ایصالِ ثواب کا معنی اور  جائز ہونے پر دلیل:

ایصالِ ثواب کے لفظی مَعنی ہیں  :  ’’ثواب پہچانا‘‘ اِ س کو ’’ثواب بخشنا‘‘ بھی کہتے ہیں میت کو نیک اعمال کا جو ثواب پہنچایا جاتا ہے وہ اسے پہنچتا ہے اور یہ بات کثیر اَحادیث سے ثابت ہے جیسا کہ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں  :ایک شخص نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں عرض کی :میری مالدہ ماجدہ اچانک فوت ہو گئی ہیں ،میرا خیال ہے کہ اگر وہ کوئی بات کرتیں توصدقہ دینے کا کہتیں ،اگر میں ان کی طرف سے خیرات کروں تو کیا انہیں ثواب ملے گا۔ ارشاد فرمایا:ہاں ۔

(بخاری، کتاب الجنائز، باب موت الفجأۃ البغتۃ،1 / 468، الحدیث1388)

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  ’’میں  نے (ایک مرتبہ) بارگاہِ رسالت میں  عرض کی: یا رسولَ اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ، سعد کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ،تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ارشاد فرمایا ’’پانی۔ چنانچہ انہوں نے کنوا ں کھدوایااور کہا’’ہٰذِہٖ لِاُمِّ سَعْدٍ‘‘یہ سعد کی والدہ (کے ایصالِ ثواب ) کے لئے ہے۔

( ابو داؤد، کتاب الزکاۃ، باب فی فضل سقی المائ، 2 / 180، الحدیث: 1681)

ایصالِ ثواب کے درست ہونے پر صحیح العقیدہ علماء ِامت کا اِجماع ہے اور فقہ کی کتابوں  میں  بھی بکثرت مقامات پر اس کا جواز مذکور ہے، اسی لئے مسلمانوں  میں  جویہ معمول ہے کہ وہ اپنے مُردوں  کو فاتحہ ،سوم، چہلم ،برسی اور عرس وغیرہ میں  عبادات اور صدقات سے ثواب پہنچاتے رہتے ہیں ، ان کا یہ عمل اَحادیث کے بالکل مطابق ہے۔ نیز یہ بھی یا د رکھیں  کہ ایصالِ ثواب کے لئے شریعت کی طرف سے کوئی دن خاص نہیں  بلکہ جب چاہیں  جس وقت چاہیں  ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں  اور اگر عزیزرشتہ داروں  یا دوست اَحباب کی سہولت کے لئے دن مُعَیّن کر کے ایصالِ ثواب کیا جائے تو اس میں  بھی کوئی حرج نہیں  ہے۔نیز اِیصالِ ثواب کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقِع نہیں ہوتی بلکہ اُمّید ہے کہ اُس نے جتنوں کو ایصالِ ثواب کیا اُن سب کے مجموعے کے برابر اِس کو ثواب ملے گا،مثلاً کوئی نیک کام کیا جس پراُس کو دس نیکیاں ملیں اب اُس نے دس مُردوں کو اِیصالِ ثواب کیا تو ہر ایک کودس دس نیکیاں پہنچیں گی جبکہ اِیصالِ ثواب کرنے والے کو ایک سو دس اور اگر ایک ہزار کو اِیصالِ ثواب کیا تو اِس کو دس ہزار دس وَ عَلٰی ھٰذَا الْقِیاس۔(بہارشریعت، ج1، ص850 ) 

ایصال ثواب کے 5 طریقے:

(1) مرحومین کے لئے دعا کرنا:

ایک بارسُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ اور11بارسُوْرَۃُ الْاِخْلَاص (اوَّل آخِر ایک یا تین بار دُرُود شریف) پڑھ کر اپنے مرحوم والدین، رشتہ داروں یا دیگر متعلقین اور امت محمدیہ کو اس کا ایصال ثواب کریں ۔فرمانِ مصطَفٰے صلی اللہ علیہ وسلم جو قبرستان میں گیارہ بار سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھ کر مُردوں کو اس کا ایصالِ ثواب کرے تو مُردوں کی تعداد کے برابر ایصالِ ثواب کرنے والے کواس کا اَجْر ملے گا۔ (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی 7/285،حدیث:23152)

اگر کسی بزرگ کے مزار پر ہوں تو صاحِبِ مزار کا نام لے کر بھی ایصالِ ثواب کرے اور دُعا مانگے۔  ’’ اَحسَنُ الوِعاء‘‘ میں ہے  :  ولی کے مزار کے پاس دُعا قَبول ہوتی ہے۔

(ماخوذ از احسن الوعاء ص:140)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :  میری اُمّت گناہ سَمیت قَبْر میں داخِل ہوگی اور جب نکلے گی تو بے گناہ ہوگی کیونکہ وہ مؤمِنین کی دعاؤں سے بَخش دی جاتی ہے ۔

(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط 1/509،حدیث:1879)

فرمانِ مصطَفٰے صلی اللہ علیہ وسلم: جو کوئی تمام مومن مَردوں اور عورَتوں کیلئے دعائے مغفرت کرتا ہے، اللہ پاک اُس کیلئے ہر مومن مرد و عورت کے عِوَض ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔(مسندُ الشّامیین لِلطَّبَرانی 3/234،حدیث :2155)

(2) اعمالِ خیر کا ثواب ایصال کرنا:

نماز روزہ، صدقہ، حج، عمرہ طواف ودیگر اعمال خیر کرکے اس کا ثواب زندوں یا مردوں کو پہنچایا جاسکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی وہ عمل کرکے یہ کہے کہ یا اللہ اس کا ثواب فلاں شخص کو پہنچادےجیسا کہ فتاوٰ ی شامی میں ہے: من صام أو صلی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز ویصل ثوابہا إلیہم عند أہل السنة والجماعة کذا في البدائع

(شامی3/152، باب صلاة الجنازة )

سیدی و سندی امام اہلسنت امام احمد رضا خان فاضل بریلری ارشاد فرماتے ہیں کسی بھی نیکی کا اِیصالِ ثَواب کرتے ہوئےجتنےمسلمان مردوعورت آج تک ہوئے، جوموجودہیں اور جتنے قیامت تک آنے والے ہیں اُن سب کو اِیصالِ ثواب کریں۔ ایسا کرنے والے کو تمام مؤمنین و مؤمنات اَوَّلین وآخرین سب کی گنتی کے برابر ثَواب ملے گا۔ (فتاویٰ رضویہ،ج9، ص602ملخصاً)

(3) قربا نی کا ثواب ایصال کرنا:

قربانی کر کے اس کا ثواب اپنے مرحوم والدین، رشتہ داروں یا دیگر متعلقین کو پہنچانا جائز بلکہ بہتر ہے، بلکہ کسی بھی نیک کام کا اجر تمام امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچانا درست ہے، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمائی تھی، اس لئے وفا کا تقاضا ہے کہ استطاعت ہو تو ایک قربانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی کی جائے۔چنانچہ منقول ہے:

"وقد صح «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين: أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته»، وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح''۔

