اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

دینِ اسلام کی بے شمار خصوصیات ہیں ان میں سے   ایک خصوصیت "میانہ روی" (اعتدال )بھی ہے،خرچ (کمائی)میں میانہ روی کرنے کو "کفایت شعاری" (frugality)کہا جاتا ہے، دینِ اسلام ہمیں ہر چیز میں میانہ روی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے، چاہےاس کا تعلق کمانے سے ہو یا کھانے سے، یا لباس پہننے سے حتی کہ نوافل عبادات میں بھی دینِ اسلام ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے ۔

فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم :خرچ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے ۔

(مشکوۃ المصابیح، ج2، ص227، حدیث: 5067)

یعنی خوشحال وہی شخص رہتا ہے، جسے کمانے کے ساتھ خرچ کرنے کا بھی طریقہ آتا ہو، کیونکہ کما نا تو سب کو آتا ہے لیکن خر چ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔(مراۃ المناجیح ملخصاً، 634/6)

اخراجات:

ہمیں اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے، نہ تو فضول چیزوں میں ہمیں اپنی آمدنی خرچ کرنی چاہیے اور نہ ہمیں جس جگہ پر خرچ کرنے کا حق ہے وہاں خرچ نہ کر کے کنجوسی کرنی چاہیے، بلکہ ہمیں میانہ روی کو اپنانا چاہیے اورسادگی اور صبر سے کام لینا چاہیے۔

اللہ پاک سورت بنی اسرائیل کی آیت نمبر29 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹)ترجَمۂ کنزُالایمان:اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ پورا کھول دے کہ تو بیٹھ رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا ۔(بنی اسرائیل ،29 )

اس آیت کے تحت مفتی قاسم صاحب اپنی تفسیر صراط الجنان میں لکھتے ہیں:" کہ خرچ میں ا عتدال کو ملحوظ رکھنے کا کہا گیا ہے ، اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلوم ہو گویا ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے اور دینے کے لئے ہل ہی نہیں سکتا ، ایسا کرنا تو سببِ ملامت ہوتا ہے، کہ بخیل کنجوس کو سب لوگ برا کہتے ہیں اور نہ ہی ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے کہ اس صورت میں آدمی کو پریشان ہو کر بیٹھنا پڑتا ہے ۔(تفسیر صراط الجنان، ج5، ص153)

فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم :"جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے مال دار بنا دیتا ہے اور جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اسے محتاج کردیتا ہے۔

(مسند البزار، 161/3، حدیث946)

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم اپنےاخراجات کا جائزہ لیں تو جو فضول یا زائد چیز نظر آئے تو اسے اپنے اخراجات سے نکال دیں اور جو صحیح معلوم ہو اسے باقی رکھیں، پھر ہمیں اپنے سے اوپر والوں کو نہیں دیکھنا چاہیے کہ اس کے پاس تو گاڑی ہے اور میرے پاس موٹر سائیکل بھی نہیں، اس کے پاس تو بنگلہ ہے اور میرے پاس تو اپنا ذاتی گھر بھی نہیں، بلکہ اپنے سے نیچے والوں کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، کہ کتنے لوگ ایسے بھی ہیں جن کے پاس کھانے کو رزق نہیں ہے اور نہ ہی پہننے کو کپڑے ہیں۔

ان شاءاللہ ایسا کرنے سے میانہ روی کرنے، جو ہے اسی پر قناعت و صبر کرنے کا جذبہ ملے گا اور ہمیں چاہیے کہ ہم جس حال میں بھی ہیں، ہمیں اللہ پاک کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔

حدیث پاک میں ہے:" قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار اس کی تمنا کرے گا کہ( کاش) دنیا میں اسے صرف ضرورت کے مطابق رزق دیا جاتا۔

( سنن ابن ماجہ کتاب الزھد، باب القناعۃ، 4/442 ،حدیث: 235)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خرچ میں میانہ روی، جو ہے اس پر صبرو شکر کرنے، فضول خرچی اور کنجوسی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

بلاشبہ اسلام کی نظر میں کفایت شعاری ایک ایسافعل ہے جس سے چین و سکون اور راحت و آرام حاصل ہوتا ہے اخراجات میں کفایت شعاری و میانہ روی اختیار کرنے وا لا شخص صبر، شکر اور قناعت جیسی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے۔

اعتدال پسند شخص اخراجات میں بھی تدبیر سے کام لیتا ہے کیوں کہ راحت و سکون اس چیز کا نام نہیں کہ زیادہ لذیذ کھانا کھایا جائے، بلکہ راحت و سکون تو میانہ روی اور کفایت شعاری میں ہےکہ صرف ضروریاتِ زندگی جتنی ہی مقدار میں اس دنیا سےلیا جائے خواہشات سے بچا جائے کیوں کہ خواہشات کو جتنا بڑھانا چاہو تو بڑھتی چلی جائیں گی حاجت تو فقیر کی بھی پوری ہو جاتی ہے مگر خواہشات تو بادشاہوں کی بھی پوری نہیں ہو پاتیں اور اگر اپنے نفس کو تھوڑے اور کفایت شعاری کا عادی بنالیا جائے توہزاروںمصیبتوں اور تکالیف سے نجات مل جائے گی۔

