۃ ،شرح المطالع اورشرح التجريد ہیں ۔

[31]... ثلاث رسائل ملاجلال الدین دوانی ،مقدمہ ص23،نزہۃ الخواطر،4/71

[32] ... ملاجلال الدین دوانی کے یہ چاروں رسائل انموذج العلوم، تفسير سورة الكافرون ،شواکل الحورا ورشرح ہياكل النور سهروردی کو مجمع البحوث الاسلامیہ مشہدایران نے اکٹھا 1411ھ میں شائع کیاہے اس کے 340صفحات ہیں ۔ ان رسائل میں انھوں نے کئی علوم ،تفسیرقرآن ،حدیث واصول حدیث، فقہ واصول فقہ ،اصول الدین ،طب،تفسیر،ہندسہ،ہئیت ،منطق اورالارثماطیقی پرلکھا ہے ۔

[33] ... لوامع‌الاشراق فی مکارم الاخلاق المعروف اخلاق جلالی علامہ دوانی کی شہرت یافتہ کتاب ہے یہ فارسی ادب کا شاہکارہے ،اخلاق حسنہ پر مشتمل اس کتاب کوتین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے: (1)تہذیب الاخلاق(2)تدبیر منزل (3)تدبیر شہر اور رسوم بادشاہی ،اسے 1891ھ کو 354 صفحات پر لکھنؤ سے شائع کیا گیا ہے ،انٹرنیٹ پر یہ کتاب موجودہے ۔

[34]...اعلام الزرکلی ،6/32، البدر الطالع 2/ 130، الضوء اللامع لاہل القرن التاسع: 7/ 133

[35]...امام القراء و المحدثین،شمس الدین ابو الخیر محمد بن محمد بن علی بن یوسف جزری 25 رمضان 751 ھ کو دمشق میں پیدا ہوئے، وفات5 ربیع الاول 833 ھ کو شیراز میں ہوئی اور اپنے تعمیر کردہ مدرسہ میں دفن کیے گئے،کئی شہروں میں تحصیل علم کیا ، 793 ھ میں دمشق کے قاضی مقرر ہوئے،انہی دنوں میں آپ نے دارالقرآن دمشق کی بنیاد رکھی، 798 ھ کے بعد آپ نے ہرات ، خراسان ،اصفہان کے شہروں میں جاکر درس و تدریس فرمائی، آپ علم تجوید کے امام،باعمل و متقی عالم دین،مفتی اسلام ،مصنف کتب کثیرہ اور مؤثر شخصیت کے مالک تھے۔ کتابوں میں حصن و حصین اور کتاب النشر آپ کی پہچان ہیں۔ ( شذرات الذھب، 7/336، الضوء اللامع لاہل القرن التاسع للسخاوی، 9/255، الاعلام للزرکلی، 7/45، النشر فی القراءت العشر، مقدمۃ الکتاب )

[36] ...صاحب ِ نحو میر،سید المحققین میر سید شریف علی بن محمد حنفی جُرجانی کی ولادت 740 ھ جرجان( صوبہ گلستان) ایران میں ہوئی۔آپ متکلم، منطقی، حکیم، صوفی، مترجم، ادیب، شاعر، مفسر،مدرس، مناظر اور شارح و حاشیہ نویس بزرگ تھے۔ آپ نے6 ربیع الآخر 816 ھ کو وصال فرمایا ،مزار مبارک شیراز (صوبہ فارس) ایران میں مرجعِ خلائق ہے۔ (ظفر الامانی فی مختصر الجرجانی ، ص12تا15 )

[37] ...ثلاث رسائل ملاجلال الدین دوانی ،انموذج العلوم،ص275

[38] ... الضوء اللامع لاہل القرن التاسع،حرف العین المھملہ،4/180،181

[39] ...الضوء اللامع لاہل القرن التاسع،حرف العین المھملہ،5/262

[40] ... فتح الباری شرح صحیح البخاری ،علامہ ابن حجرکی بہترین کتاب ہے ،اسے قبولیت عامہ حاصل ہے، اس سے بے شمار لوگوں نے استفادہ کیا ہے ،علمانے اسے بارے میں لکھا کہ یہ ایسی کتاب ہے کہ اس کی مثل کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ،مختلف مطباع نے اسے شائع کیا ہے،دار طیبہ ریاض کی اشاعت میں اس کی 15جلدیں ہیں ۔

[41] ... بستان المحدثین، ص302 ، الروایات التفسیریہ فی فتح الباری، 1/39، 65

[42] ...محدث جلیل حضرت امام سالم بن عبداللہ بصری شافعی مکی رحمۃ اللہ علیہ مکہ شریف کے جلیل القدرمحدث ،جید عالم دین ،جود و سخا کے مالک ،مسند الحجاز،مرجع علم و علما اور وسیع و عریض لائبریری کے مالک تھے ،آپ نے اپنی اسناد واجازات کو ’’الامدادبمعرفۃ علوالاسناد‘‘کے نام سے جمع فرمایا ،آپ کا وصال 2 محرم 1160ھ کو وصال فرمایا،جنۃ المعلی میں دفن کئے گئے ۔( مختصر نشر النور، ص202 ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ، 48)

[43] ...شمس الملت حضرت خواجہ مرزا مظہر جان جاناں علوی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 11 رمضان 1110 ھ میں ہوئی ،آپ دینی و دنیاوی علوم و فنون میں ماہر ،فارسی و اردو کے بہترین شاعر ، حسن ظاہری و باطنی سے مالا مال،پابند شریعت و سنت ، مذہباً حنفی اور مشرباً نقشبندی و شیخ طریقت تھے،ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے اور 10 محرم 1195 ھ کو جام شہادت نوش فرمایا ، مزار خانقاہ شاہ ابو الخیر دہلی میں ہے،چھ کتب میں دیوان مظہر (فارسی) بھی ہے ۔ (مرزا جان جاناں کے خطوط ،ص11تا20،دہلی کے بائیس خواجہ،236)

[44] ...نقشبندی بزرگ حضرت علامہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی کی ولادت 1153ھ کو موضع بھدوانی ضلع بہرائچ میں ہوئی اور 5 صفر المظفر 1218ھ بہرائچ میں نمازکی حالت میں وصال فرمایا،آپ جید عالم دین ،شیخ طریقت اور مصنف کتب تھے ۔بہرائچ اور لکھنؤ میں درس و تدریس اور رشد و ہدایت میں مصروف رہے ،دو درجن کتب میں سے ”معمولات مظہریہ ،بشارات مظہریہ اور رسالہ در احوال خود“ بھی ہیں ۔(تاریخ مشائخ نقشبندیہ از علامہ نفیس احمد مصباحی،ص696تا722)

[45] ... مؤید الدین حضرتِ سیّدنا خواجہ محمد باقی باللہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 971 ہجری کو کابَل(افغانستان) میں ہوئی۔ولیِ کامل اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ 25 جُمادَی الاُخریٰ 1012 ہجری کو وِصال فرمایا، مَزار مُبارک بلند دروازہ ، قُطب روڈ ، دہلی (ہند) میں ہے۔ (دہلی کے بائیس خواجہ، ص 182تا188)

[46] ...حدائق حنفیہ ،458،تذکرہ علمائے ہند ،358،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،48)

[47]...عروۃ الوثقیٰ،مجد الدین حضرت خواجہ محمد معصوم سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1007 ھ کو سر ہندشریف (مشرقی پنجاب،ہند)میں ہوئی اور یہیں 9 ربیع الاول 1079 ھ کو وفات پائی ،آپ جید عالم دین ،شیخ طریقت ،والد گرامی حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے سچے جانشین اور کثیر الفیض بزرگ تھے ۔ ( تاریخ مشائخ نقشبند،401تا 418)

[48] ... حضرت علامہ شیخ عبد الاحد وحدت سرہندی کا دیوان شعر( فارسی)حقائق و معارف کا مجموعہ ہے جبکہ الجنات الثمانیہ آپ کے سات عربی رسائل کے مجموعے کا حصہ ہے ، یہ رسالہ امام ربانی مجدد الف ثانی ، شیخ احمد سرہندی کی مختصر حالات زندگی پر مشتمل ہے ،علامہ محمد بدر السلام صدیقی صاحب (زیب آستانہ عالیہ کالادے شریف ، جہلم )نے اس کے مخطوطے پر کام کر کے 91 صفحات پر طبع کروایا ہے ،اس کا ترجمہ استاذ العلماء مفتی علیم الدین نقشبندی صاحب نے فرمایا ہے جو 85 صفحات پر محیط ہے ۔

[49] ...لطائف المدینہ ،29تا65

[50] ...حضرت شیخ عبد الاحد وحدت سرہندی نے اپنے والد خواجہ محمد سعید مجددی کے احوال پر عربی میں کتاب ’’لطائف المدینہ‘‘تحریر فرمائی ،جسے پروفیسر محمد اقبال مجددی نے اپنی تحقیق و تعلیق و ترجمہ کے ساتھ حوزہ نقشبندیہ لاہور سے 2004 ھ کو 196 صفحات پر شائع کروایا ہےشروع میں 92 صفحات پر ترجمہ ہے اور بقیہ صفحات پر اس کا مخطوطہ ہے ۔

[51] ...روضۃ القیومیہ ،1/463تا470،لطائف المدینہ ،12

[52] ...مکتوبات امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی کی عالمگیرشہرت رکھنے والی کتاب ہے جو تین دفاتر (حصوں) (1) دار المعرفت (2) نورا لخلائق (3)ثالث پر مشتمل ہے ،ان میں کل 519 مکتوبات ہیں ۔یہ تصوف ، رشد و ہدایت ،علم و معلومات کا گنجینہ ہے ،کئی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوچکے ہیں اور کئی مقامات پر اس سے درس کا سلسلہ ہے ۔

[53] ...تذکرۂ مجدد الف ثانی،ص 2 تا39۔

[54] ...تذکرہ علمائے ہند،465،منتخب التواریخ مترجم،639،نزہۃ الخواطر، جلد 5ص 438 ، فقہائے ہند، جلد چہارم،496۔

56 ...علامہ ابن حجر احمد ہیتمی کی کتاب الصواعق المحرقہ صحابہ و اہل بیت اطہار کے فضائل پر مشتمل ہے ،اس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے،فتاویٰ حدیثیہ ،آپ کے فتاوٰی کا مجموعہ ہے، احکام کے ساتھ اس میں کئی دیگر معلومات بھی ہیں ،تحفۃ الاخبار فی مولد المختار کا موضوع کتاب کے نام سے واضح ہے ،تحفۃ المحتاج بشرح المنہاج ، فقہ شافعی کی بنیادی کتب ( امہات الکتب) میں سے ہے ،یہ امام نووی کی کتاب منہاج الطالبین کی شرح ہے ،اسے شوافع میں مقبولیت حاصل ہے ،فتاویٰ لکھتے وقت اس پر اعتمادکیا جاتاہے ۔

[56] ...الاعلام للزركلی، ج1 ص234،الكواكب السائرة باعيان المائۃ العاشرة، نجم الدين الغزی، ج3 ص101،فتح الالہ فی شرح المشکاۃ،ترجمہ الشارح المحقق ابن حجر الہیتمی،1/31

[57] ...الدقائق المحکمہ قرآت کی مشہور کتاب مقدمہ جزریہ کی بہترین شرح ہے، اسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے ،مثلا مکتبۃ ضیاء الشام دمشق نے اسے 248صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[58] ...تحفۃ الباری کا دوسرا نام منحۃ الباری ہے ،یہ بخاری شریف کی بہترین شرح ہے ،دار الکتب العلمیہ بیروت نے اسے 7 جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[59] ... اسنی المطالب فقہ شافعی کی کتاب ہے ،اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس نے اسے پڑھا نہیں وہ شافعی ہی نہیں ،دار الکتب العلمیہ بیروت نے اسے 9جلدوں میں شائع کیا ہے۔

[60] ...شذرات الذھب، 8/174تا 176، النور السافر،ص172تا177، الاعلام للزرکلی، 3/ 46 ۔

[61] ...مُجدّدِ وقت حضرت سیّد محمد بن عبد الرسول بَرْزَنْجی مَدَنی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شہرزُور (صوبہ سلیمانیہ، عراق) 1040 ھ میں ہوئی اور یکم محرم 1103 ھ کو مدینۂ منوّرہ میں وصال فرمایا اور جنّتُ البقیع میں دفن ہوئے۔آپ حافظِ قراٰن، جامعِ معقول و منقول، علامۂ حجاز، مفتیِ شافعیہ، 90 کتب کے مصنّف، ولیِ کامل اور مدینہ شریف کے خاندانِ بَرْزَنجی کے جدِّ امجد ہیں۔ (الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص13، تاریخ الدولۃ المکیۃ ، ص59

[62] ... عالمِ کبیر، مسند العصر حضرت سیّدُنا شیخ ابو الاسرار حسن بن علی عُجَیْمی حنفی مکی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10 ربیع الاول 1049 ھ مکۂ مکرمہ میں ہوئی۔ 3شوَّالُ المکرَّم 1113 ھ کو وصال طائف (عرب شریف) میں فرمایا، تدفین احاطۂ مزار حضرت سیّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میں ہوئی۔ آپ عالم اسلام کے سو سے زائد علما و صوفیا کے شاگرد، حافظ قران، محدثِ شہیر،فقیہ حنفی ، صوفیِ کامل،مسندِ حجاز،استاذ الاساتذہ، اور 60 سے زائد کتب کے مصنف تھے،آپ نے طویل عرصہ مسجد حرم،مسجد نبوی اور مسجد عبد اللہ بن عباس (طائف)میں تدریس کی خدمات سر انجام دیں۔ (مختصر نشرالنور ،167 تا173 ،مکہ مکرمہ کے عجیمی علماء،ص6تا54

[63] ...اعلام الزرکلی،304/5، سلک الدرر،24/4۔

[64] ...کتاب الامم لایقاظ الھمم کو مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآباد دکن نے 1328 ھ میں دیگر 4 ، اسناد و مرویات کے رسائل کے ساتھ شائع کیا ہے ، الامم لایقاظ الھمم کے کل صفحات 134 ہیں ۔

[65] ...سلک الدرر فی اعیان القرن الثانی عشر، 1/9، اعلام للزکلی، 1/35، البدر الطالع بمحاسن من بعد قرن السابع، 1/11 ۔

[66] ... ضیاء الساری فی مسالک ابواب البخاری، 18 جلدوں پر مشتمل صحیح بخاری کی اہم شرح ہے جو بطور حوالہ استعمال ہوتی ہے ،اسے دار النوادر دمشق نے شائع کیا ہے۔

[67] ... مختصر نشر النور، ص 290 تا 292 ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،18 تا 20 ۔

[68] ... جمع الفوائد من جامع الاصول و مجمع الزوائد،احادیث مبارکہ کا بہترین مجموعہ ہے جس میں 15 کتب احادیث ،بخاری ،مسلم ،ترمذی ،نسانی ،ابوداؤد،ابن ماجہ ،مؤطا امام مالک،معجم طبرانی کبیر، اوسط ، صغیر،مسند ابی یعلی،مسند بزار،مسنداحمد،سنن دارمی اور زوائد زرین کی مرویات کو جمع کردیا گیا ہے ۔

[69] ... صلۃ الخلف بموصول السلف،7تا12، خلاصۃ الاثر 4/204، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،ص37، فہرس الفہارس،1/425۔

