9 صفر المظفر, 1442 ہجری

: : :
(PST)

متوجہ ہوں

Mon, 2 Mar , 2020
209 days ago

یہ مضامین  نئے لکھاریوں کے ہیں

حوالہ جات کی تفتیش و تصحیح کی ذمہ داری مؤلفین کی ہے

ادارہ اس کا ذمہ دار نہیں


خوش اخلاقی کے فائد

Sun, 1 Mar , 2020
210 days ago

کمرے کے باہر مریض اور ڈاکٹر کی آپس میں گفتگو صاف سُنائی دے رہی تھی۔

مریض:ڈاکٹر صاحب پچھلے 6دن سے باقاعدگی سے دوا لے رہا ہوں مگر کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہاآخر آپ کیسی دوا دے رہے ہیں پیسہ بھی پانی کی طرح برباد ہو رہا ہے اور تکلیف بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ آپ لوگ تو پیسے والے ہیں آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟ مرتا تو غریب ہے۔

ڈاکٹر: آپ پریشان نہ ہوں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔

مریض: یہ بات تو آپ نے پچھلی بار بھی کہی تھی، مجھے لگتا ہے کہ مجھے ڈاکٹر بدلنا پڑے گا یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔

ڈاکٹر: شفاء دینے والی ذات اللہ کی ہے دوا دینا میرا کام ہے۔ آپ تھوڑا صبر سے کام لیجئے، جلد آپ کی تکلیف دور ہوجائے گی۔

مریض: (غصّے سے جھنجلاتے ہوئے) رہنے دیجئے مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہئے تھا، بلا وجہ اپنا وقت اور پیسہ برباد کیا۔

اسلم(جوکہ ڈاکٹر صاحب کا معاون ملازم تھا) باہر کھڑا سوچ رہا تھا کہ یہ ڈاکٹر صاحب کا حوصلہ ہےجو مریضوں کی کڑوی باتیں برداشت کرلیتے ہیں۔

تمام مریضوں سے فارغ ہونے کے بعد جب اسلم ڈاکٹر صاحب کے لئے چائے لے کر اندر کلینک میں داخل ہوا تو پوچھے بنا نہ رہ سکا۔

ڈاکٹر صاحب آپ مریضوں کی کڑوی باتیں برداشت کرکے کس طرح مسکرا لیتے ہیں؟ مجھ سے تو کوئی ایسے بات کرے تو میں اُسے چھوڑوں نہیں۔

یہ مریض آپ کی نرمی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ آپ بھی سخت جواب دیا کریں، شرافت کا زمانہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر صاحب (مسکراتے ہوئے اسلم سے گویا ہوئے) دیکھو اسلم ہم لوگوں کو کڑوی دوا کھلاتے ہیں تو جواب میں کڑوی باتیں ہی مِلیں گی ناں؟

یہ ہمارے پیشے کا حصہ ہے کہ ہم مریضوں سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں تاکہ اس کا آدھا مرض تو حسنِ اخلاق سے ہی مِٹ جائے۔ اصل میں بیماری کے باعث چِڑ چِڑا پن انسان کی طبیعت میں آجاتا ہے مگر ہم تو صحت مند ہیں ہم تو خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

اسلم: ڈاکٹر صاحب مان گئے آپ کو۔ آپ نے تو مجھے لاجواب کردیا لیکن میں تو اچھے کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا کرنے کا قائل ہوں۔

ڈاکٹر صاحب: مفسرِ شہیر مفتی احمد یار خان علیہ الرَّحمہ فرماتے ہیں: خوش خلقی کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی، مالی، عزت کی ایذا نہ دے جبکہ اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بُرائی کا بدلہ بھلائی سے کرے، یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالیٰ نصیب کرے۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/461۔ تکلیف نہ دیجئے،ص:14)

اسلم: لیکن ہمیں اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟

ڈاکٹر صاحب: حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ”میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں۔“(سنن ابی داؤد، باب فی حسن الخلق، 8/279، حدیث:1672)

اسلم: لیکن میزانِ عمل کو تو دوسری نیکیوں سے بھی وزن دار کیا جاسکتا ہے، پھر خوش اخلاقی ہی کیوں؟ مجھ سے تو کسی کی غلط بات برداشت ہی نہیں ہوتی، میرے گھر والوں کو بھی پتا ہے کہ میں غصے میں کچھ نہیں دیکھتا۔

ڈاکٹر صاحب: لیکن بہتر تو وہی ہے جو بُرائی کے بدلے میں بھلائی کرے، بھلائی کے بدلے بھلائی کرنا کونسا کمال ہے؟

حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ حسنِ اخلاق کی وجہ سے تہجد گزار اور سخت گرمی میں روزے کے سبب پیاسا رہنے والے کے درجے کو پالیتا ہے۔ (کتاب حسن اخلاق،ص16)

اسلم نے تائید کے انداز میں سرہلایا

ڈاکٹر صاحب: مزید سنو! حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو اپنے اموال سے خوش نہیں کرسکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی انہیں خوش کرسکتی ہے۔(کتاب حسن اخلاق، ص20،المستدرک للحاکم، کتاب العلم، 1/329،حدیث:435)

اور ایک جگہ فرمایا: مسلمانوں میں سب سے زیادہ اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں۔(حسنِ اخلاق،ص17)

اسلم: اب میں بھی نیت کرتا ہوں کہ آئندہ اپنے اخلاق بہتر کرنے کی کوشش کروں گا تاکہ خوش اخلاقی کے ذریعے نیکوں میں اضافہ کرسکوں۔ ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ!

خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

پیارے اور محترم اسلامی بھائیوں خوش اخلاقی کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ جو بندہ خوش اخلاق ہوتا ہے اس کو لوگ اپنا دوست رکھتے ہیں، خوش اخلاق شخص کے بارے میں لوگ یہی خیال کرتے ہیں کہ فلاں شخص کے اخلاق بہت اچھے ہیں اور وہ بداخلاق نہیں بلکہ خوش اخلاق شخص ہے، خوش اخلاق شخص کی بات بہت جلد مان لی جاتی ہے کہ اس کو اچھا تصور کیا جاتا ہے، بالعموم تمام مسلمانوں کو اور بالخصوص مذہبی رہنماؤں مثلا امام ، موذن، قاری ، مبلغ ، نیکی کی دعوت دینے والے اور عالم کو خوش اخلاق ہونا چاہیے تاکہ اس سے دین کا فائدہ ہو اور اگر یہ حضرات خوش اخلاق نہیں ہوں گے بلکہ اس کے الٹ ہوں گے تو اس سے دین کا نقصان ہوسکتا ہے اور لوگ دین سے دور رہیں گے اور ان کو اچھا نہیں جانیں گے، پیارے اور محترم اسلامی بھائیوں آئیے خوش اخلاقی کے حوالے سے ایک حدیث پاک دیکھتے ہیں۔

چنانچہ حدیث شریف کا خلاصہ اس طرح ہے کہ : دو چیزیں بدن پر تو بہت ہلکی ہیں لیکن میزان پر وہ دونوں چیزیں بھاری ہیں۔

۱۔ حسن اخلاق۔

۲۔ خاموشی ۔

تو پیارے اور محترم اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے کہ حسن اخلاق میزان پر بہت بھاری ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی خوش اخلاقی کو اپنائیں ۔

خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

بداخلاقی پر بھی حسن سلوک: حضرت سیدنا عمر بن عبدالباقی علیہ الرحمہ بہت بڑے زمیندار تھے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم علیہ الرحمہ ایسی سلطنت چھوڑ کر درویشی زندگی اختیار کرتے تھے اور رزق حلال کے حصول کے لیے اجرت پر لوگوں کی کھیتی وغیرہ کاٹا کرتے تھے، حضرت سیدنا عمر بن عبدالباقی علیہ الرحمہ کے ہاں آپ نے ایک دوست سے مزدوری کی اور دس دینار مانگے، حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم علیہ الرحمہ نے اپنے رفیق سے کہا، آؤ ہم حلق کروالیں( یعنی سر منڈوالیں) چنانچہ دونوں حجام کے پاس آئے حجام نے تحقیر آمیز لہجے میں کہا تم لوگوں سے زیادہ ناپسندیدہ میرے نزدیک دنیا بھر میں کوئی نہیں، کیا میرے علاوہ کوئی شخص تمہیں نہ ملا جو تمہاری خدمت کرتا یہ کہہ کر وہ دوسرے گاہکوں میں مصروف ہوگیا، آپ کے رفیق کو حجام کا ذلت آمیز لہجہ بہت برا لگا تھا اس لیے اس نے حلق کروانے سے انکار کردیا، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ خاموشی سے بیٹھے رہے جب سب لوگ چلے گئے تو حجام نے نفرت بھرے لہجے میں کہا تم کیا چاہتے ہو؟ فرمایا اپنے بال کٹوانا چاہتا ہوں، حجام نے بڑی حقارت سے آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا حلق کیا، خدا تعالیٰ کی شان کہ حجام اس مرد قلندر کو حقارت کی نظروں سے دیکھ رہا تھا جس نے اپنے پر وردگار عزوجل کی رضا کی خاطر سلطنتِ شان و شوکت شاہی محلات اور زرو و زمین سب کچھ ٹھکرا دیا تھا کسی نے درست کہا ہے کہ موتی کی قدر جوہری ہی جانتا ہے وہ نادان حجام اس گوہر بے بہا کی قدر نہ جان سکا بہرحال جب آپ رحمہ اللہ علیہ نے حلق کروالیا تو آپ نے رفیق سے کہا جو دینار تمہارے پاس ہیں وہ سب اس حجام کو دے دو اس نے کہا حضور یہ آپ کیا فرمارہے ہیں، اتنی شدید گرمی میں خون پسینہ ایک کرکے آپ نے مزدوری کی پھر یہ رقم ملی اور اس حجام کو اتنی بڑی رقم دے رہے ہیں۔فرمایایہ رقم اس حجام کو دے دو تاکہ پھر کبھی یہ کسی درویش کو حقیر نہ جانے، آپ کے رفیق نے بھاری رقم حجام کو دے دی پھر آپ رحمہ اللہ علیہ نے گھر کی طرف لوٹ آئے صبح ہوئی تو اپنے دوست سے فرمایا ،یہ چند کتابیں کسی کے پاس رہن رکھ کر قرض د لوا دو کھانے کے لیے کچھ خرید لاؤ ں آپ کا دوست حسبِ ارشاد کتابیں لے کر بازار کی جانب چل دیا ایسے میں ایک شخص کو دیکھا جو بڑی شان و شوکت سے خیمہ لگائے بیٹھا تھا اس کے سامنے غلے کا ڈھیر ، قیمتی گھوڑے اورخچراوراسے بڑے بڑے صندوق تھے۔ جن میں ساٹھ ہزار سے زیادہ دینار ہوں گے ۔ وہ شخص اس طرح صدائیں بلند کررہا تھا ان تمام چیزوں کا مالک سفیدی مائل سرخ رنگت والا شخص ہے جو ابراہیم بن ادھم علیہ الرحمہ کے نام سے مشہور ہے کوئی ہے جو مجھے اس کے متعلق بتائے یہ اعلان سن کر آپ رحمہ اللہ علیہ کا دوست اس شخص کے پاس گیا اور کہا جسے تم ڈھونڈھ رہے ہو وہ ایسی شہرت و ثروت کو پسند نہیں کرتا آؤ میں تمہیں اس کے پاس لے چلتا ہوں، وہ دونوں حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم علیہ الرحمہ کے پاس آئے آپ رحمہ اللہ علیہ کو اس لباس میں دیکھ کر وہ شخص ہکا بکا رہ گیا ۔قدموں میں گر کر عرض کی، میرے آقا ، میرے سردار خراسان کا ملک چھوڑ کر آپ اس حالت کو پہنچ گئے ہیں؟ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان باتوں کو چھوڑو اور یہ بتاؤ تمہارا معاملہ کیا ہے؟کہا حضور آپ کے بعد جو شخص تخت نشین ہوا اس کا انتقال ہوگیا آ پ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا اللہ عزوجل اس پر رحم فرمائے جس طرح اسے موت آئی اسی طرح ہر ذی روح کو موت آئے گی، جس نے خوشیوں کا گنج پایا وہ موت کے رنج سے بھی دو چار ہوگا، اچھا یہ بتاؤ تم کیا چاہتے ہو اور یہاں کیوں آئے ہو، کیا خیر سے آقا ، آپ رحمہ اللہ علیہ کے بعد جب تخت نشین کا انتقال ہوگیا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ کے سارے غلاموں نے جو چاہا وہ کیا، تمام شاہی چیزیں لوگوں سے آپس میں تقسیم کرلیں میں نے بھی بہت سی چیزیں لے لیں کہ تمام چیزیں جومیرے پاس ہیں سب آپ کی ہیں اور میں بھی آپ کا بھاگا ہوا غلام ہوں ، اب معافی طلب کرنے آیا ہوں میں نے علما کرام رحمہ اللہ علیہ سے آپ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا، جب تک تم اپنے آقا کے پاس واپس نہ جاؤ گے اس وقت تک تمہارے اعمال قبول نہ ہوں گے تم مال و متاع لے کر اپنے آقا کے پاس جاؤ وہ جس طرح کہتا ہے تمہارے ساتھ معاملہ کرے میرے آقا آب میں آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے حاضر ہوں میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ فرمائیں۔حضرت سیدنا ابراہیم بن ادم علیہ الرحمہ نے فرمایا:اگر تم ایسی بات میں پیچھے ہو تو میں نے تمہیں اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر آزاد کیا، اور جو کچھ مال و متاع تمہارے پاس ہی وہ سب تمہیں دیا اب جہاں چاہو یہ مال کرچ کرو، جاؤ اب یہ مال تمہیں مبارک ہو، پھر آپ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے دوست کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا جاؤ کس کے پاس یہ کتابیں رہن رکھ کر قرض لو اور کھانے کے لیے کچھ خرید لاؤ ۔