اسلام ہمیں خرچ کرنے میں اِعتدال کو ملحوظ رکھنے کا فرماتا ہے اور اسے ایک مثال سے سمجھایا گیا کہ نہ تو اس طرح ہاتھ روکو کہ بالکل خرچ ہی نہ کرو اور یہ معلو م ہو گویا کہ ہاتھ گلے سے باندھ دیا گیا ہے اور دینے کے لئے ہل ہی نہیں سکتا ، ایسا کرنا تو سبب ِملامت ہوتا ہے کہ بخیل ،کنجوس کو سب لوگ برا کہتے ہیں اور نہ ایسا ہاتھ کھولو کہ اپنی ضروریات کے لئے بھی کچھ باقی نہ رہے کہ اس صورت میں  آدمی کو پریشان ہوکر بیٹھنا پڑتا ہے۔اس بات کو اللہ تعالٰی قرآن مجید میں یوں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا(۲۹)ترجمۂ کنز العرفان : اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ پورا کھول دو کہ پھر ملامت میں ، حسرت میں بیٹھے رہ جاؤ۔(بنی اسرائیل ،29 )

صحابہ کرام رضی اللہُ عنہ کی کفایت شعاری ملاحظہ فرمائیں حضرت حسن بصری  فرماتے ہیں : میں نے ستر بدری صحابہ کرام رضی اللہُ عنہم کو دیکھا، وہ  اللہ تعالٰی کی حلال کردہ اَشیاء سے اس قدر اِجتناب کرتے تھے جتنا تم حرام اشیاء سے پرہیز نہیں کرتے۔دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ جس قدر تم فراخی کی حالت پر خوش ہوتے ہو ا س سے زیادہ وہ آزمائشوں پر خوش ہو اکرتے تھے،اگر تم انہیں دیکھ لیتے تو کہتے یہ مجنون ہیں ،اور اگر وہ تمہارے بہترین لوگوں کو دیکھتے تو کہتے: ان لوگوں کا کوئی اخلاق نہیں ،اور اگر وہ تم میں سے برے لوگوں کو دیکھتے تو کہتے:ان کا قیامت کے دن پر ایمان نہیں ۔ ان میں سے ایک کے سامنے حلال مال پیش کیا جاتا تو وہ نہ لیتا اور کہتا:مجھے اپنے دل کے خراب ہونے کا ڈر ہے۔ ( احیاء علوم الدین، کتاب الفقر والزہد، بیان تفصیل الزہد فیما ہو من ضروریات الحیاۃ ،  ۴ / ۲۹۷ )

اللہ تعالیٰ ہمیں فضول خرچ کرنے سے منع فرماتا ہے کہ اپنا مال ناجائز کام میں خرچ نہ کرو ۔ ارشاد خدا وندی ہے وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷) ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو، اور فضول خرچ نہ کرو، بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔(بنی اسرائیل، آیت 27)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ سے تَبذیر کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جہاں مال خرچ کرنے کاحق ہے اس کی بجائے کہیں  اور خرچ کرنا تبذیر ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنا پورا مال حق یعنی اس کے مَصرف میں  خرچ کر دے تو وہ فضول خرچی کرنے والا نہیں  اور اگر کوئی ایک درہم بھی باطل یعنی ناجائز کام میں  خرچ کردے تو وہ فضول خرچی کرنے والا ہے۔ ( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ : ۲۶ ، ۳ / ۱۷۲ 

اللہ پاک  سےدعا ہے کہ وہ ہمیں کِفایت شِعاری اختیار کرنے ،اَخراجات پر قابوپانے اور ماہانہ آمدنی کو مَعقول طریقے سے استعمالکی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

اخراجات میں کفایت شعاری کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے اخراجات  کے معاملے میں اعتدال،توازن اورمیانہ روی اختیار کرے اور غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کرے۔ زندگی کی گاڑی اخراجات کے پہیوں پر چلتی ہے۔ اخراجات میں کفایت شعاری اس زندگی کی گاڑی کو چین و سکون کے ساتھ آرام سے چلتے رہنے میں مدد کرتی ہے۔

آجکل معاشرے میں جہاں ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہاں ایک بڑی بیماری فضول خرچی بھی ہے۔ سوچے سمجھے بغیر خرچ کرنا اور پھر ہر وقت روتےرہنا کہ اخراجات پورے نہیں ہوتے، مہنگائی بہت ہے وغیرہ وغیرہ۔

فضول خرچی کرنے والوں کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک اڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے) شیطانوں کے بھائی ہیں ۔(پ15،بنی اسرائیل: 27)

 تفسیر صراط الجنان:

  اس سے پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ فضول خرچی نہ کرو جبکہ اس آیت میں فرمایا کہ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں کیونکہ یہ ان کے راستے پر چلتے ہیں اورچونکہ شیطان اپنےرب کابڑا ناشکرا ہے،لہٰذا اُس کا راستہ اختیارنہیں کرنا چاہیے ۔

(مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ:۲۷، ص۶۲۱،ملخصاً)  

محترم قارئین، ہمیں چاہیے کہ مہینے کے شروع میں یا جب تنخواہ ملتی ہے تو اس وقت ایک بجٹ بنا لیا کریں کہ ہم پیسے کیسے اور کہاں خرچ کریں گے۔ جو کام ضروری ہیں ان کی ایک لسٹ بنا لیں، اور جو کام معمول میں شامل ہیں لیکن غیر ضروری ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم پہلے سے ہی سمجھداری سے کام لیں تو ہمیں مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ہر انسان اگر اپنے بجٹ کے مطابق زندگی گزارے، اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائےتو ان شاءاللہ کبھی دشواری نہیں ہوگی۔

ہمیں اپنے معاملات میں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔اعتدال صرف چند چیزوں تک محدود نہیں بلکہ دینی معاملات سے لے کر دنیوی معمولات تک ہر جگہ اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیئے۔