[70] ... صاحبِ در ِمختار، عمدۃ المتاخرین حضرتِ سیّدنا علّامہ مفتی محمد علاؤ الدین حصکفی دمشقی حنفی کی ولادت 1025 ھ دمشق شام میں ہوئی اور وصال 10 شوال 1088 ھ کو فرمایا، مزار بابِ الصغیر (دمشق)شام میں ہے۔آپ جامع ِمعقولات و منقولات اور عظیم فقیہ تھے۔ اپنی کتاب ’’درمختار شرح تنویر الابصار‘‘کی وجہ سے مشہور ہیں۔ (جد الممتار، 1/245، 242، 79)

[71] ... الدرۃ الثمینۃ فیمالزائرالنبی الی المدینۃ،فضائل مدینہ پر مشتمل کتاب ہے جسے دارالکتب العلمیہ بیروت نے شائع کیاہے ۔

[72] ...الامم لایقاظ الھمم ،125تا127،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ،8تا10،42۔

[73]...حضرت ابو المواہب احمد شناوی کے مرشد و سسر حضرت صغبت اللہ حسینی بروجی (وفات1015ھ مطابق1616ء)نے اپنے دادا مرشد حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری کی کتاب جواہر خمسہ(فارسی) کا عربی ترجمہ الجواھر الخمیس کیا جس پر علامہ شناوی نے حاشیہ بنام تجلیۃ البصائر حاشیۃ على كتاب الجواهر تحریر فرمایا۔(شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ ،8،تاریخ الدولۃ المکیہ،27،حضرت شاہ محمدغوث گوالیاری،143)

[74] ...الامم لایقاظ الھمم ،127،128،معجم المؤلفین ،1/205،رقم1519 ۔

[75] ... شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے عرب مشائخ ،8

[76] ...علامہ عبدالوہاب شعرانی کی کتب تنبیہ المغترین ،اَنوارُالقُدسیہ کا موضوع تصوف اور اصلاح نفس ہے،ان دونوں کا اردو ترجمہ ہوچکا ہے ،مکتبۃ اعلیٰ حضرت لاہور نے شیخ الحدیث مفتی محمد صدیق ہزاروی صاحب سے ترجمہ کراوکر شائع کیا ہے ، طبقات امام شعرانی میں علما و اولیائے کرام کے حالات تحریر کیے گئے ہیں ،اردو میں اس کا ترجمہ جامع معقول و منقول حضرت علامہ سیدمحفوظ الحق شاہ قادری رحمۃ اللہ علیہ نے بنام برکات روحانی کیا ہے جسے نوریہ رضویہ پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا ہے ۔

[77] ...معجم المؤلفین،/2339۔

[78] ...تفسیر البکری کا مکمل نام تسہیل السبیل فی معانی التنزيل ہے ،اسے دار الکتب العلمیہ بیروت نے شائع کیا ہے ۔

[79] ...الاعلام للزرکلی، 7/57، شذرات الذهب، 8/345، الکواکب السائرۃ باعیان المأۃ العاشرۃ،2 /194۔

[80] ...الاعلام للزرکلی، 6/194، الضوء اللامع لاھل القرن التاسع للسخاوی،7/285، البدر الطالع، 2/182۔

[81] ... نہایۃ المحتاج شرح المنہاج فقہ شافعی کی بنیادی کتب (امہات الکتب )میں سے ہے ،یہ امام یحیی نووی کی کتاب منهاج الطالبين وعمدة المفتين کی شرح ہے، دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے چھ جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[82] ...معجم المؤلفین،3/61، الاعلام للزرکلی، 6/7۔

[83] ...فتح الجواد بشرح منظومۃ ابن العماد کا عنوان اصول فقہ ہے اسے کئی مطابع نے شائع کیا ہے،دار البشائر اسلامیہ بیروت کا مطبوع میرے پیش نظرہے اس کے 127 صفحات ہیں اور اس پر تحقیق ڈاکٹر عبد الرؤف نے کی ہے ۔ غایۃ المأمول فی شرح ورقات الاصول کا موضوع بھی اصول فقہ ہے ۔یہ امام الحرمين ابو المعالی عبد الملك الجُوَيْنی شافعی کی بہترین تصنیف ورقات الاصول کی شرح ہے ۔اسے مؤسسہ الرسالہ ناشرون بیروت نے 405صفحات پر شائع کیا ہے ۔ جبکہ فتح الرحمن بشرح زبدابن رسلان فقہ کے موضوع پر ہے اسے دار المنہاج بیروت نے 1088 صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[84] ...فتاویٰ رملی امام شہاب الدین رملی کے فتاویٰ کا مجموعہ جسے آپ کے بیٹے شافعی صغیر امام شمسُ الدّین رمْلی نے جمع کیا ،یہ فقہ شافعی کی بنیادی کتب(امہات الکتب )میں شمارکی جاتی ہے ۔

[85] ...الاعلام للزركلی، 1/120، الکواکب السائرۃ باعیان المأۃالعاشرۃ،2/120۔

[86] ...فہرس الفہارس ،2/734، درۃ الحجال فی اسماء الرجال مع الذیل، 3/99۔

[87] ...علامہ جار اللہ محمد ہاشمی مکی کی کتاب تحفۃ اللطائف کا مکمل نام تحفة اللطائف في فضائل الحبر ابن عباس ووج والطائف ہے ،یہ مقدمہ ،دو باب اور خاتمہ پر مشتمل ہے ،اس کے پہلے باب میں طائف کے فضائل ،نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے واقعاتِ طائف ہیں ،دوسرا باب تین فصلوں پر مشتمل ہے ،پہلی فصل میں فضائل حضرت عباس ،دوسری میں فضائل عبداللہ بن عباس اور تیسری فصل میں حضرت محمد بن حنفیہ کے فضائل بیان کیے گئے ہیں ،دار الکتب العلمیہ بیروت نے اسے 320صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[88] ...شذرات الذھب فی اخبار من ذھب، 8/355، فہرس الفہارس ،1/296، الاعلام للزرکلی، 6/209 ۔

[89] ...مختصر نشر النور ، 167 تا 173 ، مکہ مکرمہ کے عجیمی علما، ص 6 تا 54 ۔

[90] ... علامہ شيخ عيسى بن محمد الثعالبی الجزائری کی تصنیف كنز الرواة المجموع من درر المجاز و يواقيت المسموع زیور طباعت سے آراستہ ہوچکی ہے ،اس کا موضوع حدیث اوردیگرعلوم کی اسانیدہے ۔

[91]...الاعلام للزرکلی،5/108،مختصر نشر النور،383تا385، خلاصۃ الاثر فی اعيان القرن الحادی عشر،3/337۔

[92] ... علامہ شيخ عيسى بن محمد الثعالبی الجزائری کی تصنیف ثبت شمس الدين البابلی کا مکمل نام منتخب الاسانيد فی وصل المصنفات و الاجزاء و المسانيد ہے ،موضوع کے نام سے ظاہر ہے،اسے دار البشائر اسلامیہ بیروت نے 256 صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[93] ...الاعلام للزرکلی ،6/270،خلاصۃ الاثر،4/39 ،42۔

[94]...مختصر خلیل (مصنف،شیخ خلیل بن اسحاق جندی مالکی) فقہ مالکیہ کی بنیادی (امہات الکتب )سے ہے علامہ سالم نے اس کی بہترین شرح تيسير الملك الجليل تحریرفرمائی ،جس کا مکمل نام تيسير الملك الجليل لجمع الشروح و حواشی خليل فی الفقہ المالکی ہے،دار الکتب العلمیہ بیروت نے اسے چھ جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[95] ...الاعلام للزرکلی،3/72،خلاصۃ الاثر،1/446۔

[96] ...دونوں کا موضوع نام سے واضح ہے ۔

[97] ... شذرات الذھب، 8/474، الاعلام للزرکلی، 6/6، معجم المؤلفین، 3/83۔

[98] ... خواجۂ خواجگان حضرت سیّد شمسُ الدّین امیر کلال سوخاری رحمۃ اللہ القَوی قصبۂ سو خار (نزد بخارا ، ازبکستان) میں 676ھ میں پیدا ہوئے اور یہیں 15 جُمادَی الاُولٰی 772ھ کو وصال فرمایا۔ آپ حضرت بابا سماسی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کے مرید اور بانیِ سلسلۂ نقشبندیہ حضرت خواجہ بہاؤ الدین محمد نقشبند رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے پیر و مرشد اور صاحبِ کرامت ولیُّ اللہ ہیں۔ (تذکرۃ المشائخ، ص32 ، 33، تذکرہ نقشبندیہ خیریہ، ص285،279)

[99] ...حضرت شیخ احمد نخلی کی کتاب بثبت نخلی کا نام بغیۃ الطالبين لبيان المشائخ المحققين المعتمدين ہے ،اسے مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ حیدرآبادکن نے شائع کیا ہے ،اس کے کل 84صفحات ہیں ۔

[101] ...امتاَعُ الفُضَلاء بتَراجِم القرّاء،2/135تا139، خلاصۃ الاثر فی اعيان القرن الحادی العشر، 2/210۔

[102] ...امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے عالم برزخ کے بارے میں رسالہ منظومۃ القبور لکھا، علامہ احمد بن خلیل سبکی رحمہ اللہ علیہ نے اس کی شرح فتح الغفور کے نام سے تحریر فرمائی ، دار النوادر ، بیروت اور دار المنہاج جدہ عرب نے اسے شائع کیا ہے ۔

[103] ...خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر، 1/185۔

[104] ...خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر،1/185 ۔


مقالے کا عنوان :امام المحدثین کی اسانید مع تعارف شیوخ اسانید،قسط :01

مقالے کی PDF کے لئے ڈاؤن لوڈ پر کلک کریں Download PDF

اسلام میں اسانید کی اہمیت

دین اسلام میں علم حاصل کرنے کی بھرپورترغیب ہے اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب،دانائے غیوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنے علم دین میں اضافے کی دعاکرنے کاحکم ارشادفرمایا ([1]) نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی علم حاصل کرنے کی اہمیت اجاگرکرتے ہوئے فرمایا : طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَۃ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ۔یعنی علم حاصل کرنا ہرمسلمان پرفرض ہے۔([2]) یہی وجہ ہے مسلمانوں کی ایک تعداد علم حاصل کرنے کی جستجومیں رہتی ہے،صحابہ کرام ،اہل بیت اطہاراورہمارے اسلاف نے طلب علم کے لیے نہ صرف اپنے وطن میں کوشش کی بلکہ دیگرممالک وشہروں میں جاکر علم حاصل کیا،انہیں جب معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مقام پر فلاں فن کے عالم موجودہیں وہ سفرکی صعوبتیں برادشت کرتے ہوئے وہاں پہنچ جاتے،ان کی صحبت میں رہ کر خوب استفادہ کرتے اوران سے اس فن کی زبانی یا تحریری سند واجازت حاصل کرتے،کئی بزرگوں نے ان کو اجازات ، برنامج، ثبت، فہرست، مرویات، مسلسلات، مشیخات اورمعاجم کی صورت میں جمع فرمایا۔

اسلام اوراسانید : اسلام میں سندکی خاص اہمیت اورمقام ومرتبہ ہے، سند سے مراد امت کا صحابہ کرام اورصحابہ کرام کا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اورآپ کا اللہ پاک سے بلواسطہ یا بلاواسطہ دین حاصل کرنا ہے۔ سند مومن کا ہتھیار اور عالم کی سیڑھی ہے،چنانچہ حضرت سفیان ثوری)[3](رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: سند مؤمن کا ہتھیار ہے۔( ([4]حضرت عبداللہ بن مبارک)[5]( رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :اموردینیہ کو بغیراسنادکے طلب کرنے والے شخص کی مثال اُس شخص کی سی ہے جوبغیرسیڑھی کے چھت پر چڑھنا چاہتاہے۔(([6] امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم میں ’’ بَيَانِ اَنَّ الْاِسْنَادَ مِنَ الدِّينِ ‘‘ کے عنوان سے مستقل باب قائم کیا ہے،(([7] جس سےسند کی اہمیت واضح ہوتی ہے، احادیث وفقہ کے علاوہ دیگراسلامی علوم بھی اپنے کہنے والے کے ساتھ سند کے ذریعے قائم اور مربوط ہیں، اسی امتیازی خصوصیت کی بنیاد پر علومِ اسلامیہ کی استنادی حیثیت نہایت مضبوط ہے، اسنادکا یہ انداز صرف مسلمانوں کی خصوصیت ہے، جس سے اللہ پاک نے اس اُمت کو نوازا ہے، کسی اور امت کے ہاں اس کا تصور بھی نہیں۔ اسناد کی مذکورہ بالا اہمیت کے پیش نظر علامہ ابن حجر عسقلانی([8]) رحمۃ اللہ علیہ نے (سند قرآن وحدیث وفقہ) کا جاننا فرضِ کفایہ قرار دیا ہے۔([9]) امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ الوری رحمۃ اللہ علیہ سند کافائدہ یوں بیان فرماتے ہیں: مشہور کتابوں کی روایتوں کا ثبوت ہر (فقہی) مذہب کے ائمہ مجتہدین تک مثل ثبوت خبرمتواترہے، جو یقین فائدہ کا دیتی ہے۔([10]) مزیدتحریر فرماتے ہیں :کاتب الحروف کویہیں لازم ہواکہ اپنی سندفقہ وحدیث کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تک بلکہ جناب باری عزاسمہ تک لکھ کردکھادے اوریہ ثابت کردکھائے کہ ہرسنی حنفی عالم معتبرکی سند اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک برابر پہنچتی ہے۔([11])

اس کے بعد امام لمحدثین نے اپنی تمام اسنادکو تفصیلابیان فرمایاہے۔

امام المحدثین کی اسانید: امام المحدثین مفتی سید محمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ جیدعالم دین ،محدث وقت، مُسنِدالعصراوراستاذالعلما تھے ،آپ نے اکابرعلمائے اہل سنت سے خوب استفادہ کیا، عالی اسنادحاصل کیں اوراشاعت علوم وفنون میں مصروف ہوگئے، پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ کا شماربھی اکابرعلمائے اہل سنت میں ہونے لگا،آپ نے جن علما و محدثین سے عُلوم اوراسنادحاصل کیں ان کی تعداد آٹھ ہے،جن کے اسمائےگرامی (نام )یہ ہیں، استاذالقراءقاری قادرعلی رٹولوی ثم الوری، جامع علوم وفنون علامہ سلامت اللہ خان رامپوری،تاج المحدثین علامہ ارشادحسین رامپوری، استاذالمحدثین علامہ احمد علی سہارنپوری،شیخ المشائخ علامہ فضل حق گنج مرادآبادی،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان، علامہ عبدالغنی بہاری مہاجرمدنی اورتاج العلماعلامہ سیداولادرسول محمد میاں قادری مارہروی رحمۃ اللہ علیہم۔([12] )امام المحدثین نے اپنی کتاب تفسیرمیزان الادیان میں جن اسنادکا ذکر کیا، راقم سب سے پہلے آپ کی اسانیدقرآن وقرائت کا مختصرتعارف تحریر کرتاہے۔ 

امام المحدثین کی اسانیدِقرآن وقرأت

امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ صاحب کو پانچ علما وقراء سے قرآن و قرائت کی اسانیدحاصل ہیں، امام المحدثین کی پہلی قرآن کی سند 30،دوسری 27،تیسری28 اورچوتھی30واسطوں سے صاحبِ قرآن حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے، پانچویں سند کی مکمل معلومات نہ مل سکیں ،راقم نے آنے والے مضمون میں اولاًامام المحدثین کی تحریرکردہ سند اور اس کے بعد اس سندمیں ذکرکردہ قراء وعلما کا مختصرتعارف تحریرکیا ہے ۔