سبحان اللہ عزوجل صد ہزار آفرین ان مبارک ہستیون پر جنہوں نے خدائی بزر گ و برتر کی رضا کے لیے شاہی شان و شوکت محلات و باغات وغیرہ سب کچھ ٹھکرا کر سادگی و عاجزی اختیار کی اور بھوک اور پیاس کی مصیبتیں ہنس کر برداشت کیں کبھی بھی حرف ِ شکایت لب پر نہ آنے دیا، اور رزق حلال کی خاطر محنت مزدوری کی یقینا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کی قدر جان لی ، ان پر دنیا کی حقیقت آشکار ہوچلی تھی کہ دنیا بے وفا ہے اس کی نعمتیں زوال پذیر ہیں۔

میری مشکلیں گر تیرا امتحان ہیں

تو ہر غم قسم سے کوشی کا سماں ہے

گناہوں کی میرے اگر یہ سزا ہے

تو سب مشکلوں کو مٹا میرے مولا عزوجل

خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

خوش اخلاقی کے بہت فوائد ہیں انسان کو بہت سی جگہ پر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

کوئی انجان انسان ملے اگر کوئی راستہ وغیرہ یا کسی چیز کا پوچھے تو انسان کو خوش اخلاقی سے بتانا چاہیے، تاکہ انسان اپنائیت محسوس کریں۔خوش اخلاقی سے انسان بہت سی کامیابیاں حاصل کرتا ہے، خوش اخلاقی سے رہنے والا طرح طرح کی پریشانی سے بچا رہتا ہے، بہت سے وسوسوں سے بھی بچا رہتا ہے، اور خوش رہنے والا انسان دوسروں کو بھی خوش رکھتاہے۔وہ بہت سے غم زدہ لوگوں کو مل کر انہیں خوش رہنے کا کہتا ہے، بلکہ خوش رکھنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔غم اور خوشی میں بھی اللہ پاک سے مدد لیتے ہیں۔غم میں صبراور خوشی میں سجدہ شکر ادا کرتے ہیں،وہ اپنی ساری امید صرف اور صرف اللہ پاک سے رکھتے ہیں۔اور اللہ پاک کی رضا کے لیے سب سے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں، او وہ انسان سے کسی بھی قسم کی توقع نہیں رکھتے، جو کچھ ہوتا ہے اسے اللہ پاک کی رضا سمجھ کر اس میں راضی رہتے ہیں۔کسی انسان کو دکھ نہیں دیتے، سب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں دین اسلام ہمیں اچھے اخلاق کی دعوت دیتا ہے۔

ہمیں رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زندگی پر عمل کرکے خود بھی اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے اوردوسروں کو بھی اچھے اخلاق کی دعوت دینی چائیے، اور سب مسلمانوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے۔

جیسا کہ حدیث پاک میں ہے۔رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم میں سے وہ

شخص میرے نزدیک زیاد ہ محبوب ہے جو زیادہ اچھے اخلاق والا ہے۔(بخاری و مسلم)

رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چہرے سے محبت و نرمی ہمیشہ نمایاں رہتی تھی اور آ پ تمام مسلمانوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتے اور سب کے ساتھ مساوی محبت ونرمی سے پیش آتے تھے۔

خوش اخلاقی انسان کی زندگی میں بہت بڑا سرمایہ ہے،جس سے انسان اس دنیا میں عملی حیثیت بن جاتا ہے، خوش اخلاقی سے انسان سب کے دل میں اپنا مقام حاصل کرسکتا ہے۔خوش اخلاقی سے انسان اپنی بات آرام سے کرتا ہے سمجھا سکتا ہے اس کے برعکس انسان اگر خوش نہیں رہتا تو وہ ایک عام بات بھی نہیں سمجھ سکتا وہ بولنے میں دکت محسوس کرتا ہے، وہ اچھی طرح بول بھی نہیں سکتا، اگر کچھ بولے تواسے خود بھی نہیں سمجھ آتی کہ وہ کیا بول رہا ہےہمیں خود بھی دیکھنا چاہیے ہمارے آس پاس جو لوگ خوش نہیں رہتے ،یا خوش اخلاقی کا مظاہرہ نہیں کرتے ہمیں چاہیے ہم ان کی مدد کریں، خوش اخلاقی سے رہنے کی تلقین کریں، ہر جگہ دل کھول کر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

اَخلاق خُلق کی جمع ہے،(فیروز اللغات، صفحہ72) خُلق (خ پر پیش) کا  معنی ہے انسان کی وہ جبلی(ذاتی) اور طَبَعی (فطری) صفات جن کا ادراک بصیرت (دِل کی بینائی) سے کیا جاتا ہے۔(المفردات،1/210)