کفایت شعاری کا ایک بہترین طریقہ یہ بھی ہے کہ کچھ نہ کچھ پیسے ہر مہینے جمع کر تے رہیں۔ اللہ نہ کرے کبھی کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو کچھ نہ کچھ جمع کیا ہوا ہو۔ ابھی آج کل ہی کی مثال لے لیجئے کہ یہ جو کرونا نے تباہی مچائی ہے اس سے لوگ کتنے متاثر ہوئے ہیں، لوگوں کے چلتے کاروبار بند ہو گئے۔ جس کے پاس کچھ نہ کچھ جمع کیا ہوا تھا اس کو لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑ رہا۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر قسم کی آزمائش سے بچا ئے اور ہمیں اخراجات میں کفایت شعاری کرنے کا ہنر عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

اسلام ایک دینِ کامل اور مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں انسان کے پیدا ہونے سے لے کر موت تک زندگی کے تمام شعبہ جات کے حوالے سے مکمل رہنمائی موجود ہے ۔معاشرت ہو یا حکومت ، تجارت ہو یا معیشت الغرض ہر حوالے سے اسلام نے انسانوں کی بہترین تربیت کی ہے۔

کفایت شعاری بھی ان میں سے ایک ہے ۔ اسلام میں فضول خرچی کرنا یا پھر کنجوسی کرنا دونوں سے ہی منع کیا گیا ہے اور درمیانی راہ چلتے ہوئے میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے۔ کفایت شعاری کے کثیر دینی و دنیاوی فوائد ہیں ۔

رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے: خرچ میں مِیانہ رَوِی آدھی زندگی ہے۔(مشکوۃ المصابیح،ج2، ص227، حدیث:5067)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: خوش حالی کا دار و مَدار دو چیزوں پر ہے، کمانا، خرچ کرنا مگر اِن دونوں میں ”خرچ کرنا“ بہت ہی کمال ہے، کمانا سب جانتے ہیں خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے، جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ اِنْ شَآءَ اللہ ہمیشہ خوش رہے گا۔(مراٰۃ المناجیح، 6/634)

فضول خرچی، اِدھر اُدھر پیسے برباد کرنے اور عیاشیوں میں اڑانے والے اکثر بے برکتی اور تنگی رزق کا رونا روتے رہتے ہیں۔ اسراف کی مذمّت میں قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: وَ لَا تُسْرِفُوْاؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور فضول خرچی نہ کرو بیشک وہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ (پ8،الانعام:141)

اپنی روز مرہ کی زندگی میں نفسانی خواہشات کو بھی قابو میں رکھنے اور چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے سے تھوڑی آمدن بھی کفایت کرتی ہے ۔ بلا ضرورت صرف دکھاوے اور واہ واہ کروانے کیلئے نئے کپڑے، گاڑی، گھر، فرنیچر وغیرہ خریدنا اور پھر محدود آمدنی ہونے کے وجہ سے طرح طرح کے مسائل کا شکار ہونا فضول خرچی اور اسراف ہی کا نتیجہ ہے۔

کفایت شعاری کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ بندہ اپنی حیثیت اور ضرورت کے مطابق خرچ کرتا ہے جس کی وجہ سے اسے قرض وغیرہ لینے کی نوبت نہیں پڑتی ۔

حضرت سَیّدُنا امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے شہزادے حضرت حَمَّاد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو نصیحت فرمائی: اپنے پاس موجود مال میں حُسنِ تدبیر(یعنی کفایت شِعاری)سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہوجانا۔(امام اعظم کی وصیتیں،ص32)

الغرض میانہ روی اور کفایت شعاری اختیار کرنے کے کثیر فوائد و برکات ہیں۔ فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ ہے: جو مِیَانہ رَوِی اِختیار کرتا ہےاللہ پاک اُسے غنی فرما دیتا ہے اور جو فضول خرچی کرتا ہےاللہ پاک اُسے تنگ دَسْت کر دیتا ہے۔

(مسند بزار،ج3، ص160،حدیث:946)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں کفایت شعاری کی نعمت عطا فرمائے اور اسراف سے بچائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

روزمرہ کے اَخراجات جو زندگی کی گاڑی چلانے، عزت اور صحت کو بحال رکھنے اور دوسرے حقداروں پر خرچ کرنے کے لیے ضروری ہیں کہ علاوہ غیر ضروری اور نامناسب اخراجات سے احتراز کرنے اور اعتدال پسندی کو اپنا شعار بنانے کو کفایت شعاری کہتے ہیں ۔

کفایت شعاری ایسی عادت ہے جو ہر حالت میں مفید ثابت ہوتی ہے اور ایسا عمل ہے جو ہر حال میں عمدہ و معاون ثابت ہوتا ہے،تندرستی ہو یا بیماری، جنگ ہو یا امن، انسان گھر پر ہو یا باہر کفایت شعاری تفکرات اور پریشانیوں کو کم کرتی ہے اور زندگی خوش اَسلوبی اور چین سے گزرتی ہے،

ضرورت کے لیے خرچ تو بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے، کوئی ضرورت پر بھی نہیں کرتا گویا یہ مختلف طریقے ہیں جس سے انسان زندگی گزارتا ہے، لیکن ان سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ کفایت شعاری اور اعتدال پسندی کو اپنا شعار بنایا جائے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے:" بے شک فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں۔

اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ِگرامی ہے کہ بہترین کام وہ ہیں جن میں میانہ روی اختیار کی جائے۔

فضول خرچی نہ خدا کو پسند ہے اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، اس میں اپنا بھی نقصان، خون پسینے سے کمایا ہوا روپیہ فضول اور غیر ضروری کاموں پر خرچ کر دینا اور خود تکلیف اُٹھانا بھی تو عقلمندی نہیں ہے، فضول خرچ لوگ اپنی حالت سے اس قدر مُطمئن ہو جاتے ہیں کہ آئندہ کی پرواہ نہیں کرتے، مثل مشہور ہے کہ" فضول خرچی سے تو خزا نے بھی خالی ہو جاتے ہیں" ایسے لوگ خواہ ان کے پاس کتنی دولت کیوں نہ ہو، چند روز میں قلاش ہو جاتے ہیں۔پُرانا مقولہ ہے کہ" چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا چاہیے۔