پہلی سند قرآن : قرآن مجید کی سند یہ ہے جو خاکسار(امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ )نے سید اولاد رسول محمد میاں قادری برکاتی مارہروی مدَّاللہُ ظِلَّهٗ سے حاصل کی تھی، محمد میاں صاحب سید اولاد رسول صاحب نے اجازت قرآن مجید حجۃ السلف والخلف حافظ حاجی سید شاہ ابو القاسم محمد اسماعیل حسن ملقب بشاہ جی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ انہوں نے اپنے برادر مکرم سید شاہ ابوالحسین احمد نوری سے۔ انہوں نے اپنے جد اکرم شاہ آل رسول احمدی قدس سرهٗ سے، انہوں نے مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی علیہ الرحمہ سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے تمام قرآن مجید مِنْ اَوِّلِہ اِلیٰ آخرِہٖ بروایت حفص جو عاصم سے روایت کرتے ہیں، پڑھا شیخ صالح اور ثقہ محمد فاضل سندھی سے 1154ھ میں۔ وہ فرماتے ہیں: میں نے اسی طرح سارا قرآن مجید پڑھا شیخ عبد الخالق شیخ القراء دہلوی سے خاص دہلی شہر میں۔ وہ فرماتے ہیں: کل قرآن میں نے ساتوں قرائتوں کے ساتھ پڑھا شیخ محمد بقری( [13])سے اور اسی طرح علامہ محمد بقری نے پڑھا شیخ القراء عبدالرحمن یمنی سے اور انہوں نے اسی طرح اپنے والد ماجد شیخ شحاذہ([14]) یمنی سے اور شیخ شحاذہ نے اسی طرح پڑھا شیخ ابو نصر طبلاوی سے اور علامہ طبلاوی نے اسی طرح پڑھا شیخ الاسلام زکریا سے۔ انہوں نے اسی طرح برہان الدین( [15])قلقیلی اور رضوان ابو نعیم عقبی سے اور ان دونوں نے سید نا ابوالخیر امام القراء والمحد ثین محمد بن محمد بن علی بن یوسف الجزری صاحب کتاب النشر([16])سے اور انہوں نے بہت سے مشائخ اور قاریوں سے، جن کا مفصل ذکر کتاب نشر میں کیا ہے مگر ان کا خاص طریق، جو تمام طریقوں سے ممتاز ہے، بہ تسلسل تلاوت اور قرائت اور ضبط کے ساتھ صاحب کتاب النشر تک یہ ہے۔ علامہ محمد بن محمد جوزی فرماتے ہیں: میں نے تمام قرآن مع کتاب التیسیر)[17]( کے پڑھا شیخ امام قاضی المسلمین ابوالعباس احمد بن امام ابو عبد الله حسین بن سلیمان بن فزارہ حنفی سے شہر دمشق میں۔ انہوں نے فرمایا میں نے تمام قرآن پڑھا اپنے والد ماجد سے۔ انہوں نے امام ابو محمد قاسم بن احمد موفق و رقی([18]) سے۔ انہوں نے فرمایا ، میں نے تمام قرآن مجید مع کتاب تیسیر کے بہت سے امام اور مشائخ اور قاریوں سے پڑھا ، جن کے اسماء گرامی یہ ہیں: ابوالعباس احمد بن علی بن یحییٰ بن عون الله الحصّار([19]) اور ابو عبد الله محمد بن سعید بن محمد المرادی اور ابو عبد الله محمد بن ایوب بن محمد بن نوح الغافقی، جو اندلسی ہیں، ان سب نے فرمایا کہ ہم سب نے مع کتاب التیسیر پڑھا تمام قرآن مجید امام علی ابوالحسین علی بن محمد بن ہذمل بلنسی سے۔ انہوں نے فرمایا ،میں نے مع کتاب التیسیر کے ابوداؤد سلیمان بن نجاح سے پڑھا۔ فرمایا انہوں نے، میں نے پڑھا مع کتاب التیسیر کے مؤلف تیسیر امام ابو عَمرودَانی([20]) سے۔ فرمایا انہوں نے، میں نے پڑھا میں نے کل قرآن بروایت حفص ابوالحسن طاہر بن غلبون ([21])مقری سے۔ فرمایا انہوں نے، پڑھا میں نے مع قرات سبعہ ابوالحسن علی بن محمد بن صالح ہاشمی قادری نابینا سے بصرہ میں۔ فرمایا میں نے پڑھا قرائت سبعہ کے ساتھ احمد بن سہل اشنانی سے۔ میں نے پڑھا فرمایا انہوں ، نے اسی طرح ابو محمد عبیداللہ ([22])بن الصباح سے۔ انہوں نے فرمایا میں نے پڑھا اسی طرح حفص سے۔ فرمایا انہوں نے، پڑھا میں نے اسی طرح امام عاصم سے اور عاصم رحمۃ اللہ نے پڑھا ابو عبدالرحمن عبداللہ بن حبیب سلمی اور زربن حبیش سے اور حضرت ابو عبدالرحمن نے پڑھا حضرت عثمان بن عفان اور حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضوان اللہ علیہم اجمعین سے۔ ان سب نے سرور عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور حضرت زار بن حبیش نے پڑھا فقط حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے اور ان دونوں حضرات نے سرور عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و صحبہ و ازواجہ وذرياتہ واولیاء امتہ وجمیع امتہ وسلم سے ہے ۔( [23])

پہلی سندقرآن کے قراء وشیوخ کا مختصرتعارف :

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ سند قرآن 30واسطوں سے رسول کریم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے، ذیل میں ان تمام قراء کا مختصرتعارف بیان کیا جاتاہے ،بعض سطحوں میں قراء ایک سے زیادہ بھی آئے ہیں ان کا بھی تعارف بھی بیان کردیا گیا ہےمگرانہیں نمبرشمارنہیں دیاگیا بلکہ اسٹارلگادیا گیا ہے :

۞امامُ الْمُحدِّثین حضرت مولانا سیِّد محمد دِیدار علی شاہ مَشْہدی نقشبندی قادِری مُحدِّث اَلْوَری رحمۃ اللہ علیہ، جَیِّد عالِم، اُستاذُالعُلَما، مفتیِ اسلام تھے۔ آپ اکابرین اہل سنّت سے تھے۔ 1273ھ مطابق 1856ھ کو اَلْوَر (راجِسْتھان، ہِند )میں پیدا ہوئے اور لاہور 22رجب المرجب 1354ھ بمطابق 20،اکتوبر1935ء کو (بروزپیر)نمازعصرکے سجدے میں وصال فرمایا،جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ لاہورسے متصل جگہ میں تدفین کی گئی۔ دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہور([24]) اور فتاویٰ دِیداریہ([25]) آپ کی یادگار ہیں۔( [26])

(1)تاج العلما، حضرت سَیِّد شاہ اولادِ رسول محمد میاں مارہروی رحمۃ اللہ علیہ حافظِ قراٰن، عالمِ باعمل، شیخِ طریقت اور صاحبِ تصنیف تھے، 1309ھ مطابق1891ء میں پیدا ہوئے اور 24 جُمادی الاُخریٰ 1375ھ مطابق 7فروری 1956ء کو مارہرہ شریف (ضلع ایٹہ یو پی) ہند میں وصال فرمایا،تصنیف کردہ 33 کتب و رسائل میں تاریخِ خاندانِ برکات( [27] )زیادہ مشہور ہے۔( [28])

(2)بقیۃ السلف ،شاہ جی حضرت سیدشاہ ابوالقاسم محمد اسماعیل حسن مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 2محرم 1272ھ کو آستانہ عالیہ مارہرہ شریف میں ہوئی،آپ حافظ قرآن، عالم دین اورشیخ طریقت تھے،سلسلہ عالیہ قادریہ کی خلافت دیگربزرگوں کے علاوہ حضرت شاہ سیّد ابوالْحُسَین احمد نُوری رحمۃ اللہ علیہم سے حاصل ہوئی،آپ نے سجادہ نشین ہونے کے بعد اپنے خاندان میں دینی تعلیم عام کرنے کی مہم شروع کی، خاندانی لائبریری اورتبرکات کی حفاظت کا اہتمام کیا،جسے بعد میں اپنے لائق وجانشین تاج العلماعلامہ سیدشاہ اولادرسول محمدمیاں قادری رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے کیا۔آپ کا وصال یکم صفر1347ھ کو مارہرہ شریف میں ہوا۔( [29])

(3)سِراجُ العَارِفِین حضرت میاں صاحب مولانا سیّدشاہ ابوالْحُسَین احمد نُوری رحمۃ اللہ علیہ 19شوال1255ھ کو مارہرہ شریف میں پیدا ہوئے اور یہیں 11رجب 1324ھ میں وِصال فرمایا، درگاہِ معلیٰ مارہرہ مُطَہَّرہ (ضلع ایٹہ یو پی،ہِند) کے برآمدہ ٔ جنوبی میں دفن کئے گئے۔ والدصاحب نے بچپن میں وصال فرمایا ،اس لیے جدمکرم ،خاتم الاکابرحضرت شاہ آل رسول مارہروی نے پرورش کی اورخلافت سے بھی نوازا،آپ عالِمِ دین،شیخِ طریقت اورصاحِبِ تصانیف ہیں۔ سراج العوارف فی الوصیا والمعارف( [30]) آپ کی اہم کتاب ہے۔( [31])

(4)مُرشِدِ اعلیٰ حضرت، خاتِمُ الاکابِر حضرت شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ باعمل،صاحبِ وَرَع وتقوی اورسلسلہ قادریہ رضویہ کے سینتیسویں (37) شیخِ طریقت ہیں۔ آپ کی ولادت 1209ھ کو خانقاہ برکاتیہ مار ہرہ شریف (ضلع ایٹہ،یوپی) ہند میں ہوئی اور یہیں 18ذوالحجہ 1296ھ کو وصال فرمایا۔( [32]) ( تاریخ خاندان برکات، ص37تا46)

(5)سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلماء و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ( [33])آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی ہند میں ہے۔([34])

(6)محدث ہندحضرت شاہ ولی اللہ احمدمحدث دہلوی فاروقی رحمۃاللہ علیہ کی پیدائش 4 شوال 1110ھ کو ہوئی اوریہیں29محرم 1176ھ مطابق 1762ء وصال فرمایا،تدفین مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی ہندمیں ہوئی،جو درگاہ شاہ ولی اللہ کے نام سے مشہورہے،آپ نے اپنے والدگرامی حضرت شاہ عبدالرحیم دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے تعلیم حاصل کی،حفظ قرآن کی بھی سعادت پائی، اپنے والد سے بیعت ہوئے اور خلافت بھی ملی،والد کی رحلت کے بعد ان کی جگہ درس وتدریس اور وعظ و ارشاد میں مشغول ہو گئے۔ 1143ھ میں حج بیت اللہ سے سرفراز ہوئے اور وہاں کے مشائخ سے اسناد حدیث واجازات حاصل کیں۔ 1145ھ کو دہلی واپس آئے،آپ بہترین مصنف تھے، مشہورکتب میں فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن فارسی،الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،مؤطاامام مالک کی دوشروحات المصفیٰ فارسی،المسوّی عربی، حجۃ اللہ البالغہ فارسی، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء فارسی،الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ فارسی، انسان العين فی مشايخ الحرمين اورالارشادالی مہمات الاسنادعربی)[35] (مشہورکتب ہیں۔([36])

(7)شیخ القراءحضرت مولانا حاجی محمدفاضل سندھی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت دسویں صدی ہجری میں سندھ کے ضلع پنوعاقل کے شہرسانگی کے قبیلے پنھواری میں ہوئی ،آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد دہلی تشریف لے گئے وہاں مشائخ بالخصوص شیخ القراءحضرت شیخ عبدالخالق دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے فن قرات حاصل کیا،اوروہاں تدریس کا آغازکیا،حضرت شاہ ولی اللہ احمد بن عبدالرحیم محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے 1154ھ کو آپ سے فن قرأت کی تحصیل کی چنانچہ خودتحریرفرماتے ہیں : قال العبد الضعيف ولي الله بن عبدالرحيم عفي عنه :قرائت القران کله من اوله الي آخره بروايته حفص عن عاصم علي الصالح الثقة حاجي محمد فاضل السندي سنه 1154ھ قال :تلوته الي آخره بروايۃحفص علي الشيخ عبدالخالق المنوفی شيخ القراء بمحروسۃدلي ۔ ( [37])

(8)شیخ القراء عبدالخالق منوفی ازہری ثم دہلوی رحمۃ اللہ علیہ مصرکے رہنے والے تھے،آپ کی ولادت 22ذوالحجہ 959ھ کو ہوئی اور27شعبان 1078ھ کو وفات پائی،مزارمبارک احمدآباد گجرات ہند میں ہے،آپ جیدحافظ قرآن،بہترین قاری اور دیگرعلوم کے ساتھ فن قرات پر عبورحاصل تھا،آپ نے علوم اسلامیہ جامعۃ الازہرقاہرہ مصر([38])سے حاصل کئےپھر مغلیہ بادشاہ شاہجہاں دورِ حکومت (1037ھ تا1068ھ) میں دہلی ہند تشریف لے آئے یہاں آپ کاپرتپاک خیرمقدم کیا گیا، عزت واکرام سے نواز کرشیخ القراء کے منصب پرفائزکیا گیا،آپ نے ہندمیں فن قرات کوعام کرنے کے لیے بھرپورکوشش کی،آپ علامہ جزری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب النشرکا قلمی نسخہ اپنے ساتھ لائے تھے،اس کی چرمی جلد1214ھ کی بنی ہوئی اورخوبصورت ہے،یہ نسخہ حیدرآباداسٹیٹ لائبریری میں ہے ۔( [39])

(9)شیخ القراءحضرت امام شمس الدین محمدبن قاسم بقری شناوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1018ھ کو دار البقر(محلۃ الکبری،صوبہ غربیہ،مصر)میں ہوئی،آپ حفظ قرآن کے بعد قاہرہ آگئے اورجامعۃ الازہرمیں داخلہ لے لیا،یہاں اسلامی علوم بالخصوص حدیث،فقہ اور تجوید و قرآت میں مہارت حاصل کی،تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہیں استاذکے منصب پر فائزہوئے،آپ ماہر استاذ،بہترین قاری اورشافعی فقیہ ہونے کے ساتھ بہترین مصنف بھی تھے، غنیۃ الطالبين ومنیۃ الراغبین فی تجويدالقرآن العظیم)[40](آپ کی یادگار کتاب ہے، آپ کاوصال 24جمادی الاخریٰ 1111ھ کو ہوا۔آپ کے اہم شاگردوں میں شیخ القراء عبدالخالق منوفی ازہری ثم دہلوی اور شیخ القراء حضرت علامہ ابوسماح احمدبن رجب بقری شافعی([41])رحمۃ اللہ علیہما ہیں ۔( [42])

(10) شیخ القراء حضرت امام زین الدین عبدالرحمٰن بن شحاذۃ الیمنی شافعی مصری رحمۃ اللہ علیہ 975ھ کو قاہرہ مصرمیں پیداہوئے،علوم اسلامیہ والدصاحب سمیت جیدعلما،محدثین اورفقہاسے حاصل کئے،علم قرات اورفقہ میں کامل مہارت حاصل کی، شيخ القراء، امام المجودين اورفقيہ عصرکے القابات سے شہرت ہوئی،ہمہ وقت درس وتدریس میں مصروف رہتے تھے،حسن ظاہری اورباطنی دونوں سے مالامال تھے،آپ کا شمارمصرکے اکابراولیا میں بھی ہوتاہے،آپ مالدارتاجربھی تھے،اپنا مال طلبہ وفقراء پر دل کھول کرخرچ کرتے تھے،15شوال 1050ھ کووصال فرمایا۔( [43])