(الدر المختار وحاشيہ ابن عابدين (رد المحتار) 2/ 595)

(4) حج کا ثواب ایصال کرنا:

جو اپنی ماں یا باپ کی طرف سے حج کرے اُن (یعنی ماں یا باپ )  کی طرف سے حج ادا ہوجائے ،   اسے (یعنی حج کرنے والے کو)  مزید دس حج کا ثواب ملے۔

(دارقُطنی 2/329،حدیث:2587)

چنانچہ اس روایت سے معلوم ہوا کہ اگر کسی سے طرف سے حج کیا جائے تو اس کا ثواب دونوں کو ملے گا حج کرنے وا لے کو بھی اور جس کی طرف سے حج کیا گیا اسے بھی۔

(5) ایصالِ ثواب کا مروّجہ طریقہ:

 آج کل مسلمانوں میں خُصُوصاً کھانے پر جو فاتِحہ کا طریقہ رائج ہے وہ بھی بَہُت اچّھا ہے۔  جن کھانوں کا ایصالِ ثواب کرنا ہے وہ سارے یا سب میں سے تھوڑا تھوڑاکھانا نیز ایک گلاس میں پانی بھر کر سب کچھ سامنے رکھ لیجئے۔ اور ایک بار تعوذ و تسمیہ پڑھیں پھر سورۃ الکافرون ، تین بار سورۃ الاخلاص، ایک بار سورۃ الفلق، ایک بار سورہ الناس، ایک بار سور ۃ الفاتحہ ، ایک بار سورۃ البقرہ کی ابتدائی پانچ آیات، یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد یہ پانچ آیات پڑھئے :

 (1)   وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ (۱۶۳)

 (پ2،  البقرۃ : 163)

 (2)   اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (۵۶)  (پ8،  الاعراف : 56)

 (3)   وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۱۰۷)  (پ17 الانبیاء : 107)

 (4)   مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَاللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ (۴۰) (پ22،  الاحزاب : 40)

 (5)  اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا (۵۶)  (پ22 ، الاحزاب : 56)

اب دُرُود شریف پڑھئے  :صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلٰوۃً وَّسَلَامًا عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ

اس کے بعد یہ آیات پڑھئے :سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَۚ (۱۸۰) وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَۚ (۱۸۱) وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ (۱۸۲)  

23، اَلصّٰفٰت : 180۔  182)

 اب فاتِحہ پڑھانے والا ہاتھ اٹھاکربُلند آواز سے ’’ اَلْفَاتِحَہ‘‘ کہے۔  سب لوگ آہِستہ سے یعنی اِتنی آواز سے کہ صِرْف خود سنیں سُوْرَۃُ الْفَاتِحَہ پڑھیں۔  اب فاتحہ پڑھانے والا اِس طرح اعلان کرے :   آپ نے جو کچھ پڑھا ہے اُس کا ثواب مجھے دیدیجئے ۔  ‘‘  تمام حاضِرین کہہ دیں : ’’ آ پ کودیا۔ ‘‘اب فاتحہ پڑھانے والا ایصالِ ثواب  کے لئے دعاکر ے۔

اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا فاتِحہ کا طریقہ:

امامِ اہلسنّت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایصال ثواب و فاتحہ سے قبل ایک بار سورۃ الفاتحہ ، ایک بار آیت الکرسی ، اور تین بار سورۃ الاخلاص کی تلاو ت فرمایا کرتے تھے پھر ایصال ِ ثواب کے لئے دعا فرما یا کرتے تھے۔

(فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ ص 19 تا 23 ملخصاً و بتغییرقلیل)


1۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مرنے کے بعد انسان کے اعمال کے ثواب کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے لیکن تین چیزوں کا ثواب میت کو ملتا رہتا ہے۔

(1) صدقہ جاریہ

(2) لوگوں کو فائدہ دینے والا علم

(3) نیک اولاد جو میت کے لئے دعا کرے۔‘‘

(مسلم شریف: کتاب الوصیۃ، باب: ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ: حدیث :1361)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مومن کو مرنے کے بعد ان اعمال اور نیکیوں کا ثواب ملتا رہتا ہے:(1) وہ علم ہے جو اس نے لوگوں کو سکھایا اور پھیلایا۔(2) نیک اولاد ہے جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑی۔(3) قرآن کی تعلیم جو لوگوں کو سکھائی۔(4) مسجد جو تعمیر کرائی۔(5) مسافر خانہ۔(6) وہ صدقہ جو صحت کی حالت میں اس نے نکالا۔

(ابن ماجہ: مقدمۃ، باب: ثواب معلم الناس الخیر: حدیث نمبر 242)

2۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ماں کی نذر کے بارے میں سوال کیا جسے پورا کرنے سے پہلے وہ فوت ہو گئی تھی۔ آپ نے فرمایا:"اپنی ماں کی طرف سے تم نذر پوری کرو۔"

(بخاری شریف: الوصایا، باب:ما یستحب لمن توفیٰ فجاۃ ۔حدیث :1672، مسلم شریف: النذر: حدیث نمبر8361)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی لیکن حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی کیا میں اس کی طرف سے حج کروں۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں! اس کی طرف سے حج کرو، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتیں؟‘‘ اس نے عرض کیا ہاں! آپ نے فرمایا:’’اللہ کا قرض یعنی نذر ادا کرو، اللہ پاک زیادہ حقدار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔‘‘(بخاری شریف: جزاء العید، باب: الحج والنذور عن المیت: حدیث نمبر 2581)

3۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے باقی ہوں تو اس کا وارث روزے رکھے۔‘‘

(بخاری شریف: کتاب الصوم، باب: من مات وعلیہ صوم: 2591، مسلم شریف: کتاب الصیام، قضاء الصیام عن الموت: حدیث نمبر7411)

    اس روایت کے تحت عمدۃ القاری میں ہے :”حجۃ اصحابنا الحنفیۃ ومن تبعھم فی ھذا الباب فی ان مات وعلیہ صیام لایصوم عنہ احد ولکنہ ان اوصی بہ اطعم ولیہ کل یوم مسکین نصف صاع من براوصاعامن تمراوشعیر“ یعنی ہمارے حنفی اصحاب اور ان کے متبعین کی اس باب میں یہ دلیل ہے کہ جو شخص مرجائے اوراس کے ذمے روزے ہوں، توکوئی اوراس کی طرف سے روزے نہیں رکھ سکتا،لیکن اگر مرنے والے نے وصیت کی ہو،تو میت کا ولی ہردن کے بدلے مسکین کو نصف صاع گندم یاایک صاع کھجوریاجَودے گا۔

(عمدۃ القاری ،11/59،مطبوعہ بیروت)

4۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرا باپ فوت ہو گیا ہے اور اس نے کچھ مال چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی۔ اگر میں اس کی طرف سے خیرات کروں تو کیا یہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنے گا۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں!۔‘‘

(مسلم شریف: کتاب الوصیۃ، باب: وصول ثواب الصدقات الی المیت: حدیث نمبر 361)