یعنی ہمیں روپیہ خرچ کرنے میں اِحتیاط سے کام لینا چاہیے، نہ تو کنجوس بننا چاہیے اور نہ ہی فضول خرچ، اَخراجات ہمیشہ آمدنی سے کم ہونے چاہیئں، ہمیں سادہ زندگی گزارنی چاہیے اس سے تسکین بھی رہتی ہے اور فضول خر چی کے نُقصانات سے بھی بچا جا سکتا ہے، فضول خرچ ہمیشہ پریشان ہی دیکھے گئے ہیں، چاہے ان کی آمدنی کتنی ہی کیوں نہ ہو۔

لوگ شادی بیاہ، غمی خوشی پر بے جاخرچ کرتے ہیں، اُمراء تو زیادہ خرچ کر سکتے ہیں مگر غریب لوگ بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، اگر سادہ زندگی بسر کرنے اور اعتدال پسندی کی عادت پڑ جائے تو تقریبات بھی سادگی سے سر اَنجام دی جاسکتی ہیں، کفایت شعاری کو اپنانے کے لیے روزمرہ کا حساب لکھنا ضروری ہے، خر چ کرتے وقت کئی بار سوچنا چاہئے کہ آیا یہ ہمارے لیے ضروری ہے یا نہیں؟

تھوڑی آمدنی سے بھی کچھ نہ کچھ بچا لینا عقلمندی اور دُور اندیشی کا تقاضا ہے، ہمارے مُلکی حالات کا بھی یہی تقاضا ہے کہ ہم اِسراف سے احتراز کریں، ہماری بے شمار ضروریات ایسی بھی ہیں جن کے لیے سرمائے کی اَشد ضرورت ہے، ہمارے بے شمار منصوبے نامکمل پڑے ہیں جن پر ہماری ترقی کا انحصار ہے، جو روپیہ ہم فضول خرچی میں ضائع کرتے ہیں، اگر اُسے بچاکر ان منصوبوں پر لگایا جائے تو ملک کی معاشی ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔

"کفایت شعاری ایک قومی دولت ہے ۔( قائد اعظم محمد علی جناح)

میں تو خود بھی اسے کفایت سے خرچ کرو ں

وہ ہے مہنگائی میں مُشکل میں کمایا ہوا شخص


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًاترجمہ کنزالایمان: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔( پ19، فرقان :67)

یہاں کامل ایمان والوں کے خرچ کرنے کا حال ذکرفرمایا جارہا ہے کہ وہ اسراف اور تنگی دونوں طرح کے مذموم طریقوں سے بچتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان اعتدال سے رہتے ہیں (کفایت شعاری اختیار کرتے ہیں )۔

لہٰذا حق يہ ہے کہ جہاں خرچ کرنا واجب ہو وہاں خرچ نہ کرنا بُخْل ہے اور جہاں خرچ نہ کرنا واجب ہو وہاں خرچ کرنا فضول خرچی اور اسراف ہے اور ان دونوں کی درميانی صورت قابلِ تعريف ہے اور يہی وہ صورت ہے جسے کفایت شعار ی سے تعبير کرنا چاہے، کيونکہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو اسی کا حکم ديا گيا ہے۔چنانچہ،

ایک حدیث مبارکہ کا جز ہے کہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :جو میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے غنی فرما دیتا ہے، جو فضول خرچی کرتا ہے اللہ پاک اسے تنگدست کر دیتا ہے اور جو کثرت سے اللہ پاک کا ذکرکرتا ہے اللہ پاک اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔

(جہنم میں لےجانے والے اعمال ، 1/259 )

حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ عَنْہ فرماتے ہیں:آپ صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنا دست ِ اقدس میرے سینے پر مار کر فرمایا:’’اے ابو ذَر! کفایت شعاری سے بڑھ کر کوئی عقلمندی نہیں، گناہوں کو چھوڑنے سے بڑھ کر کوئی تقویٰ و پرہیز گاری نہیں اور حُسنِ اخلاق سے بڑھ کر کوئی شرافت نہیں۔‘‘ (حلیۃ الاؤلیا ءو طبقات الاصفیا ء،جلد ۱ ، ۳۲۱)

کسی نے حضرت سیِّدُناحسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی:ہمیں صحابۂ کرام کی صفات بتائیے۔آپ نے روتے ہوئے فرمایا: ’’ان سے بہت سی علامات ِخیر ظاہر ہوتی تھیں خاص طورپرہدایت،سچائی ،کفایت شعاری اپناتے ہوئے کھردرالباس زیب تن کرنا، عاجزی وانکساری سے چلناپھرنا، رزق حلال ہی کھانا پینا، خشوع وخضوع سے اطاعت ِ الٰہی بجالانا، رضائے الٰہی کی خاطر ہی محبت ونفرت کرنا، نیز ان کے اخلاق اچھے، اخراجات قلیل اورآخرت کے معاملے میں دنیا کا قلیل مال ہی ان کے لئے کافی ووافی تھا۔‘‘

(حلیۃ الاؤلیا ءو طبقات الاصفیا ء،جلد۲ ،ص ،۲۳۷)