(11) شیخ القراء شحاذۃ الیمنی شافعی مصری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریبا 910ھ میں ہوئی،آپ کا تعلق مصرکے صوبے قلیوبیہ کے علاقے کفرالیمن سے ہے،آپ حافظ وقاری قرآن،مفتی اسلام،مدرس جامعۃ الازہرتھے،آپ نے اپنے آپ کو علم قرات کی ترویج واشاعت کے لیے وقف کیا ہواتھا،آپ خیرواحسان،تقویٰ وپرہیزگاری اوردین میں بہت بڑے مقام پر فائز تھے۔ ادائیگی حج کے بعد مدینہ شریف حاضرہوئے اور وہیں محرم 978ھ یا 987ھ میں وصال فرمایا، جنۃ البقیع میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےبیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہُ عنہ کے مزار کے قریب تدفین ہوئی۔

(12) شيخ الاسلام ،ناصرالملت والدین حضرت امام ابونصر محمد بن سالم طبلاوی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت مركز تلا(صوبہ منوفیہ،مصر)میں 866 ھ میں ہوئی اور10جمادی الاخریٰ966 ھ کو آپ کا وصال ہوا،آپ بہت زیادہ عبادت کرتے، درس وتدریس میں مصروف رہتے اوراپنے وقت کو فضول ضائع نہ ہونے دیتے،عالم رویہ میں انہیں کثرت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زیارت ہوتی تھی،آپ علوم اسلامیہ میں کامل مہارت رکھتے تھے،علما،طلبہ اورعوام کے مرجع تھے،آپ حسن اخلاق کے مالک، عاجزی وانکساری کے پیکراورصفات الاولیا سے متصف تھے،بلاشبہ کثیرعلمانے آپ سے استفادہ کیا،بدایۃ القاری فی ختم البخاری([44]) اور مرشدة المشتغلين فی احكام النون الساکنۃ والتنوين([45]) آپ کی تصانیف ہیں۔( [46])

(13)شیخ الاسلام حضرت امام زین الدین ابویحییٰ زکریابن محمد انصاری الازہری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 826ھ کو سُنیکہ(صوبہ شرقیہ)مصرمیں ہوئی،جامعۃ الازہرسے علوم اسلامیہ حاصل کئے،قاہرہ میں مقیم ہوگئے،آپ شافعی فقیہ،محدث وقت،حافظ الحدیث، صوفی باصفا،قاضی القضاہ،بہترین قاری،مصنف کتب کثیرہ،لغوی ومتکلم،مؤرخ و مدرس، مفتی اسلام اورنویں صدی ہجری کےمجدد ہیں،آپ نے 4ذوالحجہ925ھ کو قاہرہ مصرمیں وفات پائی۔ قاہرہ میں امام شافعی کے مزارکے قریب قرافہ صغریٰ میں تدفین ہوئی،آپ کا مزارمرجع خلائق ہے۔ الدقائق المحكمة فی شرح المقدمة([47])،تحفۃالباری علی صحيح البخاری([48]) اور اَسنى المطالب([49] ) آپ کی مشہورکتب ہیں۔( [50])

(14) برہان الملت والدین حضرت امام احمد بن ابوبکرقلقیلی الشہاب السکندری شافعی رحمۃ اللہ علیہ نابلس اوررملہ کے درمیانی مقام قلقیلیاکے رہنے والے تھے،آپ کافی عرصہ سکندریہ،قاہرہ اورشام میں مقیم رہے،آپ کی پیدائش 10رمضان 757ھ میں ہوئی،آپ نے اپنے وقت کے بہترین قراء سے علم قرأت حاصل کیا،مدت دراز جامعۃ الازہرقاہرہ میں خدمت قرآن وقرات میں گزاری،کثیرعلماوقراء نے استفادہ کیا،آپ کے القابات شيخ الامام،حبر الہمام،شهاب الدين،قدوة الائمۃالقراء اورحامل لواء الاِقراء سے آپ کے مقام ومرتبے کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔آپ کا وصال 17ذوالحجہ857ھ کو ہوا۔( [51])

۞امام القراء،حافظ الحدیث حضرت امام زین الدین ابونعیم رضوان بن محمد بن یوسف عقبی شافعی کی ولادت769ھ کو مِنيہ عُقبہ (Mit Okba،صوبہ جیزہ،مصر) میں ہوئی،آپ وہاں سے قاہرہ آگئے،دیگرعلماکےساتھ ساتھ حافظ الحدیث علامہ ابن حجر([52])رحمۃ اللہ علیہ کی شاگردگی اختیارکی،اس کے بعدمکہ شریف میں تین مرتبہ حج کرنے حاضرہوئے اوریہاں کے علماسے استفادہ کیا، آپ شفقت و عاجزی و شائستگی سے مالامال، مخلوق کو خوش کرنے والے، خوش مزاج و باوقار اور ظاہری وباطنی درستی سے متصف تھے۔آپ کا وصال 3رجب 852ھ کوقاہرہ میں ہوا۔( [53])

(15) امام القراء والمحد ثین،شمس الدین ابوالخیر محمد بن محمد بن علی بن یوسف جزری 25 رمضان 751ھ کو دمشق میں پیداہوئے، آپ نے دمشق،مکہ شریف اورقاہرہ میں علو م اسلامیہ کی تحصیل کی،دیگرعلوم کے ساتھ قرأت سبعہ میں مہارت حاصل کی، 793ھ میں دمشق کے قاضی مقررہوئے،انہی دنوں میں آپ نے دارالقرآن دمشق کی بنیاد رکھی، 798ھ کے بعد آپ ہرات،خراسان،اصفہان کے شہروں میں درس وتدریس میں مصروف ہوگئے،وفات5 ربیع الاول 833ھ کو شیرازمیں ہوئی اور اپنے تعمیر کردہ مدرسہ میں دفن کئے گئے،آپ علم تجوید کے امام،جلیل القدرعالم دین،مفتی اسلام،تقویٰ وورع سے متصف،مصنف کتب کثیرہ اورمؤثرشخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی علم قرأت، علم حدیث، فقہ اور تاریخ اسلام پر کثیرتصانیف ہیں، جن میں حصن وحصین([54]) اورکتاب النشر([55])آپ کی پہچان ہیں،اعلام پر آپ کی کتا ب غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء([56])اپنی مثال آپ ہے۔( [57])

(16)قاضی المسلمین حضرت امام شرف الدین ابوالعباس احمدبن حسین بن سلیمان بن فزارہ حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 691ھ میں ہوئی اورآپ نے19صفر 776ھ میں وصال فرمایا،آپ اپنے والد کے جلیل القدرشاگردتھے،طویل عرصہ دمشق کے قاضی رہے،آپ دن رات کا اکثرحصہ تدریس،قضا،افتا،عبادت اورتلاوت قرآن میں صرف فرمایا کرتے تھے۔( [58])

(17)شیخ القراء حضرت امام شہاب الدین ابوعبداللہ حسین بن سلیمان بن فزارہ حنفی رحمۃ اللہ علیہ دمشق کے علاقے کَفَریہ کے رہنے والے تھے،آپ کی ولادت تقریباً637ھ کو ہوئی اور13جمادی الاولی719ھ دمشق میں وصال فرمایا،جبل قاسیون دمشق میں دفن کئے گئے،آپ امام الوقت،قاضی شہر،مفتی اسلام،بہترین قاری اورمرجع خاص وعام تھے۔اپنی تمام زندگی، تدریس، افتااورقضا میں گزاری۔ ([59])

(18)امام علم الدین ابو محمد قاسم بن احمد بن موفق ورقی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 575ھ یا561ھ کو مرسیہ اندلس میں میں ہوئی اور 7رجب 661ھ میں وفات پائی،آپ علم نحو، قرات،فقہ اورعلم کلام میں ماہرتھے مگرعلم قرأت میں درجہ امامت پر فائز تھے،آپ نے اندلس کے علاوہ مصر،دمشق اورحلب میں اپنی خدمات پیش کیں،مشہورتصانیف میں المحصل فی شرح المفصل ([60])اورالمفیدفی شرح القصید([61]) ہیں۔( [62])

(19)شیخ القراء اندلس حضرت امام ابوجعفراحمد بن علی بن یحیی بن عون اللہ الحصّار اسپین کے تاریخ شہردانیہ (Denia) کے رہنے والے تھے،آپ کی ولادت تقریباً530ھ میں ہوئی،جید علما سے علوم اسلامیہ حاصل کئے،اپنے شہر میں علم قرات اوردیگرعلوم اسلامیہ کی تدریس میں مشغول ہوگئے،کچھ عرصے کے بعد بلنسیہ (Valencia)شہر میں منتقل ہوگئےاورتدریس کرنے لگے،کثیر علمانے آپ سے استفادکیا،آپ باعمل عالم دین،بہترین قاری اورتقویٰ وورع کے پیکرتھے،آپ کا وصال 3صفر609ھ میں ہوا۔( [63])

۞شیخ القراء حضرت ابوعبداللہ محمد بن سعید مرادی مرسی کا تعلق یورپین ملک اسپین (Spain)کے شہرمرسیہ (Murcia)سے ہے، آپ کی ولادت 542ھ اوروفات جمعہ کی رات 21 رمضان606ھ کو مرسیہ میں ہوئی،آپ بہترین قاری، روای حدیث، کثیرالفیض،استاذالقراء اورجیدعالم دین تھے۔( [64])

۞امام الائمہ حضرت ابوعبداللہ محمد بن ایوب بن نوح غافقی بلنسی مالکی یورپین ملک اسپین (Spain)کے شہربلنسیہ (Valencia)کے رہنے والے تھے،آپ کی پیدائش 530ھ اوروصال 6 شوال608ھ کو ہوا،آپ علوم وفنون میں ماہر مالکی عالم دین،بہترین قاری،مفتی اسلام،مفسرقرآن،ادب عربی کے ماہر،جامع مسجدبلنسیہ کےخطیب،جودوسخاکے پیکر،اخلاق حسنہ کے مالک اوراندلس کے نابغہ عصرتھے۔( [65])

(20)شیخ الامام حضرت ابوالحسن علی بن محمدبن ہذیل بلنسی اسپین (یورپ)کے شہربلنسیہ (Valencia)کے رہنے والے تھے، آپ کی ولادت 471ھ میں ہوئی اور 7رجب 564ھ کو وصال فرمایا،آپ محدث وفاضل،عالم وصوفی،عابدوزاہد اورتقویٰ وورع کے جامع تھے،اپنی بہترین قرات،عالی سندقرات اورفن قرات میں انہماک کی وجہ سے درجہ امامت پر فائز تھے،آپ زاہدزمانہ تھے، دن رات طلبہ میں رہنے کو پسند کرتے،کثیرصدقہ دیتے، دن کو روزہ اور رات کو قیام فرماتے۔جب آپ کی وفات ہوئی تو جنازے میں لوگوں کا اژدھام تھا، سلطان وقت بھی نمازجنازہ میں شریک ہوا۔([66])

(21) شیخ القراء حضرت علامہ امام ابوداؤد سلیمان بن ابوقاسم نجاح اموی کے والد اندلس کے حاکم مؤیدباللہ ہشام ثانی بن حکم([67]) کے غلام تھے،آپ کی پیدائش 413ھ کو قرطبہ میں ہوئی پھرآپ دانیہ اوربلنسیہ منتقل ہوگئے،یہاں کے جیدعلما سے علم حاصل کرکے آپ اپنے وقت کے شیخ وامام القراءاورمفسرقرآن بن گئے،نیکی،دین،علم اوربزرگی میں آپ کا مرتبہ بہت بلندتھا،آپ کا وصال 16رمضان 496ھ میں ہوا۔آپ کی کتابوں میں مختصر التبيين لهجاء التنزيل([68])مشہور ہے۔ ( [69])

(22)شیخ الشیوخ حضرت امام حافظ ابن صیرفی ابوعمروعثمان بن سعیداموی دانی مالکی کی پیدائش 371ھ کوقرطبہ میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرکے قَيْرَوَان تشریف لائے اورچار ماہ تک یہاں علم حاصل کیا پھر مصراورمکہ آئے اوریہاں کے علماسے استفادہ کیا،آپ نے مصر ،قیروان(تیونس) اورپھر دانیہ(اندلس) میں درس وتدریس کی خدمات سرانجام دیں، آپ عالم اندلس،امام الوقت،حافظ الحدیث،مفسّر و اديب،واعظ وخطيب اورمستجاب الدعوت بزرگ تھے،مگرآپ کی شہرت علوم قرآنیہ بالخصوص فن قراءت میں مہارت وتدریس کی وجہ سے ہے،آپ کی 22تصانیف میں التيسير فی القراءات السبع ([70])اور جامع البيان فی القرأت السبع([71]) مشہور ہیں۔آپ کا وصال دانیہ میں 15شوال444 ھ کو ہوا، نمازجنازہ میں سلطان الوقت سمیت کثیرلوگوں نے شرکت کی۔( [72])

(23)شیخ القراء ابوالحسن طاہربن عبدالمنعم بن عبداللہ بن غلبون حلبی کا تعلق حلب شام سے ہے،ابتدائی تعلیم والدگرامی علامہ امام عبدالمنعم حلبی سے حاصل کی،پھر عراق آکرعلمائے بصرہ سے تلمذحاصل کیا،بعدتحصیل علم والدصاحب کی علمی مسند کے جانشین بنے،پھرمصرتشریف لے گئے،بڑے بڑے علمانے آپ سے استفادہ کیا،آپ کا وصال 10 شوال 399 ھ کومصرمیں ہوا۔ فن قرأت کی مستندکتاب التذكرة فِی القر ات الثمان( [73])آپ کی تصنیف کردہ ہے۔( [74])

(24) شیخ القراء حضرت ابوالحسن علی بن محمد بن صالح ہاشمی بصری جوخانی رحمۃ اللہ علیہ بصرہ کے جلیل القدرمشہورعلماء سے تھے،آپ بہترین قاری،ثقہ راوی،صاحب معرفت تھے،آپ کا وصال 368 ھ میں ہوا۔( [75])

(25) شیخ القراءحضرت شیخ ابوعباس احمد بن سہل بن فیزران اشنانی رحمۃ اللہ علیہ ثقہ عالم دین،عادل روای اورنیکی وپرہیزگاری میں مشہور تھے،آپ نے علوم اسلامیہ میں مہارت حاصل کی اورپھر زندگی بھر اس کی تدریس میں مصروف رہے، آپ کا شمار بغداد کے مشہورائمہ قرأت میں ہوتاہے، آپ کی وفات 14محرم 307ھ کو ہوئی۔([76])

(26)امام القراءحضرت شیخ ابو محمد عبیداللہ بن صباح نہشلی کوفی رحمۃ اللہ علیہ عرب کے قبیلے بنونہشل سے تعلق رکھتے تھے،آپ کوفہ کے رہنے والےتھے پھربغداد میں مقیم ہوگئے،آپ کا شمار امام حفص بن سلیمان اسدی کوفی رحمۃ اللہ علیہ کے جلیل القدرشاگردوں میں ہوتا ہے،آپ کا وصال 219 ھ یا 235ھ میں ہوا،آپ نے بڑی احتیاط اورتوجہ کےساتھ علم قرأت حاصل کیااوراس فن کے ائمہ میں شمارہونے لگے،آپ بہت متقی،پرہیزگاراورصالح تھے۔( [77])