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص (سیدنا سعد بن عبادہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری ماں اچانک مر گئی اور میرا گمان ہے کہ اگر وہ بات کرتی تو کچھ صدقہ وخیرات کرتی، اب اگر میں اس کی طرف خیرات کروں تو کیا اس کو کچھ ثواب ملے گا، آپ نے فرمایا: ’’ہاں!۔‘‘(بخاری شریف : کتاب الجنائز، باب: موت الفجاۃ البغتۃ: حدیث نمبر 8831، مسلم: الزکاۃ، باب: وصول ثواب الصدقۃ الی المیت: حدیث نمبر4001)

5۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’مومن کی روح قرض کے ساتھ معلق رہتی ہے جب تک وہ ادا نہ کر دیا جائے۔‘‘

(ترمذی شریف: کتاب الجنائز: حدیث نمبر7801)


ایصال ثواب کے لفظی معنی ہیں: " ثواب پہنچانا" اس کو ثواب بخشنا بھی کہہ سکتے ہیں مگر بزرگوں کے لئے ثواب بخشنا کہنا مناسب نہیں، "ثواب نذر کرنا"کہنا ادب کے زیادہ قریب ہے امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: حضور اقدس علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم اور نبی یا ولی کو ثواب بخشنا کہنا بے ادبی ہے بخشنا    بڑ ے کی طرف سے چھوٹے کو ہوتا ہے۔بلکہ نذر کرنا یا ہدیہ کرنا کہے۔(فتاوی رضویہ 26/956)

فرض،واجب،سنت،نفل،نماز،روزہ،زکوۃ،حج،تلاوت،نعت شریف،ذکر اللہ، درود شریف،بیان،درس،مدنی قافلے میں سفر،نیک اعمال، دینی کتاب کا مطالعہ، مدنی کاموں کیلئے انفرادی کوشش وغیرہ ہر نیک کام کا ایصال ثواب کرسکتے ہیں۔

ایصال ثواب کا طریقہ: ایصال ثواب(یعنی ثواب پہنچانے) کےلئے دل میں نیت کرلینا کافی ہے مثلاً آپ نے کسی کو ایک روپیہ خیرات دیا یا ایک بار درود شریف پڑھا یا کسی ایک کو سنت بتائی یا کسی پر انفرادی کوشش کرتے ہوئے نیکی کی دعوت دی یا سنتوں بھرا بیان کیا۔ الغرض کوئی بھی نیک کام کیا۔ آپ دل ہی دل میں اس طرح نیت کرے کہ مثلاً ابھی میں نے جو سنت بتائی اس کا ثواب سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پہنچے۔ان شاءاللہ ثواب پہنچ جائیگا۔دل میں نیت ہونے کےساتھ ساتھ زبان سے کہہ لینا اچھا ہے کہ یہ صحابی رضی اللہ عنہ سے ثابت ہیں جیسا کہ حدیث سعد رضی اللہ عنہ میں گزرا کہ انہوں نےکنواں کھدوا کر فرمایا کہ ھذہ لام سعد یعنی یہ ام سعد کے لئے ہے۔

جو اپنی ماں یا باپ کی طرف سے حج ادا کرے ان(یعنی ماں یا باپ)کی طرف سے حج ادا ہوجائے،اسے یعنی حج کرنے والے کو مزید دس حج کا ثواب ملے۔

(دارقطنی 2/329،حدیث :2587)

دس حج کا ثواب:سبحان اللہ! جب کبھی نفلی حج کی سعادت حاصل ہو تو فوت شدہ ماں یا باپ کی نیت کرلیجئے تاکہ ان کو بھی حج کا ثواب ملے،آپ کا بھی حج ہو جائے بلکہ مزید دس حج کا ثواب ہاتھ آئے۔

والدین کی طرف سے خیرات: جب تم میں سے کوئی کچھ نفلی خیرات کرے تو چاہیے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرلے کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور اس کے(یعنی خیرات کرنے والے کے) ثواب میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی۔

(شعب الایمان 6/205، حدیث: 7911)

اربوں کھربوں نیکیاں کمانے کا نسخہ :کسی بھی نیکی کا ایصال ثواب کرتے ہوئے جتنے مسلمان مرد و عورت آج تک فوت ہو ئے، جو موجود ہیں اور جتنے قیامت تک آنے والے ہیں ان سب کو ایصال ثواب کریں۔ ایسا کرنے والے کو تمام مومنین و مومنات اولین و آخرین سب کی گنتی کے برابر ثواب ملے گا۔ ( فتاوی رضویہ،9/602ملحضا)

مسلمانوں کو ایصال ثواب کرنا ایک ایسی آسان نیکی ہے جس کے لئے نہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت ہےاور نہ ہی اسکے لئے زیادہ مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے مرحومین کو بھرپور ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین


قرآن مجید کی سورۃالحدید کی آیت نمبر 7 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے ترجمہ کنزالایمان : اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں کچھ وہ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیا تو جو تم میں ایمان لائے اور اس کی راہ میں خرچ کیا اُن کے لئے بڑا ثواب ہے ۔

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ۔} اللہ پاک کی وحدانیَّت پر دلالت کرنے والی مختلف چیزیں بیان کرنے کے بعد اب بندوں کو ایمان قبول کرنے،محبت ِدنیا کو چھوڑ دینے اور نیک کاموں میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے لوگو! اللہ پاک کی وحدانیَّت کا اقرار کر کے اور جن چیزوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پاک کی طرف سے لائے ہیں اُن میں اِن کی تصدیق کر کے اللہ پاک اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو اور جو مال اس وقت تمہارے قبضے میں ہے، تم وراثت کے طور پر اس میں دوسروں کے جانشین بنے ہو اور عنقریب یہ تمہارے بعد والوں کی طرف منتقل ہو جائے گا لہٰذا تم پہلے لوگوں سے نصیحت حاصل کرو اور اس مال کو اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل نہ کرو، اور تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنا مال اسی طرح خرچ کیا جیسے انہیں حکم دیا گیا تھا تو ا س بنا پر ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے لوگو! اللہ پاک اورا س کے رسول پر ایمان لاؤ اور جو مال تمہارے قبضے میں ہے یہ سب اللہ پاک کے ہیں ،اس نے تمہیں نفع اُٹھانے کے لئے دے دیئے ہیں ،تم حقیقی طور پر ان کے مالک نہیں بلکہ نائب اور وکیل کی طرح ہو،ا نہیں راہِ خدا میں خرچ کرو اور جس طرح نائب اور وکیل کو مالک کے حکم سے خرچ کرنے میں کوئی تأمُّل نہیں ہوتا توتمہیں بھی کوئی تأمُّل و تَرَدُّدْ نہ ہو۔اور تم میں سے جو لوگ اللہ پاک اور ا س کے رسول پر ایمان لائے اور انہوں نے اللہ پاک کی راہ میں مال خرچ کیا ان کے لئے بڑا ثواب ہے۔