حضرتِ سیِّدُناامامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرتِ سیِّدُناحماد رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:)اے میرے بیٹے! اللہ پاک تجھے ہدایت دے اور تیری مدد فرمائے! میں تجھے چندباتوں کی نصیحت کرتا ہوں، اگر تم نے انہیں یاد رکھا اوران پر عمل کیا تو مجھے اُمید ہے کہ دُنیا وآخرت میں سعا دت مند رہو گے۔ ان نصیحتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اپنے پاس موجود مال میں حسنِ تدبیریعنی کفایت شعاری سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہوجانا۔ (امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی وصیتیں ،ص ۳۲)

مفتئ دعوتِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی کفایت شعاری جیسی عظیم خوبی سے متصف تھے آپ کی کفایت شعاری کا انداذہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ اپنی الماری میں صرف چار جوڑے رکھتے، ماہِ ربیعُ النُور میں نئے کپڑے سلواتے تو پرانے کسی کو دے ديتے۔انتقال سے کچھ عرصہ قبل جب پنجاب تشریف لے گئے تو اپنے تمام جوڑے ساتھ لے گئے اور تقسیم کر دیئے تھے۔ (مفتیٔ دعوت اسلامی،ص ۳۹)


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

دنیا میں اللہ پاک نے تمام انسانوں کو ایک جیسا رزق عطا نہیں فرمایا، بعض لوگ غریب ہیں اور بعض متوسط درجے والے اور بعض امیر، اس میں اللہ پاک کی بے شمار حکمتیں ہیں، ان میں سے ایک حکمت کفایت شعاری سے زندگی گزارنا بھی ہے، کفایت شعاری کی تعلیم احادیث مبارکہ اور قرآنی آیات کے ذریعے دی گئی ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو اس میں فضول خرچی نہیں کرتے ، اور کنجوسی بھی نہیں کرتے، وہ درمیانہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔" حضرت عبداللہ ابنِ عمرو سے روایت ہے، رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کھاؤ پیو، صدقہ کرو اور پہنو، جب تک اس میں فضول خرچی یا تکبر کی آمیزش نہ ہو۔"

اسی طرح دوسری حدیث مبارکہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" جو اللہ پاک سے تھوڑے رزق پر راضی رہتا ہے، اللہ پاک اس کے تھوڑے عمل سے راضی ہو جاتا ہے۔"(شعب الایمان،45/139)

ان احادیث مبارکہ اور آیت مبارکہ میں کفایت شعاری کی تعلیم دی گئی ہے کہ انسان جو رزقِ حلال حاصل کرے اس میں سے خود بھی کھائے اور دوسروں(گھر والوں) کی ضروریات کو بھی پورا کرے، اللہ پاک کی راہ میں صدقہ بھی کرے، لیکن خود کو تکبر سے بچائے اور نہ ہی حد سے زیادہ خرچ کرے کیونکہ اسراف اور فضول خرچی جائز مقام پر ناجائز حد تک خرچ کرنا ہے۔

کفایت شعاری کرنے والا ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے کیونکہ اس میں سادگی ہے اور زندگی جتنی سادہ ہوگی پریشانیاں اتنی ہی کم ہوں گی ، ہمارے لئے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سادگی کو اپنایا، آپ کا بستر چمڑے سے بنا ہوا تھا اور فرمایا کہ عیش و عشرت کو ترک کرنا ایمان کا حصّہ ہے، آپ کی اکثر روٹی جو کی روٹی ہوتی، اگر کوئی آپ کی دعوت روٹی اور باسی سالن پر بھی کرتا تو قبول فرما لیتے، آپ نے گویا اپنی مبارک زندگی میں نہ کبھی فضول کلام فرمایا ہے اور نہ کبھی اسراف۔

اللہ پاک ہمیں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کا جذبہ عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

سادہ زندگی گزارنے اور اخراجات کم کرنے کے چند طریقے:

لوگ عموماً آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے اس فکر میں رہتے ہیں سیلری بڑھ جائے یا میری انکم( آمدنی) کے ذرائع بڑھ جائیں، جبکہ اپنے اخراجات کم کرنے کا ذہن کسی کا نہیں ہوتا۔

ہر چیز (کھانے والی ہو یا پہننے والی ) بقدرِ ضرورت ہی استعمال کیا جائے۔

جن چیزوں کی ضرورت ہو پہلے ان کی لسٹ بنالی جائے اور پھر خریداری کی جائے۔

شادی بیاہ اور دیگر اس طرح کے مواقعےپر غور کرلیا جائے اگر پہلے سے کپڑے اور جوتے وغیرہ پہننے کے قابل ہوں تو نئے لینے کی بجائے اُنہی سے کام چلایا جائے۔

سیلری بڑھتے ہی اخراجات نہ بڑھا دئیے جائیں، پھر بسا اوقات آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہو جاتے ہیں، اس طرح زندگی سادہ بھی ہو گی اور آسان بھی، ہر کام کفایت شعاری سے کیا جائے۔


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷)ترجمۂ کنزالایمان:اور رشتہ داروں کو ان کا حق دےاور مسکین اور مسافر کواور فضول نہ اڑا۔بےشک اڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے) شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔(پ15،بنی اسرائیل:26،27)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رب تعالی نے مسلمان کو صرف اسی لئے دولت اور سر مایہ دیا ہے تاکہ وہ اس کو اللہ تعالی کے بتائے ہوئے ان راستوں پر خرچ کرے۔ ان جگہوں اور ان لوگوں پر خرچ کرنا ہی حق خرچ کرنا ہے ۔

کفر و شرک و بدعت اور اللہ اور رسول کی ناپسندیدہ جگہ شیطانی تماشوں میں خرچ کرنا اور اہل حق کو نہ دینا شیطانی کام ہیں۔

ترمذی شریف کی ایک حدیث مبارکہ میں پیارے آقا علیہ الصلاة والسلام کا فرمان ہے: قیامت کے دن بندہ اس وقت تک قدم نہ اٹھا سکے گا جب تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے متعلق سوال نہ کر لیا جائے۔ ان میں دو سوال یہ ہیں: (1)مال کہاں سے کمایا اور( 2)کہاں خرچ کیا ؟