(27)حضرت امام حفص بن سلیمان اسدی کوفی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 90ھ کو بغدادمیں ہوئی،آپ امام عاصم کے ربیب (سوتیلے)بیٹے تھے،انہیں سے علوم و فنون حاصل کئے اورپھرکوفہ میں ان کے جانشین ہوکر شیخ القراء کے منصب پر فائز ہوئے، بغداد اور مکہ شریف میں علم قرأت کا درس دیا،تعلیم وتلاوت قرآن میں مستغرق رہا کرتے تھے،پیشے کے اعتبارسے آپ کپڑے کے تاجر تھے،آپ کا وصال 180ھ میں ہوا، آپ قرأت امام عاصم میں زیادہ ماہر اوربڑے قاری تھے، قرأت متواترہ میں قرأت امام عاصم بروایت حفص سب سے زیادہ مشہور اور پڑھی جاتی ہے۔( [78])

(28)حضرت امام ابوبکرعاصم بن ابونجودعبداللہ کوفی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش کوفہ میں ہوئی،صحابی رسول حضرت حارث بن حسان بکری ذہلی رضی اللہ عنہ کی زیارت کی سعادت پاکر تابعی ہونے کا شرف پایا،اسلامی علوم بالخصوص علم قرأت میں مہارت حاصل کی اوررئیس القراء کے منصب پرفائز ہوئے،امام اعظم ابوحنیفہ سمیت کئی فقہا ومحدثین رحمۃ اللہ علیہم نے آپ سے استفادہ کیا، قرأت امام عاصم سات قرأت متواترہ میں سے ایک ہے،آپ خوبصورت آوازمیں تلاوت قرآن کرتے،کثیروقت مسجدمیں گزراتے،کثیرنوافل اداکرتے،جمعہ کی نمازپڑھ کر نماز عصر تک مسجدمیں رہتے تھے۔آپ کا وصال 127یا 128ھ کو کوفہ یا سماوہ (شام)میں ہوا۔( [79])

(29) تابعی جلیل حضرت سیدنا ابوعبدالرحمن عبداللہ بن حبیب سُلمی کوفی رحمۃ اللہ علیہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات ظاہری میں پیدا ہوئے،آپ کے والدگرامی حضرت ابوعبداللہ حبیب بن ربیعہ ثقفی رضی اللہ عنہ صحابی رسول تھے،آپ نے جیدصحابہ کرام کی صحبت اختیارکی،آپ نابینامگرحافظ القراٰن،بہترین قاری،ثقہ محدث،امام القرأت اورمدرس وامام جامع مسجدکوفہ تھے،یہیں آپ نے مسلسل چالیس سال فی سبیل اللہ تدریس کی،بارش میں بھی مسجدتشریف لے آتے تھے،مرض الموت میں کسی نے عیادت کی توفرمایا مجھے اپنے رب سے کرم کی امیدہے میں نے محض اللہ پاک کی رضا کے لیے اپنی زندگی میں آنے والے اسی رمضان المبارک کے روزے رکھے ہیں،آپ نے 74ھ کو کوفہ میں وصال فرمایا۔( [80])

۞حضرت اَبو مريم زر بِن حبيش الاَسدي کوفی واقعہ عام الفیل کے بعد پیدا ہوئے، جلیل القدرصحابہ کرام کی صحبت پائی،آپ عظیم المرتبت تابعی،محدث،قاری قرآن اور ادب عربی پرگہری نظر تھی، آپ کبار تابعین میں سے تھے اور آپ کی توثیق وجلالت پر سب کا اتفاق ہے،آپ ثقہ راوی اور کثیرالحدیث ہیں۔آپ کوفہ میں مستقل رہائش پذیر ہوگئے تھے، واقعۂ دیرجماجم([81]) سے پہلے 122سال کی طویل عمرمیں81 یا 82 ھ میں وفات پائی۔( [82])

(30)ذُو النُّورَین حضرت سیدناعثمانِ غنی رضی اللہ عنہ عامُ الفِیل کےچھ سال بعدمکّۂ مکرّمہ میں پیدا ہوئے، اعلان نبوت کے کچھ ہی عرصے کے بعد اسلام قبول کرکے السابقون الاولون میں شامل ہوئے۔ رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو صاحبزادیوں حضرت رقیہ اورحضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما کا نکاح آپ سے کیا، اسی وجہ سے آپ کو ذُوالنُّورین (2 نور والے)کہا جاتاہے۔ آپ نےدومرتبہ حبشہ اورپھرمدینہ شریف ہجرت فرمائی۔جاہلیت میں بھی نہ کبھی شراب پی، نہ بدکاری کے قریب گئے، نہ کبھی چوری کی، نہ گانا گایا اور نہ ہی کبھی جھوٹ بولا۔ اَدَب، سَخاوت، خیر خواہی، حیا، سادَگی، عاجزی، رَحْم دلی، دل جوئی،فکر ِآخرت، اتباعِ سنّت اور خوفِ خدا آپ کی سیرتِ مبارکہ کے روشن پَہلو ہیں۔ تلاوتِ قراٰن کے عاشق ایسے کہ ایک رکعت میں ختمِ قراٰن کرلیتے تھے۔ خود فرمایا کرتے تھے: اگر تمہارے دل پاک ہوں تو کلامِ الٰہی سے کبھی بھی سیر نہ ہوں۔ آپ یَکُم محرّم 24 ہجری کو مَسندِ خلافت پر فائز ہوئے اور تقریباً بارہ سال اس عظیم منصب کے فرائض بخوبی نبھاتے رہےاور حضرت سیّدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کا سب سے بڑا کارنامہ جمعِ قراٰن اور تحفّظِ قراٰن ہے۔ پوری اُمَّت کو قراٰنِ مجید کے ایک نسخے پر جمع فرما کر اُمّتِ مُسْلِمہ پر احسانِ عظیم کیا اور جامعُ القراٰن ہونے کا اِعزاز پایا۔ آپ کو بحالتِ روزہ بروز جمعہ عصر کی نماز کے بعد 18 ذوالحجہ سِن 35 ہجری کو شہید کردیا گیا،آپ کا مزارِ مبارک جنّتُ البقیع میں ہے۔( [83])

۞امیرُالمؤمنین مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجہَہُ الْکریم عامُ الفیل کے تیس برس بعد پیدا ہوئے۔آپ 5سال کی عمر تک والدین کی پرورش میں رہے پھر کاشانۂ نبوت کی کَفالت میں رہ کر ظاہر و باطن کو سنوارتے رہے،اسلام کی نورانی کرنیں طلوع ہوتے ہی دس برس کی عمر میں آپ کا دل نورِ ایمان سے جگمگا اُٹھا۔کردار و عمل کی پختگی، وفا شعاری، رحم دلی، بُردباری اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے اوصاف آپ میں یکجا دکھائی دیتے ہیں۔سخاوت و شجاعت، عبادت و ریاضت، دانائی و حکمت اور زہد و قناعت آپ کے امتیازی اوصاف ہیں۔ منصبِ خلافت پر فائز ہونے کے بعد بھی نہایت سادہ اور عام زندگی گزارتے رہے، حکومت اور دولت آپ کی نظر میں کوئی حیثیت نہ رکھتی تھی۔ رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کو یمن کا قاضی بناکر بھیجتے ہوئے اپنا دستِ کرم آپ کے سینے پر مارا اور دعاؤں سے نوازا۔ اس کے بعد تادمِ حیات آپ کو فریقین کے درمیان فیصلہ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔خلفائےثلاثہ کے دورِ خلافت میں جنگ، قضا، اُمورِ سلطنت، شرعی احکام اور اسلامی سزاؤں کے نِفاذ جیسے ہر میدان میں آپ نے ان حضرات قدسیہ کی اپنے دُرُست مشوروں اور بہترین رائے کے ذریعےمددکی ۔ غزوہ ٔ تبوک کے موقع پر مدینے میں نائبِ رسول کی حیثیت سے ٹھہرے، اس کے علاوہ ہر غزوہ میں آپ نے سینہ سِپَر ہوکر بہادری اور شجاعت کے وہ کارنامے دکھائے کہ اپنا ہو یا پرایا ہر ایک داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔ آپ اور حضرت سیّدتُنابی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بابرکت نکاح 2 ہجری ماہِ صفر، رجب یا رمضان میں ہوااورامام حسن([84]) اورامام حسین([85]) رضی اللہ عنہما آپ ہی کے صاحبزادےہیں،آپ سے مروی احادیث کی تعداد 586 ہے۔ آپ 4 برس 9 ماہ چند دن منصبِ خلافت پر رونق افروز رہے۔ سن 40 ہجری میں 17 یا 19 رمضان کو فجرکی نماز کے لئے جاتے ہوئے آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو آپ زخموں کی تاب نہ لَا کر 21 رمضانُ المبارک اتوار کی رات اپنی زندگی کے 63 سال گزار کر جامِ شہادت نوش فرماگئے،مزارمبارک نجفِ اشرف(عراق) میں ہے۔ ( [86])

۞سید القراء والمسلمین حضرت سیدنا ابوطفیل ابی بن کعب انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ ثانیہ میں اسلام لائے،غزوہ بدرسمیت سارے غزوات میں شریک ہوئے،رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر مکمل اعتمادتھا اسی لیے عامل زکوۃ اور کاتب وحی مقررفرمایا،خلافت صدیقی میں اُن صحابہ کرام کے سربراہ تھے جن کے ذمے قرآن مجید کی ترتیب و تدوین کا کام سونپاگیا،خلافت فاروقی میں درس وتدریس میں مصروف رہاکرتے،امیرالمؤمنین مختلف امورمیں آپ سے مشورہ فر ماتے،اسی دورمیں مسجدنبوی کے امام تراویح مقررہوئے،دورِ عثمانی میں مسلمانوں کو ایک قرائت پر جمع کرنے کے لیے صحابہ کی جو مجلس بنائی گئی اس کے نگران بھی آپ مقررہوئے، آپ اگرچہ مختلف علوم کے جامع تھے لیکن وہ خاص فنون جن میں آپ کو امامت اوراجتہاد کا منصب حاصل تھا، وہ قرآن، تفسیر، شان نزول، ناسخ ومنسوخ اور حدیث وفقہ تھے،حضرت ابی کا خاص فن قرائت ہے اس فن میں ان کو اتنا کمال تھا کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کی تعریف فرمائی اورانہیں صحابہ میں سب سے بڑاقاری ارشادفرمایا،آپ نے ایک قول کے مطابق 30ھ میں وصال فرمایا، بعد جنازہ جنت البقیع میں دفن کئے گئے۔ ( [87])

۞امام الکبیرحضرت سیدناابوخارجہ زیدبن ثابت نجاری انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ شریف میں پیدا ہوئے،بچپن میں ہی اسلام قبول کیا،غزوۂ خندق اوراس کے بعد کے غزوات میں شرکت کی،آپ کاتب وحی،حافظ قرآن اورکئی مرتبہ والی مدینہ بنائے گئے،خلافت صدیقی میں جمع قرآن کرنے والےصحابہ کرام میں شامل تھے،خلافت فاروقی میں قاضی مدینہ بنائے گئے جبکہ خلافت عثمانی میں بیت المال کے نگران مقررہوئے،علم قرائت،علم المیراث،علم قضا اور فتویٰ میں نہایت ممتاز تھے، حضرت زید رضی اللہُ عنہ لکھنا جانتے تھے اور اپنے زمانہ کے مشہور خطاط تھے۔آپ نےایک قول کے مطابق 45ھ میں وصال فرمایا۔( [88])

۞حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکہ شریف میں ہوئی،آپ کا وصال 32ھ کو مدینہ شریف میں ہوا، امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نمازجنازہ پڑھائی،تدفین جنۃ البقیع میں جلیل القدرصحابی حضرت عثمان بن مظعون([89]) رضی اللہ عنہ کے پہلو میں ہوئی،اسلام لانے میں آپ چھٹے خوش نصیب ہیں یوں آپ کا شمارالسابقون الاولون میں ہوتاہے،تمام غزوات میں شریک ہوئے،آپ نےدومرتبہ حبشہ اور پھرمدینہ شریف ہجرت فرمائی، مؤاخات مدینہ میں آپ حضرت معاذبن جبل رضی اللہ عنہ([90]) کے بھائی بنائے گئے،20ھ میں کوفہ کے قاضی مقرر کیے گئے،عہدہ قضاء کے علاوہ خزانہ کی افسری، مسلمانوں کی مذہبی تعلیم اوروالی کوفہ کی وزارت کے فرائض بھی ان کے متعلق تھے، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم خاص تھے، مسواک اٹھاکر رکھنا، جوتا پہنانا، سفر کے موقع پر کجاوہ کسنا اورعصالیکر آگے چلنا آپ کی مخصوص خدمت تھی،آپ شوقِ علم سے مالامال،عالم قرآن وحدیث،اسباب نزولِ قرآن وتفسیرکے کامل واقف،فن قرأت میں زبردست مہارت رکھنے والے، روایت حدیث میں وسیع معلومات اورحددرجہ احتیاط کادامن پکڑنے والے،تقریباً848احادیث کے راوی،فقہ حنفی کے مؤسس وبانی، درجہ اجتہادپرفائز،بہترین مدرس،پُرأَثَرْ وَاعِظ ومقرر،حسن اخلاق کے مالک اورمرجع خاص وعام تھے،آپ قبیلہ بنو ہذیل سے تعلق رکھتے تھے اورآپ کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے۔( [91])

۞ ہمارے پیارے آقاحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ولادت 12ربیع الاول مطابق 20اپریل 571ء کو وادی بطحا مکہ شریف کے معززترین قبیلے قریش میں ہوئی اور12ربیع الاول 11ھ مطابق 12 جون 632ء کو مدینہ منورہ میں وصال ظاہری فرمایا۔آپ وجہ ٔ تخلیق کائنات،محبوب خدا،امام المرسلین ،خاتم النبیین اورکائنات کی مؤثرترین شخصیت کے مالک تھے،آپ نے 40 سال کی عمرمیں اعلان نبوت فرمایا، 13سال مکہ شریف اور10سال مدینہ شریف میں دین اسلام کی دعوت دی ،اللہ پاک نے آپ پر عظیم کتاب قرآن کریم نازل فرمائی۔اللہ پاک کے آپ پر بے شمار دُرُوداورسلام ہوں ۔( [92])

دوسری سند قرآن :

خاکسار کا تب الحروف غفراللہ لہ (امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ )کی دوسری سند قرآن مجید کی یہ ہے کہ میں نے بعض قرآن مجىد اپنے شىخ طرىقت واقف رموز شرىعت عمدة الفضلا سىد الکملا حضرت مولانا فضل رحمن صاحب نقشبندى گنج مراد آبادى قدس سرہ ٗسے سنا۔ انہوں نے حضرت مولانا شاہ عبدالعزىز علىہ رحمۃ صاحبِ تفسىر ِعزىزى و تحفہ اثنا عشرى سے۔ انہوں نے اپنے والد ماجد شاہ ولى اللہ علىہ الرحمۃ سے۔ انہوں نے برواىت حفص حاجى صالح ثقہ محمد فاضل سندھى سے 1154ھ مىں، انہوں نے شىخ القراء عبدالخالق مرحوم سے دہلى مىں، انہوں نے شىخ محمد بقرى سے([93])۔ انہوں نے شىخ عبدالرحمن ىمنى سے۔ باقى سند، سندِ مولانا اولاد رسول مارہروى سلمہٗ مىں گزرچکى ۔ ([94])