خوش اخلاقی (اچھی عادتوں) کے بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

(1)اچھے اخلاق انسان کا زیور ہے:یہاں ایک مثال پیش کرتی ہوں ایک بندہ صورت کے لحاظ سے بہت اچھا ہے، حسین ہے مگر سیرت کے لحاظ سے وہ اچھا نہیں ہے اس کے اخلاق بُرے ہیں تو حقیقت میں اس کوئی خوب صورتی نہیں ہے اور ایک بندہ صورت کے لحاظ سے تو اتنا اچھا نہیں ہے لیکن اس کے اخلاق اچھے ہیں، پاکیزہ ہیں تو حقیقت میں یہی بندہ خوبصورت ہے کیونکہ اس میں اصل خوبصورتی موجود ہے اور وہ ہے اچھے اخلاق کی خوبصورتی۔

(2)خوش اخلاقی انسان کو اعلیٰ بنادیتی ہے:اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان اعلیٰ ہوجاتا ہے قیمتی بن جاتا ہے۔

مثال:جس طرح پھل دار درخت کی قیمت پھل کی وجہ سے زیادہ ہوتی ہے اگرچہ وہ چھوٹا بھی ہو اس طرح اچھے اخلاق کی وجہ سے انسان اعلیٰ درجے کو پالیتا ہے، ساری دنیا اس کو محبوب رکھتی ہے۔

(3) خوش اخلاقی کامیابی کا ذریعہ ہے: ہر کامیاب بندے کی کامیابی کا سبب اس کے اچھے اخلاق ہوتے ہیں، سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانۂ اقدس میں ایک ابولہب بھی تھا اور ایک بلال رضی اللہ عنہبھی تھے، ابو لہب حضور سرور کونین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کاچچاتھا لیکن آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا دشمن تھا بہت بغض رکھتا تھا آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ (نَعُوۡذُبِاللہِ مِنْ ذٰلِک)

اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مخلص غلام تھے، اسلام لانے کے بعد دین کی بڑی خدمت کی تھی، اب یہاں ایک نکتہ ذہن نشین کرلینا ضروری ہے۔

نکتہ:اب اگر آج کسی کو ابولہب کہا جائے تو وہ بڑا ناراض ہوگا حالانکہ ابولہب کا مطلب ہے شعلے کا باپ، مطلب یہ ہےکہ ابولہب کے چہرے سے شعلے اٹھتے تھے، اس لیے ابولہب کے نام سے پکارا جانے لگا، لیکن اس کے اخلاق بہت رذیل اوربرے تھے تو اس کا نام آ ج گالی بن گیا۔ اور قربان جائیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے، کہ اگر کوئی کسی کو بلال کہہ کر پکارے تو وہ شکریہ ادا کرے گا، حالانکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بظاہر ایک حبشی غلام تھے حبشی لوگ کالے رنگ کے ہوتے ہیں لیکن اخلاق اتنے اعلیٰ تھے کہ قیامت تک آپ رضی اللہ عنہ کی ذات بلکہ نام مبارک کو بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

(4)خوش اخلاقی دنیا اور آخرت کی بھلائی کا ذریعہ ہے:حسن اخلاق کی وجہ سے انسان کی دنیا بھی سنور جاتی ہے اور آخرت بھی اور یہ بات احادیث سے ثابت ہے ذیل میں احادیث ملاحظہ ہوں:

(5)خوش اخلاقی ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اہل ایمان میں زیادہ کامل ایمان والے وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔(اسے امام ترمذی علیہ الرَّحمہ نے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)ریاض الصالحین، جلد اول،حدیث:631)

(6)خوش اخلاقی سرکار کُل عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قربت کا ذریعہ ہے: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے رویات ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے میرے زیادہ پیارے اور زیادہ قریب وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔)ریاض الصالحین، جلد اول، کتاب الاخلاص ، حدیث:631)

اللہ اکبر کبیراً اگر کوئی سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قربت کا طلب گار ہے تو وہ اچھے اخلاق اپنائے، سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قربت پالے گا، اور سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پیارا بن جائے گا،اور جو سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا پیار بن جائے وہ اللہ عزوجل کا بھی پیارا بن جائے گا۔

تو ہمیں ذرا سوچنا چاہیے ، ہم کیوں یہ راہ چھوڑ کر دوسرے غیر مذہب لوگوں کی راہ پر چلیں ان کے عادات اپنائیں ہم کیوں سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے قریب نہ ہوجائیں ہم کیوں سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیارے نہ بن جائیں، ان سب امور کے لیے صرف ایک ہی چیز کی ضرورت ہے اور وہ ہیں اچھی سیرت اچھی عادتیں، لہذا ہمیں چاہیے کہ اچھے اخلاق اپنائیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرلیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خوش اخلاقی کے اتنے زیادہ فوائد ہیں تو ہم اچھے اخلاق سیکھیں گے کس سے ؟

اچھے اخلاق کس سے سیکھیں!تو آئیے اس سوال کا جواب قرآن کریم میں موجود ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔تَرجَمۂ کنز الایمان: بے شک تمہیں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی بہتر ہے۔(پ21،الاحزاب:22)

اس آیت پر اگر ہم غور کرلیں تو شروع میں تاکید کے لیے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ایک لام مفتوحہ (لام کے اوپر زبر ہے) اور دوسرا قد، یہ دونوں اللہ عزوجل نے ذکر کیے ہیں معلوم ہورہا ہے کہ گویا اللہ عزوجل بڑے تاکید کے ساتھ ہمیں یہ حکم دے رہا ہے اور بتارہا ہے کہ تمہاری کامیابی حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیروی میں ہے۔(تفہیم البلاغۃ،تاکید، ص 21)

ہر بندہ چاہتا ہے کہ دنیا میں میری عزت ہو، لوگ مجھے اچھا جانے، میں لوگوں کے ہاں محبوب ہوں، اسی طرح قبر میں بھی ہر بندہ راحت چاہتا ہے، قیامت کے روز عزت کا طلب گار ہے، جنت کی خواہش رکھتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا ایک ہی فرمان ہے اور وہ یہ ہے، لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔

لہذا ماقبل حدیث اور اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے معلوم ہوگیا کہ جس کے اخلاق اچھے ہوتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اورآخرت میں بھی سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قربت پا کر کامیاب ہوگا، اور جب ہم اچھے اخلاق کی وجہ سے سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قربت پاسکتے ہین تو ہم کیوں نہ اچھے اخلاق اپنائیں ،اللہ اکبر اگر قیامت کے روز سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی معیت حاصل ہوتو ہم اور کیا چاہتے ہیں دونوں جہان کی دولتیں ، رفعتیں ہماری ہوجائیں گی اور جو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ہوجاتا ہے وہ کسی چیز سے بھی نہیں ڈرتا اس لیے تو اعلیٰ حصرت ، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت پروانہ شمع رسالت ،عاشق ماہِ نبوت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ اللہ القوی فرماتے ہیں:

خوف نہ رکھ رضا ذراتو تو ہے عبدِ مصطفی

تیرے لیے امان ہے تیرے لیے امان ہے

اس سےثابت ہورہا ہے کہ جو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا سچاغلام بن جاتا ہے اپنی زندگی سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیر وی میں گزرنے والا بن جاتا ہے، تو حقیقت میں امان ا س کے لیے ہے اور یہی بات حضرت اقبال علیہ الرحمہ اپنے ایک شعر میں قلم بند فرمائی ہے آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

اس لیے ہمیں چاہیے کہ اچھے اخلاق اپنائیں سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں کو اپنائیں اپنی زندگی کو بامقصد بنائیں یہ زندگی بہت قیمتی چیز ہے اگرہم اس کو بے مقصدگزار لیں گے تو فائدہ ہوگا؟ اس ایک ایک لمحے سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے آخر میں تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کرتی ہوں کہ اگر تم دونوں جہانوں کی کامیابی اور خوشحالی چاہتے ہو، تو اخلاقِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنالو، اللہ عزوجل ہمیں سرکار کل عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت میں

زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم


خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

عید کے دن لائبہ اور عثمان اپنے نانا جان کے گھر عید ملنے آئے ہیں، عثمان ماموں کے بیٹے وقار کا بہت اچھا دوست ہے، وقار گھر کے آنگن میں بیٹھا کھیل رہا ہے کہ عثمان نے چپکے سے آکروقار کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے اس پر وہ بہت ناراض ہوا اور آپے سے باہر ہوگیا کون ہے؟ کیا بدتمیزی ہے ؟(آنگن میں نانا جان بھی موجود ہیں دور بیٹھے یہ سب دیکھ رہے ہیں)وقار کے اس رویے پر اور غصہ ہوجانے پر عثمان آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا میرے بھائی میں تو بس مزاح کررہا تھا آپ تو غصہ ہی ہوگئے۔وقار :مجھے اس قسم کے مذاق پسند نہیں۔نانا جان مسکراتے ہوئے بچوں کے پاس آئے اور کہنے لگے: میرے بچو! اسے کولی بھرنا کہتے ہیں، آؤ میں آپ لوگوں کو اس بارے میں ایک بہت ہی اچھا واقعہ سناتا ہوں ۔

حضور علیہ السَّلام کے ایک صحابی تھے وہ دیہات کی ترکاریاں لاتے اور مدینے میں بیچتے اور حضور شہر کی چیزیں اسے تحفہ میں دیا کرتے تھے ایک دن وہ کوئی چیز بیچ رہا تھا کہ حضور پیچھے سے گئے اور چپکے سے ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیئے اسے کولی بھرنا کہتے ہیں کسی کی کولی بھرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں دیکھوں تو صحیح کہ یہ مجھے کتنا یاد کرتا ہے میرا نام کس نمبر پر آتا ہے، اللہ اکبر وہ بیٹھا تھا حضور پیچھے سے گئے اس کی کولی بھرلی( نانا جان مسکراتے ہوئے نہایت دلکش انداز میں) حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک ہاتھ آنکھوں پر آئے ہوں اور سینے تک ٹھنڈ نہ کی ہو یہ کیسے ہوسکتا ہو، بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ وہ بولتا نہیں حضور آنکھیں دبارہے ہیں کہ وہ بتائے کہ میں کون ہوں مگر وہ بولتا نہیں۔(مراة المناجیح مفہوما)

سپنے دے وچ مینوں ماہی ملیاتے میں گل وچ پالیاں بانہواں

ڈر دی ماری اکھ نہ کھولاں کتے فیر وچھڑ نہ جاواں

ماموں لائبہ کو گود میں اٹھاتے ہوئے نانا جان اور بچوں کے پاس آتے ہیں، نانا جان ! میرے بچو! کیا آپ کو معلوم ہے کہ اچھے اخلاق کسے کہتے ہیں؟وقار: جی نانا جان میں جانتا ہوں میں نے اپنی کتاب میں اس کے متعلق پڑھا ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بے شک تمہارے لیے حضور کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔نانا جان :مسکرا کروقار کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:حسنِ خلق یہ ہے کہ تم قطع کرنے والے سے صلہ رحمی کرو جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو، جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کردو۔(رسالہ حسن اخلاق: ۶)وقار:نانا جان خوش اخلاقی کیا کیا فائدہ ہوتا ہے؟نانا جان : سب سے اہم بات کہ خوش اخلاقی سنت ہے۔

حسنِ اخلاق اپنانے والا شخص سب سے بہتر شخص ہے:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں تم میں سے سب سے بہتر شخص کی خبر نہ دوں، ہم نے کہا کیوں نہیں، فرمایا جو تم میں سے اچھے اخلاق والا ہو۔(حسن اخلاق)

حسن اخلاق آخرت میں باعثِ نجات ہے:حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا، میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے زیادہ ووزنی کوئی چیز نہیں۔(حسن اخلاق)

قیامت کے دن حضور علیہ السَّلام کا قرب حاصل ہوگا:حضور علیہ السلام نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سے مجھ سے زیادہ محبوب اور میری مجلس میں زیادہ قریب وہ ہونگے جو اچھے اخلاق والے ہیں۔(حسن اخلاق)

حدیثِ قدسی ہے اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے اچھے اخلاق عطا فرماتا ہے۔