ابلیس ہی بندے کو وسوسہ دیتا ہے کہ سود جوئے اور تماشوں میں دولت لٹاؤ اور ابلیس اپنے رب تعالیٰ کا ہر لمحہ بہت ہی ناشکرا ہے اسی طرح جو اس کے وسوسوں کی پیروی کرے گا وہ بھی اس ہی جیسا اس کا بھائی ہے۔

امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی نے مکاشفۃ القلوب میں ایک حدیث مبارکہ نقل کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس کے لئے خوشخبری ہے جس نے جمع کئے ہوئے مال کو اچھے طریقے پر خرچ کیا۔

لہذا ہمیں چاہیے کہ اخراجات میں کفایت شعاری کو اپناتے ہوئے فضول خرچی سے بچیں۔


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

کفایت شعاری خوشحال زندگی گزارنے کا بہترین ذریعہ اور فضول خرچی بربادی کا پیش خیمہ ہے، اسلام دین و دنیا کے معاملات اور زندگی کے تمام شعبوں میں بہترین انداز کی طرف گامزن کرتا ہے، دینِ اسلام ہمیں اخراجات میں کفایت شعاری کا درس دیتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں، گھر ہو یا ملکی معیشت اخراجات پر کنٹرول رکھنا بے حد ضروری ہے ۔

دورِ حاضر میں کفایت شعاری کی ضرورت: دورِ حاضر میں معمولی سی نظر دوڑانے سے یہ بات عیاں ہوتی ہےکہ آج ہم مَحْض دِکھاوے کے شوق یا دوسروں سے آگے بڑھنے کی خاطر اپنے بجٹ کا زیادہ تر حصہ فیشن (Fashion) اور دیگر غیر ضروری چیزوں میں صرف کردیتے ہیں جس کی وجہ سے دوسروں پر بوچھ بنتے اور لوگوں سے اُدھار مانگتے نظر آتے ہیں۔ یاد رکھیں! کفایت شعاری میں ہی خوشی اور سکون و عافیت ہے جبکہ اس کے برعکس اگر خرچ کو منظّم انداز میں نہ چلایا جائے تو گھروں میں بے سکونی بے برکتی، شکوہ و شکایات، گھریلو جھگڑے اور ذہنی اُلجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔

اللہ كريم اپنے نیک بندوں کی صفات میں ایک صفت یہ بھی

بیان فرماتا ہے:﴿ S66"uî}6"r˜}"’'4º2?>"6

c®"ïJI£ترجمۂ کنزُالایمان: اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھے اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہيں۔

(پ19،الفرقان:67)

کفایت شعاری کے معنی :کفایت شعاری کا معنی ہے کہ انسان اپنے اخراجات اور خریداری کے معاملے میں اِعتدال، تَوازُن اور مِیانہ رَوی اختیار کرے نیز غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کرے۔ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:خرچ میں مِیانہ رَوی آدھی زندگی ہے۔(معجم الاوسط،5/108،حدیث:6744)

حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرَّحمہ اس حدیثِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: خوش حالی کا دارو مَدار دو چیزوں پر ہے، کمانا، خرچ کرنا مگر اِن دونوں میں ”خرچ کرنا“ بہت ہی کمال ہے، کمانا سب جانتے ہیں خرچ کرنا کوئی کوئی جانتا ہے، جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آگیا وہ اِنْ شَآءَ اللہ ہمیشہ خوش رہے گا۔(مراٰۃ المناجیح،6/634)

مشہور کہاوت ہے ’’ضرورت‘‘ تو فقیر کی بھی پوری ہوجاتی ہے لیکن ’’خواہش‘‘بادشاہ کی بھی پوری نہیں ہو پاتی۔ امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شہزادے کو نصیحت فرمائی: اپنے پاس موجود مال میں حُسنِ تدبیر (یعنی کفایت شِعاری)سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہوجانا۔ (امام اعظم کی وصیتیں، ‏ص32)

کفایت شعاری اختیار کرنے کا طریقہ:٭ماہانہ و ہفتہ وار خرچ کا جائزہ لیں کہ کب؟ کہاں؟ کیوں؟ کیسے؟ اور کتنا خرچ کرنا ہے ٭ماہانہ سیلری کو منظم انداز میں استعمال کریں ٭اس سوچ کو خود سے دور کريں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ٭ بے جا خواہشات کو ترک کرکے ضروریات کی طرف توجہ دیں ٭طرزِ زندگی میں سادگی کو شامل کریں۔

اللہ پاک ہمیں کفایت شعاری اختیار کرنے اور اس کی برکتیں نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

کفایت شعاری کا معنی ہے کہ انسان اپنے اخراجات اور خریداری کے معاملے میں اعتدال ۔توازن اور میانہ روی اختیار کرے اور غیر ضروری اخراجات سے پرہیز کرے۔ ایک عام آدمی کی ضروریات بہت زیادہ نہیں ہیں ۔کہانے کے لئے دو وقت کی روٹی۔پہننے کے لئے کپڑے اور رہائش کے لئے مکان لیکن انسان نے اب اپنی ضروریات کو کھینچ تان کر بہت پھلا لیا ہے ۔انواع و اقسام کے کھانے ۔ مختلف ڈیزائنوں کے بیسیوں جوڑے صبح کا الگ شام کا الگ دفتر کا الگ اور رات کا الگ ، اسی طرح مختلف جوتوں کے ڈھیروں جوڑے ، وسیع مکانات ،آمدورفت کے لئے کئی کئی گاڑیاں یہ طرز زندگی فضول خرچی کا غماز ہے۔اور کفایت شعاری کے طریقے سے بالکل برعکس۔