دوسری سندقرآن کے روات کا مختصرتعارف :

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ سند قرآن 27 واسطوں سے رسول کریم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے،اس سندقرآن کے قراء کا مختصرتعارف ملاحظہ کیجئے:

۞ عارفِ کامل حضرت مولانا فضلِ رحمٰن صدیقی گنج مرادآبادی نقشبندی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت1208ھ مطابق1794ء کو سندیلہ (ضلع ہردوئی، یوپی ہند) میں ہوئی اور وصال 22ربیعُ الاوّل 1313 ھ مطابق 12ستمبر 1895ءکو فرمایا۔ مزار مبارک گنج مراد آباد (ضلع انّاؤ،یوپی ہند) میں ہے۔ آپ عالمِ باعمل، استاذ و شیخ العلما والمشائخ اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے تھے۔آپ کی اسانیدکا عربی مجموعہ اتحاف الاخوان باسانیدمولانا فضل الرحمن ہے ،)[95] (جَدِّ اعلیٰ حضرت مولانا رضا علی خان([96]) علیہ رحمۃ الرَّحمٰن آپ کے ہی مرید و خلیفہ تھے۔([97])

۞حضرت مولانا شاہ عبدالعزىز رحمۃ اللہ علیہ اوران سےآگے تمام قراء کا تعارف پہلی سند قرآن میں ہوچکا ہے ۔

تیسری سندقرآن :

امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ صاحب نے اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان سے سند قرآن حاصل کی، انھوں نے اپنے مرشد گرامی حضرت شاہ آل رسول احمدی ماررہروی سےاورانہوں نے حضرت شاہ عبدالعزیزمحمدث دہلوی سے۔([98]) باقى سند،(پہلی) سند مولانا اولاد رسول مارہروى رحمۃ اللہ علیہ مىں گزرچکى۔

تیسری سندقرآن کے روات کا مختصرتعارف :

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ سند قرآن 28 واسطوں سے رسول کریم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے،اس سندقرآن کے قراء کا مختصرتعارف ملاحظہ کیجئے :

۞اعلیٰ حضرت، مجددِدین وملّت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 10شوال 1272ھ مطابق6جون 1856ءکو بریلی شریف(یو۔پی) ہند میں ہوئی، یہیں 25 صفر 1340 ھ ،مطابق28اکتوبر1921ءکو وصال فرمایا۔ مزار جائے پیدائش میں مرجعِ خاص وعام ہے۔آپ حافظِ قرآن، پچاس سے زیادہ جدیدوقدیم علوم کے ماہر، فقیہ اسلام، مُحدّثِ وقت،مصلحِ امت، نعت گوشاعر، سلسلہ قادریہ کے عظیم شیخ طریقت، تقریباً ایک ہزارکتب کے مصنف، مرجع علمائے عرب وعجم،استاذالفقہاومحدثین، شیخ الاسلام والمسلمین، مجتہدفی المسائل اور چودہویں صدی کی مؤثر ترین شخصیت کے مالک تھے۔ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن،فتاویٰ رضویہ (33جلدیں)، جدّ الممتارعلی ردالمحتار(7 جلدیں،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)اور حدائقِ بخشش آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔([99])

۞خاتِمُ الاکابِر حضرت شاہ آلِ رسول مار ہَروی رحمۃ اللہ علیہ اوران سےآگے تمام قراء کا تعارف پہلی سند قرآن میں ہوچکا ہے ۔

چوتھی سند قرآن :

خاکسار(امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ )اور میرے دونوں بیٹوں (سید احمد ابوالبرکات)[100]( اور سید محمد احمد ابوالحسنات)[101]() نے اور اکثر اہل رىاست الور قاری قادر علی صاحب مرحوم سے، انھوں نے بقرات سبعہ مکرره متواتره بقاعده جمع الجمع تمام قرآن مجید پڑھا قاری قادر بخش صاحب مرحوم سے،انھوں نے قاری محمد مرحوم کے ساتھ ملکر قاری عبدالمجید المعروف صوبۂ ہند سے مع قرات سبعہ پڑھا،قارى عبدالمجىد المعروف صوبہ ہند سے اورقاری عبدالمجید نے حافظ غلام مصطفىٰ اور انہوں نے مولوى محمد گجراتى سے اور انہوں نے حافظ عبدالغفور دہلوى سے اور انہوں نے شىخ عبدالخالق سے اورانہوں نے شىخ محمد بقرى سے اورانہوں نے شىخ عبدالرحمن ىمنى سے اور سند عبدالرحمن ىمنى رحمۃ اللہ علیہ سنداول سىد الاولاد رسول مارہروى مرحوم مىں آنحضرت صلی اللہ علىہ وسلم تک گزر چکى ۔([102])

چوتھی سندقرآن کے روات کا مختصرتعارف :

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ سند قرآن 30 واسطوں سے رسول کریم حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے مل جاتی ہے،اس سندقرآن کے قراء کا مختصرتعارف ملاحظہ کیجئے :

(1)قاری قادرعلی رٹولوی الوری استاذالقراءقاری قادرعلی رٹولوی ثم الوری قصبہ رٹول (Rataul۔ضلع باگپت ،اترپردیش ہند)کے باشندے تھے، یہ قراء تِ سعبہ مکررہ متواترہ بقاعدہ جمع الجمع کے بہترین قاری تھے،قاری قادر علی الوری صاحب سے بے شمارعلما نے استفادہ کیا۔([103])

(2)فخرہندقاری قادربخش انصاری پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ پانی پت کے انصاری خاندان میں پیداہوئے، اولاًقاری مصلح الدین عباسی پانی پتی)[104]( اورپھرصوبۂ ہند قاری عبدالمجیددہلوی سے فن قرائت حاصل کیا ، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی([105]) سے دیگرعلوم اسلامیہ حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے اوران سے ہی بیعت کا شرف پایا ،یہ لال قلعہ( [106])کے حفاظ میں سے تھے،لال قلعہ میں مغل شہزادوں کو پڑھاتے رہے،آپ نےعلم قرأت میں ایک مختصر رسالہ التجوید تحریر فرمایا۔اندازاً آپ کی پیدائش 1190ھ کو اوروفات 1260ھ کوہوئی ۔([107])

۞قاری شاہ محمدانصاری پانی پتی ، فخرہندقاری قادربخش انصاری پانی پتی کے منجھلے بھائی اورعلامہ قاری عبدالرحمن محدث پانی پتی([108]) کے والدگرامی ہیں،علم قرائت صوبۂ ہند شاہ حاجی قاری عبدالمجیددہلوی اوردیگرعلوم حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی سے حاصل کئے، انہیں کی بیعت کاشرف پایا،مسائل وعقائد پر ایک رسالہ لکھا جس کانام ’’اتالیق الصبیاں‘‘ہے، آپ کی پیدائش 1199ھ پانی پت میں اوروفات دہلی میں1240ھ کو ہوئی، باغ شیرافگن خان دہلی میں دفن کیا گیا ۔([109])

(3)صوبہ ٔ ہند قاری عبدالمجیددہلوی کی ولادت تقریباً1140ھ کو دہلی میں ہوئی اوریہیں تقریباً 1210ھ کو وصال فرمایا،فن قرأت میں آپ کی خدمات فراموش نہیں کی جاسکتیں ۔([110])

(4)شیخ القراء قاری غلام مصطفی دہلوی بن شیخ محمد اکبرتھانیسری رحمۃ اللہ علیہ قاری عبدالمجیددہلوی کے قابل شاگردتھے،ان کی ولادت تقریبا 1100ھ کو دہلی میں ہوئی اوریہیں تقریبا 1160ھ میں فوت ہوئے ۔([111])

(5)شیخ القراء قاری مولاناحافظ غلام محمدگجراتی ثم دہلوی،ان کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔

(6)شیخ القراء حضرت حافظ عبدالغفوردہلوی کی پیدائش تقریباً 1040ھ کو دہلی ہند میں ہوئی اور یہیں 1120ھ میں وفات پائی،آپ کی ذات سےشمالی ہند میں فن قرأت عام ہوا۔([112])

۞ شیخ القراء قاری عبدالخالق منوفی ازہری ثم دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اوران سےآگے تمام قراء کا تعارف پہلی سند قرآن میں ہوچکا ہے ۔

پانچویں سند قرآن :

مولانا عبدالغنی مرحوم بہاری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی کچھ قرآن مجید ان سے سن کر اور کچھ سنا کر خاکسار(امام المحدثین مفتی سیدمحمددیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ )نے سند قرآن مجید حاصل کی اور انہوں نے سند قرآن مجید حاصل کی تھی مولانا قاری عبدالرحمن مرحوم پانی پتی سے اور مولانا عبدالرحمن مرحوم پانی پتی نے بروایت حفص سارا قرآن مجید من اولہ الیٰ آخرہ پڑھا اپنے والد ماجد مولانا قاری محمد پانی پتی سے اور انہوں نے ساتوں قرائت کے ساتھ تمام قرآن مجید پڑھا تھا قاری مصلح الدین پانی پتی سے اور انہوں نے شىخ القراءقاری عبید اللہ مدنى مرحوم سے۔([113])

پانچویں سندقرآن کے روات کا مختصرتعارف :

امام المحدثین مفتی سیدمحمد دیدارعلی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی اس سندقرآن کے قراء کا مختصرتعارف ملاحظہ کیجئے :

(1) مولاناقاری عبدالغنی بہاری مہاجرمدنی رحمۃ اللہ علیہ کی امام المحدثین مفتی سید دیدارعلی شاہ صاحب سے ملاقا ت 1326ھ مطابق 1909ء کو راجستھان کے شہر باندی کوہی(ضلع دوسا)میں ہوئی انھوں اپنے استاذقاری عبدالرحمن پانی پتی اورتقریباً چالیس اکابرعلمائے مکہ مکرمہ اورمدینہ طیبہ سے ملنے والی اجازات امام المحدثین کو دیں اوروہ ثبت بھیجنے کا وعدہ فرماگئے جس میں تمام اکابرعلمائے حرمین مکرمین کی سندیں اصحابِ کتبِ احادیث تک تھیں، مگرافسوس کہ وہ اپنے مقام تک نہ پہنچ سکے اوراثنائےراہ ہی میں انتقال فرماگئے۔([114])

(2)علامہ قاری عبدالرحمن انصاری محدث پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1227ھ مطابق 1812ءاوروفات 5ربیع الآخر1314ھ مطابق 13ستمبر1896ء کو پانی پت (ریاست ہریانہ ،ہند)میں ہوئی،آپ عالم دین،تلمیذ و مرید و خلیفہ شاہ اسحاق دہلوی، استاذ القرء والعلما اورمصنفِ کتب تھے ۔([115])

(3)قاری محمدانصاری پانی پتی کا تذکر ہ چوتھی سند قرآن کےقراء کے تعارف میں گزرچکا۔

(4) شیخ القراء قاری مصلح الدین عباسی پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1145ھ کو ہوئی اور1225ھ یا 1219ھ کووصال فرمایا،ابتدئی اسلامی تعلیم،تجویدوقرائت کے بعدپانی پت ہندسے حجازمقدس کا سفرکیا اورمدینہ شریف میں قاری عبیداللہ مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے علم تجویداورسند قرآن وقرأت حاصل کی،واپس آکر اپنے وطن میں درس وتدریس میں مصروف ہوگئے،آپ شیخ القراء کے لقب سے ملقب ہوئے اوریہ آپ کی پہچان بن گئی ۔([116])

۞شیخ القراء قاری عبیداللہ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے حالات اوران سےآگےکی سند معلوم نہ ہوسکی ۔

حواشی ،ماخذومراجع :



[1]... سورہ طہ،آیت ؛114

[2]... سنن ابن ماجہ،1/146،حدیث،224

[3] ... امیرُالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیّدُنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت98ھ میں کوفہ (عراق) میں ہوئی اورشعبانُ المعظم161ھ میں وصال فرمایا۔مزاربنی کُلیب قبرستان بصرہ میں ہے۔آپ عظیم فقیہ، محدث، زاہد، ولیِ کامل اوراستاذِ محدثین و فقہا تھے۔(سیراعلام النبلاء، 7/229،279، طبقات ابن سعد، 6/350)

[4] ... شرف اصحاب الحدیث للخطیب ،42

[5] ... امیرالمؤمنین فی الحدیث حضرت سیّدنا عبداللہ بن مبارک مَروَزِی علیہ رحمۃ اللہ القَوی کی ولادت 118ھ کو مَرْو (تُرکمانستان) میں ہوئی اور وِصال 13 رمضان 181ھ کو فرمایا۔ مزارمبارک ہِیت (صوبہ انبار) مغربی عراق میں ہے، آپ تبعِ تابعی، شاگردِ امام اعظم، عالمِ کبیر، مُحَدِّثِ جلیل اور اکابر اولیائے کرام سے ہیں۔ ” کتابُ الزُّہْدِ وَ الرَّقائِق“ آپ کی مشہور تصنیف ہے۔(طبقاتِ امام شعرانی، جز1، ص 84تا86، محدثینِ عظام وحیات و خدمات، ص146تا153)

[6] ... الکفایۃ فی علم الروایۃ للخطیب،393

[7] ... صحیح مسلم ،1/19

[8] ...شیخُ الاسلام، عمدۃُ المحدثین، شہابُ الدّین، حافظ احمد بن علی ابنِ حجر عسقلانی شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ولادت 773ھ کو قاہرہ مصر میں ہوئی اور یہیں 28ذوالحجہ852ھ کو وصال فرمایا۔ تدفین قَرافہ صُغریٰ میں ہوئی۔ آپ حافظُ القراٰن، محدثِ جلیل، استاذُ المحدثین، شاعرِ عربی اور 150سے زائد کُتُب کے مصنف ہیں۔ آپ کی تصنیف ”فتحُ الباری شرح صحیح البخاری“ کو عالمگیر شہرت حاصل ہے۔(بستان المحدثین، ص302، الروایات التفسیریہ فی فتح الباری، 1/39، 65)

[9]...مرقاۃ المفاتیح، 1/448، تحت الحدیث:198، الاسناد من الدین، ص19، 30

[10]... تفسیرمیزان الادیان،1/67

[11]...تفسیرمیزان الادیان،1/67

[12] ... مزیدتفصیلات اورحوالاجات کے لیے ’’ باب 2:تعلیم وتربیت ‘‘کا مطالعہ کیجئے ۔

[13] ...تفسیرمیزان الادیان میں یہاں شیخ احمد بقری لکھا ہے جبکہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فارسی ترجمہ قرآن ’’ فتح الرحمن‘‘میں آپ کی سند قرائت میں یہاں ’’الشیخ البقری‘‘لکھا ہے،یہ سند جن دیگرکتب میں ہے وہاں شیخ بقری کانام ’’شیخ محمدبقری ‘‘لکھا ہے ،ان کا پورانام’’شمس الملت والدین شیخ ابو الاكرام محمد بن قاسم بن اسماعيل بقری ‘‘ ہے، اس لیے یہاں شیخ احمد کے بجائے شیخ محمد کردیا ہے،مزیدتفصیل آگے آئے گی ۔

[14] ... تفسیرمیزان الادیان میں ان کا نام ’’سجادہ‘‘لکھاہےمگردرست ’’شحاذہ‘‘ہے ،اسےلیے یہا ں درستی کردی گئی ۔