( صاوی ، الحدید ، تحت الآیۃ : 7، 6 / 2102-2103، تفسیر طبری، الحدید، تحت الآیۃ: 7، 11 / 671-672، روح البیان، الحدید، تحت الآیۃ: 7، 9 / 353-354، ملتقطاً)

زندہ اور مردہ کو ایصالِ ثواب کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے، میت کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے،لیکن اس کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے لئے وقت اور زمانہ متعین ہے، جو شخص جس وقت جس دن چاہے، کوئی بھی نفلی عبادت کر کے اُس کا ثواب میت کو بخش سکتا ہے، اس کے لئے کسی خاص مہینے یا کسی خاص دن کی تعیین کرنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔

ایصال ثواب کی محافل میں قرآن پڑھا جاتا ہے یہ قرآن پڑھنا تو اشرف المخلوقات کا عمل ہے انسان قرآن پرھتاہے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض گزار ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت میں اس کا ثواب حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچاتا ہوں میں اس کا ثواب حضور داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کو پہنچاتا ہوں یہ تو پھر اشرف المخلوقات ہیں اور اپنی زبان سے افضل قرآن پڑھ رہا ہے دوسری طرف یہ دیکھیں کہ اسلام نے تو یہاں تک اس ایصال ثواب کے مسئلہ کو واضح کیا کے درختوں کی تسبیح سے بھی عذاب دور ہو جاتا ہے قبر کے مکینوں کو ان کی تسبیح سے بھی سکون ملتا ہے تو پھر قرآن مجید کی تلاوت کرنے تسبیحات پڑھنے آیت کریمہ پڑھنے کلمہ شریف پڑھنے سے جو ثواب حاصل ہوتا ہے وہ فوت شدہ گان کے لئے تسکین اور عذاب سے نجات کا باعث کیوں نہ ہوگاپھر دیکھئے بخاری و مسلم شریف کی متفق علیہ حدیث شریف ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا وصال ہوچکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر فرماتے۔

سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بکری ذبح کر رہے ہیں اور گوشت تقسیم کر رہے ہیں ان کی سہیلیوں کو بھیج دیتے ہیں مجھے بتائیں جب یہ گوشت تقسیم ہو رہا تھا اور کسی نے پوچھا یہ کیسا گوشت ہے؟تو جواب یہی دیا جاتا تھا یہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے لئے ذبح کیا گیا ہے اس کا اور کوئی نام نہیں ہے یہ بکری یہ گوشت کسی کے نکاح یا ولیمہ کے لئے ذبح نہیں کی گئی یہ بکری کسی دوست یا مہمان کی ضیافت کے لئے زبح نہیں کی گئی بلکہ یہ بکری سیدنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے لئے ذبح کی گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بکری ذبح فرمائی اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے تعلق کی نسبت سے ان کی سہیلیوں کو کوشت بھیجا یہ سارے کا سارا عمل ثابت کر رہا ہے کہ دنیا سے جو چلے گئے ہیں ان کے ثواب کے لئے یہ کام ہو سکتا ہے۔

حضرت سعد بن رضی اللہ عنہ کی والدہ فوت ہو گئی حضرت سعد رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری والدہ محترمہ ام سعد رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا ہے ان کے لئے کون سا صدقہ افضل ہے کہ میں صدقہ کروں تو فائدہ میری والدہ کو پہنچے ؟(یہاں بھی وہی قانون ثابت ہے کہ صدقہ کرنا حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا فعل ہے لیکن اس سے فائدہ ان کی والدہ محترمہ کو بھی ہو جائے گا ۔)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :پانی کا صدقہ بڑا اچھا ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک کنواں کھدوایا اور کہاکہ یہ کنواں ام سعد رضی اللہ عنہا کا کنواں ہے۔

غور فرمائیں اگر غیر کی طرف نیاز منسوب کرنے سے وہ حرام ہو جاتی ہے جیسے ان کے نظریے کے مطابق غیر کا نام لینے سے گیارہویں کی کھیر حرام ہو جاتی ہے گیارہویں کا لنگر حرام ہو جاتا ہے تو یہ غیر کا نام اس کنویں پر بھی لیا گیا اور نسائی شریف (جلد2، 132) میں ہے۔

حضرت سیِّدُناعُقْبَہ بن عامِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نےبارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی : کیا میں اپنی وفات یافتہ ماں کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟تومکی مدنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا اور وہ تم ادا کرتیں تو کیا تم سے قبول کر لیاجاتا؟اس نے عرض کی : کیوں نہیں۔ پھرآپ نے اسے حج کرنے کا حکم دیا۔

اللہ پاک ہمیں ایصال ثواب کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


اللہ پاک فرماتا ہے : ترجمہ کنزالایمان : اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔

(پ 28،الحشر :10)

آیت سے ثابت ہوا کہ زندوں کی عبادت یعنی دعا سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ یہی ایصالِ ثواب ہے۔ ایصالِ ثواب کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ۔

1)صدقہ و خیرات : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب میت کےگھر والے میت کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں تو جبریلِ امین علیہ السلام اس صدقہ کو نورانی طباق میں رکھ کر قبر کے کنارے کھڑے ہو کر کہتے ہیں : اے قبر والے یہ تحفہ تیرے گھر والوں نے تجھے بھیجا ہے۔ تو یہ سن کر وہ خوش ہوجاتا ہے۔ (روح البیان،4/322 ) گویا کہ صدقہ و خیرات کے ذریعے اپنے مرحومین کو ایصالِ ثواب کیا جا سلتا ہے ۔

2) قربانی : قربانی کے ذریعے بھی اپنےمرحومین کو ثواب ایصال کیا جاسکتا ہے ۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مینڈھا ذبح کرکے یہ پڑھا :اےاللہ! اس کو میری اور میری آل اور میری امت کی طرف سے قبول فرما۔ (مسلم،2/156)( امت کی طرف سے ایک قربانی کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے)

3)دعا : اپنے مرحومین کے لئے دعائیں کرکے بھی انکو ثواب پہنچایا جا سکتا ہے اور گناہ بخشواۓ جا سکتے ہیں کہ مدینے کے سلطان صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : میری امت گناہ سمیت قبر میں داخل ہوگی اور جب نکلے گی تو بے گناہ ہوگی کیونکہ وہ مومنین کی دعاؤں سے بخش دی جاتی ہے۔(معجم الکبیرالاوسط،ج:1،حدیث:1879)

4) پانی : حضرتِ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سعد یعنی میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے تو انکے لئے کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا : پانی ۔ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کنواں کھدوایا اور کہا کہ یہ کنواں سعد کی ماں کی لئے ۔ (ابو داؤد ، ج2،حدیث :1681) یعنی اپنے مرحومین کو ایصالِ ثواب کے لئے پانی پلانے کا احتمام بھی کیا جا سکتا ہے ۔

5) تلاوت : قرآنِ مجید کی تلاوت کرکے ملنے والےثواب کو مرحومین کی بارگاہ میں بھی پیش کیا جاسکتا ہےکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ : جو شخص قبروں کے پاس سے گزرا اور قُل ھُوَاللّٰهُ أَحَد سورة گیارہ بار پڑھی پھر اسکا ثواب مردوں کو بخشا تو اس بخشنے والے کو مُردوں کی تعداد کے برابر اجر وثواب ملے گا ۔