انسان کے پاس کتنی ہی دولت ہو اسکے وسائل بے حد وحساب ہوں بہرحال یہ وسائل ختم ہونے والے ہیں۔لہذا انسان کے لئے دانشمندانہ طرز عمل یہی ہے کہ جہاں سو روپے کے خرچ سےضرورت پوری ہو سکتی ہے وہاں ایک روپیہ بھی زیادہ خرچ نا کیا جائے۔ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمیں فضول خرچی سے روکتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ- تَرجَمۂ کنز الایمان: کھاؤ اور پیؤ اور حد سے نہ بڑھو۔(الاعراف: 31)

اسی طرح جو لوگ زندگی میں اسرافانہ رویہ اختیار کرتے ہیں انہیں شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے ۔ فرمایا : اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ- تَرجَمۂ کنز الایمان: بےشک اڑانے والے(فضول خرچی کرنے والے) شیطانوں کے بھائی ہیں ۔(بنی اسرائیل: 27)

گویا فضول خرچی شیطانی عمل ہے

نچوڑا ہے ہم سب کو اسراف نے

بنایا ہے قلاش و بے روزگار

نت نئی چیزوں نے ہماری زندگی میں زہر گھول دیا ہے۔ہمارے اسلاف اور ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے زندگی اور معاشرت کا جو نمونہ چھوڑا ہے وہ انتہائی سادگی پر مبنی ہے۔ہم نے سادگی کو چھوڑ کر خود کو مشکلات میں مبتلا کر لیا ہے۔ سادگی اسلام کا حکم بھی ہے اور ہماری ضرورت بھی ہے ۔اگر آج ہم غیر ضروری اخراجات سے بچیں گے تو ہم بچت کرنے کے لائق ہو سکیں گی۔اور یہ بچا ہوا پیسہ کل ہماری مشکلات میں کام آئے گا اور اگر ہم اجتماعی طور پر سوچیں تو یہ روپیہ ہمارے ملک کی ترقی کے کام آئے گا اور اس کا فائدہ پورے ملک و قوم کو ہو گا۔کفایت شعاری سے مہنگائی کو کم کیا جاسکتا ہے ۔معاشیات کا اصول ہے کہ جتنی زیادہ خریداری ہو گی قیمتوں میں اتنا ہی اضافہ ہو گا ۔اگر ہم بے تحاشہ خریداری سے اجتناب کریں تو قیمتوں میں اضافے کا رحجان کم ہوگا۔اور قیمتیں اعتدال پر رہیں گی۔

ہم فضول خرچی میں اس قدر آگے بڑہ چکے ہیں کہ اپنے ملک کی مصنوعات کو چھوڑ کر دوسرے ملک کی مصنوعات خریدتے ہیں۔

پھنسے غیر ملکوں کی اشیاء میں ہم

ہوئے ظاہری شان پر کیوں نثار

مشہور ہے کہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیئے ۔عقلمندی یہ ہے کہ ہم اپنے وسائل کے مطابق زندگی گزاریں۔نمودو نمائش سے پرہیز کریں۔شاندار عمارات آرائشی سازوسامان ۔ اشیائےتعیش اور فیشن پرستی کی دوڑ میں شامل ہونے کی بجائے اپنی ضروریات کو محدود رکہیں۔ظاہر پرستی کو چھوڑ کر سادہ پرستی اپنائیں۔اس طرح نہ صرف ہم مالی طور پر آسودہ ہونگے بلکہ سادگی اور کفایت شعاری ہمیں خوشحال بنائے گی ۔یوں ہماری زندگی کے ساتھ ہماری عاقبت بھی سنور جائے گی۔

سنبھالیں اگر اپنی حالت کو ہم

تو اس طرح ذلت نہ ہو بار بار


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

ہمارا اسلام دین اور دنیا کے مُعاملات میں ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے، تاکہ ہم اپنی زندگی کی بہت ساری اُلجھنوں اور پریشانیوں سے محفوظ رہ سکیں، ایک گھر کو اَمن کا گہوارہ بنانے کے لیے" اخراجات میں کفایت شعاری" بھی بے حد ضروری ہے کہ اس میں خوشی و خُوشحالی اور سُکون و عافیت ہے، اس کے برعکس اگر خر چ کو مُنظّم انداز میں نہ چلایا جائے، پیسہ بے دریغ استعمال کیا جائے، بچت پر توجّہ نہ دی جائے اور اخراجات میں کفایت شعاری(frugality ) کو ترک کیا جائے تو بے سکونی، بے اطمینانی، بے برکتی، شکوہ و شکایت، گھریلو جھگڑے اور ذہنی اُلجھن جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:" خر چ میں میانہ روی آدھی زندگی ہے۔"(مشکاة المصابیح2/227 حدیث5067)

حکیم الاُمت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمۃ الحنان اس حدیث مبارکہ کے تحت کے فرماتے ہیں:" خوشحالی کا دارو مدار دو چیزوں پر ہے، کمانا اور خرچ کرنا، مگر ان دونوں میں خر چ کرنا بہت ہی کمال ہے، کما نا سب جانتے ہیں خر چ کر نا کوئی کوئی جانتا ہے، جسے خرچ کرنے کا سلیقہ آ گیا وہ ان شاءاللہ ہمیشہ خوش رہے گا۔"(مراة المناجیح 6/634)