[15] ...فتح الرحمن بترجمۃ القرآن میں موجود ’’سلسلہ اسانیدشاہ ولی اللہ‘‘ اور تفسیرمیزان الادیان میں علامہ قلقیلی کا لقب برہان لکھا ہے مگرآپ’’ الشہاب السکندری‘‘سے معروف تھے۔دیکھئے: الضوء اللامع لاہل القرن التاسع للسخاوی، 1/263۔

[16] ... امام محمد بن محمد جزری رحمۃ اللہ علیہ نے فن تجویدوقرأت میں مقبول عالم کتاب ’’النشرفی القرأت العشر‘‘تحریرفرمائی،جس میں فن تجوید وقرأت کی ضرورت،اہمیت،حروف کے مخارج اورانکی صفات،علم وقوف وابتدا،ادغام کبیروصغیر،ہمزات کے احکام وقواعد،فتح وامالہ کو بیان فرمایا، رسم الخط اورختم قرآن جیسی ابحاث بھی اس کا حصہ ہیں،اس کتاب کی اہمیت کااندازاس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ یہ صدیوں سے تجویدوقرأت کے مدارس میں بطورنصاب رائج ہے ۔

[17] ...کتاب التيسير فی القرأت السبع حضرت علامہ ابوعمرعثمان بن سعید دانی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کی مقبول زمانہ تصنیف ہے،جسے مختلف مطابع نے اسے ایک جلد میں شائع کیا ہے،مطبعۃ الدولہ استنبول نے اسے 1930ء کو 266صفحات میں شائع کیا ہے،جوانٹرنیٹ پر موجودہے ۔

[18] ...میزان الادیان میں یہاں ورتی لکھا تھا ،جبکہ درست ورقی ہے چنانچہ یہاں تبدیلی کردی ہے ۔

[19] ...میزان الادیان میں یہاں الحضارہ جبکہ فتح الرحمن بترجمۃ القرآن میں الخصارتحریرہے جبکہ درست الحصارہے اسے لیے یہاں درستی کردی ہے ۔

[20] ... میزان الادیان میں یہا ں ابوعمروانی لکھا ہے جوکہ درست نہیں ،درست ابوعَمرو دَانی ہے چنانچہ سند میں درستی کردی ہے ۔

[21] ...میزان الادیان اورفتح الرحمن امام ابوالحسن طاہر کے والدکا نام غلبون لکھا ہے جبکہ غلبون آپ کے والدعبدالمنعم بن عبداللہ کے داداہیں ۔دیکھئے:غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،1/301۔

[22] ...میزان الادیان میں یہاں فقط عبیدلکھا ہے جبکہ آپ کا مکمل نام عبیداللہ ہے چنانچہ سند میں درستی کردی ہے ۔

[23] ... تفسیرمیزان الادیان ،1/79،80

[24] ... امام المحدثین نے دارُالعُلُوم حِزْبُ الْاَحْناف لاہورکو 1924ء میں مسجدوزیرخاں اندرون دہلی گیٹ میں شروع فرمایا،پھر یہ جامع مسجدحنفیہ محمدی محلہ اندرون دہلی گیٹ منتقل کردیا گیا،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے آپ کے صاحبزادےمفتی اعظم پاکستان مفتی شاہ ابوالبرکات سیداحمدرضوی صاحب اس کی وسیع وعریض عمارت بیرون بھاٹی گیٹ گنج بخش روڈ پر بنائی،جو اب بھی قائم ہے ۔

[25] ...فتاویٰ دیداریہ کے مرتب مفتی محمد علیم الدین نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اس میں 344فتاویٰ ہیں،87فتاویٰ کے علاوہ تمام فتاویٰ مفتی سیددیدارعلی شاہ صاحب کے تحریرکردہ ہیں،اسے مکتبۃ العصرکریالہ جی ٹی روڈ گجرات پاکستان نے 2005ء کو بہت خوبصورت کاغذپر شائع کیا ہے، اس کے کل صفحات 864ہیں ۔

[26] ... فتاویٰ دیداریہ، ص2،ہفتہ واراخبارالفقیہ ، 21تا28 اکتوبر1935ء، ص23

[27] ...تاریخ خاندان برکات ،اردومیں لکھی گئی کتاب ہے اس میں علامہ سیدشاہ اولادِ رسول میاں مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خاندان کے بزرگوں کے مختصرحالات لکھے ہیں،برکاتی پبلشرزکراچی نے اسے 1987ء میں 163صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[28] ... تاریخ خاندانِ برکات،ص، 65تا69

[29] ... تاریخ خاندان برکات ،57،64

[30] ... سِراجُ العَارِفِین مولانا سیّد ابوالْحُسَین احمد نُوری صاحب نے 1309ھ کو سراج العوارف فی الوصیا والمعارف کوفارسی میں تحریرفرمایا ،اس کا موضوع تصوف ہے،اس کا اردوترجمہ ڈاکٹرپیرسیدمحمد امین میاں برکاتی صاحب نے کیا جسے برکاتی پبلشرزکراچی نے1987ء میں 202صفحات پر شائع کیاہے ۔

[31] ... تذکرۂ نوری، ص 146،275،218

[32] ... تذکرۂ نوری، ص 146،275،218 ۔

[33] ...آپ کی یہ چاروں تصانیف تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ فارسی میں ہیں، تحفہ اثنا عشریہ کو بہت شہرت حاصل ہوئی ،اس کا موضوع ردرفض ہے،تفسیرعزیزی کا نام تفسیرفتح العزیزہے،جو چارجلدوں پر مشتمل ہے ،بستا ن المحدثین میں محدثین کے مختصرحالات دیئے گئے ہیں جبکہ آپ کا رسالہ عاجلہ نافعہ فن حدیث پرہے جس میں آپ نے اپنی اسنادواجازات کو بھی ذکرفرمایا ہے،اسکے 26صفحات ہیں ۔

[34]... الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634

[35]...ان چارکتب فتح الرحمن فی ترجمہ القرآن،الفوز الکبیرفی اصول التفسیر، مؤطاامام ملک کی دوشروحات المصفیٰ،المسوّی، کا موضوع نام سے واضح ہے ،آپ نے اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ میں احکام اسلام کی حکمتوں اورمصلحتوں کوتفصیل کے ساتھ بیان کیاہے،اس میں شخصی اوراجتماعی مسائل کو بھی زیرِ بحث لایا گیاہے،کتاب ازالۃ الخفاء ردرفض پرہے،آپ کے رسالے الانتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ عقائدومعمولاتِ اہل سنت پر کاربند تھے،آپ کی آخری دونوں تصانیف آپ کی اسنادواجازات اورآپ کے مشائخ کے تذکرے پرمشتمل ہیں۔

[36]... الفوز الکبیرفی اصول التفسیر،ص7تا11، تواریخ آئینہ تصوف،217،تذکرہ علمائے ہند،458

[37] ... فتح الرحمان الرحمن فی ترجمۃ القرآن فارسی،ص،611،مطبوعہ ایران ، نزھۃ الخواطر، 6/352

[38] ...جامعۃ الازہرقاہرہ مصرعالم اسلام کے قدیم جامعات سے ہے ،اس کی شہرت چاردانگ عالم میں ہے ،اس کاآغاز361ھ مطابق 972ءمیں ہوئی ،اب بھی دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے ۔کہاجاتاہے کہ اس کے طلبہ کی کل تعداد10 لاکھ ہے جن میں 50 ہزاردنیاکے 100ممالک سے آئے ہوئے طلبہ ہیں۔

[39] ... امتاع الفضلاء بتراجم القراء فيما بعد القرن الثامن الهجری،2/160،تذکرہ قاریان ہند،178،179، تواریخ آئینہ تصوف،218

[40] ...غنیۃ الطالبين ومنیۃ الراغبین فی تجويدالقرآن العظیم فن تجویدکی مختصرکتاب ہے جسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے مثلا المکتبۃ الازہریہ مصرنے اسے 46صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[41] ... شیخ القراء حضرت علامہ ابوسماح احمدبن رجب بقری شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 1074ھ کوہوئی،آپ ذہین وفطین، کثیرالعلم،فقیہ شافعی اورمحقق تھے،گھرہویا سفربہت زیادہ تلاوت قرآن کرتے۔ راتوں کو عبادت میں مصروف رہتے،آپ پڑھنےپڑھانے میں بہت محنت کرتے تھے،زندگی کے آخری سال میں حج کے لئے تشریف لے گئے جب مقام نخل میں پہنچے تو 29یا 30شوال1189ھ کو وفات پائی،وہیں دفن کئے گئے۔( ہدیۃ العارفین، 1/179، تاريخ عجائب الآثار فی التراجم والاخبار(تاریخ الجبرتی)، 1/650)

[42] ... تاريخ عجائب الآثار فی التراجم والاخبار(تاریخ الجبرتی)، 1/650، معجم المؤلفین،3/593، سلک الدررفی اعیان قرن الثانی عشر،جز4، 2/134، فوائد الارتحال، 1/528

[43] ...خلاصۃ الأثر،2/358، المجلۃ التاریخۃ المصریۃ، 55/137تا 166، امتاع الفضلاء بتراجم القراء، 2/172، فوائدالارتحال،4/583

[44] ... بدایۃ القاری فی ختم البخاری 183صفحات پر مشتمل ایک کتاب ہے جس کا موضوع حدیث اوراس کی اصطلاحات ہے،دارالبشائراسلامیہ بیروت نے اسے شائع کیا ہے ۔

[45] ... مرشدة المشتغلين فی احكام النون الساکنۃ والتنوين کا موضوع علم تجویدہے، یہ نون ساکن کے قواعدکے بارے میں ہے ، دارالافاق العربیہ نصرسٹی قاہرہ مصرنے اسے 190صفحات پر شائع کیا ہے۔

[46] ... امتاع الفضلاء بتراجم القراء، 2/282، کواکب السائر، 2/32، شذرات الذھب،8/410 ۔

[47] ... الدقائق المحكمة قرائت کی مشہورکتاب مقدمہ جزریہ کی یہ ایک بہترین شرح ہے، اسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے ،مثلا مکتبۃ ضیاء الشام دمشق نے اسے 248صفحات پر شائع کیا ہے ۔

[48] ... تحفۃ الباری کا دوسرانام منحۃ الباری ہے ،یہ بخاری شریف کی بہترین شرح ہے، دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے 7جلدوں میں شائع کیا ہے ۔

[49] ... اسنی المطالب فقہ شافعی کی کتاب ہے، اس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ جس نے اس پڑھا نہیں وہ شافعی ہی نہیں ،دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے 9جلدوں میں شائع کیا ہے۔

[50] ... شذرات الذھب، 8/174تا 176، النورالسافر،ص172تا177، الاعلام للزرکلی، 3/46

[51] ... الضوء اللامع لاہل القرن التاسع للسخاوی، 1/263

[52] ...حافظ الحدیث علامہ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف پہلے گزرچکا ہے ۔

[53] ... شذرات الذھب، 7/410، الاعلام للزركلی،3/27، نظم العقيان فی اعيان الاعيان، ص112

[54] ...حصن حصین،اورادو وَظائف،اذکاراوردعاؤں پر مشتمل چھ صدیوں سے علماوفقہا اورمحدثین بلکہ عوام میں مقبول کتاب ہے،اس کوپڑھنے کی باقاعدہ اجازت وسند لی جاتی ہے، دنیابھرکے مکتبوں نے اسے شائع کیاہے،مختلف زبانوں میں اس کے ترجمےبھی ہوئے ،کویت کے مکتبہ غراس النشروالتوزیع نے اسے 436صفحات میں شائع کیا ہے ۔

[55] ...کتاب النشرکاتعارف گزرچکا ہے ۔

[56] ...علامہ جزری کی کتاب’’ غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء‘‘حوالے کے طورپرمعروف ہے ،اسکی دوجلدیں ہیں ،کل صفحات 1072ہیں ،اسے دارالکتب العلمیہ نے شائع کیا ہے ۔

[57] ... شذرات الذھب، 7/336، الضوء اللامع لاہل القرن التاسع للسخاوی، 9/255، الاعلام للزرکلی، 7/45، النشر فی القراءت العشر، مقدمۃ الکتاب

[58] ... الدرر الکامنۃ، 1/125، غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء، 1/49، طبقات السنیۃ فی ترجم الحنفیۃ،1/338

[59] ... البدایۃ والنہایۃ،18/194‏، الدرر الکامنۃ، 2/56، اعیان العصر واعوان النصر، 2/268

[60] ... علامہ ابومحمد قاسم بن احمد اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کی کتا ب المحصل فی شرح المفصل کا موضوع علم النحو ہے مؤسسۃ الانتشارالعربی لبنان نے اسے ناصربن سعید کی تحقیق کے ساتھ 818صفحات پر شائع کیا ہے،انٹر نیٹ پر اس کا مخطوطہ بھی موجودہے جس کے صفحات 206ہیں ۔

[61] ... علامہ قاسم بن احمداندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے امام قاسم بن فیرہ شاطبی کی کتاب متن شاطبیہ (حرز الامانی ووجہ التہانی فی القرأت السبع)کی شرح بنام المفیدفی شرح القصیدتحریرفرمائی، یہ شرح فن علم تجویدوقرأت سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بہت مفیدہے۔ الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ شریف نے اسے ایک جلدمیں شائع کیا ہے ۔جو نیٹ پرپی ڈی ایف کی صورت میں موجودہے ۔

[62] ...العبر فی خبر من غبر،3/303، بغیۃ الوعاۃ،2/250شاملہ، غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،2/15 ۔

[63] ... غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،1/84، 85، سیراعلام النبلاء، 16/68، معرفۃ القراء الکبار علی طبقات والاعصار، 3/1152

[64] ... غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،2/129، الموسوعۃ المیسرۃ فی تراجم ائمۃ التفسیر والاقراء و النحو واللغۃ، ص 2098، رقم:2930

[65] ... غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،2/93، الموسوعۃ المیسرۃ فی تراجم ائمۃ التفسیر والاقراء و النحو واللغۃ، ص 1984، رقم:2779، سیراعلام النبلاء، 16/69

[66] ... سیراعلام النبلاء، 15/226، معرفۃ القراء الکبار علیٰ طبقات والاعصار، 3/990تا992، شجرۃ النور الزکیۃ فی طبقات المالکیۃ،ص174

[67] ...ابوولید مؤیدباللہ ہشام ثانی بن حکم سلطنت اندلس بنواُمیّہ کا دسواں اورقرطبہ کا تیسراحکمران تھا،اس کا دورحکومت 976 ءتا 1009ء اوردوسرادورحکومت 1010ءتا 1013ءعرصے پر محیط ہے۔

[68] ... امام سلمان نجاح رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’مختصر التبيين لهجاء التنزيل‘‘ تفسیرقرآن کے موضوع پر ہے، اسے مختلف مطابع نے شائع کیا ہے،اس کی5 جلدیں اور1929صفحات ہیں ۔

[69] ... سیراعلام النبلاء، 14/216، الاعلام للزرکلی،3/137، غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،1/287، معرفۃ القراء الکبار علی طبقات والاعصار، 2/862

[70] ... التيسير فی القراءات السبع کامختصرتعارف پہلے ہوچکا ہے ۔

[71] ...امام ابوعمرودانی رحمۃ اللہ علیہ کی جامع البيان فی القرأت السبع کا عنوان نام سے ہی ظاہرہے،اس مقبولیت کا اندازااس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اسے دنیا کے کئی مطابع نے شائع کیا ہے ،مثلا دارالحدیث قارہرہ مصرنے اسے 3جلدوں میں شائع کیا ہے ،جن کے کل صفحات 1584ہیں ۔