(شرح الصدور ،ص:130، التذکرہ القرطبی ، 1/97)


ایصالِ ثواب کی لفظی معنیٰ ہے 'ثواب پہنچانا"اس کو "ثواب بخشنا" بھی کہتے ہیں مگر بزرگوں کے لئے "ثواب بخشنا" کہنا مناسب نہیں، "ثواب نذر کرنا" ادب کے زیادہ قریب ہے ۔

(فتاویٰ رضویہ ،26/609)

ایصال ثواب کے چند طریقے بھی ملاحظہ ہو کہ کس کس طرح سے ایصال ثواب کر سکتے ہیں ۔

1۔ فرض، واجب، سنت، نفل، نماز، روزہ، حج، زکوۃ، ذکر اللہ،تلاوت، نعت شریف، درود پاک، بیان، مدنی قافلہ، درس، مدنی انعامات، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت، دینی کتاب کا مطالعہ، مدنی کاموں کے لئے انفرادی کوشش وغیرہ ہر نیک کام کا ایصالِ ثواب کر سکتے ہیں_

2۔ میت کا تیجہ، دسواں، چالیسواں اور برسی کرنا بہت اچھے کام ہیں کہ یہ ایصال ثواب کے ہی ذرائع ہیں۔

3۔ گیارہویں شریف اور رجبی شریف (15 کو کونڈے اور 22 کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نیاز) وغیرہ جائز ہے یٰس شریف پڑھ کر 10 قرآن پاک ختم کرنے کا ثواب کمائیے اور کونڈوں کے ساتھ ساتھ اس کا بھی ایصال ثواب کر دیجئے ۔

4۔ اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ کھائے جانے والے کا کھانے سے پہلے ایصالِ ثواب کریں ۔

5۔ مسجد یا مدرسہ کا قیام صدقہ جاریہ اور ایصال ثواب کا بہترین ذریعہ ہے۔

جتنوں کو بھی ایصال ثواب کریں اللہ کی رحمت سے امید ہے کہ سب کو ملے گا، یہ نہیں کہ ثواب تقسیم ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ملےایصال ثواب کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ یہ امید ہے کہ اس نے جتنوں کو ایصال ثواب کیا ان سب کے مجموعے کے برابر اس (ایصالِ ثواب کرنے والے) کو ثواب ملے مثلاً کوئی نیک کام کیا جس پر اس کو دس نیکیاں ملی اب اس نے دس مردوں کو ایصال ثواب کیا تو ہر ایک کو دس دس نیکیاں پہنچیں گے جبکہ ایصال ثواب کرنے والے کو ایک سو دس اور اگر ایک ہزار کو ایصالِ ثواب کیا تو کرنے والے کو دس ہزار دس۔ (وعلی ھذا القیاس)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں خوب خوب نیکیاں کرنے اور نیکیوں کو ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم


 ایصال کا معنی "پہنچانا" اور "ثواب " کسی نیک اور جائز کام پر اللہ عزوجل کی جانب سے ملنے والے اجر کو کہتے ہیں۔ جبکہ شرعی طور پر ایصال ثواب کا مطلب قرآن مجید یا درود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو (چاہے وہ زندہ ہویا مردہ )پہنچانا ہے ۔اور یہ جائز و مستحسن عمل ہے۔( ملتقطا بہار شریعت جلد 3،حصہ 16،ص 645 مکتبۃ المدینہ)

بہار شریعت میں ہے: ایصال ثواب یعنی قرآن مجید یا درود شریف یا کلمہ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ یا بدنیہ فرض و نفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے، زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب انسان مر جاتا ہے اس کے عمل ختم ہو جاتے ہیں مگر تین چیزوں سے مرنے کے بعد ان کے ثواب اعمال نامہ میں درج ہوتے رہتے ہیں: 1۔ صدقہ جاریہ 2۔ وہ علم جس سے اس کے مرنے کے بعد لوگوں کو نفع پہنچتا رہے ۔3:نیک اولاد جو مرنے کے بعد اپنے والدین کے لئے دعا کرے ۔

(صحیح مسلم حدیث :1255)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان کو مرنے کے بعد بھی اس کے کچھ کاموں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے ۔وہ کام صدقہ جاریہ ہوتے ہیں۔ جس کے کئی طریقے ہیں جن میں سے پانچ یہاں ذکر کیے جاتے ہیں:۔

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہوا، انھوں نے حضور اقدس صلَّی اللہ علیہ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سعد کی ماں کا انتقال ہوگیا، کون سا صدقہ افضل ہے؟ ارشاد فرمایا:پانی۔ انھوں نے کنواں کھودا اور یہ کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لئے ہے۔( سنن ابی داود حدیث:1668)

اس حدیث شریف سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں، جس سے ہم ایصال ثواب کو بہتر جہت میں موڑ سکتے ہیں اور میت کے ساتھ ساتھ زندوں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے( جبکہ صحابہ کرام علیہم رضوان مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو پانی کی کمی کا شکار تھے۔) پانی کی ضرورت کے پیش نظر پانی کے انتظام کا حکم فرمایا ۔تو معلوم ہوا کہ صدقہ جاریہ ایسے امور سے کرنا چاہیے کہ جو مخلوق کی ضرورت کے مطابق ہو۔ جیسا کہ سائنس کے ماہرین اور ماحول کے معلومات رکھنے والے اہل علم بتاتے ہیں کہ دنیا میں درخت لگانے کی بڑی ضرورت ہے اور اسی کے پیش نظر دعوت اسلامی بھی میدان عمل میں ہے اور ہر سو نعرہ لگا رہی ہے "پودا لگانا ہے درخت بنانا ہے۔'' جہاں درخت کی دنیاوی فائدے ہیں وہاں پر ایصال ثواب کا بہترین ذریعہ ہے۔ چنانچہ:

2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان جو کچھ اگائے پھر اس میں کوئی انسان یا جانور یا پرندہ کھائے تو وہ اس کے لئے قیامت تک صدقہ ہے۔

( صحیح مسلم حدیث:1552،ص 889)

لہذا ہمیں دعوت اسلامی کا بالخصوص اس کام میں ساتھ دینا چاہیے۔

3: یوں ہی ایصال ثواب کا ایک اور ذریعہ حدیث مبارکہ میں یوں بیان ہوا: لوگوں نے ایسا کوئی صدقہ نہیں کیا جو علم کی اشاعت کی مثل ہو۔( المعجم الکبیر لطبرانی 2/231،حدیث:6964)