اچھے اخلاق والے انسان سے لوگ محبت کرتے ہیں۔

خوش اخلاقی کامل مومن ہونے کی نشانی ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہےکہ کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں۔(حسن اخلاق)

اچھے اخلاق گناہوں سے نجات کا سبب ہیں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ اچھے اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتے ہیں جس طرح سورج کی گرمی برف کو ( حسن اخلاق)

نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: انسان کو حسن اخلاق سے زیادہ کوئی چیز عطا نہیں کی گئی،

حسن اخلاق کے سبب ایمان :حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر کے قریب ایک آتش پرست رہتا تھا ایک رات آپ کو آواز آئی اس کا بچہ رو رہا تھا رات بیت گئی اگلی رات وہ پھر روہا تھا کہ آپ نے اپنے گھر کا چراغ اٹھایا اور جا کر ان کو دے دیا چراغ کی روشنی سے بچہ خاموش ہوگیا دوسری اور تیسری رات بھی ایسا ہی ہوا اس پر وہ آدمی بہت متا ثر ہوا اور اپنی بیوی سے کہا کہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کی روشنی ہمارے گھر کو روشن کیا ہے میں چاہتا ہوں کہ اس سے ہمارے دل بھی روشن ہوجائیں چنانچہ وہ اسلام لے آئے۔ تو خوش اخلاقی اسلام کی اشآعت کا بھی سبب بنتی ہے۔وقار: (عثمان سے) مجھے معاف کردیں میرے بھائی میں نے آپ سے بدمزاجی سے بات کی آپ کا دل دکھایا۔عثمان : میں نے آپ کو معاف کیا، نانا جان

پیارے بچو! آؤ مل کر اس بات کی بھرپور کوشش کریں کہ حسنِ اخلاق کو اپنا کر دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوں ۔

 


خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

اچھے اخلاق اپنانے کے بارے میں قرآن پاک ، احادیث اور بزرگانِ دین کے کئی  اقوال ہیں جس طرح قرآن پاک کے پارہ 24 سورة حم سجدہ آیت نمبر 34 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ترجمہ کنزالالعرفان: برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو۔

ارشاد فرمایا تم برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کر دو، مثلا غصے کو صبر سے، لوگو کی جہالت کو حلم سے تو ان خصلتوں کا نتیجہ یہ ہوگاکہ دشمن دوستوں کی طرح تم سے محبت کرنے لگیں گے، جیسا کہ ابوسفیان آقا علیہ السلام سے عدوات کرتے تھے اس کے باوجود آقا علیہ ا لسلام نے ان کے ساتھ نیک سلوک کیا اور ان کی صاحبزادی کوشرفِ زوجیت کا شرف عطا فرمایا، تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو سفیان تاجدار رسالت سے سچی محبت کرنے والے اور آپ کے جاں نثار صحابی بن گئے۔

میٹھے اسلامی بھائیوں دیکھا آپ نے کہ آقا علیہ السلام کے اخلاقِ حسنہ کافائدہ یہ ہوا کہ ابو سفیان آپ سے محبت کرنے والے اور جان نثار صحابی بن گئے۔اور اسی طرح غزوہ احد میں آقا علیہ السلام کے سامنے والے مبارک دانت شہید ہوتے اور آپ کا چہرہ انور لہولہان ہوگیا تو عرض کی گئی کہ یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ ان کافروں کے خلاف دعا فرمائیں، آقا دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کمال صبر کامظاہرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے طعنے دینے والا اور لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے دعوت دینے والا اور رحمت فرمانے والا بنا کر بھیجا ہے، پھر آپ نے دعا فرمائی۔ اے اللہ عزوجل میری قوم کو دینِ اسلام کی ہدایت دے،

کیونکہ وہ مجھے نہیں جانتے ۔

دیکھا آپ نے کہ آقا علیہ السلام کس طرح اخلاق حسنہ ، حلم، شفقت، محبت والے تھے تو اسی طرح اچھے اخلا ق کے بہت فوائد ہیں، جس طرح اچھے اخلاق والے لوگ پسند کرتے ہیں، اس سے محبت کرتے ہیں اس کی تعریف کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ مجھے بھی اس جیسا بنادے اور ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اچھے اخلاق والے سے رب عزوجل راضی ہوتا ہے۔

اسی طرح غصے کے وقت خود پر قابو پانا بھی اچھے اخلاق میں سے ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے، کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، طاقتو روہ نہیں جو لوگوں کو بچھاڑ دے صحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پھر طاقت ور کون ہے؟تو آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: وہ جو غصے کے وقت اپنے اپ کو قابو میں رکھے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اخلاق حسنہ والا بنائے اور قرآن و سنت پر عمل کرنے والا بنائے اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)ترجمہ : اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔(پ۲۹،القلم،۴)

اے عاشقانِ رسول ! اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے سرکار علیہ الصلوةوالسلام کے اخلاق کو بیان فرمایا ہے۔

اخلاق کا لغوی معنی :عادت، طبیعت، طور طریقہ

یاد رہے کہ عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، سختیوں اور مشقتوں پر صبر کرنے میں اور نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرنے میں، الغرض زندگی کے پہلو کے اعتبار سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک زندگی اور سیرت میں ایک کامل نمونہ موجود ہے لہذا ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اقوال مین افعال میں، اخلاق میں اور اپنے دیگر احوال میں سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مبارک سیرت کی پیروی کریں۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مبارک اخلاق:سرکار علیہ الصلوة والسلام کی ذات بلند مقام پر فائز ہے، حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بعثت مبارکہ کے بے شمار مقاصد ہیں ایک واضح اور کھلا مقصد خود حضور علیہ الصلوة والسلام کی زبان مبارک سے اس طرح ملتا ہے کہ انما انا بعثت لا تمم مکارم الاخلاقبیشک مجھے ہی اس ل یے کیا ہے کہ مکارن اخلاق کی تکمیل کروں۔( السنن الکبریٰ ص ۱۰/۱۹۲)

حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مکی مدنی مصطفی علیہ الصلوة والسلام نے ارشاد فرمایا:تم لوگوں کو اپنے اموال سے خوش نہیں کرسکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی انہیں خوش کرسکتی ہیں۔(المستدرک للحاکم کتاب العلم، الحدیث ۴۳۵، ج ۱، ص ۳۲۹)

حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا:اے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا! مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اخلا ق کے بارے میں بتائیے؟حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے عرض کی، کیوں نہیں؟ تو آ پ نے ارشاد فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خلق قرآن ہی تو ہے۔(مسلم کتاب صلوة المسافرین و فعرھا، الحدیث ۱۳۹۔ ص۳۷۴)

اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں۔

ترے خلق کو حق نے عظیم کہا تیری خلق کو حق نے جمیل کیا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا، شہا تیرے خلق حسن ادا کی قسم

اخلاق حسنہ کی تعلیم :حضور علیہ الصلوة والسلام کے اخلاقِ کریمہ کی عظمت و بزرگی کا ایک پہلو اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی امت کو بھی اخلاقِ حسنہ اپنانے کی تعلیم اور ترغیب دی ہے۔

۱۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پر نور علیہ الصلوة والسلام نے ارشاد فرمایا:مسلمانوں مین سب سے زیادہ اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں۔ (مسند امام احمد، الحدیث 20874، ۷/۴۱۰)

خوش اخلاقی کے دنیوی فوائد:آج اس دور میں ہر ایک شخص کی یہ آرزو ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے مقابلہ جیتے۔اے پیارے اسلامی بھائیو لوگوں سے مقابلہ جیتنا کمال نہیں ہے، بلکہ کمال در کمال تو یہ ہے کہ آپ لوگوں کا دل جیتیں لوگوں کے دلوں میں اپنا مقام و مرتبہ بنانے کے مواقع تلاش کریں، تاکہ آپ کی عظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جائے اس کے دنیوی چند فوائد درجِ ذیل ہیں۔

۱۔ غموں اور پریشانیوں میں لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔

۲۔آ پ لوگوں سے تو علیحدہ ہوسکتے ہیں لیکن آپ لوگوں کی دلوں سے نہیں نکل سکتے۔

۳۔ آپ کی پیٹھ پیچھے لوگ آپ کوا چھے کلمات سے یاد کریں گے۔

۴۔ مشکل وقت میں لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔

۵۔ آپ کے مرنے کے بعد لوگ آپ کو اپنی دعاوں میں یاد رکھیں گے۔

بنادو صبر و رضا کا پیکر بنو ں خوش اخلاق ایسا سرور

ہے سدا نرم ہی طبیعت نبی رحمت شفیع امت

خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

انسان کا خوش اخلاق ہونا یہ اس کی طبیعت کے خوش ہونے کی علامات ہے اور ایسے شخص  سے ملنے والا ہر شخص خوش ہوتا ہے بلکہ بار بار ملنے کی خواہش کرتا ہے، درحقیقت اچھے اخلاق جسم و روح کی زندگی ہے اور دنیاکی زندگی اچھے اخلاق کی پاکیزگی کے سائے تلے گزارنے سے ہی دنیا اور آخرت کی حقیقی کامیابی نصیب ہوگی۔

حضورِ جانِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اچھے اخلاق کی پاکیزگی کے لیے جامع تعلیمات ارشاد فرمائیں۔اچھے اخلاق کو اپنانے اور بُرے اخلاق سے اجتناب کرنے کی ہدایات فرمائیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کسی کام کے کرنے کا فرمائیں تو اس میں ضرور بہت حکمتیں اور فوائد پوشیدہ ہوتے ہیں۔

حدیث پاک میں ہے کہ مکارم اخلاق اہل جنت کے اعمال میں سے ہیں۔

اگر آج دورِ حاضر کو دیکھا جائے تو لوگ آپس میں خوش اخلاقی سے نہیں ملتے بلکہ ایک دوسرے سے دل میں بغض و کینہ رکھتے ہیں، جب کہ خوش اخلاقی کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نےارشاد فرمایا ہے کہ ایک مومن بندہ اپنے اچھے اخلا ق کی وجہ سے ان لوگوں کا درجہ حاصل کرلیتا ہے، کہ جو رات بھر نفلی نمازیں پڑھنے اور ہمیشہ دن کو روزہ رکھنے والے ہیں۔ (ابو داؤد)

اگر ہم چاہیں تو اچھے اخلاق اپنا کر بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں، چنانچہ الحدیث میزانِ عمل میں حسنِ اخلاق سے وزنی کوئی اور عمل نہیں۔(الاد ب المفرد، باب حسن الخلق)

خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

عموما معاشرے میں بعض افراد ایسے پائے جاتے ہیں جو یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ لوگ ان سے دور بھاگتے رہیں کوئی ان کو لفٹ  نہیں کرواتا اس طرح کی اور بهی کئی شکا يتيں کرتے نظر آتے ہيں، اس طرح کے افراد کو اپنے اخلاق اور کردار پر نظر کرنی چاہیے، کہ کہیں ان کا اخلاق اور کردار ایسا تو نہیں کہ جس کے سبب سے لوگ ان سے دور بھاگتے ہوں اور ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے سے کتراتے ہوں، کیونکہ بسا اوقات ہمارا اخلاق اور کردار ایسا اور کردار ایسا ہوتا ہے کہ ہم سے ملاقات کرنے والا ایک بار ملنے کے بعد دوبارہ ہماری طرف رخ کرنے سے کتراتا ہے، تو ایسی صورتِ حال میں ہمیں اپنے اخلاق میں بہتری لانے اور بداخلاقی کو خوش اخلاقی میں بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ پیارے اسلامی بھائیوں اچھے اخلاق کو اپنانے میں بےشمار فوائد ہیں، جن میں چندمذکور ہیں۔

بندہ اچھے اخلاق او راعلیٰ کردار کے ذریعے سامنے والے کا دل جیت کر اسے اپنی ذات سے متاثر (Inspayer) کرسکتا ہے

اسی طرح خوش اخلاق شخص کی صحبت کو لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔

خوش اخلاق شخص سے ملنے کے بعد لو گ اس کو اپنی زندگی میں اس کے اچھے اخلا ق اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے یاد رکھتے ہیں۔