[72] ...سیراعلام النبلاء، 13/481تا485۔

[73] ...امام ابوالحسن طاہررحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’التذکرۃ فی قرأت الثمان‘‘کا موضوع علوم القرآن اورتفسیرہے ،اس کی ایک جلدہے اورصفحات کی تعداد400ہے۔دارالکتب العلمیہ بیروت نے اسے شائع کیا ہے ۔

[74] ...غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء،1/307، معرفۃ القراء الکبار علی طبقات والاعصار، 2/862، ھدایۃ القاری الیٰ تجوید کلام الباری، 2/800

[75] ... ھدایۃ القاری الیٰ تجوید کلام الباری، 2/750، غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء، 1/501، معرفۃ القراء الکبار علی طبقات والاعصار، 2/618

[76] ... تاريخ بغداد، 4/406، غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء، 1/59، معرفۃ القراء الکبار علی طبقات والاعصار، 1/488

[77] ... غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء، 1/440، معرفۃ القراء الکبار علی طبقات والاعصار، 1/411، النشر فی القراءت العشر، 1/157

[78] ...غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء، 1/229، معرفۃ القراء الکبار علی طبقات والاعصار، 1/287، النشر فی القراءت العشر، 1/156،الاعلام للزرکلی، 2/264

[79] ... سیراعلام النبلا،6/79تا83، تاریخ ابن عساکر، 25/220 تا 242،تہذیب التہذیب،4/131، غایۃ النہایۃ فی طبقات القراء، 1/315

[80] ...سیراعلام النبلا،5/249تا252، طبقات ابن سعد، 6/212تا214، تہذیب الکمال للمزی، 5/298

[81] ...واقعہ ٔ دیرجماجم شعبان 82ھ میں پیش آیا، اہل کوفہ وبصرہ سپہ سالارعبدالرحمن بن محمد بن اشعث اوراہل شام حجاج بن یوسف کی سربراہی میں مقابل آئے،عبدالرحمن کے لشکرمیں کئی علما مثلا حضرت سعید بن جبیر،حضرت عامرشعبی،حضرت عبدالرحمن ابن ابی لیلی اورحضرت کمیل بن زیادرحمۃ اللہ علیہم شامل تھے،یہ لڑائی کئی ماہ جاری رہی ،عبدالرحمن کے لشکرکی شکست پر اس جنگ کا اختتام ہوا۔

[82] ... طبقات ابن سعد، 6/161، الاستیعاب، 2/131،تذکرۃ الحفاظ،1/49

[83] ... معرفۃ الصحابہ لابی نعیم،1/79تا94، 3/361، معجم کبیر، 1/77، 78، 85، 87، الاصابہ، 4/377تا 379، تاریخ ابن عساکر، 39/8، 27، 225، الریاض النضرۃ،جز3، 2/5، 33، 103، الزھد لامام احمد،ص 154، رقم: 680،سنن کبریٰ للبیہقی،2/61، حدیث:2374

[84] ... نورِچشمِ رسول، جگر گوشۂ بتول، حضرت سیدنا امام ابو محمد حسن مُجتبٰی رضی اللہ عنہ کی ولادت 15رمضان 3ھ کو مدینۂ منوّر ہ میں ہوئی اوریہیں 5ربیعُ الاوّل 49یا50ھ کو زہر دئیے جانے کے سبب شہادت پائی، مزارِپُرانوارجنّتُ البقیع میں ہے، آپ حضرت علیُّ المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کےبڑے بیٹے،حضرت سیّدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے شہزادے،نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مشابِہ اور جنّت کے نوجوانوں کے سردار تھے، شجاعت، سیادت (سرداری)،سخاوت، تقویٰ و عبادت کے خوگر تھے، آپ کی شان میں کئی فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں جن میں سے ایک یہ ہے : میرا یہ بیٹا سردار ہے، یقیناً اللہ پاک اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائےگا۔(بخاری، 2/546، حدیث:3746، الاصابۃ، 2/60تا65، صفۃ الصفوۃ، 1/386)

[85] ... سیّدُالشُّہداء، امامِ عالی مقام، حضرت سیّدُنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت 5شعبانُ المعظم 4ھ کو مدینۂ منوّرہ میں ہوئی اور 10محرمُ الحرام61ھ کو کربلائے معلیٰ (کوفہ، عراق) میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ نواسۂ رسول، نورِ عینِ فاطمہ بتول، جگر گوشۂ علیُّ المرتضیٰ اور پیکرِ صبر و رضا تھے۔ آپ عبادت ، زہد، سخاوت، شجاعت، شرم و حیا اور اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔ آپ نےراہِ حق میں سب کچھ لُٹا دیا لیکن باطل کے سامنے سَر نہ جھکایا اور شہادت کا جام پی لیا۔ آپ کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اسلام زندہ ہے۔(سیراعلام النبلاء، 4/401تا429)

[86] ... ابن ماجہ، 3/90،حدیث: 2310، طبقات ابن سعد، 2/257تا 259، 3/13تا29،تاریخ ابن عساکر، 42/3تا589، زرقانی علی المواھب، 1/449، تاریخ الخلفاء،ص132، الریاض النضرۃ،جز3، 2/103، 239، اتحاف السائل للمناوی، ص33، تہذیب الاسماء،1/344تا349

[87] ... طبقات ابن سعد، 2/259، 3/378تا381، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،1/78تا80، تہذیب الکمال للمزی، 1/318تا322

[88] ... طبقات ابن سعد، 2/273تا276، سیراعلام النبلا، 4/73 تا82، الاستیعاب، 2/111تا113

[89] ... زُہد و تقویٰ کے جامِع صحابی حضرت سیّدُنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےرضاعی بھائی،قدیمُ الاسلام،حبشہ و مدینہ دونوں جانب ہجرت کرنے والے، سادہ و نیک طبیعت کے مالک، کثرت سے عبادت کرنے اور روزے رکھنے والے، اصحابِ صُفَّہ اور بَدری صَحابہ میں سےتھے۔شعبانُ المعظّم3ھ میں فوت ہوئے اور مُہاجرین میں سب سے پہلے جنّتُ البقیع میں دفن کئے گئے۔ (حلیۃ الاولیاء، 1/147تا151، جامع الاصول،13/313،314)

[90] ...امامُ العلما حضرت معاذ بن جبل انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ 17 سال کی عمرمیں بارہویں سنِ نبوت کو اسلام لائے،بیعتِ عقبہ اوربدرسمیت تمام غزوات میں شریک ہوئے،آپ حسن وجمال کےپیکر،حلم وحياءوسخاوت سے متصف، ذہین و فطین، اَخّاذ طبیعت کے مالک، جمعِ قراٰن کا شرف پانےوالے ،کثیراحادیث کے راوی،مرتبۂ اجتہاد پر فائز، پختگیِ علم سے مالامال اورعظیم فقیہ تھے، یمن کے گورنر بنائے گئے، فتحِ مکہ کے وقت نومسلمین کی تربیت کرتے، آپ نے 38سال کی عمرمیں طاعون عمواس(محرم وصفر18ھ)میں وصال فرمایا،فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم :يأتي معاذ بن جبل يوم القيامة أمام العلماء یعنی معاذبن جبل قیامت کے دن امامُ العلماہو کرآئیں گے۔(معجم الکبیر، 20/29، حدیث:40، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، 6/107، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 3/460)

[91] ... طبقات ابن سعد، 2/260تا 262، 3/111تا119، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،3 / 394 تا400، تذکرۃ الحفاظ، 1/16تا18

[92] ... مدارج النبوت ،2/14،آخری نبی کی پیاری سیرت ، 143تا145

[93] ... تفسیرمیزان الادیان،1/ 81 میں یہ لکھا ہے : انہوں (شىخ القراء عبدالخالق مرحوم)نے شىخ احمد بقرى سے۔ انہوں(شیخ احمد بقری ) نے شىخ محمد بقرى سے(سندقرآن حاصل کی )مگریہ درست نہیں ،قاری عبدالخالق صاحب نے شیخ احمدبقری سے سند نہیں لی بلکہ شیخ محمد بقری سے لی ہے ،اس میں شیخ احمد بقری کاواسطہ زائد لکھا گیا ہے اس لیے اسے حذف کردیا گیا ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ علامہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی کی یہ سند وہی ہے جس کا اتصال حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سے ہے اورعلامہ محدث دہلوی نے اپنی سند قرآن یوں تحریرفرمائی ہے،قال:تلوتہ الی آخرہ بروایۃ حفص علی الشیخ عبدالخالق متوفی شیخ القراء بمحروسۃ’’دلی‘‘قال:قرأت القرأن کلہ بالقراءات السبع علی الشیخ البقری والبقری تلابہاعلی شیخ القراءبزمانہ الشیخ عبدالرحمن الیمنی۔۔۔( فتح الرحمن بترجمۃ القرآن،ص611)اس سے معلوم ہوا کہ شیخ عبدالخالق اورشیخ عبدالرحمن یمنی کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے شیخ بقری کا اوریہاں شیخ بقری سے مراد شمس الملت والدين حضرت شیخ ابو الاكرام محمد بن قاسم بن اسماعيل بقری ہیں کیونکہ دیگراسناد میں اس نام کی صراحت ہے۔یہاں ایک اورمفید بات ذکر کرنا مناسب ہے کہ شیخ عبدالخالق مصری دہلوی اورشیخ احمد بقری مصری(ان کام مکمل نام شیخ ابوسماح احمدبن رجب بقری شافعی ہے )دونوں شیخ محمد بن قاسم بقری کے شاگردہیں،خلاصہ یہ ہے کہ دنوں استاذشاگردنہیں بلکہ کلاس فیلوہیں ۔

[94]... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 81

[95] ... اتحاف الاخوان باسانیدمولانا فضل الرحمن کے مؤلف حضرت شیخ احمدابوالخیرجمال العطارمکی احمدی

(ولادت ،1277ھ مطابق1861ء،وفات تقریباً1335ھ مطابق 1916ء)رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،انھوں نے اسے 28شعبان 1306ھ میں تالیف فرمایا، اس کے 24صفحات ہیں،پروگریسوبکس لاہورنے اسے ملفوظات شاہ فضل ِ رحمن گنج مرادآبادی کےآخرمیں 2020ء کو شائع کیا ہے ۔

[96] ... جدِّ اعلیٰ حضرت،مفتی رضا علی خان نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ عالم، شاعر،مفتی اورشیخ طریقت تھے۔1224ھ میں پیدا ہوئے اور 2جمادی الاولیٰ1286ھ میں وصال فرمایا، مزار قبرستان بہاری پورنزدپولیس لائن سٹی اسٹیشن بریلی شریف (یوپی، ہند) میں ہے۔ (معارف رئیس اتقیا،ص17، مطبوعہ دہلی)

[97]... تذکرۂ مُحدّثِ سورتی، ص53-57،تجلیات ِ تاج الشریعہ، ص86

[98]... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 70،78

[99]... حیاتِ اعلیٰ حضرت،1/58، 3/295،مکتبۃ المدینہ، تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ ، ص282، 301

[100] ... مفتیِ اعظم پاکستان، سیّدُ المحدّثین حضرت علامہ ابوالبرکات سیّد احمد قادری رَضَوی اشرفی صاحب مفتی سیددیدارعلی شاہ صاحب کے چھوٹے صاحبزادے ہیں، یہ استاذُ العلما، شیخ الحدیث، مناظرِ اسلام، بانی و امیر مرکزی دار ُالعُلوم حِزب ُالاحناف اور اکابرینِ اہلِ سنّت سے ہیں۔ 1319 ہجری کو محلہ نواب پور اَلْوَر (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور مرکز الاولیا لاہور میں 20شوّال 1398ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک دارُ العلوم حِزب الاحناف داتا دربار مارکیٹ مرکز الاولیا لاہور میں ہے۔(تاریخِ مشائخِ قادریہ رضویہ برکاتیہ، ص 318-314)

[101] ... مفسرِ قراٰن حضرت علامہ سَیِّد ابوالحَسَنَات محمد احمد قادِرِی اَشْرَفی صاحب مفتی سیددیدارعلی شاہ صاحب کے بڑے صاحبزادے ہیں،یہ 1314ھ الور (راجستھان) ہند میں پیدا ہوئے اور 2شعبان 1380ھ میں پاکستان کے دوسرے بڑے شہر مرکزالاولیا لاہور میں وفات پائی، مزارِ داتا گنج بخش سیّد علی ہَجْویری کے قرب میں دفن ہونے کا شرف پایا۔ آپ حافظ، قاری، عالمِ باعمل، بہترین واعِظ، مسلمانوں کے مُتَحَرِّک رہنما اور کئی کتب کے مُصَنِّف تھے۔ تصانیف میں تفسیرُالحَسَنات (8جلدیں) آپ کا خوبصورت کارنامہ ہے۔( تذکرہ اکابراہلسنت، ص442، تفسیرالحسنات، 1/46)

[102]... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 81،80

[103]... مقدمہ تفسیرمیزان الادیان ،ص ،80

[104] ... قاری مصلح الدین عباسی پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف آگے آرہا ہے ۔

[105] ... سِراجُ الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدّثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ علوم و فُنون کے جامع، استاذُ العلما و المحدثین، مُفَسِّرِ قراٰن، مصنّف اور مفتیِ اسلام تھے، تفسیرِ عزیزی، بُستانُ المُحدّثین ، تحفۂ اِثنا عشریہ اورعاجلہ نافعہ آپ کی مشہور کُتُب ہیں۔ 1159ہجری میں پیدا ہوئے اور 7 شوال 1239ہجری میں وِصال فرمایا، مزار مبارک درگاہ حضرت شاہ وَلِیُّ اللہ مہندیاں، میردرد روڈ، نئی دہلی میں ہے۔( الاعلام للزرکلی، 4/ 14۔ اردو دائرہ معارفِ اسلامیہ، 11/634)

[106] ...لال قلعہ دہلی کی ایک قدیم عمارت ہے جسے مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنے دورِ حکومت ( 1628 ء تا 1658ء)میں بنایا ہے ،اس میں تخت ِ طاؤس بھی ہے جس پربیٹھ کربادشاہ حکمرانی کیاکرتے تھے ،اب یہ ایک تاریخ عمارت کے طورپر یادگارہے،اس کے دودروازے ہیں ،دلی دروزاہ اورلاہوردروازہ ،اس تاریخ عمارت کودیکھنے کے لیے لوگ دوردورسے آتے ہیں ۔

[107]... تذکرہ قاریان ہند،217،262،پانی پت کے علماومشائخ ،210

[108] ... علامہ قاری عبدالرحمن انصاری محدث پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ تذکرہ آگے آرہا ہے ۔

[109]... پانی پت کے علماومشائخ ،210،211،تذکرہ رحمانیہ ،26

[110]... تذکرہ قاریان ہند،240

[111]... تذکرہ قاریان ہند،212

[112]... تذکرہ قاریان ہند ،203

[113]... تفسیرمیزان الادیان ،1/ 80

[114]... مقدمہ مِیزانُ الادیان بتفسیرالقرآن،ص،77،80

[115]... اساتذۂ امیرِملّت،ص،61تا68

[116]... تذکرہ قاریان ہند،217، پانی پت کے علماومشائخ ،210،تذکرہ رحمانیہ ،69

۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