آج ہم اپنے معاشرے پر غور کرے تو کھانا اور پانی کی ضرورت سے زیادہ "علم دین" کی ضرورت زیادہ نظر آتی ہے۔ لاعلمی اور جہالت کی بنا پر مسلمان ناجائز رسم و رواج میں پڑنے کے ساتھ ساتھ سنت رسول سے دور اور معاذ اللہ گمراہی اور کفریات تک میں پڑ رہے ہیں۔ ایسے موقع پر ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کا احساس کرتے ہوئے ان تک علم دین پہنچانے کا زیادہ سے زیادہ انتظام کرنا چاہیے۔ اور ایصال ثواب کے اس طریقے میں بھی دعوت اسلامی پیش پیش ہے کہ" لنگر رسائل" کے ذریعے مسلمانوں تک اسلامی لٹریچر پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایصال ثواب کے اور بھی کئی طریقے احادیث طیبہ میں ہمیں بتائے گئے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے: اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مومن کے انتقال کے بعد اس کے عمل اور نیکیوں میں سے جو چیزیں اسے ملتی ہیں وہ یہ ہیں:(1) اس کا علم جسے اس نے سکھایا اور پھیلایا (2) نیک بیٹا جسے چھوڑ کر مرا (3) قرآن پاک جسے ورثاء میں چھوڑا (4) وہ مسجد جسے اس نے بنایا (5) مسافروں کے لئے کوئی گھر بنایا ہو (6) کسی نہر کو جاری کیا ہو (7) وہ صدقہ جاریہ جسے اس نے حالت صحت میں اور زندگی میں اپنے مال سے دیا ہو۔

( سنن ابن ماجہ 1/157،حدیث:242)

اللہ پاک ہمیں زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کرنے والا بنائے۔اٰمین


 ایصال ثواب کا معنی ہے "ثواب پہنچانا "یہ دین اسلام کی خوبصورت تعلیمات ہیں کہ وہ زندوں کے ساتھ ساتھ مرحومین کے ساتھ بھی بھلائی کا حکم دیتا ہے۔ ایصال ثواب مرحومین کے ساتھ بھلائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن نے یوں بیان فرمایا : اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے۔

(پ 28،الحشر :10)

حدیث مبارکہ میں ہے کہ : جب تم میں سے کوئی کچھ نفل خیرات کرے تو چاہیے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور اس کے ( خیرات کرنے والے کے ) ثواب میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی۔

ایصال ثواب کے کئی طریقے ہیں۔ مال خرچ کر کے اور بغیر خرچ کئے بھی ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔ مگر میں آپ کی توجہ ان طریقوں کی طرف دلانا چاہوں گا جو معاشرے میں بالکل یا تقریبا ختم ہوئے جا رہے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ پڑھ کر خود عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیں گے۔

(1) دینی کتاب کا مطالعہ کر کے ہم ایصال ثواب کر سکتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بہت بڑی تعداد مطالعہ نہیں کرتی اور کرتی بھی ہے تو وہ دنیاوی علوم کا ۔اگر ترغیب دلائی جائے تو سوال ہوتا ہے کہ "اس سے کون سی نوکری ملے گی؟ کتنے پیسے ملیں گے؟ جبکہ انہیں معلوم نہیں کہ انہیں وہ نیکی ملے گی جسے قیامت کے روز ماں باپ اولاد کو دینے اور اولاد اپنے والدین کو دینے سے منع کر دیں گے۔

(2) کسی عالم دین یا طالب علم کو کتابیں دلا کر مرحومین کو ثواب پہنچایا جا سکتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں علمائے کرام کو کم تر سمجھا جاتاہے اور نہ ان کی خدمت کا ذہن ہے۔ آپ جامعۃ المدینہ کے طلباء کرام اور دارالافتاء اہل سنت کے علماء کرام کو کتابیں دلا کر اپنے مرحومین کی آخرت سنوار سکتے ہیں۔

(3) نیکی کی دعوت بھی ایصال ثواب کا ایک طریقہ ہے۔ جس سے ہمارے معاشرے کی بڑی تعداد دور ہے ۔جس کے نقصانات ہم دیکھ رہے ہیں۔ نقصانات پڑھنے کے لئے " نیکی کی دعوت " کتاب بہت مفید ہوگی۔

(4) درس و بیان دینا یا ان میں شرکت کرنا کار ثواب ہے۔ اگر کسی سے شرکت کا کہا جائے تو کہا جاتا ہے" وقت نہیں ہے" جبکہ اکثر لوگ گپ شپ میں گھنٹوں تک ضائع کر دیتے ہیں۔

(5) کتب اور رسائل کو خرید کر تقسیم کرنا بھی ایصال ثواب کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں علم کی اہمیت ہی نہیں ہے تو لوگ کیوں کر اس کے فروغ کیلئے اپنا حصہ ملائیں گے لیکن دعوت اسلامی نے "تقسیم کتب و رسائل" نامی شعبہ قائم کر کے علم کے فروغ کا بیڑہ اٹھایا اور آپ بھی اس شعبے سے مل کر کتب و رسائل تقسیم کروا سکتے ہیں۔

اللہ ہمیں ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اٰمین


جن کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک فوت ہو گیا ہو تو ان کو چاہیے کہ ان کی طرف سے غفلت نہ کرے ،ان کی قبروں پر بھی حاضری دیتا رہے اور ایصال ثواب بھی کرتا رہے۔ اس ضمن میں سلطان مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے 5 فرامین رحمت  نشان 5 طریقوں کی صورت میں ملاحظہ فرمائیں۔

1) ایک جو بنیت ثواب اپنے والدین یا ایک قبر کی زیارت کرتا ہو، فرشتے اس کی قبر کی(یعنی جب یہ فوت ہوگا )زیارت کو آئیں گے۔

2) جب تم میں سے کوئی کچھ نفل خیرات کرے تو چاہیے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور اس کے ( خیرات کرنے والے کے ) ثواب میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی۔

لاج رکھ لے گناہگاروں کی

نام رحمٰن ہے تیرا یا رب

3) فرض، واجب ،سنت ،نفل، مستحب، نماز، روزہ، زکوۃ، حج، بیان، چوک و مسجد درس، مدنی قافلے میں سفر، مدنی انعامات ،نیکی کی دعوت، دینی کتاب کا مطالعہ ،مدنی کاموں کیلئے انفرادی کوشش وغیرہ۔ ہر نیک کام کا ایصال ثواب کر سکتے ہیں۔

4) آج کل میت کا تیجہ، دسواں ،چوتھا ،چالیسواں ،برسی کرنا اچھا ہے کہ یہ ایصال ثواب کے ہی ذرائع ہیں۔

5)ایصال ثواب کرنے کا ایک آسان نسخہ وطریقہ یہ ہے کہ اس وقت روئے زمین پر کروڑوں مسلمان موجود ہیں اور کروڑوں بلکہ اربوں دنیا سے چل بسے ہیں ۔اگر ہم ساری امت کی مغفرت کیلئے دعا کریں گے تو انشاءاللہ ہمیں اربوں کھربوں نیکیوں کا خزانہ مل جائے گا۔

میں اپنے لئے اور تمام مومنین و مومنات کے لئے دعا تحریر کر دیتا ہوں۔( اول وآخر درود شریف پڑھ لے) ان شاءاللہ ڈھیروں نیکیاں ہاتھ آئے گی۔اللھم اغفر لی و لکل مومن و مومنۃ یعنی اے اللہ میری اور ہر مومن و مومنہ کی مغفرت فرما۔ آمین ثم آمین۔