میری محترم اسلامی بہنوں!آج ہم محض دکھاوے کے شوق یا دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش یا جُھوٹی خوشیوں کی خاطر اپنے بجٹ کا زیادہ تر حصّہ کبھی فیشن(fashion) کے نام پر، کبھی مہنگے ریسٹورنٹ(restaurant (میں کھانا کھا کر، کبھی نئے موبائل، نئی سواری اور نئے فرنیچر کی وجہ سے ، کبھی بلا ضرورت گھر کی تزئین وآرائش کر کے اور کبھی تقریبات میں نت نئے ملبوسات وجیولری کے نام پر خر چ کر ڈالتے ہیں اور پھر طرح طرح کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، دوسروں پر بوجھ بننے اور لوگوں سے اُدھار مانگتے نظر آتے ہیں، یاد رکھیے!!! "ضرورت تو فقیر کی بھی پوری ہو جاتی ہے، لیکن خواہش بادشاہ کی بھی پوری نہیں ہوپاتی۔"

حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنے شہزادے حضرت حماد رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت فرمائی:"اپنے پاس موجود مال میں حُسنِ تدبیر( یعنی کفایت شعاری) سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہو جانا۔"(امام اعظم کی وصیتیں ،ص32)

ماہانہ آمدنی کو معقول طریقے سے استعمال کیجئے، غور فرمائیے! کہ کب، کہاں، کیسے، کیوں اور کتنا خرچ کرنا ہے؟ معاشرے کے رُجحانات کو مت دیکھئے، بلکہ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے اور ہرگز نہ سوچیے کہ لوگ کیا کہیں گے؟

طرزِ زندگی میں سادگی کو اپنا معمول بنائیے، مہینے کے آخر میں اپنی آمدنی اور اخراجات کا موازنہ(comparison ) کیجیے، اور جو خرچ فضول نظر آئے آئندہ اُس سے پرہیز کیجیے، یوں آپ اپنے اخراجات پر قابو پا لیں گے اور کفایت شعاری کی برکتیں نصیب ہوں گی۔

دین اسلام ہمیں میانہ روی وکفایت شعاری کی بہت زیادہ ترغیب دیتا ہے، فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:"جو میانہ روی اختیار کرتا ہے اللہ پاک اُسے غنی فرما دیتا ہے اور جو فُضول خرچی کرتا ہے اللہ اُسے تنگ دست کر دیتا ہے۔"( مسند بزار3/160 حدیث946)

بارگاہِ الٰہی میں دُعا ہے کہ وہ ہمیں کفایت شعاری کو اپنانے اور اپنے اخراجات پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ ہمارا گھر اَمن کا گہوارہ بن جائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اخرجات میں کفایت شعاری

Thu, 11 Feb , 2021
96 days ago

اسلام نے کسی بھی پہلو میں انسان کو آزاد بھی نہیں چھوڑا اور ہر پہلو میں رہنمائی بھی فرما دی ہے،  اگر مطالعہ کیا جائے تو اسلام نے نکاح، طلاق، نماز، روزہ، زکوٰۃ، اذان ، جہاد ، مہر ، قربانی یہاں تک کہ ہر دن کے بارے میں قرآن پاک میں موجود ہے، اسلام نے ہر ایک پہلو میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے، اسی کو ایک جامع اور کامل دین کہا جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کفایت شعاری ہے کیا؟

کفایت شعاری: روپے پیسے کو عقلمندی سے خرچ کرنے کا نام کفایت شعاری ہے، یعنی فضول خرچی اور کنجوسی کی درمیانی حالت کو کفایت شعاری کہتے ہیں، اسی طرح فضول خرچی کا دوسرا نام اِسراف بھی ہے اور فضول خرچی کو محاورے سے بھی سمجھا جاسکتا ہے، یعنی" چادر دیکھ کے پاؤں پھیلانا" جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خرچ کرنا"فضول خرچی "ہے۔

سورہ فرقان میں، اللہ پاک نے عباد الرحمن کے وصف بیان فرمائے ہیں، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا(۶۷) تَرجَمۂ کنز الایمان:اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں۔"(الفرقان، آیت 66)

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا(۲۶) اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(۲۷) ترجمۂ کنز العرفان :اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو، اور فضول خرچ نہ کرو، بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔(بنی اسرائیل، آیت 27)

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠(۳۱)اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیؤ اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں ۔ ( الاعراف، آیت31)

ان آیات سے یہ بات واضح ہے کہ جہاں ہمیں فضول خرچی سے بچنا ضروری ہے وہیں بخل سے بچنا بھی انتہائی ضروری ہے، کیونکہ بخیل چاہے جتنا بھی پرہیزگار کیوں نہ ہو وہ جنت میں داخل ہونے سے محروم رہ جائے گا، کیونکہ بخیلی کی وجہ سے اللہ پاک نے اسے جو علم(نعمت) دیا ہے، لوگ اس تک پہنچنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۶) تَرجَمۂ کنز الایمان:: اور جو اپنی جان کی لالچ سے بچایا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں (التغابن، آیت 16)

مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:"سخی اللہ کے قریب ہے اور انسانوں کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے اور بخیل اللہ سے دور ہے، انسانوں سے دور ہے، جنت سے دور ہے اور جہنم کے قریب ہے۔"

لہذا کفایت شعاری ایک ایسی عادت ہے جو ہر حالت میں مفید ثابت ہوتی ہے اور یہ ایسا عمل ہے جو پریشانیوں کو کم کرتا ہے۔اور زندگی خوش اسلوبی سے گزرتی ہے، ضرورت کے لئے تو خرچ بہر حال کرنا ہی پڑتا ہے، کوئی ضرورت کے مطابق کر لیتا ہے اور کوئی ضرورت پڑنے پر بھی نہیں کرتا، لیکن بہترین طریقہ کفایت شعاری ہے، کیونکہ فضول خرچی سے "خزانے بھی خالی ہو جاتے ہیں۔"