اسی طرح اچھے اخلاق کے بارے میں احادیث مبارکہ میں بھی فضائل موجود ہیں۔

آئیے دو احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں۔

حسنِ اخلاق کے پیکر ، شاہِ بحرو بر ، دوجہاں کے تاجور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ لوگوں میں اسلام کے اعتبار سے سب سے اچھا وہ ہے جو ان میں زیادہ اچھے اخلاق والا ہے۔ (المسند للامام احمد بن حنبل، رقم ۲۰۸۷۴، ج ۷، ص ۴۱۵،)

ایک اور حدیث پاک میں پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ پاک نے مجھے اچھے اخلاق اور اچھے اعمال کو کمال تک پہنچانے کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔۔( مجموع الزوائد ، باب مکارم الاخلاق والعفون عن الطہ ، ج ۸ ، رقم ۱۳۶۸۴، ص ۳۶۳)

معلوم ہو اکہ پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف آوری کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اخلاق اور معاملات درست فرمائیں ، ان کے اندر سے بُرے اخلاق کی جڑیں نکالیں اور اچھے اخلاق پیدا فرمائیں، اللہ پاک ہمیں بھی اچھے اخلاقی اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

محبوب کا صدقہ تو مجھے نیک بنادے۔امین

اخلاق ہوں اچھے میرا کردار ہو اچھا

محبوب کا صدقہ تو مجھے نیک بنادے


خوش اخلاقی کے فوائد

Tue, 25 Feb , 2020
215 days ago

خوش اخلاقی کواسلام میں ایک خاص  مقام حاصل ہےقرآن و سنت میں اچھے اخلاق اپنانے پر کئی مقامات پر ترغیبات دلائی گئیں بلکہ ایک موقع پرسرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: مجھے اس لئے بھیجا گیا ہے کہ میں اخلاق ِ حسنہ کی تکمیل کروں۔ (کنز العمال ج۱۱ص ۴۲۰ رقم الحدیث ۳۱۹۴۹ بیروت)

اور ہمارے معاشرے میں پھیلی برائیوں کا ایک بہترین علاج حسن اخلا ق کو اپنانا بھی ہے ،خوش اخلاقی سے جہاں دوستوں میں اضافہ،دشمنوں میں کمی ہوتی اور عزت ومقام ملتا ہے وہیں اُخروی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں چند مندرجہ ذیل ہیں۔

(۱)تکمیل ایمان

حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبي اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا کہ مومنین میں کامل ترین ایمان والا وہ ہے جسکا اخلاق اچھا ہے۔ (الترغیب والترہیب ، کتاب الادب،باب فی الخلق الحسن ،رقم ۷، ج۳، ص۲۷۱)

(۲) بلندی درجات

حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا: بندہ اپنے حسن ِاخلا ق کی وجہ سے رات کو عبادت کرنے والے اورسخت گرمی میں کسی کو پانی پلانے والے کے درجے کو پالیتاہے۔(شعب الایمان ، ج۶،رقم ۷۹۹۸تا ۸۰۰۰،ص۲۳۷بتغیر قلیل)

(۳) سرکارﷺ کا قرب

حضرت سیدناجابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا: بروزِ محشر تم میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میری مجلس میں زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جو تم میں اچھے اخلاق والے اور نرم خوہوں ،وہ لوگوں سے الفت رکھتے ہوں ۔(سنن الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، ج۳، رقم ۲۰۲۵، ص۴۰۹)

(۴)بھلائی کا ارادہ

حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرور عالم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم ارشاد فرماتے ہیں: اللہ عزوجل فرماتاہے ، میں نے انسا ن کو اپنے علم وقدرت سے پیدا کیا تو جس سے میں نے بھلائی کا ارادہ فرمایا تو اسے میں نے اچھےاخلاق عطا کیے اورجس سے میں نے برائی کا ارادہ کیا اُسکو بداخلاقی دی۔ (حسن اخلاق ص ۱۲مکتبۃ المدینہ)

(۵)عظیم نعمت

حضرت سیدنااسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے رسول ِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی،'' انسان کوسب سے اچھی چیز کون سی عطافرمائی گئی ؟ ''نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،''انسان کو حسن ِاخلاق سے زیادہ کوئی اچھی چیز عطانہیں کی گئی۔''(حسن اخلاق ص ۱۳ مکتبۃ المدینہ)

(۶)مددِ الہٰی حاصل ہونا

حضرت سیدناابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ارشادفرماتے ہیں کہ مجھے نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے نصیحت فرمائی کہ'' جہاں بھی رہو اللہ عزوجل سے ڈرتے رہواور گناہ سرزدہونے کے بعد نیکی کرلیا کرو کہ یہ اُس کو مٹا دے گی اورلوگوں کا رب عزوجل اچھے اخلاق والے کے ساتھ ہے۔'' (سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ ، با ب ماجاء فی معاشرۃ الناس ، رقم ۱۹۹۴، ج۳، ص۳۹۷)

(۷)بہترین شخص بننا

حضرت سیدناجابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی رحمت صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا،''کیا میں تمہیں تم میں سب سے بہتر شخص کے بارے میں خبر نہ دوں؟''ہم عرض گزار ہوئے ،''کیوں نہیں ۔''ارشاد فرمایا،'' وہ جو تم میں سے اچھے اخلاق والاہے۔''

(۸)گناہوں کی بخشش

حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبي اکرم صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا ،''حسن اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتاہےجس طرح دھوپ برف کو پگھلا دیتی ہے ۔'' (شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق ،رقم۸۰۳۶، ج۶، ص۲۴۷)

(۹)میزانِ عمل کا بھاری ہونا

حضرت سیدناابو درداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مدینے کے تاجور صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا، ''میزانِ عمل میں حسن اخلاق سے وزنی کوئی اورعمل نہیں۔ '' (الادب المفرد ، باب حسن الخلق ،ص۹۱، رقم ۲۷۳)

(۱۰)جہنم سےآزادی

حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرورکونین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا ،'' ایسا کوئی نہیں کہ جسکا اخلاق اورصورت 'اللہ عزوجل نے اچھی بنائی اورپھر اسے جہنم کی غذا بنائے۔'' (شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق ،رقم۸۰۳۸، ج۶، ص۲۴۹)

اللہ پاک اپنے محبوب منزہ عن العیوب صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے ہمیں با اخلاق بنائے۔اٰمِیْن