آپ بھی اپر دی ہوئی دعا کوعربی یا اردوں یا دونوں زبانوں میں بھی اور ہو سکے تو روزانہ پانچوں نمازوں کے بعد بھی پڑھنے کی عادت بنا لیجیے۔

بے سبب بخش دے نہ پوچھ عمل

نام غفار ہے تیرا یارب

اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم


مسلمانوں کی قبروں کوئی زیارت سنت اور مزارات اولیاء کرام وشہدائے عظام رحمہم اللہ السلام کی حاضری سعادت بر سعادت اور انہیں ایصال ثواب کرنا مستحب (پسندیدہ )اور ثواب ہے۔( فتاوی  رضویہ مخرجہ 9/535)

چنانچہ شفیع مجرمان صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان شفاعت نشان ہے:جو شخص قبرستان میں داخل ہو پھر اس نے سورہ فاتحہ، سورہ اخلاص، سورۃ التکاثر پڑھی پھر دعا مانگی یا اللہ پاک میں نے جو کچھ پڑھا اس کا ثواب قبرستان کے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو پہنچا تو وہ تمام مومن قیامت کے روز اس (ایصال ثواب کرنے والے) کے سفارشی ہوں گے۔

( شرح الصدور، ص 311)

ایصال ثواب کا انتظار:سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مشکبار ہے: مُردے کا حال قبر میں ڈوبتے ہوئے انسان کی مانِند ہے کہ وہ شدّت سے انتِظار کرتا ہے کہ باپ یا ماں یا بھائی یاکسی دوست کی دعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دعا اسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک وہدنیا ومَافِیْھا (یعنی دنیا اور اس میں جو کچھ ہے) سے بہتر ہوتی ہے۔ اللہ پاک قبر والوں کو ان کے زندہ مُتَعَلِّقینکی طرف سے ہَدِیَّہ (ہَ۔ دِی۔ یَہ ) کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے،  زندوں کا ہَدِیَّہ (یعنی تحفہمُردوں کیلئے دعائے مغفرت کرنا ہے۔

( شُعَبُ الاِْیْمَان 6/203،حدیث:7905)

دوسروں کے لئے دعائے مغفرت کرنے کی فضیلت: رسول اکرم نور مجسم رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلمہ فرمان عظمت نشان ہیں: جو کوئی تمام مومن مَردوں اور عورَتوں کیلئے دعائے مغفرت کرتا ہے،اللہ پاک اُس کیلئے ہر مومن مرد و عورت کے عِوَض ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔  (مسندُ الشّامیین لِلطَّبَرانی 3/234،حدیث:2155)

دعاؤں کی برکت :مدینے کے سلطان صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مغفِرت نشان ہے :  میری اُمّت گناہ سَمیت  قَبْر میں داخِل ہوگی اور جب نکلے گی تو بے گناہ ہوگی کیونکہ وہ مؤمِنین کی دعائوں سے بَخش دی جاتی ہے ۔(اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط 1/509،حدیث:1879)

ایک سال سے ثواب تقسیم کر رہے ہیں:حضرتِ سیِّدُنا حَمّاد مکّی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: میں ایک راتمکّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے قبرِستان میں سوگیا ۔  کیا دیکھتا ہوں کہ قبر والے حلقہ در حلقہ کھڑے ہیں ،  میں نے ان سے اِستِفسار کیا (یعنی پوچھا)   : کیا قِیامت قائم ہوگئی ؟  اُنہوں نے کہا :  نہیں ، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مسلمان بھائی نے سُوْرَۃُ الْاِخْلَاص پڑھ کر ہم کو ایصالِ ثواب کیا تو وہ ثواب ہم ایک سال سے تقسیم کررہے ہیں ۔

(شَرحُ الصُّدُوْر  ص312)

بھیجنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا :جب تم میں سے کوئی نفلی صدقہ کرے تو اس کا ثواب والدین کو بھیجے تو والدین کو بھی اس کا ثواب ملے گا اور بھیجنے والے کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں آئے گی۔( مراقی الفلاح، ص:376)

بخشش کا سبب: جو شخص جمعہ کے روز اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے اور اس کے پاس سورہ یٰس پڑھے بخش دیا جائے ۔(الکامل لابن عدی 6/260)

دعاؤں کی برکت: مدینے کےسلطان صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مغفرت نشان ہے: میری اُمّت گناہ سمیت قَبْر میں داخِل ہوگی اور جب نکلے گی تو بے گناہ ہوگی کیونکہ وہ مؤمنین کی دعاؤں سے بخش دی جاتی ہے ۔ ( اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط 1/509،حدیث:1879)

ایصال ثواب کئی طریقوں سے کیا جا سکتا ہے: فرض، واجب، سنت ،نفل نماز، روزہ، زکوۃ، حج،درس و بیان ،مدنی قافلے میں سفر،مدنی انعامات، مدنی دورہ ، مدنی کاموں کے لئے انفرادی کوشش وغیرہ وغیرہ کا ایصال ثواب کر سکتے ہیں۔ نعت شریف ،ذکر اللہ، درود شریف، دینی کتاب کا مطالعہ، قرآن پاک کی تلاوت مثلا سورہ یٰس ،سورہ بقرہ، سورۃ الملک اور سورہ اخلاص وغیرہ پڑھ کر ایصال ثواب کر سکتے ہیں۔ مسجد، مدرسہ ،محفل پاک، کھانے سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کر کے ایصال ثواب کر سکتے ہیں۔( فاتحہ اور ایصال ثواب کا طریقہ ماخوذاً)


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین علیہمُ الرّضوان کے عہد مبارک میں مردوں کے لئے ایصال ثواب کے متعدد طریقے تھے۔ جن میں سے غور و تامل کے بعد اس وقت فقیر چند طریقے احادیث قولی و فعلی و اقوال علماء کرام سے صراحۃ ثابت ہوتے ہیں نیز اس وقت تک علماء مشائخ کے تعامل و تورث سے ان کی تائید ہوتی ہے۔

پہلا طریقہ: سورہ یٰس شریف پڑھنا ہے۔ جس کا کرنا حدیث سے ثابت ہے ۔چنانچہ سنن ابی داود جلد 2 صفحہ 89 میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اپنے مردوں پر سورہ یٰس پڑھو۔

مرقات شرح مشکاۃ جلد 2 صفحہ 287 میں علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے دو مطلب ہے اول یہ کہ مرنے والے کے پاس اس کی حیات میں پڑھی جائے اور دوسرا یہ کہ اس کی قبر پر پڑھی جائے۔

دوسرا طریقہ :دفن کے بعد سرہانے فاتحہ اور سورہ بقرہ پڑھنا ۔

چنانچہ شرح احیاء العلوم میں ص 370 میں ہے: عبدالرحمٰن بن علا کہتے ہیں کہ میرے والد نے کہا کہ میرے بیٹے جب مجھے قبر میں رکھو تو بسم اللہ و فی سبیل اللہ و علی ملۃ رسول اللہ کہہ کر رکھنا پھر آہستہ آہستہ مجھ پر مٹی ڈالنا پھر میرے سرہانے فاتحہ ، بقرہ اور خاتمہ بقرہ پڑھنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ اس کا حکم فرماتے تھے۔( رواہ الطبرانی)

تیسرا طریقہ :ستر ہزار بار کلمہ طیبہ پڑھ کر اس کا ثواب مردے کو بخشنا۔ کہ اس سے امید مغفرت ہے ۔چنانچہ ملا علی قاری رحمتہ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکاۃ جلد 2 ص102 میں فرماتے ہیں سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں نے فرمایا: مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث پہنچی ہے کہ جو شخص ستر ہزار بار لا الہ الا اللہ کہے اس کی مغفرت ہو اور جس کے لئے اتنے مرتبہ کہا جائے ،اس کی مغفرت ہو۔

چوتھا طریقہ :میت کے لئے نماز روزہ رکھنا یعنی نماز پڑھ کر روزہ رکھ کر اس کا ثواب میت کو بخشنا ۔چنانچہ دار قطنی نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا کہ میرے ماں باپ نہیں، ان کی حیات میں تو ان کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں تو ان کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ کس طرح کوئی بھلائی کر سکتا ہوں؟ ارشاد فرمایا: کے مرنے کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کی صورت یہ ہے کہ اپنی نماز ساتھ ان دونوں کے لئے بھی نماز پڑھو اور اپنے روزہ کے ساتھ ان دونوں کے لئے بھی روزہ رکھو۔

پانچواں طریقہ :قرآن شریف پڑھ کر بخشنا ۔اس کے لئے کسی سورہ کا پڑھنا خاص طور پر بھی آیا ہے یاجو سورۃ یا آیت پڑھ کر اس کا ثواب بخشے کافی ہے ۔سب سے بہتر تو یہ ہے کہ قبر پر جا کر ایک ختم کا ثواب ایصال کرے۔ جیسے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ جب لیث بن سعد کی قبر کی زیارت کو گئے تو ان کی تعریف کی اور ایک ختم قرآن شریف کیا اور فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ یہ کار خیر ہمیشہ جاری رہے اور ان کے فرمان کے مطابق ہو ۔

اللہ پاک اس سے دعاہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے مردوں کو یاد رکھنے اور ان کو ایصال ثواب کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمین


مسلمان اپنے کسی بھی نیک عمل وہ (عمل) مالی  عبادت ہو یا بدنی کسی دوسرے شخص کو پہنچا سکتا ہے۔ (بہار شریعت جلد 3، حصہ 16، صفحہ 645 بتغیر قلیل)

ایصال ثواب کرنے والا بھی اپنی نیکیوں سے محروم نہیں ہو جاتا ۔اس کے عمل کا اجر اس کے پاس بھی باقی رہتا ہے اور ان سب کی گنتی کے برابر نیکیاں ملتی ہیں جن کو اس نے ایصال ثواب کیا ہوتا ہے۔ ایصال ثواب کرنا کرنا مرنے والوں کے لئے بہت بڑا احسان ہے کیونکہ اس سے گناہ گاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور قبر میں اگر سختی یا عذاب ہو رہا ہو تو نجات مل جاتی ہے یا اس میں کمی ہو جاتی ہے جبکہ نیکوں کے درجات بلند ہوتے ہیں۔

ایصال ثواب کے 5 طریقے مندرجہ ذیل ہیں:۔

(1) تلاوت قرآن اور نعت خوانی: دوجہ،تیجہ (سوئم)،دسواں،بیسواں،تیسواں،چہلم ( چالیسواں) برسی، عرس اولیاء کرام ،قبر پر دعا، مزارات اولیاء پر حاضری، یوم عاشورہ اور عید میلاد النبی وغیرہ موقعوں پر یہی طریقہ ایصال ثواب اختیار کیا جاتا ہے۔

(2) عطیات کے ذریعے: حالات و واقعات، موقع و محل، ضرورت و حاجت ،معاملات و خیالات، حال و قال اور شدت موسم وغیرہ کا لحاظ رکھ کر ڈونیشن دے کر بہت سارا ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔ مثلا قحط ہو تو راشن، سیلاب وہ زلزلے میں ہر کسی کے ضرورت کے مطابق ضرورت کی چیزیں مہیا کر کے، جہاں فیضان مدینہ، مسجد و مدرسہ کی ضرورت ہوتو ان کو بنوا کر ،کسی کو میڈیسن دلوا کر ،جہیز کا انتظام کروا کر یا شادی کا خرچہ وغیرہ دے کر۔

(3) پانی پلانے یا مہیا کرنے کے ذریعے: بات ایصال ثواب کی ہو اور پانی کا تذکرہ نہ ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے جس کے خود آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت فضیلت بیان کی چنانچہ فرمایا کہ "جس نے کسی کو ایک گھونٹ پانی وہاں پلایا جہاں پانی عام ملتا ہو اس نے گویا غلام آزاد کیا اور جس نے وہاں ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہواس نے گویا اسے زندگی بخشی۔

( سنن ابن ماجہ 3،/177،حدیث :2474)

(4) پودوں کے ذریعے :درخت کاٹے زیادہ جارہے ہیں اور نئے جنگلات لگائے نہیں جا رہے تو ایسی کنڈیشن میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے پودے لگا کر ان کو درخت بنانا بہت ضروری ہے جو کہ ثواب جاریہ کا بھی ذریعہ ہے۔ فرمان آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم:" جس نے بغیر ظلم و زیادتی کے کوئی گھر بنایا ظلم و زیادتی کے بغیر کوئی درخت لگایا جب تک اللہ پاک کی مخلوق میں سے کوئی ایک بھی اس میں سے نفع اٹھاتا رہے گا تو اس لگانے والے کو ثواب ملتا رہے گا۔( مسند امام احمد 5/309،حدیث:15616)

(5) مدنی چینل وکتابوں کے ذریعے(الیکٹرانک میڈیا و پرنٹ میڈیا ):جبکہ عام مسلمان دین کی تعلیمات سے دور ہو گئے ہیں اپنے ضروری فرائض تک کو نہیں جانتے تو اس ناگفتہ بہ حالت میں مدنی چینل نے علم دین کی اشاعت (پھیلانے )میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ کسی کو اگر مدنی چینل ڈش لگوا دی جائے تو قیامت تک ایصال ثواب کا ذریعہ بن جائے گا۔ مکتبۃ المدینہ کی کتابیں گفٹ کرنے سے یا ماہنامہ فیضان مدینہ کی سالانہ بکنگ کسی دوسرے کو کروا دیں تو وہ بھی ایصال ثواب کا سبب ہے۔

عوام یہ سمجھتے ہیں کہ صرف مرنے والوں کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے یہ بات غلط ہے بلکہ ایصال ثواب زندوں کو، اور مسلمان جنوں کو بھی کیا جا سکتا ہے۔